Baaghi TV

Blog

  • بسنت یا انسانی جان، قوم کا امتحان؟ تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بسنت یا انسانی جان، قوم کا امتحان؟ تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بسنت بے شمار خرابیوں، بربادیوں کا مجموعہ، معاشرتی اقدار اور ریاستی رٹ کے قتلِ عام کی علامت بن گئی ۔ جس کی قیمت معصوم شہری اپنی جانوں، اعضا اور محنت کی کمائی سے ادا کرتے رہے ، اگر چہ بسنت کو خوشی کے ایک تہوار کا نام دیا حالانکہ یہ خوشی کا تہوار نہیں بلکہ ایک ایسا خونی تہوار اور سفاکیت کی علامت بن گیا جس کی ڈور تلوار کی طرح گردنیں کاٹ دیتی ہے ، موٹر سائیکل سوار موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ، جس کے شیشے، کیمیکل اور دھات سے بنے دھاگوں نے شہر میدانِ جنگ بنا دیے !

    پرویز مشرف حکومت کے خاتمہ کے بعد جب نئے انتخابات ہوئے تو پنجاب میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ بنے انھوں نے بسنت منانے ، پتنگیں اڑانے پر سخت پابندی لگا دی ۔ اس پابندی کی وجہ سے پنجاب کے عوام نے سکھ اور سکون کا سانس لیا ۔ کئی سال تک پنجاب میں امن اور سکون رہا لیکن معلوم نہیں کیا وجہ بنی کہ میاں شہباز شریف کی بھتیجی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو یہ سکون پسند نہ آیا انھوں دوبارہ سے سرکاری سطح پر بسنت منانے اور پتگیں اڑانے کی اجازت دے دی ہے ۔ شنید ہے کہ لاہور کے بعد پنجاب کے باقی شہروں میں بھی یہ ہندووانہ خونی تہوار منایا جائے گا ۔

