Baaghi TV

Blog

  • SMASH میزائل ٹیسٹ: جنوبی ایشیا کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشی

    SMASH میزائل ٹیسٹ: جنوبی ایشیا کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشی

    میجر (ر) ہارون رشید — دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان کی جانب سے حال ہی میں اپنے مقامی طور پر تیار کردہ SMASH میزائل کا بحری پلیٹ فارم سے کامیاب تجربہ ملکی دفاعی صلاحیتوں میں ایک نمایاں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی رفتار اور حدِ مار سے متعلق سرکاری تفصیلات محدود ہیں، تاہم دستیاب اشارے بتاتے ہیں کہ یہ نظام ایک جدید اور زیادہ مؤثر ورژن ہے—جسے غیر رسمی طور پر SMASH-II کہا جا رہا ہے—جو ممکنہ طور پر میخ 10 سے زیادہ رفتار (ہائپر سونک) اور 400 کلومیٹر سے زائد رینج کا حامل ہو سکتا ہے۔

    یہ پیش رفت کوئی الگ تھلگ کامیابی نہیں بلکہ دفاعی جدیدکاری کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔ SMASH میزائل کے تجربے کی اصل اہمیت اس کی بحری تعیناتی میں ہے، جو ایسے وقت میں پاکستان کی بحری ڈیٹرنس کو مضبوط بناتی ہے جب جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک ماحول مزید پیچیدہ اور مسابقتی ہوتا جا رہا ہے۔

    اس تجربے کا ایک اہم پہلو پاکستان کی سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت اور مجموعی ڈیٹرنس پوزیشن میں اضافہ ہے۔ اس سے قبل آبدوز سے داغے جانے والے ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز کے تجربات ایک قابلِ اعتبار سمندری ڈیٹرنس کی جانب پیش رفت کا عندیہ دے چکے ہیں۔ SMASH جیسے جدید میزائل سسٹمز کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کرنا اس صلاحیت کو مزید تقویت دیتا ہے، جو مستقبل میں روایتی اور ممکنہ طور پر ٹیکٹیکل ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی فراہم کر سکتا ہے۔

    اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے پاکستان بتدریج ایک ایسے “ٹرائیڈ نما ڈیٹرنس فریم ورک” کو مستحکم کر رہا ہے جو فضاء، زمین اور سمندر تینوں جہتوں پر محیط ہے۔ اگرچہ یہ بڑی طاقتوں کے روایتی نیوکلیئر ٹرائیڈ جیسا مکمل نظام نہیں، تاہم یہ کثیر جہتی ڈیٹرنس بقا، متبادل صلاحیت اور فوری ردعمل کی لچک میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

    جنوبی ایشیا کے تناظر میں، جہاں سلامتی کے معاملات دیرینہ رقابتوں—خصوصاً بھارت کے ساتھ—سے متاثر ہوتے ہیں، ایسی پیش رفت کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ SMASH میزائل کی بحری جہازوں سے تعیناتی دشمن کی منصوبہ بندی میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کرتی ہے۔ یہ عملی طور پر جنگی میدان کو سمندری حدود تک پھیلا دیتی ہے اور مخالف کو سمندر سے آنے والے تیز رفتار اور طویل فاصلے کے خطرات کو مدنظر رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

    یہ پیش رفت خاص طور پر بھارت کی بڑھتی ہوئی بحری قوت اور بحرِ ہند میں اس کے اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے تناظر میں اہم ہے۔ پاکستانی بحری اثاثوں پر جدید میزائل سسٹمز کی موجودگی ایک مؤثر جوابی حکمتِ عملی کے طور پر کام کرتی ہے، جو “ڈیٹرنس بائی ڈینائل” کو مضبوط بناتی ہے۔ اس سے کسی بھی ممکنہ سمندری مداخلت کی لاگت اور خطرہ بڑھ جاتا ہے، یوں باہمی کمزوری کے اصول کے تحت اسٹریٹجک استحکام کو تقویت ملتی ہے۔

