Baaghi TV

Blog

  • پی ایس ایل 11 فائنل میں شائقین کو شرکت کی ملی اجازت

    پی ایس ایل 11 فائنل میں شائقین کو شرکت کی ملی اجازت

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ایس ایل 11 فائنل میں شائقین کی شرکت سے متعلق اہم بیان دیا ہے

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے کرکٹ شائقین کو اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم بھی شائقین کو اجازت دینے کے خواہاں تھے، تاہم ملک میں جاری کفایت شعاری مہم اور ایندھن کے کم استعمال کی پالیسی کے باعث اس معاملے پر احتیاط کی جا رہی تھی۔محسن نقوی کے مطابق فرنچائز مالکان کی درخواست پر وزیراعظم نے پی ایس ایل 11 کے فائنل میں شائقین کو اسٹیڈیم آنے کی خصوصی اجازت دے دی، جس پر انہوں نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور شائقین کے لیے اس سہولت کو خوش آئند قرار دیا۔

  • ایرانی وزیر خارجہ کی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    ایرانی وزیر خارجہ کی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    سرکاری ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد کےبعد نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سےملاقات ہوئی جس میں وزیر داخلہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ایرانی وفد کی آمد پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وفد کا استقبال کیا۔

    نجی ٹی وی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کل یعنی اتوار کو منعقد ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان، اسلام آباد کے دورے پر آئے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ اپنی مشاورت کے نتائج سے واشنگٹن کو آگاہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایک اہم سفارتی پیش رفت میں ایران کے وزیرِ خارجہ پاکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق توقعات بڑھ گئی ہیں۔ یہ دورہ پہلے مرحلے کے مذاکرات کے بعد ہونے والی پسِ پردہ بات چیت کے تناظر میں ہو رہا ہے۔

    پہلے دور میں دونوں فریقین کے درمیان مزید رابطوں کی بنیاد رکھی، گئی تھی۔ اس صورتحال سے واقف حکام کے مطابق، اسلام آباد میں ایرانی وزیرِ خارجہ کی ملاقاتوں میں حالیہ پیش رفت اور مذاکرات کے اگلے مرحلے کی جانب بڑھنے کے امکانات پر توجہ دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اگر اسلام آباد میں مشاورت کے مثبت اشارے سامنے آئے تو پاکستان ممکنہ طور پر اس کے نتائج سے باضابطہ طور پر امریکا کو آگاہ کرے گا۔ نتیجتاً، دوسرے دور کے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جو ابتدائی طور پر اتوار تک متوقع ہیں۔

    دریں اثنا، وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی وفد کے ارکان ہفتہ کی صبح (امریکی وقت کے مطابق) یعنی پاکستان کے وقت کے مطابق ہفتہ کی رات پاکستان کیلئے روانہ ہوں گے۔ مجوزہ شیڈول کے مطابق جب یہ پیشرفت عملی شکل اختیار کرے گی تو مذاکرات کے وقت اور ایجنڈے کے حوالے سے مزید وضاحت سامنے آنے کی توقع ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر قریب سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے اثرات پوری دنیا کیلئے اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔

  • دیپالپور میں ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ، ڈپٹی کمشنر کے کام تیز کرنے کے احکامات

    دیپالپور میں ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ، ڈپٹی کمشنر کے کام تیز کرنے کے احکامات

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) دیپالپور میں ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے زیر تعمیر انڈر گراؤنڈ واٹر سٹوریج ٹینکس، روڈ کے اطراف واٹر ٹینکس اور شہر کی خوبصورتی کے مختلف منصوبوں کا معائنہ کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر فیصل شہزاد چیمہ اور دیگر متعلقہ افسران نے انہیں جاری کاموں پر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے منصوبوں کے معیار پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اعلیٰ معیار کا مٹیریل استعمال کیا جائے تاکہ یہ منصوبے طویل عرصے تک عوام کے لیے مفید ثابت ہوں۔انہوں نے واضح کیا کہ ناقص مٹیریل یا سستی روی پر سخت کارروائی کی جائے گی اور تمام منصوبے مقررہ وقت میں مکمل کیے جائیں۔ خاص طور پر برسات کے موسم سے قبل پانی کے نکاس کے نظام کو فعال بنانا ضروری قرار دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ زیر تعمیر ٹینکس کی جلد تکمیل نہایت اہم ہے تاکہ بارشی پانی کے بروقت نکاس سے شہری انفراسٹرکچر کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر شہروں کی جدید طرز پر ترقی اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔بعد ازاں انہوں نے مثالی گاؤں وینڈلا جاگیر کا بھی دورہ کیا اور وہاں جاری ترقیاتی منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،ٹراسپوٹرز کا 10 فیصد کرایہ بڑھانے کا اعلان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،ٹراسپوٹرز کا 10 فیصد کرایہ بڑھانے کا اعلان

