Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • الحمد للہ رب العالمین 2024.تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    الحمد للہ رب العالمین 2024.تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    ہر صبح ایک نئی امید لے کر آتی ہے۔ جب سے یہ کائنات معرضِ وجود میں آئی ہے امید بھی تبھی سے وجود میں آئی ہے۔ مومن اپنے رب کی ذات سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وقت کبھی بھی کسی کے لیے نہیں رکتا وقت کا کام تو بس چلنا ہے اور وہ چلتا ہی رہتا ہے۔ حالات کے تھپیڑے ہوں یا مشکلات کی آندھیاں چلیں، خوشیوں کی بارات ہو یا غموں کی برسات ہو، وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے۔ کیلنڈر کے صفحات کی طرح ماہ و سال بدلتے رہتے ہیں۔ سال 2024 بچھڑ گیا اور سال 2025 کا کیلنڈر دیواروں کی زینت بن گیا۔ یہ دنیا اور اس کی ہر شے فانی ہے۔ نہ غم ذیادہ دیر کہیں ٹھہر سکتا ہے نہ خوشیاں کہیں مستقل بسیرا کر سکتی ہیں۔ دن رات کا بدلنا، موسموں کا تغیر اس بات کی دلیل ہے کہ گزرا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ پر سکون زندگی کا ایک راز یہ بھی ہے جو گزر گیا اس پر شکر ادا کریں اور جو آنے والا ہے اس کی امید اچھی رکھیں۔

    سال 2024 کو اگر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو بہت کچھ کھویا بہت کچھ پایا۔ زندگی کی تلخ حقیقتوں میں سے یہ حقیقت ویسے ہی ہے جیسے فلک پر چمکتا چاند اور روشن ستارے کہ دکھوں کا ساتھی رب العزت کے سوا کوئی نہیں ہوتا اور خوشیوں کے ساتھی سبھی ہوتے ہیں۔

    میں قرۃالعین خالد آپ کو اپنے غموں کے قصے نہیں سناؤں گی کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے ساتھی رہیں۔ 7 جنوری 2024 کو میری عیشتہ الراضیہ کی پاکٹ سائز کتاب "فرسٹ ایڈ باکس” میرے ہاتھوں میں آئی۔ فروری میں لاہور ایکسپو سینٹر بچوں کے ساتھ کتب میلہ گئی اور وہاں بہت سے نئے افراد سے ملنے کا موقع ملا۔ اللّہ رب العزت نے ایک نیا جہاں میرے لیے آباد کر دیا۔ پیاری عیشہ نے نئے جہاں میں قدم رکھا نیا اسکول نئے دوست بنے۔ بلیک کاسٹل سے کڈز کلب کا سفر اگرچہ عیشہ کے لیے دشوار تھا مگر رب کی رحمت سے یہ سفر بھی آسان ہو گیا۔ کامیابیوں کے لیے نئے جہاں دریافت کرنے کرتے ہیں۔ اپووا خواتین کانفرنس نے مارچ کے مہینے کو ہمیشہ کے لیے میری یادوں میں محفوظ کر دیا۔ مجھے ہمیشہ نئے لوگوں سے ملنا پسند ہے نئی دوستیاں کرنا اچھا لگتا ہے۔ مارچ میں” تسخیرِ کائنات” نے اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ اے اللہ رب العزت! میری "تسخیرِ کائنات” کو خوب عزت بخشنا۔ آمین!

    اپریل میں سعدین کے لیے منصوبہ بندی کی اور مئی کے آغاز میں رمضان کے بابرکت مہینے میں سعدین کی بنیاد رکھی۔ زندگی نے بڑے تجربات کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پہلی بار پروفیشنل کیمرے کا سامنا کیا اور پروگرام ہوسٹ کرنے کا موقع رب العزت نے عطا کیا۔ اس فانی دنیا میں اپنا گھر اللّہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جون 2024 کو اللّٰہ پاک نے ہمیں اس نعمت سے نوازا جس پر میں رب کا جتنا شکر ادا کروں کو کم ہے۔ کرایے کے اذیت ناک سفر سے اپنے گھر تک کی راحت کوئی اس انسان سے پوچھے جس کے پاس اپنی چھت نہیں۔ اللہ پاک سب کو اپنا گھر نصیب فرمائے اس میں خوشیوں اور سلامتی کے ساتھ رہنا نصیب کرے آمین۔

    اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب 6 جولائی کو اپووا ٹیم میرے گھر میں آئی۔ میرے گھر میں آنے والے پہلے مہمان آپ ہی تھے۔ مجھے چائے بنانی نہیں آتی مگر میں نے بنائی اور سب سے مزے کی بات مدیحہ کنول آج بھی کہتی ہے چائے بہت مزے کی تھی۔ ہائے کوئی میرے چاہنے والوں کو بھی بتائے کہ چائے مزے کی تھی۔ سعدین انسٹیٹیوٹ کے تحت امید سیریز کا آغاز جولائی میں کیا۔ اگست میں نفیس کیڈٹ اکیڈمی میں تربیت اولاد کے حوالے سے سیشن ہوا۔ جس میں میری والدہ اور میری پیاری بہن دوست ماہ پارہ میری معاون رہیں۔ ستمبر تومجھے بہت عزیز ہے میری پیدائش کا مہینہ، اکتوبر میری شادی کا مہینہ، واہ واہ دونوں مہینے ساتھ ساتھ ،نومبر میں اپووا ورکشاپ کی مزے دار کی تیاریاں اور اس سال نیا تجربہ کہ ایک سگمینٹ کو اسپانسر کرنے کا موقع ملا۔ مجھے گفٹ دینا بہت پسند ہے الحمدللہ!

    نومبر میں حور کا اچانک آنا نومبر کو باغ و بہار کر گیا۔ کون کہتا ہے دسمبر اداس ہوتا ہے ہائے میرا تو بہت شور شرابے والا تھا بچوں کی اسکول کی چھٹیاں اور ہر سو ہنگامے ہی ہنگامے دسمبر میں ایک بار پھر اپووا ٹیم سے ملنے کا موقع ملا۔

