Baaghi TV

بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی کے انکشافات

بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی نے انکشافات کئے ہیں

رحیمہ بی بی (دالبندین) کا کہنا ہے کہ شادی اپریل 2025 میں منظور احمد سے ہوئی۔ بعد میں گھر میں ایک نامعلوم خاتون (زرینہ) کی آمد، شوہر کا اس کے ساتھ مشکوک روابط اور موبائل فون کے استعمال پر شکوک پیدا ہوئے۔ خاتون کو کچھ دن بعد افغانستان لے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ نومبر-دسمبر 2025 میں شوہر افغانستان فرار ہو گئے اور مبینہ طور پر رابطے کے بعد گرفتاری بھی ہوئی۔ رحیمہ بی بی نے الزام لگایا کہ شوہر نے ذمہ داری سے انکار کیا اور والدین سے اپیل کی کہ رشتے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال کی جائے،رحیمہ بی بی کے مطابق بعد میں معلوم ہوا کہ وہی عورت مبینہ طور پر ایک خودکش حملے سے جڑی تھی۔ ان کے شوہر پر سنگین الزامات اور تعلقات کے دعوے کیے گئے ہیں، جبکہ وہ شہریوں سے اپیل کرتی ہیں کہ رشتہ کرنے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال کریں،بیان کے آخر میں وہ کہتی ہیں کہ ان کا شوہر بعد میں مکمل طور پر غائب ہو گیا اور مبینہ طور پر افغانستان چلا گیا، جبکہ وہ خود قانونی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ وہ والدین سے درخواست کرتی ہیں کہ شادی سے پہلے مکمل تصدیق اور احتیاط کو لازمی سمجھیں

بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ایک خاتون کی گرفتاری کے بعد اہم پریس کانفرنس میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے دہشت گرد تنظیموں کے طریقہ کار، خواتین کے استحصال اور خطے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک سے متعلق کئی سوالات کو اجاگر کر دیا ہے۔پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض شدت پسند عناصر خواتین کو سماجی، نفسیاتی اور جنسی استحصال کا نشانہ بنا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق خواتین کو کمزور طبقہ سمجھ کر ان پر ذہنی دباؤ ڈالا جاتا ہے، انہیں مخصوص بیانیے کے تحت متاثر کیا جاتا ہے اور پھر دہشت گرد سرگرمیوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔پریس کانفرنس میں ایک اہم انکشاف یہ بھی کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی اہلیہ رحیمہ کا موبائل نمبر جان بوجھ کر دہشت گرد تنظیموں اور ایک خاتون خودکش بمبار سے رابطوں کے لیے استعمال کیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورک بی ایل اے اور بی ایل ایف اپنے قریبی رشتوں تک کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔حکام کے مطابق زرینہ رفیق نامی خاتون کچھ عرصہ مذکورہ افراد کے گھر میں مقیم رہی، جس کے بعد اسے افغانستان میں موجود تربیتی کیمپ بھیجا گیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ یہ واقعہ اس تاثر کی نفی کرتا ہے کہ خواتین ہمیشہ گھروں تک محدود رہتی ہیں، جبکہ بعض عناصر اس حقیقت کے برعکس مخصوص سیاسی بیانیہ تشکیل دے کر ریاست اور حکومت کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

پریس کانفرنس میں ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حکام نے کہا کہ سرحد پار موجود تربیتی مراکز اور سہولت کار پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے شواہد مختلف کارروائیوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔حکام نے خواتین کو دہشت گردی میں استعمال کرنے کے ایک منظم ماڈل کی بھی نشاندہی کی، جس کے مطابق پہلے مرحلے میں ذہنی گمراہی، نفرت انگیز سوچ، انتہا پسندی اور نظریاتی تربیت کی جاتی ہے۔دوسرے مرحلے میں بھرتی، عملی تربیت اور کارروائی کے لیے تیاری مکمل کی جاتی ہے۔اگر کارروائی کامیاب ہو جائے تو خاتون کو مزاحمت کی علامت بنا کر مزید بھرتی اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر کارروائی ناکام ہو جائے یا گرفتاری عمل میں آ جائے تو تنظیمیں لاتعلقی اختیار کر لیتی ہیں اور ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے۔

پریس بریفنگ میں کہا گیا کہ خواتین کو خودکش حملوں یا دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال کرنا بلوچ ثقافت، قبائلی روایات اور مذہبی تعلیمات کے منافی ہے۔ حکام کے مطابق بلوچ معاشرہ خواتین کے احترام، عزت اور تحفظ کا داعی رہا ہے، جبکہ مذہب بھی بے گناہ جانوں کے قتل اور فساد کی اجازت نہیں دیتا۔حکام نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے اور خواتین سمیت نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ دہشت گردی کے خطرات کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔

پریس کانفرنس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ خواتین اور نوجوانوں کو شدت پسند بیانیوں سے بچانے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے، تعلیمی و سماجی اداروں کو فعال کردار دیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں روزگار و تعلیم کے مواقع بڑھائے جائیں تاکہ انتہا پسند عناصر کو جگہ نہ مل سکے۔

More posts