Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • صوبے کے درجے سے لیکر اٹھارویں آئینی ترمیم تک بلوچستان کو حقوق پارلیمان نے دیئے،میر سرفراز بگٹی

    صوبے کے درجے سے لیکر اٹھارویں آئینی ترمیم تک بلوچستان کو حقوق پارلیمان نے دیئے،میر سرفراز بگٹی

    تربت: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کو حقوق بندوق نہیں پارلیمان سے ملے ہیں،صوبے کا درجہ ملنے سے لے کر اٹھارویں آئینی ترمیم تک بلوچستان کو حقوق پارلیمان نے دیئے-

    باغی ٹی وی : تربت میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو حقوق بندوق نہیں پارلیمان سے ملے ہیں،صوبے کا درجہ ملنے سے لے کر اٹھارویں آئینی ترمیم تک بلوچستان کو حقوق پارلیمان نے دیئے،بندوق سے آزادی نہیں مل سکتی آج بھی مسئلہ پارلیمان ہی حل کرے گی،کوئی بھی مسئلہ اگر مذاکرات سے حل ہوتا ہے تو مذاکرات سے کون انکار کرسکتا ہے، مذاکرات چاہتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مذاکرات کس سے کریں ، کوئی مذاکرات ہی نہیں چاہتا تو کیا کیا جائے ، اگر کوئی مذاکرات کے بجائے طاقت کا راستہ اپناتا ہے تو آئین ہمیں یہ حق دیتا ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کریں ، اگر کوئی امن وامان خراب کرتا ہے معصوم لوگوں کو نشانہ بناتا ہے تو ریاست اس کے خلاف کارروائی کرے گی،لاپتہ افراد سمیت تمام حل طلب مسائل پرپارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے، ایک بھی شہری لاپتہ نہیں ہونا چاہیے، بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، جہاں ضرورت ہوگی دہشتگردوں کیخلاف سمارٹ ٹارگٹڈ کارروائی کی جائے گی۔

  • باجوڑ میں خاتون کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش

    باجوڑ میں خاتون کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش

    باجوڑ میں خاتون کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کے ہاں 4 بچوں کی پیدائش ڈسٹرکٹ اسپتال باجوڑ میں ہوئی، بچوں میں تین لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہے،ریسکیو 1122 باجوڑ کے مبانق سمسئی خوڑ نزد رشکئی تحصیل خار میں ایک فیلڈر کار جس میں افراد 6 سوار تھے گہرے سیلابی ریلے میں پھنس گئی، کنٹرول روم کو اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 باجوڑ کی میڈیکل، ڈیزاسٹر اور ریکوری ٹیمیں فورا موقع پر پہنچیں،امدادی ٹیم نے فیلڈر کار کو پیشہ ورانہ طریقے سے نالے سے نکالا اور کار میں موجود بیمار عورت کو میڈیکل ٹیم نے فرسٹ ایڈ فراہم کرکے ڈسٹرکٹ اسپتال خار منتقل کیا جہاں شام کو ان کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوئی۔

    واضح رہے چند روز قبل راولپنڈی میں بھی ایک خاتون نے 6 صحت مند بچوں کو جنم دیا تھا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال راولپنڈی میں ہزارہ کالونی کے رہائشی وحید کی اہلیہ نے 6 بچوں کو جنم دیا تھا، نوزائیدہ بچوں میں 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں، ڈاکٹروں کے مطابق 6 بچے اور ماں مکمل طورپر تندرست ہیں۔

  • سیکیورٹی فورسز نے  ہرنائی میں مسافر گاڑیوں کو روکنے کی دہشتگردوں کی کوشش ناکام بنا دی

    سیکیورٹی فورسز نے ہرنائی میں مسافر گاڑیوں کو روکنے کی دہشتگردوں کی کوشش ناکام بنا دی

    ہرنائی: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا اور دوسرا زخمی ہوگیا، سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی سنجاوی روڈ ہرنائی پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کو روکنے کی کوشش ناکام بنا دی جس سے کئی معصوم جانیں بچ گئیں-

    باغی ٹی وی :آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، دہشت گردوں نے سنجاوی روڈ ہرنائی پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور دہشت گردوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا،اس کے بعد علاقے میں کسی بھی دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن بھی کیا گیا، سکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔

