طالبان رجیم میں افغانستان میں امن دشمن تنظیمیں سرگرم، پڑوسی ممالک کے امن کوشدیدخطرات لاحق ہوگئے۔
افغان طالبان رجیم اپنےغیرقانونی اورغیرآئینی اقتدارکوطول دینےکیلئے امن دشمن تنظیموں کو پناہ اوروسائل فراہم کررہی ہے۔معروف عالمی جریدہ نےافغانستان میں فتنہ الخوارج سمیت دیگر امن دشمن گروہوں کی موجودگی سےمتعلق پاکستانی مؤقف کی تائید کردی۔ یورپی جریدہ ماڈرن ڈپلومیسی کے مطابق افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان کی سلامتی کیلئےواضح خطرہ ہے۔جریدے نے رپورٹ کیا ہے کہ فتنہ الخوارج کے امن دشمن مشرقی افغانستان بالخصوص پاک افغان سرحدی صوبوں کنڑاورننگرہارمیں موجود ہیں۔ افغانستان میں فتنہ الخوارج اورالقاعدہ جیسی20سےزائدبین الاقوامی اورعلاقائی امن دشمن تنظیمیں سرگرم ہیں۔ اگست2021میں طالبان کے قبضےکےبعدافغانستان میں مسلح گروہوں کوسہولت کاری فراہم کی جارہی ہے۔
ماہرین کے مطابق فتنہ الخوارج سمیت علاقائی اوربین الاقوامی امن دشمن تنظیمیں افغانستان کوکارروائیوں کیلئےمحفوظ بیس کیمپ کےطورپراستعمال کررہی ہیں۔ امن دشمنوں کی پشت پناہی، انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کےباعث افغان طالبان رجیم عالمی تنہائی کاشکارہے