    عزت اور ذلت اللّٰہ کے اختیار میں ہے پھر بھی پتہ نہیں کچھ لوگ اسے اپنا اختیار کیوں سمجھتے ہیں۔ اس سال میری پیاری بیٹی حورالعین نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اس کا داخلہ کیڈٹ کالج میں ہوا ،میرا ابراہیم بھی اسکول جانے لگ گیا۔ حافظ وقاص صاحب کے پیچھے تراویح پڑھنے ایک الگ احساس کا نام ہے یا اللہ! تیرا شکر ہے۔ اس بار ہم نے بچوں کے ساتھ آخری روزے اور عید اسکردو ہنزہ گلگت بلتستان میں کی وہ ایک الگ کہانی ہے اور عید الاضحی سوات میں کرنے کا الگ ہی مزہ تھا۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی اللہ نے چلائے رکھا اس سال میں نے اپنی سوئی ہوئی کیلی گرافی کو پھر سے زندہ کیا۔ ناول لکھنے کی طرف توجہ کی کئی ایوارڈ عزت حاصل کی۔ میری سرجری ہوئی اور کچھ رشتوں پر سے پردہ اٹھا۔ ارے میں تو بتانا بھول گئی ایک اہم بات سوچا جاتے جاتے بتا دوں اس سال لوگوں کے دھوکے پیسوں کے فراڈ جھوٹ فریب حسد کینہ بغض بھی دیکھے لیکن ان جیسے لوگوں کو یہ بتا دوں مجھے آپ کی ان حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑا جنہوں نے پیسوں یا جذبات کا فراڈ کیا ہے وہ ہی غریب رہیں گے ان شاءاللہ! میرے پاس تو پھر بھی سب کچھ ہے۔ جنہوں نے محبتوں اور عزت سے نوازا اللہ پاک ان کی عزتوں میں اضافہ فرمائے جنہوں نے دھوکے دئیے ان کا بہت شکریہ وہ نہ ہوتے تو مجھے سیکھنے کا موقع نہ ملتا.

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

  • باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    آج، باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا دن ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں گزشتہ دو برسوں سے باغی ٹی وی کی ٹیم کا حصہ ہوں۔ یہ میرے لئے نہ صرف ایک پروفیشنل کامیابی ہے بلکہ ایک ذاتی سفر بھی ہے جس نے میری زندگی اور کیریئر کو نئی سمت دی۔

    جب میں پہلی بار باغی ٹی وی کے دفتر میں انٹرویو دینے گئی، تو میرے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ میں بے حد پرجوش اور نروس تھی، لیکن سینئر صحافی اور باغی ٹی وی کے سی ای او، محترم مبشر لقمان صاحب سے ملاقات نے میرے تمام خوف کو دور کیا۔ ان کا پرسکون اور پروفیشنل انداز، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے جو مختصر انٹرویو لیا، وہ ایک یادگار لمحہ تھا۔ چند منٹ بعد ہی ایڈیٹر باغی ٹی وی، سرممتاز اعوان کی جانب سے خوشخبری آئی کہ میری جاب کنفرم ہو چکی ہے۔ یہ لمحہ میرے لئے ایک خواب کی طرح تھا، کیونکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح ایک معروف اور کامیاب ادارے کا حصہ بنوں گی۔

    میرے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ مجھے باغی ٹی وی کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ میری ذمہ داری میں فیس بک پیجز، ٹویٹر، انسٹاگرام، اور ٹک ٹاک پر باغی ٹی وی کے لنکس اور پوسٹرز کی شیئرنگ شامل تھی، جسے میں انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ انجام دے رہی ہوں۔ابتدا میں میرے کام کو دیکھنے کے بعد میری ذمہ داری بڑھا دی گئی، سوشل میڈیا کے لئے پوسٹر بنانا بھی میرے ذمے لگ گیا، میں اب شیئرنگ کے ساتھ ساتھ پوسٹرز بھی بناتی ہوں، اس کام کے دوران مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، خاص طور پر سر عبداللہ، جو کہ سوشل میڈیا کے ہیڈ ہیں، ان کی رہنمائی سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کی مشورے اور ہدایات نے میری کارکردگی کو بہتر بنایا اور مجھے سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک نئی شناخت دلائی۔

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تو میں پہلے بھی تھی، لیکن باغی ٹی وی میں آنے کے بعد میں نے اس شعبے میں نہ صرف مہارت حاصل کی بلکہ اس کا عملی تجربہ بھی کیا۔ دن ہو یا رات، کوئی بھی وقت ہو، باغی ٹی وی کی ٹیم ہمیشہ متحرک رہتی ہے۔ یہاں کی ٹیم کی محنت اور لگن بے مثال ہے، اور یہ بات میں ہمیشہ محسوس کرتی ہوں۔ جب بھی کوئی اضافی کام آتا ہے یا کوئی چیلنج ہوتا ہے، میں اپنے وقت سے زیادہ کام اور وہ بھی مکمل ایمانداری سے کرتی ہوں اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں

    سر مبشر لقمان کے وی لاگ کا میں پہلے بھی شوق سے مطالعہ کرتی تھی اور ان کے سوشل میڈیا پر کمنٹس بھی کرتی رہتی تھی۔ جب ان کی ٹیم کا باقاعدہ حصہ بنی تو یہ میرے لئے ایک فخر کا لمحہ تھا۔ ان کا طرزِ عمل، ان کی قیادت، اور ان کے نظریات نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنا ایک خواب کی حقیقت بن گیا، اور میں ہمیشہ ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتی ہوں۔

    آج، جب باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، تو میں سر مبشر لقمان سمیت تمام ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ باغی ٹی وی کو مزید کامیابیاں حاصل ہوں اور یہ ادارہ اپنے مشن اور مقصد کی تکمیل میں ہمیشہ کامیاب رہے۔ آمین۔یہ سفر ابھی جاری ہے، اور میں امید کرتی ہوں کہ میں ہمیشہ اسی طرح باغی ٹی وی کے ساتھ اپنے تجربات کو مزید بہتر بناتی رہوں گی۔ باغی ٹی وی کے 13 سال پورے ہونے پر ایک نیا عزم اور جذبہ محسوس ہوتا ہے، اور میں دعا گو ہوں کہ یہ ادارہ ہمیشہ اپنے اصولوں اور وژن کے مطابق کامیابی کی بلندیوں تک پہنچے۔

