Baaghi TV

Blog

  • خوف سے سکون تک،تحریر: اقصیٰ جبار

    خوف سے سکون تک،تحریر: اقصیٰ جبار

    انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ حال کے خیمے میں بیٹھ کر مستقبل کے سرابوں کا پیچھا کرتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسا معمار ہے جو اپنی زندگی کی عمارت کو مستقبل کے نامعلوم گوشوں میں محفوظ کرنا چاہتا ہے۔ اس عمل میں ہم اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ اس ’لمحے‘ کی مٹھاس سے محروم ہو جاتے ہیں، جو حقیقت میں ہماری زندگی کا واحد حقیقی اثاثہ ہے۔ ہم سب ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جس کا اختتام کہیں نہیں ہے، اور اس دوڑ میں ہم اپنی خوشیوں، اپنے سکون، اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دھیرے دھیرے قربان کرتے جا رہے ہیں۔
    آج کے تیز رفتار دور میں، ہم نے ’منصوبہ بندی‘ اور ’اضطراب‘ کے درمیان فرق مٹا دیا ہے۔ مستقبل کا خوف، دراصل ان واقعات کا خوف ہے جو ابھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے۔ ہم ان اندیشوں میں گھلے جاتے ہیں جو شاید کبھی حقیقت کا روپ دھاریں ہی نہیں۔ ہم اپنی توانائی کا ایک بڑا حصہ ان خدشات پر صرف کر دیتے ہیں جو ہمارے کل کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ہم اپنی پڑھائی، اپنے کیریئر، اپنے امتحانات، اور اپنی سماجی حیثیت کو لے کر اس قدر فکرمند رہتے ہیں کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ’زندہ‘ بھی ہیں۔ یہ فکر، جو ایک حد تک تو اصلاحی ہو سکتی ہے، جب حد سے بڑھ جائے تو ایک بیماری بن جاتی ہے جسے ہم ’مستقبل کا خوف‘ کہتے ہیں۔

    ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کو ’مستقبل کا ایک جزیرہ‘ بنا دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سکون تب ملے گا جب ہم ڈگری مکمل کر لیں گے، جب ہمیں ملازمت مل جائے گی، جب ہم کسی بڑے عہدے تک پہنچ جائیں گے۔ اس سوچ کے تحت ہم اپنی موجودہ زمین پر قدم جمانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم ایک ایسی انتظار گاہ میں بیٹھے ہیں جہاں ہم زندگی شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ زندگی کوئی منزل نہیں، یہ تو وہ راستہ ہے جس پر ہم اس وقت چل رہے ہیں۔ اگر ہم راستے کے مناظر سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے، تو منزل پر پہنچ کر بھی ہمیں وہ سکون نہیں ملے گا جس کی ہمیں تلاش ہے۔

    ہم اکثر سوچتے ہیں کہ کیا ہم کل کے امتحان میں کامیاب ہو پائیں گے؟ کیا ہم اپنی ذمہ داریاں نبھا پائیں گے؟ کیا ہمارا مستقبل محفوظ ہے؟ یہ سوالات فطری ہیں، مگر جب یہ سوالات ہمارے دماغ پر سوار ہو جائیں، تو یہ حال کی کارکردگی کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ ایک طالب علم جو سی ایس ایس (CSS) یا کسی بھی مشکل امتحان کی تیاری کر رہا ہو، وہ اگر ہر وقت ناکامی کے خوف میں مبتلا رہے گا، تو وہ اپنی تیاری پر پوری توجہ نہیں دے پائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل کا حد سے زیادہ خوف، ہمارے حال کو بھی برباد کر رہا ہے۔

    حال میں جینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کریں یا اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کریں۔ منصوبہ بندی کرنا دانشمندی ہے، مگر اس میں ڈوب جانا حماقت ہے۔ حال میں جینے کا مطلب ہے کہ ہم اپنی پوری توجہ، اپنی پوری توانائی اور اپنے تمام تر حواس کو اپنے موجودہ کام پر مرکوز کریں۔ جب ہم فکرِ فردا سے آزاد ہو کر اپنے کام میں ڈوب جاتے ہیں، تو ہمارا کام نہ صرف زیادہ معیاری ہوتا ہے بلکہ ہمارا ذہنی سکون بھی برقرار رہتا ہے۔
    ایک مشہور قول ہے کہ ’’جو گزر گیا وہ خواب تھا، جو آنے والا ہے وہ خیال ہے، اصل میں وہی ہے جو تیرے سامنے، تیرے حال میں ہے۔‘‘

