Baaghi TV

Blog

  • منی لانڈرنگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ایف آئی اے کا نیا یونٹ قائم

    منی لانڈرنگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ایف آئی اے کا نیا یونٹ قائم

    ‎وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ملک میں منی لانڈرنگ اور مالیاتی جرائم کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے نیا "فنانشل انٹیلی جنس یونٹ” قائم کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مشکوک مالی لین دین کی فوری اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے کی منظوری کے بعد نئی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز نافذ کر دی گئی ہیں، جن کے تحت مالیاتی جرائم کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز اور سخت بنایا جائے گا۔ ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز میں قائم کیے گئے اس خصوصی یونٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
    ‎حکام کے مطابق ملک بھر کے تمام ایف آئی اے زونز میں "فنانشل انٹیلی جنس ڈیسک” قائم کیے جائیں گے، جن کی نگرانی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سطح کے افسران کریں گے۔ اس اقدام سے ملک کے مختلف حصوں میں مالیاتی جرائم کی نگرانی اور کارروائیوں کو مربوط بنانے میں مدد ملے گی۔
    ‎نئے نظام کے تحت فنانشل مانیٹرنگ یونٹ سے موصول ہونے والی رپورٹس پر فوری کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی منی لانڈرنگ کے کیسز کو التوا سے بچانے کے لیے واضح ٹائم فریم بھی مقرر کر دیا گیا ہے تاکہ ہر کیس کو مقررہ وقت میں منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
    ‎ڈی جی ایف آئی اے خود ان یونٹس کی کارکردگی کی نگرانی کریں گے تاکہ شفافیت اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی معیار پر پورا اترنا اور ملک میں حوالہ ہنڈی جیسے غیر قانونی نظام کو ختم کرنا ہے۔

  • ٹرمپ کی برطانیہ کو وارننگ، ٹیکس ختم نہ ہوا تو بھاری ٹیرف لگائیں گے

    ٹرمپ کی برطانیہ کو وارننگ، ٹیکس ختم نہ ہوا تو بھاری ٹیرف لگائیں گے

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کمپنیوں پر عائد خصوصی ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو امریکا برطانوی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔ یہ بیان وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران سامنے آیا، جہاں ٹرمپ نے تجارتی پالیسیوں پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔
    ‎صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی کمپنیوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور ممکنہ جوابی اقدامات کی تیاری جاری ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اگر برطانیہ اپنی پالیسی پر نظرثانی نہیں کرتا تو امریکا بھی اسی نوعیت کے اقدامات کرتے ہوئے برطانوی کمپنیوں پر سخت پابندیاں اور بھاری ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا اپنی معاشی خودمختاری اور کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
    ‎ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان اس نوعیت کا تجارتی تنازع اگر شدت اختیار کرتا ہے تو یہ ایک نئی تجارتی جنگ کا آغاز بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎اب تک برطانیہ کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سفارتی سطح پر بات چیت متوقع ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

  • امریکا کا ایران مذاکرات کیلئے وفد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ

    امریکا کا ایران مذاکرات کیلئے وفد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنا خصوصی وفد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس فیصلے کی تصدیق دو سینئر حکام نے کی ہے، جس سے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس مذاکراتی ٹیم میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے، جو پاکستان میں ایرانی وفد کے ساتھ اہم بات چیت کریں گے۔ یہ ملاقاتیں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
    ‎رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال اس دورے کا حصہ نہیں ہوں گے، جس کی وجہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی عدم شرکت بتائی جا رہی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی تو جے ڈی وینس کا دورہ بعد میں شیڈول کیا جا سکتا ہے۔
    ‎سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، اور اسلام آباد میں ہونے والی یہ ممکنہ ملاقاتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔

  • ‎ایران سمجھوتہ کرے تو پابندیاں نرم ہوسکتی ہیں، جرمن چانسلر


    ‎ایران سمجھوتہ کرے تو پابندیاں نرم ہوسکتی ہیں، جرمن چانسلر


    ‎جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ اگر ایران مذاکرات میں سنجیدگی دکھائے اور کسی سمجھوتے پر آمادہ ہو جائے تو یورپی یونین اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کے لیے تیار ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ یورپی رہنماؤں کے حالیہ اجلاس میں اس مؤقف کی کسی نے مخالفت نہیں کی۔
    ‎جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کا رویہ غیر سنجیدہ دکھائی دیتا ہے اور اس پر مزید دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر مؤثر طریقے سے لایا جا سکے۔ ان کے مطابق سفارتی حل ہی واحد راستہ ہے، لیکن اس کے لیے ایران کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
    ‎انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ پیش رفت ایران کے رویے اور اقدامات پر منحصر ہوگی۔ ان کے مطابق دباؤ اور مذاکرات کا امتزاج ہی بہتر نتائج دے سکتا ہے۔
    ‎روسی یوکرین جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فریڈرک مرز نے کہا کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپ اس معاملے میں اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرے گا اور یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔
    ‎چانسلر نے مزید کہا کہ یوکرین کی فوری طور پر یورپی یونین میں شمولیت ممکن نہیں، تاہم اس کے لیے ایک پیشگی رسائی کا طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے تاکہ اسے مرحلہ وار یورپی نظام کے قریب لایا جا سکے۔

