امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے بحیرہ عرب میں ایک ایسے تجارتی جہاز کو روک لیا جو مبینہ طور پر ایران پر عائد پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سفر کر رہا تھا۔ اس واقعے کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سینٹکام کے مطابق ’سیوان‘ نامی یہ جہاز ان 19 جہازوں پر مشتمل مبینہ نیٹ ورک کا حصہ ہے جسے ’شیڈو فلیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فلیٹ پر شبہ ہے کہ یہ ایرانی تیل اور گیس کو خفیہ طریقوں سے عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں ملوث ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے اس جہاز کو روکا، جو یو ایس ایس پنکنی نامی جنگی بحری جہاز سے روانہ ہوا تھا۔ کارروائی کے دوران جہاز کو امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرنے اور واپس ایران جانے کا حکم دیا گیا۔
سینٹکام نے مزید بتایا کہ اس قسم کے جہازوں پر امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پہلے ہی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے پروپین، بیوٹین اور دیگر توانائی مصنوعات کی اربوں ڈالر مالیت کی غیر قانونی ترسیل کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف نافذ پابندیوں کے بعد سے اب تک 37 ایسے جہازوں کو روکا یا ان کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے، جو مبینہ طور پر اسی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں خطے میں توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی تجارت اور جغرافیائی سیاست ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں، اور ان میں معمولی تبدیلی بھی بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
امریکی بحریہ نے ایرانی جہاز روک لیا
