Baaghi TV

Blog

  • غزہ: امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف

    غزہ: امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف

    غزہ میں جاری جنگ میں امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف ہو اہے-

    رپورٹ کے مطابق، غزہ میں امریکی ساختہ ممنوعہ تھرموبیرک بموں کے استعمال کے نتیجے میں تقریباً 3,000 فلسطینی فضا میں تحلیل ہو گئے، جن کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا ،رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ مہلک ہتھیار امریکہ اور یورپ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کیے گئے ہیں،طبی اور دفاعی ماہرین نے ان بموں کی تباہ کاریوں کی جو تفصیلات بتائی ہیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں-

    ان بموں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والا درجہ حرارت 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اس قدر شدید تپش میں انسانی جسم چند سیکنڈز کے اندر براہِ راست راکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہداء کی شناخت یا باقیات کا ملنا ناممکن ہو جاتا ہے یہ بم ارد گرد کی تمام آکسیجن کھینچ کر ایک ‘ویکیوم’ پیدا کر دیتے ہیں، جس سے عمارتوں کے اندر موجود لوگ بھی بچ نہیں پاتے۔

    ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس انکشاف پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے صدی کا بدترین جنگی جرم قرار دیا ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) جیسے ادارے غزہ کے اس امتحان میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں، جہاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

  • قصور میں بھی بسنت منانے کی اجازت کا عوامی مطالبہ

    قصور میں بھی بسنت منانے کی اجازت کا عوامی مطالبہ

    قصور
    تاجروں کی نمائندہ شخصیات نے بسنت منانے کی اجازت کا مطالبہ کر دیا

    تفصیلات کے مطابق قصور میں تاجروں کی نمائندہ شخصیات نے پنجاب حکومت سے بسنت میلہ منعقد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے
    انجمن تاجران قصور کے چئیرمین شہزاد ساجد شیخ اور جنرل سیکرٹری و راہنما پاکستان پیپلز پارٹی ،آصف علی کھوکھر نے کہا کہ بسنت میلہ قصور کی ثقافتی پہچان اور سوغاتوں کی مشہوری کا اہم ذریعہ ہے
    ان کا کہنا تھا کہ بسنت کے موقع پر لوگ قصور کی فالودہ، اندرسے اور مٹھائیاں دور دراز علاقوں سے خریدنے آتے ہیں جس سے نہ صرف مقامی تاجروں کی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ قصور کی روایتی مصنوعات کی شہرت بھی بڑھتی ہے
    شہزاد ساجد اور آصف علی کھوکھر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مناسب احتیاطی اقدامات کے ساتھ بسنت میلہ منعقد کرنے کی اجازت دے تاکہ مقامی معیشت اور ثقافتی روایت دونوں کو فروغ ملے

  • اڈانی ہتک عزت کیس میں صحافی روی نائرکوایک سال کی قید

    اڈانی ہتک عزت کیس میں صحافی روی نائرکوایک سال کی قید

    گاندھی نگر کے علاقے مانسا کی مجسٹریٹ عدالت نے فوجداری ہتکِ عزت کے ایک مقدمے میں صحافی روی نائر کو مجرم قرار دیتے ہوئے ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

    یہ مقدمہ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ (اے ای ایل) کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جو اڈانی گروپ کی فلیگ شپ کمپنی ہے۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ روی نائر نے ٹوئٹر (ایکس) پر متعدد ٹوئٹس شائع کیں اور پھیلائیں جن میں جھوٹے اور ہتک آمیز بیانات شامل تھے، جن کا مقصد اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ اور اڈانی گروپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ نے عدالت کو بتایا کہ متنازع ٹوئٹس نہ تو منصفانہ تبصرے کے زمرے میں آتی ہیں اور نہ ہی انہیں جائز تنقید قرار دیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ ٹوئٹس عوام اور سرمایہ کاروں کی نظر میں کمپنی کی ساکھ اور اعتماد کو مجروح کرنے کے لیے دانستہ طور پر کی گئیں۔