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    noor

  • باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، جو پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو چکی ہے۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک خبر رساں ادارہ ہے بلکہ یہ پاکستان میں مثبت صحافت، سچائی کی آواز، اور وطن عزیز کے دفاع کے حوالے سے ایک مضبوط ستون کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ اس کی کامیابی کا راز اس کی معیاری اور سچ پر مبنی خبریں، تجزیے اور تجزیاتی پروگرامز میں پوشیدہ ہے، جو عوام کے درمیان اعتماد اور سچائی کے لئے ایک معتبر ذریعہ بنے ہیں۔باغی ٹی وی کا آغاز پاکستان میں ایک ایسے وقت میں ہوا جب ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس چینل نے نہ صرف پاکستان کے بڑے شہروں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے۔ باغی ٹی وی کی خبریں ہمیشہ سچ پر مبنی اور غیر متنازعہ ہوتی ہیں، جس سے عوام میں ایک مثبت اور حقیقت پر مبنی آگاہی پیدا ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان نے اپنی محنت اور قابلیت سے اس چینل کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ ان کی قیادت میں، باغی ٹی وی نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ مبشر لقمان کے صحافتی تجربے اور عزم نے اس ادارے کو پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک معتبر مقام دلایا ہے۔باغی ٹی وی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سچائی کی آواز بن کر اُبھرا ہے۔ اس نے کبھی بھی کسی غیر اخلاقی یا جھوٹی خبر کی نشر کی اجازت نہیں دی، بلکہ ہر خبر کے پیچھے سچائی اور تحقیق کا سہارا لیا ہے۔ اس کے علاوہ، باغی ٹی وی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جب بھی پاکستان دشمن عناصر نے ملک کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا، باغی ٹی وی نے ہمیشہ ان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور وطن عزیز کی سالمیت کا دفاع کیا۔

    باغی ٹی وی نہ صرف قومی سطح پر بلکہ علاقائی مسائل کو بھی اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ملک بھر کے مختلف شہروں میں نمائندے ہیں جو مقامی مسائل کو عالمی سطح پر پیش کرتے ہیں۔ یہ چینل نہ صرف بڑے شہروں کی خبریں دکھاتا ہے بلکہ دور دراز علاقوں کے عوامی مسائل کو بھی اُجاگر کرتا ہے، تاکہ ان مسائل پر توجہ دی جا سکے۔باغی ٹی وی کو ایک سپاہی کا کردار ادا کرنے والا ادارہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے ہر نمائندے نے وطن عزیز کی حرمت کے لئے اپنے قلم کو ہتھیار بنایا ہوا ہے۔ یہ چینل ملکی دفاعی امور، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے بھی آواز اُٹھاتا رہتا ہے۔

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر، ہم سب کو اس کی کامیابیوں اور اس کے صحافتی اصولوں کو سراہتے ہیں، سینئر صحافی اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان نے باغی ٹی وی پر ہمیشہ سچائی، ایمانداری اور ملکی مفادات کو اولین ترجیح دی ہے، اور ان کے اس عزم نے اسے پاکستان میں ایک مضبوط صحافتی ادارہ بنا دیا ۔ آئندہ بھی یہ چینل اپنی اس روش پر گامزن رہے گا، اور پاکستان کی خدمت میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

    malik arshad

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جس کا قلم، حق کے اظہار کا ہتھیار بنا اور لفظوں نے ظلم کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند کیا۔ آج اس باغی کی 13ویں سالگرہ ہے۔باغی ٹی وی ایک ایسا ادارہ ہے جو تیرہ سال قبل حق اور صداقت کی شمع تھامے میدانِ صحافت میں اترا۔ مبشر لقمان جیسے مایہ ناز صحافی کی سرپرستی میں یہ ادارہ ایک ایسے شجر کی مانند پروان چڑھا جو اپنی جڑیں حق و انصاف کی مٹی میں گاڑ چکا ہے۔ آج، تیرہ برس کی شب و روز محنت اور کاوشوں کے بعد، باغی ٹی وی اپنی13ویں سالگرہ منا رہا ہے اور یہ جشن صرف ایک ادارہ کے 13 برسوں کی تکمیل کا نہیں، بلکہ یہ ان تمام جدوجہد اور کاوشوں کا اعتراف ہے جو حق کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش کے خلاف کی گئیں۔

    سن 2021 میں جب میرا قلم باغی ٹی وی کے لیے چلنا شروع ہوا، تو یہ محض ایک اتفاق تھا، لیکن ممتاز اعوان صاحب جیسے مخلص ایڈیٹر کی سرپرستی نے اس سفر کو میری زندگی کا ایک اہم حصہ بنا دیا۔ میری پہلی تحریر جب باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی، تو وہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ میرے خوابوں کی جیت تھی۔ اس کے بعد، باغی ٹی وی نے میرے ہر مضمون، ہر تحریر کو جگہ دی، چاہے وہ حکومت کے حق میں ہو یا خلاف۔ یہ آزادی اور غیر جانبداری اس ادارے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

    باغی سے 4 سالہ رفاقت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ باغی ٹی وی فقط ایک صحافتی ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ جس کا مقصد صرف خبر پہنچانا نہیں بلکہ وہ خبر پہنچانا تھا جو دبائی جا رہی ہو، وہ حقائق اجاگر کرنا جو چھپائے جا رہے ہوں، اور ان مظالم کو بے نقاب کرنا جو خاموشی کی چادر میں لپٹے ہوں۔ جہاں مین اسٹریم میڈیا نے مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنی نظریں جھکا لیں، وہیں باغی ٹی وی نے بغاوت کا علم تھام لیا اور ظلم و جبر کے خلاف بے خوف و خطر آواز اٹھائی۔ اور اس بے باکی کا سہرا بانی "باغی” مبشر لقمان کے سر کو جاتا ہے۔باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب وہ شخصیت ہیں جنہوں نے صحافت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھا۔ ان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے مثبت صحافت کا وہ معیار قائم کیا جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ خبریں صرف تفریح یا خوف کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کو باخبر رکھنے اور انہیں تعلیم دینے کا وسیلہ ہوتی ہیں۔ باغی ٹی وی نے اس بات کو عملی جامہ پہنایا اور اپنی خبروں کو ہمیشہ حقائق پر مبنی اور مثبت انداز میں پیش کیا۔

    باغی ٹی وی نے معاشرتی مسائل پر آواز بلند کرنے میں ہمیشہ اولیت حاصل کی۔ ظلم، جہالت، اور ناانصافی جیسے موضوعات کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ان کے حل کے لیے عوامی شعور کو بھی بیدار کیا۔ چاہے وہ کرونا کی وبا ہو، زلزلے کی تباہی، یا سیلاب کی تباہ کاری، باغی ٹی وی نے نہ صرف نا صرف قارئین کو باخبر رکھا،بلکہ لوگوں کو ایجوکیٹ بھی کیا۔ایک ایسی دنیا میں جہاں خبر کا مطلب صرف پروپیگنڈا ہو، وہاں باغی ٹی وی نے مثبت خبروں کا رجحان متعارف کروایا۔ اس نے عوام کو دکھایا کہ پاکستان میں کئی مثبت ڈیولپمنٹز بھی ہو رہی ہیں اور ان پر بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ مثبت خبریں نہ صرف لوگوں کو امید دیتی ہیں بلکہ انہیں بہتر مستقبل کی کوشش کےلیے بھی مائل کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے تیرہ سالہ سفر کی کہانی صرف ایک ادارے کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ یہ ایک تحریک کی گواہی ہے جس نے ظلم و جبر کے خلاف حق کا علم بلند کیا۔ اس تیرہ سالہ سفر پر باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب ، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب اور ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان بڈانی سمیت دیگر ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی حق اور سچائی کی راہ پر چلتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا رہےگا

