Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • بلوچستان میں بدھ سے شدید بارشوں کی پیشگوئی

    بلوچستان میں بدھ سے شدید بارشوں کی پیشگوئی

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات نےبلوچستان میں بدھ سے شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے،جبکہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہے گا-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے علاوہ ملک کے دیگرعلاقوں میں مطلع جزوی طورپر ابرآلودرہنے کا امکان ہے 17 اپریل سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تیز بارش ہوسکتی ہے جس کے باعث کیچ، گوادر، آوران، خاران، پنجگور، نوشکی قلات سمیت مختلف علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

    بلوچستان کے علاقوں گوادر، کیچ، آواران، چاغی، خاران، پسنی ،اورماڑہ، لسبیلہ، خضدار، قلات، نوشکی، جھل مگسی، نصیر آباد، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لورالائی، ہرنائی، کوئٹہ، زیارت، چمن،پشین،قلعہ سیف اللہ، مستونگ، شیرانی ،ڑوب، موسیٰ خیل اور بارکھان میں آندھی/جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض مقا مات پر شدید/ موسلادھار بارش اور ڑالہ باری کابھی امکان ہے۔

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ سپلائی کرنے والے 6 اسمگلر زگرفتار

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں بدھ کے روز موسم خشک اور مطلع جزوی ابر آلود رہے گا، تاہم بلوچستان میں بیشتر مقامات پر آندھی/جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض مقامات پر موسلادھار بارش / ژالہ باری کابھی امکان ہے،اسی طرح اسلام آباد اور گر دو نواح اور خیبرپختونخواصوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور مطلع جزوی ابر آلود رہے گا تاہم شام/رات میں وزیرستان ،ٹانک،بنوں اور کرم میں تیز ہواوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے –

    پانچویں اور آٹھویں کے سنٹرلایزڈ امتحانات کے نتائج آگئے

    پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہے گا،سندھ میں شام اور رات میں دادو، لاڑکانہ ،جیکب اباد، پڈعیدن ، قمبر شہدادکوٹ ،میرپور خاص،سانگھڑ،جامشورو، حیدر آباد، کراچی میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،اسی طرح کشمیر اورگلگت بلتستان میں موسم خشک اور مطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔

    دریائے جہلم میں اسکول کے بچوں سے بھری کشتی ڈوب گئی،4 بچوں سمیت 6 افراد …

  • جھل مگسی:زمین کا تنازعہ،گندم کٹائی کے دوران فائرنگ،2 بھائی شدید زخمی

    جھل مگسی:زمین کا تنازعہ،گندم کٹائی کے دوران فائرنگ،2 بھائی شدید زخمی

    جھل مگسی، باغی ٹی وی (نامہ نگاررحمت اللہ بلوچ)زمین کا تنازعہ،گندم کٹائی کے دوران فائرنگ،2 بھائی شدید زخمی

    تفصیل کے مطابق لیویز فورس کے مطابق تحصیل جھل مگسی لیویز تھانہ باریجہ اور کوٹ مگسی کے حدود بمقام شادی ہڑ مصر کے قریب زمین کا تنازعہ و گندم فصل کٹائی کے دوران مبینہ طورملزم امداد حسین ولد محمد مراد حسرانی مگسی نے کلاشنکوف سے فائرنگ کرکے دو بھائیوں عبدالکریم اور خورشید پسران معشوق حسرانی مگسی کو شدید زخمی کرکے ملزم اسلحہ سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا

    اطلاع ملنے پرلیویز فورس نے دونوں زخمیوں کو بی ایچ یو باریجہ لایا جہاں ان کو ابتدائی طبی امداد دیکر بعد ازاں زخمیوں کو لاڑکانہ سندھ ریفر کردیا۔

    تاہم زخمیوں حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے

  • بلوچستان :وزیر اعلی کا  آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو پائلٹ پراجیکٹ تیار کرنے کی ہدایت

