Baaghi TV

مدرسے کے کمرے میں کمسن بچے کے ہاتھ باندھ کر بدفعلی

Mother, brother and sister killed in Nowshera

ضلع اوکاڑہ میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مدرسے میں زیرِ تعلیم کمسن بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ نامزد ملزمان فرار بتائے جاتے ہیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ تھانہ اے ڈویژن کی حدود میں عامر کالونی کے علاقے میں پیش آیا۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی محمد اظہر خان نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کا کمسن بیٹا معمول کے مطابق مدرسہ گیا مگر چھٹی کے بعد گھر واپس نہ پہنچا۔ تلاش کے دوران جب وہ مدرسے پہنچے تو ایک کمرے سے بچے کی چیخ و پکار سنائی دی۔کمرے کا دروازہ بند تھا۔ جو سائل و برادرم نے کمرے کے بند دروازے کو دھکا دے کر کھولا تو ملزمان 1 توقیر ارسلان ولد محمد بخش قوم سنگوکا سکنہ چک نمبر 18/1 -2 محمد شهروز ولد شوکت قوم جٹ سکنہ بگیانہ تحصیل و ضلع اوکاڑہ جن کے کپڑے اترے ہوئے تھے اور ملزمان نے پسرم کے کیڑے بھی اتارے ہوئے تھے۔ اور پسرم کو الٹا لٹا کر دونوں ہاتھوں کو رسی سے باندھا ہوا تھا ملزم توقیر ارسلان بدفعلی کر رہا تھا جبکہ ملزم محمد شہروز نے پسرم کو ہاتھوں سے قابو کیا ہوا تھا ۔ ملزمان ہمیں دیکھ کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سائل نے پسرم کے ہاتھوں کو رسی سے آزاد کروایا جو کہ نیم بہوشی کی حالت میں رو رہا تھا ۔ پسرم نے بتلایا کہ دونوں ملزمان نے میرے ساتھ زبردستی ہاتھ باندھ کر جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے کر قابو کرکے باری باری بدفعلی کی ہے۔ موقع پر فورا مقامی پولیس کو اطلاع دی ۔ پولیس موقع پر آ گئی اور ملزمان کے کیڑے اور رسی قبضہ میں لیے۔ دونوں ملزمان نے میرے نابالغ معصوم بیٹے کے ساتھ باری باری زبردستی بدفعلی کرکے سخت زیادتی کی ہے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے بمطابق قانون سخت سے سخت سزا دی جائے۔

پولیس حکام کے مطابق متاثرہ بچے کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

More posts