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • بے باک صحافت  کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    پاکستانی صحافت کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی محنت اور عزم سے کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ان کی جرات مندانہ اور بے باک اندازِ صحافت نے انہیں عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام دے دیا۔ ان شخصیات میں سے ایک اہم نام مبشر لقمان کا ہے، جنہوں نے ہمیشہ سچ کی پرچار کی ہے اور کبھی بھی کسی خوف یا دباؤ کے آگے نہ جھکے ہیں نہ بکے ہیں۔ ان کا مشہور پروگرام "کھرا سچ” صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا ہے جس میں وہ سچ کو بے لاگ اور بے دھڑک طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو سچ سے آگاہ کرنا اور ان کے ذہنوں میں موجود مفروضات کو توڑنا ہے۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر ہمیشہ ایک چیلنج کی طرح رہا ہے۔ پاکستان کی صحافتی دنیا میں جہاں اکثر ادارے اور صحافی مختلف دباؤ کا شکار رہتے ہیں، وہاں مبشر لقمان نے کبھی کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا غماز ہے کہ صحافت میں اگر سچ بولنے کا عزم ہو تو آپ تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سچ کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔مبشر لقمان کا یہ جرات مندانہ رویہ نہ صرف پاکستانی میڈیا میں بلکہ جونیئر صحافیوں کے لئے ایک اہم سبق بھی ہے۔ وہ ہمیشہ سچ کے علمبردار بنے رہے ہیں اور سچ کو بیان کرنے میں کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کا یہ بے خوف طرزِ صحافت پاکستان کے نوجوان صحافیوں کے لئے ایک روشن مثال ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے، چاہے اس کے بدلے میں ہمیں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

    پاکستان میں سچ بولنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے آپ کو نہ صرف جرات کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ آپ کو مختلف دباؤ، تنقید، گالیاں اور کبھی کبھار مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مبشر لقمان جیسے صحافی ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، خواہ اس کے لئے انہیں ذاتی یا پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    ہم جیسے لکھاری اور صحافی ہمیشہ مبشر لقمان کے تجزیوں اور رپورٹنگ سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کا دبنگ انداز، عزم اور جرات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحافت صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جس میں سچائی کا پرچار کرنا سب سے اہم ہے۔”کھرا سچ” ایک ایسا پروگرام ہے جس میں مبشر لقمان نہ صرف معاشرتی اور سیاسی معاملات پر گہرے تجزیے پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ان مسائل کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کا یہ پروگرام پاکستانی عوام کے لئے ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے جس سے وہ نہ صرف اپنے ارد گرد کے حالات سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ انہیں ملک کے اہم مسائل کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔یہ پروگرام پاکستانی میڈیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں مبشر لقمان کسی بھی جانب داری یا مفادات کے بغیر صرف اور صرف سچ بولتے ہیں۔ اس میں حقیقت کو کھلے دل سے بیان کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔

    آج سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منا ئی جا رہی ہے، تو ہم ان کے شجاعانہ اور سچے رویے کو سراہتے ہیں، ان کی بے باک صحافت نے نہ صرف میڈیا کے معیار کو بلند کیا ہے بلکہ بہت سے نوجوان صحافیوں کو یہ سکھایا ہے کہ سچ بولنے کا عزم کیا ہوتا ہے۔ ان کی سالگرہ پر ہم انہیں دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیتے ہیں اور ان کی کامیابیوں کی مزید بلندی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند، کامیاب اور خوشحال زندگی دے اور ان کی جرات مندانہ صحافتی کاوشوں کو ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔آمین

    تحریر: محمدمزمل اقبال

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  • میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    آج پاکستان کے معروف سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ مبشر لقمان نہ صرف ایک کامیاب اینکر ہیں بلکہ ان کا شمار پاکستان کے ان چند صحافیوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنی باتوں میں سچائی اور ایمانداری کو مقدم رکھتے ہیں۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر کھری اور بے لاگ بات کرنے سے نہیں ڈرتے، چاہے وہ موضوع کتنا ہی تنازعہ کیوں نہ ہو۔

    مبشر لقمان کی صحافت کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف حکومتوں کے خلاف بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اُن طاقتور لوگوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جو عوام کے حقوق کو پامال کرتے ہیں۔ وہ اپنے پروگراموں میں ہمیشہ سچ اور حق کا علم بلند کرتے ہیں اور اپنے تجزیے اور رپورٹنگ میں کسی قسم کی ترمیم یا مصلحت سے بچتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف سچ کا احاطہ کرنا ہے تاکہ عوام کو حقیقی صورتحال کا پتا چل سکے۔تحقیقاتی صحافت مبشر لقمان کا شیوہ ہے،بنا کسی خوف،لالچ کے انہوں نے سب کی کرپشن کو بے نقاب کیا،

    مبشر لقمان نے اپنے پروگراموں میں پاکستان دشمن قوتوں اور انتہا پسند جماعتوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جنہوں نے ملک کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کی جرات مندی اور بے خوفی کی بدولت کئی سنجیدہ مسائل عوام کے سامنے آ گئے ہیں۔عمران خان کے قریب تر رہنے والے مبشر لقمان نے جب عمران خان اور بشریٰ کی کرپشن دیکھی تو سب سے پہلے آواز بلند کی اور نہ صرف عمران خان،بشریٰ بی بی بلکہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی کرپشن کے حوالے سے مبشر لقمان نے سب سے پہلے پردہ اٹھایا اور قوم کے سامنے انکی حقیقت لے کر آئے،

    مبشر لقمان کی صحافتی خدمات نہ صرف ان کے پروگرامات کی مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ وہ اپنی بے باک رپورٹس کے ذریعے پاکستانی عوام کی نظر میں ایک محنتی اور سچا صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی صحافت میں کبھی بھی ذاتی مفاد یا سیاسی تعلقات کا دخل نہیں رہا، اور یہ ہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔آج ان کی سالگرہ کے موقع پر، ہم سب مبشر لقمان کی طویل زندگی اور کامیاب صحافتی سفر کے لیے دعا گو ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح اپنی جرات مندانہ صحافت کے ذریعے پاکستانی عوام کے سامنے سچ لاتے رہیں گے، تاکہ ہم سب حقیقت سے آگاہ رہیں اور ملک کی ترقی کی راہوں پر قدم رکھ سکیں۔