    بلوچستان :وزیر اعلی کا آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو پائلٹ پراجیکٹ تیار کرنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبے بھر میں ای گورننس سسٹم کے مرحلہ وار نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ گورننس کی کمزوریوں کو دور کرتے ہوئے جو عوامی مشکلات کا باعث بنی ہیں، وزیر اعلیٰ نے عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کی کمی کو اجاگر کیا۔وزیر اعلیٰ سر فراز بگٹی کی سربراہی میں گزشتہ روز اصلاحاتی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں گورننس کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات اور ٹائم لائنز وضع کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔صوبے میں گھوسٹ اور غیر حاضر ملازموں کے محاسبہ کے لئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر اعلی نے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو پائلٹ پراجیکٹ تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔
    اجلاس میں سی ایم ڈی یوکو فعال کرنے کے لئے نجی شعبے سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ کمیٹی میں شامل ماہرین متعلقہ شعبوں کی بہتری سے متعلق سفارشات مرتب کریں، گورننس کی بہتری کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی کا آغاز بی ایم سی، سول سنڈیمن ہسپتال اور یونیورسٹی آف بلوچستان سے کیا جائے۔سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ اے آئی نظام کا نفاذ مرحلہ وار پورے صوبے میں کیا جائے گا، گورنفس کی کمزوریوں کے باعث عوام مشکلات سے دو چار ہیں، عوام اور حکومتی محکموں کے مابین اعتماد کا فقدان ہے، ہم نے عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا ہے، گڈ گورننس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کر پشن ہے۔

  • ڈیرہ مراد جمالی شہر کی الاٹمنٹ کو عوامی امنگوں کے مطابق یقینی بنایا جائے گا، میر محمد صادق عمرانی

    ڈیرہ مراد جمالی شہر کی الاٹمنٹ کو عوامی امنگوں کے مطابق یقینی بنایا جائے گا، میر محمد صادق عمرانی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ نصیر آباد کے عوام کی طبی سہولیات کی غرض سے شہید بینظیر بھٹو میڈیکل کالج کے لیے 2 ہزار ملین روپے کا بجٹ منظور کرایا ہے اس کی جلد تعمیر شروع ہو جائے گی میڈیکل کالج میں 500 بیڈز پر مشتمل ہسپتال تعمیر کیا جائے گا یہ بات انہوں نے ڈیرہ مراد جمالی میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی اس موقع پر پی پی پی نصیر آباد کے ڈویزنل صدر میر بلال خان عمرانی بھی موجود تھے میر صادق عمرانی نے کہا کہ پٹ فڈر کینال کو پختہ کرنے کے لیے 65 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا گیا ہے اس پراجیکٹ کی تکمیل سے نصیر آباد میں زرعی انقلاب آ جائے گا ڈیرہ مراد جمالی شہر کی تعمیر و ترقی اور مکینوں کو ایک ایک سولر اور دو دو پنکھے بھی فراہم کیے جائیں گے جس کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ نکاسی آب اور شہر کی الاٹمنٹ کے مںصوبے پر عمل درآمد کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نصیر آباد پولیس کی کارکردگی غیر تسلی بخش اور مایوس کن ہے سنگین جرائم کی وارداتوں میں اضافہ باعث تشویش ہے شہریوں کی جان اور مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کو موثر اقدامات کرنا چاہئے انہوں نے شہریوں کی شکایات پر کہا کہ نصیر آباد کے سرکاری افسران دفتروں سے غائب ہونے کی بجائے اپنی حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کی جائز شکایات کا ازالہ ممکن ہو سکے انہوں نے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس کی تعمیر کو یقینی بنانے کے لیے اس کے پراجیکٹ ڈائریٹر کو پنجگور میں بیٹھنے کے بجائے ڈیرہ مراد جمالی میں بیٹھنا چاہیے انہوں نے کہا کہ چھتر فلیجی اور میرحسن کے علاقوں میں عوام کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی اسکیمیں شروع کی جائیں گی،

  • جھل مگسی:زمین کاتنازعہ،فائرنگ،جنگ بندی کے لیے جانے والا شخص جاں بحق

    جھل مگسی:زمین کاتنازعہ،فائرنگ،جنگ بندی کے لیے جانے والا شخص جاں بحق

    جھل مگسی،باغی ٹی وی(نامہ نگاررحمت اللہ بلوچ)زمین کاتنازعہ،فائرنگ،جنگ بندی کے لیے جانے والا شخص جاں بحق

