بھارتی فلم انڈسٹری میں بعض کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں ہوتیں۔ ایسی ہی ایک کہانی معروف اداکارہ شویتا باسو پرساد کی ہے، جنہوں نے کم عمری میں شہرت کی بلندیوں کو چھوا، ایک بڑے تنازع کا سامنا کیا اور پھر اپنی محنت سے دوبارہ مقام حاصل کیا۔
جمشیدپور میں پیدا ہونے والی شویتا باسو پرساد نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ کیا اور فلم میں ڈبل رول ادا کرکے ناقدین کو حیران کر دیا۔ اسی فلم کے لیے انہوں نے نیشنل ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ بعد ازاں ٹی وی ڈرامہ “کہانی گھر گھر کی” اور فلم اقبال میں اپنی اداکاری سے خوب داد سمیٹی۔اصل شہرت انہیں تیلگو فلم کوٹھا بنگارو لوکم سے ملی، جس نے انہیں راتوں رات نوجوانوں کی پسندیدہ اداکارہ بنا دیا۔ تاہم سال 2014 میں ان کی زندگی نے اچانک ڈرامائی موڑ لیا، جب حیدرآباد کے علاقے بنجارا ہلز میں ایک ہوٹل پر پولیس چھاپے کے دوران انہیں جسم فروشی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ ان کے کیریئر کو بھی بڑا دھچکا لگا۔
اداکارہ کو کچھ عرصے کے لیے ریسکیو ہوم بھی بھیجا گیا، تاہم بعد ازاں انہوں نے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کی۔ دسمبر 2014 میں عدالت نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کلین چٹ دے دی۔ شویتا نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں غلط طور پر پھنسایا گیا تھا اور وہ دراصل ایک ایوارڈ تقریب میں شرکت کے لیے حیدرآباد گئی تھیں۔مشکل وقت کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ انڈسٹری میں قدم جمایا۔اداکارہ کی ذاتی زندگی میں بھی اتار چڑھاؤ آئے۔ انہوں نے 2018 میں شادی کی، تاہم ایک سال بعد علیحدگی اختیار کر لی۔ اس کے باوجود شویتا باسو پرساد نے نہ صرف اداکاری بلکہ ہدایتکاری اور پروڈکشن میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔
فلمی دنیا میں ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ مشکلات چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، مستقل مزاجی اور حوصلے سے دوبارہ کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
