Baaghi TV

Blog

  • امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔ایرانی سپریم لیڈر

    امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔ایرانی سپریم لیڈر

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ پہلوی خاندان کی باقیات اور امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ کچھ طاقتیں ایران کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں، ایران کی نیوی دشمنوں کو نئی اور تلخ شکستیں دینے کیلئے تیار ہے۔سپریم لیڈر نے ایرانی فوج کے قیام کے دن پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ فوج قوم کے بیٹے کی مانند ہے جو عوام کے گھروں سے جنم لیتی ہے۔

    واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک سامنے نہیں آئے تا ہم انکے پیغامات ایکس پر دیئے جا رہے ہیں،ایران امریکا مذاکرات اسلام آباد میں اگلے ہفتے متوقع ہیں،

    دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جن نکات پر امریکی حکام اور میڈیا بات کررہے ہیں ان کی تصدیق نہیں ہوسکتی، افزودہ یورینیم کو کسی صورت کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ہماری طرف سے کبھی افزودہ یورینیم منتقلی کی تجویز پیش نہیں کی گئی، جس طرح ایرانی سرزمین ہمارے لیے اہم ہے یہ معاملہ بھی اتنا ہی اہم ہے، ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے ضروری اقدامات کرے گا۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر نیا مؤقف

    ایران کا آبنائے ہرمز پر نیا مؤقف

    ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے بحری نظام کا نفاذ کیا جائے، جس کے تحت خلیجی گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت پر مزید سخت نگرانی رکھی جائے گی۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے نظام کے تحت صرف وہی تجارتی جہاز مخصوص بحری راستوں سے گزر سکیں گے جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے باقاعدہ اجازت حاصل ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان جہازوں کو اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے مقررہ فیس بھی ادا کرنا ہوگی، جبکہ بغیر اجازت گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکا ایرانی جہازوں کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو حالات فوری طور پر تبدیل ہو سکتے ہیں، اور ایران مزید سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا ایران سے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت بحال نہیں کرتا، آبنائے ہرمز سخت کنٹرول میں رہے گی۔

  • جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،ایاز صادق

    جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی استنبول میں ترکیہ کے ہم منصب نعمان کُرتُلموش سے اہم ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کے 152 ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ملاقات میں اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،اسپیکر سردار ایاز صادق نے عالمی امن، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا،اسپیکر قومی اسمبلی نے جنگوں کے خاتمے کے لیے ڈائیلاگ اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا،پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا،ترک اسپیکر نعمان کُرتُلموش نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔ترک اسپیکر کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت نے بروقت اقدامات کر کے خطے کو بڑے بحران سے بچا لیا، پاکستان کی امن کے قیام کے لیے کوششیں قابلِ تحسین ہیں، ترک اسپیکر نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف سید عاصم منیر کے کردار کی بھی تعریف کی،ترک اسپیکر نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،دونوں ممالک نےپارلیمانی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور وفود کے تبادلوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا،اسپیکر قومی اسمبلی کا ترک اسپیکر کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تعریف پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے،پاکستان نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے، جنگ و جدل کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، مسائل کا حل ڈائیلاگ سے ہی ممکن ہو سکتا ہے، جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،پاکستان اپنے برادر اسلامی ممالک کی عزت اور تکریم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،

  • سب سے زیادہ بھکاری بھارت کی کس ریاست میں

    سب سے زیادہ بھکاری بھارت کی کس ریاست میں

    بھارت میں مندروں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، ٹریفک سگنلز اور بازاروں کے باہر بھیک مانگتے افراد ایک عام منظر ہیں۔ مگر بھارت کی کس ریاست میں سب سے زیادہ بھکاری پائے جاتے ہیں؟ اور یہ لوگ ایک ماہ میں کتنی کمائی کر لیتے ہیں؟ اس حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

    بھارت میں بھکاریوں سے متعلق سب سے مستند اعداد و شمار 2011 کی مردم شماری میں سامنے آئے تھے۔ اس سرکاری ڈیٹا کے مطابق ملک بھر میں بھکاریوں کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 13 ہزار 670 تھی۔ ان میں 2 لاکھ 21 ہزار 673 مرد جبکہ 1 لاکھ 91 ہزار 997 خواتین شامل تھیں۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار پرانے ہیں، تاہم اس موضوع پر یہی آخری جامع سرکاری ریکارڈ تصور کیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سب سے زیادہ بھکاریوں کی تعداد مغربی بنگال میں پائی جاتی ہے، جہاں یہ تعداد 81 ہزار 244 بتائی گئی۔دوسرے نمبر پر اتر پردیش ہے، جہاں 65 ہزار 835 بھکاری موجود ہیں۔تیسرے نمبر پر آندھرا پردیش ہے، جہاں بھکاریوں کی تعداد 30 ہزار 218 ریکارڈ کی گئی۔بہار میں 29 ہزار 723،مدھیہ پردیش میں 28 ہزار 695،راجستھان میں 25 ہزار 853 بھکاری ہیں،یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھیک مانگنا صرف ایک یا دو ریاستوں کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت کے مختلف علاقوں میں ایک سنجیدہ سماجی چیلنج بن چکا ہے۔