    پنجاب پولیس کی افسر شاندار کارکردگی پر عالمی ایوارڈ کیلئے منتخب

    سندھ اسمبلی کے پارلیمانی سفر کے 87 سال مکمل ،بلاول بھٹو کا پیغام جاری

    کراچی: غیرقانونی چیکنگ پر ٹریفک پولیس کے 17 افسران اور اہلکار معطل

  • سپریم کورٹ نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کو بحال کر دیا

    سپریم کورٹ نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کو بحال کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کو بحال کر دیا۔

    باغی ٹی و ی: جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالت نے بلوچستان کے حلقہ پی بی 51 چمن کے 12 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا الیکشن کمیشن کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا عدالت نے تمام امیدواروں کی رضامندی سے معاملہ دوبارہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن تمام امیدواروں کو سن کر 10 روز میں فیصلہ کرے۔

    دوران سماعت، جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دئیے کہ کس ضابطے کے تحت الیکشن کمیشن نے 12 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ الیکشن کا حکم دیا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے کہ الیکشن کمیشن نے 12 پولنگ اسٹیشنز کو دیکھا مگر دیگر کو نظر انداز کر دیا، جس پر ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے بتایا کہ جن 12 پولنگ اسٹیشنز پر زیادہ ٹرن آوٹ کی درخواست کی گئی صرف انہی کو دیکھا۔

    ضمنی الیکشن:شہروں میں دفعہ 144کے نفاذ کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیٹی تھی مگر مجھے بھی …

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے مخالف امیدوار اصغر خان اچکزئی کی درخواست پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیتے ہوئے اسپیکر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا تھا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما عبدالخاق اچکزئی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • ضمنی الیکشن: کوہلو میں  پولنگ اسٹیشن کے قریب راکٹ حملہ

    ضمنی الیکشن: کوہلو میں پولنگ اسٹیشن کے قریب راکٹ حملہ

    کوہلو: بلوچستان کے ضلع کوہلو میں ضمنی الیکشن کی ری پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن کے قریب راکٹ حملہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی :لیویز حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کوہلو کے حلقہ پی بی 9 میں آج ری پولنگ ہورہی ہے جہاں نساؤ پولنگ اسٹیشن کے قریب نامعلوم سمت سے راکٹ داغا گیا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، کوہلو میں آج علی الصبح نساؤ روڈ پر بارودی سرنگ کا دھماکا بھی ہوا تھا جس میں وڈیرہ رب نوازمحفوظ رہے جب کہ ان کی گاڑی کوشدید نقصان پہنچا تھا، حلقہ پی بی 9 کے 4 اسٹیشنز میں آج ری پولنگ ہورہی ہے مگر صبح ساڑھے 6 بجے کوہلو سے نکلنے والا پولنگ عملہ اب تک نساؤ پولنگ اسٹیشن نہ پہنچ سکا جس کی وجہ سے پولنگ کا عمل شروع نا ہوسکا۔

    دوسری جانب محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) سے فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشتگرد مارے گئے،سی ٹی ڈی حکام کے مطابق فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں خیبرپختونخوا سے پنجاب میں داخل ہونے والے 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے،دونوں دہشتگرد بھکرکے قریب سی ٹی ڈ ی کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے، دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے، مارے گئے دہشتگرد حساس تنصیبات پر حملوں میں ملوث تھے اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔

