Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا

    ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا

    ریحانہ کنول کا نام اردو ادب میں ہمیشہ احترام اور محبت سے لیا جائے گا۔ وہ ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کے الفاظ نہ صرف جذبات کے عکاس تھے بلکہ معاشرے کے دکھوں اور ناانصافیوں کو بھی قلم کی نوک پر لا کر ایک سچائی کے آئینے میں سجا دیتے تھے۔ ان کی شاعری ایک مجبور ماں کی مامتا، زندگی کے نشیب و فراز، اور ایک حساس دل کی گہرائیوں کی ترجمانی کرتی رہی۔ آج وہ ہم میں نہیں رہیں، مگر ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گےریحانہ کنول کی زندگی کسی کہانی سے کم نہ تھی۔ ان کا ہر لمحہ، ہر دن ایک جدوجہد کی مانند گزرا، لیکن انہوں نے صبر و استقامت کو اپنا شعار بنایا۔ وہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے بے پناہ مشکلات کے باوجود اپنی اولاد کی بہترین پرورش کی اور ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کی تحریروں میں سچائی اور درد کی خوشبو محسوس کی جا سکتی تھی ان کی زندگی مشکلات اور آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی، لیکن انہوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ایک بیوہ ماں ہونے کے باوجود انہوں نے نہایت صبر اور ہمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ وہ نہ صرف اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط سہارا تھیں بلکہ ان کے خیالات اور نظریات سے بے شمار لوگوں کو روشنی ملی۔ ان کے دل میں درد بھی تھا اور اس درد کی بازگشت ان کی شاعری میں سنائی دیتی تھی۔ وہ لفظوں کے ذریعے وہ سب کچھ بیان کر دیتی تھیں جو ایک عام انسان محسوس تو کر سکتا ہے مگر الفاظ میں ڈھالنے کی سکت نہیں رکھتا2024 میں جب بزمِ اوج کے سالانہ مشاعرے میں انہیں جہانیاں منڈی آنا تھا، تو ان کی کمر کی تکلیف نے انہیں روک دیا۔ انہوں نے معذرت کی، مگر جلد آنے کا وعدہ کیا۔ کچھ دن بعد وہ میرے گھر تشریف لائیں اور ایک پورا دن ہماری فیملی کے ساتھ گزارا۔ یہ ان کی محبت اور خلوص کا عملی مظاہرہ تھا۔ وہ الفاظ کی دنیا میں منفرد مقام رکھتی تھیں، مگر اپنی ذات میں بھی ایک عظیم انسان تھیں۔ ان کی سادگی، محبت اور خلوص ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی گفتگو میں ایسی تاثیر تھی کہ سننے والا ان کے الفاظ میں کھو جاتا تھاکچھ ماہ قبل انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، جہاں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا، مگر کسی مجبوری کی بنا پر میں شریک نہ ہو سکا۔ وہ ایک ماں ہونے کے ناطے اپنی اولاد کی خوشیوں میں سب سے آگے رہیں، مگر ان کی زندگی کے کئی پہلو ایسے بھی تھے جو ان کے حساس دل اور گہرے درد کی عکاسی کرتے تھےوہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی تمام خواہشات اور ضروریات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ انہوں نے خود تکالیف سہیں مگر اپنی اولاد کو ہر ممکن خوشی دینے کی کوشش کی۔ یہ ایک ایسی قربانی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ راتوں کو جاگتی رہیں، دکھوں کو سہتی رہیں، مگر اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط دیوار کی مانند کھڑی رہیں ریحانہ کنول کی وفات کے بعد ان کے بچے ایک بار پھر آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیے گئے۔ پہلے ہی والد کی جدائی کا زخم سہنے والے یہ معصوم اب اپنی ماں کے سائے سے بھی محروم ہو گئے۔ والدہ کی ممتا، شفقت، اور دعاؤں کی چھاؤں سے نکل کر وہ بے رحم زمانے کی بے حسی اور تلخ رویوں کے رحم و کرم پر رہ گئے۔ زندگی کے اس بے رحم کھیل میں وہ مزید تنہا ہوگئے، جہاں انہیں ماں کی مسکراہٹ، اس کے نصیحت بھرے الفاظ، اور اس کے سائے کی ضرورت تھی، وہی سب کچھ ان سے چھن چکا تھاریحانہ کنول کی شاعری محض لفظوں کا امتزاج نہیں تھی بلکہ ایک ایسے حساس دل کی آواز تھی جو معاشرتی ناانصافیوں، اپنوں کی بے حسی اور زندگی کی تلخیوں کو شدت سے محسوس کرتا تھا۔ وہ ان جذبات کو اپنی شاعری میں اس طرح پروتی تھیں کہ قاری کے دل پر براہِ راست اثر ہوتا تھا۔ ان کے اشعار میں المیہ، بغاوت، اور سچائی کا حسین امتزاج تھا۔ ان کے الفاظ کا چناؤ اتنا گہرا ہوتا کہ ایک عام قاری بھی ان کے جذبات کو شدت سے محسوس کرنے لگتا

    یادگار غزل

    چوڑیاں پہنی نہ مہندی ہی لگائی میں نے
    ایک مدت سے نہیں عید منائی میں نے

    بیٹیاں پالنا جنت کی خریداری ہے
    بیٹیاں پال کے جنت ہے کمائی میں نے

    سنتی آئی ہوں کہ ہیرے سے ہے ہیرا کٹتا
    پیٹ کی آگ ہے فاقوں سے بجھائی میں نے

    وہ محبت مِری تکلیف کا سامان ہوئی
    جس محبت کے لئے چھوڑی خدائی میں نے

    کون سا جرم ہے میرا کہ ہوئے ہو دشمن
    اپنا حصہ ہی تو بس مانگا ہے بھائی میں نے

    خالقِ کون و مکاں تیری بھری دنیا سے
    ایک تسکین کی ساعت ہے چرائی میں نے

    دنیا کی آنکھ نے زخمایا مِرے ہونے کو
    اپنی میت ہے کئی بار اٹھائی میں نے

    خوش گمانی نے سہولت کو اذیت جانا
    اپنے حصے کی سہولت بھی نہ پائی میں نے

    صرف ایسا تو نہیں ہے کہ ہوں کپڑے سیتی
    دکھ کی پوشاک کی بھی کی ہے سلائی میں نے

    ایک احساس یہی باعثِ تسکین رہا
    اپنی خاطر نہ لڑی کوئی لڑائی میں نے

    میں نے ہر شخص کو انسان سے تعبیر کِیا
    جتنی دولت تھی بھروسے کی، لٹائی میں نے

    ساعتِ وصل کی دستک پہ بھی در وا نہ کِیا
    رسمِ ہجراں ہے کنول ایسے نبھائی میں نے

    ریحانہ کنول کی جدائی اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے الفاظ آج بھی گونج رہے ہیں، ان کی تحریریں آج بھی روشنی دے رہی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک شاعرہ تھیں بلکہ ایک بہترین انسان بھی تھیں جن کی موجودگی دوسروں کے لیے ایک نعمت تھی آج جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں، تو ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کے اشعار اور ان کا اندازِ فکر ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ وہ چلی گئیں مگر اپنی تحریروں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کی شاعری کے ذریعے ہم ان کی روح کے درد اور احساسات کو محسوس کر سکتے ہیں ریحانہ کنول ایک ایسی ہستی تھیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں۔ ان کی جدائی ایک ذاتی نقصان بھی ہے اور ادبی دنیا کے لیے بھی ایک ناقابلِ تلافی نقصان۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے بچوں کو صبر اور حوصلہ عطا کرے۔ آمین

  • اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب .تحریر:  راحین راجپوت

    اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب .تحریر: راحین راجپوت

    پاکستان کے علاقے فیصل آباد کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سول سروس میں جانے کا فیصلہ کیا اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے ایک اچھے آفیسر کے طور پر اپنی انتظامی صلاحیتوں کو منوایا ۔اسی دوران انہیں پنجاب رورل سپورٹ پروگرام کے جنرل مینیجر کے طور پر بھی کام کرنے کا موقع ملا ۔یہی وقت تھا جب ڈاکٹر امجد ثاقب کو غربت کی سنگینی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی غربت کے خاتمے کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم "اخوت” کی بنیاد رکھی اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ۔انہوں نے دس ہزار روپے کے معمولی سرمائے سے غریب لوگوں کو بلا سود قرضے دینے کا آغاز کیا ۔آج ان کا ادارہ سود کے بغیر چھوٹے قرضے دینے والا دنیا کا ایک بہت بڑا ادارہ بن چکا ہے ۔اخوت تنظیم بلا سود قرضوں اور پیشہ وارانہ رہنمائی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے غریب لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کر رہا ہے ۔”اخوت تنظیم” نادار اور ضرورت مند لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے کے لئے بیس سے پچاس ہزار تک کے بلا سود قرضے فراہم کرتا ہے ۔یہ قرضے بغیر کسی لمبی چوڑی تفتیش کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک سادہ درخواست اور شخصی ضمانت کے ذریعے دیئے جاتے ہیں ۔گزشتہ کئی برسوں میں ” اخوت تنظیم” اربوں روپے مالیت کے بلا سود قرضے غریب اور پسماندہ لوگوں میں تقسیم کر چکی ہے اور لاکھوں غریب خاندان مستفید ہو چکے ہیں ۔”اخوت تنظیم ” پاکستان کے صوبوں کے علاوہ فاٹا ، کشمیر اور گلگت بلتستان کے کئی علاقوں تک پھیل چکی ہے "اخوت تنظیم "کی طرف سے دیئے گئے قرضوں سے خواتین اور ملک کی اقلیتی برادریاں بھی مستفید ہوئی ہیں ۔” اخوت تنظیم” کا ادارہ کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے غریب لوگوں کی مدد کے لئے گرجا گھروں میں خصوصی فلاحی تقریبات کا اہتمام بھی کرتا ہے ۔”اخوت تنظیم” نے پاکستان کی قومی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے غریب لوگوں کی مدد کے لئے شروع کی جانے والی کئی سرکاری فلاحی سکیموں کی شفاف تکمیل کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اپنی خدمات پیش کیں ۔اس فلاحی ادارے کو پاکستان کے مخیر حضرات بڑی تعداد میں سپورٹ کرتے ہیں ۔یہ فلاحی ادارہ کاروبار کرنے والے خواہش مند افراد کی مدد کرنے کے علاوہ گھر بنانے ، بچوں کی تعلیم اور شادی کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات کے لئے قرضے فراہم کرتا ہے ۔

    اس وقت ” اخوت تنظیم” کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد ثاقب کی زیر نگرانی قرضوں کی فراہمی کے پروجیکٹ علاوہ متعدد فلاحی منصوبے بھی چلائے جا رہے ہیں ، جن میں اخوت کلاتھ بنک ، اخوت ہیلتھ سروسز ، اخوت ڈریمز پروجیکٹ ، اخوت ایجوکیشن اسسٹنس پروگرام اور اخوت فری یونیورسٹی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ یہ ادارہ خواجہ سراؤں کی سرپرستی بھی کر رہا ہے ۔”اخوت تنظیم” کے ماڈل کو دنیا کے کئی ممالک اور کئی یونیورسٹیز میں سٹڈی کیا جاتا ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ” پاکستان کی مشکلات کا پائیدار حل غیر ملکی امداد سے ممکن نہیں ، ان کے بقول بھیک مانگنے والی اقوام کبھی ترقی نہیں کر سکتیں ۔ پاکستان کے اقتصادی حالات کی بہتری کے لئے پاکستانیوں کو ہی اٹھنا ہوگا ۔ غربت کے خاتمے کے لئے لوگوں کو سماجی آگاہی ، کپیسٹی بلڈنگ ، کاروباری تربیت اور دوسروں کی مدد کرنے والی رضاکارانہ سوچ سے مزین کرنا ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچاس فیصد پاکستانی بقیہ پچاس فیصد پاکستانیوں کی مدد کا مخلصانہ تہیہ کر لیں تو لوگوں کی مشکلات میں بہت حد تک کمی لائی جا سکتی ہے ، کیونکہ ان کے تجربے کے مطابق پاکستان ایک دیانتدار قوم ہے اس لئے تو لاکھوں لوگ چھوٹے چھوٹے قرضوں سے اپنے کاروبار سیٹ کر کے ہمیں قرضے واپس کر رہے ہیں ، بلکہ ” اخوت تنظیم "کے ڈونر بن رہے ہیں ۔” ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ "اخوت تنظیم” کا ماڈل روائتی اقتصادی تصورات کے ذریعے سے نہیں سمجھا جا سکتا ۔ ان کے بقول سودی قرضوں کی معیشت مسابقت ، منافع کے لالچ اور مارکیٹ فورسز کے تحت کام کرتی ہے ، جبکہ وہ ایثار و قربانی اور دوسروں کی مدد کر کے ان کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی بات کر رہے ہیں ۔”

    ڈاکٹر امجد ثاقب کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں ستارہ امتیاز ، پاکستان کا تیسرا اعلیٰ سول ایوارڈ اور ایشیا کے معروف اعزازات میں سے ایک ریمون میگ سائے سائے ایوارڈ شامل ہیں ۔ ریمون میگ سائے سائے ایوارڈ فلپائن کے سابق صدر رامون دلفیئرو میگ سائے سائے کی یاد میں بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد ایشیا میں کام کرنے والے ایسے لوگوں کی خدمات کو سراہنا جو دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے بے لوث انداز میں کام کرتے ہیں ۔ اس ایوارڈ کو عام طور پر ایشیا کا نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے ۔ رامون میگ سائے سائے ایوارڈ دنیا کے معروف ترین اعزازات میں سے ایک ہے ۔ ماضی میں یہ ایوارڈ نو پاکستانیوں کو دیا جا چکا ہے جن میں عبد الستار ایدھی ، بلقیس بانو ایدھی اور عاصمہ جہانگیر بھی شامل ہیں ۔
    ڈاکٹر امجد ثاقب کو غربت کے خاتمے اور سماجی ترقی میں بے مثال اور بے لوث خدمات کے اعتراف میں "عشرے کا عالمی آدمی ” ( Global Man of dekad ) کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے لندن میں منعقدہ ( گلوبل ویمن ایوارڈ 2003 ء) کی تقریب میں ایوارڈ وصول کرنے کے بعد کہا کہ ” میں اس عالمی اعزاز کو حاصل کرنے پر بہت فخر محسوس کر رہا ہوں ۔ میرے لئے یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ مجھے یہ ایوارڈ بہت سے رہنماؤں ، مردوں اور عورتوں کی موجودگی میں مل رہا ہے جو اس دنیا کو تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ” ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنا یہ ایوارڈ پاکستان کے عوام اور رضاکاروں کے نام وقف کیا جو دنیا کی بہتر تعمیر کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ، ایک ایسی دنیا جو غربت اور استحصال سے پاک ہو ۔
    اس کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی رضاکارانہ خدمات کے اعتراف میں ملکہ برطانیہ نے ( common wealth ‘s point of light ) سے نوازا ۔ اور ورلڈ اکنامک فورم کی طرف سے "Entrepreneur of the year 2018″ کے لئے مقرر ہوئے ۔ نوبل انعام 2022 ء کے لئے دنیا بھر سے 343 امیدواروں
    کا انتخاب کیا گیا جن میں 251 انفرادی شخصیات اور 92 ادارے شامل ہیں ۔ ان ناموں میں ایک نام ڈاکٹر امجد ثاقب کا بھی ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب کا نام غربت کے خاتمے کے لئے کوشش اور انسانیت کی خدمت پر نوبل امن انعام کے لئے نامزد کیا گیا ہے ، جو پاکستان میں بلا سود قرضے فراہم کرنے کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلا رہے ہیں ۔ ان سب فلاحی کاموں کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کئی کتابوں کے مصنف اور مقرر بھی ہیں ۔ ان کی تصانیف میں چار آدمی ، مولو موصلی ، اخوت کا سفر ، ایک یادگار مشاعرہ ، گوتم کے دیس میں ، غربت اور مائیکرو کریڈٹ ، اخوت دشت ظلمت میں ایک دیا ، سیلاب کی کہانی اور کامیاب لوگ شامل ہیں ، اور اس کے ساتھ ہی ان کے کالم بہت سے رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کو کئی مرتبہ آکسفورڈ یونیورسٹی ، ہارورڈ یونیورسٹی اور اقوام متحدہ جیسے معتبر اداروں میں اظہار خیال کرنے کا موقع ملا ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ” چار آدمی ” کو جس خوبصورت انداز سے تحریر کیا گیا ہے ، وہ بہت منفرد اور ممتاز کرنے والا ہے ۔