    قصور
    وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈال دیا۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی بڑھا کر 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوری اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیاء، سبزیاں، پھل، آٹا، چینی اور دیگر ضروری سامان مزید مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے زندگی اجیرن بنا رکھی تھی، اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے جینا مزید دشوار کر دیا ہے۔
    عوامی حلقوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں، مراعات اور اشرافیہ کے اخراجات کم کرنے کے بجائے تمام بوجھ عوام پر ڈال رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں سفید پوش طبقہ بری طرح پس چکا ہے جبکہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگ اب بھی مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم قیمتوں میں کمی، اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے، بصورت دیگر مہنگائی کا یہ طوفان مزید سنگین معاشی بحران کو جنم دے سکتا ہے

  • مہنگائی کی شرح 13.98 فیصد تک پہنچ گئی، ہفتہ وار کمی ریکارڈ

    مہنگائی کی شرح 13.98 فیصد تک پہنچ گئی، ہفتہ وار کمی ریکارڈ

    ‎وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق تازہ ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 13.98 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے یہ شرح 12.16 فیصد تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 9 اشیاء سستی ہوئیں اور 23 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ یہ اعداد و شمار عوام پر مہنگائی کے مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔
    ‎ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران آلو کی قیمت میں 3.13 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بریڈ 0.91 فیصد اور کوکنگ آئل 0.69 فیصد مہنگا ہوا۔ اس کے علاوہ انڈے، مٹن، چکن اور گھی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گھریلو اخراجات میں مزید بوجھ کا باعث بن رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں 27.65 فیصد اور پیاز میں 9.35 فیصد کمی ہوئی۔ اسی طرح ڈیزل، ایل پی جی، آٹا اور چینی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے شہریوں کو جزوی ریلیف ملا ہے۔
    ‎ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی میں 0.33 فیصد کمی آئی ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم سالانہ سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اب بھی عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی منڈی، مقامی سپلائی اور حکومتی پالیسیوں سے متاثر ہوتا ہے، اور اگر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

  • ‎پیٹرول اور ڈیزل مہنگے، فی لیٹر 26.77 روپے اضافہ


    ‎پیٹرول اور ڈیزل مہنگے، فی لیٹر 26.77 روپے اضافہ


    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 26 روپے 77 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق آج رات 12 بجے کے بعد ہوگا۔
    ‎پٹرولیم ڈویژن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس اچانک اضافے نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے، جس کے باعث مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ خاص طور پر عام آدمی کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
    ‎عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی عروج پر ہے اور اب ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ زندگی کو مزید مشکل بنا دے گا۔
    ‎معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی ایسے فیصلوں کی بڑی وجوہات ہیں، تاہم اس کے اثرات مقامی سطح پر براہ راست عوام کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

  • ‎ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے

    ‎ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے

    ‎ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اپنے مختصر دورے کے دوران اعلیٰ پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور جاری کشیدگی پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ اس کے علاوہ وہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کریں گے جہاں سفارتی تعاون اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
    ‎عباس عراقچی اس سے قبل اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ پڑوسی ممالک ایران کی ترجیح ہیں اور اسی سلسلے میں وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان دوروں کا مقصد قریبی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ کاری کو مضبوط بنانا اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔
    ‎سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کے باعث یہ دورہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امکان ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں آئندہ سفارتی پیش رفت کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
    ‎دوسری جانب وائٹ ہاؤس ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان آئے گا۔ امریکی ٹیم میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے جو ہفتے کی صبح پاکستان پہنچیں گے۔