    نام نہاد تفریح کے نام پر معصوم شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی گئیں ۔ اس خونی ہندووانہ رسم کی وجہ سے کئی بچے یتیم ہوئے ، عورتیں بیوہ ہوئیں اور لاتعداد گھر اجڑ گئے ہیں ۔ یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ بسنت تفریح نہیں بلکہ ایک قاتل سرگرمی بن چکی ہے۔
    کہنے کی حد تک ایک ڈور ہے ، ایک پتنگ ہے اور ایک وہ ہے جو اس پتنگ کو اڑانے والا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک قاتل ڈور ہوتی ہے جو ا نسانی لاشیں گراتی ہے ۔ بسنت کے دوران استعمال ہونے والی ڈوریں براہِ راست انسانی قتل کا ذریعہ بن چکی ہیں۔یہی وجہ ہے اس بار بھی کئی افراد موت کے گھاٹ اترے اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے ، کئی افراد کے سر قلم ہوئے یا گردن کٹنے جیسے ہولناک حادثات کی وجہ سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔یہ ایک ایسا قبیح عمل ہے کہ جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار، مزدور، طالب علم یہاں تک کہ اسکول جاتے بچے محفوظ نہیں۔
    اس دفعہ جب بسنت منائی گئی اس دن سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی، ڈاکٹر اور نرسیں اضافی ڈیوٹیاں انجام دیتے رہے ، ریاست لاکھوں روپے صرف اس لیے خرچ کرتی ہے کہ چند لوگ آسمان پر کاغذ اڑا سکیں۔
    سوال یہ ہے کہ یہ اخراجات کس نے ادا کئے ؟
    کیا ریاست نے ؟ نہیں۔
    کیا حکومت نے ؟ نہیں۔
    یہ قیمت عام شہری، ٹیکس دہندہ اور متاثرہ خاندانوں سے وصول کی گئی ۔
    بسنت کا سب سے تاریک پہلو وہ معصوم بچے ہیں جو چھتوں پر پتنگ لوٹتے ہوئے گر کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں، یا جن کی گردن قاتل ڈور سے کٹ جاتی ہے۔ ان بچوں کے والدین کے لیے بسنت ایک دن نہیں بلکہ عمر بھر کا زخم بن جاتی ہے ، کوئی قانون، کوئی روایت، کوئی ثقافت اس دکھ کا مداوا نہیں کر سکتی۔
    بسنت کی وجہ سے صرف معاشی نقصان ہی نہیں ہوتا بلکہ چھتوں سے زیادہ قبرستان آباد ہوتے ہیں ۔
    بسنت کو سیاحت اور معیشت کے فروغ کا ذریعہ قرار دینے والے یہ حقیقت جان بوجھ کر چھپاتے ہیں کہ اس تہوار سے ہونے والا مالی اور جانی نقصان اس کے مبینہ فوائد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ بجلی کے تار کٹتے ہیں ، ٹرانسفارمر جلتے ہیں ، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہوتی ہے ، عمارتوں، گاڑیوں اور سولر سسٹمز کو نقصان پہنچتا ہے ، پولیس، ریسکیو اور ہسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے
    افسوس کہ بسنت مافیاجس میں صنعتکار، سیاست دان اور بااثر حلقے شامل ہیں بڑے بڑے پلازوں اور حویلیوں کی چھتوں پر پتنگیں اڑاتے جبکہ لاشیں ہمیشہ غریبوں کے حصے میں آتی ہیں۔ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ بات مت بھولیں کہ ہمارے دین نے انسانی جان کو سب سے قیمتی قرار دیا ہے۔ ایک جان کا ضیاع پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ ایسے میں ایک ایسی سرگرمی جو مسلسل جانیں لے رہی ہو، اسے ثقافت کے نام پر جائز قرار دینا بدترین اخلاقی دیوالیہ پن ہے ۔
    معاشرے وہی ترقی کرتے ہیں جو تفریح اور ذمہ داری کے درمیان حد قائم رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے یہ حد کب کی پار کر لی ہے۔
    میڈیا اور اشرافیہ کا کردار بھی قابل افسوس ہے ۔میڈیا بسنت کو رنگین مناظر، ڈرون شاٹس اور موسیقی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اشرافیہ محفوظ فارم ہاؤسز اور بلند عمارتوں پر جشن مناتی ہے، جبکہ سڑکوں پر مرنے والے عام لوگ ہوتے ہیں۔یہ طبقاتی تفریق بسنت کو مزید قابلِ نفرت بنا دیتی ہے۔ حل کیا ہے؟ حل کوئی مشکل نہیں، بس نیت کی ضرورت ہے مکمل اور مستقل پابندی قاتل ڈور بنانے، بیچنے اور استعمال کرنے پر پابندی اور ناقابلِ ضمانت سزائیں ۔
    اس سلسلہ میں عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ جب تک لاشوں کے بدلے صرف بیانات آتے رہیں گے تب تک بسنت قاتل ہی رہے گی۔
    آخری سوال
    کیا ہم واقعی ایک ایسی قوم ہیں جو چند گھنٹوں کی تفریح کے لیے اپنے بچوں کی جانیں قربان کرنے پر تیار ہیں؟یا پھر اب بھی وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں ۔۔۔۔بسنت یا انسان۔۔۔۔؟ یہ فیصلہ ریاست کو بھی کرنا ہے، معاشرے کو بھی اور ہر اس فرد کو بھی جو بسنت کو محض تفریح کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
    یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ بسنت پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی تھی جو قیمتی انسانی جانوں کے مسلسل ضیاع کے بعد لگائی گئی تھی۔ عدالتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خود حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی تھیں کہ بسنت ایک خطرناک، جان لیوا اور ناقابلِ کنٹرول سرگرمی بن چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود حالیہ برسوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری سرپرستی میں بسنت منانے کا اقدام نہ صرف افسوسناک بلکہ اخلاقی، انتظامی اور انسانی سطح پر مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔
    جب ایک حکومت خود اس سرگرمی کو فروغ دے جس پر وہ ماضی میں پابندی لگا چکی ہو تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ریاستی فیصلے لاشوں کی تعداد کے مطابق بدلتے رہیں گے؟ کیا وہی سرگرمی جو کل قاتل تھی، آج محض اس لیے ثقافت بن گئی کہ سیاسی فائدہ یا وقتی مقبولیت حاصل کی جا سکے؟ یہ دوغلا پن دراصل عوام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی جانوں کی کوئی مستقل قدر نہیں، سب کچھ سیاسی مفاد کے تابع ہے۔
    سرکاری سطح پر بسنت کی اجازت دینا درحقیقت بسنت مافیا کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے، جو اب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جب حکومت خود پشت پناہی کر رہی ہے تو پابندی، قانون اور احتیاط کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اس سرکاری سرپرستی نے نہ صرف قانون کی ساکھ کو مجروح کیا ہے بلکہ ان تمام خاندانوں کے زخم بھی ہرے کر دیے ہیں جنہوں نے ماضی میں بسنت کی نذر ہو کر اپنے پیارے کھوئے تھے ۔
    یہ فیصلہ دراصل ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے:آج بسنت، کل کوئی اور جان لیوا روایت۔۔۔۔ یوں ریاست خود اپنے شہریوں کی قاتل بن جاتی ہے۔