    ” چار آدمی "کتاب کے بارے میں ڈاکٹر خورشید رضوی کا کہنا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
    ” ڈاکٹر امجد ثاقب کی زندگی مسلسل انسانیت کے لئے وقف ہے ۔ غربت کا خاتمہ اور باصلاحیت مگر نادار طلباء کے لئے تعلیم ، اس کے بعد اخوت فاؤنڈیشن کی صورت میں گزشتہ بیس برس کے دوران جو کچھ کیا اس کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جانا بہت فخر کی بات ہے ۔”
    فاؤنٹین ہاؤس کے موجودہ سربراہ کی حیثیت سے ڈاکٹر امجد ثاقب عید کا دن مسرت سے محروم مریضوں کے ساتھ گزارتے ہیں ، عید کی اس محفل میں انہیں وہ تین افراد ملے جو اب اس دنیا میں موجود نہیں ، مگر ان کی درد مندی اور اخلاص کے نتیجے میں فاؤنٹین ہاؤس وجود میں آیا ۔سر گنگا رام ، ڈاکٹر رشید چوہدری اور جناب معراج خالد ، دیکھتے ہی دیکھتے موجود لوگوں کا مجمع منظر سے غائب ہو گیا اور ڈاکٹر امجد ثاقب ان تین رفتگان کی آپ بیتی سننے کے لئے بزمِ خیال میں بیٹھے رہ گئے ۔
    یہ کتاب جو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے ، اس آپ بیتی سے عبارت ہے جو از حد دلچسپ اور دلنشین اسلوب میں قلمبند کی گئی ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب کی اس کتاب کا شمار ان کی کامیاب تصانیف میں ہوتا ہے ۔ اور یہ کتاب سینکڑوں دلوں میں درد مندی ، خدمت خلق اور انسانیت کے چراغ روشن کرے گی ۔”
    شکیل عادل زادہ کا اس کتاب کے بارے میں کہنا ہے کہ ۔۔۔” پڑھتے جاؤ پڑھتے جاؤ ، کہانی ختم ہو جائے ، تجسس و تاثر ختم نہیں ہوتا ۔ کچھ حاصل ہونے کی آسودگی سے تحریریں ممتاز ہوتی ہیں ۔ تحریریں آئینہ دکھاتی ہیں اور تحریریں نہاں خانے کے دھندلکوں میں اجالوں کا سبب بنتی ہیں ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی یہ کتاب امید جگانے ، کچھ کر گزرنے کے لئے اپنے قاری کو آمادہ کرتی ہے ۔ڈاکٹر امجد ثاقب کی ذات ہمہ پہلو ایک مثال ہے ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کے عزم و یقین ، نیت کی صداقت اور شفافیت کے بغیر ان کی تحریر میں یہ دلگیری و دلپزیری شائد ممکن نہ ہوتی ۔”

    عطاء الحق کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر امجد ثاقب کی نثر پڑھتے ہوئے مجھے کئی مقامات پر مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میں کوئی خوبصورت انشائیہ پڑھ رہا ہوں ۔ سادہ ، سلیس ، پرمغز اور دل میں اتر جانے والی تحریر ! ۔۔۔۔۔۔۔ اتنی خوبصورت تخلیقی نثر اللّٰہ تعالیٰ کی دین ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کی دین ایسے ہی نہیں ہوتی ، اس کے پیچھے لاکھوں غریبوں کی "سفارش” موجود ہے ۔”
    آخر میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ڈاکٹر امجد ثاقب کے عزم و ہمت کو یونہی قائم و دائم رکھے اور رزق قلم میں اور اضافہ فرمائے ۔ ( آمین ثم آمین )

