Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • خضدار میں زلزلے کے جھٹکے

    خضدار میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے علاقے خضدار میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    بلوچستان کے علاقے خضدار میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.4 ریکارڈ کی گئی، حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز خضدار سے 83 کلومیٹر شمال مشرق کی جانب واقع تھا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم شہری احتیاطاً گھروں اور دفاتر سے باہرنکل آئے ماہرین کے مطابق کم شدت کے زلزلے عام طور پرزیادہ تباہ کن نہیں ہوتے تاہم احتیاطی تدابیراختیار کرنا ضروری ہے، ضلعی انتظامیہ صورتحال کی نگرانی کررہی ہے۔

    سپارکو کی رمضان المبارک کے چاند سے متعلق پیشگوئی جاری

    کراچی: جماعت اسلامی کا کل شہر میں 10 مقامات پر دھرنوں کا اعلان

    بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

  • بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان کا نام لیتے ہی محرومی، ناانصافی اور پسماندگی کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان صرف مرکز کی بے حسی کا نتیجہ ہے، یا اس میں صوبے کی اپنی قیادت کا کردار بھی شامل ہے؟ حالیہ دنوں چوہدری فواد حسین نے ایک سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کے فنڈز بلوچستان کے لیے جاری ہوئے، مگر زمینی حقائق کیوں نہیں بدلے؟ یہ سوال بعض حلقوں کو ناگوار ضرور گزرا ہوگا، مگر اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

    بلوچستان پر دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں اور سرداروں کی سیاست حاوی رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی انہی کو حاصل رہی، وزارتیں بھی انہی کے حصے میں آئیں اور مراعات بھی، مگر جب صوبے کی حالت پر نظر ڈالی جائے تو تعلیم کا فقدان، صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال، ٹوٹی سڑکیں اور بے روزگار نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وسائل نہیں ملے تو آواز اٹھانا بجا ہے، لیکن اگر وسائل ملے اور پھر بھی عوام محروم رہے تو سوال قیادت سے ہوگا۔

    اسی دوران اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا یہ کہنا کہ فوج چند اضلاع کی نمائندہ ہے، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان محسوس ہوتا ہے۔ افواجِ پاکستان میں ہر صوبے، ہر قومیت اور ہر علاقے کے لوگ شامل ہیں۔ بلوچ افسران اور جوان بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی اداروں کو لسانی یا علاقائی بنیاد پر تقسیم کرنے کا بیانیہ دراصل اتحاد کو کمزور کرتا ہے، مضبوط نہیں۔

    بلوچستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور امن چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت خود احتسابی سے گریز کرے اور ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دے تو مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ الجھتے چلے جاتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کی سیاست نعروں سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ جو قیادت برسوں سے اقتدار میں رہی، اسے اپنا حساب دینا ہوگا۔ اور جو آج قومی اداروں پر تنقید کرتی ہے، اسے بھی ذمہ دارانہ زبان اختیار کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں الزام تراشی سے نہیں، دیانتدار قیادت اور سنجیدہ طرزِ سیاست سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • پی پی ایل کے باوجود وعدوں پر عمل نہ ہونا تشویشناک ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

    پی پی ایل کے باوجود وعدوں پر عمل نہ ہونا تشویشناک ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عوام کا مفاد سب سے مقدم ہے اور وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پی پی ایل انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام کا اجلاس منعقد ہوا جس میں دونوں فریقین کے مابین طے شدہ معاہدے پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں اسکالرشپ، سوئی ٹاؤن کی طوطا کالونی، عدل خان اور پھونگ کالونی میں گیس کی عدم فراہمی اور ملازمتوں میں سست روی پر وزیر اعلیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کیا،سوئی سے نکلنے والی گیس سے سوئی ٹاؤن کے باسی محروم ہیں اور آج بھی خواتین لکڑیو ں پر روٹی پکانے پر مجبور ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ پی پی ایل کے باوجود وعدوں پر عمل نہ ہونا تشویشناک ہے، اسکالرشپس، سن کوٹہ اور مقامی بھرتیوں میں تاخیر ناقابل قبول ہے، اور ویل چوکیدار کی خالی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی میں حیل و حجت قبول نہیں، انہوں نے ہدایت دی کہ سن کوٹہ کے تحت خالی آسامیوں پر فوری مقا می بھرتی کی جائے اور مقررہ ٹائم لائن میں عملی پیشرفت نہ ہوئی تو دیگر آپشنز زیر غور آئیں گے۔

