Baaghi TV

Blog

  • 
پشاور اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس

    
پشاور اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس

    ‎پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے ہلکے سے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے صبح و شام کے اوقات میں زمین کے ہلنے کی شکایت کی ہے۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم شہریوں میں خوف و تشویش پائی گئی۔
    ‎محکمہ موسمیات اور سویلین ڈیفنس حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری خطرناک مقامات پر نہ جائیں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔ مزید معلومات اور زلزلے کی شدت کی تصدیق کے لیے سٹیشنری اور موبائل سیسمک سینسرز سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

  • 
جیفری ایپسٹین کو پینٹاگون اور ایف بی آئی سے منسلک عمارتوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کا انکشاف

    
جیفری ایپسٹین کو پینٹاگون اور ایف بی آئی سے منسلک عمارتوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کا انکشاف

    ‎امریکا میں جنسی جرائم کے مقدمات میں مجرم قرار دیے گئے سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق نئی دستاویزات نے ایک اور متنازع پہلو سامنے لا دیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ای میلز سے معلوم ہوا ہے کہ ماضی میں اسے پینٹاگون اور ایف بی آئی سے وابستہ عمارتوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی گئی تھی۔
    ‎جاری ریکارڈ کے مطابق 2016 میں ایپسٹین کو ایک ایسے بڑے تعمیراتی کمپلیکس میں حصہ خریدنے کی تجویز دی گئی جو امریکی محکمہ دفاع سے منسلک تھا۔ تاہم دستاویزات میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ معاہدہ عملی طور پر مکمل ہوا یا سرمایہ کاری انجام تک پہنچی۔
    ‎امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کمپلیکس ریاست ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں واقع ہے اور پینٹاگون سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر قائم ہے۔ عمارت کا مجموعی رقبہ تقریباً 84 ہزار 710 مربع میٹر بتایا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت ایپسٹین شریک مالک بنتا اور عملاً امریکی حکومت کے لیے مالک مکان کی حیثیت اختیار کر سکتا تھا۔
    ‎دستاویزات میں مجوزہ خریداری کی مالیت تقریباً 116 ملین ڈالر درج ہے۔ سرمایہ کاری کی اس پیشکش کا مقصد سرکاری اداروں کو لیز پر دی جانے والی جائیداد میں نجی شراکت داری قائم کرنا تھا۔
    ‎گزشتہ ماہ منظر عام پر آنے والی لاکھوں ای میلز میں ایک ایف بی آئی مخبر کی یادداشت بھی شامل ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایپسٹین اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ تھا۔ یادداشت میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کے اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک سے قریبی روابط تھے اور اسی دائرے میں اسے مبینہ طور پر تربیت ملی۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔
    ‎پینٹاگون سے متعلق مجوزہ معاہدے کی تفصیلات تین بنیادی دستاویزات پر مشتمل تھیں، جن میں ایک ای میل، سرمایہ کاروں کے لیے تیار کردہ پریزنٹیشن اور ڈیل کا خلاصہ شامل تھا۔ یہ پیشکش کاروباری شخصیت ڈیوڈ اسٹرن نے آگے بڑھائی، جو خود کو ایپسٹین کا قریبی ساتھی قرار دیتا تھا۔
    ‎دستاویزات کے مطابق اسٹرن ماضی میں برطانوی شاہی خاندان کے رکن شہزادہ اینڈریو کے قریبی معاون بھی رہے۔ انہیں حال ہی میں سرکاری عہدے کے مبینہ غلط استعمال کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
    ‎ریکارڈ سے یہ بھی سامنے آیا کہ 2015 میں اسٹرن نے ایپسٹین کو ایک الگ تجویز دی تھی جس میں رچمنڈ اور بالٹی مور میں ایف بی آئی کے دو فیلڈ دفاتر اور عدالتوں کی عمارتوں میں سرمایہ کاری کی بات کی گئی تھی۔ ان جائیدادوں کو سرمایہ کاروں کے لیے “پرکشش اثاثے” قرار دیا گیا تھا۔
    ‎منصوبے کے ابتدائی مرحلے کے لیے تقریباً 25 ملین ڈالر درکار تھے، جبکہ بعد میں مزید 80 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا گیا۔ دستاویزات کے مطابق ملکیت کا ڈھانچہ کیمن آئی لینڈز میں قائم ایک آف شور کمپنی کے ذریعے ترتیب دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

