وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ایچ آئی وی/ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز کی روک تھام کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔ اس ٹاسک فورس میں ملک بھر سے نامور ماہرین صحت کو شامل کیا گیا ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کو کمیٹی کا کنوینئر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس کل دوپہر 3 بجے وزارت صحت میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں میجر جنرل (ر) اظہر محمود دکیانی، ڈاکٹر ظفر مرزا، دائود محمد بریچ، لئیق احمد، ڈاکٹر سائرہ افضل، ڈاکٹر صوبیہ قاضی اور ڈاکٹر عبید اللہ کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد ملک میں ایڈز کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لینا، پیش رفت کا تعین کرنا اور موجودہ خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران مختلف مراکز میں 3 لاکھ 74 ہزار 126 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 14 ہزار 182 کیسز مثبت رپورٹ ہوئے۔ اس وقت ملک بھر میں رجسٹرڈ ایچ آئی وی/ایڈز کیسز کی مجموعی تعداد 84 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔مزید برآں، سال 2020 میں ملک بھر کے 49 سینٹرز میں 37 ہزار 944 شہریوں کی اسکریننگ کی گئی تھی، جن میں سے 6 ہزار 910 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر فوری اور مربوط اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں.
