پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے آزاد کشمیر میں مستقل صدر تعینات کرنے کے فیصلے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ اہم فیصلہ اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیا گیا، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور پارٹی پوزیشن کو مدنظر رکھا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے واضح طور پر طے کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے صدر کا عہدہ پارٹی اپنے پاس ہی رکھے گی اور اس کے لیے ایک مستقل اور باقاعدہ صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے جلد ہی صدارتی انتخاب کا اعلان متوقع ہے، جس کے بعد سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
پارٹی کے اندر ہونے والی مشاورت میں مختلف ناموں پر غور کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایسا امیدوار سامنے لایا جائے جو نہ صرف پارٹی قیادت کا اعتماد حاصل کرے بلکہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام بھی یقینی بنا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مشاورت کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور جلد حتمی نام سامنے آنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر کی سیاست میں بھی اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس فیصلے سے آنے والے دنوں میں سیاسی جوڑ توڑ اور انتخابی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ اطلاعات ہیں کہ صدارتی انتخاب آئندہ ایک ماہ کے اندر منعقد ہو سکتا ہے۔
یہ عہدہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا، جن کا 31 جنوری کو انتقال ہوا۔ ان کے بعد سے یہ منصب عبوری طور پر اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی لطیف اکبر کے پاس ہے، جو قائم مقام صدر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