  • 
بیوٹی فلٹر ہٹتے ہی چینی انفلوئنسر کے ڈیڑھ لاکھ فالوورز نے ساتھ چھوڑ دیا

    
بیوٹی فلٹر ہٹتے ہی چینی انفلوئنسر کے ڈیڑھ لاکھ فالوورز نے ساتھ چھوڑ دیا

    ‎ایک چینی سوشل میڈیا انفلوئنسر اس وقت خبروں کی زینت بن گئیں جب لائیو اسٹریمنگ کے دوران اچانک ان کے چہرے سے بیوٹی فلٹر ہٹ گیا، جس کے بعد بڑی تعداد میں فالوورز نے انہیں ان فالو کر دیا۔
    ‎غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق خاتون لائیو ویڈیو کے ذریعے اپنے مداحوں سے بات چیت کر رہی تھیں کہ تکنیکی خرابی کے باعث چند لمحوں کے لیے چہرے پر لگا ڈیجیٹل فلٹر غائب ہوگیا۔ فلٹر ہٹتے ہی ناظرین ان کی اصل شکل دیکھ کر حیران رہ گئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق صارفین نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیا اور الزام لگایا کہ انفلوئنسر اپنی حقیقی شکل کے بجائے حد سے زیادہ فلٹرز استعمال کرکے مداحوں کو گمراہ کر رہی تھیں۔ اسی ردعمل کے نتیجے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد نے انہیں ان فالو کر دیا۔
    ‎صرف چار سیکنڈ پر مشتمل ویڈیو کلپ چند گھنٹوں میں دنیا بھر میں وائرل ہوگئی اور آن لائن خوب زیرِ بحث رہی، جہاں صارفین نے سوشل میڈیا پر فلٹرز کے بڑھتے استعمال اور حقیقت و دکھاوے کے فرق پر نئی بحث چھیڑ دی۔

  • گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے  پولو گراؤنڈ میں 300 عارضی دکانوں کا قیام

    گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے پولو گراؤنڈ میں 300 عارضی دکانوں کا قیام

    سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کی بحالی کے لیے کے ایم سی نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے پولو گراؤنڈ میں 300 عارضی دکانوں کا انتظام مکمل کرلیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد آتشزدگی سے متاثرہ سینکڑوں تاجروں کو دوبارہ روزگار کی فراہمی میں مدد دینا ہے تاکہ وہ معاشی سرگرمیاں بحال کر سکیں۔

    کے ایم سی حکام کے مطابق پولو گراؤنڈ میں باقاعدہ ٹینٹ لگا کر عارضی مارکیٹ قائم کی گئی ہے، جہاں ہر دکاندار کو باقاعدہ جگہ مختص کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عارضی دکانوں میں بجلی کی فراہمی کے ایم سی کی جانب سے یقینی بنائی جائے گی، جبکہ دکانداروں اور خریداروں کی سہولت کے لیے پینے کے صاف پانی اور بیت الخلا کا بھی مناسب بندوبست کیا گیا ہے۔سیکیورٹی کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ عارضی مارکیٹ کی حفاظت کے لیے 50 سٹی وارڈنز تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور تاجروں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ شہر کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی تھی۔ اس افسوسناک سانحے میں 86 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ 1200 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہو گئی تھیں، جس کے باعث سینکڑوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا۔شہری حلقوں اور تاجر برادری نے کے ایم سی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کی مستقل بحالی اور مالی معاونت کے لیے بھی جامع پالیسی مرتب کی جائے، تاکہ وہ طویل المدتی بنیادوں پر اپنے کاروبار کو دوبارہ مستحکم کر سکیں۔

  • گوجرخان،اندھیر نگری ،مارکیٹ کمیٹی آڑھتیوں کی بی ٹیم بن گئی

    گوجرخان،اندھیر نگری ،مارکیٹ کمیٹی آڑھتیوں کی بی ٹیم بن گئی

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان انتظامیہ لاپرواہی اور غفلت کے سبب مارکیٹ کمیٹی کی مبینہ ملی بھگت نے غریب پھل فروشوں اور ریڑھی بانوں کا جینا محال کر دیا۔ چھوٹے دکاندار پھٹ پڑے، انتظامیہ کے دوغلے معیار اور آڑھتیوں کی پشت پناہی کے خلاف احتجاجی محاذ کھول دیا۔

