ڈیرہ غازی خان میں چھ ماہ قبل بازیاب ہونے والی متاثرہ بچی کو نامزد ملزمان کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث تین ملزمان میں سے صرف ایک کو گرفتار کیا جا سکا ہے جبکہ دو ملزمان تاحال آزاد گھوم رہے ہیں۔متاثرہ بچی اور اس کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ باقی ملزمان انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔ متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔اہل علاقہ اور سماجی حلقوں نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
Blog
-

شہرت کی بلندیوں پر جانے والی بھارتی اداکارہ، جس کو کیا گیا تھا جسم فروشی کے الزام میں گرفتار
بھارتی فلم انڈسٹری میں بعض کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں ہوتیں۔ ایسی ہی ایک کہانی معروف اداکارہ شویتا باسو پرساد کی ہے، جنہوں نے کم عمری میں شہرت کی بلندیوں کو چھوا، ایک بڑے تنازع کا سامنا کیا اور پھر اپنی محنت سے دوبارہ مقام حاصل کیا۔
جمشیدپور میں پیدا ہونے والی شویتا باسو پرساد نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ کیا اور فلم میں ڈبل رول ادا کرکے ناقدین کو حیران کر دیا۔ اسی فلم کے لیے انہوں نے نیشنل ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ بعد ازاں ٹی وی ڈرامہ “کہانی گھر گھر کی” اور فلم اقبال میں اپنی اداکاری سے خوب داد سمیٹی۔اصل شہرت انہیں تیلگو فلم کوٹھا بنگارو لوکم سے ملی، جس نے انہیں راتوں رات نوجوانوں کی پسندیدہ اداکارہ بنا دیا۔ تاہم سال 2014 میں ان کی زندگی نے اچانک ڈرامائی موڑ لیا، جب حیدرآباد کے علاقے بنجارا ہلز میں ایک ہوٹل پر پولیس چھاپے کے دوران انہیں جسم فروشی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ ان کے کیریئر کو بھی بڑا دھچکا لگا۔
اداکارہ کو کچھ عرصے کے لیے ریسکیو ہوم بھی بھیجا گیا، تاہم بعد ازاں انہوں نے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کی۔ دسمبر 2014 میں عدالت نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کلین چٹ دے دی۔ شویتا نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں غلط طور پر پھنسایا گیا تھا اور وہ دراصل ایک ایوارڈ تقریب میں شرکت کے لیے حیدرآباد گئی تھیں۔مشکل وقت کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ انڈسٹری میں قدم جمایا۔اداکارہ کی ذاتی زندگی میں بھی اتار چڑھاؤ آئے۔ انہوں نے 2018 میں شادی کی، تاہم ایک سال بعد علیحدگی اختیار کر لی۔ اس کے باوجود شویتا باسو پرساد نے نہ صرف اداکاری بلکہ ہدایتکاری اور پروڈکشن میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔
فلمی دنیا میں ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ مشکلات چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، مستقل مزاجی اور حوصلے سے دوبارہ کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
-

ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تاخیر سے تعلیمی نظام متاثر
ڈیرہ غازی خان: میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی گزشتہ ایک سال تین ماہ سے مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے، جس کے باعث تعلیمی اور انتظامی امور شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ جنوری 2025 میں سابق وائس چانسلر کی مدت مکمل ہونے کے بعد تاحال نئی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔طلبہ اور ذرائع کے مطابق مستقل سربراہ نہ ہونے کی وجہ سے ادارے کے اہم معاملات تعطل کا شکار ہیں۔ نئے تعلیمی پروگرامز کا آغاز، فیکلٹی بھرتی، ریسرچ سرگرمیوں اور مالیاتی فیصلوں میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ مستقل وائس چانسلر کے بغیر کسی بھی یونیورسٹی کی کارکردگی اور ساکھ متاثر ہوتی ہے، جبکہ داخلوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔واضح رہے کہ میر چاکر رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پورے ڈویژن کی واحد ٹیکنالوجی یونیورسٹی ہے جہاں ملک بھر سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ جنوری 2025 میں یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کے بعد ادارے کو انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ سائنس اور مینجمنٹ کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کا اختیار بھی دیا گیا تھا، تاہم وائس چانسلر کی عدم تعیناتی نے ان تمام منصوبوں کو متاثر کر دیا ہے۔تعلیمی ماہرین کے مطابق مستقل وائس چانسلر کسی بھی یونیورسٹی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے بغیر مالیاتی نظام، تعلیمی منصوبے اور ترقیاتی کام مؤثر طریقے سے نہیں چل سکتے۔عوامی و تعلیمی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ میرٹ کی بنیاد پر فوری طور پر مستقل وائس چانسلر تعینات کیا جائے تاکہ ادارہ اپنی معمول کی کارکردگی بحال کر سکے۔ طلبہ اور والدین نے خبردار کیا ہے کہ مزید تاخیر سے نہ صرف جاری منصوبے متاثر ہوں گے بلکہ ادارے پر اعتماد بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔
-

