ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے بھیجی گئی تجاویز پر غور کرنے کیلئے وائٹ ہاؤس میں اہم اجلاس ہوا، صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیروں کے ہمراہ ایرانی تجاویز کا جائزہ لیا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے ایرانی تجاویز کو یکسر مسترد نہیں کیا، تاہم ایٹمی معاملات کو ابتدائی مذاکرات کا حصہ نہ بنانے پر وہ ناخوش ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا سپرپاور ہونے کے باوجود جنگ میں ایک بھی ہدف حاصل نہیں کرسکا، امریکی صدر اب مذاکرات کی بات کررہے ہیں جس پر ہم غور کررہے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے روس کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر پیغام میں عباس عراقچی نے کہا کہ روس کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر رابطے خوش آئند ہیں، حالیہ واقعات نے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید نمایاں کیا، سفارتکاری کیلئے روس کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں وائٹ ہاؤس نے ایران سے متعلق میڈیا کے ذریعے سفارت کاری مسترد کر دی،وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات میڈیا کے ذریعے نہیں کرے گا اور اپنے مؤقف پر بدستور قائم ہے،وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ امریکا پریس کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا، ہم اپنی سرخ لکیروں کے بارے میں واضح ہیں اور صدر ٹرمپ صرف ایسا معاہدہ کریں گے جو امریکی عوام اور دنیا کے لیے بہتر ہو۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکام ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے سے متعلق تازہ تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کی قیادت نے اپنے مذاکرات کاروں کو ملک کے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی رعایت دینے کا اختیار نہیں دیا، جس کے باعث کسی مفاہمت یا وسیع تر امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔
