Baaghi TV

Blog

  • اسرائیلی پوسٹ پر سوالات، عمران خان اور جمائما کا ذکر

    اسرائیلی پوسٹ پر سوالات، عمران خان اور جمائما کا ذکر

    ‎اسرائیلی پوسٹ میں جمائما اور عمران خان کا ذکر سامنے آیا ہے، جس کے بعد یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران خان اور ان کی سابق اہلیہ کے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔
    بیان کے مطابق جب پاکستان عالمی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے تو اسی وقت اسرائیل کی جانب سے ایسے بیانیے کے ذریعے پاکستان کے تشخص پر سوال اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب دنیا پاکستان کی تعریف کر رہی ہے، اسرائیل ایک ایسے شخص کے حق میں بات کر رہا ہے جو اس وقت قانون کے مطابق جیل میں سزا کاٹ رہا ہے۔
    بیان میں عمران خان کو “گولڈ اسمتھ کی سرمایہ کاری” قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ آخر کون ان کے معاملات کو کنٹرول کر رہا ہے۔

  • ایران کیساتھ معاہدے کے قریب ہیں، ڈیل ہو گئی تو اسلام آباد جاؤں گا، ٹرمپ

    ایران کیساتھ معاہدے کے قریب ہیں، ڈیل ہو گئی تو اسلام آباد جاؤں گا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ طے پانے کے قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عندیہ دیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے اور معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی کے بعد حالات میں نمایاں فرق آیا ہے اور اب ایران کے پاس ایک بہتر موقع موجود ہے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ تعاون کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ کسی جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ دونوں ممالک ایک جامع معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں جو خطے کے لیے خوش آئند ثابت ہوگا۔
    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ ممکنہ طور پر اسلام آباد کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس حوالے سے مؤثر اور قابل تعریف اقدامات کیے ہیں جس سے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملی۔
    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران اب ان نکات پر بھی آمادگی ظاہر کر رہا ہے جن پر وہ پہلے تیار نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ ان کے بقول پیش رفت تیزی سے ہو رہی ہے اور ایران اس بات پر رضامند ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
    سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے، جبکہ پاکستان کے لیے بھی سفارتی سطح پر ایک اہم کامیابی تصور کیا جائے گا۔

  • اسلام آباد میں آپریشن پر تصادم، دہشتگردی کی دفعات میں مقدمہ درج

    اسلام آباد میں آپریشن پر تصادم، دہشتگردی کی دفعات میں مقدمہ درج

    ‎اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں واقع علاقے نوری باغ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران تصادم کے بعد پولیس نے درجنوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق مزار بری امام کے قریب نور پور شاہاں کے علاقے میں وفاقی ترقیاتی ادارے کی درخواست پر درج مقدمے میں مقامی افراد پر سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کرنے، اہلکاروں کو زخمی کرنے، اقدام قتل اور سرکاری امور میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن غیرقانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے کیا گیا تھا۔
    ‎دوسری جانب متاثرہ افراد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جن گھروں میں رہائش پذیر ہیں وہ انہوں نے باقاعدہ رقم ادا کر کے خریدے ہیں اور انہیں غیرقانونی قرار دینا ناانصافی ہے۔
    ‎سی ڈی اے حکام کے مطابق یہ علاقہ غیرقانونی ہاؤسنگ پر مشتمل ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہاں پراپرٹی ٹیکس بھی لاگو نہیں ہوتا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے باعث ان جگہوں کو خالی کرانے کی ضرورت تھی۔
    ‎حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران تقریباً 60 کنال زمین واگزار کروائی گئی جبکہ مجموعی طور پر مختلف علاقوں میں اب تک 600 ایکڑ زمین واپس حاصل کی جا چکی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس قسم کے آپریشنز میں شفافیت اور عوامی اعتماد انتہائی اہم ہوتا ہے تاکہ تنازعات سے بچا جا سکے۔

  • جاپان کا ایشیائی ممالک کیلئے 10 ارب ڈالر توانائی پیکج

    جاپان کا ایشیائی ممالک کیلئے 10 ارب ڈالر توانائی پیکج

    ‎جاپان نے اپنے ایشیائی ہمسایہ ممالک، خصوصاً جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 10 ارب ڈالر کی مالی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایران جنگ کے باعث عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق جاپان کی وزیر اعظم ثنائے تاکائیچی نے بدھ کے روز ایشیائی رہنماؤں کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس کے بعد اس تعاون کے نئے فریم ورک کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جاپان خطے کے ممالک کے ساتھ مضبوط سپلائی چین روابط رکھتا ہے اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
    ‎وزیر اعظم کے مطابق یہ فنڈنگ نہ صرف خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری میں مدد دے گی بلکہ سپلائی چین کو برقرار رکھنے اور توانائی کے ذخائر بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جاپان طبی آلات سمیت کئی شعبوں میں جنوب مشرقی ایشیا پر انحصار کرتا ہے، اس لیے خطے کا استحکام جاپان کے لیے بھی اہم ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو ایشیا سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ تقریباً 90 فیصد تیل اور گیس اسی راستے سے خطے تک پہنچتی ہے۔ اس تناظر میں جاپان کا یہ اقدام نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎جاپان کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ 10 ارب ڈالر کی امداد آسیان ممالک کی ایک سالہ خام تیل کی درآمدات کے برابر ہے۔ اجلاس میں شریک ممالک، جن میں فلپائن، ملائیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ، ویتنام، بنگلہ دیش اور جنوبی کوریا شامل تھے، نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں توانائی کے استحکام اور معاشی تحفظ کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

  • ہری پور میں گیس پائپ لائن دھماکہ، آٹھ افراد جاں بحق

    ہری پور میں گیس پائپ لائن دھماکہ، آٹھ افراد جاں بحق

    ‎ہری پور کے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھی فیکٹری کے قریب گیس پائپ لائن میں اچانک دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ اس المناک حادثے میں آٹھ افراد جھلس کر جان کی بازی ہار گئے جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎مقامی انتظامیہ کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے قریبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور آگ بجھانے کی کارروائیاں شروع کیں۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا تاہم کولنگ کا عمل جاری رکھا گیا تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کا خطرہ نہ رہے۔
    ‎ڈپٹی کمشنر ہری پور کا کہنا ہے کہ آگ قریبی آبادی تک پھیل گئی تھی جس سے کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔ ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے متاثرہ گھروں کی تلاشی کا عمل جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ پھنسے ہوئے فرد کو بروقت نکالا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر گیس لیکیج کو دھماکے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎علاقہ مکینوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس پائپ لائنز کی بروقت مرمت اور معائنہ نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کے حادثات رونما ہوتے ہیں، لہٰذا متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اپنی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔

  • پاکستان کی فضائی حدود سے آمدن میں نمایاں اضافہ

    پاکستان کی فضائی حدود سے آمدن میں نمایاں اضافہ

    ‎پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ دیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں غیر ملکی پروازیں پاکستان کی فضائی حدود سے گزرتی ہیں، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری ریونیو حاصل ہو رہا ہے۔
    ذرائع کے مطابق روزانہ تقریباً 700 سے زائد بین الاقوامی پروازیں پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔ ان پروازوں سے اوور فلائٹ چارجز کی مد میں پاکستان کو یومیہ تقریباً 8 لاکھ ڈالر تک آمدن حاصل ہو رہی ہے۔ یہ آمدن ڈالر میں ہونے کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا سبب بھی بن رہی ہے، جو موجودہ معاشی حالات میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے بین الاقوامی فضائی راستوں کے لیے نہایت اہم بناتا ہے۔ مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والی بیشتر پروازیں پاکستان کی فضائی حدود کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ یہ راستہ نسبتاً مختصر اور ایندھن کی بچت کا باعث بنتا ہے۔
    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے فضائی حدود کے استعمال کے لیے باقاعدہ فیس مقرر کی گئی ہے، جو ہر پرواز سے وصول کی جاتی ہے۔ ان فیسز کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن نہ صرف ایوی ایشن سیکٹر کی بہتری پر خرچ کی جاتی ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی سہارا فراہم کرتی ہے۔
    حکام کے مطابق اگر فضائی حدود کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور عالمی ایئرلائنز کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے تو اس آمدن میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سیکیورٹی کے بہتر انتظامات سے پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط ایوی ایشن حب کے طور پر ابھرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

  • یورپ میں جیٹ فیول کا بحران، صرف 6 ہفتوں کا ذخیرہ باقی

    یورپ میں جیٹ فیول کا بحران، صرف 6 ہفتوں کا ذخیرہ باقی

    ‎عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں جیٹ فیول کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں اور موجودہ صورتحال برقرار رہی تو فضائی سفر شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یورپ کے پاس اس وقت صرف 6 ہفتوں کا جیٹ فیول ذخیرہ باقی ہے۔ اگر ایران جنگ کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہوتی رہی تو یورپ میں پروازوں کا نظام بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔
    ‎فاتح بیرول نے کہا کہ دنیا ایک بڑے توانائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں پٹرول، ڈیزل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی ممالک پر پڑے گا جن میں جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، چین، پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ سمیت دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی متاثر ہوگی، جس سے عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی توانائی سپلائی میں رکاوٹیں اور جیو پولیٹیکل کشیدگی مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا کر رہی ہیں، جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں کمی کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب برطانوی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں اور بعض حلقوں کو امید ہے کہ جاری کشیدگی جلد کم ہو سکتی ہے، جس سے توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

  • منگھوپیر مقابلہ، پولیس اہلکار شہید

    منگھوپیر مقابلہ، پولیس اہلکار شہید

    ‎کراچی کے علاقے منگھوپیر میں نہر کے قریب پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق پولیس اہلکاروں نے موٹر سائیکل سوار مشکوک افراد کو روکنے کی کوشش کی، جس پر ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں اہلکار خادم شہید جبکہ اہلکار طفیل زخمی ہو گیا۔ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے تیس بور اور نائن ایم ایم پستول کے خول ملے ہیں، جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
    ‎ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی کا کہنا ہے کہ زخمی اہلکار کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے تاکہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔
    ‎واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے فوری کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اہلکار کی شہادت میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
    ‎انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے اور جامع تفتیش کے ذریعے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

  • عاصم منیر کی ایران میں اہم ملاقات، دفاعی تعاون پر بات چیت

    عاصم منیر کی ایران میں اہم ملاقات، دفاعی تعاون پر بات چیت

    ‎فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں انہوں نے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبداللہی سے اہم ملاقات کی۔
    ‎تفصیلات کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ امور، علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کو موجودہ علاقائی تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی گفتگو ہوئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، لہٰذا پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی رابطے نہایت اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ملاقاتیں نہ صرف دفاعی تعلقات کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔
    ‎یہ دورہ پاک ایران تعلقات میں مزید بہتری اور خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • اسرائیل لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق: ٹرمپ

    اسرائیل لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق: ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ یہ جنگ بندی منگل کی شام ایسٹرن ٹائم کے مطابق 5 بجے سے نافذ العمل ہوگی۔ اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس عارضی وقفے سے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ جنگ بندی دونوں فریقین کو سفارتی راستہ اختیار کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے، تاہم اس کے مستقل امن میں تبدیل ہونے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس دوران مثبت پیش رفت ہوئی تو خطے میں استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، بصورت دیگر کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہے اور عالمی برادری مسلسل امن کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