    لیویز فورس کے مطابق جھل مگسی کے علاقے موضع کرمانی سب تحصیل میر پور جویہ اور چاندرامہ قبائل میں زمین کے تنازع پر فائرنگ جاری ہے

    دو نوں گروہوں کی جنگ بندی کے لیے جانے والا شخص محمد حیات ولد دوست محمد وزدانی مگسی سکنہ گوٹھ مولوی سب تحصیل میر پور جاں بحق ہو گیا ہے

    لیویز فورس موقع پر پہنچ گئی تاہم آخری اطلاع آنے تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جسکی

  • نواب اکبر بگٹی کی پُر اسرار شخصیت

    نواب اکبر بگٹی کی پُر اسرار شخصیت

    نواب اکبر بگٹی کی پُر اسرار شخصیت

    قصے اور کہانیاں/آغا نیاز مگسی

    بلوچستان قبائلی نوابوں اور سرداروں کی سرزمین ہے . اس سرزمین میں کٸی نامور قباٸلی سرداروں نے جنم لیا ہے . قیامِ پاکستان سے قبل جو نامور بلوچ سردار گزرے ہیں ان میں سردار چاکر خان رند ، سردار گوہرام خان لاشاری ، خان آف قلات نوری نصیر خان ، میر محراب خان ، میر محمود خان و دیگر اکابرین ہیں لیکن ان میں نواب یوسف عزیز مگسی ان سب سے مختلف ثابت ہوئے اس لیے کہ انہوں نے روایتی قباٸلی سوچ اور جنگ و جدل کے برعکس شعور و آگاہی کی تحریک چلاٸی اور علم کی شمع روشن کرنے کی مہم شروع کی تھی اور بلوچستان کے قبائلی سماج میں سیاسی جدوجہد کی ابتدا بھی انہوں نے کی ۔ اس لیے نواب یوسف عزیز مگسی کو اولین بلوچ قاٸد کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے .

    قیامِ پاکستان کے بعد جو بلوچ نواب اور سردار سیاسی اور قباٸلی لحاظ سے عزت اور شہرت کی بلندیوں پر فاٸز ہوٸے ان میں میر غوث بخش بزنجو جن کو بابائے بلوچستان بھی کہا جاتا ہے ، میر جعفر خان جمالی جن کو فدائے ملت بھی کہا جاتا ہے ، کے علاوہ نواب اکبر خان بگٹی سردار عطا اللّٰہ مینگل نواب خیر بخش مری نواب نوریز خان زہری، سردار دودا خان زہری ، نواب غوث بخش رئیسانی ، میر ظفراللّٰہ خان جمالی و دیگر اکابرین شامل ہیں. اگر ان شخصیات میں سے شارٹ لسٹ بنائی جائے تو ان میں صرف 4 قبائلی سربراہان کے نام آئیں گے جن میں نواب نوریز خان زہری ، نواب اکبر خان بگٹی ، سردار عطا اللّٰہ مینگل اور سردار دودا خان زہری شامل ہیں . سردار دودا خان زہری کا کوئی سیاسی کردار اور کوئی سماجی خدمت نہیں تھی لیکن ان کا نام خوف اور دہشت کی علامت بنا ہواتھا . بلوچستان میں خان آف قلات میر محمود خان احمد زئی چیف آف جھالاوان سردار دودا خان زہری اور نواب اکبر خان بگٹی 3 ایسے قبائلی سربراہ گزرے ہیں جن کا نام لیتے ہوئے بھی لوگوں کے دلوں پر ہیبت طاری ہو جایا کرتی تھی. اس حوالے سے آج بھی ان کی مثالیں دی جاتی ہیں .

