بیساکھی کی خوشیوں کے موقع پر دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں، خصوصاً بھارت سے آنے والے زائرین نے پاکستان کا رخ کیا۔
یہ یاتری گوردوارہ پنجہ صاحب ، ننکانہ صاحب اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آئے، جہاں انہوں نے مذہبی رسومات ادا کیں اور روحانی سکون حاصل کیا۔،پاکستان کی جانب سے کیے گئے بہترین انتظامات، سیکیورٹی اور مہمان نوازی نے یاتریوں کے دل جیت لیے۔ یاتریوں نے کھلے دل سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا،ایک سکھ یاتری نے کہا، “ہم پاکستان حکومت کے بے حد مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیں اتنی عزت دی، یہاں آ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ہی گھر میں ہوں۔” ایک اور یاتری نے کہا، “یہاں کے لوگ بہت محبت کرنے والے ہیں، ہمیں ہر جگہ عزت اور سہولت ملی، ہم اس مہمان نوازی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔”
عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے یاتریوں نےامریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔ ایک یاتری کے الفاظ تھے، “ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے جو کوشش کی وہ قابلِ تعریف ہے، ہم اس پر دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، محبت اور امن ہی اصل راستہ ہے۔” کچھ یاتریوں نے زور دیا کہ دنیا کو نفرت کے بجائے بھائی چارے کی ضرورت ہے۔ایک بزرگ یاتری نے کہا “اگر دنیا امن سے رہے گی تو سب خوشحال ہوں گے، ہمیں لڑائی نہیں بلکہ محبت کو فروغ دینا چاہیے،”
سکھ یاتریوں نے پاکستان کے کردار کو عالمی امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔ ان کے مطابق، پاکستان نے نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا بلکہ دنیا کو امن، رواداری اور بھائی چارے کا ایک خوبصورت پیغام بھی دیا،
دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں، خصوصاً بھارت سے آنے والے تقریباً 2,800 سے زائد زائرین نے پاکستان کا رخ کیا،سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2,800 سے 2,843 تک ویزے جاری کیے جبکہ پہلے قافلے میں تقریباً 2,238 یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے۔
