Baaghi TV

روس میں عوامی بے چینی میں اضافہ، معروف بلاگرز کی صدر پیوٹن پر کڑی تنقید

روس میں بڑھتی معاشی مشکلات، انٹرنیٹ پابندیوں اور یوکرین جنگ کے طویل اثرات کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ پہلی بار معروف سوشل میڈیا شخصیات اور بلاگرز بھی روسی صدر پر کھل کر تنقید کرنے لگے ہیں۔

روسی بیوٹی انفلوئنسر وکٹوریہ بونیا نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام میں صدر پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “لوگ آپ سے ڈرتے ہیں، بلاگرز ڈرتے ہیں، فنکار ڈرتے ہیں، گورنرز ڈرتے ہیں، اور آپ ہمارے ملک کے صدر ہیں۔”انہوں نے اپنے پیغام میں روس کے مختلف مسائل کا ذکر کیا، جن میں داغستان میں سیلاب سے نمٹنے میں سست ردعمل، سائبیریا میں مویشیوں کی ہلاکتوں کا مبینہ ناقص انتظام، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑھتی پابندیاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں کے باعث لوگ اپنے پیاروں سے رابطہ بھی نہیں کر پا رہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ “ہم اب آزاد ملک میں نہیں رہ رہے۔”

وکٹوریہ بونیا کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کی، جسے کروڑوں بار دیکھا گیا جبکہ ہزاروں افراد نے ان کی جرات کو سراہا۔اسی دوران ایک اور معروف روسی انفلوئنسر عائزہ نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹیلیگرام پر پابندیاں روسی معیشت کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ انہوں نے ملک میں ٹیکسوں، عدم مساوات اور اشرافیہ کی دولت پر بھی سوالات اٹھائے۔

ماہرین کے مطابق روس میں انٹرنیٹ بندشیں اور ٹیلیگرام پر قدغنیں عوامی ردعمل کو مزید تیز کر رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی معاشرے میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں لوگ مسلسل جنگ، معاشی دباؤ اور آزادیوں میں کمی سے تھک چکے ہیں۔

کریملن کے ترجمان نے بلاگرز کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا اور ان پر کام جاری ہے۔دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عوام موجودہ صورتحال کو عارضی بحران کے بجائے مستقل نظام سمجھنے لگے تو صدر پیوٹن کی مقبولیت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

More posts