کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں فائرنگ کے ایک واقعے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایک انسپکٹر کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر ایک سابق پولیس افسر کے بیٹے سے متعلق ہے، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی۔
پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت آغا شہریار کے نام سے ہوئی ہے، جو واقعے کے بعد فرار ہو گیا اور تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آ سکا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔
ملزم کے والد اصغر پٹھان، جو خود سابق پولیس افسر رہ چکے ہیں، نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کا چند روز قبل چار افراد کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا جس کے دوران مبینہ طور پر اس پر تشدد بھی کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی تنازعے کے پس منظر میں یہ واقعہ پیش آیا ہو سکتا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام ممکنہ شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ زخمی ہونے والے ایف بی آر اہلکار کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور اس کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ملزم کے والد نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
واقعے نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
Blog
-

کلفٹن میں فائرنگ، ایف بی آر انسپکٹر زخمی
-

سلطان عمان اور ایرانی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات
سلطنت عمان کے سلطان ہیثم بن طارق آل سعید اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان مسقط میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور جاری تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، جاری تنازعات اور امن کے قیام کے لیے جاری ثالثی کے اقدامات پر غور کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ مسائل کا پائیدار حل صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ملاقات کے دوران فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں اور جاری بحرانوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ دونوں جانب سے اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا کہ عوام کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کے لیے سیاسی حل کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس موقع پر سلطنت عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عمان ہمیشہ خطے میں امن کے قیام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات میں عمان کی ثالثی کی کوششوں کو مثبت قرار دیا اور ان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
عمان کو طویل عرصے سے خطے میں ایک غیر جانبدار اور مؤثر ثالث کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو مختلف ممالک کے درمیان بات چیت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں اسی طرح جاری رہیں تو مستقبل میں اہم پیش رفت کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، جو نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ -

امریکی بحریہ نے ایرانی جہاز روک لیا
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے بحیرہ عرب میں ایک ایسے تجارتی جہاز کو روک لیا جو مبینہ طور پر ایران پر عائد پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سفر کر رہا تھا۔ اس واقعے کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سینٹکام کے مطابق ’سیوان‘ نامی یہ جہاز ان 19 جہازوں پر مشتمل مبینہ نیٹ ورک کا حصہ ہے جسے ’شیڈو فلیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فلیٹ پر شبہ ہے کہ یہ ایرانی تیل اور گیس کو خفیہ طریقوں سے عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں ملوث ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے اس جہاز کو روکا، جو یو ایس ایس پنکنی نامی جنگی بحری جہاز سے روانہ ہوا تھا۔ کارروائی کے دوران جہاز کو امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرنے اور واپس ایران جانے کا حکم دیا گیا۔
سینٹکام نے مزید بتایا کہ اس قسم کے جہازوں پر امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پہلے ہی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے پروپین، بیوٹین اور دیگر توانائی مصنوعات کی اربوں ڈالر مالیت کی غیر قانونی ترسیل کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف نافذ پابندیوں کے بعد سے اب تک 37 ایسے جہازوں کو روکا یا ان کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے، جو مبینہ طور پر اسی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں خطے میں توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی تجارت اور جغرافیائی سیاست ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں، اور ان میں معمولی تبدیلی بھی بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ -

