Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • بلوچستان میں نئے ڈویژنز اور نئے اضلاع کا قیام ، نوٹیفکیشن جاری

    بلوچستان میں نئے ڈویژنز اور نئے اضلاع کا قیام ، نوٹیفکیشن جاری

    بلوچستان حکومت کے نئے ڈویژنز اور نئے اضلاع کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔

    صوبائی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن مطابق بلوچستان اب 11 ڈویژنز اور 41 اضلاع پر مشتمل ہوگا، 11 ڈویژنز میں کوئٹہ، رخشان، مکران، نصیر آباد، ژوب، لور الائی، کوہ سلیمان، پشین، لسبیلہ، سیوی اور خضدار شامل ہیں،جبکہ کوئٹہ ڈویژن اب تین اضلاع پر مشتمل ہوگا، ضلع مستونگ کوقلات ڈویژن سےعلیحدہ کر کے کوئٹہ میں شامل کردیاگیا ہے اور ضلع کوئٹہ کو دواضلاع میں تقسیم کیا گیا جو کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ اضلاع پر مشتمل ہوگا،کوئٹہ ایسٹ میں سریاب، صدر اورسٹی سب ڈویژنزشامل کی گئی ہیں جبکہ کوئٹہ ویسٹ میں کچلاک، بروری اورپنجپائی سب ڈویژنزشامل کی گئی ہیں۔

    بلوچستان حکومت نے قلات ڈویژن کو ختم کرکے دو نئے ڈویژن خضدار اور لسبیلہ بنادیے، خضدار ڈویژن خضدار، قلات، سوراب اور نیا ضلع وڈھ پر مشتمل ہوگا جبکہ لسبیلہ ڈویژن میں لسبیلہ، حب اور آواران اضلاع شامل ہوں گے۔نیا ڈویژن پشین قلعہ عبداللہ، پشین، چمن اور نیا ضلع برشور پرمشتمل ہوگاحکومت بلوچستا ن نے سبی ڈویژن کا نام تبدیل کرکے سیوی رکھ دیا ہے اور سیوی ڈویژن سیوی، ڈیرہ بگٹی ساؤتھ اور کچھی اضلاع پر مشتمل ہوگا۔

  • 
بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس، سیاسی جماعتوں کا مذاکرات اور لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ

    
بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس، سیاسی جماعتوں کا مذاکرات اور لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ

    ‎اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکاء نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔
    ‎کانفرنس میں منظور کی گئی تجاویز میں کہا گیا کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا پائیدار حل صرف بامعنی بات چیت، آئینی عمل اور سیاسی اتفاق رائے کے ذریعے ممکن ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ صوبے میں امن، استحکام اور اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔
    ‎شرکاء نے لاپتا افراد کے مسئلے کو بلوچستان کا ایک اہم انسانی اور سماجی مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل سے عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
    ‎آل پارٹیز کانفرنس میں شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر بھی زور دیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عوام کو اپنی حقیقی نمائندگی کا حق ملنا چاہیے تاکہ منتخب قیادت صوبے کے عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلے کر سکے اور جمہوری عمل مزید مضبوط ہو۔
    ‎شرکاء نے بلوچستان کے قدرتی وسائل میں مقامی آبادی کے مؤثر اور منصفانہ حق کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے تاکہ بلوچستان میں ترقی، روزگار اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
    ‎کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بہتری، عوامی اعتماد کی بحالی اور سیاسی استحکام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ مقررین نے کہا کہ اختلافات کے حل کے لیے سیاسی مکالمہ ہی سب سے مؤثر اور دیرپا راستہ ہے۔

  • بلوچستان: فتنہ الہندوستان کے  خلاف آپریشن،19خارجی ہلاک،متعدد زخمی،11جوان شہید

    بلوچستان: فتنہ الہندوستان کے خلاف آپریشن،19خارجی ہلاک،متعدد زخمی،11جوان شہید

    بلوچستان میں این-25 شاہراہ پر سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے 19 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ متعدد دہشتگرد زخمی ہوگئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 11 جوان شہید ہوگئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن جھاؤ کراس اور کرارو کے درمیان کیا گیا، جہاں دہشتگرد شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے مسافروں اور مقامی شہریوں سے بھتہ وصول کرنے میں مصروف تھے سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 19 دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس میں وطن کے دفاع کے لیے لڑتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے 11 بہادر اہلکار شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور فرار ہونے والے عناصر کی تلاش بھی کر رہی ہیں۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کے قیام، شہریوں کے تحفظ اور اہم شاہراہوں کی حفاظت کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی-

  • زیارت میں  دہشت گردوں کا پولیس پر  حملہ،9 اہلکار شہید

    زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس پر حملہ،9 اہلکار شہید

    بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں دہشت گردوں نے پولیس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر زیارت نے اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تمام شہید اہلکاروں کی لاشوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کر دیا گیا ہے کل رات سے ہی دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا اور ہمارے بہادر اہلکار رات بھر ان دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔

    گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کا یہ دوسرا بڑا حملہ ہے اس سے پہلے پہلا حملہ کوئٹہ کے قریبی علاقے ہنہ اوڑک میں کیا گیا تھا جہاں مقامی قبائل نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، لیکن اس حملے میں 4 مقامی لوگ جان سے گئے اور 7 افراد کو اغوا کر لیا گیا جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    اس واقعے کے خلاف علاقے کے لوگ اب بھی ایئرپورٹ روڈ پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں مظاہرین اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ تمام افراد مانگی ڈیم کی ایک زیر تعمیر ٹینکی پر ڈیوٹی کے لیے تعینات تھے، جہاں نامعلوم مسلح افراد آئے اور انہیں اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے خوش قسمتی سے 5 مغوی افراد اغوا کاروں کے چنگل سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جبکہ باقی لوگوں کو بچانے کے لیے پولیس نے علاقے میں بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔

  • 
بلوچ یکجہتی کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں تشدد پر اکسا رہی ہے، سرفراز بگٹی

    
بلوچ یکجہتی کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں تشدد پر اکسا رہی ہے، سرفراز بگٹی

    ‎وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی عوامی حقوق کے نام پر تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
    ‎سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ نے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان سے متعلق گردش کرنے والے گمراہ کن بیانیے پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حقائق اور شواہد کی بنیاد پر عوام کو درست معلومات فراہم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
    ‎سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے یوتھ انگیجمنٹ پلان کے تحت بلوچستان بھر میں نوجوانوں کے لیے مختلف روزگار اور ہنر مندی کے منصوبے شروع کیے ہیں، تاکہ انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا سکے اور معاشی مواقع میسر آئیں۔
    ‎انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں نوجوانوں کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم حکومت ایسے عناصر کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ان کے مطابق گوادر سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع کے نوجوانوں کو مساوی ترقیاتی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
    ‎وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ اور اسکالرشپ پروگراموں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، تاکہ باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع حاصل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کی فلاح، تعلیم، روزگار اور ہنر مندی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔
    ‎انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومتی اقدامات جاری رہیں گے اور نوجوانوں کو ملکی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

  • 
ڈیرہ بگٹی میں رقم کے تنازع پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق

    
ڈیرہ بگٹی میں رقم کے تنازع پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق

    ‎بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں مالی لین دین کے تنازع نے خونریز تصادم کی شکل اختیار کر لی، جہاں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ زین کوہ درینجن کے علاقے میں پیش آیا، جہاں رقم کے تنازع پر دونوں فریق آمنے سامنے آ گئے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے مسلح تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ دونوں جانب سے ہونے والی شدید فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک گروپ سے تعلق رکھنے والے باپ اور بیٹا شامل ہیں، جبکہ دوسرے فریق کے دو سگے بھائی بھی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی افراد گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے۔
    ‎اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں، جبکہ جائے وقوعہ سے مختلف شواہد بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور فائرنگ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق علاقے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے اضافی پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔

  • بلوچستان میں زلزلوں کے باعث ہونے والے نقصان کی تفصیلات جاری

    بلوچستان میں زلزلوں کے باعث ہونے والے نقصان کی تفصیلات جاری

    بلوچستان میں آنے والے زلزلوں کے باعث ہونے والے نقصان کی تفصیلات جاری کردی گئیں جبکہ وزیراعظم نے کنگری میں زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے-

    رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ موسیٰ خیل سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق 26 اور 27 جون 2026 کو تحصیل کنگری میں آنے والے 2 زلزلوں کے نتیجے میں رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد افراد معمولی زخمی ہوئے 26 جون 2026 کو آنے والے زلزلے سے موضع چاپ میں قریباً 80 سے 90 مکانات جزوی طور پر متاثر ہو ئے، جبکہ 6 افراد معمولی زخمی ہوئے بعد ازاں 27 جون 2026 کو آنے والے زلزلے سے تحصیل کنگری میں تقریباً 25 سے 35 مکانات متاثر ہوئے، جبکہ 10 سے 13 افراد معمولی زخمی ہوئے ابتدائی مشترکہ جائزے کے مطابق دونوں زلزلوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر قریباً 110 سے 125 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 18 سے 19 افراد معمولی ز خمی ہوئے ہیں،تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے زخمیوں اور متاثرہ آبادی کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں خیمے، بستر، باورچی خانے کا سامان، سولر لائٹس، گیس سلنڈر، فرشی چٹائیاں، مچھر دانیاں اور دیگر ضروری غیر غذائی امدادی اشیا تقسیم کی جا رہی ہیں۔

    ریلیف کمشنر و ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان غرزئی کے مطابق پی ای او سی، پی ڈی ایم اے بلوچستان صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ نقصانات کے مکمل تخمینے کے لیے تفصیلی سروے بھی جاری ہے تاکہ امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

    دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں آنے والے زلزلے سے ہونے والے نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے وزیراعظم نے کنگری میں زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

    انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور بلوچستان حکومت کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور متاثرین کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے زلزلے سے متاثرہ گھروں کے مکینوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، جبکہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائےریسکیو اور ریلیف آپریشن کے دوران بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مؤثر انداز میں جاری رہ سکیں۔