    نواب اکبر خان بگٹی کی شخصیت بہت پُراسرار اور دلچسپ تھی. وہ بہت کم گو اور مختصر گفتگو کیا کرتے تھے . اس لیے ان سے کسی کا بے تکلف ہونا بہت مشکل تھا مگر مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ گفتگو میں مجھ سے کافی حد تک بے تکلف تھے اس لیے مجھے ان سے عام نوعیت کے سوالات کے علاوہ ذاتی اور نجی زندگی کے متعلق بھی سوالات کرنے میں آسانی رہتی تھی . نواب بگٹی بہت ضدی، انا پرست اور بہادر انسان تھے ان میں لچک نہیں تھی . کہا جاتا ہے کہ انسان ہو یا دوسرا کچھ جس میں لچک نہیں ہوتی وہ ٹوٹ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ نواب صاحب نے بھی زندگی کے کارِزار میں ٹوٹنا پسند کیا لیکن جھکنا کسی صورت قبول نہیں کیا اور باالاآخر وہ 26 اگست 2006 کو ٹوٹ گئے . وہ تمام عمر کشیدہ سر رہے ، جھکے نہیں . وہ بہت بااصول اور عملیت پسند انسان تھے اور اس میں کبھی بھی مصلحت یا سودیبازی کا شکار نہیں ہوتے تھے . وہ دوستی اور دشمنی خوب نبھاتے تھے خواہ کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو . وہ عدل اور انصاف کا قاٸل تھے . ایک بار ان کے فرزند نوابزادہ طلال بگٹی نے ڈیرہ بگٹی میں اپنے شہر کی ایک ہندو لڑکی سے جنسی زیادتی کر ڈالی جس پر وہ اپنے بیٹے کو قتل کرنا چاہتے تھے مگر لوگ درمیان میں بیچ بچاٶ کرانے آ گٸے . انہوں نے اپنے بیٹے طلال کی اس شرط پر جان بخشی کی کہ وہ ابھی اور اسی وقت ڈیرہ بگٹی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل جاٸے چنانچہ نوابزادہ طلال وہاں سے علاقہ بدر ہو کر چلا گیا اور جب تک نواب صاحب زندہ رہے طلال سے نہ صرف کبھی بھی رابطہ نہیں رکھا بلکہ اسے کبھی واپس آنے نہیں دیا .

    نواب اکبر خان بگٹی کی وفات پر نوابزادہ طلال کی واپسی ممکن ہو سکی . 1977 کو جب جنرل ضیاالحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا تو جب تک ملک میں مارشل لا رہا نواب بگٹی نے قومی زبان اردو میں بات چیت کا بائیکاٹ کیا . اس طرح 8 سال تک انہوں نے اردو میں بات نہیں کی . وہ قانون کا بہت احترام کرتے تھے اور کرپشن کے سخت مخالف تھے بلوچستان میں وہ واحد شخصیت تھے جو پوری دیانتداری کے ساتھ اپنی آمدن کا ٹیکس ادا کیا کرتے تھے . انہوں نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال تک خود کو ڈیرہ بگٹی میں محدود اور محصور کر رکھا اور کہیں باہر نہیں گیا اور اس دوران گوشت کا سالن بھی نہیں کھایا .

    ایک بار میں نے ان سے دریافت کیا کہ انہوں نے گوشت کا استعمال کیوں ترک کیا حالانکہ وہ بلوچی سجی بڑے شوق سے کھاتے تھے اور دوسرا یہ کہ وہ ڈیرہ بگٹی سے باہر کیوں نہیں جاتے تو انہوں نے بڑا دلچسپ اور حیران کن جواب دیا . انہوں نے کہا کہ میں بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی شخصیت سے متاثر ہوں اس لیے ان کی تقلید کرتے ہوٸے گوشت کا استعمال ترک کیا ہے انہوں نے وضاحت کی کہ بدھ مت مذہب میں صوفی ازم پایا جاتا ہے جس پر عمل کرنے والوں کو شاکاری کہا جاتا ہے وہ لوگ گوشت نہیں کھاتے . ڈیرہ بگٹی سے باہر نہ جانے کے متعلق میرے سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے ڈیرہ بگٹی سے باہر جانا اس لیے چھوڑ دیا ہے کہ تمام دنیا کی نظریں ڈیرہ بگٹی پر لگی ہوٸی ہیں چناں چہ میں اپنی زندگی کا بقیہ حصہ ڈیرہ بگٹی میں گزارنا چاہتا ہوں حالانکہ نواب بگٹی سیر و سیاحت ااور مطالعے کے بڑے شوقین تھے . انہوں نے 22 ممالک کا دورہ کیا تھا جن میں امریکہ اور برطانیہ بھی شامل تھے . جبکہ پاکستان میں لاہور ان کا پسندیدہ شہر تھا . وہ اس سے قبل ہر سال سردیاں گزارنے لاہور جایا کرتے تھے . وہ اتنے خوبصورت اور متاثر کن شخصیت کے مالک تھے کہ لوگ ان کو پہلی نظر میں دیکھنے کے بعد باربار دیکھنے کے آرزومند رہتے تھے ان میں مرد خواہ خواتین دونوں شامل تھے .