    مبشر لقمان کا "کھرا سچ”، ان کی محنت اور لگن کا عکاس ہے، اور ان کا یہ عہد کہ وہ ہمیشہ سچائی کو منظر عام پر لائیں گے، ان کے پروگرام کھرا سچ کو عوام میں اتنی مقبولیت ہے کہ لوگ ان کی باتوں کو بے دھڑک سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مبشر لقمان کو ان کی سالگرہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور دعا دیتے ہیں کہ اللہ انہیں ہمیشہ صحت مند رکھے اور ان کے مشن میں کامیاب کرے۔آمین

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    لنڈی کوتل: فلاحی کارکن پر پولیس تشدد، ایس ایچ او عدنان آفریدی معطل

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،تیسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،تیسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی

    خلاصہ
    اس قسط میں ہینڈی کرافٹ مقامی چنی کی معدومیت کے عوامل اور اس کے زوال پر بات کی گئی ہے۔جدید فیشن،معاشی مشکلات اور مقامی مارکیٹ کی کمی کی وجہ سے چنی کا استعمال کم ہو رہا ہے۔اس کا معقول معاوضہ نہ ملنا اور نوجوان نسل کی عدم دلچسپی بھی اس کی کمیابی کا سبب بن رہی ہے۔تاہم،سرائیکی ثقافت کے اس اہم جزو کو بچانے اور اس کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ یہ قیمتی دستکاری زندہ رہ سکے۔

    تیسری آخری قسط
    چنی کا زوال اور اس کا مستقبل
    چولستان روہی میں چنی کو خاص مقام حاصل ہے۔شادی بیاہ میں جہیز اس کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔امیر مائی بچپن سے ہی خوبصورت چنیاں بناتی آئی ہیں۔ جو اب ہر علاقے کی خواتین خاص مواقع پر خریدتی اور اوڑھتی ہیں۔امیر مائی اور خالہ سلمی جیسی بے شمار غریب خوددار ہنر مند خواتین نے چھوٹی عمر میں اپنی نانی اور والدہ سے اس فن کو سیکھا اور پھر اپنی اولادوں کو سکھا رہیں ہیں۔دیرہ بکھا امیر مائی کا ہنر مند خاندان صدیوں سے اس کلچرل آرٹ سے منسلک ہے اور اس فیملی کا ذریعہ معاش بھی ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا

    اس قبیلے نے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ پورے عباس نگر کو یہ فن سکھایا ہے۔اور اب تقریبا پورا گاؤں اس کام سے منسلک ہوچکا ہے ۔یہ کام مشکل اور محنت طلب ہے۔سب سے پہلے کپڑا لیا جات ہے،اگر پورا سوٹ بنانا ہو تو چھ سے آٹھ میٹر تک کپڑا لگتا ہے۔اس پر سب سے پہلے پکے ٹھپے سے ڈیزائن بنایا جاتا ہے۔ پھر سوٹ یا الگ چنی پر کون سا ڈیزائن یا رنگ جچےگا،اس کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ رنگوں میں نفاست،پائیداری اور پکے رنگ ہوں۔

    سرائیکی رنگ بھری بہاولپوری چنی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس قیمتی ہنر کی صحیح معنوں میں قدر و قیمت نہیں ہورہی۔اتنی محنت مشقت کے باوجود اس کا معاوضہ اس طرح نہیں ملتا،جتنا ہونا چاہیے۔اس مقامی دستکاری کا سب سے زیادہ فائدہ اس مقامی صنعت سے وابستہ کاروباری منافع خور لوگ اٹھاتے ہیں۔

    ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ سرائیکی وسیب اور دلہن کے لئے بنائی جانے والی چنی کی معدومیت کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔سرائیکی دھرتی کا چنی کا کام ایک خوبصورت فنون لطیفہ کا شاہکار ہے۔جو ہینڈی کرافٹ کے زمرے میں آتا ہے،اس میں ثقافتی حسین رنگ
    ،علاقائی پہچان،اقتصادی اور سماجی عوامل شامل ہیں۔جدید مغربی فیشن اور ٹیکنالوجی نے سادہ نفیس خوبصورت لباسوں اور ثقافتوں پر اثر ڈالا ہے،جس کے نتیجے میں نوجوان نسل کے درمیان مغربی طرز زندگی اور فیشن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے روایتی کلچرل سرائیکی لباس کے حسن،چنی کے پہناوے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    عہدِ جدید کی اقتصادی مشکلات بھی غریب مقامی صنعت کے زوال کا سبب بن رہی ہیں۔چنی بنانے کا عمل محنت طلب اور مہنگا ہے،جس میں کئی قسم کی کڑھائی،رنگائی اور دیگر فنون شامل ہیں۔ مہنگائی اور معاشی مشکلات نے اب روایتی فنون کو زندہ رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔سرائیکی علاقوں میں چنی تیار کرنے والے ہنر مند افراد میں کمی واقع ہو رہی ہے،کیونکہ نئی نسل اس ہنر کو سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی،جس کی وجہ سے یہ فن اور صنعت بتدریج معدومیت کا سامنا کررہی ہے۔

    مقامی کاروباری حضرات کی مارکیٹ میں غفلت اور سستی بھی اس شاندار تاریخی ہینڈی کرافٹ کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے۔سرائیکی چنئی والے عروسی لباس کی مقامی مارکیٹ میں کمی نے بھی اس کے استعمال کو متاثر کیا ہے،سب سے اہم مسئلہ حکومتی سطح پر سرپرستی کا نہ ہونا،ایکسپورٹ امپورٹ سہولیات کی عدم سہولیات،معاشی مالی بحران اور بےروزگاری ہے۔جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ مہنگی چنئی کی بجائے دیگر سستے اور آسانی سے دستیاب کپڑے خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔عہد جدید میں نئی ثقافتی سرگرمیوں،ثقافتی تبدیلیوں کی دوڑ، گلوبلائزیشن اور مختلف ثقافتوں کے اثرات نے بھی مقامی ریت روایات اور رسم و رواج کو متاثر کیا ہے،جس کی وجہ سے سرائیکی چنی جیسے روایتی لباس کا استعمال کم ہوا ہے۔

    ان وجوہات کی بنا پر سرائیکی وسیب میں چنی کی ہینڈی کرافٹ معدومیت کے سفر پر گامزن ہے۔اور یہ ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔جس کا فوری حل ضروری ہے۔اس کے لئے حکومتی اداروں، ثقافتی تنظیموں اور مقامی کمیونٹی کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ رنگوں کی امن پسند دنیا ہمیشہ آباد و شاد رہے۔ میرے نزدیک رنگ ہی خوبصورت زندگی کی گواہی ہیں۔سرائیکی حسین رنگوں کی روحانی دھرتی خوبصورت امن پسند رنگوں کا قصہ گاتی رہے اور ہم آپس میں امن ومحبت،اتحاد اور انسانیت کے رنگ ایک دوسرے کے ساتھ سانجھ کرتے رہیں۔