    بھکاریوں کی آمدنی سے متعلق کوئی باضابطہ سرکاری ڈیٹا موجود نہیں، کیونکہ یہ مکمل طور پر مقام، شہر، رش اور لوگوں کے رویے پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم مختلف اندازوں کے مطابق ایک عام بھکاری روزانہ 100 سے 500 بھارتی روپے تک کما لیتا ہے۔اس حساب سے ان کی ماہانہ آمدنی 3 ہزار سے 15 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔جبکہ دہلی، ممبئی، کولکتہ اور لکھنؤ جیسے بڑے شہروں میں بعض بھکاری روزانہ 500 سے 1000 روپے تک بھی کما لیتے ہیں، جس سے ان کی ماہانہ آمدنی 15 ہزار سے 30 ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق بھیک مانگنے کے پیچھے صرف غربت ہی وجہ نہیں، بلکہ بے روزگاری، تعلیم کی کمی، معذوری، سماجی ناانصافی اور بعض اوقات منظم بھکاری مافیا بھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف خیرات نہیں بلکہ مؤثر سماجی اور معاشی پالیسیوں میں پوشیدہ ہے۔

  • اوکاڑہ: گندم خریداری مراکز پر سہولیات اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت

    اوکاڑہ: گندم خریداری مراکز پر سہولیات اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر مرزا راحیل بیگ کا گندم خریداری مراکز میں انتظامات کا جائزہ، اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ محکمہ خوراک کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے لیے مناسب بیٹھنے کے انتظامات، صاف پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گندم خریداری مراکز پر آنے والے کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی اہم ذمہ داری ہے۔ مرزا راحیل بیگ نے مزید ہدایت کی کہ گندم کی خریداری کا عمل شفاف اور میرٹ کے مطابق یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں فوری ازالہ کیا جائے گا۔ اسسٹنٹ کمشنر مرزا راحیل بیگ نے کہا کہ حکومتی پالیسی کے مطابق گندم کی خریداری کے عمل کو شفاف اور سہل بنایا جائے گا اور کسی بھی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • ایران میں 6 ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان

    ایران میں 6 ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان

    ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی کے تسلسل کے دوران چھ اہم ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے،

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی ایئرلائنز ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ تہران کے دو بڑے ہوائی اڈے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ساتھ ساتھ مشہد، بیرجند، گرگان اور زاہدان کے ہوائی اڈے بھی دوبارہ آپریشن شروع کریں گے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے ملک کے مشرقی حصے میں اپنی فضائی حدود کو جزوی طور پر کھول دیا ہے، جس کے بعد فضائی آپریشنز کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔

    یاد رہے کہ امریکا و اسرائیل کے حملے کے آغاز کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کر دی تھی۔ تاہم 8 اپریل سے جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد خطرے کی سطح میں کمی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز 2026 کا انعقاد

    تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز 2026 کا انعقاد

    تربت – تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز کامیابی سے منعقد کی گئی، جو بین الاقوامی سول ایویشن آرگنائزیشن کے معیار اور قومی فضائی حفاظتی تقاضوں کے مطابق تھی۔

    اس مشق کا مقصد کرائسز اینڈ ایمرجنسی رسپانس پلان کی افادیت کا جائزہ لینا تھا، جس میں رابطہ، کمانڈ، ہم آہنگی اور ردعمل کے وقت پر خصوصی توجہ دی گئی۔تقریب میں کمانڈنگ آفیسر پی این ایس صدیق، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ، او سی اے ایس ایف، جی ون آرمی ایف او بی سمیت دیگر اہم نمائندگان نے شرکت کی۔ ایئرپورٹ منیجر محمد الیاس بریچ نے بریفنگ اور ڈی بریفنگ دی جبکہ ایئر سائیڈ پر ہنگامی صورتحال کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا۔ اس مشق میں پی اے اے ریسکیو اینڈ فائر فائٹنگ سروسز، پاکستان آرمی، پاکستان نیوی، اے ایس ایف اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ ایڈمنسٹریشن نے حصہ لیا۔یہ مشق ہنگامی ردعمل کے نظام کو جانچنے، بروقت رسائی کو یقینی بنانے اور معمولی خامیوں کی نشاندہی کے ذریعے فضائی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں کامیاب رہی۔

  • بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی کے انکشافات

    بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی کے انکشافات

    بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی نے انکشافات کئے ہیں

    رحیمہ بی بی (دالبندین) کا کہنا ہے کہ شادی اپریل 2025 میں منظور احمد سے ہوئی۔ بعد میں گھر میں ایک نامعلوم خاتون (زرینہ) کی آمد، شوہر کا اس کے ساتھ مشکوک روابط اور موبائل فون کے استعمال پر شکوک پیدا ہوئے۔ خاتون کو کچھ دن بعد افغانستان لے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ نومبر-دسمبر 2025 میں شوہر افغانستان فرار ہو گئے اور مبینہ طور پر رابطے کے بعد گرفتاری بھی ہوئی۔ رحیمہ بی بی نے الزام لگایا کہ شوہر نے ذمہ داری سے انکار کیا اور والدین سے اپیل کی کہ رشتے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال کی جائے،رحیمہ بی بی کے مطابق بعد میں معلوم ہوا کہ وہی عورت مبینہ طور پر ایک خودکش حملے سے جڑی تھی۔ ان کے شوہر پر سنگین الزامات اور تعلقات کے دعوے کیے گئے ہیں، جبکہ وہ شہریوں سے اپیل کرتی ہیں کہ رشتہ کرنے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال کریں،بیان کے آخر میں وہ کہتی ہیں کہ ان کا شوہر بعد میں مکمل طور پر غائب ہو گیا اور مبینہ طور پر افغانستان چلا گیا، جبکہ وہ خود قانونی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ وہ والدین سے درخواست کرتی ہیں کہ شادی سے پہلے مکمل تصدیق اور احتیاط کو لازمی سمجھیں

    بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ایک خاتون کی گرفتاری کے بعد اہم پریس کانفرنس میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے دہشت گرد تنظیموں کے طریقہ کار، خواتین کے استحصال اور خطے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک سے متعلق کئی سوالات کو اجاگر کر دیا ہے۔پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض شدت پسند عناصر خواتین کو سماجی، نفسیاتی اور جنسی استحصال کا نشانہ بنا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق خواتین کو کمزور طبقہ سمجھ کر ان پر ذہنی دباؤ ڈالا جاتا ہے، انہیں مخصوص بیانیے کے تحت متاثر کیا جاتا ہے اور پھر دہشت گرد سرگرمیوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔پریس کانفرنس میں ایک اہم انکشاف یہ بھی کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی اہلیہ رحیمہ کا موبائل نمبر جان بوجھ کر دہشت گرد تنظیموں اور ایک خاتون خودکش بمبار سے رابطوں کے لیے استعمال کیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورک بی ایل اے اور بی ایل ایف اپنے قریبی رشتوں تک کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔حکام کے مطابق زرینہ رفیق نامی خاتون کچھ عرصہ مذکورہ افراد کے گھر میں مقیم رہی، جس کے بعد اسے افغانستان میں موجود تربیتی کیمپ بھیجا گیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ یہ واقعہ اس تاثر کی نفی کرتا ہے کہ خواتین ہمیشہ گھروں تک محدود رہتی ہیں، جبکہ بعض عناصر اس حقیقت کے برعکس مخصوص سیاسی بیانیہ تشکیل دے کر ریاست اور حکومت کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حکام نے کہا کہ سرحد پار موجود تربیتی مراکز اور سہولت کار پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے شواہد مختلف کارروائیوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔حکام نے خواتین کو دہشت گردی میں استعمال کرنے کے ایک منظم ماڈل کی بھی نشاندہی کی، جس کے مطابق پہلے مرحلے میں ذہنی گمراہی، نفرت انگیز سوچ، انتہا پسندی اور نظریاتی تربیت کی جاتی ہے۔دوسرے مرحلے میں بھرتی، عملی تربیت اور کارروائی کے لیے تیاری مکمل کی جاتی ہے۔اگر کارروائی کامیاب ہو جائے تو خاتون کو مزاحمت کی علامت بنا کر مزید بھرتی اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر کارروائی ناکام ہو جائے یا گرفتاری عمل میں آ جائے تو تنظیمیں لاتعلقی اختیار کر لیتی ہیں اور ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے۔