ایرانی وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی ہے
ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلی باضابطہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی،سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ مشیر برائے قومی سلامتی جنرل عاصم ملک اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس بھی شریک تھے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ ایران کے نائب وزیرخارجہ غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی ملاقات میں موجود تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ جمعہ کو اسلام آباد پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا،ان کے استقبال کیلئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل،آرمی چیف عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت اعلیٰ حکام موجود تھے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ حالیہ اعلیٰ سطحی روابط خصوصاً آرمی چیف عاصم منیر کے تہران کے دورے نے اسلام آباد کو ایک اہم سفارتی پل کی حیثیت دے دی ہے،تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کیلئے اپنی متوازن پالیسی اور تعلقات کو مؤثر انداز میں استعمال کر رہا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ کشیدگی کے خاتمے کی امید پیدا ہو رہی ہے۔
-

صدر مملکت آصف زرداری کا دورہ چین، سی پیک اور معاشی تعاون پر اہم بات چیت متوقع
اسلام آباد: دفتر خارجہ کے مطابق صدر آصف علی زرداری آج 25 اپریل سے یکم مئی 2026 تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے، جو چینی حکومت کی دعوت پر ہوگا۔
دورے کے دوران صدر زرداری 25 سے 27 اپریل تک صوبہ ہنان کے شہر چانگشا جبکہ 28 اپریل سے یکم مئی تک صوبہ ہائنان کے شہر سانیا جائیں گے، جہاں وہ صوبائی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ملاقاتوں میں پاک-چین دوطرفہ تعلقات، بالخصوص اقتصادی و تجارتی تعاون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کی روایت کا حصہ ہے اور اس سال پاک-چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔
-

وزیراعلی مریم نواز کی کاوشیں، پنجاب 10لاکھ جانور ایکسپورٹ کرے گا
وزیراعلی مریم نوازشریف کی کاوشیں، پنجاب 10لاکھ جانور ایکسپورٹ کرے گا
پنجاب میں میٹ ایکسپورٹ کے لئے چینی کمپنی سمیت 7اداروں سے ایم او یو پر دستخط ہو گئے،چین کی گلوبل میٹ کمپنی،پنجاب میں پامکو کے اشتراک کار سے بوائلر یونٹ نصب کرے گی ،بوائلر یونٹ کے ذریعے بڑے پیمانے پر بوائلڈ میٹ ایکسپورٹ کے لئے تیار کیا جائے گا، میٹ کمپنیاں ایکسپور ٹ کے لئے تیار3لا کھ مویشیوں کاگوشت امپورٹ کریں گی،3لا کھ بھینس اور گائے،3لاکھ مینڈھے وغیرہ کی فیٹنگ (Fattening)کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،ایک لاکھ بکروں اور بھیڑوں وغیرہ کی ایکسپورٹ کے لئے پرورش کی جائے گی ،پنجاب کی ہر تحصیل میں سٹیٹ آف دی آرٹ ویٹرنری ہسپتال قائم کیا جائے گا،گاؤں، گاؤں جا کر مویشوں کے علاج کیلئے ہر تحصیل میں 4موبائل ویٹرنری ڈسپنسریاں کام کریں گی ،وزیراعلی مریم نوازشریف نے دیہی خواتین کو مفت مویشی دینے کا کوٹہ ڈبل کردیا
وزیراعلی مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی ویڈیولنک ا جلاس،اہم فیصلے، تفصیلی بریفنگ دی گئی،صوبائی وزیر لائیوسٹاک عاشق حسین کرمانی نے پنجاب میں لائیوسٹاک سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا،بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں پہلی بار لا ئیوسٹاک فارمنگ سیکٹر کی میکانزیشن کی جائے گی ،حکومت پنجاب لائیوسٹاک مشینری کے لئے 60فیصد تک سبسڈی دے گی ،ملک چلر، میکسنگ مشین، ملک کین کولر،ویٹ سکیل، فیڈ مکسر، پائلٹ مشین او ردیگر مشینری مہیا کی جائے گی،جنوبی پنجاب کے 12اضلاع میں بیوہ اور مطلقہ خواتین کو 9255مویشی مفت دئیے گئے ،ایکسپورٹ کا ٹارگٹ پورا کرنے کے لئے 2ملین جانوروں کو ٹیگ کیاجائے گا ،2ملین فارمز کو مویشیوں کی نسل بڑھانے کے لئے 2ملین سیمنز سبسڈی پر دئیے جائیں گے -پنجاب میں 2022کے بعد مویشیوں میں گل گھوٹو اور لمپی سکن رپورٹ نہیں ہوا حالیہ سیلاب کے بعد بھی لمپی سکن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا -لمپی سکن کی امپورٹڈ ویکسین 300روپے جبکہ مقامی طورپر تیار کردہ موثر ویکسین صرف30روپے میں دستیاب ہے-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ماضی میں لائیو سٹاک جیسے اہم شعبے کو نظر انداز کیاجانا انتہائی ا فسوسناک ا مر ہے ،لائیوسٹاک فارمز کی معاشی خود انحصاری کا ذریعہ بنتے ہیں ،
-