13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے
تھانہ چکلالہ کے علاقے میں 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کر لڑکے نے مبینہ زیادتی کر ڈالی جبکہ لڑکے کے دو ساتھی زیادتی کے دوران نازیبا ویڈیو بھی بناتے تھے۔
تفصیلات کے مطابق ویڈیو بنانے کے بعد تین ملزمان لڑکی کو دھمکیاں دیکر بلیک میل کرکے اغواء کرکے ساتھ بھی لے گئے،نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی روک کر اتارا تو ایک شخص نے پریشان دیکھ کر انھیں کہا کہ لڑکی کو کیوں پریشان کر رہے ہو جس پر ملزمان فرار ہوگئے،پولیس نے لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔
مدعیہ مقدمہ کے مطابق ڈھوک چوہدریاں اسکیم تھری میں رہائش ہے، بیٹی کو گھر چھوڑ کر خاوند کے ساتھ کام پر چلی گئی تھی، بیٹی گھر میں اکیلی تھی جس کی وجہ سے گھر کو باہر سے تالا لگا کر گئی واپس آئے تو دروازہ کھلا تھا، سامان بکھرا پڑا تھا اور بیٹی گھر میں موجود نہیں تھی، خاوند کے ساتھ تلاش شروع کی تو بیٹی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سفاری ون میں پریشان کھڑی ملی۔
والدہ نے بیٹی سے پوچھا جس پر بتایا کہ گھر میں موجود تھی کہ رومان، ریحان ظہیر اور ریحان شوکت گھر میں گھس آئے شور کرنے پر رومان نے میرے منہ پر کپڑا باندھ کر زبردستی زیادتی کی جبکہ ریحان ظہیر اور ریحان شوکت نازیبا ویڈیو بناتے رہے متاثرہ بچی نے بتایا کہ زیادتی کے بعد رومان نے دھمکیاں دیں کہ ساتھ نہ گئی تو ویڈیو وائرل کر دیں گے، ڈر کر ان کے ساتھ گئی تو گلی میں سفید گاڑی میں ایک ڈرائیور اور دو افراد موجود تھے، مجھے گاڑی میں بٹھایا اور نجی ہاؤسنگ سو سائٹی لے گئے، وہاں گاڑی سے اتارا تو پریشان دیکھ کر ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ لڑکی کو کیوں تنگ کر رہے ہو تو وہ سب بھاگ گئے۔
پولیس کے مطابق لڑکی کا میڈیکل کروا کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
-

خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ بچوں کو اسکول لانے کا بڑا منصوبہ
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے ایک جامع اور منظم مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد درست اعداد و شمار کی مدد سے حکمت عملی بنانا، مختلف سرکاری محکموں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا اور مستحق خاندانوں کو سہولیات فراہم کر کے بچوں کی اسکول تک رسائی ممکن بنانا ہے۔
اس اہم منصوبے پر غور کے لیے چیف سیکریٹری آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں مختلف سرکاری اداروں کے افسران اور یونیسیف کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ویلج کونسل کی سطح تک ایک جامع سروے کیا جائے گا جس کے ذریعے 5 سے 16 سال تک کے ان بچوں کی نشاندہی کی جائے گی جو اسکول نہیں جا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 سال سے کم عمر بچوں کے لیے آئندہ تعلیمی ضروریات کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔
حکام کے مطابق طلبہ کا ڈیٹا مختلف ذرائع سے جمع کیا جائے گا، جن میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، وفاقی اسکول، مدارس، نان فارمل ایجوکیشن سینٹرز اور خصوصی تعلیمی پروگرام شامل ہیں۔ اس عمل سے ایک مکمل اور درست ڈیٹا بیس تیار ہوگا جو پالیسی سازی میں مدد دے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 کی مردم شماری کے تحت صوبے میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ تاہم نئے سروے کے ذریعے زیادہ درست معلومات حاصل کی جائیں گی تاکہ ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق وسائل اور بجٹ مختص کیا جا سکے۔ محکمہ صحت اور بلدیات اس عمل میں مقامی سطح پر اہم کردار ادا کریں گے، جس سے بچوں کی حقیقی وقت میں نشاندہی ممکن ہوگی۔
محکمہ سوشل ویلفیئر مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرے گا تاکہ بچوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق موجودہ نظام میں فوری طور پر 25 فیصد مزید بچوں کو داخل کرنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ 100 روزہ منصوبے کے تحت 60 فیصد بچوں کو اسکولوں میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
چیف سیکریٹری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون کے لیے ضروری اقدامات مکمل کریں اور منصوبے کو جلد کابینہ سے منظور کروایا جائے، جبکہ وزیر تعلیم نے نجی شعبے کی شمولیت کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔ -

وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: عینی شاہد صحافی نے آنکھوں دیکھا حال بیان کر دیا
واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے نے تقریب میں موجود مہمانوں کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے بال روم میں تقریب جاری تھی اور تقریباً 2600 افراد شریک تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ اسٹیج پر موجود تھے اور ایک معروف مینٹلسٹ سے گفتگو کر رہے تھے۔ اسی دوران اچانک صورتحال نے خطرناک رخ اختیار کر لیا۔
ایک صحافی نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ تقریب ابھی اپنے آغاز میں ہی تھی جب صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو اچانک خفیہ پیغامات دیے گئے۔ ان پیغامات کے بعد ماحول میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی اور قریب بیٹھے افراد کے چہروں پر تشویش نمایاں ہونے لگی۔
چند لمحوں بعد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جس کے ساتھ ہی ہال میں موجود افراد نے اپنی جان بچانے کے لیے نشستوں کے نیچے پناہ لینا شروع کر دی۔ اس دوران سکیورٹی اہلکار فوری حرکت میں آئے اور انتہائی تیزی کے ساتھ صدر کو گھیرے میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
سیکریٹ سروس نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں صورتحال کو سنبھالا اور ممکنہ بڑے نقصان کو ٹال دیا۔ فائرنگ کے باعث تقریب کو فوری طور پر روک دیا گیا اور تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔
پولیس کے مطابق حملہ آور نے ہوٹل کے سکیورٹی پوائنٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور پانچ سے آٹھ گولیاں چلائیں۔ اس واقعے میں ایک سیکریٹ سروس اہلکار زخمی ہوا تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان محفوظ رہی۔
حکام نے بتایا کہ ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور چاقو برآمد کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں اس نے اعتراف کیا کہ اس کا ہدف ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکار تھے۔ -
پیپلز پارٹی کا آزاد کشمیر میں مستقل صدر لانے کا فیصلہ منظور
پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے آزاد کشمیر میں مستقل صدر تعینات کرنے کے فیصلے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ اہم فیصلہ اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیا گیا، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور پارٹی پوزیشن کو مدنظر رکھا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے واضح طور پر طے کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے صدر کا عہدہ پارٹی اپنے پاس ہی رکھے گی اور اس کے لیے ایک مستقل اور باقاعدہ صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے جلد ہی صدارتی انتخاب کا اعلان متوقع ہے، جس کے بعد سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
پارٹی کے اندر ہونے والی مشاورت میں مختلف ناموں پر غور کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایسا امیدوار سامنے لایا جائے جو نہ صرف پارٹی قیادت کا اعتماد حاصل کرے بلکہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام بھی یقینی بنا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مشاورت کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور جلد حتمی نام سامنے آنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر کی سیاست میں بھی اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس فیصلے سے آنے والے دنوں میں سیاسی جوڑ توڑ اور انتخابی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ اطلاعات ہیں کہ صدارتی انتخاب آئندہ ایک ماہ کے اندر منعقد ہو سکتا ہے۔
یہ عہدہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا، جن کا 31 جنوری کو انتقال ہوا۔ ان کے بعد سے یہ منصب عبوری طور پر اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی لطیف اکبر کے پاس ہے، جو قائم مقام صدر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ -

پیپلز پارٹی کے رہنما کے نوجوان صاحبزادے انتقال کر گئے
پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این اے میر اعجاز جھگرانی کے صاحبزادے زید حسین جکھرانی کراچی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔
مرحوم گزشتہ چند روز سے زیرِ علاج تھے اور ان کے انتقال کی خبر سے سیاسی و سماجی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین آبائی شہر جیکب آباد میں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان بیٹے کا غم والدین کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہوتا ہے اور اس دکھ کی گھڑی میں پاکستان پیپلز پارٹی خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔
مرکزی ترجمان پیپلز پارٹی شازیہ مری نے بھی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
-

مالی کے وزیر دفاع حملے میں ہلاک ہو گئے
مالی کے وزیر دفاع سادیو کامارا ہلاک ہو گئے ہیں، یہ واقعہ ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر ہونے والے مربوط حملوں کے دوران پیش آیا۔
رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کے قریب واقع فوجی شہر کیٹی میں سادیو کامارا کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے ایک روز بعد ان کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں بیک وقت حملے کیے گئے، جن کا ہدف فوجی مراکز اور سیکیورٹی تنصیبات تھیں، تاہم ان حملوں کی مکمل تفصیلات اور ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری سطح پر مزید معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملے ملک میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
-

ایران میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ایک شخص کو سزائے موت
ایران میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ایک شخص کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ملزم کی شناخت امر رمیش کے نام سے ہوئی، جسے شدت پسند گروہ جیش العدل کا رکن قرار دیا گیا تھا حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو جنوب مشرقی ایران میں انسداد دہشتگردی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر مسلح بغاوت، بم دھماکوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے،ملک میں دہشتگردی کے واقعات کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی، جبکہ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