    مظاہرین کا الزام ہے کہ مارکیٹ کمیٹی کے افسران دفاتر میں بیٹھ کر خواب گاہوں میں نرخ نامے تیار کرتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔منڈی میں بولی کا عمل محض ایک ڈرامہ بن چکا ہے جہاں نہ انتظامیہ اور نہ ہی کوئی سرکاری نمائندہ موجود ہوتا ہے، اور آڑھتی اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر کے چھوٹے دکانداروں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ اگر ان لوگوں نے منڈی میں نہیں آنا ہوتا تو یہ لاکھوں روپے کس چیز تنخواہیں لیتے ہیں، عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر وہ کون سی ان دیکھی قوت ہے جو مارکیٹ کمیٹی کے کرپٹ اہلکاروں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے؟ منڈی میں بولی کے وقت افسران کی پراسرار گمشدگی ثابت کرتی ہے کہ دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ غریب مزدور کو قربانی کا بکرا بنا کر بڑے مگرمچھوں کو کس کی ایما پر کھلا چھوڑا گیا ہے؟ کیا انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو اس کھلی لوٹ مار کا علم نہیں، یا پھر خاموشی کی قیمت وصول کی جا رہی ہے؟ انتظامیہ کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ 20 روپے والا سرکاری نرخ نامہ سرعام 30 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں نے پوچھا ہے کہ روزانہ شہر کے سینکڑوں دکانداروں سمیت تحصیل بھر کے دکانداروں سے وصول کی جانے والی یہ زائد رقم کس افسر کی تجوری میں جا رہی ہے؟ کیا یہ اوپر کی کمائی نچلے عملے تک محدود ہے یا اس کا حصہ اوپر بیٹھے صاحبانِ اقتدار تک بھی پہنچتا ہے؟ ریٹ لسٹ کے نام پر یہ اضافی وصولی کسی بھتے سے کم نہیں۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں منڈی سے چیزیں مہنگی ملتی ہے لیکن لسٹ میں ریٹ کم لکھ کر ہمیں عوام سے لڑوایا جاتا ہے۔ دکانیں سیل کرنا اور جرمانے کرنا صرف چھوٹے طبقے کے لیے رہ گیا ہے، جبکہ منڈی کے ڈون افسران کی ناک کے نیچے قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوجرخان کے اس مافیا راج کا نوٹس لیں اور ان افسران کا محاسبہ کریں جو غریب کا خون نچوڑ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔

  • دس سال کا کام   دس ماہ میں نہیں ہو سکتا،مصطفیٰ کمال

    دس سال کا کام دس ماہ میں نہیں ہو سکتا،مصطفیٰ کمال

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس مہش کمار میلانی کی زیر صدات ہوا

    ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے وزارت صحت کی پیش کردہ ایڈز سے متاثرہ افراد کی رپورٹ پر اظہار ناراضگی کیا، اور کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کی جو رپورٹ پیش کی گئی ہے یہ رپورٹ اگر عالمی اداروں کو دی جاتی تو ہمارے منہ پر ماری جاتی ،ملک بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں مین اضافہ ہو رہا ہے. سینکڑوں اہسے مریض ہیں جن کا اس رپورٹ میں ذکر تک موجود نہیں ،کے پی میں 2025 میں چالیس ہزار مریض تھے ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا ،یہ رپورٹ اگر باہر جاتی ہے تو ہماری سبکی ہو گی،2025 میں اسلام آباد میں 300 کیس رپورٹ ہوئے ہین جن کا ذکر تک موجود نہیں ،بلوچستان کا ذکر تک موجود نہیں ،7 ہزار سے 8 ہزار صرف بلوچستان میں مریض موجود ہیں،81 ہزار مریض دکھائے گِے ہیں اس رپورٹ میں ،پولی کلینک کے ایم سی ایچ سینٹر میں ایچ آئی وی سینٹر بنایا گیا ہے،آئی ایچ آر اے سے رپورٹ مانگی گئی تھی. غیر قانونی ابارشن 60 فیصد تک ہو رہے ہیں.آئی ایچ آر اے نے سابقہ رپورٹس دے دی ہیں جو ہم رٹ چکے ہیں

    وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ دس سال کا کام دس ماہ میں نہیں ہو سکتا،یہ ساری آوازیں ابھی اٹھنی ہیں،مفروضے کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کے تین لاکھ مریض ہیں ،گلوبل فنڈ 25 فیصد فنڈ گورنمنٹ کو 75 فیصد فنڈ این جی اوز کو دیا جا رہا ہے ،ابھی آپ کو کیسز اور زیادہ ملیں گے،90 فیصد لوگ میڈیکل وجوہات پر ڈی پورٹ ہو رہے ہیں ،بارڈر ہیلتھ سروسز. ڈی پورٹ ہونے والوں کی سکریننگ ہو گی ،سندھ میں ایک ہی جگہ پر بچوں میں مرض پایا گیا غلط سرنجز لگائی گئیں،

