Baaghi TV

Blog

  • موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابل تحسین ہے،شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابل تحسین ہے،شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان نے جس ذمہ داری، دانشمندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین اور ناقابلِ فراموش ہے

    ممتاز تجزیہ شہزاد قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ سے لے کر یورپ، مڈل ایسٹ اور دیگر عالمی خطوں تک پاکستان کا مثبت امیج بہتر بنانے میں ہماری عسکری قیادت، بالخصوص آرمی چیف، اور ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ سویلین حکومت، وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ نے نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دی ہے، اور حالیہ حالات میں بھی یہی پالیسی دنیا کے سامنے واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ اگر آج دنیا ایک بڑے تصادم سے محفوظ ہے اور کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے تو اس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ذمہ دارانہ کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    شہزاد قریشی کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بھارت مسلسل پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے، جو دراصل اس کی بوکھلاہٹ اور ناکامی کا ثبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری اب پاکستان کے امن پسند کردار کو تسلیم کر رہی ہے، اور بے بنیاد الزامات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حقیقت کو تسلیم کرے، خطے میں امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرے اور پاکستان کے خلاف منفی مہم بند کرے۔ پاکستان ایک ذمہ دار، پرامن اور باوقار ریاست ہے، اور اس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عزت اور مقام اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات کا محافظ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب ،اہم سرغنہ کے ہوشربا انکشافات

    طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب ،اہم سرغنہ کے ہوشربا انکشافات

    گرفتار خارجی دہشتگرد نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب کردیا، سرغنہ فتنہ الخوارج کا کہنا ہے کہ پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کی وجہ سے شامل ہوا۔

    سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر نے اعتراف جرم کرلیا، کہا کہ افغان صوبہ پکتیکا میں فتنہ الخوارج کے مرکز میں دہشتگردی کی تربیت حاصل کی، افغانستان میں فتنہ الخوارج کے مراکز کو افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ داعش، القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ بھی ہمارے قریبی روابط تھے، ہمیں افغانستان اور را کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی تھی، میری تشکیل میں 20 سے زائد خارجی دہشتگردوں میں افغان شہری بھی شامل تھے، بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا۔خارجی عامر سہیل نے بتایا کہ مجھے پشاور میں علاج کی غرض سے آنے کے دوران گرفتار کیا گیا، فتنہ الخوارج کا اسلام اور جہاد سے کوئی تعلق نہیں، فتنہ الخوارج صرف پیسے کیلئے پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہیں۔

    عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے، پاکستان میں دہشتگردی کیلئے طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کے شواہد موجود ہیں۔

  • مودی سرکار کی نام نہاد خارجہ پالیسی ناکام،امریکا کا پابندیوں میں رعایت ختم کرنے کا اعلان

    مودی سرکار کی نام نہاد خارجہ پالیسی ناکام،امریکا کا پابندیوں میں رعایت ختم کرنے کا اعلان

    بھارت کی نام نہاد خارجہ پالیسی ناکام، امریکا نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کیلئے دی گئی پابندیوں میں رعایت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کا عوامی مفادات پسِ پشت ڈال کر امریکی دباؤ قبول کرنا بھی بے کار ثابت ہوا اور روسی تیل سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی سے اب بھارت کو توانائی کے شعبے میں نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق روسی تیل کی خریداری پر امریکا کی رعایت نے بھارت کو تیل سپلائی میں خلل کے باوجود اضافی ذخائر حاصل کرنے کا موقع دیا تھا اور بھارتی ریفائنریوں نے تقریباً 3 کروڑ بیرل روسی تیل کے آرڈرز دے رکھے ہیں مگر اب اچانک امریکی وزیر خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کے مخصوص مدت تک کیے گئے معاہدے اپنی میعاد پوری کر چکے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اب بھارت کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے متبادل حکمت عملی اپنانا پڑے گی اور عالمی منڈی میں تیل کی صورتحال بھی اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