  • شہنشاہِ جذبات اداکار محمد علی .تحریر:   راحین راجپوت

    شہنشاہِ جذبات اداکار محمد علی .تحریر: راحین راجپوت

    آہ شہنشاہ جذبات اداکار محمد علی کو مداحوں سے بچھڑے اٹھارہ برس بیت گئے لیکن وہ اپنے فن،کرداراوربارعب شخصیت کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں ۔اداکار محمد علی 19اپریل 1931ءکو بھارت کے شہر رام پور میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔محمد علی اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔محمد علی محض تین سال کے تھے جب ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ۔محمد علی کے والد سید مرشد علی نے بچوں کی خاطر دوسری شادی نہ کی ۔ہجرت کے بعد سید مرشد علی اپنے خاندان کے ہمراہ ملتان آگئے ۔کچھ عرصے بعد یہ خاندان بہاولپور اور پھر حیدرآباد سندھ چلا آیا ۔محمد علی نے ابتدائی تعلیم ملتان اور بہاولپور سے حاصل کی جبکہ انٹر حیدرآباد سندھ سے کیا ۔محمد علی کے بڑے بھائی ارشاد علی ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے وابستہ تھے۔محمدعلی کو ریڈیو پاکستان میں ان کے بڑے بھائی نے متعارف کرایا ۔ارشاد علی اس وقت ریڈیو پاکستان میں ڈارمہ آرٹسٹ تھے ۔محمد علی کو ان کی پرکشش شخصیت اور بہترین آواز کی وجہ سے زیادہ پزیرائی ملی ۔60ءکی دہائی میں محمد علی مستقل طور پر ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ ہوگئے ۔اس وقت کراچی کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری تھے ۔اسی دوران فضل کریم فضلی نے اپنی فلم "چراغ جلتا رہا”بنانے کا فیصلہ کیا تو زیڈ اے بخاری نے ان سے محمد علی کے لیے خاص سفارش کی ۔یوں محمد علی اس فلم میں کاسٹ ہو گئے ۔اس فلم میں محمد علی نے بطور ولن کردار ادا کیا جبکہ اس فلم کی ہیروئن اداکارہ زیبا بیگم تھیں اور اس فلم میں ہیرو کا کردار اداکار عارف نے ادا کیا ۔یہ فلم باکس آفس پر زیادہ کامیاب تو نہ ہوئی مگر اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے ہاتھوں سے کیا ۔جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو سید مرشد علی نے اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیاتو وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ۔یہ محمد علی کے فلمی کیریئر کا آغاز تھا ۔اداکار محمد علی نوجوانی میں فلموں کے لئے کافی پرفیکٹ تھے ۔اسی دور میں اداکارہ زیبا کا بھی فلموں میں بڑا چرچا تھا اور وہ فلم انڈسٹری میں اپنا آپ منوا رہی تھی ۔محمدعلی اور زیبا کے درمیان ہم آہنگی پہلی فلم سے ہی پیدا ہونے لگی اسی وجہ سے یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے ۔ہدایت کار اقبال یوسف کی فلم "تم ملے پیار ملا”کی عکس بندی کے دوران انہوں نے شادی کر لی ۔شادی کے بعد انہوں نے "علی زیب”کے نام سے فلموں کی پروڈکشن شروع کی اور پہلی فلم "جیسے جانتے نہیں”بنائی ۔اس کے بعد فلم "آگ”جیسی سپر ہٹ فلم پروڈیوس کی ۔اس کے بعد محمد علی نے اپنے کیریئر میں تقریباً 111ہدایتکاروں کی لگ بھگ 250سے زائد فلموں میں کام کیا ۔ان کی بطور ہیرو پہلی فلم”شرارت "تھی اور آخری فلم”دم مست قلندر "تھی ۔جبکہ کریکٹر رول میں آخری فلم”محبت ہو تو ایسی "تھی ۔1962ءسے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے محمد علی نے 1964ءمیں فلم”خاموش رہو "میں ایسی لا جواب اداکاری کا مظاہرہ کیا کہ جس کی کامیابی کے بعد انہوں نے پلٹ کر واپس نہیں دیکھا ۔
    اداکار محمد علی کی متعدد فلموں میں آنسو بن گئے موتی ،افسانہ زندگی کا ،انصاف اور قانون ،صائقہ،ہمراز،بن بادل برسات ،خدااورمحبت ،گڑیا،بدلتے رشتے،دنیا نہ مانے ،کنیز،صائمہ،وحشی،آس،آئینہ اور صورت ،انسان اور آدمی ،حیدر علی ،دوریاں،بوبی،جب جب پھول کھلے ،صورت اور سیرت ،بدل گیا انسان ،دامن اور چنگاری،پھول میرے گلشن کا ،لوری،بازی اور شعلے جیسی لا زوال فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔
    اداکار محمد علی پر زیادہ تر گیت مہدی حسن اور احمد رشدی کے پکچرائز ہوئے ۔
    انہوں نے اپنے کیریئر کی کئی لاجواب فلموں میں بے مثال اداکاری کا مظاہرہ کیا اور کئی بڑے ایوارڈ حاصل کیے ۔انہوں نے اپنے ابتدائی دس سالہ کیرئیر میں لگا تار 6نگار ایوارڈ حاصل کیے ۔اس کے علاوہ انہوں نے اسپیشل ایوارڈ بھی اپنے نام کئے ۔محمد علی کو اعلیٰ حکومتی ایوارڈ ،پرائیڈ آف پرفارمنس اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔بھارت سے نوشاد علی ایوارڈ اور دبئی سے الناصر ایوارڈ بھی اپنے نام کیا ۔اس کے علاوہ 1997ءمیں انہیں پرسنالٹی ایوارڈ بھی ملا ۔اس کے علاوہ محمد علی شہنشاہ جذبات کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اداکار ہیں ۔اداکارمحمد علی کو برطانیہ کی بھی شہریت حاصل تھی لیکن وہ ساری زندگی پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے ۔اس کے علاوہ وہ اسلامی اقدار وروایات کے بہت بڑے حامی تھے اور ایک درد دل رکھنے والے انسان تھے ۔
    محمد علی اور زیبا کی شہرت دیکھ کر بھارتی ہدایت کار منوج کمار نے اپنی فلم "کلرک”میں سائن کیا ۔
    فلموں کے بعد وہ مکمل طور پر سماجی کاموں میں مصروف ہو گئے ۔
    1997ءمیں انہوں نے "علی زیب فاؤنڈیشن”کے نام سے ایک رفاہی ادارہ بنایا جس میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔محمد علی نے اپنے عہد میں ماسکو میں ہندوستان کے خلاف مشرقی پاکستان میں قید جنگی قیدیوں کے حق میں مظاہرہ کیا ۔
    وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے واحد اداکار تھے جن کے گھر پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز نے قیام کیا تھا ۔
    ذوالفقار علی بھٹو اور صدر ضیا ءکے دور میں اداکار محمد علی کو خاص مقام حاصل رہا ۔
    صدر ضیاء الحق بھارت کے دورے پر گئے تو اداکار محمد علی اور ان کی اہلیہ زیبا بیگم بھی ان کے ساتھ گئے۔وہاں انہوں نے اندرا گاندھی کے گھر قیام کیا۔آخری دنوں میں اداکار محمد علی دل اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو گئے ۔بالآخرفن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ 19مارچ 2006ءمیں ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا (ان للہ وان الیہ راجعون)

  • افطار ڈنر اور علم و ادب کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    افطار ڈنر اور علم و ادب کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اردوسائنس بورڈ میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں بطور مہمان اعزاز شرکت کی ، اس سیمینار میں بہت معلوماتی گفتگو سننے کو ملی ، موضوع تھا ، روزہ صحت اور جدید سائنس ،

    پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا اس کے بعد ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ ضیاء اللہ طوروصاحب نے استقبالیہ کلمات ادا کئیے اور اردو سائنس بورڈ کی طرف سے اس نشست کو منعقد کرنے کی غرض وغایت بیان کی اور آ نے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ، نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر عطیہ زہرہ زیدی نے ادا کیے اور باری باری مہمانوں کو گفتگو کی دعوت دیتی رہیں ، یہ نشست ڈاکٹر محمد سلیم مظہر ( ڈایریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان ، اسلام آباد) کی صدارت میں تھی ، اور مہمانان خاص میں ،ڈاکٹر محمد رفیق خان ( پروفیسر آ ف انوائر مینٹل سٹڈیز / سئنیر ریسرچ فیلو)ڈاکٹر راؤ محمد اسلم خان ( ڈائریکٹر رحمان فاؤنڈیشن انٹرنیشنل سرٹیفائیڈ ٹرینر مائینڈ سائینز)ڈاکٹر عبدالرروف رفیقی ( ڈائریکٹر جنرل اقبال اکادمی)،انجینئر ڈاکٹر جاوید یونس اوپل( سابق صدر انسٹیٹیوٹ آ ف انجینئرز پاکستان)،ڈاکٹر طارق ریاض( وائس پرنسپل قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشن ڈویلپمنٹ ، شوقپور،( ڈاکٹر جمیل احمد سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اردؤ سائیس بورڈ)ڈاکٹر فضلیت بانو( ایسوسی ایٹ پروفیسر منہاج یونیورسٹی لاہور) شامل تھے.تمام شرکاء بہت قابل اور اپنے موضوع پر دسترس رکھتے تھے روزے کی صحت کے لیے افادیت سائنسی اصولوں پر بہت پرمغز گفتگو رہی

    اس کے بعد افطاری اور پھر افطار ڈنر کا عمدہ انتظام تھا باقاعدہ نشست کے بعد بھی کتابوں پر علم و ادب پر گفتگو رہی ،اتنی معلوماتی اور عمدہ نشست منعقد کرنے پر ضیاء اللہ طورو اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر عطیہ زہرہ زیدی ، ریسرچ آ فیسر شگفتہ طاہر اور ریسرچ آ فیسر فاطمہ شہزادی اور دیگر ٹیم ممبران تمام عمدہ انتظامات کے لیے بہت مبارکباد اور شکریہ

  • پہچان پاکستان نے سجائی ادبی ایوارڈز کی محفل

    پہچان پاکستان نے سجائی ادبی ایوارڈز کی محفل

    لاہور، پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت، ہمیشہ سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ حال ہی میں "پہچان پاکستان” کے زیر اہتمام ایک شاندار ادبی میلہ منعقد کیا گیا جس نے پورے ملک کے ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔ یہ تقریب الحمرا ہال میں منعقد ہوئی، جہاں ادب سے محبت کرنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ادبی میلے میں جہاں شاعری اور نثر کی محفلیں سجائی گئیں، وہیں لکھاریوں اور شاعروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انعامات بھی دیئے گئے۔ پاکستان بھر سے آئے ہوئے ممتاز ادیبوں اور لکھاریوں کو خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا، جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ادب کی ترویج کو مزید تقویت ملی۔”پہچان پاکستان” کے روحِ رواں اور چیف ایڈیٹر ذکیر احمد بھٹی نے اس شاندار تقریب کا انعقاد کر کے ادیبوں کے دل جیت لیے۔ ان کی انتھک محنت اور ادب دوستی کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مہمانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم ملا جہاں وہ اپنے خیالات اور تخلیقات کو دوسروں تک پہنچا سکیں۔ ان کی کوششوں کو حاضرین نے بے حد سراہا اور ان کے کام کو خراج تحسین پیش کیا۔

