وانگ یی نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو “غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے فوری اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بیان انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران دیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطہ ایک نہایت حساس موڑ سے گزر رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب تسنیم نیوز ایجنسی اور ایرانی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی کے مطابق عباس عراقچی نے چین کو “ایران کا قریبی دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔انہوں نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے واضح کیا کہ ایران صرف “منصفانہ اور جامع معاہدہ” ہی قبول کرے گا۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جس سے خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔چینی خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق یہ دورہ ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد عباس عراقچی کا چین کا پہلا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