    تاہم، اس طرح کی پیش رفت خطے میں جاری اسلحہ جاتی مقابلے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے جیسے پاکستان اور بھارت اپنے عسکری نظام—بشمول میزائل، بحری پلیٹ فارمز اور نگرانی کی ٹیکنالوجیز—کو جدید بنا رہے ہیں، غلط اندازے یا غلط فہمی کے خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال میں اعتماد سازی کے اقدامات، مؤثر مواصلاتی ذرائع اور اسٹریٹجک تحمل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

    آخر میں، SMASH میزائل کا تجربہ محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ کثیر جہتی میدانوں میں ایک قابلِ اعتماد اور لچکدار ڈیٹرنس برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ جہاں قومی دفاع کو مضبوط بناتا ہے اور اسٹریٹجک توازن کو بہتر کرتا ہے، وہیں جنوبی ایشیا میں عسکری مسابقت کی بدلتی نوعیت کو بھی اجاگر کرتا ہے—جہاں ایک شعبے میں پیش رفت پورے خطے کے سکیورٹی توازن کو متاثر کرتی ہے

  • بھارتی گودی میڈیا اپنے ہی حلقوں میں تنقید کی زد میں، جھوٹ،پروپیگنڈے پر سوالات

    بھارتی گودی میڈیا اپنے ہی حلقوں میں تنقید کی زد میں، جھوٹ،پروپیگنڈے پر سوالات

    بھارت کے نام نہاد مین اسٹریم میڈیا، جسے "گودی میڈیا” کہا جاتا ہے، ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ اس بار تنقید بھارتی صحافتی اور عوامی حلقوں کی جانب سے سامنے آئی ہے، جہاں متعدد اینکرز، تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی میڈیا پر جھوٹ، تعصب، نفرت انگیزی اور حکومت نواز بیانیے کو بے نقاب کیا ہے

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک بھارتی اینکر نے کھل کر کہا کہ ملک کو جتنا نقصان گودی میڈیا نے پہنچایا ہے، اتنا شاید کسی دشمن نے بھی نہیں پہنچایا۔ اینکر کے مطابق بھارت کا اصل دشمن پاکستان نہیں بلکہ وہ میڈیا ہے جو مسلسل جھوٹ، اشتعال انگیزی اور من گھڑت خبروں کے ذریعے ملک کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ "آپریشن سندور” کے دوران بھارتی میڈیا نے غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی، جھوٹی خبریں چلائیں، کراچی پر فرضی حملوں کی خبریں نشر کیں، یہاں تک کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی گرفتاری جیسے بے بنیاد دعوے بھی کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی رپورٹنگ نہ صرف صحافت کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے بھارت کی سنجیدہ ریاستی شبیہ بھی متاثر ہوتی ہے۔اینکر نے مزید کہا کہ ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے دوران بھی بھارتی میڈیا نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق یوٹیوب پلیٹ فارمز سے لے کر ٹی وی چینلز تک نفرت اور زہر آلود بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔ ایران کے خلاف تضحیک آمیز گفتگو اور جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس پر بھارتی عوام کے ایک طبقے نے بھی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ویڈیو میں اینکر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، حتیٰ کہ اسرائیل کے کئی قریبی اتحادی بھی کھل کر اس کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آ رہے، مگر بھارتی میڈیا میں ایسے تبصرے سننے کو مل رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل بھارت کا بھائی ہے اور مزید بمباری ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق عورتوں، بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکت پر دنیا بھر میں مذمت ہو رہی ہے، لیکن بھارتی میڈیا میں بعض آوازیں اسے جشن کے انداز میں پیش کر رہی ہیں۔ اگر بھارتی میڈیا ہندی زبان میں بھی بولتا ہے تو دنیا اس کا مفہوم سمجھ لیتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کی شبیہ متاثر ہو رہی ہے۔ صحافت کا مقصد سچ دکھانا ہوتا ہے، نہ کہ جنگی جنون اور نفرت کو ہوا دینا۔