    پروگرام کے آغاز پر ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظورنے پہچان پاکستان کا تعارف حاضرین کے سامنے رکھا،تقریب کے منتظمین اور معاونین میں آمنہ عذرا، غزالہ سلطانہ،عظمیٰ وفا سید، سلمٰی رانی،شازیہ یاسین، عبد الحفیظ شاہد،عذرا انصاری اور دیگر شامل تھے ،تقریب کے دوران معروف شاعر اور ادیب علی زریون کو ان کی شاندار ادبی خدمات کے اعتراف میں پہچانِ پاکستان ادبی ایوارڈ 2025 کے دوران تاج پوشی کی گئی۔ یہ اعزاز ان کے بے مثال کلام، منفرد اسلوب اور ادب کے فروغ میں ان کی انتھک محنت کا مظہر ہے۔علی زریون اردو ادب میں ایک ایسا نام ہے جو اپنے مخصوص انداز اور جدید طرزِ بیان کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کی شاعری روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے، جہاں الفاظ جذبات کی گہرائی میں ڈوب کر قاری کے دل پر اثر کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک عمدہ شاعر ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے ایک تحریک بھی ہیں، جو اپنے کلام میں محبت، درد، سماجی مسائل اور انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

    تقریب میں ایک خاص لمحہ اس وقت آیا جب ایک ہونہار بچی نے تلاوتِ قرآن پاک کی، جس پر حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔ اس بچی کی خوبصورت قرأت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی چوہدری شفقت محمود نے اس کے لیے عمرہ ٹکٹ کا اعلان کیا۔ یہ لمحہ نہ صرف بچی اور اس کے والدین کے لیے خوشی کا باعث بنا بلکہ تمام حاضرین کے لیے بھی ایک جذباتی منظر تھا۔

    "پہچان پاکستان” کی یہ کاوش پاکستان میں ادب اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔ ایسے ادبی میلوں کا انعقاد نہ صرف ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ نوجوان نسل کو بھی ادب کی طرف راغب کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ادب کا مستقبل روشن ہے اور "پہچان پاکستان” جیسے ادارے اس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے مزید ادبی پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ ادب اور ثقافت کی ترقی کا یہ سفر جاری رہےگا.

  • دنیائے ادب کا نئی نسل مشاعرہ- اک یاد.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    دنیائے ادب کا نئی نسل مشاعرہ- اک یاد.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ جو 2002ء میں دنیائے ادب کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔ بلاشبہ ایک نہایت عمدہ اور یادگار مشاعرہ تھا۔ ایک طرف سینئرز کی کہکشاں تھی اور دوسری طرف نئی نسل کے نمائندہ شعرا کی بہار۔ حمایت علی شاعر صاحب، سحر انصاری صاحب، پیرزادہ قاسم صاحب، انور شعور صاحب اور دیگر کی موجودگی میں کلام سنانا بڑا اعزاز تھا۔

    اس زمانے میں سامعین شعرا کو سننے آتے تھے اور شعرا کلام سنانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ کلام پڑھ کر اور دوسرے شعرا کا کلام سن کر لطف آتا تھا اور سامعین کئی اشعار اپنے ساتھ لے کر اٹھتے تھے۔ اس وقت مشاعرہ کامیاب اور ناکام کی دوڑ نہ تھی اور نہ ہی مشاعرہ ایک شاعر کے پہلو سے دوسرے شاعر کے پہلو میں اور ایک شاعر کے سر سے تاج دوسرے شاعر کے سر پر سجنے جیسی واہیات ذہنیت تھی۔ ادبی مکالمہ تھا جس میں سب ( خصوصاً نئی نسل کے شعرا) اپنا تازہ اور بہترین کلام سنانے اور سینئرز سے داد پانے کو اپنی کامیابی سمجھا کرتے تھے۔ مشاعرے کے اسٹیج پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک کیا کیا قد آور شخصیات ہوا کرتی تھیں مگر مجال ہے کہ کوئی اتھلا پن دکھائے۔ سب ایک دوسرے کو داد دیتے اور فخر سے کہتے کہ بھئی اچھا شعر دشمن کا بھی ہو تو بے ساختہ داد نکلتی ہے۔ نوک جھونک، استادی کا شوق سب تھا مگر عموماً ادب کے دائرے میں۔ پھر اس پست سوچ نے ادبی مکالمہ کو باقاعدہ ادبی مقابلہ بنا ڈالا اور اب تو بعض اچھے خاصے سنجیدہ اور عمدہ شاعر بھی اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں کہ انھیں نمبر ون قرار دیا جائے، جیسے شاعر/ شاعرہ نہ ہوئے ہیرو/ ہیروئن ہو گئے۔ اس چکر میں زندگی بھر کی بنی بنائی ساکھ کیسے پل میں مٹی میں ملی اور کیسے وہ ہم جیسوں کے دل سے اتر گئے اس کی بھلا کسے پرواہ۔

    اس کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ میں خاصی تعداد ایسے شعرا و شاعرات کی دیکھی جا سکتی ہے جنھیں کسی طور نئی نسل کا نہیں کہا جا سکتا مگر وہ نہ صرف نئی نسل کے بلکہ نوجوان کہلاتے تھے( خیر اب بھی جن شعرا کو نئی نسل کا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان میں اکثریت پچاس سے اوپر ہے)۔ مگر اس وقت مشاعرہ اپنے معیار پر سمجھوتہ کرنے کا قائل نہیں ہوا کرتا تھا لہٰذا عمر یا نسل پر سمجھوتا مجبوری ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں کوئی ایک آدھ بھرتی یا پرچی کا شاعر/ شاعرہ آ جاتے تو سامعین خود ہی انھیں احساس دلا دیتے کہ وہ سامعین کو احمق نہ سمجھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مدیران اور صحافیوں میں اتنی جرات تھی کہ وہ باقاعدہ اپنی رپورٹنگ میں لکھ دیتے کہ فلاں شاعر/شاعرہ کا نام مشاعرہ میں شامل ہی نہیں تھا مگر فلاں سینئر شاعر کی ” سفارش” پر انھیں پڑھوایا گیا۔ افسوس کہ پھر ایسے لوگ لفافے کے چکر میں انھیں لوگوں کو بڑھانے چڑھانے میں لگ گئے جن کا تعارف ہی سفارش تھا۔ اور جینوئن شعرا/ شاعرات جنھوں نے اپنی محنت سے، اپنے قدموں پر سفر طے کیا ان کے جائز حق کو تسلیم کرنے میں بھی کم ظرفی دکھانے لگے۔ نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے اور آثار بتا رہی ہیں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
    بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

    بہرحال اس مشاعرہ کا انعقاد دنیائے ادب کا ایک ایسا کارنامہ تھا جسے سراہنا چاہیے۔ گزشتہ دنوں دنیائے ادب نے اس مشاعرہ کی تصاویر شیئر کیں تو سوچا دنیائے ادب کے خصوصی شکریہ کے ساتھ یہ تصاویر آپ احباب کے سامنے پیش کی جائیں۔

  • پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    کل رم جھم برستی بارش اور لاہور کے خوبصورت خنک موسم میں فرح ہاشمی کے آ رٹسٹک گھر میں شاندار نشست ہوئی ، فرح ہاشمی صاحبہ نے آ ئرلینڈ سے آ ئیں مصنفہ ڈاکٹر سیمیں رخ کے اعزاز میں اس نشست کا اہتمام کیا تھا فرح ہاشمی کے گھر کی شاندار ڈیکوریشن اینٹکس ، سٹڈی روم گھر کا ہر گوشہ انتہائی آ رٹسٹک طریقے سے ڈیکور کیا گیا تھا اور فرح کے اعلیٰ زوق کا آ ئینہ دار تھا سب نے بہت تعریف کی اور ڈرائینگ روم میں موجود چرخے نے تو سب کا دل موہ لیا وہ چرخہ جو سنا تھا چاند پر موجود ہے اور بڑھیا صدیوں سے کات رہی ہے چرخے کے علاوہ اور بھی ثقافتی اشیا لالیٹن ، حقہ ، ہاتھ سے بنے پنکھے ، ڈیکوریشن کے علاوہ کھانے کی میز پر بھی فرح کا سلیقہ نظر آ رہا تھا تمام چیزیں گھر کی بنی اور مزیدار تھیں ، فرح نے عمدہ میزبانی کی ہر چیز خود پیش کرتی رہیں ، کباب ، سموسے ، دہی بڑے ، پاسٹا ، پکوڑے ، سویٹ ڈش ، گھر کی بنی ہر چیز مزیدار تھی ، کھا نے کے بعد محفل شعر وسخن ہوئی سب نے اپنا کلام سنایا مارچ میں یوم خواتین کے حوالے سے عمدہ شاعری سننے کو ملی.