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا دماغ ایک وقت میں ایک ہی چیز پر توجہ دے سکتا ہے۔ اگر ہمارا دماغ کل کی فکروں میں الجھا ہوا ہے، تو ہم آج کے کام کو کیسے مکمل کر سکتے ہیں؟ یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی تضاد ہے۔ ہم آج کو کل کے لیے قربان کر رہے ہیں، اور پھر کل جب آئے گا تو وہ بھی تو ’آج‘ ہی بن جائے گا۔ تب ہم پھر کسی اور ’کل‘ کی فکر میں مبتلا ہوں گے۔ اس طرح ہماری پوری زندگی ایک ایسی لکیر بن کر رہ جاتی ہے جس میں صرف بھاگ دوڑ ہے اور ٹھہر کر سانس لینے کا کوئی وقفہ نہیں۔

    حال کے سکون کو پانے کے لیے ہمیں ’شکر گزاری‘ (Gratitude) کے فلسفے کو اپنانا ہوگا۔ جب ہم ان چیزوں پر غور کرتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں، تو ہمارا ذہن خود بخود سکون کی حالت میں آ جاتا ہے۔ ہم اکثر ان چیزوں کے بارے میں سوچ کر دکھی ہوتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں یا جن کے چھن جانے کا ہمیں ڈر ہے۔ یہ فکر ہمیں ناشکرا بناتی ہے۔ حال میں جینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحات کی قدر کریں۔ ایک کپ چائے کی چسکی، کسی عزیز سے کی گئی گفتگو، یا کوئی کتاب پڑھتے ہوئے ملنے والی خوشی—یہ وہ چھوٹے چھوٹے لمحات ہیں جو ہماری زندگی کو روشن بناتے ہیں۔

    نفسیاتی طور پر دیکھیں تو مستقبل کا خوف انسان کو ’مستقبل بین‘ (Visionary) نہیں، بلکہ ’مستقبل زدہ‘ (Future-Anxious) بنا دیتا ہے۔ ایک صاحبِ قلم کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جو وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، وہ ایک امانت ہے۔ اسے مستقبل کے غیر یقینی خدوخال کو سنوارنے کی فکر میں ضائع کرنا، وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے گراف کو دیکھیں۔ کیا ہم صرف پریشانیوں کا گراف بنا رہے ہیں یا ہم سکون اور اطمینان کے پل بھی تعمیر کر رہے ہیں؟
    توازن کا فلسفہ ہی زندگی کا حسن ہے۔ ہمیں ایک ویژن تو رکھنا چاہیے، مستقبل کے خواب بھی دیکھنے چاہئیں، لیکن ان خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے جو محنت درکار ہے، اسے موجودہ لمحے میں ادا کرنا چاہیے۔ جب آپ آج کا کام خلوص اور ایمانداری سے کرتے ہیں، تو آپ کا کل خود بخود سنور جاتا ہے۔ آپ کا آج، آپ کے کل کی بنیاد ہے۔ اگر آپ کی آج کی اینٹیں مضبوط ہوں گی، تو کل کی دیواریں خود بخود مستحکم ہوں گی۔

    آئیے، آج سے ایک عہد کریں۔ ہم کل کے اندیشوں کو اللہ پر چھوڑ دیں گے۔ ہم منصوبہ بندی کریں گے، ہم محنت کریں گے، لیکن نتائج کے خوف کو اپنی ذات پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ جب ہم کسی کام کو عبادت کی طرح کرتے ہیں، تو نتیجہ خود بخود بہتری کی صورت میں نکلتا ہے۔ اور اگر نتیجہ ہماری توقع کے مطابق نہ بھی ہو، تو بھی ہم اس اطمینان کے ساتھ جی سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا آج پوری دیانتداری سے گزارا ہے۔
    یاد رکھیے، زندگی گزر جانے کا نام نہیں، بلکہ پھلنے پھولنے کا نام ہے۔ مستقبل کا خوف ایک سراب ہے، اور اس سراب سے بچنے کا واحد راستہ، حال میں اپنے قدموں کو مضبوطی سے جمانا ہے۔ آیئے، کل کے نامعلوم اندیشوں کو ایک طرف رکھ کر آج کے سورج کو خوش آمدید کہیں۔ اپنی محنت کو اپنا مقصد بنائیں، مگر نتائج کی فکر کو اپنی ذات کا حصہ نہ بنائیں۔ کیونکہ جب آپ کا ’حال‘ پرسکون اور مستحکم ہوتا ہے، تو آپ کا ’مستقبل‘ خود بخود ایک محفوظ سمت کا تعین کر لیتا ہے۔