    پی پی ایل حکام نے اجلاس میں یقین دہانی کرائی کہ گیس فراہمی کا 80 فیصد کام مکمل ہے اور تمام زیر التوا امور جلد از جلد نمٹا کر عوامی مسائل کا ادراک کیا جائے گا۔

  • مریم نواز ایک روزہ سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئیں

    مریم نواز ایک روزہ سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئیں

    کوئٹہ:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ایک روزہ سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئیں۔

    کوئٹہ ایئرپورٹ پر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صوبائی وزراء کے ہمراہ ان کا پرتپاک استقبال کیا جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب گورنر ہاؤس پہنچیں جہاں ان کی گورنر بلوچستان سے ون ٹو ون ملاقات شیڈول ہےمریم نواز حالیہ دہشت گرد حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں سے ملاقات اور ان سے اظہار یکجہتی کریں گی، اس کے علاوہ ان کی بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی سے بھی ملاقات متوقع ہے گورنر ہاؤس میں کابینہ اراکین کے ساتھ بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت بھی ہوگی۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہمراہ صوبائی وزراء مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری اور چیف سیکرٹری پنجاب بھی موجود ہیں، یہ دورہ بلوچستان کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔

  • میٹرک کے امتحانات 10 فروری سے شروع ، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

    میٹرک کے امتحانات 10 فروری سے شروع ، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

    ‎وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر میں میٹرک کے امتحانات 10 فروری 2026 سے شروع ہوں گے۔ انہوں نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر باضابطہ اعلان کیا۔
    ‎وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ امتحانات کے دوران نقل کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی قسم کی بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نقل کے خاتمے کے لیے پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ تعلیم باہمی رابطے سے کام کریں گے۔
    ‎سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیم سمیت تمام شعبوں میں بلوچستان کو کرپشن سے پاک کرنے کے عزم پر قائم ہے اور اس مقصد کے لیے سخت فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات سامنے آئے، جنہیں پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائیوں کے ذریعے ناکام بنایا۔
    ‎ذرائع کے مطابق کوئٹہ، گوادر، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران اور پسنی سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کے بعد تین روزہ آپریشن کے دوران پاک فوج، فرنٹیئر کانسٹیبلری، پولیس اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے 22 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 197 دہشت گرد مارے گئے۔

  • 
بلوچستان میں حالات معمول پر، کوئٹہ میں سیکورٹی آپریشن جاری

    
بلوچستان میں حالات معمول پر، کوئٹہ میں سیکورٹی آپریشن جاری

    
حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں حالات کے معمول پر آنے کا اعلان کیا ہے، تاہم کوئٹہ کے بعض علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن جاری ہے۔ ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق کوئٹہ میں آپریشن کے دوران تقریباً 100 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
    انہوں نے بتایا کہ شہر میں انٹرنیٹ سروس آج بحال کر دی جائے گی، تاہم جہاں آپریشن جاری ہے وہاں عارضی طور پر انٹرنیٹ سروس متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب نوشکی اور مستونگ میں جیل پر حملوں کے بعد تقریباً 60 قیدی فرار ہو گئے ہیں، جن کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے۔
    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پنجگور اور ہرنائی میں کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 216 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جس سے بھارتی پراکسی نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا اور ان کی قیادت و کمانڈ سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
    ‎صوبائی حکومت نے نوشکی میں نقصان زدہ سڑکوں کی بحالی کا کام بھی شروع کر دیا ہے تاکہ عام شہریوں کی نقل و حمل پر اثر کم سے کم ہو۔ بلوچستان حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں تاکہ امن و امان قائم رکھا جا سکے۔

  • نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ، نامعلوم مسلح افراد نے احمد وال ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار ٹرین کو راکٹ سے نشانہ بنایا، جس سے ٹرین کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پولیس اور ریلوے ذرائع کے مطابق یہ حملہ گزشتہ رات کے اوقات میں ہوا، جب ٹرین گزشتہ پانچ دنوں سے اسی اسٹیشن پر کھڑی تھی راکٹ لگنے سے انجن مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا ہے، اور اب ٹرین کو لے جانے کے لیے دوسرا انجن بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، مگر ابھی تک متبادل انجن نہیں پہنچ سکا، اس حملے سے خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ریلوے ٹریک اور سامان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    احمد وال ریلوے اسٹیشن نوشکی اور آس پاس کے علاقوں کے لیے اہم لاجسٹک پوائنٹ ہے، جہاں سے سامان کی ترسیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہےاسی علاقے میں گلنگور کے مقام پر بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے قومی شاہراہ (نیشنل ہائی وے) پر ایک اہم پل کو نشانہ بنایا،جس سے پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق پل کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو سکتی ہےیہ پل نوشکی اور دیگر اضلاع کو ملانے والا اہم راستہ ہے،اور اس کی تباہی سے آمدورفت میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

    ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے بعد فوری طور پر علاقے کی تلاشی شروع کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی فورسز نے احمد وال اور آس پاس کے علاقوں میں گشت بڑھا دی ہے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    مسافروں اور تاجروں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ ایسی کارروائیوں سے سامان کی ترسیل اور روزمرہ زندگی پر اثر پڑ سکتا ہےسیکیورٹی فورسز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر مکمل کنٹرول ہے، اور جلد ہی مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گاتاہم،علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی وارداتوں کو روکا جا سکے۔

  • آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے،سرفراز بگٹی

    آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے،سرفراز بگٹی

    زیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے-

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان اور ان کے سرپرستوں کو واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل اے ایک فتنہ ہے جو معصوم شہریوں اور مزدوروں کو نشانہ بناتا ہےیہ فتنہ بھارت کی ایماء پرپاکستان کی ترقی کے راستےمیں حائل ہے، پاکستان اپنی وحدت،ترقی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، فتنہ انگیزی کی ہرکوشش کاموثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا ریاست الحمدللہ مضبوط اورقوم متحد ہے، پاکستان کے خلاف اٹھنے والا ہر ہاتھ قانون کے مطابق نہ صرف پوری طاقت سے روکا جائے گا بلکہ ہمیشہ کیلئے توڑ دیا جائے گا، انشاءاللہ، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

    صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن

    امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

  • بلوچستان میں جعفر ایکسپریس اور پسینجر ٹرین بحال،بولان سروس تاحال معطل

    بلوچستان میں جعفر ایکسپریس اور پسینجر ٹرین بحال،بولان سروس تاحال معطل

    محکمہ ریلویز کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے اندرون ملک ٹرین سروس کو بحال کر دیا ہے،جبکہ کراچی سے کوئٹہ کیلئے بولان میل 12 فروری تک منسوخ رہے گی۔

    ریلوے حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث 31 جنوری کو ہونے والے حملوں کے بعد گزشتہ پانچ روز سے معطل ٹرین سروس کو بحال کر دیا گیا ہے، کوئٹہ سے اندرونِ صوبہ بلوچستان اور دیگر صوبوں کیلئے ٹرین آپریشن مرحلہ وار دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوگئی، جس کے بعد مسافروں نے سکھ کا سانس لیا، اسی طرح کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی سروس بھی آج سے بحال کر دی گئی ہے۔

    چینی شہریوں کو ہرممکن سکیورٹی فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،محسن نقوی

    ریلوے انتظامیہ کے مطابق کراچی اور کوئٹہ کے درمیان چلنے والی بولان میل ٹرین سروس آئندہ چند روز میں بحال کر دی جائے گی بلوچستان میں بد امنی کے واقعات کی وجہ سے اندورن ملک کے لئے ٹرین سروس 31 جنوری کو معطل کی گئی تھی۔

    بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل

  • بلوچستان سکیورٹی الرٹ – این۔40 ہائی وے پر پل تباہ

    بلوچستان سکیورٹی الرٹ – این۔40 ہائی وے پر پل تباہ

    ‎ڈسٹرکٹ نوشکی کے گولانگر علاقے میں مسلح افراد نے این۔40 ہائی وے پر ایک اہم پل تباہ کر دیا ہے، جس کے باعث بین اضلاعی زمینی رابطہ شدید متاثر ہوا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ راستے پر گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہے اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی صورتحال غیر مستحکم ہے۔
    ‎سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ این۔40 کے متاثرہ حصے پر کوئی محفوظ گزرگاہ تصدیق شدہ نہیں، اور دستیاب متبادل راستے بھی سکیورٹی خدشات کے باعث خطرناک سمجھے جا رہے ہیں۔
    ‎تمام مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کے مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ درج ذیل راستوں پر فی الحال سفر نہ کریں:
    * کوئٹہ, نوشکی
    * کردگیپ اور مستونگ سیکٹرز
    * تفتان , ڈالبندین
    * خاران
    ‎سکیورٹی ادارے علاقے میں نقصان اور خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور صورتحال کی نگرانی جاری ہے۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ صرف ہنگامی حالات میں ہی سفر کریں اور مزید معلومات کے لیے سرکاری اعلانات کا انتظار کریں۔