  • گجر خان گرین بس سروس  پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گجر خان گرین بس سروس پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گجر خان گرین بس سروس کو صرف پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود کر دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک عوامی سہولت کے وژن کو محدود کرنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ جب مریم نواز شریف نے گجر خان سے راولپنڈی تک آرام دہ اور محفوظ سفری سہولت کا اعلان کیا تو اس کا بنیادی مقصد طلبا و طالبات، بزرگ شہریوں، ملازمت پیشہ افراد اور خصوصاً خواتین کو باوقار اور سستا سفر فراہم کرنا تھا۔لیکن اگر اس سروس کو شہر کے مرکزی مقامات تک پہنچانے کے بجائے پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود رکھا گیا ہے تو اس سے اصل فائدہ اٹھانے والے طبقات کو مکمل سہولت میسر نہیں آ سکے گی۔ روزانہ کی بنیاد پر کالجز، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور دفاتر جانے والوں کے لیے منزل تک رسائی ہی اصل سہولت ہوتی ہے، نہ کہ نصف راستے تک۔

    ضلعی انتظامیہ راولپنڈی کے اس اقدام سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید نچلی سطح پر منصوبہ بندی میں وہ سنجیدگی نہیں دکھائی گئی جس کی عوام توقع رکھتے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ کی نیک نیتی اور عوامی ریلیف کے وژن کو بیوروکریسی کی سطح پر مکمل عملدرآمد نہ ملے تو ایسے منصوبے اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ٹریفک، سیکیورٹی یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا؟ اگر ایسا ہے تو عوام کو اعتماد میں لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ شفافیت ہی اعتماد کو جنم دیتی ہے۔گجر خان کے عوام خصوصاً طلبا، طالبات اور خواتین یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں مکمل اور براہِ راست سفری سہولت فراہم کی جائے، تاکہ حکومتی وعدہ عملی شکل میں نظر آئے۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور گرین بس سروس کو اس کے اصل روٹ تک توسیع دے، تاکہ وزیراعلیٰ کے عوامی وژن کی حقیقی تعبیر سامنے آ سکے۔

  • سکھس فار جسٹس کا تاریخی اعلان،بورڈ آف پیس کیلئے1بلین ڈالر، خالصتان ریفرنڈم کیلئے عالمی دباؤ

    سکھس فار جسٹس کا تاریخی اعلان،بورڈ آف پیس کیلئے1بلین ڈالر، خالصتان ریفرنڈم کیلئے عالمی دباؤ

    واشنگٹن میں سکھس فار جسٹس نے تاریخی اعلان کیا ہے کہ وہ بورڈ آف پیس کے پہلے سرکاری اجلاس کیلئے ایک بلین ڈالرز دے گا