    ڈاکٹر سیمیں رخ نے اپنی کتب ،، باد مسموم ،، زرد پتوں کی بارش ،، اور ،، ایک تھی ستارہ،، سب کو پیش کیں ، ڈاکٹر سیمیں رخ آ ئر لینڈ میں مقیم ہیں پریکٹسنگ ڈاکٹر ہیں آ جکل پاکستان آ ئی ہوئی ہیں پاکستانی اہل قلم خواتین سے ملکر خوش تھیں انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں پلوشن اور ٹریفک کے مسائل ہیں لیکن اپنے ملک کی فضاؤں میں اپنائیت ہے انہیں اپنی پذیرائی اچھی لگ رہی ہے

    اس نشست میں ہمارے علاوہ کنول بہزاد ، شاہین زیدی اور شاعرہ شاہدہ مجید نے شرکت کی ، بہت خوبصورت شام تھی رات گئے تک یہ محفل جمی رہی ، ڈاکٹر سیمیں رخ چند دنوں بعد آ ئیرلینڈ سدھار جائیں گی ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اگلی بار وہ آ ئیں تو پاکستان کے مسائل ختم ہو چکے ہوں اور ٹریفک اور پلوشن کے حوالے سے ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح منظم ہوجائے جیسا کہ انہوں نے بتایا آ ئیر لینڈ میں ہے –

  • قصہ ایک اور ۔۔۔ ادبی نشست کا .پاک ٹی ہاؤس لاہور.تحریر:عمارہ خان

    قصہ ایک اور ۔۔۔ ادبی نشست کا .پاک ٹی ہاؤس لاہور.تحریر:عمارہ خان

    زمانے بعد کسی ادبی محفل میں جانا نصیب ہوا، جو یقیناً سراسر وقت کا ضیائع ہی تھا، شدید تھکن اور بےزاری کا عالم دیکھ ہی لیں، جتنا برداشت ہوسکا کیا اور پھر سب سے کونے میں موجود نشست دیکھ ” انٹاغفیل”
    خیر، جانا نہایت مجبوری ۔۔۔ محفل میں افسانہ، نظم، غزل پڑھی جانی تھی، جس پر تنقیدی نگاہ ڈالنی تھی ۔۔۔افسانہ ہماری دوست کا تھا، ہم نے سب سے پہلے سبو پیاری کے ساتھ شاعر حضرات کو فرشی سلام کیا، بہت ہی دل جگرے کی بات، سوشل میڈیا کے بےجواز اور بلاوجہ وقت پاس کرنے تنقید کوتو جھیل جاؤ، مگر بچگانہ بحث، منفیت تبصرے، آمنے سامنے برادشت کرنا ۔۔۔۔ ست سلام ۔۔ شاعری ہماری لائن نہی، اسی لیے اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہی لیکن ۔۔۔لکھنا تو۔۔.۔۔ افسانہ تھا ایک پہاڑی علاقے کے مقامی لوگوں کا، پوسٹ مارٹم میں جو یوزلیس تبصرے ہوئے،انگشت بدنداں ۔۔ حیرت سے انگلیاں منہ میں دابنی ہی رہ گئ سمجھیں ۔۔ ہم سمجھتے رہے وقت کچھ بدل سا گیا مگر ۔۔۔ نہ جی ۔۔۔ سوائے ایک دو لوگوں کے، جنہوں نے واقعی ڈھنگ کا تجزیہ کیا تھا باقی ۔۔۔
    ” افسانے میں بلندیوں کا زکر ہے، پستی کا نہی ”
    افسانے میں بہار کا زکر یے خزاں کا نہی ”
    ” افسانے میں صرف مقامی کلچر کا زکر ہے ”
    ۔۔۔۔۔
    بہ خدا، دس پندرہ سال پرانا وقت یاد آگیا، جب سوشل میڈیا پر ایک ادبی گروپ میں شامل تھے، دنیا بھر کے فارغ بابا اور بابی و چند نئے نئے ” جامے سے باہرجاتے ” لوگ بھی نمایاں، دو چار انتہا درجے کے ” چغد و ٹھرکی” افراد ہمراہ ” عورت کے جسمانی خدوخال کو واضح انداز میں بیان کرنا اور ان کے زہنی مسائل کو اجاگر کرنا جو صرف بیڈروم و بستر کے اردگرد گھومتا رہ وغیرہ وغیرہ ” شامل تھا ۔۔۔ اور ہاں کچھ وہ خواتین نما نفسیاتی مسائل کا شکار عورتیں بھی جو ” نیوڈ پینٹنگ اور ان پر کھل کے تبصرہ ” کو ادب کا درجہ دیتیں، چند ایک بار کچھ لوگوں سے جب پوچھا، ہم بستری کے علاوہ دنیا میں کچھ لکھنے نہی تو جواب ملا، یہ حقیقت ہے، جب ان سے پوچھا صبح سویر انسان کو اٹھ کے صرف باتھ روم جانے کی چاہ ہوتی، وہ حقیقت نہی ؟؟ کبھی اس پر بھی تو گولڈن الفاظ ہوجائے تو ۔۔۔ خیر ہم اس ادبی گروپ سے نکال باہر کیے گئے کیونکہ ایک تو ہم ڈائجسٹ رائٹر دوسرا جب پوچھتے، آپ کے گھر جو عورتیں ماں بہن بیوی بیٹی کے نام پر خوبصورت جسم رکھنے والی موجود ان کے نفسیاتی مسائل حل کیے تو پتہ نہی انہیں برا کیوں لگ جاتا تھا، ماحول کااندازہ تو ہوہی گیا ہوگا ۔۔۔ تو ہم اپنی کم عقلی کو اولین ترجیحات میں رکھتے سمجھتے رہے، ادب کا پرچار کرنے والے الگ لوگ ہوتے ہیں، ہم کمرشل لکھاری کو اسی لیے کمتر سمجھتے کہ وہ زیادہ گہرائی میں جاکے سمجھتے پڑھتے لکھتے ۔۔۔۔ اور الحمدلله، ایک بار پھر ہم غلط ثابت ہوئے ۔۔۔۔ واقعی ادبی لکھاری و ڈائجسٹ لکھاری کا کوئی تال میل نہی ۔۔۔ ہم لوگ ان سے زیادہ نفیس و ادب آداب والے ہیں ۔۔۔ کم از کم بہت ہی کم کسی کمرشل لکھاری کو کسی کی بات کاٹ کے اپنی بات کرتے، کسی کا تعارف صبر سے نہ سنتے، اپنا وقت پاس کرتے تنقید کرتے، بحث برائے بحث دیکھا ہے
    ” ڈائجسٹ لکھاری ۔۔۔۔ سوکالڈ ادبی لکھاری سے زیادہ ادب رکھتے ہیں "

  • نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کی اہمیت اور اثرات معاشرتی ترقی میں بے شمار ہیں۔ یہ پیشہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں صرف سچائی، ایمانداری، اور محنت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ صحافت کے میدان میں قدم رکھنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں۔ خصوصاً ایک خاتون کے لیے اس میدان میں جگہ بنانا اور اپنے لیے ایک معتبر مقام پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔ایسی ہی ایک جرات مندانہ مثال نمرہ ملک کی ہے، جو تلہ گنگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ نمرہ ملک نے نہ صرف صحافت کے میدان میں قدم رکھا بلکہ اس میدان میں اپنی محنت، لگن اور قابل رشک کامیابیوں کے ذریعے نہ صرف اپنا نام بنایا بلکہ اپنے علاقے کا بھی نام روشن کیا۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا صحافت سے تعلق کئی برسوں پر محیط ہے، اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بہت محنت سے ہوا۔ انہوں نے کئی اہم اخبارات اور میڈیا اداروں سے وابستہ رہ کر صحافت کے اصولوں کو سیکھا اور اپنے کام میں بہترین مہارت حاصل کی۔ ان کی تحریریں نہ صرف پڑھنے والوں کو معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ ان کے دلوں تک پہنچ کر انہیں متحرک بھی کرتی ہیں۔
    nimra malik talagang
    نمرہ ملک نہ صرف صحافت کی دنیا میں بلکہ ادب کی دنیا میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں، جن میں مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ ان کی تحریریں اپنے اندر ایک منفرد زاویہ اور گہرا پیغام رکھتی ہیں، جو نہ صرف قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں بلکہ انہیں دنیا کو ایک نیا نقطہ نظر بھی فراہم کرتی ہیں۔نمرہ ملک نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے صحافت میں بے شمار ایوارڈز جیتے ہیں۔ ان کے نام نو سو سے زائد ایوارڈز ہیں، جو ان کی محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت کا غماز ہیں۔ یہ اعزازات ان کی جدو جہد اور کمیونٹی میں ان کی خدمات کو تسلیم کرنے کا واضح اظہار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلہ گنگ کے کسی بھی "مرد صحافی” کو اتنی عزت نہیں ملی جو نمرہ ملک نے حاصل کی ہے۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کی کامیابی صرف ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی مستقل مزاجی، لگن، اور جرات کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھتے وقت جہاں ایک طرف خواتین کے لیے اس میدان میں اپنے آپ کو ثابت کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، وہیں دوسری طرف انہوں نے اپنے کام کے ذریعے ثابت کیا کہ اگر انسان میں عزم و ہمت ہو تو کوئی بھی مشکل راستہ رکاوٹ نہیں بن سکتا۔نمرہ ملک کی کہانی ایک ایسی کامیاب خاتون کی کہانی ہے جس نے نہ صرف اپنے علاقے کا نام روشن کیا بلکہ صحافت کے میدان میں عورتوں کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ ان کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر انسان اپنی محنت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ کسی بھی شعبے میں قدم رکھے، تو وہ نہ صرف اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرتی دائرے میں بھی ایک تبدیلی لا سکتا ہے۔نمرہ ملک کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی جدو جہد کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ ایک پیغام بھی ہے کہ کامیابی کا کوئی واحد راستہ نہیں ہوتا، اور محنت اور عزم کے ساتھ اپنی راہ بنانے کا جذبہ کبھی ناکام نہیں جاتا۔
    نمرہ ملک کے لیے ڈھیروں دعائیں۔۔۔۔
    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا مختصر تعارف،نمرہ ہی کی زبانی
    پروفیسر نمرہ ملک پرائڈ آف پرفارمنس مصنفہ ادیبہ
    ماسٹرز ان اردو،ماس کمیونکیشنز۔بی ایڈ ،میڈیکل
    مختلف زبانوں میں انٹرپریٹر ہوں۔
    مبصرہ ناولسٹ
    افسانہ نگار
    کالم نگار(میرے کالمز پہ سوموٹو ہو چکے ہیں۔)
    کمپیئر
    اینکر پرسن
    سفر نامہ نگار
    صحافی
    چیئرپرسن ضلع پریس کلب تلہ گنگ
    ضلع چکوال کی پہلی ورکنگ جرنلسٹ۔۔۔۔نیشنل جرنلسٹ
    مختلف قومی چینلز اور اداروں کے ساتھ جرنلزم کا اعزاز حاصل ہے
    قومی،صوبائی اور علاقائی ایوارڈز یافتہ
    حالیہ ملٹی لیگنوہجز نظمیہ کتاب "کہیں تھل میں سسی روتی ہے”کو گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کے لیے منتخب کیا جاچکا ہے جب کہ ملک بھر میں اس پہ چار گولڈ میڈلز،اٹھارہ پزیرائیاں اور سترہ شیلڈز مل چکی ہیں۔
    "شاہ سائیں” ناول کو پاکستان کا 2020 کا بیسٹ رائٹر ایوارڈ مل چکا ہے۔
    پنجابی مجموعہ "مہنڈی روح دے یوسف بولیں ناں”کو پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے باقاعدہ سراہا جا چکا ہے۔
    پندرہ کتب کی مصنفہ ہوں۔
    میری پانچ مختلف زبانوں میں کتب آچکی ہیں
    پندرہ زبانوں میں شاعری کا اعزاز حاصل ہے
    انٹرنیشنل حجاب ایوارڈ یافتہ ہوں
    ریڈیو ،ٹی وی اور مختلف چینلز سے لاتعداد شیلڈز،ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس مل چکے ہیں جن کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے
    کئی ادبی،و سماجی تنظیموں سے وابستگی ہے۔
    میرا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ میں آن لائن تفسیر پڑھاتی ہوں اور حافظہ کے ساتھ عالمہ بھی ہوں۔الحمدللہ

    ضلع تلہ گنگ کی پہلی خاتون صحافی ہوں۔پانچ مختلف زبانوں میں لکھتی ہوں۔پندرہ مختلف زبانوں کواپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ادب اطفال کی جانب سے متعدد بار ایوارڈز مل چکے ہیں۔بچوں کے رسالے "پھول” میں پہلی کہانی شائع ہوئی تھی۔
    nimra malik talagang
    میری کتابوں کی تفصیل ۔
    مہنڈی روح دے یوسف۔(پنجابی شاعری)
    شاہ سائیں(ناول)
    دریچہ (کالمز)
    کہیں تھل میں سسی روتی ہے(ملٹی لینگویجز نظمیں)
    بہ نوکِ خار می رقصم(فارسی کلام)
    مرحبا یا سیدی(عربی کلام)
    کتاب زیست(ناول)
    عشق کی تال تا تھیا!!(ناول)
    آؤ خواب خواب کھیلیں(اردو غزل)
    ah my dreams!!(انگلش )
    مائے نی (پنجابی ماہیا،)
    6.(افسانے)
    مرشد خانہ (سفر نامہ)
    میں کملی دا ڈھولا(اردو ،پنجابی ناولٹ،افسانے)
    پیمانہ بدہ(فارسی کلام)

    من محرم کہ رب محرم(ناول۔۔۔زیرتکمیل)
    جیا عالم ہے (زیر تکمیل مجموعہ افسانے)
    (نمرہ ملک)

  • آئینہ دکھانا مرا کام ہے.تحریر:نمرہ ملک

    آئینہ دکھانا مرا کام ہے.تحریر:نمرہ ملک

    اللہ کریم نے آپ کو عزت دی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی محنت سے زیادہ اس رب کا آپ پہ کرم ہے۔
    سو اسی ودود کی محبتوں کو سمیٹتے ہوئے مخلوق خدا کو بھی اسی عزت سے نوازیں جس کے آپ خود کو حقدار سمجھتے ہیں۔
    اگر آپ کسی کو عزت نہیں دے سکتے تو آپ کو کسی کی بھی عزت نفس سے کھیلنے کا حق حاصل نہیں ہے۔جیسے آپ اپنی فیلڈ کے شاہ سوار ہیں،ہو سکتا ہے سامنے والا اپنی فیلڈ میں آپ کی توقع سے بڑھ کر کامیاب ہو!!!!
    اپنی نظر سے دنیا کو مت دیکھیں۔اپ کا نظریہ آپکی رائے آپکا جمہوری حق ضرور ہے مگر ضروری نہیں درست بھی ہو!!!
    دنیا کو اس نظر سے بھی مت دیکھیں کہ جس نظر سے دنیا اپکو دیکھے گی تو اپکو برا لگے گا۔

