Baaghi TV

سب سے زیادہ بھکاری بھارت کی کس ریاست میں

بھارت میں مندروں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، ٹریفک سگنلز اور بازاروں کے باہر بھیک مانگتے افراد ایک عام منظر ہیں۔ مگر بھارت کی کس ریاست میں سب سے زیادہ بھکاری پائے جاتے ہیں؟ اور یہ لوگ ایک ماہ میں کتنی کمائی کر لیتے ہیں؟ اس حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

بھارت میں بھکاریوں سے متعلق سب سے مستند اعداد و شمار 2011 کی مردم شماری میں سامنے آئے تھے۔ اس سرکاری ڈیٹا کے مطابق ملک بھر میں بھکاریوں کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 13 ہزار 670 تھی۔ ان میں 2 لاکھ 21 ہزار 673 مرد جبکہ 1 لاکھ 91 ہزار 997 خواتین شامل تھیں۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار پرانے ہیں، تاہم اس موضوع پر یہی آخری جامع سرکاری ریکارڈ تصور کیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سب سے زیادہ بھکاریوں کی تعداد مغربی بنگال میں پائی جاتی ہے، جہاں یہ تعداد 81 ہزار 244 بتائی گئی۔دوسرے نمبر پر اتر پردیش ہے، جہاں 65 ہزار 835 بھکاری موجود ہیں۔تیسرے نمبر پر آندھرا پردیش ہے، جہاں بھکاریوں کی تعداد 30 ہزار 218 ریکارڈ کی گئی۔بہار میں 29 ہزار 723،مدھیہ پردیش میں 28 ہزار 695،راجستھان میں 25 ہزار 853 بھکاری ہیں،یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھیک مانگنا صرف ایک یا دو ریاستوں کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت کے مختلف علاقوں میں ایک سنجیدہ سماجی چیلنج بن چکا ہے۔

بھکاریوں کی آمدنی سے متعلق کوئی باضابطہ سرکاری ڈیٹا موجود نہیں، کیونکہ یہ مکمل طور پر مقام، شہر، رش اور لوگوں کے رویے پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم مختلف اندازوں کے مطابق ایک عام بھکاری روزانہ 100 سے 500 بھارتی روپے تک کما لیتا ہے۔اس حساب سے ان کی ماہانہ آمدنی 3 ہزار سے 15 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔جبکہ دہلی، ممبئی، کولکتہ اور لکھنؤ جیسے بڑے شہروں میں بعض بھکاری روزانہ 500 سے 1000 روپے تک بھی کما لیتے ہیں، جس سے ان کی ماہانہ آمدنی 15 ہزار سے 30 ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق بھیک مانگنے کے پیچھے صرف غربت ہی وجہ نہیں، بلکہ بے روزگاری، تعلیم کی کمی، معذوری، سماجی ناانصافی اور بعض اوقات منظم بھکاری مافیا بھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف خیرات نہیں بلکہ مؤثر سماجی اور معاشی پالیسیوں میں پوشیدہ ہے۔

More posts