    اب ہمیں فردا کے خواب دیکھنے سے زیادہ حال کے چراغ جلانے کی ضرورت ہے۔ زندگی کے ہر لمحے میں ایک ایسی روشنی پوشیدہ ہے جسے ہم کل کی فکر میں دھندلا دیتے ہیں۔ اپنے ذہن کو اس غیر ضروری بوجھ سے آزاد کریں، گہری سانس لیں اور ارد گرد کی دنیا کو دیکھیں، جہاں ہزاروں امکانات آپ کے منتظر ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی زندگی کا اصل رقبہ وہی ہے جو اس وقت آپ کے قدموں تلے ہے۔ اسے خوف کی دھول سے نہیں، اطمینان کے پھولوں سے مہکائیں۔ کیونکہ یہی آج ہے، جو کل کی تاریخ بنے گا۔

  • بحیرہ عرب میں  پاکستان نیوی کا کامیاب ریسکیو آپریشن،تحریر:جان محمد رمضان

    بحیرہ عرب میں پاکستان نیوی کا کامیاب ریسکیو آپریشن،تحریر:جان محمد رمضان

    بحیرہ عرب میں پیش آنے والی ایک ہنگامی صورتحال نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نیوی نہ صرف دفاعی محاذ پر مستعد ہے بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتی ہے۔ ایک مال بردار جہاز MV GAUTAM، جو عمان سے بھارت کی جانب رواں دواں تھا، دورانِ سفر اچانک تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر کھلے سمندر میں پھنس گیا۔ ایسے حالات میں فوری ردعمل نہ ہو تو یہ صورتحال سنگین حادثے کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔جیسے ہی جہاز کی جانب سے ہنگامی کال موصول ہوئی، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بغیر کسی تاخیر کے اپنے جہاز PMSA Ship KASHMIR کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم سے کم وقت میں متاثرہ جہاز تک رسائی حاصل کی اور صورتحال کا مکمل جائزہ لیا۔

    متاثرہ جہاز پر کل 7 افراد سوار تھے، جن میں 6 بھارتی اور ایک انڈونیشی شہری شامل تھا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران تمام افراد کو بروقت خوراک، ابتدائی طبی امداد اور ضروری تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ اس فوری امداد نے نہ صرف عملے کی جانوں کو محفوظ بنایا بلکہ ممکنہ بڑے حادثے کو بھی ٹال دیا۔پاکستان نیوی کی ٹیم نے صرف انسانی امداد تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جہاز کے ضروری نظام کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے۔ تکنیکی خرابی کو دور کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ جہاز اور اس کے عملے کی مکمل حفاظت کو یقینی بنایا گیا، جو اس آپریشن کی کامیابی کا اہم پہلو ہے۔

    یہ کامیاب ریسکیو آپریشن پاکستان کی بحری صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی ہمدردی کا واضح ثبوت ہے۔ کھلے سمندر میں اس نوعیت کے واقعات میں بروقت کارروائی نہ ہو تو انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان نیوی نے نہ صرف اس خطرے کو ختم کیا بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی عالمی ساکھ کو بھی مضبوط کیا۔اس واقعے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ امداد حاصل کرنے والے افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے، لیکن پاکستان نیوی نے کسی تفریق کے بغیر انسانیت کی بنیاد پر ان کی مدد کی۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سمندری قوانین اور انسانی اقدار کے تحت پاکستان ہر مشکل گھڑی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا ہے۔یہ ریسکیو آپریشن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت، بروقت فیصلہ سازی اور انسانی ہمدردی کا امتزاج ہی وہ خصوصیات ہیں جو پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار بحری قوت کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔

    پاکستان نیوی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ملکی سمندری حدود کی محافظ ہے بلکہ عالمی سطح پر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ایک قابلِ اعتماد ادارہ ہے۔

