مئی کی نرم دھوپ جب وطنِ عزیز کی فضاؤں پر اترتی ہے تو یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں لاتی، بلکہ یہ یاد دلاتی ہے اُس عظیم لمحے کی جب اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دفاعی قوت، حوصلے اور ناقابلِ تسخیر استقامت کی وہ نعمت عطا کی جس پر پوری قوم سربسجود ہے۔ یہ مہینہ ایمان، اتحاد اور قربانی کی داستان ہے،ایک ایسی داستان جس میں قوم نے مل کر اپنے وجود کا دفاع کیا اور سرخرو ٹھہری۔یہ وہی مہینہ ہے جس کی یادوں میں آپریشن بنیان مرصوص کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ایک ایسا مرحلہ جہاں پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہ سرزمین صرف جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے اور نظریے کا دفاع ہمیشہ جانوں سے کیا جاتا ہے۔
ناقابلِ تسخیر دفاع ، اللہ کی عطا، قوم کا فخر،مئی میں ہی پاکستان ایٹمی پاکستان بنا اور مئی میں ہی جب بھارت نے پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کی تو پاکستان نے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ دنیا دنگ رہ گئی،آٹھ دہائیوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جو دفاعی قوت عطا کی، وہ کسی ایک ادارے یا حکومت کی کامیابی نہیں، بلکہ یہ پوری قوم کے ایمان، قربانیوں اور اتحاد کا ثمر ہے۔ میدانِ جنگ میں فتح صرف ہتھیاروں سے نہیں ملتی، بلکہ وہ دلوں کے یقین، نیت کی سچائی اور اللہ کی نصرت سے حاصل ہوتی ہے۔پاکستان کی مسلح افواج،خصوصاً بری، بحری اور فضائیہ نے جس پیشہ ورانہ مہارت، حکمتِ عملی اور جرات کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کے سنہرے اوراق میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ دشمن کی ہر چال ناکام ہوئی اور ہر وار بے اثر ثابت ہوا۔جب بات دفاعِ وطن کی ہو تو پاک فضائیہ کے شاہینوں کا ذکر کیے بغیر یہ داستان مکمل نہیں ہوتی۔ یہ وہ جانباز ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر فضاؤں میں دشمن کو للکارا اور اپنی مہارت سے دنیا کو حیران کر دیا۔جدید فضائی جنگ کے اس دور میں، جب ٹیکنالوجی اور مہارت کا امتحان ہوتا ہے، پاک فضائیہ نے دشمن کے جدید ترین طیاروں کو بھی ناکام بنایا۔ خاص طور پر دشمن کے جدید رافیل طیارہ کو گرانا نہ صرف ایک عسکری کامیابی تھی بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی تھا کہ پاکستان کے شاہین صرف پرواز ہی نہیں کرتے، بلکہ فتح کے پرچم بھی لہراتے ہیں۔
پاکستان کی عسکری میدان میں یہ کامیابی ایک پیغام ہے کہ جب ایمان، مہارت اور حب الوطنی ایک ہو جائیں تو کوئی طاقت ناقابلِ شکست نہیں رہتی۔ہر فتح کے پیچھے کچھ ایسے نام ہوتے ہیں جو تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں لکھے جاتے ہیں۔ وہ شہداء جنہوں نے وطن کی مٹی پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، درحقیقت وہی اس فتح کے اصل معمار ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ آزادی اور سلامتی کی قیمت ہمیشہ بلند ہوتی ہے۔ان شہداء کو سلام پیش کرنا محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم ان کے مشن کو جاری رکھیں گے اور اس وطن کے دفاع میں کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
آپریشن بنیان مرصوص،معرکہ حق،یہ فتح ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتی ہے،جب قوم ایک ہو جائے، جب اختلافات پسِ پشت ڈال دیے جائیں، جب نفرت کی دیواریں گر جائیں تب ہی اصل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔اس عظیم کامیابی کو صرف جشن تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے اتحاد، شعور اور نظریاتی مضبوطی میں ڈھالا جائے۔یہ دن صرف خوشی منانے کے نہیں، بلکہ تجدیدِ عہد کے ہیں۔یہ وقت ہے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اس نظریے کو مضبوط کریں جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا تھا۔میڈیا، تعلیمی ادارے اور معاشرے کے تمام طبقات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم میں شعور بیدار کریں، نوجوانوں میں جذبۂ حب الوطنی کو فروغ دیں اور اس پیغام کو عام کریں کہ "ہم متحد بھی ہیں، ہم فاتح بھی ہیں اور ہمارا مستقبل بھی ہمارا ہے۔”
مئی کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ ان قوموں کے ساتھ ہوتی ہے جو اپنے مقصد پر قائم رہتی ہیں۔یہ فتح کسی ایک جماعت یا ادارے کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی فتح ہے۔آئیے! اس عشرۂ فتح میں ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک قوم بنیں گے،ہم اپنے نظریے کا تحفظ کریں گے،اور ہم دفاعِ پاکستان کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہیں گے،کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں نہ صرف حال میں کامیاب بنائے گا بلکہ مستقبل میں بھی سرخرو کرے گا۔
