اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے دور کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے جاری ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق 16 اپریل رات 11 بجے سے 26 اپریل تک جڑواں شہروں میں بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہے گی، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام بس اڈے اور ٹرانسپورٹ اسٹینڈز بند رہیں گے جبکہ دیگر شہروں سے آنے اور جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہے گی۔ اس دوران دونوں شہروں کے درمیان اور دیگر اضلاع کی طرف جانے والی ٹرانسپورٹ کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ اہم سفارتی سرگرمیوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
متاثرہ علاقوں میں فیض آباد، پیرودھائی، سبزی منڈی، 26 نمبر، جی نائن، پشاور موڑ اور چور چوک شامل ہیں جہاں تمام بڑے ٹرانسپورٹ مراکز بند رہیں گے۔ ان مقامات پر اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا عمل جاری رہے گا۔
ٹریفک پولیس اسلام آباد کے مطابق 17 اور 18 اپریل کے درمیان رات 12 بجے سے دوپہر 12 بجے تک بھاری ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ شہر کے اندرونی راستوں پر بھی سیکیورٹی کے باعث مختلف مقامات پر ڈائیورشنز متوقع ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ شہر کے اندر چلنے والی مقامی ٹرانسپورٹ، میٹرو بس سروس، موٹرویز اور تعلیمی ادارے فی الحال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے، تاہم صورتحال کے پیش نظر کسی بھی وقت مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ پر پابندیاں نافذ