    امریکہ بھر سے سینکڑوں سکھ برادری کے ارکان واشنگٹن ڈی سی میں جمع ہوئے تاکہ امن، اتحاد اور سیاسی مطالبات کیلئے آواز بلند کریں،غزہ کی طرح خالصتان کو بھی ایک حل طلب سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے سفارتی اور جمہوری حل پر زور دیا جا رہا ہے،صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے یہ واضح مطالبہ بھی رکھا گیا کہ؛ مودی سے براہِ راست بات کی جائے کہ بھارتی زیر قبضہ پنجاب میں امریکی محکمہ خارجہ کی نگرانی میں آزادی ریفرنڈم کروایا جائے

    سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسل گُرپتوانت سنگھ پنوُن نے کہا کہ خالصتان ریفرنڈم کے حامی سکھ نوجوانوں کو مبینہ جعلی مقابلوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے ،11,000 سے زائد سکھ نوجوان سیاسی عقائد کی بنیاد پر گرفتار اور ‘گینگسٹر’ کے طور پر لیبل کیے گئے ہیں،کسی بھی خونریز مقابلے سے پہلے صدر ٹرمپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایک پرامن، جمہوری حل کیلئے نگرانی شدہ ریفرنڈم کروایا جائے، احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ؛ہمارا مقصد بورڈ آف پیس کا ممبر بن کر پنجاب کو بھارت سے آزاد کرانا ہے ،ہم بھارت سے جمہوری اور پر امن طریقے سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں ،

    ماہرین کے مطابق یہ اقدام امریکی سیاست میں خالصتان کے مطالبے کو اجاگر کرنے اور عالمی توجہ حاصل کرنے کی ایک مؤثر کوشش ہے،اگرچہ اس سے بھارت-امریکہ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے، مگر مقصد تشدد سے بچتے ہوئے مسئلے کا پرامن حل تلاش ہے ، یہ تاریخی موقع سکھ کمیونٹی کیلئے نہ صرف ایک یادگار دن ہے بلکہ عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم قدم بھی ہے،

  • اسلام آباد میں ڈولفن اسکواڈ اہلکاروں کا میاں بیوی پر مبینہ تشدد

    اسلام آباد میں ڈولفن اسکواڈ اہلکاروں کا میاں بیوی پر مبینہ تشدد

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ایف ایٹ میں ڈولفن اسکواڈ کے اہلکاروں کی جانب سے ایک میاں بیوی پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر منظرِ عام پر آنے کے بعد شہری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

    پولیس کے مطابق واقعہ ایف ایٹ کے رہائشی سیکٹر میں اس وقت پیش آیا جب ڈولفن اسکواڈ کے اہلکاروں نے ایک شہری اور اس کی اہلیہ کو ان کے گھر کے باہر روکا اور معمول کی چیکنگ کے دوران شناختی کارڈ طلب کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ چیکنگ کے دوران فریقین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو شدت اختیار کرگئی۔عینی شاہدین کے مطابق بحث و تکرار کے بعد اہلکاروں نے شہری اور اس کی بیوی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند اہلکار شہری کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ خاتون کی جانب سے مزاحمت اور چیخ و پکار بھی سنائی دیتی ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ ترجمان کے مطابق اگر کسی اہلکار کی جانب سے اختیارات سے تجاوز ثابت ہوا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تشدد میں مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ آئی جی نے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے جو مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کرے گی۔آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور پولیس فورس میں احتساب کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اگر کسی اہلکار نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے تو اس کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • سولجر بازار حادثہ،عمارت کے گرفتار مالک کا بیان سامنے آ گیا

    سولجر بازار حادثہ،عمارت کے گرفتار مالک کا بیان سامنے آ گیا

    کراچی کے علاقے سولجر بازار میں عمارت گرنے کے واقعے میں گرفتار مالک محمد ارشاد کا ویڈیو بیان سامنے آ گیا ہے۔

    ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے 18 سال قبل پپو بھائی سے عمارت تعمیر کروائی تھی اور یہ پختہ عمارت تھی۔ ملزم کے مطابق وہ خود بھی آٹھ سال تک اسی عمارت میں مقیم رہا۔ محمد ارشاد نے دعویٰ کیا کہ عمارت کی دیکھ بھال پر بھی تین سے چار لاکھ روپے خرچ کیے گئے تھے جبکہ گیس اور بجلی کے کنکشن بھی باقاعدہ لگوائے گئے تھے۔گرفتار مالک نے اپنے بیان میں کہا کہ ممکنہ طور پر کہیں سے گیس لیک ہو گئی ہوگی۔ اس کے مطابق پہلی منزل کے رہائشی شاہد سگریٹ نوشی کرتے تھے، گھر ایک جانب سے بند تھا جس کے باعث گیس جمع ہو گئی ہوگی۔ ملزم نے دعویٰ کیا کہ شاید گیس کی بو محسوس نہ کی گئی ہو اور ماچس جلانے سے دھماکہ ہوا ہو۔حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور عمارت کی تعمیر، دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب سولجر بازار میں گیس لیکج کے باعث دھماکے سے عمارت گرنے کا واقعے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل باالسبب، املاک کا نقصان، غفلت، لاپرواہی اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں،مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ عمارت گرنے کے باعث کئی لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے،یاد رہے کہ گزشتہ روز سولجر بازار میں گیس لیکج کے باعث رہائشی عمارت میں ہونے والے دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 16 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے تھے۔

  • وزیراعلیٰ سندھ  سے فوجی فرٹلائیزر کمپنی کے سی ای او جہانگیر پیراچہ کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سے فوجی فرٹلائیزر کمپنی کے سی ای او جہانگیر پیراچہ کی ملاقات

    تھر کوئلے سے یوریا کھاد بنانے کے عظیم منصوبے پر پیش رفت، فوجی فرٹلائیزر کمپنی (ایف ایف سی) اور سندھ حکومت کے درمیان اہم بیٹھک،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے فوجی فرٹلائیزر کمپنی (ایف ایف سی) کے سی ای او جہانگیر پیراچہ کی ملاقات،ملاقات میں تھر کے کوئلے سے یوریا کھاد تیار کرنے کے منصوبے پر تفصیلی تبادلۂ خیال،یہ منصوبہ جولائی 2024ء میں وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور اس پر خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی ہے۔

    منصوبے کی بینکیبل فزیبلٹی اسٹڈی نومبر 2025ء میں مکمل کر لی گئی ہے، منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 1.12 ارب ڈالر ہے، سالانہ 717,000 ٹن یوریا پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی،کوئلے سے یوریا بنانے کا منصوبہ تھر اور پاکستان کے لیے ایک “گیم چینجر” ثابت ہوگا،یہ منصوبہ سندھ کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے،اس منصوبے سے 3,500 سے زائد براہِ راست اور 7,000 سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یوریا کی درآمد میں کمی آئے گی اور ممکنہ طور پر 260 ملین ڈالر تک برآمدات سے قومی خزانے کو فائدہ ہوگا،سندھ حکومت کو سالانہ تقریباً 5.5 ملین ڈالر تک رائلٹی ملنے کا امکان ہے۔سندھ حکومت مکھی فراش سے 12 کیوسک پانی کی فراہم کرے اور اسلام کوٹ میں ملازمین کی کالونی کے لیے زمین کی مختص کی جائے،منصوبے کی کامیابی کے لیے سندھ اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے ٹیکسوں میں سہولیات دینی ہونگی،کوئلے سے یوریا تیار کرنے سے یوریا کی قیمت کم ہوگی، جس سے زرعی شعبے کو نمایاں فائدہ پہنچےگا.