    ایک خاتون اینکر نے بھی ویڈیو پیغام میں کہا کہ بھارتی سرکاری و گودی میڈیا بھارت کو دنیا بھر میں شرمندہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی وزیراعظم مودی کے بارے میں دیے گئے بیانات پوری دنیا نے سنے، مگر بھارتی میڈیا نے ان معاملات کو بھی سنجیدگی سے پیش کرنے کے بجائے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔آپریشن سندور کے دوران ٹرمپ نے متعدد بار بھارت کا ذکر کیااور جہاز گرنے کا بتایا

    بھارتی میڈیا درحقیقت آزاد صحافت کے بجائے حکومتی بیانیے کو آگے بڑھانے، اپوزیشن کو دبانے، ہمسایہ ممالک کے خلاف اشتعال پیدا کرنے اور داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اگر گودی میڈیا سچائی، توازن اور ذمہ داری کے راستے پر واپس نہ آیا تو بھارت کی عالمی ساکھ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

  • سرمایہ کاری گئی،ٹرمپ نے بھارت کو "آؤٹ” کرکے پاکستان کو چن لیا،سابق امریکی سفیر

    سرمایہ کاری گئی،ٹرمپ نے بھارت کو "آؤٹ” کرکے پاکستان کو چن لیا،سابق امریکی سفیر

    امریکا کے سابق سفیر اور سینئر ڈیموکریٹ رہنما راحم ایمانوئل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے برسوں کی محنت سے قائم ہونے والے بھارت کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صحافی ششانک مٹو کی جانب سے شیئر کیے گئے بیان میں رحم ایمانوئل کے حوالے سے کہا گیا کہ چار امریکی صدور نے بھارت کو امریکا کے قریب لانے کے لیے برسوں کام کیا، مگر ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں یہ تعلقات شدید دھچکے کا شکار ہوئے،ٹرمپ دور میں اب بھارت کو مکمل مسترد کر دیا گیا ہے،ہم نے پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں چن لیا ہے،

    ماہرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی کروا رہا ہے،خود کو ایشیا کا ٹھیکیدار سمجھنے والا بھارت اب کہیں بھی نظر نہیں آ رہا، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں، نائب امریکی صدر نے پاکستان کا دورہ کیا اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول وہ بھی اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں

  • پاکستان آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی چاہتا ہے،افتخار احمد

    پاکستان آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی چاہتا ہے،افتخار احمد

    نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال پر پاکستان اپنا مؤقف سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر متعدد بار واضح کر چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تنازع کبھی رونما نہیں ہونا چاہیے تھا۔

    اپنے بیان میں مستقل مندوب نے کہا کہ جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے دیگر حصوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ابتدا ہی سے کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی ہے۔عاصم افتخار احمد نے کہا کہ موجودہ بحران کا پُرامن اور دیرپا حل صرف مذاکرات اور سفارتی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنگ کے بجائے مکالمے، تحمل اور سیاسی راستہ اختیار کرے۔پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی سرحدی سلامتی اور خودمختاری کا احترام عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان توانائی کی عالمی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی چاہتا ہے تاکہ عالمی معیشت پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

  • ایرانی صدر جنگ روکنے میں پاکستان کے مؤثر اور ذمہ دارانہ کردارکے معترف

    ایرانی صدر جنگ روکنے میں پاکستان کے مؤثر اور ذمہ دارانہ کردارکے معترف

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ روکنے میں پاکستان کے مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار کو قابل ستائش قرار دیا۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ ان کا ملک امن، استحکام اور خطے میں برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، انہوں نے واضح کیاکہ ایرانی عوام کا وعدے توڑے جانے کی وجہ سے امریکا پر اعتماد نہیں اور زور دیا کہ عالمی قوانین اور اصولوں کے تحت ایرانی قوم کے حقوق برقرار رہنے چاہیں۔صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا اس تنازعے میں فاتح بن کر نہیں ابھرے گا، تنازعے سے خطے کے ممالک اور دنیا سنگین نقصانات اٹھائے گی،صیہونی رجیم اپنے عزائم کے تعاقب میں ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی امہ کا اتحاد صیہونی رجیم کے عزائم پورے ہونے سے روکے گا۔صدر پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کی سکیورٹی خطے کے ممالک کو یقینی بنانا چاہیے۔

