جاپان نے مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک حیران کن خلائی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت چاند کے گرد بڑے پیمانے پر شمسی پینلز کی ایک وسیع انگوٹھی تعمیر کی جائے گی تاکہ وہاں سے بجلی پیدا کرکے زمین تک پہنچائی جا سکے۔
اس منصوبے کو “لونر سولر رنگ” یا “چاندی شمسی حلقہ” قرار دیا جا رہا ہے۔ تجویز کے مطابق چاند کے خطِ استوا کے گرد ہزاروں شمسی پینلز نصب کیے جائیں گے، جہاں سورج کی روشنی تقریباً مسلسل دستیاب رہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقام پر توانائی کی پیداوار دن رات اور موسم کی پابندیوں سے آزاد ہو گی، جو زمین پر موجود سولر سسٹمز کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔انجینئرز کے مطابق چاند کا ماحول شمسی توانائی کے لیے نہایت موزوں ہے کیونکہ وہاں فضا موجود نہیں، جس کے باعث بادلوں، دھند یا فضائی رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس طرح سورج کی روشنی براہِ راست شمسی پینلز تک پہنچے گی اور زیادہ بجلی پیدا ہو سکے گی۔منصوبے کے تحت چاند پر پیدا ہونے والی توانائی کو مائیکرو ویوز یا لیزر شعاعوں میں تبدیل کرکے زمین پر موجود خصوصی ریسیونگ اسٹیشنز تک بھیجا جائے گا۔ وہاں اس توانائی کو دوبارہ بجلی میں تبدیل کر کے گھروں، صنعتوں اور دیگر شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو دنیا کو ایک مستقل، ماحول دوست اور قابلِ تجدید توانائی کا ایسا ذریعہ مل سکتا ہے جو عالمی سطح پر بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گا اور تیل، گیس و کوئلے جیسے ایندھن پر انحصار کم کرے گا۔تاہم ماہرین نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ منصوبہ ابھی ابتدائی تصوراتی مرحلے میں ہے اور اس کے سامنے کئی بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ ان میں تعمیراتی سامان کو خلا میں پہنچانا، چاند کی سطح پر وسیع انفراسٹرکچر تعمیر کرنا، روبوٹک نظام تیار کرنا اور ہزاروں کلومیٹر دور زمین تک توانائی کی محفوظ ترسیل شامل ہے۔خلائی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے عالمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خودکار مشینری اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔
لونر سولر رنگ منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اب توانائی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کے لیے خلا کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کو عملی شکل اختیار کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، لیکن یہ تصور مستقبل میں زمین کے توانائی نظام کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