کندھ کوٹ: غلام ربانی خان چاچڑ ایمانداری اور وقت کی پابندی کی روشن مثال
کشمور (بیورو چیف) ضلع کشمور کندھ کوٹ میں محکمۂ تعلیم کی بہتری میں نمایاں کردار ادا کرنے والے آفس سپرنٹنڈنٹ غلام ربانی خان چاچڑ اپنی دیانتداری، محنت اور اعلیٰ اخلاق کے باعث ایک مثالی سرکاری افسر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔تعلیم کو کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے غلام ربانی خان چاچڑ نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ اگر ذمہ داری کا احساس اور اخلاص موجود ہو تو اداروں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ان کی سب سے نمایاں خوبی وقت کی پابندی ہے، وہ روزانہ بروقت دفتر پہنچ کر مکمل ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ان کے آنے کے بعد محکمۂ تعلیم میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ دفتری نظام بہتر ہوا، فائلوں کی بروقت تکمیل ممکن بنی اور عوامی مسائل کے حل میں تیزی آئی۔ ان کی نگرانی میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ ملا ہے جس سے عوام کا ادارے پر اعتماد بڑھا ہے۔غلام ربانی خان چاچڑ کا تعلق چاچڑ قبیلے سے ہے اور وہ ایک محنتی و باصلاحیت نوجوان کے طور پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی قابلیت اور ایمانداری سے نہ صرف اپنی برادری بلکہ پورے علاقے کا نام روشن کیا ہے۔شہریوں اور اہلِ علم نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اعلیٰ حکام ایسے فرض شناس افسران کی حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ اداروں میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ بلاشبہ غلام ربانی خان چاچڑ جیسے افسران قوم کا قیمتی سرمایہ اور باعثِ فخر ہیں۔
-

امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ایک اور ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کو روک لیا
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ایک اور ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کو روک لیا۔
امریکی سینٹرل کمان کے مطابق ایرانی پرچم والے ایک اور بحری جہاز کو روک لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایرانی جہاز کو ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر روکا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک تصویر سامنے آئی ہے جس میں ایک امریکی جنگی جہاز کو آبنائے ہرمز کے قریب ایک بحری جہاز کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ جہاز ایرانی پرچم بردار تھا اور اسے امریکی ناکہ بندی کے تحت روکا جا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کو آٹھ ہفتے گزر چکے ہیں اور ایران نے اپنی حدود میں تقریباً تمام غیر ملکی جہازوں کی آمدورفت روک رکھی ہے، جبکہ صرف ایرانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکہ اپنی عائد کردہ ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، تب تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا کوئی امکان نہیں۔ دوسری جانب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس صورتحال سے عالمی توانائی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
-

پیٹرولیم لیوی پھر بڑھا دی گئی، مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول پر لیوی میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرولیم لیوی کی مجموعی شرح بڑھ کر 107 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول پر لیوی 80 روپے 61 پیسے فی لیٹر تھی۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ لیوی میں اضافے کا فیصلہ ریونیو بڑھانے اور مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ اور صنعتی لاگت بڑھے گی، جس کا براہِ راست اثر عام صارفین پر پڑے گا۔
-

پہلگام فالس فلیگ،بھارتی پروپیگنڈہ پاکستان کی مؤثر ابلاغی حکمت عملی کے باعث زمین بوش
پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کی ابلاغی حکمتِ عملی نے بھارتی سازش اور جھوٹ کو نہ صرف حقائق اور شواہد سے بے نقاب کیا بلکہ مکمل طور پر بےاثر دیا۔
پاکستان نے نہایت موثر طریقے سے لمحہ بہ لمحہ عوام اور اقوام عالم کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ رکھا۔ پاکستان کی تزویراتی ابلاغی حکمت عملی نے بھارتی ڈس انفارمیشن کیمپین مکمل طورپر غیر مؤثر بنا دیا۔ پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کے پاکستانی مطالبے سے بھارتی موقف اور عزائم کو شدید نقصان پہنچا۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی حقائق پر مبنی پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا
عالمی ماہرین کے مطابق پاکستان کے بیانیے کی کامیابی کی بنیاد حقائق اور سچائی پر مبنی مؤقف تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ابلاغی حکمتِ عملی ایک جامع کیس اسٹڈی کے طور پر سامنے آئی، جو ہر لحاظ سےقابلِ مطالعہ اور قابلِ تقلید ہے