  • صوبے میں کوئی نوکری نہیں بکے گی ،  وزیر اعلی بلوچستان

    صوبے میں کوئی نوکری نہیں بکے گی ، وزیر اعلی بلوچستان

    وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان صوبائی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا ، وزیر اعلٰی نے گڈ گورننس ، عوام اور صوبے کی بہتری کا ایجنڈا کابینہ اجلاس میں پیش کردیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں سب سے بڑا چیلنج گورننس کا ہے ، گورننس میں بہتری کے لئے ساٹھ کے قریب اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، کابینہ سے مشاورت کے بعد اصلاحاتی عمل کو حتمی شکل دی جائے گی، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے کابینہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، انسرجی صرف فوج اور ریاست تک محدود نہیں، یہ ہم سب کی لڑائی ہے ، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بڑھتے ہوئے غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پانا ہوگا، عام آدمی کی بہتری کیلئے ہم سب نے مل کر کام کرنا ہے، اور اہداف طے کرکے اس پر بتدریج عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے، وزیر اعلٰی بلوچستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لئے نیک نیتی سے کام کریں گے،
    مثبت سمت کا تعین کرکے صوبے میں اچھی طرز حکمرانی کی عملی مثال قائم کریں گے، وزیر اعلی نے سختی سے کہا کہ صوبے میں کوئی نوکری نہیں بکے گی ،
    وزراء اپنے اپنے محکموں کے انچارج ہیں ، امور پر کڑی نظر رکھیں ، ہر محکمے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے "کے پی آئی” بنائیں گے،
    وزیر اعلٰی بلوچستان نے مزید کہا کہ کارکردگی کا جائزہ لیکر مزید بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے، میرٹ پر کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں، اور ایکٹنگ چارج کی روایات ختم کرکے متعلقہ گریڈ کا افسر متعلقہ پوسٹ کے لئے تعینات کریں گے، بعد ازاں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے پہلے تعارفی اجلاس میں نوشکی واقعہ کی مذمت کی ، صوبائی کابینہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مارنے والے دہشت گرد اور شہید ہونے والے پاکستانی تھے
    صوبائی کابینہ کا صوبے میں دہشت گردی اور بد امنی کے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی ، اور صوبائی کابینہ نے صوبے میں سیلاب اور دیگر قدرتی آفات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے بھی فاتحہ خوانی کی ۔صوبائی کابینہ کے اجلاس میں تمام وزراء اور مشیران کا وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی پر اعتماد کا اظہار، بلوچستان کی ترقی ،گڈ گورننس کے قیام کے لئے وزیر اعلٰی بلوچستان کے وژن کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا.

  • سیلاب نے بلوچستان میں تباہی مچا دی، کراچی کا رابطہ منقطع

    سیلاب نے بلوچستان میں تباہی مچا دی، کراچی کا رابطہ منقطع

    حالیہ شدید بارشوں نے بلوچستان کے مختلف شہروں میں تباہ کن سیلابی ریلے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے نتیجے میں تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ موسلا دھار بارش سے صوبے کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں جب کہ گوادر اور مکران کا کراچی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گوادر میں ریکارڈ 80 ملی میٹر بارش ہوئی جب کہ مشتون میں 77 ملی میٹر، پسنی میں 66 ملی میٹر اور جیوانی میں 40 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اسی دوران کوئٹہ میں 12 ملی میٹر، پنجگور میں 15 ملی میٹر اور قلات اور تربت میں 11 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔مزید برآں، خضدار، نوکنڈی اور ژوب میں 5،5 ملی میٹر، دالبندین میں 4 ملی میٹر اور لسبیلہ میں 3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔سیلاب سے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور متاثرہ علاقوں میں معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں۔ حکام قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
    گوادر، پسنی، نوشکی، نوکنڈی اور بارکھان میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، کوئیک رسپانس ٹیمیں اور سول انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔سیلاب کے باعث مکران کوسٹل ہائی وے پر بسول ندی کا پُل ٹوٹ گیا جس کے باعث ہائی وے 2 مقامات سے بند ہو گئی اور گوادر اور مکران کا کراچی سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، اورماڑہ کے دیہی علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال ہے، متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے، بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے شدید بارش کی رپورٹ آ رہی ہے، بلوچستان سے سسٹم پنجاب اور خیبرپختونخوا میں داخل ہو رہا ہے جس کے باعث پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی تیز بارش کا امکان ہے۔
    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موجود ہے جبکہ کوئٹہ اور گرد و نواح میں آج بھی مطلع ابر آلود ہے، چند مقامات پر جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہو سکتی ہے۔ گوادر،کیچ، آواران، چاغی، خاران، لسبیلہ، خضدار، قلات، نوشکی، جھل مگسی، کوئٹہ، نصیر آباد، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لورا لائی، ہرنائی، زیارت، چمن، پشین میں بارش متوقع ہے جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبد اللہ، مستونگ، شیرانی، ژوب، موسیٰ خیل اور بارکھان میں بارش کا امکان ہے۔

  • میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

    میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

    میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

    قصے اورکہانیاں \ آغا نیاز مگسی

    میر ظفر اللہ خان جمالی کو پاکستان کے تیرہویں اور بلوچستان سے منتخب ہونے والے پہلے وزیر اعظم کا اعزاز حاصل رہا ہے وہ اس سے قبل بلوچستان کے وزیر اعلی، جنرل ضیاء الحق کے دور میں 1985 میں ہونے والے غیر جماعتی عام انتخابات میں بلوچستان کے ضلع نصیر آباد سے ایم این اے منتخب ہو کر وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں پانی و بجلی کے وفاقی وزیر رہے اس کے علاوہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے جنرل ایوب خان کے مقابلے میں وہ انتخابات کے دورن محترمہ فاطمہ جناح کے سیکورٹی گارڈ اور پولنگ ایجنٹ بھی رہے ۔ ۔ میر ظفر اللہ جمالی کا 2 دسمر 2020 میں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالاجی راولپنڈی کے ہسپتال میں انتقال ہوا۔ میر ظفر اللہ جمالی کے چچا زاد بھائی میر جعفر خان جمالی کے فرزند میر تاج محمد جمالی بلوچستان کے وزیر اعلی رہے ان کے بھائی میر سکندر حیات جمالی وفاقی سیکریٹری اور بلوچستان کے چیف سیکریٹری رہے ان کے ایک اور قریبی رشتہ دار میر جان محمد جمالی ایک بار بلوچستان کے وزیر اعلی دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور دو بار سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین رہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اپنے علاقہ کو پختہ سڑکیں تک نہیں دے سکے کوئی طبی ادارہ یا ہسپتال اور کوئی یونیورسٹی نہیں دے سکے میر ظفر اللہ جمالی نے اپنے علاقے میں صرف ایک کیڈٹ کالج قائم کیا لیکن اس کے باوجود میر ظفر اللہ جمالی جب تک زندہ رہے وہ خود بھی اور میر جان محمد جمالی بھی فرشتوں کے ووٹ سے کامیابی حاصل کرتے رہے یہ دونوں رہنما کسی ایک جماعت میں جم کر نہیں رہے بلکہ ہر اس جماعت میں شامل ہوتے رہے جہاں سے انہیں اقتدار میں آنے کی امید نظر آتی تھی لیکن جوں ہی میر ظفر اللہ جمالی کی وفات ہوئی تو ناکامیاں ان کے خاندان کا مقدر بن گئیں یا یوں کہا جائے کہ ان کی آزمائشیں شروع ہو گئی ہیں ۔ میر ظفر اللہ جمالی نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے چھوٹے فرزند اور جانشین عمر خان کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل کرا لیا تھا اور پھر ان کو صوبائی وزیربھی بنوا لیا تھا۔

    11 اپریل 2024 کو عید الفطر کے دوسرے روز ہمارا روجھان جمالی جانے کا اتفاق ہوا روجھان جمالی میں میر ظفر اللہ خان جمالی کے لیے جو نشست مختص تھی اس نشست پر ہمیں ظفر اللہ خان کے پوتے اور میر عمر خان جمالی کے فرزند میر عبدالوہاب جمالی براجمان نظر آئے ۔ میر ظفر اللہ جمالی نے اپنے چھوٹے فرزند میر عمر خان کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کر دیا تھا میر صاحب کی وفات کے بعد میر عمر خان اس نشست پر بیٹھا کرتے ہیں ظفر اللہ خان کے دوسرے بیٹے اس نشت پر نہیں بیٹھ سکتے ۔ میر عبدالوہاب کے اس مخصوص نشست پر بیٹھنے سے جمالی قبیلے کو یہ ایک پیغام دیا گیا ہے کہ میر عمر خان کا یہ برخوردار ان کا سیاسی و قبائلی جانشین ہے ۔ میر ظفر اللہ خان جمالی نے ایچی سن کالج اور اس کے بعد لارنس کالج میں تعلیم حاصل کی تھی پھر ان کے فرزند میر عمر خان جمالی نے بھی ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی اور اب میر عبدالوہاب جمالی بھی ایچی سن کالج میں زیر تعلیم ہیں ۔ میر ظفر اللہ جمالی کی مخصوص نشست پر بیٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ابھی باضابطہ طور پر جانشینی کی تربیت شروع ہو چکی ہے اور سیاسی قیادت و رہنمائی کے لیے ان کی ذہن سازی کی جا رہی ہے ۔ میر ظفر اللہ جمالی کی وفات کے بعد پہلی بار 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں میر ظفر اللہ کے دو بیٹے میجر رٹائر جاوید خان جمالی قومی اسمبلی اور عمر خان جمالی صوبائی اسمبلی کی نشست پر ہار گئے اس کے علاوہ میر جان محمد جمالی بھی شکست سےدوچار ہوئے میر ظفر اللہ جمالی کے نااہل قرار پانے والے بھتیجے سابق صوبائی وزیر میرفائق جمالی کی اہلیہ محترمہ راحت جمالی بھی صوبائی اسمبلی کی نشست ہار گئیں تاہم پی پی پی کی جانب سے راحت جمالی کو خواتین کی مخصوص نشست کے لیے سینیٹر بنایا گیا۔ میر ظفر اللہ جمالی کے فرزند اور سیاسی جانشین خود میر ظفر اللہ جمالی اور ان کے بیٹے سابق صوبائی وزیر عمر خان جمالی کی خراب کارکردگی کا ان کی شکست کی وجہ ہے جبکہ عمر خان نے ابھی سے اپنے کمسن بیٹے میر عبدالوہاب جمالی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا ہے ۔ میر ظفراللہ جمالی کی مخصوص نشست پر صرف عمر خان اور عبدالوہاب بیٹھ سکتے ہیں اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ ہم نے اس دوران دیکھا اور محسوس کیا کہ عمر خان کی غیر موجودگی میں صرف میر عبداوہاب بیٹھ سکتے ہیں جبکہ اس دوران میر ظفر اللہ کے بیٹے میر جاوید جمالی اس نشست کو صرف حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہے تھے مگر اس نشست پر بیٹھ نہیں سکے کیوں کہ مسئلہ ”جانشینی“ کا ہے ۔