    مکمل عدالتی کارروائی اور ٹرائل کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ اپنا مؤقف ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ عدالت نے روی نائر کو فوجداری ہتکِ عزت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک سال قید کی سزا سنائی اور ساتھ ہی جرمانہ بھی عائد کر دیا۔

  • علی ڈار کی تعیناتی اہلیت، رشتے داری اور اقربا پروری پر اٹھتے سوالات،تحریر :کامران اشرف

    علی ڈار کی تعیناتی اہلیت، رشتے داری اور اقربا پروری پر اٹھتے سوالات،تحریر :کامران اشرف

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سینیٹر اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار کو پنجاب حکومت میں مشیر برائے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور خصوصی منصوبہ جات مقرر کیے جانے پر سیاسی و سماجی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس تعیناتی کو جہاں بعض حلقے ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں کے فروغ کی جانب قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر اقربا پروری کے الزامات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    علی ڈار کا تعلق ایک بااثر سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ نائب وزیراعظم اور سینیٹر اسحاق ڈار کے بیٹے اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ یہی رشتے داری اس تقرری پر سب سے زیادہ تنقید کی وجہ بنی، اور ناقدین نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ تعیناتی میرٹ کی بنیاد پر ہوئی یا خاندانی قربت نے کردار ادا کیا۔تاہم اگر تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو علی ڈار کی تعلیمی قابلیت قابلِ توجہ سمجھی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایچی سن کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جبکہ برطانیہ کے اداروں سے بھی وابستگی رہی ہے۔ وہ نجی شعبے میں کاروباری تجربہ رکھتے ہیں اور ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل انوویشن سے متعلق منصوبوں میں کام کر چکے ہیں۔

    پنجاب حکومت کے مطابق علی ڈار کو دیا گیا پورٹ فولیو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے، جس میں ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد کو آگے لانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ سرکاری نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اس تقرری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں بار بار ایک ہی خاندان کے افراد کو اہم عہدے دینا عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اہلیت اپنی جگہ، لیکن شفافیت کے لیے ایسے عہدوں پر تعیناتی کے معیار کو واضح کیا جانا چاہیے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل امتحان اب علی ڈار کی کارکردگی ہو گی۔ اگر وہ اپنے پورٹ فولیو کے تحت ٹھوس نتائج دینے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو تنقید خود بخود دم توڑ سکتی ہے، بصورتِ دیگر اقربا پروری کا بیانیہ مزید مضبوط ہونے کا خدشہ ہے۔علی ڈار کی مشیر کے طور پر تعیناتی ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں اہلیت اور رشتے داری دونوں پہلو موجود ہیں۔ عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ تقرری پنجاب میں واقعی ٹیکنالوجی اور اصلاحات کا ذریعہ بنتی ہے یا محض سیاسی تنازع کا عنوان بن کر رہ جاتی ہے

  • اونٹوں کے پاسپورٹ، سعودی قومی شناخت، جدید دور اور تہذیب و ثقافت کا امتزاج

    اونٹوں کے پاسپورٹ، سعودی قومی شناخت، جدید دور اور تہذیب و ثقافت کا امتزاج

    سعودی عرب نے اپنے ثقافتی ورثے کو جدید ریاستی نظام سے جوڑنے کی سمت ایک ایسا منفرد قدم اٹھایا ہے جس نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ ملک بھر میں موجود لاکھوں اونٹوں کے لیے باقاعدہ پاسپورٹ کے اجرا کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ فیصلہ سعودی قومی شناخت، ثقافتی شعور اور جدید دور کے تقاضوں کے درمیان ایک مضبوط ربط کی عکاسی کرتا ہے۔