  • اسرائیل لبنان جنگ بندی کے بعد تہران میں حزب اللّٰہ کے نعرے

    اسرائیل لبنان جنگ بندی کے بعد تہران میں حزب اللّٰہ کے نعرے

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایرانی دارالحکومت تہران میں حزب اللّٰہ کے حق میں بڑے عوامی اجتماع کا انعقاد کیا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے شرکت کرتے ہوئے اسرائیل مخالف نعرے لگائے۔

    غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب ایران کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے اپنے بیان میں کہا کہ معزز لبنانی عوام اور خطے کے باشعور لوگ جانتے ہیں کہ فیصلہ کن جنگ کی حقیقی فاتح حزب اللّٰہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ لبنان کی مزاحمتی قوت کے عزم، قربانیوں اور ایران کی مسلسل حمایت کا نتیجہ ہے۔اس موقع پر تہران کے مرکزی علاقے میں ہزاروں شہری جمع ہوئے، جہاں شرکاء نے حزب اللّٰہ کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی۔تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے بعد خطے میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے حزب اللّٰہ کی کھلی حمایت ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

  • قصور کی صحافی برادری کی مولانا امیر حمزہ پر ہوئے قاتلانہ حملے کی مذمت

    قصور کی صحافی برادری کی مولانا امیر حمزہ پر ہوئے قاتلانہ حملے کی مذمت

    قصور
    صحافی برادری کی معروف کالم نگار و مذہبی اسکالر مولانا امیر حمزہ پر ہوئے قاتلانہ حملے کی مذمت

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن لاہور میں پیکو روڈ پر پاکستان کے مشہور مصنف،کالم نگار اور مذہبی اسکالر مولانا امیر حمزہ پر قاتلانہ حملہ ہوا
    مولانا صاحب گزشتہ دن نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے کر واپس جا رہے تھے کہ حملہ موٹرسائیکل سواروں نے ان کا تعاقب کیا اور انتہائ قریب آ کر فائرنگ کرکے نشاہہ بنانے کی کوشش کی مگر اللّہ تعالیٰ کی خاص مدد سے گولی ان کت بازو سے ٹکراتے ہوئے واسکٹ کی سائڈ سے سوراخ کرتے ہوۓ سیدھی اسی سیٹ میں جا گھسی جہاں مولانا امیر حمزہ بیٹھے تھے
    حساس اداروں اور پولیس کی جانب سے بروقت سرچ آپریشن کے بعد مشتبہ افراد کو حراست میں لی لیا گیا ہے
    اس قاتلانہ حملے پر قصور کی صحافی برادری نے سخت تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے

  • وفاقی وزیر خزانہ کی موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ کی موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس کے موقع پر موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات کی، جس میں معاشی صورتِ حال اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کرلی ہے، تمام قرض دہندگان کی ذمے داریاں بروقت پوری کی جا رہی ہیں، سعودی عرب کی مالی معاونت اہم ہے جو بیرونی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گی۔محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان نے موجودہ بحران میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کھاد کے زیادہ ذخائر رکھے جس سے کاشت کے اہم سیزن میں مدد ملے گی۔وزیرِ خزانہ نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی کے لیے درمیانی مدت کی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالی۔ملاقات میں انہوں نے علاقائی صورتِ حال کے تناظر میں توانائی کے شعبے میں حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں سپلائی چین کو محفوظ بنانا، مکمل قیمتوں کی منتقلی اور کمزور طبقات کے لیے ہدفی ڈیجیٹل سبسڈیز شامل ہیں،وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے موڈیز کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • جاپان کا زمین کو توانائی فراہم کرنے کے لیے چاند پر سولر رنگ بنانے کا انقلابی منصوبہ

    جاپان کا زمین کو توانائی فراہم کرنے کے لیے چاند پر سولر رنگ بنانے کا انقلابی منصوبہ