  • پاکستان میں دہشتگردی میں افغان سرزمین کااستعمال، ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر

    پاکستان میں دہشتگردی میں افغان سرزمین کااستعمال، ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر

    پاکستان میں دہشتگردی میں افغان سرزمین کااستعمال، ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر آ گئے

    16فروری 2026کو باجوڑمیں ملنگی پوسٹ پر خودکش حملہ کرنے والا خارجی دہشتگرد بھی افغان شہری نکلا،خودکش حملہ آور کی شناخت خارجی احمدعرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی جو افغانستان کےصوبہ بلخ کارہائشی تھا ،خارجی احمدعرف قاری عبداللہ ابوذر طالبان کی اسپیشل فورسزکاحصہ بھی رہ چکاہے،اس خودکش حملہ میں 11 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت دو معصوم شہری بھی شہید ہوئے ،پاکستان میں دہشتگردی میں افغان شہریوں کاملوث ہونا، طالبان رجیم کی دہشتگردوں کی مکمل سرپرستی اورسہولت کاری کا واضح ثبوت ہے،گزشتہ کئی عرصے سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں

    6فروری2026 کواسلام آبادترلائی میں خودکش حملہ کرنےوالےبمبار نےافغانستان سےدہشتگردی کی تربیت حاصل کی تھی،11نومبر2025کواسلام آبادجوڈیشل کمپلیکس اور24نومبرکوایف سی ہیڈکوارٹرزپشاورپرحملہ کرنےوالے دہشتگردوں کاتعلق بھی افغانستان سے تھا،گزشتہ سال10اکتوبرکوڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹراور10نومبرکوواناکیڈٹ کالج پردہشتگردحملوں میں بھی افغان شہری ملوث تھے ،19اکتوبر 2025کوجنوبی وزیرستان میں گرفتارہونے والا خودکش بمبارنعمت اللہ ولد موسی جان بھی افغان صوبہ قندھارکارہائشی تھا،4مارچ 2025کوبنوں کینٹ حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان سے ہوئی جس میں افغان شہریوں کےملوث ہونےکی تصدیق بھی ہوئی ،11مارچ 2025 کوجعفر ایکسپریس حملے کے سہولت کار افغانستان میں چھپے خارجی نور ولی سے مسلسل رابطہ میں تھے ، 3ستمبر 2024 کوگرفتارہونے والے خودکش بمبار روح اللہ کےکا اعترافی بیان افغانستان سےسرحدپاردہشتگردی کاواضح ثبوت ہے

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سےدہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی سے واضح ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہگاہیں میسر ہیں ،پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد افغانی ملوث ہیں،افغان طالبان رجیم کے غیر منطقی طرزعمل اوردہشتگردوں کی پشت پناہی نے امن کی کوششوں کو ہمیشہ سبوتاژکیا

  • سپریم کورٹ،بانی پی ٹی آئی کی درخواست ،ہرجانہ کیس کاروائی روکنے کا حکم

    سپریم کورٹ،بانی پی ٹی آئی کی درخواست ،ہرجانہ کیس کاروائی روکنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو ہرجانہ کیس میں کارروائی سے روک دیا اور وزیراعظم شہباز شریف سے جواب طلب کر لیا۔

    شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہرجانہ کیس پر سپریم کورٹ میں بانی کی درخواست پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، کیس کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ دوسری طرف سے آج کوئی نہیں آیا، اس مقدمہ میں میرا اختلافی نوٹ ہے، دو جج صاحبان نے حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ٹانگ میں گولی لگی تھی، بانی پی ٹی آئی زخمی ہونے کے باعث کیس میں پیش نہ ہوسکے، ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی عدم پیروی پر حق دفاع ختم کردیا تھا، اب مقدمہ میں گواہان کا بیان ریکارڈ ہو رہے ہے۔

    جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کتنے ارب ہرجانے کا دعوی ہے ؟ علی ظفر نے بتایا کہ دس ارب روپے کا دعویٰ کیا گیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کرنے سے پہلے دو تاریخوں پر بانی کا زخمی ہونا تسلیم کیا، زخمی ہونا تسلیم کرنے کے بعد حق دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا ہے ؟ ہم مقدمہ میں دوسرے فریق کو نوٹس کررہے ہیں، شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دس ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہوا ہے جس میں ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا عدم پیروی پر دفاع کا حق ختم کردیا تھا