  • مولانا محمد ادریس پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت،افغانی نکلا

    مولانا محمد ادریس پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت،افغانی نکلا

    خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میںجمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سابق رکن صوبائی اسمبلی مولانا محمد ادریس پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت ہو گئی ہے

    پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مولانا محمد ادریس اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ حملہ آوروں نے گاڑی پر عقب سے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث چار دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت کر لی گئی ہے، جس کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق شناخت ہونے والے ملزم کی مدد سے پورے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی۔

    دوسری جانب واقعے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے تھانہ مردان میں درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کانسٹیبل شیر عالم کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کی گئی ہے، جس میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق مولانا محمد ادریس گاڑی میں دو پولیس اہلکاروں اور ڈرائیور کے ہمراہ سفر کر رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے پیچھے سے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

  • شراب پی کر ڈرائیونگ،اداکارہ کو جرم قبول کرنے پر ایک دن کی سزا

    شراب پی کر ڈرائیونگ،اداکارہ کو جرم قبول کرنے پر ایک دن کی سزا

    امریکی پاپ اسٹار برٹنی سپیئرز نے شراب و منشیات کے زیرِ اثر لاپرواہ ڈرائیونگ کا اعتراف کر لیا

    برٹنی سپیئرزنے عدالت میں شراب اور منشیات کے زیرِ اثر لاپرواہ ڈرائیونگ کے الزام میں جرم قبول کر لیا ہے۔ تاہم وہ سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئیں بلکہ ان کے وکلا نے ان کی جانب سے درخواست جمع کرائی۔عدالت کے فیصلے کے مطابق گلوکارہ کو جیل کی سزا نہیں سنائی گئی بلکہ انہیں ایک دن کی قید دی گئی، جسے ان کی گرفتاری کے دن کے طور پر شمار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں ایک سال کی پروبیشن، ڈرنک ڈرائیونگ سے متعلق تربیتی کورس اور جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔44 سالہ گلوکارہ کی پروبیشن غیر رسمی نوعیت کی ہوگی، جس کے تحت انہیں باقاعدہ طور پر پروبیشن افسر سے ملاقات کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان پر شراب اور کم از کم ایک منشیات کے زیرِ اثر گاڑی چلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ 4 مارچ کو کیلیوفورنیا میں پولیس نے انہیں تیز اور غیر محتاط ڈرائیونگ پر روکا تھا۔ گلوکارہ کو فیلڈ ٹیسٹ کے دوران متاثرہ حالت میں پایا گیا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا۔واقعے کے بعد ان کے نمائندے نے بتایا تھا کہ برٹنی سپیئرزنے رضاکارانہ طور پر بحالی مرکز (ری ہیب) میں داخلہ لے لیا تھا۔سماعت کے بعد ان کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی بھی جرم قبول کرنے پر خوش نہیں ہوتا، مگر موجودہ حالات میں یہ معاملہ ختم ہونا سب کے لیے بہتر ہے۔”دوسری جانب ڈسٹرکٹ اٹارنی کا کہنا تھا کہ گلوکارہ نے اپنے عمل کی مکمل ذمہ داری قبول کی ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی، 51 جہاز روک لئے گئے

    آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی، 51 جہاز روک لئے گئے

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحری ناکہ بندی کے دوران اب تک 51 جہازوں کو روکا جا چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ ان جہازوں کو یا تو واپس مڑنے یا قریبی بندرگاہوں کا رخ کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    امریکا نے آبنائے ہرمز میں اپنی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ "پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے ایک آپریشن بھی تیز کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی انتظامیہ کے مطابق بحری جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے "محفوظ” طریقے سے گزارنا ہے۔ تاہم گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن کی مکمل تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن گزشتہ روز شروع ہوا، تاہم اس کے خدوخال کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کی معیشت کے حوالے سے سخت بیانات دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا "میں جیتنا چاہتا ہوں، اس لیے ایران کی معیشت کو کریش کرنے کے لیے تیار ہوں۔”ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی کرنسی بے قدر ہو چکی ہے اور افراط زر 150 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکومت اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے قابل نہیں۔

    بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب بڑی بحری طاقت نہیں رہی اور وہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے کارروائیاں کر رہا ہے۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ بیک وقت مذاکرات سے انکار کر کے "کھیل کھیل رہا ہے”۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، جس کی صدر ٹرمپ نے بھی توثیق کی۔

  • پاکستان نیوی کی بروقت کارروائی، بحیرہ عرب میں پھنسے 6 بھارتیوں کو ریسکیو کر لیا

    پاکستان نیوی کی بروقت کارروائی، بحیرہ عرب میں پھنسے 6 بھارتیوں کو ریسکیو کر لیا

    پاکستان نیوی نے بحیرہ عرب میں پیش آنے والی ہنگامی صورتحال پر فوری اور مؤثر ردعمل دیتے ہوئے ایک مال بردار جہاز کے عملے کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

    جہاز MV GAUTAM عمان سے بھارت کی جانب رواں دواں تھا کہ دورانِ سفر اچانک تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر سمندر میں پھنس گیا۔ جیسے ہی جہاز کو پیش آنے والے مسئلے کی اطلاع موصول ہوئی، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے تحت کام کرنے والے بحری جہاز PMSA Ship KASHMIR کو فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ کیا گیا۔ ریسکیو ٹیم نے کم سے کم وقت میں متاثرہ جہاز تک رسائی حاصل کی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ریسکیو آپریشن کے دوران جہاز پر موجود تمام 7 افراد کو بروقت امداد فراہم کی گئی، جن میں 6 بھارتی اور ایک انڈونیشی شہری شامل تھا۔ نیوی حکام نے عملے کو خوراک، ابتدائی طبی امداد اور تکنیکی معاونت فراہم کی تاکہ ان کی جان و مال کو لاحق خطرات کو فوری طور پر کم کیا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستانی بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات کی بدولت ایک ممکنہ سمندری حادثے کو ٹال دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلے سمندر میں اس نوعیت کے واقعات میں فوری ردعمل نہ ہو تو انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں نے اس کامیاب ریسکیو آپریشن کو خطے میں پاکستان کی بحری صلاحیتوں اور ذمہ دارانہ کردار کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیوی نہ صرف ملکی سمندری حدود کا دفاع کر رہی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

  • معرکہ حق،عشرہ تشکر،پانچویں روز بھی مرکزی مسلم لیگ کی ملک بھر میں‌تقریبات جاری

    معرکہ حق،عشرہ تشکر،پانچویں روز بھی مرکزی مسلم لیگ کی ملک بھر میں‌تقریبات جاری

    معرکہ حق، عشرہ تشکر، پانچویں روز بھی مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک گیر پروگراموں کا سلسلہ جاری رہا، آل پارٹیز کانفرنسز ،اجلاسوں کے علاوہ مسلم یوتھ لیگ، مسلم اسٹوڈنٹس لیگ، علما ونگ کے زیر اہتمام بھی تقریبات کا انعقاد کیا گیا،مقررین نے خطابات میں مسلح افواج کو شاندارفتح پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ بھارتی رافیل گرا کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے تاریخ رقم کی،پاکستان نے جواب دینا شروع کیا تو چند ہی منٹوں میں مودی نے ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، پاکستان کے دفاع کے لئے مسلح افواج اور قوم یکجا ہیں،