    جاپان نے مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک حیران کن خلائی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت چاند کے گرد بڑے پیمانے پر شمسی پینلز کی ایک وسیع انگوٹھی تعمیر کی جائے گی تاکہ وہاں سے بجلی پیدا کرکے زمین تک پہنچائی جا سکے۔

    اس منصوبے کو “لونر سولر رنگ” یا “چاندی شمسی حلقہ” قرار دیا جا رہا ہے۔ تجویز کے مطابق چاند کے خطِ استوا کے گرد ہزاروں شمسی پینلز نصب کیے جائیں گے، جہاں سورج کی روشنی تقریباً مسلسل دستیاب رہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقام پر توانائی کی پیداوار دن رات اور موسم کی پابندیوں سے آزاد ہو گی، جو زمین پر موجود سولر سسٹمز کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔انجینئرز کے مطابق چاند کا ماحول شمسی توانائی کے لیے نہایت موزوں ہے کیونکہ وہاں فضا موجود نہیں، جس کے باعث بادلوں، دھند یا فضائی رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس طرح سورج کی روشنی براہِ راست شمسی پینلز تک پہنچے گی اور زیادہ بجلی پیدا ہو سکے گی۔منصوبے کے تحت چاند پر پیدا ہونے والی توانائی کو مائیکرو ویوز یا لیزر شعاعوں میں تبدیل کرکے زمین پر موجود خصوصی ریسیونگ اسٹیشنز تک بھیجا جائے گا۔ وہاں اس توانائی کو دوبارہ بجلی میں تبدیل کر کے گھروں، صنعتوں اور دیگر شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو دنیا کو ایک مستقل، ماحول دوست اور قابلِ تجدید توانائی کا ایسا ذریعہ مل سکتا ہے جو عالمی سطح پر بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گا اور تیل، گیس و کوئلے جیسے ایندھن پر انحصار کم کرے گا۔تاہم ماہرین نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ منصوبہ ابھی ابتدائی تصوراتی مرحلے میں ہے اور اس کے سامنے کئی بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ ان میں تعمیراتی سامان کو خلا میں پہنچانا، چاند کی سطح پر وسیع انفراسٹرکچر تعمیر کرنا، روبوٹک نظام تیار کرنا اور ہزاروں کلومیٹر دور زمین تک توانائی کی محفوظ ترسیل شامل ہے۔خلائی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے عالمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خودکار مشینری اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔

    لونر سولر رنگ منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اب توانائی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کے لیے خلا کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کو عملی شکل اختیار کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، لیکن یہ تصور مستقبل میں زمین کے توانائی نظام کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  • جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ پر پابندیاں نافذ

    جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ پر پابندیاں نافذ

    ‎اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے دور کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے جاری ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق 16 اپریل رات 11 بجے سے 26 اپریل تک جڑواں شہروں میں بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہے گی، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    اعلامیے کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام بس اڈے اور ٹرانسپورٹ اسٹینڈز بند رہیں گے جبکہ دیگر شہروں سے آنے اور جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہے گی۔ اس دوران دونوں شہروں کے درمیان اور دیگر اضلاع کی طرف جانے والی ٹرانسپورٹ کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ اہم سفارتی سرگرمیوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
    متاثرہ علاقوں میں فیض آباد، پیرودھائی، سبزی منڈی، 26 نمبر، جی نائن، پشاور موڑ اور چور چوک شامل ہیں جہاں تمام بڑے ٹرانسپورٹ مراکز بند رہیں گے۔ ان مقامات پر اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا عمل جاری رہے گا۔
    ٹریفک پولیس اسلام آباد کے مطابق 17 اور 18 اپریل کے درمیان رات 12 بجے سے دوپہر 12 بجے تک بھاری ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ شہر کے اندرونی راستوں پر بھی سیکیورٹی کے باعث مختلف مقامات پر ڈائیورشنز متوقع ہیں۔
    حکام نے واضح کیا ہے کہ شہر کے اندر چلنے والی مقامی ٹرانسپورٹ، میٹرو بس سروس، موٹرویز اور تعلیمی ادارے فی الحال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے، تاہم صورتحال کے پیش نظر کسی بھی وقت مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