Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • بارکھان میں مسلح افراد کی پولیس گاڑی پر فائرنگ، ڈی ایس پی شہید

    بارکھان میں مسلح افراد کی پولیس گاڑی پر فائرنگ، ڈی ایس پی شہید

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں مسلح افراد کی پولیس گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی رکھنی مرید بگٹی شہید ہوگئے۔

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں نامعلوم افراد نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس مرید بگٹی شہید ہوگئے،پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ کھنہ چوکی کے قریب پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے پولیس گاڑی پر حملہ کیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔

    ایس پی بارکھان عبدالحق نے بتایا کہ ڈی ایس رکھنی مرید بگٹی علاقے میں گشت کر رہے تھےکہ بارکھان کے علاقے کھٹہ چوکی کے مقام پر مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کردی، مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس بارکھان مرید بگٹی شہید ہوگئے، اطلاع ملنے پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری ملزمان کی گرفتاری کیلئے موقع پر پہنچ گئی ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

  • کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا

    کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا

    کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا-

    روبینہ نامی خاتون کو 20 اور 21 جولائی کی درمیانی شب ضلع آوران سے طور پر اغوا کیا گیا، جبکہ ان کی مسخ شدہ لاش 25 جولائی کو علاقے کبری کور نالہ سے برآمد ہوئی،خاتون،کے مبینہ اغوا، تشدد اور قتل کے واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے مختلف بیانات میں اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) پر عائد کی گئی ہے۔

    مقتولہ کے والد نے کہا کہ ان کی بیٹی کو اکبر ولد غنی نے کالعدم بی ایل ایف کے ارکان کے ساتھ مل کر اغوا کیا، مسلح افراد نے ان کی بیٹی کو کئی روز تک یرغمال رکھا، اس دوران اس پر تشدد کیا اور بعد ازاں اسے قتل کرکے لاش پھینک دی،اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ بلوچستان کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش بھی ہیں خواتین کو نشانہ بنانا بلوچ معاشرتی روایات اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔

  • فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

    فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

    فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان کی والدہ نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کیاہے-

    تربت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان کی والدہ نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان کا عثمان کی سرگرمیوں یا فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں،کچھ عرصہ قبل عثمان اپنی مرضی سے گھر اور خاندان سے الگ ہو گیا تھابعد میں اس نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم انہوں نے اس سے کوئی بات نہیں کی۔

    عثمان کی والدہ نے کہا کہ ان کا، ان کے شوہر اور دیگر اہلِخانہ کا عثمان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے، عثمان اپنے تمام ذاتی فیصلوں اور سرگرمیوں کا خود ذمہ دار ہے اور خاندان اس کے کسی بھی عمل کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا،انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خاندان کا عثمان کی مبینہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنے مؤقف کا اظہار عوام کے سامنے کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں سے اہلخانہ کا اظہار لاتعلقی ظاہر کرتا ہے کہ عوام دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

  • بلوچستان سے دو افراد اغوا، رہائی کے بدلے ڈھائی کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ

    بلوچستان سے دو افراد اغوا، رہائی کے بدلے ڈھائی کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ

    ‎24 جولائی 2026 کو بلوچستان کے علاقے کھڈ کچا سے سامان رسانی کی ایک نجی کمپنی سے وابستہ دو افراد کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اغوا کے بعد دونوں افراد کو کلی انجیری کے علاقے کی جانب لے جایا گیا، جبکہ ان کے زیر استعمال کمپنی کی شہ زور گاڑی بھی اغوا کار اپنے ساتھ لے گئے۔
    ‎اغوا ہونے والے افراد کی شناخت جان محمد اور ساجد علی کے نام سے ہوئی ہے۔ جان محمد کا تعلق ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ جبکہ ساجد علی مومن آباد کوئٹہ کے رہائشی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں افراد کا مستقل پتہ بھارہ کہو، اسلام آباد بتایا جاتا ہے اور وہ ایک سامان رسانی کی کمپنی میں ملازمت کر رہے تھے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق اغوا کے دو روز بعد، 26 جولائی کو کوریئر کمپنی کے مالک محمد عمران کو ایک فون کال موصول ہوئی، جس میں اغوا کاروں نے دونوں افراد کی رہائی کے بدلے ڈھائی کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ کال کرنے والے افراد نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ رقم ادا نہ کی گئی تو مغویوں کو جان سے مار دیا جائے گا۔
    ‎اس واقعے کے بعد مغویوں کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے تاکہ دونوں افراد کو بحفاظت بازیاب کرایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مغویوں کی بازیابی کے لیے مختلف پہلوؤں پر کام جاری ہے۔
    ‎تاحال حکام کی جانب سے اغوا کی ذمہ داری کسی مخصوص تنظیم پر باضابطہ طور پر عائد نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق سامنے آئی ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مغویوں کی محفوظ بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

