Baaghi TV

Blog

  • ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم  دیدیا

    ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم دیدیا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 3 دن ہیں، اس کے بعد ان کا تیل انفراسٹرکچر ختم ہوجائے گا۔

    اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹر ویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے وفد کو اس لیے نہیں بھیجا کہ 18 گھنٹے کی فلائٹ ہے، ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس صورت حال میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی، اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے کیوں کہ یہ معاملہ فون پر بھی طے کیا جا سکتا ہے ایران میں جن فریقین سے امریکا کا سامنا ہے ان میں کچھ قابلِ قبول ہیں جب کہ کچھ نہیں تاہم انہیں امید ہے کہ ایران اس معاملے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس تک رسائی حاصل کرے گا۔ چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ مایوس نہیں ہیں لیکن بیجنگ اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتا ہے ایران سے متعلق صورت حال میں نیٹو امریکا کے ساتھ نہیں تھا اور جب جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ نے بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی تو یہ ایک غیر مناسب اقدام تھا۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ کا ذکر چھیڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دور میں انہوں نے 8 مختلف جنگی تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی شامل ہے پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھ رہی تھی کہ صورتحال جوہری تصادم کی طرف جا سکتی تھی، اس دوران 11 جہاز تباہ ہوئے، وزیراعظم پاکستان نے میرے حوالے سے کہا کہ میں نے کردار ادا کر کے لاکھوں جانیں بچائی ہیں، وہ پاکستان کا بہت احترام کرتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بہت اچھے اور ان کے لیے قابل احترام ہیں۔

  • ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ  اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے پر حملے کے ایک روز بعد امریکی حکام اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک معزز استاد اور گیم ڈویلپر نے اچانک تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا۔

    31 سالہ کول ٹامس ایلن نے حملے سے قبل اپنے خاندان کو ایک تحریری پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اس خط میں ایلن نے لکھا کہ میں ان تمام لوگوں سے معذرت چاہتا ہوں جن کے اعتماد کو میں نے ٹھیس پہنچائی، میں معافی کی امید نہیں رکھتا۔

    کول ٹامس ایلن نے اپنے پیغام میں خود کو ایک وفاقی حملہ آور قرار دیا اور صدر ٹرمپ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیاکول ایلن نے اپنے مبینہ ٹرمپ مخالف خط میں کسی اہلکار یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر لکھا کہ میں اب اس بات کی مزید اجازت نہیں دوں گا کہ ایک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث شخص، زانی اور غدار اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے بیان کو ایک ’انتہا پسندانہ‘ منشور قرار دیا، ملزم کے بیانات پڑھ کر سنانے پر انہوں نے صحافیوں کو ’خوفناک افراد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہاں، اس نے یہ لکھا ہے میں زانی نہیں ہوں میں نے کسی کا ریپ نہیں کیا۔

    جب انٹرویو لینے والے نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کے خیال میں ملزم کا اشارہ ان کی طرف تھا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا نہیں ہوں، معاف کیجیے گا، معاف کیجیے گا، میں پیڈوفائل نہیں ہوں آپ ایک بیمار ذہن کے آدمی کی لکھی ہوئی بکواس پڑھ رہے ہیں؟ میرا نام ان تمام چیزوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا جن سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، میں مکمل طور پر بے گناہ ثابت ہوا تھا۔

    پولیس کی تحقیقات کے مطابق ایلن نے حالیہ برسوں میں بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی تھی اور وہ لاس اینجلس میں سرگرم تھااس کی بہن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ وہ اکثر انتہا پسندانہ بیانات دیتا تھا اور اس نے قانونی طور پر اسلحہ خرید کر باقاعدہ مشق بھی شروع کر دی تھی۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق کول ٹامس ایلن لاس اینجلس سے ٹرین کے ذریعے شکاگو اور پھر واشنگٹن پہنچا، جہاں اس نے اسی ہوٹل میں قیام کیا جہاں صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کی تقریب ہونی تھی۔

    ملزم کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو وہ ایک انتہائی ذہین اور ہمدرد نوجوان کے طور پر سامنے آتا ہے اس نے 2017 میں مشہور تعلیمی ادارے کالٹیک سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی اور طالب علمی کے دور میں وہ وہیل چیئر کے لیے ہنگامی بریک کا نمونہ تیار کرنے پر خبروں کی زینت بھی بنا تھا۔

    وہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھاتا تھا جہاں اسے دسمبر 2024 میں بہترین استاد کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایک فری لانس گیم ڈویلپر بھی تھا اور اس کا تیار کردہ ایک گیم انٹرنیٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے ملزم نے اپنے پیغام میں یہ دلیل بھی دی کہ اس کا اقدام مسیحی اقدار کے خلاف نہیں ہے، اس نے لکھا کہ جب کوئی دوسرا مظلوم ہو تو خاموش رہنا مسیحی رویہ نہیں بلکہ ظالم کے جرائم میں شریک ہونا ہے۔