    پریس بریفنگ میں کہا گیا کہ خواتین کو خودکش حملوں یا دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال کرنا بلوچ ثقافت، قبائلی روایات اور مذہبی تعلیمات کے منافی ہے۔ حکام کے مطابق بلوچ معاشرہ خواتین کے احترام، عزت اور تحفظ کا داعی رہا ہے، جبکہ مذہب بھی بے گناہ جانوں کے قتل اور فساد کی اجازت نہیں دیتا۔حکام نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے اور خواتین سمیت نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ دہشت گردی کے خطرات کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔

    پریس کانفرنس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ خواتین اور نوجوانوں کو شدت پسند بیانیوں سے بچانے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے، تعلیمی و سماجی اداروں کو فعال کردار دیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں روزگار و تعلیم کے مواقع بڑھائے جائیں تاکہ انتہا پسند عناصر کو جگہ نہ مل سکے۔

  • امریکا پر اعتماد شکرنی،ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ

    امریکا پر اعتماد شکرنی،ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ

    ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے اس اقدام کی وجہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود بار بار اعتماد شکنی اور وعدہ خلافی کو قرار دیا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مکمل نگرانی قائم کر دی گئی ہے اور اگر مبینہ بحری ناکہ بندی جاری رہی تو اس راستے سے گزرنے والی بحری نقل و حرکت کو غیر مؤثر تصور کیا جائے گا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ آبنائے ہرمز ٹریفک کے لیے کھلی ہے، تاہم چند گھنٹوں بعد سرکاری میڈیا نے نئی پابندیوں کی تصدیق کر دی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران کے ساتھ مکمل معاہدہ نہیں ہو جاتا۔

    دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ناکام ہونے کے بعد یہ واضح نہیں کہ آئندہ مذاکرات کب اور کہاں ہوں گے۔

    ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ تہران نے محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، لیکن امریکا مبینہ طور پر ناکہ بندی کے نام پر بحری قزاقی اور جہازوں کی غیر قانونی روک تھام جاری رکھے ہوئے ہے۔ترجمان کے مطابق جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز ایرانی افواج کے سخت کنٹرول میں رہے گی۔

  • روس میں عوامی بے چینی میں اضافہ، معروف بلاگرز کی صدر پیوٹن پر کڑی تنقید

    روس میں عوامی بے چینی میں اضافہ، معروف بلاگرز کی صدر پیوٹن پر کڑی تنقید

    روس میں بڑھتی معاشی مشکلات، انٹرنیٹ پابندیوں اور یوکرین جنگ کے طویل اثرات کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ پہلی بار معروف سوشل میڈیا شخصیات اور بلاگرز بھی روسی صدر پر کھل کر تنقید کرنے لگے ہیں۔

    روسی بیوٹی انفلوئنسر وکٹوریہ بونیا نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام میں صدر پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “لوگ آپ سے ڈرتے ہیں، بلاگرز ڈرتے ہیں، فنکار ڈرتے ہیں، گورنرز ڈرتے ہیں، اور آپ ہمارے ملک کے صدر ہیں۔”انہوں نے اپنے پیغام میں روس کے مختلف مسائل کا ذکر کیا، جن میں داغستان میں سیلاب سے نمٹنے میں سست ردعمل، سائبیریا میں مویشیوں کی ہلاکتوں کا مبینہ ناقص انتظام، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑھتی پابندیاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں کے باعث لوگ اپنے پیاروں سے رابطہ بھی نہیں کر پا رہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ “ہم اب آزاد ملک میں نہیں رہ رہے۔”

    وکٹوریہ بونیا کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کی، جسے کروڑوں بار دیکھا گیا جبکہ ہزاروں افراد نے ان کی جرات کو سراہا۔اسی دوران ایک اور معروف روسی انفلوئنسر عائزہ نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹیلیگرام پر پابندیاں روسی معیشت کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ انہوں نے ملک میں ٹیکسوں، عدم مساوات اور اشرافیہ کی دولت پر بھی سوالات اٹھائے۔

    ماہرین کے مطابق روس میں انٹرنیٹ بندشیں اور ٹیلیگرام پر قدغنیں عوامی ردعمل کو مزید تیز کر رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی معاشرے میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں لوگ مسلسل جنگ، معاشی دباؤ اور آزادیوں میں کمی سے تھک چکے ہیں۔

    کریملن کے ترجمان نے بلاگرز کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا اور ان پر کام جاری ہے۔دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عوام موجودہ صورتحال کو عارضی بحران کے بجائے مستقل نظام سمجھنے لگے تو صدر پیوٹن کی مقبولیت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