    مجھے قلم کے میدان میں لکھتے، سیکھتے دو دہائیاں ہو گئی ہیں۔۔۔۔میں نیشنل جرنلسٹ بھی ہوں۔یہ مقام میں نے بہت رگڑے کھانے،زندگی کی بہت سی ماریں کھا کر حاصل کیا ہے۔صرف میں وہ تکلیف سمجھ سکتی ہوں جو کسی لڑکی کو اک محدود ماحول میں سہنا پڑی ،اک ایسے چھوٹے علاقے میں جہاں مردانہ راج ہے،جہاں میٹریکولیٹ صحافت ہے،جہاں تھانے کچہری کی سیاست ہی صحافت ہے،جہاں پولیس کے اک کانسٹیبل کے ساتھ اک تصویر ہی ڈی پی کا فخر سمجھی جاتی ہے،جہاں انتظامیہ سے تعلقات ہی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں،جہاں کورٹ کچہری سے بھی زیادہ کیسز میٹرک پاس انتظامیہ کا سر چڑھا لفافہ "صوحافی” دونوں طرف سے پیسے بٹور کر حل کرلیتا ہے،اور ایمانداری سے اپنا حصہ نکال کر باقیوں کا تقسیم کرتا ہے۔۔۔جہاں کی رپورٹنگ قل خوانی،ککڑ کڑاہیاں،فاتحہ جنازہ،ولیمے کی تصاویر لگا کے ساتھ "سنئیر جرنلسٹ کی فلاں ولیمے میں شرکت” کے کیپشن کے ساتھ کی جاتی ہے۔۔۔۔

    وہاں سات سال باقاعدہ اک میڈیا گروپ آفس میں رہنا اور تن تنہا ہزاروں مخالفتیں سہہ کر بھی شفاف صحافت جاری رکھنا اک عورت کے لیے کتنا مشکل تھا۔۔۔۔
    صرف میں جان سکتی ہوں۔۔۔۔آپ نہیں!!!
    سو آپ کو میرے بارے بنا جانے رائے دینے کا حق بھی نہیں!
    حق سچ پہ کالمز لکھنے پہ اغوا میں ہوئی تھی،اپ نہیں
    سو آپ کو حقیقت جاننی چاہیے
    حق لکھنے،حق کے ساتھ کھڑے ہونے اور سیاسی شخصیات کا نام لے کر کالم لکھنے والی اس لڑکی جسے اسی پاداش میں ایک ہی ہفتے میں مسلسل سات بار ایکسیڈنٹ کے زریعے مارنے کی کوشش کی گئی ،میں ہوں۔۔۔میں نمرہ ملک۔۔۔
    اور اس بات کے دوستوں کے ساتھ دشمن بھی گواہ ہیں۔۔۔۔میری زبان تک کٹ گئی تھی۔۔۔۔لیکن قلم نے ہار نہیں مانی تھی۔۔۔( اس حوالے سے کسی کو بھی شک ہو تو وہ پریس فورم میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو ریاض انجم سمیت کسی بھی زمہ دار شخص سے تصدیق کر سکتا ہے)
    مجھے یہ نو سو کے قریب شیلڈز، قومی و سرکاری اعزازات،سوموٹو اور پندرہ کتب کا خالق ہو جانا کسی سیاسی پارٹی کی چاپلوسی کی وجہ سے نہیں ملے۔۔۔۔۔اگر ملتے اور مجھے کھاؤ اور کھلاؤ پالیسی آ جاتی تو آج میں صحافتی پابندیوں کی زد میں نہ ہوتی۔۔۔۔
    یہ مجھے میرے قلم کی کمائی سے ملے ہیں۔وہ قلم جسے میں نے چوری چوری استعمال کرنا شروع کیا تھا،اور پھر وقت نےاسی قلم کی بدولت مجھے اس دور کے سب سے بڑے میڈیا میں لا کھڑا کیا!!!
    سچ کہوں ناں تو یہ مجھ سے بھی زیادہ میرے والدین کا قصور ہے جنہوں نے حرام نہیں کھلایا اور نہ کھانے کی ترغیب دی،ورنہ میں بھی رچ بس جاتی،مس فٹ نہ ہوتی!!!

    جب آپ لوکل سطح پہ سالوں اک میڈیا گروپ کو رن کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں تو خود بہ خود نظروں میں رہتے ہیں، کہیں آپ کی بے حد عزت کی جاتی ہے تو کہیں آپ کے پیٹھ پیچھے برائیاں ،کردار کشی اور پاؤں کے نیچے زمین کھینچ لینے کی بھرپور کوشش کی جاتی یے۔۔۔
    مجھے بھی یہ سب دیکھنا پڑا!!!دیکھتی آئی ہوں اور اب بھی دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔

    جہاں میری کامیابیوں سے تعصب زدہ معاشرے میں تکلیف دہ حالات نے مجھے ہر موڑ پہ آزمایا وہاں میرے علاقے کا۔۔۔۔میں دہراتی ہوں۔۔۔۔۔
    میرے اپنے علاقے کا
    میرے تلہ گنگ چکوال پنڈی ڈویژن کا ہر وہ شخص جو میری قلمی فتوحات کو سمجھتا ہے وہ مجھے بہت محبت اور عزت دیتا ہے۔کیونکہ میں نے جب جب لکھا،عام آدمی کے لیے لکھا
    ٹوٹی سڑکیں کھڈے بنیں تو قلمکار نے ٹوٹے ہوئے قلم کو تلوار بنایا۔۔۔
    تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کی بات آئی تو قلم نے بھرپور آواز اٹھائی،جہاں کہیں کسی کو ضرورت پڑی،قلمکار نے اپنا ہنر بیچا نہیں ،آزمایا اور فتح پائی ۔۔۔۔
    وہ ٹرانسپورٹ والے ہوں
    وہ عام دکاندار ہوں ،مجھے عزت دیتے ہیں،میرے لیے سیٹ خالی چھوڑ دیتے ہیں،کیونکہ یہ ہی میرے قلم کی کل خرید ہے،کل سرمایہ ہے،کل کائنات ہے!!!
    وہ سٹی ہاسپٹل کا ٹراما سینٹر ہو یا سٹاف۔۔۔
    وہ بائی پاس کے سٹے ہوں یا روڈز
    وہ ملکی و قومی نمائندگی ہو یا علاقے کی ترجمانی۔۔۔۔
    وہ صحافت ہو ناول نگاری۔۔۔میں نے اپنی طرف سے جو حق ادا کرنے کی کوشش کی سو کی،لیکن میرے عام لوگوں نے مجھے بے حد عزت دی ہے
    اور جب عام آدمی آپ کو عزت دینے لگ جائے تو آپ سمجھ جائیں ،آپ کا ایلیٹ طبقہ جتنا مرضی آپ کے خلاف ہو،حق کا ساتھ ہمیشہ چھوٹے لوگ دیتے ہیں۔
    جب میری کسی پزیرائی پہ مجھے طنزا کہا جائے کہ”تم کیا کوئی وزیراعظم لگی ہوئی ہو؟؟؟ جو تمہیں لوگ پروٹوکول دیں،” تومجھے ان لفظوں سے تکلیف ضرور ہوتی یے۔لیکن یہ احساس بھی ساتھ رہتا ہے کہ سامنے والے نے وہ دکھ،وہ تکلیف نہیں دیکھی جو بحثیت اک خاتون صحافی کے میں نے دیکھی ہے۔سو جب کوئی میرے قلم کی بدولت مجھے عزت دیتا ہے تو مجھے وہ انسلٹ یاد نہیں رہتی جو کسی تعصب یا بنا کچھ جانے کسی کے لفظوں سے محسوس ہوتی ہے۔مجھے وہ محبتیں یاد رہتی ہیں،وہ دعائیں یاد رہتی ہیں جو میں نے کہیں نہ کہیں اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کر کے بلا معاوضہ اپنے نام کی ہیں۔
    "چھوٹے لوگوں کے لیے بڑی باتیں مت کرنا شروع کر دیا کرو” کہنے والو!!!
    میں نمرہ ملک وزیراعظم نہیں ہوں،بہت چھوٹے قد کی چھوٹی سی قلمکار ہوں مگر مجھے فخر ہے کہ میں بہت سے چھوٹے لوگوں کی بڑی محبتوں کی آمین ہوں ۔