  • اسرائیل کا جنگی عندیہ، ایران کی ہرمز کھولنے کیلئے بڑی شرط

    اسرائیل کا جنگی عندیہ، ایران کی ہرمز کھولنے کیلئے بڑی شرط

    ‎مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جہاں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اہداف کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکا ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے گرین سگنل کا منتظر ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی شرائط پیش کی ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ کو اس وقت تک نہیں کھولے گا جب تک اس کے تقریباً 11 ٹریلین ڈالر کے ضبط شدہ اثاثے واپس نہیں کیے جاتے۔ اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔
    ‎ادھر امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اپنے دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر دیا ہے جبکہ تہران میں فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز تک پہنچنے کی ہمت نہیں کرتا، جبکہ دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیانات اور اقدامات خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ کشیدگی کسی بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • ایران جنگ میں امریکی اسلحہ ذخائر کم، اربوں ڈالر خرچ

    ایران جنگ میں امریکی اسلحہ ذخائر کم، اربوں ڈالر خرچ

    ‎امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے بعد امریکی فوج کے اسلحہ ذخائر میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران بڑی تعداد میں مہنگے اور جدید ہتھیار استعمال کیے گئے، جس کے باعث امریکا کو اپنے ذخائر میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے جنگ کے دوران تقریباً 1100 جے اے ایس ایس ایم ای آر کروز میزائل استعمال کیے، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 11 لاکھ ڈالر ہے۔ اس وقت ان میزائلوں کا ذخیرہ تقریباً 1500 رہ گیا ہے، جو دفاعی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
    ‎اسی طرح امریکی فوج نے 1000 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل بھی استعمال کیے، جن کی فی میزائل قیمت تقریباً 36 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ امریکا سالانہ بنیادوں پر محدود تعداد میں ان کی خریداری کرتا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق جنگ کے دوران 1200 سے زائد پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل بھی داغے گئے، جن کی قیمت فی میزائل تقریباً 40 لاکھ ڈالر ہے۔
    ‎مزید برآں 1000 سے زائد پریسیژن اسٹرائیک اور اے ٹی اے سی ایم ایس زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل بھی استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں امریکی اسلحہ ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی دو دنوں میں ہی تقریباً 5.6 ارب ڈالر کے ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر جنگ کی لاگت 28 سے 35 ارب ڈالر کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ خرچ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً ایک ارب ڈالر بنتا ہے۔
    ‎امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 38 دن کی جنگ کے دوران 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ایک ہدف کو کئی بار نشانہ بنانے کے باعث استعمال ہونے والے اسلحے کی اصل مقدار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں دو مشتبہ جہازوں پر امریکی نظر

    آبنائے ہرمز میں دو مشتبہ جہازوں پر امریکی نظر

    ‎آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران سے مبینہ روابط رکھنے والے دو بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ جہازرانی کے عالمی ڈیٹا کے مطابق یہ دونوں ٹینکرز اس وقت حساس سمندری علاقے میں موجود ہیں جہاں امریکا پہلے ہی سخت نگرانی اور پابندیاں نافذ کر چکا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق خام تیل بردار جہاز ’یوری‘ رات کے وقت آبنائے ہرمز میں داخل ہوا اور بعد ازاں جزیرہ لارک کے مشرق میں رک گیا، جہاں یہ آج بھر موجود رہا۔ ٹریکنگ معلومات کے مطابق یہ جہاز کارگو سے بھرا ہوا ہے اور اس سے قبل ایران کی اہم تیل برآمدی بندرگاہ جزیرہ خارک کے قریب دیکھا گیا تھا، تاہم اس کی حتمی منزل ابھی واضح نہیں ہو سکی۔
    ‎دوسری جانب کیمیکل ٹینکر ’ایوَن‘ آج صبح آبنائے ہرمز سے گزرا اور اب خلیج عمان کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب کافی عرصے تک کھڑا رہا اور اب یہ بھی کارگو سے لدا ہوا ہے۔
    ‎امریکی حکام کے مطابق ان دونوں جہازوں پر پہلے ہی ایران سے تعلقات کے باعث پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ امریکا نے حالیہ دنوں میں خلیج عمان میں ایک بلاکیڈ لائن نافذ کی ہے، جس کے بعد متعدد جہازوں کو روکا جا چکا ہے، خاص طور پر وہ جہاز جو ایرانی بندرگاہوں سے آئے یا جن پر پابندیاں موجود تھیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی تیل کی ترسیل اور عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے امریکا ان جہازوں کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔

  • بھارت نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کر دیا، سخت ردعمل سامنے آگیا

    بھارت نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کر دیا، سخت ردعمل سامنے آگیا

    ‎بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے متنازع ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ یہ ریمارکس دراصل ایک قدامت پسند مبصر مائیکل سیویج کے ریڈیو شو سے لیے گئے تھے، جنہیں ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر شیئر کیا تھا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مائیکل سیویج نے اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ امریکا میں پیدا ہونے والا بچہ فوری طور پر شہریت حاصل کر لیتا ہے اور پھر اپنے خاندان کو چین، بھارت یا دیگر ممالک سے امریکا لے آتا ہے، جنہیں انہوں نے نامناسب انداز میں پیش کیا۔ اس بیان نے سفارتی سطح پر تنازع کھڑا کر دیا۔
    ‎بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان ریمارکس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرے حقیقت سے دور اور لاعلمی پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات بھارت اور امریکا کے درمیان دیرینہ تعلقات کی عکاسی نہیں کرتے، جو باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر قائم ہیں۔
    ‎ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں اور ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات ان تعلقات کو متاثر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری مختلف شعبوں میں مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔
    ‎دوسری جانب نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے بھی اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ بھارت کو ایک عظیم ملک سمجھتے ہیں اور بھارتی قیادت کو اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہیں۔

  • آئی ایم ایف کی 1.2 ارب ڈالر قسط کی امید، بیشتر اہداف مکمل

    آئی ایم ایف کی 1.2 ارب ڈالر قسط کی امید، بیشتر اہداف مکمل

    ‎اسلام آباد میں معاشی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط حاصل ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت نے پروگرام کے تحت مقررہ 17 میں سے 13 اہداف کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں، جس کے بعد مئی کے اوائل میں قسط کی منظوری متوقع ہے۔
    ‎حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے کئی اہم شرائط پوری کی جا چکی ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر کو بہتر سطح پر برقرار رکھنا، مالیاتی نظم و ضبط اور دیگر بنیادی اہداف شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق بنیادی بجٹ خسارہ مقررہ حد میں رکھا گیا جبکہ صوبائی ٹیکسوں کا 568 ارب روپے کا ہدف بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔
    ‎مزید برآں حکومت نے اپنی ضمانتوں کو 4542 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف بھی پورا کیا ہے اور اسٹیٹ بینک نے بھی حکومتی قرضے میں اضافہ نہیں کیا، جو پروگرام کی ایک اہم شرط تھی۔ ان اقدامات کو معاشی استحکام کی جانب مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تاہم اب بھی دو اہم اہداف مکمل نہیں ہو سکے جبکہ مزید دو کے لیے درکار ڈیٹا آئی ایم ایف کو فراہم کرنا باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر ریٹیلرز سے 366 ارب روپے ٹیکس ہدف کی مکمل تفصیلات جمع نہیں کرا سکا، جبکہ نئے ٹیکس فائلرز کے حوالے سے بھی ہدف کا مکمل ڈیٹا پیش نہیں کیا گیا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک 10 لاکھ نئے ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کا ہدف مقرر ہے جبکہ مارچ 2027 تک مزید ساڑھے سات لاکھ نئے ریٹرنز کا اضافہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید اہداف کے لیے جون 2026 تک کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔

  • ایرانی وفد آج رات پاکستان پہنچے گا، اہم سفارتی مشاورت متوقع

    ایرانی وفد آج رات پاکستان پہنچے گا، اہم سفارتی مشاورت متوقع

    ‎ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد آج رات پاکستان پہنچنے والا ہے، جہاں وہ مختصر قیام کے دوران اہم سفارتی ملاقاتیں کرے گا۔ ذرائع کے مطابق وفد کی آمد رات تقریباً 10 بجے متوقع ہے اور اس دورے کو جاری امریکا ایران مذاکرات کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد پاکستان میں اپنے قیام کے دوران اعلیٰ حکام سے ملاقات کرے گا اور خطے کی موجودہ صورتحال، کشیدگی میں کمی اور امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مشاورت مکمل کرنے کے بعد ایرانی وفد روس روانہ ہوگا، جہاں مزید سفارتی بات چیت کی جائے گی۔ اس کے بعد وفد عمان کا دورہ کرے گا، جہاں حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری رہے ہیں۔
    ‎سفارتی حلقوں کے مطابق ان تمام مشاورتوں کے بعد ایرانی حکومت کی جانب سے ایک حتمی فیصلہ سامنے آنے کا امکان ہے، جو خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ سفارتی دورہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران مختلف ممالک کے ساتھ مشاورت کے ذریعے کسی مشترکہ لائحہ عمل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ پاکستان، روس اور عمان جیسے ممالک کا کردار اس عمل میں اہمیت اختیار کر چکا ہے۔