  • امن کی کوششیں،سکھ یاتریوں کا پاکستان کے کردار کو خراج تحسین

    امن کی کوششیں،سکھ یاتریوں کا پاکستان کے کردار کو خراج تحسین

    بیساکھی کی خوشیوں کے موقع پر دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں، خصوصاً بھارت سے آنے والے زائرین نے پاکستان کا رخ کیا۔

    یہ یاتری گوردوارہ پنجہ صاحب ، ننکانہ صاحب اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آئے، جہاں انہوں نے مذہبی رسومات ادا کیں اور روحانی سکون حاصل کیا۔،پاکستان کی جانب سے کیے گئے بہترین انتظامات، سیکیورٹی اور مہمان نوازی نے یاتریوں کے دل جیت لیے۔ یاتریوں نے کھلے دل سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا،ایک سکھ یاتری نے کہا، “ہم پاکستان حکومت کے بے حد مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیں اتنی عزت دی، یہاں آ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ہی گھر میں ہوں۔” ایک اور یاتری نے کہا، “یہاں کے لوگ بہت محبت کرنے والے ہیں، ہمیں ہر جگہ عزت اور سہولت ملی، ہم اس مہمان نوازی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔”

    عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے یاتریوں نےامریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔ ایک یاتری کے الفاظ تھے، “ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے جو کوشش کی وہ قابلِ تعریف ہے، ہم اس پر دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، محبت اور امن ہی اصل راستہ ہے۔” کچھ یاتریوں نے زور دیا کہ دنیا کو نفرت کے بجائے بھائی چارے کی ضرورت ہے۔ایک بزرگ یاتری نے کہا “اگر دنیا امن سے رہے گی تو سب خوشحال ہوں گے، ہمیں لڑائی نہیں بلکہ محبت کو فروغ دینا چاہیے،”

    سکھ یاتریوں نے پاکستان کے کردار کو عالمی امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔ ان کے مطابق، پاکستان نے نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا بلکہ دنیا کو امن، رواداری اور بھائی چارے کا ایک خوبصورت پیغام بھی دیا،

    دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں، خصوصاً بھارت سے آنے والے تقریباً 2,800 سے زائد زائرین نے پاکستان کا رخ کیا،سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2,800 سے 2,843 تک ویزے جاری کیے جبکہ پہلے قافلے میں تقریباً 2,238 یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے۔

  • افغانستان میں امن دشمن گروہوں کی موجودگی سےمتعلق پاکستانی مؤقف کی تائید

    افغانستان میں امن دشمن گروہوں کی موجودگی سےمتعلق پاکستانی مؤقف کی تائید

    طالبان رجیم میں افغانستان میں امن دشمن تنظیمیں سرگرم، پڑوسی ممالک کے امن کوشدیدخطرات لاحق ہوگئے۔

    افغان طالبان رجیم اپنےغیرقانونی اورغیرآئینی اقتدارکوطول دینےکیلئے امن دشمن تنظیموں کو پناہ اوروسائل فراہم کررہی ہے۔معروف عالمی جریدہ نےافغانستان میں فتنہ الخوارج سمیت دیگر امن دشمن گروہوں کی موجودگی سےمتعلق پاکستانی مؤقف کی تائید کردی۔ یورپی جریدہ ماڈرن ڈپلومیسی کے مطابق افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان کی سلامتی کیلئےواضح خطرہ ہے۔جریدے نے رپورٹ کیا ہے کہ فتنہ الخوارج کے امن دشمن مشرقی افغانستان بالخصوص پاک افغان سرحدی صوبوں کنڑاورننگرہارمیں موجود ہیں۔ افغانستان میں فتنہ الخوارج اورالقاعدہ جیسی20سےزائدبین الاقوامی اورعلاقائی امن دشمن تنظیمیں سرگرم ہیں۔ اگست2021میں طالبان کے قبضےکےبعدافغانستان میں مسلح گروہوں کوسہولت کاری فراہم کی جارہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق فتنہ الخوارج سمیت علاقائی اوربین الاقوامی امن دشمن تنظیمیں افغانستان کوکارروائیوں کیلئےمحفوظ بیس کیمپ کےطورپراستعمال کررہی ہیں۔ امن دشمنوں کی پشت پناہی، انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کےباعث افغان طالبان رجیم عالمی تنہائی کاشکارہے