    اونٹ صدیوں سے جزیرۂ عرب کی تہذیب، معیشت اور صحرائی زندگی کا مرکزی کردار رہے ہیں۔ یہ جانور صرف سواری یا ذریعۂ معاش نہیں بلکہ بدوی ثقافت، صبر، وقار اور بقا کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں اونٹوں کی حیثیت محض مویشیوں تک محدود نہیں بلکہ انہیں ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہے۔ ایسے میں ان کے لیے پاسپورٹ کا اجرا دراصل اسی ورثے کو جدید ریاستی ڈھانچے میں باقاعدہ شناخت دینے کے مترادف ہے۔

    سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے مطابق اونٹوں کے پاسپورٹس کے ذریعے جانوروں کی شناخت، نسل، ملکیت اور نقل و حرکت سے متعلق ایک جامع ڈیجیٹل نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف مویشی پال حضرات کے لیے سہولت کا باعث بنے گا بلکہ قومی سطح پر ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس بھی فراہم کرے گا، جو بیماریوں کی روک تھام، تجارت کے فروغ اور نسلوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا سبز رنگ کا اونٹ پاسپورٹ، جس پر سعودی قومی نشان اور سنہری اونٹ کی تصویر موجود ہے، اس منصوبے کی علامتی حیثیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ پاسپورٹ ظاہری طور پر انسانی پاسپورٹ سے مشابہ ہے، گویا ریاست اس جانور کو بھی قومی سرمائے اور شناخت کے دائرے میں شامل کر رہی ہے۔ یہ پیغام واضح ہے کہ سعودی عرب میں روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں سعودی عرب میں اونٹوں کی تعداد تقریباً 22 لاکھ تھی، جو سالانہ دو ارب سعودی ریال سے زائد کی معیشت کا حصہ ہیں۔ دودھ، گوشت، افزائشِ نسل، ریسنگ اور ثقافتی میلوں میں اونٹوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ ایسے میں ان کی منظم رجسٹریشن نہ صرف معاشی استحکام کو مضبوط کرے گی بلکہ عالمی معیار کے مطابق سعودی مویشی نظام کو بھی ہم آہنگ بنائے گی۔

    دنیا کے کئی ممالک میں جانوروں کے لیے شناختی چپس اور رجسٹریشن سسٹمز موجود ہیں، مگر سعودی عرب کا اونٹوں کے لیے پاسپورٹ جاری کرنا ایک منفرد مثال ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کی علامت ہے کہ سعودی ریاست جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑی رہنا چاہتی ہے۔

    یوں اونٹوں کے پاسپورٹ کا اجرا صرف جانوروں کی شناخت کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہے:
    کہ سعودی عرب میں قومی شناخت صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ تمام عناصر بھی اس شناخت کا حصہ ہیں جو اس سرزمین کی تاریخ، ثقافت اور روح سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ اقدام جدید دور کی ریاست اور صدیوں پرانی تہذیب کے درمیان ایک خوبصورت اور بامعنی مکالمہ ہے۔

  • بسنت خوشی کا تہوار یا فضول خرچی؟تحریر:آپا منزہ جاوید ،اسلام آباد

    بسنت خوشی کا تہوار یا فضول خرچی؟تحریر:آپا منزہ جاوید ،اسلام آباد

    بسنت کو ہم بہار کی خوشی، روایت اور تہوار کا نام دیتے ہیں، مگر جب اسی بسنت کے نام پر خرچ ہونے والی رقم، دکھاوا اور بے حسی سامنے آتی ہے تو دل سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ تہوار ہے یا کھلی فضول خرچی؟

    حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تحریر گردش کرتی رہی جس میں طنز کے پیرائے میں اس مقروض قوم کے “بسنت پیکجز” پیش کیے گئے۔ نام تھا “شاہ بسنت مینجمنٹ (SBM)”اور پیکجز کے نرخ ایسے کہ آدمی مہنگائی، قرض اور غربت سب ایک ساتھ بھول جائے۔ کہیں ڈائمنڈ کلاس بسنت پیکج پچیس لاکھ روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جہاں کشادہ چھت، دن رات کی ضیافتیں، ڈھول، رقص، سینکڑوں پتنگیں اور ہزاروں میٹر ڈور شامل ہیں۔ کہیں گولڈ اور سلور کلاس کے نام پر لاکھوں روپے کی بسنت، اور کہیں نام نہاد ‘غریب نواز پیکج’ بھی تین لاکھ روپے سے کم نہیں۔