  • بلوچستان کے معدنی منصوبے سے پیداوار شروع، بیرٹ، سیسہ اور جست کی برآمدات کا راستہ ہموار

    بلوچستان کے معدنی منصوبے سے پیداوار شروع، بیرٹ، سیسہ اور جست کی برآمدات کا راستہ ہموار

    ‎اسلام آباد: پاکستان کے معدنی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد بلوچستان میں بیرٹ منصوبے سے پیداوار کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس منصوبے سے بیرٹ، سیسہ اور جست جیسی اہم معدنیات کی بڑے پیمانے پر پیداوار اور برآمدات متوقع ہیں۔
    ‎پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے مطابق کمپنی نے معدنیات کی تلاش اور ترقی کے لیے 2004 میں اس منصوبے کی لیز حاصل کی تھی۔ طویل منصوبہ بندی، فنی جائزوں اور انتظامی مراحل کے بعد اب منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
    ‎پی پی ایل کے مطابق نومبر 2025 میں منصوبے کے معاہدے میں ترمیم کی گئی جس کے تحت حکومت بلوچستان کو بھی بیرٹ پراجیکٹ میں شراکت دار بنایا گیا۔ اس اقدام کو مقامی ترقی اور صوبائی مفادات کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎منصوبے کی منیجمنٹ اور تکنیکی مشاورت کی ذمہ داری جرمنی کی معروف کمپنی ڈی ایم ٹی کو سونپی گئی ہے، جو جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق کان کنی اور پیداوار کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔
    ‎پی پی ایل کا کہنا ہے کہ خضدار اور نوکنڈی کے علاقوں میں بیرٹ، سیسہ اور جست کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ منصوبے کی کامیابی سے نہ صرف معدنیات کی ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ برآمدات بڑھنے سے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
    ‎کمپنی کے مطابق اس منصوبے سے بلوچستان کے مقامی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ ملے گا اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معدنی وسائل کے شعبے میں یہ پیش رفت مستقبل میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری اور معدنی منصوبوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جس سے ملکی معیشت کو طویل المدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

  • ‎بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا

    ‎بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا

    ‎بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے لیے صوبائی بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ بجٹ کی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے دوران مختلف سرکاری محکموں، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اخراجات کے لیے فنڈز جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
    ‎بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بجٹ سے متعلق مجموعی طور پر ایک ہزار 89 ارب روپے مالیت کے 98 مطالباتِ زر ایوان میں پیش کیے، جنہیں اراکین اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔
    ‎منظور کیے گئے بجٹ کے مطابق غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب 80 کروڑ 88 لاکھ روپے کے 53 مطالباتِ زر منظور کیے گئے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 291 ارب روپے مالیت کے 45 مطالباتِ زر کی بھی منظوری دے دی گئی۔
    ‎اجلاس کے دوران بجٹ پر مختلف پہلوؤں سے بحث کی گئی، تاہم اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی مطالبۂ زر پر کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی، جس کے باعث تمام مطالبات بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے منظور ہو گئے۔
    ‎وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانا، بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎بجٹ کی منظوری کے بعد صوبائی حکومت کو آئندہ مالی سال کے دوران مختلف محکموں، ترقیاتی اسکیموں اور سرکاری اداروں کے لیے فنڈز جاری کرنے کی باقاعدہ پارلیمانی اجازت حاصل ہو گئی ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی آنے کی توقع ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان اسمبلی سے بجٹ کی منظوری صوبائی حکومت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ مختص کیے گئے فنڈز کو شفاف انداز میں خرچ کرتے ہوئے عوامی فلاح اور ترقیاتی اہداف کیسے حاصل کیے جاتے ہیں۔

  • بلوچستان میں 10 محرم تک دفعہ 144 نافذ

    بلوچستان میں 10 محرم تک دفعہ 144 نافذ

    بلوچستان حکومت نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق دفعہ 144 یکم محرم سے 10 محرم الحرام تک نافذ العمل رہے گی، محرم کے دوران اشتعال انگیز، فرقہ وارانہ اور نفرت آمیز مواد کی تشہیر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ سوشل میڈیا سمیت تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کی اشاعت بھی ممنوع قرار دی گئی ہے حکومت نے اسلحہ اور گولہ بارود کی نمائش اور عوامی مقامات پر لے جانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے حساس مقاما ت اور جلوسوں تک مشتبہ افراد کی رسائی محدود رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے اسی طرح عوامی مقامات اور جلوسوں کے راستوں پر پیشہ ور بھکاریوں کی موجودگی بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق کوئٹہ میں محرم کے دوران موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر مکمل پابندی ہو گی، جبکہ بیرون ضلع لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے جلوسوں کے راستوں پر واقع عمارتوں کی چھتوں اور بالکونیوں میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، کوئٹہ اور نصیرآباد میں وال چاکنگ، بینرز، پوسٹرز اور پمفلٹس لگانے پر بھی پابندی ہو گی جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 سمیت متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی، ڈپٹی کمشنرز، پولیس اور دیگر متعلقہ ادار وں کو ان احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