  • بشریٰ بی بی کی اسپتال منتقلی کی اطلاعات، بیرسٹر گوہر کا ملاقات،علاج کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کی اسپتال منتقلی کی اطلاعات، بیرسٹر گوہر کا ملاقات،علاج کا مطالبہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ بشریٰ بی بی کو رات کے وقت اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اہلِ خانہ کو فوری طور پر بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کو بھی علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے، کیونکہ ان کی صحت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے بھی ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات کرائی جائے، کیونکہ علاج اور اہلِ خانہ سے رابطہ ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بھی بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر پنجاب حکومت کی خاموشی افسوس ناک ہے۔شفیع جان نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے میں مسلسل غفلت برت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو بنیادی طبی سہولتوں سے محروم رکھنا آئین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور سزا مکمل کر رہے ہیں،

  • SMASH میزائل ٹیسٹ: جنوبی ایشیا کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشی

    SMASH میزائل ٹیسٹ: جنوبی ایشیا کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشی

    میجر (ر) ہارون رشید — دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان کی جانب سے حال ہی میں اپنے مقامی طور پر تیار کردہ SMASH میزائل کا بحری پلیٹ فارم سے کامیاب تجربہ ملکی دفاعی صلاحیتوں میں ایک نمایاں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی رفتار اور حدِ مار سے متعلق سرکاری تفصیلات محدود ہیں، تاہم دستیاب اشارے بتاتے ہیں کہ یہ نظام ایک جدید اور زیادہ مؤثر ورژن ہے—جسے غیر رسمی طور پر SMASH-II کہا جا رہا ہے—جو ممکنہ طور پر میخ 10 سے زیادہ رفتار (ہائپر سونک) اور 400 کلومیٹر سے زائد رینج کا حامل ہو سکتا ہے۔

    یہ پیش رفت کوئی الگ تھلگ کامیابی نہیں بلکہ دفاعی جدیدکاری کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔ SMASH میزائل کے تجربے کی اصل اہمیت اس کی بحری تعیناتی میں ہے، جو ایسے وقت میں پاکستان کی بحری ڈیٹرنس کو مضبوط بناتی ہے جب جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک ماحول مزید پیچیدہ اور مسابقتی ہوتا جا رہا ہے۔

    اس تجربے کا ایک اہم پہلو پاکستان کی سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت اور مجموعی ڈیٹرنس پوزیشن میں اضافہ ہے۔ اس سے قبل آبدوز سے داغے جانے والے ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز کے تجربات ایک قابلِ اعتبار سمندری ڈیٹرنس کی جانب پیش رفت کا عندیہ دے چکے ہیں۔ SMASH جیسے جدید میزائل سسٹمز کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کرنا اس صلاحیت کو مزید تقویت دیتا ہے، جو مستقبل میں روایتی اور ممکنہ طور پر ٹیکٹیکل ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی فراہم کر سکتا ہے۔

    اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے پاکستان بتدریج ایک ایسے “ٹرائیڈ نما ڈیٹرنس فریم ورک” کو مستحکم کر رہا ہے جو فضاء، زمین اور سمندر تینوں جہتوں پر محیط ہے۔ اگرچہ یہ بڑی طاقتوں کے روایتی نیوکلیئر ٹرائیڈ جیسا مکمل نظام نہیں، تاہم یہ کثیر جہتی ڈیٹرنس بقا، متبادل صلاحیت اور فوری ردعمل کی لچک میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

    جنوبی ایشیا کے تناظر میں، جہاں سلامتی کے معاملات دیرینہ رقابتوں—خصوصاً بھارت کے ساتھ—سے متاثر ہوتے ہیں، ایسی پیش رفت کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ SMASH میزائل کی بحری جہازوں سے تعیناتی دشمن کی منصوبہ بندی میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کرتی ہے۔ یہ عملی طور پر جنگی میدان کو سمندری حدود تک پھیلا دیتی ہے اور مخالف کو سمندر سے آنے والے تیز رفتار اور طویل فاصلے کے خطرات کو مدنظر رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