    طنز یہ ہے کہ جس قوم کے بچے تعلیم، علاج اور دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں، وہ قوم بسنت کے نام پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ ایک طرف قرض، بجلی کے بل، مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا ہے، اور دوسری طرف جرمن پیپر کی پتنگیں، برما کے بانس، پلاٹینئیم مانجھا اور سیاسی نعروں والی گڈیاں۔ یہ سب محض ایک مذاق یا تحریر نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویے کا آئینہ ہے۔ ہم خوشی منانے کے نام پر یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی رنگوں کے پیچھے کتنی جانیں جاتی ہیں، کتنے گھر اجڑتے ہیں، کتنے باپ اپنے بیٹوں کے جنازے اٹھاتے ہیں، اور کتنی مائیں بسنت کے بعد خاموش ہو جاتی ہیں۔

    میں یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ بسنت کے نام پر بنائے گئے یہ تمام پیکجز حقیقت میں اسی طرح موجود ہیں یا واقعی اتنی بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور پوشیدہ ہے، کیونکہ یہ ہمارے معاشرتی رویوں سے بالکل مختلف نہیں۔روز بروز بڑھتی بے روزگاری، بھوکے خاندانوں میں اضافہ، اور فاقوں سے تنگ آ کر ہونے والی خودکشیاں،یہ سب خبریں اب سنائی نہیں دیتیں، دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں بھوک سے عاجز آ کر کوئی اپنی جان لے لیتا ہے، کہیں ماں باپ بچوں کو زہر دے کر خود بھی موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ کہیں غریب ہسپتال میں علاج کے اخراجات کے بوجھ تلے ہار مان لیتا ہے، اور کہیں بچے علاج کے انتظار میں دم توڑ دیتے ہیں۔

    ایسے میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسی ملک کے باسی بسنت کے نام پر لاکھوں روپے پتنگوں اور ڈور پر اڑا دیتے ہیں تو یہ محض فضول خرچی نہیں، بلکہ اجتماعی بے حسی کا کھلا اظہار بن جاتی ہے۔ وہی پیسہ کسی غریب کے گھر کا سال بھر کا راشن بن سکتا تھا، کسی کے بچوں کی پوری سال کی اسکول فیس ادا ہو سکتی تھی، کئی غریب بچیوں کی شادیاں ہو سکتی تھیں۔

    رمضان المبارک چند دن کی دوری پر ہے۔ یہی لوگ اگر چاہیں تو سفید پوش گھرانوں میں راشن پہنچا سکتے تھے تاکہ روزے آسانی سے گزر سکیں، مگر ترجیح پھر بھی تفریح، نمود و نمائش اور فضول خرچی ہی ٹھہرتی ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بسنت صرف ایک تہوار ہے یا ایک معاشرتی مظہر جس میں ہم اپنی ترجیحات، اخلاق اور انسانی ہمدردی کا امتحان لیتے ہیں؟ کیونکہ اگر واقعی ہم خوشی منانے کے لیے اتنی رقم خرچ کر سکتے ہیں، تو پھر ضرورت مندوں کے لیے اتنی محنت کیوں نہیں کی جاتی؟

    اگر واقعی اس ملک کے لوگ اتنے امیر ہیں کہ بسنت کے نام پر لاکھوں روپے صرف پتنگوں اور ڈور پر خرچ کر سکتے ہیں، تو پھر ہر چوک پر بے روزگار کیوں نظر آتے ہیں؟ ہر محلے میں بھیک مانگتے ہاتھ کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ زکوٰۃ کے راشن کی تقسیم کے وقت لمبی قطاریں کیوں لگتی ہیں؟ یا جب ہمارے نوجوان، روزگار کے لیے ہونڈی کے ذریعے دوسرے ملک جانے نکلیں تو بے رحم پانی میں کشتی الٹ جانے سے اپنی زندگی گنوا دیتے ہیں، تب بھی کسی کے دل پر یہ رقم خرچ کرنے کا سوال کیوں نہیں آتا؟

    یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ جب کوئی ضرورت مند مدد کے لیے دستک دیتا ہے تو یہی فضول خرچی کرنے والے لوگ مدد کے وقت حساب کتاب میں پڑ جاتے ہیں۔ بڑی سوچ بچار کے بعد کوئی دو ہزار، کوئی پانچ یا دس ہزار دے کر ایسے دیکھتا ہے جیسے اس نے لاکھوں کی خیرات کر دی ہو—حالانکہ انہی ہاتھوں سے کچھ دن پہلے لاکھوں روپے پتنگوں کی نذر کر دیے گئے ہوتے ہیں۔

    یہاں بسنت کے نام پر ہونے والی یہ فضول خرچی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ہماری ترجیحات کہاں کھو گئی ہیں۔ ایک طرف قرض، بل اور روزگار کی جدوجہد ہے، اور دوسری طرف چند خوش قسمتوں کے لیے دن رات کی ضیافتیں، ہزاروں میٹر ڈور اور لاکھوں روپے کی پتنگیں۔ یہ تضاد ہمارے سماجی شعور پر ایک واضح سوال چھوڑ دیتا ہے: ہم واقعی کس کے لیے اور کس مقصد کے لیے خوشی مناتے ہیں؟
    اصل سوال یہی ہے کہ
    کیا مسئلہ وسائل کی کمی ہے،
    یا احساس کی کمی؟

    یہ مضمون ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ خوشی منانے کے نام پر خرچ ہونے والی رقم، اگر سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ استعمال کی جائے، تو کتنا بڑا فرق ڈال سکتی ہے۔ کسی غریب بچے کی تعلیم مکمل ہو سکتی ہے، کسی بیمار کی زندگی بچائی جا سکتی ہے، اور کسی خاندان کے چہروں پر مسکراہٹ آ سکتی ہے۔ بسنت کے نام پر اڑائے جانے والے کروڑوں روپے، اگر معاشرتی بھلائی کے لیے خرچ ہوں، تو شاید یہی اصل خوشی ہو، جس کی ہمیں تلاش ہے۔
    شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—
    بسنت خوشی کا تہوار ہے،
    یا ایک ایسی فضول خرچی
    جو ہر سال ہماری توجہ اور ہمدردی کی کمی کو سامنے لے آتی ہے۔
    اور اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ خوشی سب کے لیے خوشی بنے،
    تو بسنت کے رنگوں کے ساتھ اپنے اعمال اور ترجیحات بھی رنگیں ہونا ضروری ہیں

  • آج کے طلبہ و طالبات: باادب یا بےادب؟تحریر:کامران ہاشمی، کرک

    آج کے طلبہ و طالبات: باادب یا بےادب؟تحریر:کامران ہاشمی، کرک

    اکثر کہا جاتا ہے کہ آج کے طلبہ و طالبات بےادب ہو گئے ہیں
    مگر حقیقت یہ ہے کہ طالبِ علم نہیں بدلے، ہمارا رویہ اور طریقۂ تربیت بدل گیا ہے۔
    میں نے اپنے 16 سالہ تعلیمی سفر میں اور تین سالہ تجربے میں وہ وقت بھی دیکھا ہے
    جب طلبہ و طالبات اساتذہ کے سامنے ادب سے پیش آتے تھے
    اور استاد کو والدین، بڑی بہن، بڑے بھائی اور رہنما کا درجہ حاصل تھا۔وہ ادب خوف سے نہیں بلکہ استاد کے کردار، وقار اور انصاف کا نتیجہ تھا۔
    تعلیم میں یا تو صرف پیسہ کمایا جاتا ہے یا عزت اور جو استاد عزت کماتا ہے وقت اس کے لیے راستے خود بنا دیتا ہے۔
    طلبہ و طالبات کو صرف فیس یا رول نمبر نہ سمجھیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور امانت جانیں۔ان کی بات سنیں نہیں سمجھیں۔ انہیں ڈرا کر نہیں، سمجھا کر سکھائیں۔نصاب کے ساتھ نصیحت بھی دیں،اور انہیں عزت دیں تاکہ وہ اعتماد سیکھیں۔

    یاد رکھیں، جو عزت پاتا ہے، وہی عزت کرنا سیکھتا ہے۔آج کے طلبہ و طالبات بگڑے ہوئے نہیں وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں ناکامی کا خوف، غلط راستے کا ڈر، نفسیاتی دباؤ، مالی عدم تحفظ اور احساسِ کمتری۔
    ایک استاد کا اصل امتحان،ان خوفوں کو بڑھانا نہیں، کم کرنا ہے۔انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ادارہ اور استاد ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔طالبِ علم کو ڈانٹ کر نہیں،سمجھا کر سنوارا جاتا ہے۔حکم دے کر نہیں رہنمائی دے کر مضبوط بنایا جاتا ہے۔ایک استاد صرف مضمون نہیں پڑھاتا وہ کردار بناتا اور مستقبل سنوارتا ہے۔
    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے طلبہ و طالبات باادب، بااعتماد اور باکردار ہوں ۔ تو ہمیں پہلےباوقار استاد اور ذمہ دار رہنما بننا ہوگا۔

  • پارٹی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے  وہ لیڈر ہے، جنیداکبر

    پارٹی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، جنیداکبر

    تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر نےکہا ہے کہ ہماری پارٹی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، بانی پی ٹی آئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑا ہوں، جو وہ کہیں گے فائنل ہوگا۔

    اڈیالہ جیل روڈ پر میڈیا سےگفتگو میں رہنما پی ٹی آئی جنید اکبر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میرا گھر ہے، ناراضی، جھگڑے اور شکوے یہ سب چلتا رہےگا، میں نے جمعرات اور جمعہ کو شکوہ کیا کہ بات کرنی ہے، میں نےکہا مطمئن نہیں ہوں تقریروں میں وجوہات نہیں بتائی جاتیں، محمود خان اچکزئی پر تحفظات نہیں، ان پر تحفظات رکھنے والا میں کون ہوتا ہوں، محمود خان اچکزئی کو ابھی ایڈجسٹ ہونے میں ٹائم لگےگا، ہماری پارٹی کا اپنا کلچر ہے، ہماری پارٹی میں بانی پی ٹی آئی کے بعد ہرکوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، بانی پی ٹی آئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑا ہوں، جو وہ کہیں گے فائنل ہو گا، جب ہر بندے کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے تو پھر اختلاف ہوتا ہے، دوسری پارٹیوں میں آمریت ہے وہاں اختلاف کم ہوتا ہے، وہاں سب کو پتہ ہوتا ہے مریم نواز نے وزیر اعلیٰ اور شہباز شریف نے وزیر اعظم بننا ہے، مریم نواز کا بیٹا کل آئےگا تو وزیراعلی بنےگا۔

    جنید اکبر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینا محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ بدترین سیاسی انتقام اور فسطائیت ہے۔ ان کی صحت اور زندگی کے ساتھ جان بوجھ کر کھیلا جا رہا ہے۔ اس مجرمانہ فعل کا اب کوئی بھی عذر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فوری طور پر ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی دی جائے،

    اس سے پہلے جنید اکبر نے اپنی آڈیو ٹیپ سامنے آنے پر اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہيں بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا ، برداشت ختم ہوگئی ہے ، چیف وہپ کون ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا کہ روزانہ کون بولے گا ،
    ہماری شرافت کو غلط سمجھ رہے ہو ،کسی میں ہمت نہیں کہ پوچھے محسن نقوی ایوان میں کیوں نہیں آیا؟.میں آج سے پارلیمانی کمیٹی اور آپ کا حصہ نہیں ہوں اسپیکر سے کہوں گا مجھے آزاد پوزیشن دیں،میری اپنی پارٹی کے لوگ بولنے نہیں دیتے,