  • 
مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، متعدد گرفتار

    
مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، متعدد گرفتار

    
اسلام آباد: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے 6 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔
    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں کی گئی، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر فورسز نے بروقت آپریشن کیا۔ شدید مقابلے کے بعد 6 دہشت گرد مارے گئے جبکہ کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں ایک مبینہ سہولت کار کے علاوہ مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔
    ‎آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی متعدد کمین گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جبکہ وہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کیا گیا۔
    ‎سیکیورٹی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے بعد انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں مزید تیزی لائی گئی ہے تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎فورسز کی جانب سے متاثرہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ تمام داخلی اور خارجی راستوں کی کڑی نگرانی بھی کی جا رہی ہے تاکہ فرار ہونے والے عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔
    ‎سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی، اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • ‎مستونگ میں مسافر بس پر حملہ، 3 مسافر شہید، 3 زخمی

    ‎مستونگ میں مسافر بس پر حملہ، 3 مسافر شہید، 3 زخمی

    ‎بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کوئٹہ سے کراچی جانے والی ایک مسافر بس پر مسلح حملے کے نتیجے میں 3 مسافر شہید جبکہ 3 دیگر زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں پیش آیا، جہاں مسلح حملہ آوروں نے بس پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
    ‎پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں انعام الحق، سید طارق نیاز اور لیاقت خان شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی شناخت نجم ثاقب، عبدالحنان اور عبدالولی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎حکام کے مطابق واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
    ‎یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل بھی بلوچستان کے اضلاع قلات اور سوراب میں کوئٹہ، کراچی قومی شاہراہ پر مسافر کوچز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان دو الگ الگ حملوں میں 4 افراد جاں بحق جبکہ ایک خاتون سمیت 4 افراد زخمی ہوئے تھے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق قلات کی تحصیل منگوچر کے علاقے گرو میں گھات لگائے مسلح افراد نے کوئٹہ سے کراچی جانے والی ایک مسافر کوچ پر فائرنگ کی اور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ جاں بحق افراد کی لاشیں شناخت اور قانونی کارروائی کے لیے شیخ زید اسپتال کوئٹہ منتقل کی گئیں۔
    ‎اسی دوران سوراب کے مقام پر کوئٹہ سے تربت جانے والی ایک اور مسافر کوچ پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک خاتون شدید زخمی ہوئیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
    ‎سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد قومی شاہراہ پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

  • ‎وزیراعلیٰ بلوچستان کا زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لشاری سے رابطہ، جلد صحت یابی کی دعا

    ‎وزیراعلیٰ بلوچستان کا زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لشاری سے رابطہ، جلد صحت یابی کی دعا

    ‎وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ میں فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج طارق لشاری کو ٹیلی فون کر کے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
    ‎وزیراعلیٰ نے گفتگو کے دوران زخمی جج کی صحت سے متعلق تفصیلات معلوم کیں اور یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت ان کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
    ‎میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت زخمی ایڈیشنل سیشن جج کی مکمل صحت یابی تک ان کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا، "آپ کی مکمل صحت یابی تک ہم آپ کا بھرپور خیال رکھیں گے۔”
    ‎واضح رہے کہ مستونگ میں عدالتی قافلے پر حملے کے دوران سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لشاریزخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور حکومت نے حملہ آوروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

  • مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت  جاں بحق، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

    مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت جاں بحق، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

    مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید جبکہ جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے،بلوچستان بار کونسل نے دو روزہ ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا ،وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔

    ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے، ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کر نے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔

    بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی، واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

    بار کونسل کے مطابق وکلاء بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوں گے۔ بار کونسل نے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری، ججز، وکلاء اور عدالتی عملے کی سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء برادری دہشت گردی کے خلاف اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے متحد رہے گی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ دراصل ریاست پر حملہ ہے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر قیمت پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، قانون کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گی امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

    صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے آئی جی پولیس اور کمشنر سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، قانون کے محافظوں پر حملہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ناکام کوشش ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے قانون کے محافظوں پر حملہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ناکام کوشش ہے، وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا گہری سازش کا حصہ ہے، تاہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور حکومت شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

  • بلوچستان میں  10 دہشتگرد ہلاک، 2 خاتون خودکش حملہ آور گرفتار، آئی ایس پی آر

    بلوچستان میں 10 دہشتگرد ہلاک، 2 خاتون خودکش حملہ آور گرفتار، آئی ایس پی آر

    بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد گروہوں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران گزشتہ 48 گھنٹوں میں 10 دہشتگرد ہلاک جبکہ 2 خاتون خودکش حملہ آوروں اور ایک سہولتکار کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ضلع سوراب اور ضلع مستونگ میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر مشترکہ سرچ اور ٹارگٹڈ آپریشنز کیے گئے۔ سوراب میں کارروائی کے دوران 7 جبکہ مستونگ میں 3 دہشتگرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مستونگ میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والی 2 خاتون خودکش حملہ آوروں اور ایک مبینہ سہولت کار کو بھی گرفتار کیا گیا کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی مبینہ دہشتگرد یا اس کے سہولتکار کو گرفتار کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ عزمِ استحکام وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت نے بلوچستان کے اضلاع سوراب اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 10 دہشتگردوں کی ہلاکت پر فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم مبینہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیاں قومی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں بیرونی مداخلت کی وجہ سے ہونے والی دہشتگردی کے خلا ف جنگ جاری رہے گی اور پاکستان اس خطرے کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک میں امن کے قیام کے لیے ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے آپریشن کے دوران 10 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے اور 2 خودکش بمبار خواتین سمیت ایک سہولتکار کو گرفتار کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا کہا کہ کسی کو بھی بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہو ں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان اور اس کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے دشمن ہیں، جبکہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، وہ خود اور پوری قوم وطنِ عزیز کے دفاع اور امن و استحکام کے قیام کے لیے افواجِ پاکستان کے غیر متزلزل عزم میں ان کے شانہ بشانہ ہیں۔

  • 14 سالہ ملائکہ خلجی نے بلوچستان کی پہلی خاتون کوہ پیما ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا

    14 سالہ ملائکہ خلجی نے بلوچستان کی پہلی خاتون کوہ پیما ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا

    بلوچستان سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ طالبہ ملائکہ خلجی نے کھوسر گنگ (Khosar Gang) چوٹی سر کرکے صوبے کی پہلی خاتون کوہ پیما ہونے کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔

    الپائن کلب آف پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی مہم نے پاکستان کی کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا، چوٹی سر کرنے کے بعد ملائکہ خلجی نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا، جو وطن سے ان کی محبت اور پاکستانی نوجوانوں کے بلند حوصلے کی علامت بن گیا،الپائن کلب آف پاکستان نے اس تاریخی کامیابی پر ملائکہ خلجی اور ان کے اہلِخانہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی نوجوان نسل، بالخصوص لڑکیوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔

    کلب کے مطابق ملائکہ خلجی کی یہ کامیابی دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ بلوچستان کی حقیقی شناخت اس کے باصلاحیت، بہادر اور پُرامید نوجوان ہیں، جو ہر میدا ن میں ملک کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ملائکہ خلجی کی یہ فتح محض ایک چوٹی سر کرنے کا کارنامہ نہیں بلکہ امید، استقامت، عزم اور حب الوطنی کا ایک مضبوط پیغام بھی ہے، جو نوجوان نسل کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