  • ڈیپ سیک کا نیا اے آئی ماڈل متعارف، ٹیکنالوجی میں بڑی پیشرفت

    ڈیپ سیک کا نیا اے آئی ماڈل متعارف، ٹیکنالوجی میں بڑی پیشرفت

    ‎چین کی معروف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی ڈیپ سیک نے اپنے نئے اے آئی ماڈل ’ڈیپ سیک وی 4‘ متعارف کروانے کا اعلان کر دیا ہے، جسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نیا ماڈل جدید خصوصیات سے لیس ہے اور اسے خاص طور پر چین کے تیار کردہ مقامی کمپیوٹر چپس پر بہتر کارکردگی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس اقدام کو چین کی ٹیکنالوجی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم بھی سمجھا جا رہا ہے۔
    ‎کمپنی کے مطابق ڈیپ سیک وی 4 کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا الٹرا لانگ کانٹیکسٹ ہے، جس کے تحت یہ ایک وقت میں تقریباً 10 لاکھ الفاظ تک کی معلومات کو یاد رکھ کر ان کا تجزیہ کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صلاحیت پیچیدہ مسائل کے حل اور بڑے ڈیٹا کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
    ‎یہ ماڈل دو مختلف ورژنز ’ڈیپ سیک وی 4 پرو‘ اور ’ڈیپ سیک وی 4 فلش‘ میں دستیاب ہوگا، جنہیں مختلف ضروریات کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ اس میں ایک خصوصی میکسیمم ریزننگ موڈ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ اوپن سورس اے آئی ماڈلز میں سب سے بہتر کارکردگی فراہم کرتا ہے۔
    ‎اگرچہ کمپنی نے ابھی اس کے تمام تکنیکی پہلوؤں کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل اے آئی کے شعبے میں مقابلے کو مزید تیز کرے گا، جہاں پہلے ہی گوگل اور دیگر بڑی کمپنیاں اپنے نئے ماڈلز متعارف کروا رہی ہیں۔

  • منی لانڈرنگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ایف آئی اے کا نیا یونٹ قائم

    منی لانڈرنگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ایف آئی اے کا نیا یونٹ قائم

    ‎وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ملک میں منی لانڈرنگ اور مالیاتی جرائم کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے نیا "فنانشل انٹیلی جنس یونٹ” قائم کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مشکوک مالی لین دین کی فوری اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے کی منظوری کے بعد نئی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز نافذ کر دی گئی ہیں، جن کے تحت مالیاتی جرائم کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز اور سخت بنایا جائے گا۔ ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز میں قائم کیے گئے اس خصوصی یونٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
    ‎حکام کے مطابق ملک بھر کے تمام ایف آئی اے زونز میں "فنانشل انٹیلی جنس ڈیسک” قائم کیے جائیں گے، جن کی نگرانی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سطح کے افسران کریں گے۔ اس اقدام سے ملک کے مختلف حصوں میں مالیاتی جرائم کی نگرانی اور کارروائیوں کو مربوط بنانے میں مدد ملے گی۔
    ‎نئے نظام کے تحت فنانشل مانیٹرنگ یونٹ سے موصول ہونے والی رپورٹس پر فوری کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی منی لانڈرنگ کے کیسز کو التوا سے بچانے کے لیے واضح ٹائم فریم بھی مقرر کر دیا گیا ہے تاکہ ہر کیس کو مقررہ وقت میں منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
    ‎ڈی جی ایف آئی اے خود ان یونٹس کی کارکردگی کی نگرانی کریں گے تاکہ شفافیت اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی معیار پر پورا اترنا اور ملک میں حوالہ ہنڈی جیسے غیر قانونی نظام کو ختم کرنا ہے۔

  • ٹرمپ کی برطانیہ کو وارننگ، ٹیکس ختم نہ ہوا تو بھاری ٹیرف لگائیں گے

    ٹرمپ کی برطانیہ کو وارننگ، ٹیکس ختم نہ ہوا تو بھاری ٹیرف لگائیں گے

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کمپنیوں پر عائد خصوصی ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو امریکا برطانوی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔ یہ بیان وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران سامنے آیا، جہاں ٹرمپ نے تجارتی پالیسیوں پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔
    ‎صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی کمپنیوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور ممکنہ جوابی اقدامات کی تیاری جاری ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اگر برطانیہ اپنی پالیسی پر نظرثانی نہیں کرتا تو امریکا بھی اسی نوعیت کے اقدامات کرتے ہوئے برطانوی کمپنیوں پر سخت پابندیاں اور بھاری ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا اپنی معاشی خودمختاری اور کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
    ‎ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان اس نوعیت کا تجارتی تنازع اگر شدت اختیار کرتا ہے تو یہ ایک نئی تجارتی جنگ کا آغاز بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎اب تک برطانیہ کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سفارتی سطح پر بات چیت متوقع ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