    ڈیرہ بگٹی میں نواب بگٹی کے مہمان خانہ میں ان کی نشست و برخاست اور خلوت کے لیے مخصوص کمرے میں ایک شیر کی تصویر آویزاں تھی میں نے ان سے پوچھا اس کی وجہ کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ لندن میں ایک سکھ سردار میرا دوست ہے اس نے یہ تحفہ دیا ہے اس لیے میں نے سنبھال رکھا ہے جس سے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ شاید نواب صاحب نے خود کو شیر سے تشبیہہ دے رکھی ہے اور اس میں کوٸی شک بھی نہیں کہ وہ ایک شیر دل انسان تھے . ان کی پسند بھی بہت دلچسپ تھی . ان کی آٸیڈیل شخصیات 3 تھیں جن میں حکمرانوں میں دنیا کو تباہ کن جنگ میں دھکیلنے والے جرمنی کے سربراہ ہٹلر ، شعرا میں بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور اور مذہبی شخصیات میں بدھ مت کے بانی گوتم بدھ شامل تھے . وہ سخی اور فیاض قسم کے سردار تھے . ڈیرہ بگٹی میں ان کے مہمان خانے میں روزانہ 200 کے لگ بھگ افراد کو ان کی جانب سے مفت کھانا کھلایا جاتا تھا اور وہ کھانا نہایت عمدہ اور لذیذ ہوتا تھا جس میں امیر اور غریب کی کوئی تخصیص نہیں تھی .

    ایک دفعہ مجھے صحافی دوستوں نے نواب بگٹی سے ڈیرہ بگٹی میں خصوصی ملاقات اور انٹرویو کیلٸے وقت مانگنے کا کہا میں نے فون پر ان سے وقت مانگا تو انہوں نے کہا کہ آپ لوگ جب چاہیں آ سکتے ہیں . اس سلسلے میں ایک روز ان کی ہدایت پر دریحان بگٹی نے مجھے فون کرکے معلوم کیا کہ نواب صاحب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کتنے دوست کب اور کس راستے سے اور کون سی سواری پر آٸیں گے سو میں نے اپنے صحافی دوستوں عبدالستار ترین دھنی بخش مگسی شیخ عبدالرزاق اور محمد وارث دیناری سے مشورہ کر کے ان کو شیڈول بتا دیا . جب اور جس دن ہم روانہ ہوئے تو راستے میں ایک پولیس تھانہ کے ایس ایچ او نے میرے صحافی دوستوں کو دوپہر کو اپنے ہاں کھانا کھلانے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے ہمیں ڈیرہ بگٹی جانے میں تاخیر ہو گٸی اور راستے میں ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی میسر نہیں تھی . جب ہم ڈیرہ بگٹی شہر میں داخل ہوئے تو وہاں کے شہری ہمیں بتانے لگے کہ نواب صاحب آپ لوگوں کی تاخیر کے باعث فکر مند ہیں اور باربار پوچھ رہے تھے . جب ہم ان سے ملے تو انہوں نے مسکراتے ہوۓ کہا کہ میں تو بی بی سی میں آپ لوگوں کے ڈیرہ بگٹی جاتے ہوئے اغوا ہونے کی خبر سننے کا منتظر تھا . ان سے اس رات ہماری طویل اور یادگار نشست ہوئی.