    ایلن کے بھائی نے جب یہ پیغام موصول کیا تو اس نے فوری طور پر پولیس کو تشویش سے آگاہ کیا، لیکن تب تک ملزم اپنی کارروائی شروع کر چکا تھا۔
    تفتیشی اداروں کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے اکتوبر 2023 اور اگست 2025 میں قانونی طور پر پستول اور شاٹ گن خریدی تھی جس کے لیے اس کا باقاعدہ بیک گراؤنڈ چیک بھی کیا گیا تھا۔

    اس وقت ایف بی آئی اور دیگر ادارے ملزم کے سوشل میڈیا اور خاندانی روابط کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ اس کے اصل محرکات کو سمجھا جا سکے جسے صدر ٹرمپ نے مسیحی مخالف قرار دیا ہےملزم کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس کے والد ایک ملنسار شخص ہیں اور انہوں نے کول کو چند روز قبل ہی علاقے میں دیکھا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ خاموش رہنے والا نوجوان اتنے بڑے پرتشدد منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

  • نہر  میں نہاتے ہوئے نوجوان جانبحق،پابندی لگانےکا مطالبہ

    نہر میں نہاتے ہوئے نوجوان جانبحق،پابندی لگانےکا مطالبہ

    قصور
    مصطفی آباد (للہانی) نہر میں نہاتے ہوئے نوجوان جاں بحق، شہریوں کا نہروں پر نہانے پر پابندی کا مطالبہ
    مصطفی آباد کے علاقے للیانی نہر میں گزشتہ روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان گرمی کی شدت کے باعث نہر میں نہانے کے لیے اترا، تاہم پانی کے تیز بہاؤ اور گہرائی کے باعث وہ خود کو سنبھال نہ سکا اور ڈوب گیا
    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور فوری طور پر تلاش کا عمل شروع کیا گیا۔ کافی کوششوں کے بعد نوجوان کی لاش نکال لی گئی، جس کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی اور اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا
    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال گرمیوں کے موسم میں متعدد نوجوان اور بچے نہروں میں نہاتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، لیکن اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہروں پر نہانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے، حفاظتی باڑ لگائی جائے اور متعلقہ مقامات پر وارننگ بورڈ نصب کیے جائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے
    شہریوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ نہروں کے کنارے نگرانی بڑھائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے
    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں نہروں میں ڈوبنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں تیز بہاؤ اور گہرے پانی کے باعث نوجوان جان کی بازی ہار گئے

  • 
آئی ایم ایف اجلاس 8 مئی، پاکستان کو قسط متوقع

    
آئی ایم ایف اجلاس 8 مئی، پاکستان کو قسط متوقع

    ‎پاکستان کے قرض پروگرام کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عالمی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر سے زائد رقم کی منظوری دی جا سکتی ہے، جو 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور آر ایس ایف کے تحت فراہم کی جائے گی۔ اس رقم کا مقصد پاکستان کی معاشی صورتحال کو مستحکم کرنا اور مالیاتی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اگر تیسرا جائزہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر کی قسط ملنے کا امکان ہے، جبکہ آر ایس ایف کے دوسرے جائزے کے بعد مزید 210 ملین ڈالر فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ فنڈز زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے اور مالیاتی استحکام کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
    ‎یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 27 مارچ کو اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد اب اس پروگرام کو اگلے مرحلے میں لے جانے کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار ہے۔
    ‎ماہرین معاشیات کے مطابق اس قسط کی منظوری پاکستان کے لیے مثبت اشارہ ہوگی، جس سے نہ صرف عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ سرمایہ کاری کے مواقع بھی بہتر ہوں گے۔

  • 
نیتن یاہو کے خلاف بڑا انتخابی اتحاد قائم

    
نیتن یاہو کے خلاف بڑا انتخابی اتحاد قائم

    ‎اسرائیل کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریفوں نے آئندہ انتخابات کے لیے مشترکہ اتحاد بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک کی سیاسی فضا میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور آنے والے دنوں میں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
    ‎بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لیپڈ نے اپنی جماعتوں کو یکجا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان کا مقصد موجودہ حکومت کو شکست دینا اور ایک مضبوط متبادل قیادت سامنے لانا ہے۔
    ‎یائر لیپڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اپوزیشن کو متحد کرنا، اختلافات کو ختم کرنا اور تمام تر توانائیاں آئندہ انتخابات جیتنے پر مرکوز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک واضح سمت دینے کے لیے یہ قدم ضروری تھا۔
    ‎نفتالی بینیٹ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نئی سیاسی جماعت کا نام ’ٹوگیدر‘ رکھا گیا ہے، جو مختلف سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی علامت ہے۔
    ‎یاد رہے کہ بینیٹ اور لیپڈ اس سے قبل بھی اتحاد کر چکے ہیں۔ 2021 کے انتخابات میں انہوں نے نیتن یاہو کے طویل دورِ اقتدار کا خاتمہ کیا تھا، تاہم ان کی مشترکہ حکومت زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی اور تقریباً 18 ماہ بعد ختم ہو گئی تھی۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ اتحاد نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل داخلی اور خارجی سطح پر مختلف مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

  • خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، 85 شدت پسند ہلاک

    خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، 85 شدت پسند ہلاک

    ‎خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی سے متعلق سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 85 شدت پسند مارے گئے، تاہم ان واقعات میں جانی نقصان بھی قابلِ تشویش رہا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے مختلف واقعات میں پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے مجموعی طور پر 119 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 67 شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق صوبے کے 14 اضلاع میں دہشت گردی کے مجموعی طور پر 475 مقدمات درج کیے گئے۔ ان مقدمات میں 1427 افراد کو نامزد کیا گیا، جن میں سے 107 ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
    ‎کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 27 اہلکار فرنٹیئر کور کے شامل ہیں، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد بھی ان حملوں کا نشانہ بنی۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے واقعات میں 298 شہری اور 45 سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
    ‎سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور شدت پسند عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق عوام کے تعاون سے ہی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

  • وائٹ ہاؤس فائرنگ پر عالمی رہنماؤں کی مذمت

    وائٹ ہاؤس فائرنگ پر عالمی رہنماؤں کی مذمت

    ‎واشنگٹن میں صحافیوں کے سالانہ ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر عالمی رہنماؤں نے شدید مذمت کا اظہار کیا ہے اور اسے جمہوری اقدار اور صحافتی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
    ‎برطانوی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ امریکی صدر، خاتون اول اور دیگر شرکا اس واقعے میں محفوظ رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری اداروں اور آزاد صحافت کو نشانہ بنانے کے کسی بھی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت ہونی چاہیے۔
    ‎فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کے صدر کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایسے واقعات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
    ‎ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت اور تشدد کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں، جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اس حملے کو افسوسناک قرار دیا۔
    ‎جرمن چانسلر کی جانب سے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف ایک ملک بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
    ‎عالمی رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں جمہوری نظام اور صحافتی آزادی کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی  اور عاصم منیر کی اہم ملاقات

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عاصم منیر کی اہم ملاقات

    ‎ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس موقع پر باہمی تعاون اور علاقائی سیکیورٹی کے امور بھی زیر بحث آئے۔
    ‎ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی کا یہ دورہ دراصل مشاورت کے سلسلے کی کڑی ہے، جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس سے قبل بھی ایرانی وزیر خارجہ مختلف ممالک کے دورے کر چکے ہیں تاکہ سفارتی سطح پر پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔
    ‎ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسلسل رابطہ اور مشاورت ناگزیر ہے۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کشیدگی کو کم کرنے اور مسائل کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  • 
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران جنگ جلد ختم ہوگی

    
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران جنگ جلد ختم ہوگی

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور امریکا اس میں کامیاب رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو براہ راست رابطہ کر سکتا ہے اور معاملات فون کے ذریعے بھی طے کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں کچھ عناصر ایسے ہیں جن سے بات چیت ممکن ہے جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو معاملات کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا اور کشیدگی کم کرنے کی جانب قدم بڑھائے گا۔
    ‎امریکی صدر نے ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ مذاکرات کا حصہ ہوگا اور امریکا اس حوالے سے اپنے مقاصد حاصل کرے گا۔ انہوں نے چین کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر مایوس نہیں ہیں، تاہم چین مزید مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
    ‎ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں نیٹو نے امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صورتحال ختم ہونے کے قریب تھی تو برطانیہ کی جانب سے بعد میں مدد کی پیشکش کی گئی، جو ان کے مطابق مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایک طرف سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب اپنی پوزیشن بھی مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس صورتحال میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

  • 
ایران کا امریکی بنکر بسٹر بم تباہ کرنے کا دعویٰ

    
ایران کا امریکی بنکر بسٹر بم تباہ کرنے کا دعویٰ

    ‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ زنجان میں کارروائی کے دوران تین امریکی بنکر شکن بم تباہ کر دیے گئے جبکہ ایک اور بم کو ناکارہ بنا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائی کے دوران GBU-57 طرز کے تین بنکر بسٹر بموں کو کامیابی سے تباہ کیا گیا، جبکہ ایک اور بم کو غیر فعال بنا کر متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کی گئیں۔
    GBU-57 کو دنیا کے طاقتور ترین غیر جوہری بموں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کا وزن تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ ہوتا ہے۔ یہ ہتھیار زمین کے اندر گہرائی میں موجود مضبوط تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے انتہائی حساس فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق اسی کارروائی کے دوران دشمن طیاروں کی جانب سے گرائے گئے 9 ہزار 500 سے زائد دیگر بم بھی تلاش کر کے ناکارہ بنا دیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
    ‎یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس ہونے والی محدود جنگ کے دوران بھی امریکی افواج نے ایرانی جوہری تنصیبات پر ایسے ہی طاقتور بموں کے استعمال کی اطلاعات دی تھیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پر ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں شفاف معلومات اور تصدیق شدہ حقائق نہایت اہمیت رکھتے ہیں تاکہ صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