کتابوں سے میرا رشتہ کئی برسوں پر محیط ہے، مگر کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو محض پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے اردگرد بکھرے ہوئے گمنام ہیروز کو پہچاننے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ایاز مورس صاحب کی کتاب "زندہ لوگ” بھی ایسی ہی ایک کاوش ہے۔
ایاز مورس صاحب سے پہلی دفعہ 2020 میں سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا، اور یہ رابطہ محض رسمی تعارف تک محدود نہ رہا۔ ان دنوں میں نوجوان لکھاریوں اور طالب علموں کے لیے ایک تنظیم "میں شاہین ہوں اقبال کا” کے پلیٹ فارم سے کام کر رہا تھا۔ میری درخواست پر ایاز مورس صاحب نے ہمارے لیے کئی موٹیویشنل سیشنز دیے، جن سے نوجوانوں نے بھرپور استفادہ کیا۔ ان کی گفتگو میں ایک خاص بات تھی، سادگی، اپنائیت اور تجربے کی گہرائی، جو اب ان کی تحریر میں بھی نظر آتی ہے۔
کچھ عرصہ رابطہ نہ رہا، مگر یہ رشتہ ٹوٹا نہیں۔ چند دن قبل ایاز مورس صاحب نے دوبارہ رابطہ کیا اور اپنی تازہ تصنیف "زندہ لوگ” مجھے بھیجی۔ کتاب ہاتھ میں آتے ہی نام نے توجہ کھینچ لی، "زندہ لوگ”، یعنی وہ لوگ جو اپنے کردار، خدمت اور ایمانداری کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، چاہے وہ اس دنیا میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔
پہلے ایاز مورس صاحب کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ وہ ضلع لیہ کے ایک گاؤں، چک نمبر 270، میں پیدا ہوئے۔ یہاں سے سفر کا آغاز کر کے وہ آج ملک کے نامور کارپوریٹ ٹرینر، ایجوکیشنل کنسلٹنٹ اور سپیکر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ماسٹر ٹی وی کے سی ای او کے طور پر بھی، اس کے علاوہ روزنامہ ایکسپریس میں ان کے کئی مضامین میری نظر سے گزر چکے ہیں۔ جن میں ہمیشہ ایک مثبت اور تعمیری سوچ کی جھلک نظر آتی ہے۔۔
"زندہ لوگ” دراصل 32 ایسے افراد کی سچی کہانیوں اور انٹرویوز کا مجموعہ ہے، جنہوں نے اپنے میدان میں ایمان، کردار اور خدمت کے جذبے سے نام کمایا۔ یہ کتاب رواں پبلشرز کراچی نے شائع کی ہے، اور اس کا انتساب ایاز مورس صاحب نے اپنے دادا، رحمت مسیح، کے نام کیا ہے۔کتاب میں شامل شخصیات کا تنوع اپنی جگہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو، احفاظ الرحمن، انیل دتا، موہنی حمید، ڈاکٹر جیمز شیرا، ڈاکٹر اکبر ایس احمد، محمد نفیس زکریا، فلپ ایس لال، جسٹس اے آر کارنیلیس، ڈاکٹر ڈینس آئزک، پروفیسر گلزار فاروق چوہدری، ایف ای چوہدری، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، ڈاکٹر خالد سہیل، بابا نجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اعظم معراج، انتھنی نوید، سسٹر زیف، پروفیسر سلامت اختر، اقبال مسیح، ڈاکٹر میرا فلیوس، کامران ذیشان رضوی، پروفیسر وسن ولیم، پروفیسر عمانوایل ممتاز، انجم ہیرالڈ گل، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ، کارڈینل جوزف کوٹس، پوپ فرانسس، اور اعجاز ہدایت، یہ سب نام ایک ہی صفحے پر اس لیے جمع ہوئے ہیں کیونکہ ان سب نے اپنے اپنے دائرہ کار میں انسانیت، علم، صحافت، فن، تعلیم اور خدمت کی شمعیں روشن کی ہیں۔
کتاب پر تاثرات لکھنے والوں میں بھی معروف نام شامل ہیں، عرفان جاوید، عثمان جامعی، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، وارث رضا اور ڈاکٹر شاہد ایم شاہد۔ ان شخصیات کی رائے کتاب کے وقار میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
کتاب میں موجود احفاظ الرحمن، ڈاکٹر خالد سہیل، بابا نجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اقبال مسیح اور کامران ذیشان رضوی، یہ نام میرے لیے اجنبی نہیں تھے، کسی نہ کسی حد تک ان کے کام اور شہرت سے واقفیت تھی۔ مگر "زندہ لوگ” نے ان شخصیات کے بارے میں معلومات کے کئی نئے در کھولے۔ ایسی تفصیلات، ایسے واقعات اور ایسی جزئیات سامنے آئیں جو شاید میری نظر سے تو اوجھل رہتی۔
ان کے علاوہ مجھے جس کہانی نے متاثر کیا،وہ گلوبل ٹیچر پرائز 2023 جیتنے والی پاکستانی استاد رفعت عارف، المعروف سسٹر زیف کی داستان ہے۔ ان کی کہانی پڑھ کر دل عقیدت سے بھر گیا۔ سسٹر زیف نے اپنے ہی گھر سے ایک عملی اور خاموش تحریک کا آغاز کیا۔ گھر کی دیوار پر سکول کا نام لکھوایا اور خود گھر گھر جا کر بچوں کو جمع کرنا شروع کیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ انہوں نے اس نیک کام کو کسی ایک مذہبی یا طبقاتی دائرے میں محدود نہیں رکھا، بلکہ تعلیم کی روشنی ہر بچے تک پہنچانے کو اپنا مقصد بنایا۔ ایسی شخصیات ہی دراصل معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہیں۔
اسی طرح پروفیسر سلامت اختر کی کہانی بھی دلچسپی سے بھرپور ہے۔ ایک عظیم استاد ایک قلم کار اور تحریک پاکستان کے ایک فعال کارکن کی حیثیت سے ان کی خدمات کو پڑھنا گویا تاریخ کے ایک گمشدہ ورق کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔
مجموعی طور پر "زندہ لوگ” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا حوالہ ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ بتاتا ہے کہ کردار، خدمت اور دیانت سے جینے والے لوگ کبھی مرتے نہیں، وہ اپنے کاموں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ایاز مورس صاحب نے ان شخصیات کو ایک جگہ جمع کر کے اور ان کی کہانیاں عام قاری تک پہنچا کر یقینا ایک خدمت کی ہے۔
اس کاوش پر ایاز مورس صاحب شکریہ کے مستحق ہیں، اور دل کی گہرائیوں سے اس بہترین کتاب کی اشاعت پر انہیں نیک تمنائیں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ "زندہ لوگ” جیسی کاوشیں آگے بھی جاری رہیں گی، تاکہ معاشرے کے اصل ہیروز کو وہ پہچان مل سکے جس کے وہ حق دار ہیں۔
