ریاست کی کامیابی صرف مجرم کے خاتمے میں نہیں، بلکہ ہر بے گناہ جان کے تحفظ میں پوشیدہ ہوتی ہے
اختیارات سے زیادہ اہم تربیت، احتساب اور پیشہ ورانہ مہارت ہے ورنہ کامیاب آپریشن بھی سوالوں کی زد میں آ جاتے ہیں
ایک معصوم بچی کی موت نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جرائم کے خلاف جنگ میں کہیں شہریوں کی سلامتی تو قربان نہیں ہو رہی؟
تجزیہ شہزاد قریشی
پنجاب میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دوران سی سی ڈی (Crime Control Department) کی حالیہ کارروائی میں خطرناک ملزمان کے خاتمے کو یقیناً نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ عناصر تھے جن پر سنگین جرائم، ڈکیتیوں اور قتل کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ تاہم ریاستی طاقت کی اصل کامیابی صرف مجرموں کے خاتمے میں نہیں بلکہ بے گناہ جانوں کے مکمل تحفظ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ گزشتہ روز ایک آسٹریلوی خاندان کی کمسن بچی کا فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق ہونا اور خاندان کے دیگر افراد کا زخمی ہونا ایک ایسا سانحہ ہے جس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر سی سی ڈی میں کام کرنے والے اہلکار بنیادی طور پر پنجاب پولیس ہی سے لیے گئے ہیں تو پھر اس نئے ادارے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ کیا اس فورس کے قیام سے قبل اس کے اہلکاروں کو بین الاقوامی معیار کی خصوصی تربیت دی گئی؟ کیا شہری آبادی میں ہائی رسک آپریشنز کے لیے الگ پروٹوکول مرتب کیے گئے؟ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر اس ادارے کے قیام کا مقصد کیا تھا؟ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پنجاب پولیس کی تاریخ میں ایسے بے شمار افسران گزرے ہیں جنہوں نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیے۔ کئی دہائیوں سے پنجاب پولیس نے دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر وسائل، اختیارات اور جدید سہولیات پنجاب پولیس کے موجودہ ڈھانچے کو ہی فراہم کر دی جاتیں تو کیا مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے تھے؟
حکومتوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا ادارہ تشکیل دیا جاتا ہے تو اس کی کامیابی کا انحصار صرف اختیارات پر نہیں بلکہ تربیت، نگرانی، احتساب اور پیشہ ورانہ مہارت پر ہوتا ہے۔ماضی میں بھی بعض ادارے بڑے دعووں اور بلند مقاصد کے ساتھ وجود میں آئے مگر بعد ازاں ان کی کارکردگی اور طریقہ کار سوالات کی زد میں آ گئے۔ اسی لیے کسی بھی نئے ادارے کی تشکیل کے بعد مسلسل جائزہ لینا اور اس کی خامیوں کو دور کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔یہ واقعہ محض ایک فائرنگ کا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی تشخص سے بھی جڑا ہوا معاملہ بن چکا ہے۔ ایک غیر ملکی خاندان کے متاثر ہونے کے باعث اس سانحے کی بازگشت آسٹریلیا، یورپ اور دیگر ممالک تک پہنچی ہے۔ ایسے واقعات عالمی سطح پر نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سوالات اٹھاتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری، سیاحت اور ملک کے مجموعی تاثر پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو جذبات کے بجائے تدبر اور سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائے، ذمہ داری کا تعین کرے اور ساتھ ہی یہ بھی جائزہ لے کہ سی سی ڈی کے قیام کے مقاصد، تربیتی معیار اور آپریشنل طریقہ کار کس حد تک مؤثر ہیں۔ ریاست کی قوت کا اصل امتحان صرف مجرموں کے خاتمے میں نہیں بلکہ بے گناہ شہریوں کی جان و مال کے مکمل تحفظ میں ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی معصوم جان ریاستی کارروائی کی نذر ہو جائے تو اصلاح اور احتساب کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