  • وزیرِ اعظم سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر  انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کی ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے یونائیٹڈ اسٹیٹس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے سی ای او بینجمن بلیک نے آج واشنگٹن میں ملاقات کی۔ ان کے ساتھ ڈی ایف سی کے سرمایہ کاری کے سربراہ کونر کولمین اور ایجنسی کی سینئر قیادت بھی موجود تھی۔

    وزیر اعظم نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی شراکت داری کے فروغ اور دونوں ممالک کے نجی اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کو متحرک کرنے میں ڈی ایف سی کے کلیدی کردار کی تعریف کی، جو کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے والے میکرو اکنامک بنیادی اصولوں، ساختی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ماحول کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ڈی ایف سی کو دعوت دی کہ وہ توانائی، کان کنی و معدنیات، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں منصوبوں کے لیے اپنی فنانسنگ میں اضافہ کرے۔ انہوں نے DFC کے 1 بلین ڈالر سے زیادہ کے پورٹ فولیو کو سراہا اور دونوں ممالک کی اقتصادی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی پر روشنی ڈالی، جو کاروباری تعاون (B2B) کے فروغ کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند مواقع ہیں۔ وزیراعظم نے ڈی ایف سی کو اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آئندہ معدنیات کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

    بینجمن بلیک نے وزیراعظم کو DFC کے اسٹریٹجک اقدامات، ترجیحات اور پاکستان میں متوقع پراجیکٹس کے بارے میں آگاہ کیا اور پاکستان میں ڈی ایف سی کی سرمایہ کاری میں اضافے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ DFC شراکت دار ممالک میں اقتصادی ترقی کی حمایت کیلئے تیار ہے۔ وزیر اعظم نے بنجمن بلیک کو پاکستان میں مشترکہ دلچسپی کے مختلف شعبوں میں باہمی طور پر مفید سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

  • صدر ٹرمپ کا خلائی مخلوق اور یو ایف اوز سے متعلق فائلیں جاری کرنے کا اعلان

    صدر ٹرمپ کا خلائی مخلوق اور یو ایف اوز سے متعلق فائلیں جاری کرنے کا اعلان

    امریکا میں یو ایف اوز اور خلائی مخلوق پر نئی بحث چھڑ گئی۔

    ہفتے کے روز ایک پوڈکاسٹ میں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایلینئز سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت میں کہا کہ ایلیئنز حقیقت میں ہوتے ہیں لیکن میں نے انہیں نہیں دیکھا، کسی خلائی مخلوق کو ایریا 51 میں نہیں رکھا گیا، وہاں کوئی زیرِ زمین تنصیب نہیں ہے،کائنات اتنی وسیع ہے کہ کہیں نہ کہیں زندگی کے امکانات موجود ہوسکتے ہیں تاہم اپنی صدارت کے دوران انہوں نے خلائی مخلوق کی جانب سے زمین سے رابطے کا ’کوئی ثبوت نہیں دیکھا

    باراک اوباما کے بیان کے بعد امریکا میں یو ایف اوز اورخلائی مخلوق پر نئی بحث چھڑگئی جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فائلیں جاری کرنے کی ہدایت کردی،صدر ٹرمپ نے کہا کہ انتہائی پیچیدہ مگر نہایت دلچسپ اور اہم معاملات کی معلومات منظر عام پر لائیں۔ترجمان وائٹ ہاؤس، کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل پر دیئے کیئے گئے پیغام کو شیئر کیا ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بڑے فیصلے کا ذکر کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ سیکرٹری آف وار اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت دے رہے ہیں کہ وہ خلائی مخلوق (Aliens)، یو ایف اوز سے متعلق حکومتی فائلیں تلاش کر کے انہیں عوامی سطح پر جاری کردیںصدر کے مطابق یہ فیصلہ اس معاملے میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے ان معاملات کو انتہائی پیچیدہ مگر دلچسپ اور اہم قرار دیا