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام عشرہ تشکر کے سلسلہ میں ملک مختلف شہروں منڈی بہاؤالدین، گجرات ،لودھراں، چنیوٹ، بہاولنگر، مظفر گڑھ میں اے پی سیز،فیصل آباد میں مسلم یوتھ لیگ کی اے پی سی، شیخوپورہ میں مسلم اسٹوڈنٹس لیگ کی تقریب، مانسہرہ میں بنیان مرصوص علماء کنونشن، چکوال،تلہ گنگ،میں بنیان مرصوص اجلاس ہوئے،لودھراں میں بنیان مرصوص ریلی نکالی گئی، آل پارٹیز کانفرنسز میں مرکزی مسلم لیگ کی میزبانی میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی،مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں حافظ عبدالرؤف، قاری محمد یعقوب شیخ ،انجینئر حارث ڈار ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلمہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک پاکستان عالم اسلام کا دفاع کرے گا، ایٹمی پاکستان کو آج دنیا فاتح پاکستان منا رہی ہے، دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہو رہے ہیں،شہدا پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جمعہ کو بنیان مرصوص خطبات جمعہ کا موضوع بنایا جائے،دفاع پاکستان کے لئے پاکستان کا بچہ بچہ مسلح افواج کے ساتھ ہے،مسلم یوتھ لیگ فیصل آباد کے زیر اہتمام آل پارٹیز یوتھ کانفرنس میں مختلف یوتھ تنظیموں کے ضلعی عہدیداران نے بھرپور شرکت کی،تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں محمد احسن تارڑ سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد، تابش قیوم صدرمسلم یوتھ لیگ تھے،مقررین نے آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام چکوال اور تلہ گنگ میں الگ الگ اجلاس برائے معرکۂ حق بنیان مرصوص کا انعقاد کیا گیا، اجلاس سے صدر مرکزی مسلم لیگ پنجاب چوہدری محمد سرور،احسان اللہ منصور و دیگر نے خطاب کیا، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے زیر اہتمام مسلم ماڈل ہائی سکول سٹی شیخوپورہ میں عشرہ تشکر معرکہ حق کے سلسلے میں پروگرام سے حبیب خان، حافظ احمد کمبوہ و دیگر نے خطاب کیا، مانسہرہ میں مرکزی مسلم لیگ کے علماء کنونشن میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے بھرپور شرکت کی،مرکزی مسلم لیگ ضلع وزیرآباد کے زیر اہتمام معرکہ حق بنیان مرصوص کے سلسلہ میں مختلف سکولوں میں اظہار تشکر کے پروگرامز کیے گئے،لودھراں میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام بنیان مرصوص ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، ریلی کی قیادت جنرل سیکرٹری لودھراں صفی اللہ کمبوہ نے کی.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیرِاہتمام “معرکۂ حق و عشرۂ فتح مبین” کے سلسلے میں آل پارٹیز پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور صحافی برادری نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب میں چیئرمین رابطہ علماء و مشائخ و اتحاد امت پاکستان قاری محمد یعقوب شیخ، صدر جنوبی پنجاب سردار اجمل چانڈیہ، حاجی بلال (پاکیزہ ہوٹل)، امیر جے یو آئی (ف) قاری جمال عبدالناصر، امیر جماعت غرباء اہلحدیث مولانا عبدالسلام انصاری، جنرل سیکرٹری ڈیرہ غازی خان حافظ منور گجر، سماجی رہنما سہراب خان، صدر جمعیت علماء اسلام علامہ عبدالغفور سیفی، سینئر صحافی مظہر علی لاشاری، صدر کرسچن کمیونٹی سلیم الیاس مسیح سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔قاری محمد یعقوب شیخ نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور امتِ مسلمہ کا مضبوط قلعہ ہے، دشمن قوتیں ملک میں فرقہ واریت اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کرتی رہی ہیں مگر قوم کی بصیرت اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کے باعث ہر سازش ناکام ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج بھی سیسہ پلائی دیوار کی طرح قائم ہے اور تمام مکاتبِ فکر متحد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چارسدہ میں مسلح افراد کے حملے میں شیخ محمد ادریس ترنگزئی پر فائرنگ کا واقعہ نہایت قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے اور علماء کرام کو مؤثر سکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کا سدباب ہو سکے۔

  • بڑھتے ایڈز کیسز ، وزیراعظم کی ہدایت پر ٹاسک فورس قائم

    بڑھتے ایڈز کیسز ، وزیراعظم کی ہدایت پر ٹاسک فورس قائم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ایچ آئی وی/ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز کی روک تھام کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔ اس ٹاسک فورس میں ملک بھر سے نامور ماہرین صحت کو شامل کیا گیا ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کو کمیٹی کا کنوینئر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس کل دوپہر 3 بجے وزارت صحت میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں میجر جنرل (ر) اظہر محمود دکیانی، ڈاکٹر ظفر مرزا، دائود محمد بریچ، لئیق احمد، ڈاکٹر سائرہ افضل، ڈاکٹر صوبیہ قاضی اور ڈاکٹر عبید اللہ کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد ملک میں ایڈز کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لینا، پیش رفت کا تعین کرنا اور موجودہ خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔

    اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران مختلف مراکز میں 3 لاکھ 74 ہزار 126 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 14 ہزار 182 کیسز مثبت رپورٹ ہوئے۔ اس وقت ملک بھر میں رجسٹرڈ ایچ آئی وی/ایڈز کیسز کی مجموعی تعداد 84 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔مزید برآں، سال 2020 میں ملک بھر کے 49 سینٹرز میں 37 ہزار 944 شہریوں کی اسکریننگ کی گئی تھی، جن میں سے 6 ہزار 910 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر فوری اور مربوط اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں.