    ڈی جی ہیلتھ کی بریفنگ پر وفاقی وزیر صحت نے ڈی جی کو ڈانٹ پلا دی ،کہا کہ آپ سے جو پوچھا جا رہا ہے وہ بتائیں ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں ،صرف اسلام آباد کا ڈیٹا دیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ایم ڈی سی نے کہا تھا کہ جو سیٹیں خالی ہیں وہ لازمی پر کریں گے، رجسٹرار پی ایم اینڈ ڈی سی نے کہا کہ ہم نے اس تاریخ کو 31 مارچ تک بڑھا دیا ہے،امید ہے سیٹیں پر ہو جائیں گی ،وزیرصحت سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ نرسنگ کونسل کا اتنا بڑا مافیاہے، ملک کا تماشاہے، کتنا بڑا سٹیک ہے معتبر نام انگلی پکڑ کر چلتے ہیں، عدالت نے بغیر سنے حکم امتناع دیا ہے ،ہم نے سارے طریقہ کار ڈھونڈ رہے ہیں، اس پر ان کیمرہ سیشن کریں گے، ممبران کمیٹی نے کہا کہ ایکٹ میں تجویز دینا چاہتے ہیں،نرسنگ کونسل پر ان کیمرہ سیشن رکھتے ہیں، مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مجھ سے قبل 21 ارب روپے بجٹ تھا.جب مجھے وزارت ملی تو ہمیں صرف 14 ارب روپے بجٹ میں دئیے گئے ،کوئی نئی سکیم گزشتہ سال پاس نہیں کی گئی. تین ہفتے قبل تین ارب روپے کی سکیمیں مںظور کی گئی ہیں

  • پرواز منسوخ ہونے کے سبب 250 عمرہ زائرین مشکلات کا شکار

    پرواز منسوخ ہونے کے سبب 250 عمرہ زائرین مشکلات کا شکار

    غیرملکی ایئر لائن کی پرواز منسوخ ہونے کے سبب 250 عمرہ زائرین 3 دن سے لاہور میں مشکلات کا شکار ہیں۔

    عمرہ زائرین نے بدھ کو لاہور ایئر پورٹ سے غیرملکی ایئر لائن کےذریعے جدہ جانا تھا،غیرملکی ایئر لائن کے خلاف مسافروں اور عمرہ زائرین نے ہوٹل میں احتجاج کیا،عمرہ زائرین کا کہنا ہے کہ 3 روز قبل جدہ کے لیے پرواز منسوخ ہوئی جس کے بعد ہوٹلوں میں بھیج دیا گیا، 3 دن ہوگئے ایئر لائن کی انتظامیہ نے کوئی جواب نہیں دیا،عمرہ زائرین کا کہنا ہے کہ بورڈنگ پاس جاری ہونے کے بعد پرواز منسوخ کی گئی، ہمیں بتایا گیا کہ جہاز میں خرابی پیدا ہوگئی ہے، سعودی عرب میں ہوٹلوں کی بکنگ کرائی تھی جو کینسل کردی گئی،سعودی ایئر لائن نے بورڈنگ کارڈ جاری کرنے کے بعد اچانک پرواز منسوخ کر دی

  • پی ٹی آئی دھرنا ختم کروانے پر ڈی پی او کا خیبر پختونخوا حکومت نے کیاتبادلہ

    پی ٹی آئی دھرنا ختم کروانے پر ڈی پی او کا خیبر پختونخوا حکومت نے کیاتبادلہ

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور صوابی انٹرچینج پر جاری دھرنا رضاکارانہ طور پر ختم کیا گیا۔تاہم دھرنا ختم ہونے کے فوری بعد خیبرپختونخوا پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی پی او صوابی سمیت متعدد پولیس افسران کے تبادلے کر دیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق صوابی موٹروے پر تحریک انصاف کے دھرنے کے خاتمے کے بعد “آفٹر شاکس” کے طور پر ڈی پی او صوابی ضیاءالدین کو تبدیل کر کے ڈی آئی خان تعینات کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایس ایس پی پشاور کا تبادلہ کر کے انہیں باجوڑ بھیج دیا گیا ہے۔پولیس حکام کی جانب سے تبادلوں کو معمول کی انتظامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں اسے صوابی موٹروے پر دھرنا ختم کرانے کی کارروائی سے جوڑا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز دھرنے کے مقام پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد کارکنان کو منتشر کیا تھا، جس میں ڈی پی او صوابی سمیت دیگر افسران پیش پیش تھے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف عدلیہ کے احترام اور رضاکارانہ طور پر دھرنا ختم کرنے کا بیان سامنے آیا، تو دوسری جانب متعلقہ پولیس افسران کے تبادلوں نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