    نواب بگٹی بلوچستان کے گورنر وزیر اعلیٰ اور متحدہ پاکستان کے ابتدائی دور میں وزیر دفاع کے عہدے پر بھی فائز رہے . وہ اپنے بگٹی قبیلے میں اتنے مقبول اور قابلِ احترام تھے کہ وہ لوگ ایک برگزیدہ ہستی کی طرح نواب بگٹی کے سر اور داڑھی کی قسم کھا کر کسی بات کا یقین کراتے تھے مگر 24 اگست 2006 کو اس کے اپنے ہی قبیلے کے ہزاروں افراد نے ڈیرہ بگٹی میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد کر کے نواب اکبر بگٹی کو سرداری کے منصب سے ہٹانے اور بگٹی قبیلے میں سرداری نظام کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ان میں ان کے بھتیجے اور ان کے ہی منتخب کردہ ایم پی اے حاجی جمل خان بگٹی بھی شامل تھے جبکہ میں بھی اس جرگے میں میڈیا کوریج کے لیے موجود تھا . اس دن بگٹی قبیلے میں بڑا جوش و خروش محسوس ہو رہا تھا . اس سے صرف 2 روز بعد ہی 26 اگست 2006 کو ضلع کوہلو کے پہاڑوں کی ایک غار میں نواب صاحب کے جانبحق ہونے کا سانحہ پیش آیا . جہاں سے 3 روز بعد ان کی میت برآمد ہوٸی اور ان کی مسخ شدہ لاش کو ڈیرہ بگٹی میں سپرد خاک کیا گیا . ان کی میت کی تدفین کے موقع پر بھی میں وہاں موجود تھا وہ ایک بڑا عبرتناک منظر تھا. ان کی جنازہ نماز اور تدفین میں صرف ایک درجن کے لگ بھگ مقامی افراد شریک ہو سکے تھے جنہوں نے جنازہ نماز کے بعد ان کے تابوت کو بھی لحد میں اتارا تھا جس کے لیے وہاں آنسوں بہانے اور ان کی قبر پر پھول نچھاور کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

  • جھل مگسی:صلاح الدین مگسی پرفائرنگ کرنے والے چور گرفتار

    جھل مگسی:صلاح الدین مگسی پرفائرنگ کرنے والے چور گرفتار

    جھل مگسی،باغی ٹی وی (نامہ نگاررحمت اللہ بلوچ)صلاح الدین مگسی پرفائرنگ کرنے والے چور گرفتار
    تفصیل کے مطابق گزشتہ روز قبل نوابزادہ میر محمد اکبر خان مگسی کے نائب صلاح الدین مگسی پر اکبر خان مگسی لانڈھی کے مقام پر گاڑی پر چوروں نے فائرنگ کردی تھی, جس کے بعد صلاح الدین مگسی کی مدعیت میں لیویز تھانہ جھل مگسی میں ایف آئی آر درج کی گئی

    بعد ازاں ڈپٹی کمشنر جھل مگسی محمد اعجاز سرور اور اسسٹنٹ کمشنر جھل مگسی فہد شاہ راشدی کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ایس ایچ او لیویز تھانہ جھل مگسی صوبہ خان چنجنی, حوالدار علی گوہر مگسی بمعہ لیویز پارٹی کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان محمد ملوک ولد غوث بخش قوم محمدانی کاتر مگسی اور غلام محمد ولد علی محمد قوم کٹوہر مگسی کو 337H, 109, 42 دفعات میں گرفتار کرکے لاک اپ کردیا ہے۔

    لیویز فورس نے تحقیقات کا آغازکردیا ہے

  • جھل مگسی:گنداواہ نوتال روڈ پر جنگلی چوکی کے قریب ڈاکوؤں  نے گن پوائنٹ پر مسافروں کو لوٹ لیا

    جھل مگسی:گنداواہ نوتال روڈ پر جنگلی چوکی کے قریب ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر مسافروں کو لوٹ لیا

    جھل مگسی ،باغی ٹی وی (نامہ نگاررحمت اللہ بلوچ)گنداواہ نوتال روڈ پر جنگلی چوکی کے علاقے میں ڈکیتی کا واقعہ رونما ہوا ہے

    تفصیل کے مطابق گنداواہ سے جیکب آباد جانے والی ویگن کو مُسلح افراد نے گن پوائنٹ پر روک لیااور مسافر ویگن میں سوار افراد سے موبائل فون نقدی چھین کر فرار ہوگئے.