  • ٹیکس مقدمات بارے بنائی گئی ٹاسک فورس کی رپورٹ وزیراعظم کوپیش

    ٹیکس مقدمات بارے بنائی گئی ٹاسک فورس کی رپورٹ وزیراعظم کوپیش

    وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کی. اجلاس کو ٹیکس مقدمات کے حوالے سے بنائی گئی ٹاسک فورس کی رپورٹ پیش کی گئی.

    اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ الحمدللہ ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن اور جاری اصلاحات کے بہتر نتائج آرہے ہیں. وزیراعظم نے ٹاسک فورس کے سربراہ شاد محمد خان اور دیگر ممبران کیلئے محنت اور جانفشانی سے رپورٹ مرتب کرنے پر تحسین کا اظہار کیا. وزیراعظم نے ٹاسک فورس کی طرف سے پیش کردہ ایکشن پلان کی منظوری دے دی.وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایکشن پلان کو ٹائم لائنز کے ساتھ پیش کیا جائے. ٹیکس تنازعات کے جلد حل کے لیے اے ڈی ار (Alternate Dispute Resolution) کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے.وزیرِ اعظم نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو گا اور ٹیکس مقدمات کا فیصلہ جلد ہو گا. انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ میں مجوزہ سی ایل ایم ایس (Centralized Litigation Management System) کو جلد از جلد قائم کیا جائے. ایف بی آر کے قانونی ونگ میں ضرورت کے مطابق بہترین افرادی قوت کی خدمات لی جائیں. افرادی قوت کی خدمات کے حصول میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔

    اجلاس میں ٹاسک فورس نے 6 اصلاحات پر مبنی ایکشن پلان پیش کیا۔ پلان میں کیس سکروٹنی کمیٹیوں کی تشکیل، سی ایل ایم ایس، کمشنرز سمیت تمام افسران کی کارکردگی کی رپورٹس کا مقدمات کے نتائج سے منسلک کیا جانا اور دیگر اصلاحات شامل ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ٹیکس تنازعات کے ڈیٹا کو منظم کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ سی ایل ایم ایس کا ڈیجیٹل نظام بنایا جائے گا. نئے نظام سے ٹیکس مقدمات اور تنازعات کی درست رپورٹنگ ممکن ہو گی جس سے ان مقدمات کی بروقت پیروی ہو سکے گی. رواں برس اے ڈی آر کے فورم سے اب تک ٹیکس تنازعات کے فیصلوں سے قومی خزانے میں 24 ارب روپے وصول ہو چکے ہیں.

    اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، شاد محمد خان سمیت ٹاسک فورس کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • گلگت،نگران کابینہ اجلاس،معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر افواج کو خراج تحسین

    گلگت،نگران کابینہ اجلاس،معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر افواج کو خراج تحسین

    نگران گلگت بلتستان کابینہ کے اہم اجلاس میں آنے والے عام انتخابات، انتظامی امور اور گورننس سے متعلق معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا،

    نگران کابینہ اجلاس میں "معرکہ حق” کے ایک سال مکمل ہونے پر پاک افواج کو خراج تحسین پیش کیا گیا، جنہوں نے بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ایجنڈے کے تحت سابقہ کابینہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ مختلف محکموں کی کارکردگی کا بغور معائنہ کیا گیا اور پیش رفت رپورٹس پیش کی گئیں۔ نگران وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زیر التواء فیصلوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ حکومتی کارکردگی میں بہتری اور عوامی خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی سستی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ نگران وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور انتخابی عمل کو ہر لحاظ سے غیر جانبدار بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت قانون کی بالادستی، میرٹ اور شفافیت پر مکمل یقین رکھتی ہے اور عوامی اعتماد کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت گلگت بلتستان میں پرامن، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور ایک مضبوط، شفاف اور جوابدہ نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