    یہ پیش رفت خاص طور پر بھارت کی بڑھتی ہوئی بحری قوت اور بحرِ ہند میں اس کے اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے تناظر میں اہم ہے۔ پاکستانی بحری اثاثوں پر جدید میزائل سسٹمز کی موجودگی ایک مؤثر جوابی حکمتِ عملی کے طور پر کام کرتی ہے، جو “ڈیٹرنس بائی ڈینائل” کو مضبوط بناتی ہے۔ اس سے کسی بھی ممکنہ سمندری مداخلت کی لاگت اور خطرہ بڑھ جاتا ہے، یوں باہمی کمزوری کے اصول کے تحت اسٹریٹجک استحکام کو تقویت ملتی ہے۔

    تاہم، اس طرح کی پیش رفت خطے میں جاری اسلحہ جاتی مقابلے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے جیسے پاکستان اور بھارت اپنے عسکری نظام—بشمول میزائل، بحری پلیٹ فارمز اور نگرانی کی ٹیکنالوجیز—کو جدید بنا رہے ہیں، غلط اندازے یا غلط فہمی کے خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال میں اعتماد سازی کے اقدامات، مؤثر مواصلاتی ذرائع اور اسٹریٹجک تحمل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

    آخر میں، SMASH میزائل کا تجربہ محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ کثیر جہتی میدانوں میں ایک قابلِ اعتماد اور لچکدار ڈیٹرنس برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ جہاں قومی دفاع کو مضبوط بناتا ہے اور اسٹریٹجک توازن کو بہتر کرتا ہے، وہیں جنوبی ایشیا میں عسکری مسابقت کی بدلتی نوعیت کو بھی اجاگر کرتا ہے—جہاں ایک شعبے میں پیش رفت پورے خطے کے سکیورٹی توازن کو متاثر کرتی ہے

  • بھارتی گودی میڈیا اپنے ہی حلقوں میں تنقید کی زد میں، جھوٹ،پروپیگنڈے پر سوالات

    بھارتی گودی میڈیا اپنے ہی حلقوں میں تنقید کی زد میں، جھوٹ،پروپیگنڈے پر سوالات

    بھارت کے نام نہاد مین اسٹریم میڈیا، جسے "گودی میڈیا” کہا جاتا ہے، ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ اس بار تنقید بھارتی صحافتی اور عوامی حلقوں کی جانب سے سامنے آئی ہے، جہاں متعدد اینکرز، تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی میڈیا پر جھوٹ، تعصب، نفرت انگیزی اور حکومت نواز بیانیے کو بے نقاب کیا ہے

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک بھارتی اینکر نے کھل کر کہا کہ ملک کو جتنا نقصان گودی میڈیا نے پہنچایا ہے، اتنا شاید کسی دشمن نے بھی نہیں پہنچایا۔ اینکر کے مطابق بھارت کا اصل دشمن پاکستان نہیں بلکہ وہ میڈیا ہے جو مسلسل جھوٹ، اشتعال انگیزی اور من گھڑت خبروں کے ذریعے ملک کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ "آپریشن سندور” کے دوران بھارتی میڈیا نے غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی، جھوٹی خبریں چلائیں، کراچی پر فرضی حملوں کی خبریں نشر کیں، یہاں تک کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی گرفتاری جیسے بے بنیاد دعوے بھی کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی رپورٹنگ نہ صرف صحافت کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے بھارت کی سنجیدہ ریاستی شبیہ بھی متاثر ہوتی ہے۔اینکر نے مزید کہا کہ ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے دوران بھی بھارتی میڈیا نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق یوٹیوب پلیٹ فارمز سے لے کر ٹی وی چینلز تک نفرت اور زہر آلود بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔ ایران کے خلاف تضحیک آمیز گفتگو اور جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس پر بھارتی عوام کے ایک طبقے نے بھی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ویڈیو میں اینکر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، حتیٰ کہ اسرائیل کے کئی قریبی اتحادی بھی کھل کر اس کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آ رہے، مگر بھارتی میڈیا میں ایسے تبصرے سننے کو مل رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل بھارت کا بھائی ہے اور مزید بمباری ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق عورتوں، بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکت پر دنیا بھر میں مذمت ہو رہی ہے، لیکن بھارتی میڈیا میں بعض آوازیں اسے جشن کے انداز میں پیش کر رہی ہیں۔ اگر بھارتی میڈیا ہندی زبان میں بھی بولتا ہے تو دنیا اس کا مفہوم سمجھ لیتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کی شبیہ متاثر ہو رہی ہے۔ صحافت کا مقصد سچ دکھانا ہوتا ہے، نہ کہ جنگی جنون اور نفرت کو ہوا دینا۔