    واضع رہے گنداواہ نواتال روڈ پر ایسے واقعات روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔

    قانون نافذ کرنے والے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں راہزنوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جارہی ،عوامی و سماجی حلقوں نے ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

  • جھل مگسی:مکران ڈویژن کو صوبائی کابینہ میں نمائندگی دی جائے، میر شعیب گاجی زئی

    جھل مگسی:مکران ڈویژن کو صوبائی کابینہ میں نمائندگی دی جائے، میر شعیب گاجی زئی

    جھل مگسی، باغی ٹی وی (نامہ نگاررحمت اللہ بلوچ)مکران ڈویژن کو صوبائی کابینہ میں نمائندگی دی جائے، میر شعیب گاجی زئی
    تفصیل کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع کیچ پی بی 26 تربت سٹی 2 سے پارٹی ٹکٹ ہولڈر میر شعیب احمد گاجی زئی نے اپنے بیان کہا کہ ہم قائد مسلم لیگ میاں محمد نواز شریف سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ مکران ڈویژن کو صوبائی کابینہ میں نمائندگی دی جائے

    مسلم لیگ ن کے ایم پی اے میر حاجی برکت رند کو اچھی وزارت وزارت کا قلم دان سونپا جائے تاکہ مکران میں مسلم لیگ مزید منظم ہو سکے کیونکہ مکران ڈویژن کی عوام کو ہر دور میں پسماندہ رکھا گیا ہے۔

    مکران میں فیڈریشن سیاست کرنا آسان کام نہیں ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ مکران کے مسلم لیگی کارکنان سر پر کفن باندھ کر مسلم لیگ نواز پاکستان کی استحکام کے لیے شب و رزو محنت کرتے ہیں اگر صوبائی کابینہ میں مکران نظر انداز کیا گیا تو اس عمل سے جو نظریاتی کارکنان ہیں ان میں مایوسی پیدا ہوگی اور عوام سے برداشت نہیں کیا جائے گا

    مکران مسلم لیگی کارکنوں کی گڑھ ہے، مکران کی عوام قائد مسلم لیگ میاں محمد نواز شریف سے دلی محبت کرنے والے لوگ ہیں مسلم لیگی کارکنان کی پیش کردہ مشترکہ اپیل کو منظور کرکے ہر ڈویژن میں ایک وزارت مسلم لیگ نواز کودی جائے جس سے پارٹی مضبوط ومستحکم ہوگی .

  • جھل مگسی:لیویز فورس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کارروائیاں جاری

    جھل مگسی:لیویز فورس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کارروائیاں جاری

    جھل مگسی،باغی ٹی وی(نامہ نگاررحمت اللہ بلوچ)جھل مگسی لیویز فورس کا ملزمان کیخلاف کارروائیاں جاری

    ڈپٹی کمشنر جھل مگسی اعجاز سرور اور اسسٹنٹ کمشنر جھل مگسی فہد شاہ راشدی کے احکامات کی روشنی میں رسالدار لیویز تھانہ جھل مگسی دفعدار صوبہ خان چنجنی, حوالدار علی گوہر مگسی ودیگر لیویز فورس کے اہلکاروں کی ٹیم کے ہمراہ خفیہ اطلاع کارروائی کی

    اس کارروائی عمل میں مقدمہ فرد نمبر 18/2021 بجرم زیر دفعہ 148-147/ 34-324 میں مطلوب روپوش ملزم ممتاز علی ولد عبدالرزاق قوم سارنگانی مگسی ساکن جھل مگسی کو حسب ضابطہ گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا ہے

    مزید تفتیش لیویز فورس جھل مگسی کررہی ہے۔