  • مسجد الحرام، مسجد نبوی ﷺ سمیت مقدس مساجد میں 20 لاکھ سے زائد زائرین کی حاضری

    مسجد الحرام، مسجد نبوی ﷺ سمیت مقدس مساجد میں 20 لاکھ سے زائد زائرین کی حاضری

    رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کے موقع پر سعودی عرب کی مقدس مساجد میں روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے جہاں لاکھوں فرزندانِ اسلام نے عبادت میں شرکت کی۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد قبلتین اور مسجد قباء میں مجموعی طور پر 20 لاکھ سے زائد زائرین نے نماز جمعہ ادا کی۔رمضان کے بابرکت مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر سے آنے والے عمرہ زائرین اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے ان مقدس مقامات کا رخ کیا۔ نماز جمعہ سے قبل ہی مساجد کے اندرونی حصے مکمل طور پر بھر گئے جبکہ صحنوں، اوپری منزلوں، ملحقہ عمارتوں اور اطراف کی شاہراہوں پر بھی نمازیوں کی طویل صفیں بچھ گئیں۔ کئی مقامات پر نمازیوں کے لیے خصوصی انتظامات کے تحت اضافی قالین بچھائے گئے اور عارضی راستے مختص کیے گئے تاکہ آمد و رفت میں آسانی رہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکام کی جانب سے سیکیورٹی، ٹریفک کنٹرول، ہنگامی طبی سہولیات اور صفائی ستھرائی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں نے مساجد کے داخلی و خارجی راستوں پر فرائض انجام دیے جبکہ رضا کاروں کی بڑی تعداد زائرین کی رہنمائی کے لیے موجود رہی۔ صفائی کے عملے نے نماز کے بعد فوری طور پر صفائی کا عمل مکمل کیا تاکہ اگلی عبادات کے لیے ماحول کو خوشگوار رکھا جا سکے۔

    شدید رش کے باوجود نظم و ضبط کی فضا قائم رہی اور نمازیوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ خطباتِ جمعہ میں تقویٰ، اخوت، باہمی رواداری اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا گیا جبکہ عالمِ اسلام میں امن و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔سعودی عرب کی دیگر بڑی اور مرکزی مساجد میں بھی نماز جمعہ کے اجتماعات میں غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آئی۔ ملک بھر میں رمضان المبارک کی مناسبت سے مساجد کو برقی قمقموں اور خوبصورت روشنیوں سے آراستہ کیا گیا ہے، جبکہ افطار اور سحری کے اوقات میں بھی زائرین کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات جاری ہیں۔

  • پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیموں،غیررجسٹرڈ اداروں کی فہرست جاری کر دی

    پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیموں،غیررجسٹرڈ اداروں کی فہرست جاری کر دی

    لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے میں کالعدم تنظیموں اور غیر رجسٹرڈ خیراتی اداروں کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے 89 تنظیموں اور فلاحی اداروں پر مشتمل فہرست جاری کر دی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور عوامی عطیات کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق جاری کردہ فہرست میں شامل تنظیمیں انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دی جا چکی ہیں یا وہ بطور خیراتی ادارہ باقاعدہ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم تنظیموں سے کسی بھی قسم کی مالی یا اخلاقی معاونت کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ شہری غیر رجسٹرڈ اور کالعدم خیراتی اداروں کو زکوٰۃ، صدقات، خیرات اور دیگر عطیات دینے سے گریز کریں۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کی مالی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ایسے عناصر کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں کسی بھی خیراتی ادارے کے لیے پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹریشن لازمی ہے۔ عوام الناس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی زکوٰۃ اور عطیات صرف انہی اداروں کو دیں جو چیریٹی کمیشن سے باقاعدہ رجسٹرڈ اور تصدیق شدہ ہوں، تاکہ ان کی رقوم مستحقین تک شفاف انداز میں پہنچ سکیں۔محکمہ داخلہ پنجاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں یا غیر قانونی چندہ مہمات کی اطلاع متعلقہ حکام کو فراہم کریں تاکہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