    باغوں میں رنگ برنگے پھول،خوبصورت چرند پرند کی رنگین پیاری آوازیں،انسانوں کے مختلف رنگ،پیارے دلکش چہرے،الگ روایتی لباس،متنوع ثقافتوں میں روحانی مادری زبانوں کے میٹھےسریلے انداز اور حسین رنگ برنگی وادیوں کی تخلیق،ندیوں،دریاوں،سمندر،اور آسمان سے بارش کے رنگ برنگے خوبصورت شبنم کے پھول کی مانند چکمتے قطرے کائنات کے حسن بھرے رنگین رازوں کی گواہی ہیں۔دنیا کو رنگ دو۔سرائیکی وسیب کے سنگ دو۔

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،پہلی قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،پہلی قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، ثقافت اور جمالیات کا امتزاج
    قسط کا خلاصہ
    اس قسط میں سرائیکی خطے کی رنگین چنی کی جمالیاتی خصوصیات اور اس کے ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چنی کو دلہن کے لباس کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے، جو شادی کے موقع پر اس کی خوبصورتی اور اہمیت کو بڑھاتا ہے۔ چنی کی مختلف رنگوں اور ان کے معنوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سرخ، سبز، نیلا، گلابی، اور دیگر رنگ شامل ہیں، جو زندگی کی سچائیوں اور امیدوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    پہلی قسط
    کائنات کی خوبصورتی رنگ اور عورت کے حسن سے مزین ہے۔ لال، سرخ، لالی، سرخی اور دلہن کا آپس میں گہرا، دلنشین، دلربا، رنگین، سجاوٹ بھرا، شاندار، پیارا رشتہ دو خاندانوں میں نئی زندگی، حیا، وفا، اعتماد، چاہت، خلوص،احترام، محبت و یقین کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے۔ اللہ پاک حسین و جمیل خوبصورت ہے اور حسن و خوبصورتی کو بے حد پسند فرماتا ہے۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم: "دنیا کی بہترین خوبصورت متاع نیک بیوی ہے”۔ رنگ ہی سے رنگوں کی خوبصورت کہکشائیں، گلاب کی رنگینی سے خوبصورت دلفریب خوشبوئیں،گلاب کی پنکھڑی جیسی نرم و نازک حسین دلربا دوشیزائیں دلہنوں کی ادائیں حقیقت میں بہاروں کے موسم، موسیقی و نغمہ اور امن و محبت کا پیغام ہیں۔ چنی کے جمالیاتی خوبصورت رنگوں میں سرخ، سبز، میرون، نیلا، گلابی، پیلا،سفید، سکائی بلیو، سکن کلر، نارنگی، کیمل کلر زندگی کی سچائیوں اور امیدوں کے نام ہیں۔یہ سارے رنگ چنی کے رنگ ہیں

    سرائیکی وسیب کی دلکش چنی، جسے چنری بھی کہا جاتا ہے، شادی کے مواقع پر خواتین کے لباس کا لازمی حصہ اور خطے کی ثقافتی شناخت کا اہم جزو ہے۔ چنی نرم، رنگین اور خوبصورت کپڑے کا وہ ٹکڑا ہے جو دلہن کے لباس کو مکمل کرتا ہے۔ یہ لباس نہ صرف دلہن کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے بلکہ سرائیکی وسیب کی پہچان، تہذیب و تمدن، سوچ، ریت، رسم و رواج کا ایک اہم حصہ ہے۔

    شادی کے موقع پر دلہن کا چنی پہننا ایک خاص ثقافتی رسم و رواج اور روایت ہے، جو خاندانوں کی خوشی اور عورت کی اہمیت کا اظہار کرتا ہے۔سرائیکی علاقے میں چنی خواتین کی محبت، عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ رسم و رواج کا حصہ ہے، جس سے سماج میں آپس میں یکجہتی، احساس اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔

    سرائیکی تہذیب و تمدن اور ثقافت کے رنگوں سے مالامال چنی سرائیکی وسیب میں شادی کے خاص موقع کا روایتی پہناوا بن چکی ہے۔ چنی جو شادی کے موقع پر دلہن کے لباس کا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ جسے دلہن کے سر یا چہرے پر ڈالا جاتا ہے۔ اس کا مقصد دلہن کی خوبصورتی کو بڑھانا اور اس کے لباس کو مکمل کرنا ہوتا ہے۔سرائیکی وسیب میں چنی، جس کو چنری بھی کہا جاتا ہے، شادی و خوشی کے موقع پر اس کی اہمیت ثقافتی، سماجی اور جذباتی لحاظ سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

    اس کی اہمیت کو مختلف پہلوئوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔سرائیکی ثقافتی ورثے میں کھسہ کی طرح رنگوں بھری چنی بھی سرائیکی ثقافت کا ایک اہم جزو ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ اس میں مقامی ہنر مندوں کی مہارت اور محنت جھلکتی ہے، جیسے کڑھائی، رنگائی اور ڈیزائن کی منفرد مہارتیں جو اس لباس کو مخصوص اور بے مثال بناتی ہیں۔چنی دلہن کی شناخت ہے۔

    سرائیکی علاقے میں چنی خواتین کی محبت، عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شادی کے موقع پر دلہن کا چنی پہننا ایک خاص ثقافتی رسم و رواج اور روایت ہے، جو خاندانوں کی خوشی اور عورت کی اہمیت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ دلکش لباس عموما سرائیکی دلہن کی خوبصورتی اور عزت کو نمایاں کرتا ہے۔
    جاری ہے….

  • فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔

    فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔

    فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    فرحت عباس شاہ ایک ممتاز شاعر ہیں جن کی شخصیت اور خیالات ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے ان کے طرزِ تکلم اور خیالات کے بارے میں مجھ سے گلہ کیا، جو وہ علی زریون اور تہذیب حافی کے حوالے سے رکھتے ہیں، لیکن میں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ میرا اصول ہے کہ سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کروں۔ میں نے دوست سے صاف کہا کہ وہ بڑے شاعر ہیں، آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ آپ غلط کہہ رہے ہیں، کیونکہ میرے نزدیک بغیر ثبوت کے کسی کی رائے کو قبول کرنا مناسب نہیں۔

    تاہم، حالیہ دنوں میں فرحت عباس شاہ کے ایک انٹرویو نے میرے خیالات کو جھٹلا دیا۔ ان کے بیانات نے وہی کچھ ظاہر کیا جو میرے دوست نے کہا تھا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اکثر تعصبات یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ اس واقعے نے مجھے سکھایا کہ کبھی کبھار دوسروں کی باتوں پر کان دھرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

    مشہور شاعر فرحت عباس شاہ کے اس انٹرویو میں، نوجوان اور مقبول شاعر تہذیب حافی کے حوالے سے تلخ اور غیر شائستہ گفتگو کی گئی۔ فرحت عباس شاہ جیسے بڑے نام سے ایسی باتوں کی توقع نہیں تھی، کیونکہ وہ خود ایک وسیع تجربے اور ادب کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے تہذیب حافی کو "بیوقوف” کہا اور ان کی شاعری کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہ بیان مجھ سمیت کئی ادبی دوستوں کے لیے حیرت اور دکھ کا باعث بنا۔

    ادب اور شاعری انسانی جذبات، خیالات، اور فطرت کے احساسات کو بیان کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہ صرف الفاظ کی جنبش نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے جذبات کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی مختلف خیالات اور نظریات کے ٹکراؤ نے ادب کو وسعت دی ہے۔ مگر کبھی کبھار، ہم دیکھتے ہیں کہ تخلیقی دنیا میں شخصی تنقید اور ذاتی حملے ادبی اقدار کو مجروح کرتے ہیں۔

    ادب کے دائرے میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے، مگر اس کی حدود کو پار کرنا، کسی کی تخلیقی صلاحیت کو کمتر ثابت کرنا، یا ذاتی حملے کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ادب کی روح کے بھی منافی ہے۔ ہر تخلیق کار اپنی طرز کا منفرد ہوتا ہے اور اس کا کام اس کی شخصیت، ماحول، اور جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ تہذیب حافی کی شاعری نے نئی نسل کے دلوں میں جگہ بنائی ہے، ان کے اشعار میں سادگی، جذبات، اور گہرائی نمایاں ہیں۔

    فرحت عباس شاہ کا بیان نہ صرف تہذیب حافی بلکہ ان کے مداحوں کے لیے بھی ایک تلخ تجربہ ثابت ہوا۔ ادب کے بڑے ناموں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ ان کی صلاحیتوں پر حملہ کریں۔ ادب کی دنیا میں بڑے نام وہی بنتے ہیں جو دوسروں کے لیے راستہ ہموار کریں، نہ کہ ان کی راہ میں کانٹے بچھائیں۔

    ادب میں وسعت اور برداشت ہونی چاہیے۔ ادب کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہ مختلف خیالات اور نظریات کو جگہ دیتا ہے۔ ہر شاعر اور ادیب کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ اقبال کی فلسفیانہ شاعری، غالب کی گہرائی، اور فیض کی انقلابی شاعری سب اپنے اپنے دائرے میں مقبول ہیں۔ اسی طرح، تہذیب حافی نے بھی اپنے انداز میں اردو شاعری کو ایک نئی سمت دی ہے۔ شاعری صرف مشکل الفاظ اور پیچیدہ خیالات کا نام نہیں بلکہ سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کا فن بھی شاعری ہے۔ تہذیب حافی کی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نئی نسل کے دلوں کی بات کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں ایک ایسی گہرائی ہے جو نوجوانوں کی زندگی کے مسائل، محبت، اور جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔

    عزت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہر انسان کی عزت اور شہرت اللہ کی دین ہے۔ کوئی کسی کو عزت نہیں دے سکتا اور نہ چھین سکتا ہے۔ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کس کو کس مقام پر فائز کرتا ہے۔ فرحت عباس شاہ کی گفتگو نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ بڑا نام ہونا ضروری نہیں کہ آپ بڑا دل بھی رکھتے ہوں۔ تہذیب حافی جیسے شاعروں کو چاہیے کہ وہ ان باتوں کو دل پر نہ لیں اور اپنی تخلیقی دنیا میں مصروف رہیں۔

    ادب میں مثبت رویوں کی ضرورت ہے، اور خاص طور پر ایک بڑے شاعر کو اس طرح کی باتیں کر کے اپنا قد چھوٹا نہیں کرنا چاہیے۔ ادب کو ذاتی اختلافات اور انا کی قربانیوں سے پاک رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے ادیبوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف تخلیقی میدان میں آگے بڑھیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی احترام اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔ فرحت عباس شاہ جیسے ادیبوں کو اپنی تنقید کے انداز پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ وہ ادب کی دنیا میں اپنی عظمت کو اسی وقت برقرار رکھ سکتے ہیں جب وہ دوسروں کو بھی عزت دینا سیکھیں گے۔

    ادب صرف خیالات کے اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے اور ذہنوں کو وسعت دینے کا ذریعہ بھی ہے۔ ہمیں ان تلخ واقعات سے سیکھنا چاہیے اور ادب کے میدان میں مثبت رویوں کو فروغ دینا چاہیے۔ شخصی تنقید سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم تخلیقی آزادی، برداشت، اور ادب کے احترام کی روایت کو زندہ رکھیں۔ یاد رکھیں، عزت اور شہرت صرف اللہ کی عطا ہے، اور اس کا صحیح استعمال ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔ ادب کی دنیا میں اصل عظمت نہ الفاظ کی گہرائی میں ہوتی ہے اور نہ ہی شہرت کی بلندی میں، بلکہ رویوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

    مارکیٹ میں یہ بات زباں زدِ عام ہے کہ فرحت عباس شاہ جیسے سینئر شاعر کا یہ کہنا کہ وہ علی زریون یا تہذیب حافی جیسے شاعروں کے ساتھ کسی پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے، ان کے دل کی "بڑائی” کو خوب واضح کرتا ہے۔ دوسری طرف، علی زریون کا یہ کہنا کہ اگر فرحت عباس شاہ میرے پروگرام میں ہوں تو وہ ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگائیں گے، ایک حقیقی بڑے انسان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

    یہ رویوں کا فرق ہے جو بتاتا ہے کہ عزت کیسے کمائی جاتی ہے اور کیسے کھوئی جاتی ہے۔ ایک طرف انا، حسد، اور تکبر کا بوجھ ہے، تو دوسری طرف عاجزی، احترام، اور وقار کا مظاہرہ۔ فرحت عباس شاہ جیسے لوگوں کو شاید یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بڑائی لفظوں کی نہیں، بلکہ کردار کی ہوتی ہے۔ علی زریون کا جواب ادب کے اُس اصل سبق کی یاد دہانی ہے جسے شاید کچھ "بڑے” شاعر بھول چکے ہیں۔ ہمیں ادب کا یہ سبق ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ عزت وہی پاتا ہے جو دوسروں کو عزت دینا جانتا ہے۔

