ڈیرہ غازی خان: میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی گزشتہ ایک سال تین ماہ سے مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے، جس کے باعث تعلیمی اور انتظامی امور شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ جنوری 2025 میں سابق وائس چانسلر کی مدت مکمل ہونے کے بعد تاحال نئی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔طلبہ اور ذرائع کے مطابق مستقل سربراہ نہ ہونے کی وجہ سے ادارے کے اہم معاملات تعطل کا شکار ہیں۔ نئے تعلیمی پروگرامز کا آغاز، فیکلٹی بھرتی، ریسرچ سرگرمیوں اور مالیاتی فیصلوں میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ مستقل وائس چانسلر کے بغیر کسی بھی یونیورسٹی کی کارکردگی اور ساکھ متاثر ہوتی ہے، جبکہ داخلوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔واضح رہے کہ میر چاکر رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پورے ڈویژن کی واحد ٹیکنالوجی یونیورسٹی ہے جہاں ملک بھر سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ جنوری 2025 میں یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کے بعد ادارے کو انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ سائنس اور مینجمنٹ کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کا اختیار بھی دیا گیا تھا، تاہم وائس چانسلر کی عدم تعیناتی نے ان تمام منصوبوں کو متاثر کر دیا ہے۔تعلیمی ماہرین کے مطابق مستقل وائس چانسلر کسی بھی یونیورسٹی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے بغیر مالیاتی نظام، تعلیمی منصوبے اور ترقیاتی کام مؤثر طریقے سے نہیں چل سکتے۔عوامی و تعلیمی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ میرٹ کی بنیاد پر فوری طور پر مستقل وائس چانسلر تعینات کیا جائے تاکہ ادارہ اپنی معمول کی کارکردگی بحال کر سکے۔ طلبہ اور والدین نے خبردار کیا ہے کہ مزید تاخیر سے نہ صرف جاری منصوبے متاثر ہوں گے بلکہ ادارے پر اعتماد بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔
ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تاخیر سے تعلیمی نظام متاثر