  • پاک فضائیہ کی جانب  سے  فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد

    پاک فضائیہ کی جانب سے فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد

    پاک فضائیہ کی جانب سے ساؤتھ زون میں فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سدرن ائیرکمانڈ کے دائرہ اختیار میں فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا گیا مشق میں پاک فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں کو منظم انداز میں بروئےکار لایاگیا اور جنگی تیاریوں کا شاندار مظاہرہ کیا گیا، مشق کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاک فضائیہ کی آپریشنل صلاحیت بڑھانا ہے، مشق کے حربی مرحلے میں فرسٹ شوٹ، فرسٹ کل صلاحیت رکھنے والے لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا گيا۔طیارے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی وی آر رینج ائیر ٹو ائیر میزائلوں سے لیس تھے، طیارے توسیع شدہ رینج کے ائیرٹوگراؤنڈ اسٹینڈ آف ہتھیاروں اور انتہائی درست نشانہ سازی کی صلاحیتوں سے لیس تھے۔ کارروائیوں کو ائیر ٹو ائیر ریفیولرز اور ائیر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹمز جیسے فورس ملٹی پلائرز کی معاونت حاصل رہی، ان سسٹمز کے ذریعے دشمن کے مراکز کو نہایت درستی اور مؤثر انداز میں نشانہ بنانے کی مشق کی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان آپریشنز سے جنگی حالات میں پاک فضائیہ کی تیز رفتار آپریشنز کی صلاحیت کی توثیق ہوئی، مشق نے پاک فضائیہ کومتحدکمانڈ اینڈ کنٹرول کے تحت جدید فضائی جنگی تصورات کی توثیق کا موقع فراہم کیا، مشق گولڈن ایگل کی کامیاب تکمیل پاک فضائیہ کی ہمہ وقت جنگی تیاری برقرار رکھنے کا واضح ثبوت ہے۔

  • پشاورکور ہیڈکواٹر میں اجلاس، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق

    پشاورکور ہیڈکواٹر میں اجلاس، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق

    کورہیڈ کوارٹر پشاور میں آج امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کورکمانڈر پشاور نے شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق کیا،ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگراسٹیک ہولڈرز کےساتھ ملاقات خوشگوار رہی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کابینہ سمیت 3 گھنٹے تک کور ہیڈ کوارٹرمیں رہے وزیر اعلیٰ اور کابینہ ارکان نے لنچ بھی کور ہیڈ کوارٹر میں کیا، لنچ کے دوران وزیر اعلیٰ اور محسن نقوی نے قریب بیٹھ کر گفتگو کی، وزیر اعلیٰ نے محسن نقوی سمیت دیگرشرکا سے مصافحہ بھی کیا۔

    امن وامان سے متعلق اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا،ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں مستقل قیامِ امن کے لیے بات چیت کی گئی اور قبائلی اضلاع کی بہتری کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سب نے مل بیٹھ کر امن وامان کی صورتحال پرمتفقہ طورپر بات چیت کی، اجلاس اپیکس کمیٹی کے اجلاس کا فالو اپ تھا۔اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو بطور ماڈل نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ ماڈل کو خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاق اور کے پی کے درمیان دہشت گردی پر مکمل ہم آہنگی یقینی بنائی جائے گی جبکہ غیرقانونی سم کارڈز، دھماکا خیزمواد اور بھتا خوری کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔رواں سال پشاور میں پی ایس ایل کے میچز بھی کرائے جائیں گے۔ وزير اعلیٰ نے اجلاس میں کہا کہ صوبے اوراس کےعوام کے مفاد کی خاطر کام کروں گا، ذاتی مفاد اور سیاست کیلئے کسی کےسامنےدست سوال نہیں کروں گا۔