    بلاشبہ، فرحت عباس شاہ شاعری میں بڑا نام رکھتے ہیں، لیکن جونیئر شاعروں کے بارے میں ان کا طرزِ تکلم اور خیالات اچھے نہیں۔

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،دوسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،دوسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    اس قسط میں چنی کی ثقافتی اہمیت اور اس کے سرائیکی وسیب کی پہچان پر زور دیا گیا ہے۔ چنی سرائیکی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں مقامی ہنر مندوں کی محنت اور مہارت شامل ہے۔ یہ لباس نہ صرف دلہن کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے، بلکہ اس کی عزت اور وقار کا بھی اظہار کرتا ہے۔ چنی شادی کے مختلف مواقع پر پہنا جاتا ہے اور اس کے ذریعے سماج میں یکجہتی اور محبت کو فروغ ملتا ہے۔
    دوسری قسط
    چنی کا ثقافتی پہلو اور سرائیکی وسیب کی شناخت
    رنگوں کی اپنی ایک مخصوص زبان اور اظہار ہوتا ہے۔رنگ کو زندگی کی خوبصورت علامت سمجھا جاتا ہے۔خوشی غمی دونوں میں رنگ کا ایک اپنا کردار رہا ہے۔شادی کی تقریبات میں خواتین رسم مہندی و جاگا پر چنی نہ صرف زیبائش کے لیے پہنتی ہیں۔ بلکہ یہ مختلف ثقافتی و سماجی تہواروں و رسومات میں بھی شامل ہے،جیسے بچے کی پیدائش،منگنی شادی کی تقریب،برات کی تقریب، گانا چھوڑانے کی رسم،عیدیا دیگر خوشی کے مواقع پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔
    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    یہ رسم و رواج کا حصہ بن چکی ہے، جس سے خاندانوں اور سماج میں آپس میں محبت، یکجہتی،احساس ہمدردی اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔سرائیکی لوگ اپنے گھروں میں چنی کی خوبصورت رسم کو ساری رات جھمر رقص کی شکل میں گانوں کی دھنوں پر ادا کرتے ہیں۔

    سرائیکی چنی بنانے کے لیے مقامی کاریگروں کو سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام مقامی صنعت کے ساتھ معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ چنی کی تیاری اور فروخت مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کررہی ہے۔خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں۔بازاروں میں بھی کام کیا جاتا ہے۔ بہاولپور کے شاہی بازار،رنگیلا بازار میں خصوصا خواتین کی بناو سنگھار کی اشیاء فروخت ہوتیں ہیں،جن میں چنی کو خاص مقام حاصل ہے۔

    پورے سرائیکی وسیب سمیت اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور، کراچی، سکھر، پاکستان بھر کی خواتین سرائیکی خطے کی خاص چنی کو پہننا اپنے لیے عزت، شان،وقار، اعزاز و محبت کی علامت سمجھتی ہیں۔چنی میں ایک الگ جمالیاتی،جذباتی اور نفسیاتی اثر انگیزی پائی جاتی ہے۔چنی خواتین کی خود اعتمادی اور خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے۔یہ ان کے حسن،ثقافتی شناخت کا زیور اور اعلی کلاسک پہناوا بن چکی ہے۔اس کے ذریعے خواتین اپنی روایات،تہذیب وتمدن، تاریخ،کلچر،رتبہ،عزت اور خاندان کی محبت کا اظہار کرتیں ہیں،جو ان کے تخیلاتی معیارات،جذباتی
    اور نفسیاتی سکون کے لیے اہم ہے۔

    سرائیکی وسیب میں چنی کی اہمیت صرف ایک روایتی لباس کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ اس علاقے کی پہچان،امن ومحبت،ثقافت،ادب، تہذیب و تمدن اور معاشرے کی رنگین گہرائیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ماضی میں سرائیکی وسیب اور دیگر علاقوں میں دلہن کے لباس کو مکمل سمجھنے کے لیے چنی کا ہونا ضروری جانا جاتا تھا۔

    کیونکہ یہ ایک مخصوص سرائیکی علاقے روہی چولستان بہاولپوری ثقافتی اور روایتی رنگوں کی خوشبو کا عکاس ہے۔آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔اس کی ڈیمانڈ دبئی،سعودی عرب،انگلینڈ،امریکہ،انڈیا راجستھان تک ہے۔جہاں جہاں سرائیکی افراد موجود ہیں وہ اپنی روایتی رنگولی چنی کو خوشی و شادمانی کی علامت سمجھ کر اعزاز و شان سے پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

    امیر ترین سابق سرائیکی عباسیہ ریاست بہاولپور کے دیہاتی علاقے عباس نگر، چنی دا گوٹھ (چنیاں بناون والیاں دی چھوٹی وستی) جس کی چنیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔اس کے علاوہ تحصیل احمد پور شرقیہ اور قدیم تاریخی شہر اوچ شریف میں بھی گھروں میں محنت کش خواتین چنیوں کے کپڑے پر خوبصورت گوٹہ کناری کا باریک کام کرکے دوسرے شہروں میں فروخت کے لیے بھیجتی ہیں۔احمد پور شرقیہ کے محلہ شکاری کی خود دار بیوہ خالہ سلمی اپنے گھر اپنی یتیم بچیوں کے ساتھ سارا سارا دن چنی پر گوٹہ کناری سے سخت محنت طلب کام کرکے اپنے غریب خاندان کا پیٹ پال رہی ہیں۔

    اسی طرح سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق بہاولپور،ڈیرہ بکھا، تحصیل خیر پور ٹامیوالی،چشتیاں ،حاصل پور، بہاول نگر روڈ پر واقع عباس نگر دیہات کی گیارہ سال کی عمر سے ہی چنیاں بنانے والی امیر مائی کا کہنا ہے کہ پہلے صرف چولستان کی خواتین ہی اس کو پہنتی تھیں،لیکن اب بہاولپور کی چنیوں کی طلب پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔روہی چولستان میں نان مسلم ہندو کمیونٹی، جن کو سرائیکی وسیب میں مڑیچہ کہا جاتا ہے،قدیم وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن کے ڈیراوری قبائل میں بھیل،کول،سنتھال صدیوں سے اپنی رنگین چنی کے پہناوے سے منسلک آ رہے ہیں۔عباس نگر گاؤں کی بنی ہوئی رنگ برنگی، مخصوص پکے ٹھپے کے ڈائزین سے بنی چنیاں نہ صرف بہاولپور بلکہ پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں ۔۔
    جاری ہے