  • نوشکی میں مسافروں کے قتل میں ملوث  چار مشتبہ افراد گرفتار

    نوشکی میں مسافروں کے قتل میں ملوث چار مشتبہ افراد گرفتار

    نوشکی میں مسافروں کو بس سے نکال کر اغوا کرنے کے بعد قتل کرنے والے 4 مشتبہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق نوشکی میں 12افرادکی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ملزمان گرفتار تاحال گرفتار نہیں ہو سکے ہیں پولیس، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، چار مشتبہ افرادکو پوچھ گچھ کے لیے حرا ست میں لیا گیا ہے،سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں، ملزمان کی گرفتاری کے لیے جیو فینسنگ سمیت جدیدٹیکنالوجی سے مدد حاصل کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل کوئٹہ سے تفتان جانے والی بس کے مسافروں کو دہشتگردوں نے نوشکی میں قومی شاہراہ پر اغوا کے بعد فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا اور لاشیں پہاڑی علاقے میں پھینک کر فرار ہو گئے تھے،ایس پی نوشکی کا کہنا تھا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک بس سے اتارنے کے بعد انھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا اس علاقے کے پہاڑی علاقے میں مسلح شرپسندوں نے کوئٹہ سے تفتان جانے والی ایک بس کو روکا،اس بس سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو اتارا گیا، جنھیں کچھ فاصلے پر لے جانے کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

    راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج کی 9 مئی کے مقدمات …

    ایس ایس پی نوشکی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے مسافروں کا تعلق پنجاب کے علاقے منڈی بہاِؤالدین اور دیگر دو علاقوں سے تھایہ افراد کوئٹہ سے تفتان جانے کے لیے مسافر بس میں بیٹھے تھے انہی شرپسندوں کی طرف سے سلطان چڑھائی کے علاقے میں ایک اور گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تھی گاڑی کے نہ رکنے پر شرپسندوں نے گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس کے باعث گاڑی ایک کھائی میں گر گئی، فائرنگ اور گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کے باعث گاڑی میں سوار دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے، ان کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑی میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق ضلع نوشکی کے علاقے کیشنگی سے ہے۔

    اسرائیلی فوج کی بمباری جاری، مزید 56 سے زائد فلسطینی شہید

    وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے نوشکی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔

  • گوادر سمیت مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ، ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ

    گوادر سمیت مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ، ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ

    کوئٹہ: گوادر سمیت مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ہورہی ہے، پی ڈی ایم اے کے جاری الرٹ کے مطابق صوبے کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : مغربی ہواؤں کا سلسلہ بلوچستان میں داخل ہوگیا ،جس کے تحت تفتان، نوکنڈی اور دالبندین سمیت پاک ایران اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے،گوادر میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے جب کہ تیز ہواؤں کے وجہ سے چھوٹی اور بڑی کشتیوں کو نقصانات پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ، گوادر، کیچ، آواران، چاغی، خاران، پسنی ،اورماڑہ، لسبیلہ، خضدار، قلات، نوشکی، جھل مگسی، نصیر آباد، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لورالائی، ہرنائی، زیارت، چمن اور قلعہ سیف اللہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی برسات ہوئی۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا میں حالیہ بارش کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 32 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 15 بچے اور 5 خواتین بھی شامل ہیں،حادثات میں 41 افراد زخمی بھی ہوئے،زخمیوں میں 6 خواتین، 28 مرد اور 7 بچے شامل ہیں۔