    ایک خاتون اینکر نے بھی ویڈیو پیغام میں کہا کہ بھارتی سرکاری و گودی میڈیا بھارت کو دنیا بھر میں شرمندہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی وزیراعظم مودی کے بارے میں دیے گئے بیانات پوری دنیا نے سنے، مگر بھارتی میڈیا نے ان معاملات کو بھی سنجیدگی سے پیش کرنے کے بجائے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔آپریشن سندور کے دوران ٹرمپ نے متعدد بار بھارت کا ذکر کیااور جہاز گرنے کا بتایا

    بھارتی میڈیا درحقیقت آزاد صحافت کے بجائے حکومتی بیانیے کو آگے بڑھانے، اپوزیشن کو دبانے، ہمسایہ ممالک کے خلاف اشتعال پیدا کرنے اور داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اگر گودی میڈیا سچائی، توازن اور ذمہ داری کے راستے پر واپس نہ آیا تو بھارت کی عالمی ساکھ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

  • سرمایہ کاری گئی،ٹرمپ نے بھارت کو "آؤٹ” کرکے پاکستان کو چن لیا،سابق امریکی سفیر

    سرمایہ کاری گئی،ٹرمپ نے بھارت کو "آؤٹ” کرکے پاکستان کو چن لیا،سابق امریکی سفیر

    امریکا کے سابق سفیر اور سینئر ڈیموکریٹ رہنما راحم ایمانوئل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے برسوں کی محنت سے قائم ہونے والے بھارت کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صحافی ششانک مٹو کی جانب سے شیئر کیے گئے بیان میں رحم ایمانوئل کے حوالے سے کہا گیا کہ چار امریکی صدور نے بھارت کو امریکا کے قریب لانے کے لیے برسوں کام کیا، مگر ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں یہ تعلقات شدید دھچکے کا شکار ہوئے،ٹرمپ دور میں اب بھارت کو مکمل مسترد کر دیا گیا ہے،ہم نے پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں چن لیا ہے،

    ماہرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی کروا رہا ہے،خود کو ایشیا کا ٹھیکیدار سمجھنے والا بھارت اب کہیں بھی نظر نہیں آ رہا، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں، نائب امریکی صدر نے پاکستان کا دورہ کیا اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول وہ بھی اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں

  • پاکستان آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی چاہتا ہے،افتخار احمد

    پاکستان آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی چاہتا ہے،افتخار احمد

    نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال پر پاکستان اپنا مؤقف سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر متعدد بار واضح کر چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تنازع کبھی رونما نہیں ہونا چاہیے تھا۔

    اپنے بیان میں مستقل مندوب نے کہا کہ جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے دیگر حصوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ابتدا ہی سے کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی ہے۔عاصم افتخار احمد نے کہا کہ موجودہ بحران کا پُرامن اور دیرپا حل صرف مذاکرات اور سفارتی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنگ کے بجائے مکالمے، تحمل اور سیاسی راستہ اختیار کرے۔پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی سرحدی سلامتی اور خودمختاری کا احترام عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان توانائی کی عالمی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی چاہتا ہے تاکہ عالمی معیشت پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