وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کی. اجلاس کو ٹیکس مقدمات کے حوالے سے بنائی گئی ٹاسک فورس کی رپورٹ پیش کی گئی.
اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ الحمدللہ ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن اور جاری اصلاحات کے بہتر نتائج آرہے ہیں. وزیراعظم نے ٹاسک فورس کے سربراہ شاد محمد خان اور دیگر ممبران کیلئے محنت اور جانفشانی سے رپورٹ مرتب کرنے پر تحسین کا اظہار کیا. وزیراعظم نے ٹاسک فورس کی طرف سے پیش کردہ ایکشن پلان کی منظوری دے دی.وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایکشن پلان کو ٹائم لائنز کے ساتھ پیش کیا جائے. ٹیکس تنازعات کے جلد حل کے لیے اے ڈی ار (Alternate Dispute Resolution) کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے.وزیرِ اعظم نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو گا اور ٹیکس مقدمات کا فیصلہ جلد ہو گا. انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ میں مجوزہ سی ایل ایم ایس (Centralized Litigation Management System) کو جلد از جلد قائم کیا جائے. ایف بی آر کے قانونی ونگ میں ضرورت کے مطابق بہترین افرادی قوت کی خدمات لی جائیں. افرادی قوت کی خدمات کے حصول میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں ٹاسک فورس نے 6 اصلاحات پر مبنی ایکشن پلان پیش کیا۔ پلان میں کیس سکروٹنی کمیٹیوں کی تشکیل، سی ایل ایم ایس، کمشنرز سمیت تمام افسران کی کارکردگی کی رپورٹس کا مقدمات کے نتائج سے منسلک کیا جانا اور دیگر اصلاحات شامل ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ٹیکس تنازعات کے ڈیٹا کو منظم کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ سی ایل ایم ایس کا ڈیجیٹل نظام بنایا جائے گا. نئے نظام سے ٹیکس مقدمات اور تنازعات کی درست رپورٹنگ ممکن ہو گی جس سے ان مقدمات کی بروقت پیروی ہو سکے گی. رواں برس اے ڈی آر کے فورم سے اب تک ٹیکس تنازعات کے فیصلوں سے قومی خزانے میں 24 ارب روپے وصول ہو چکے ہیں.
اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، شاد محمد خان سمیت ٹاسک فورس کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
