Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ناول،میں قربان. تحریر:فرح رضوان

    ناول،میں قربان. تحریر:فرح رضوان

    میں قربان .قسط 1
    منیبه کا گھر برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا کیونکہ آج ہاؤس وارمنگ پارٹی تھی، شادی کے کئی برس بعد بھی منیبه اور وقاص اپنا خود کا مکان نہیں خرید پاۓ تھے لیکن دو سال قبل مری کے ٹرپ سے لوٹتے وقت بڑی ترنگ میں وقاص نےاپنے بیوی بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ 2021 میں جب دنیا ملینیم سال منائے گی وہ بھی اپنے نۓ گھر میں یادگار جشن منائیں گے،قدرت مہربان تھی کاروبار اچھا چلا اور وعدہ پورا ہوگیا -اس وقت مہمانوں کی آمد سے خوب رونق لگی ہوئی تھی ،وقاص نے گھر کی کشادہ چھت پر بہترین عشائیے کا انتظام کیا ہوا تھا خوبصورتی سے سجی ہوئی کھانے کی ٹیبلز سے زرق برق ملبوسات پہنے مہمان پلیٹوں میں کھانا لے کر اپنی نشستوں پر اینجواۓ کر رہے تھے ،ہر کوئی وقاص کی محنت اور منیبه کے سلیقے کی تعریفیں کر رہا تھا،یہ سلسلہ جاری تھا کہ بیل بجی تو ملازم نے آکر بتایا کہ آرکسٹرا والے آگۓ ہیں-

    کھانے کے بعد غزل کی محفل اور رتجگے کا بندوبست وقاص کی جانب سے اپنے گھر اور سسرال والوں کے لیۓ خصوصی گفٹ تھا ،میوزیشنز کی آمد کی اطلاع پر سبھی کی بانچھیں کھل گئیں لیکن ! وقار ماموں اور ان کی پوری فیملی نے فوری طور پر کھانے سے ہاتھ روکے اور جانے کے لیے کھڑے ہو گۓ منیبه نے ماموں سسر سے درخواست کی کہ کم از کم بچوں کو کھانا تو کھانے دیتے لیکن انہوں نے ناگواری سے جواب دیا کہ "تم لوگوں کو پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا کہ یہ گانے بجانے کی محفل ہے تو ہم آتے ہی نہیں ،اب اگر معلوم ہو گیا ہے کہ یہ موسیقی کی محفل ہے تو ہمارے لیے یہ کھانا جائز نہیں” منیبه سخت ہکا بکا تھی کہ ابھی تو سب کچھ حلال تھا ایک دم سے حرام کیسے ہو گیا ! بہرحال ماموں کی فیملی بغیر کسی سے ملے سیدھے نیچے اترے اور یہ جا وہ جا ….اس بدمزگی اور کرکراہٹ پر سبھی نے وقاص اور منیبه کو تسلی دی کہ ان کی تو عادت ہی یہی ہے ،تم لوگوں نے انہیں بلایا ہی کیوں تھا.پھر سب نے رات بھر خوب میوزک اینجواۓ کیا بظاہر منیبه نے بھی لیکن اندر سے وہ بہت بے چین تھی ،اس لیۓ نہیں کہ اسے بے عزتی محسوس ہوئی تھی بلکہ اس بات پر کہ ایسا کیا ہوا کہ ماموں کے بچوں نے بھی اتنے لذیذ کھانے سے فوری ہاتھ روک لیے اور بخوشی رنگوں بھری محفل یکدم چھوڑ کر چلے گۓ –
    ——————-
    امی جی میں اپنی بہن کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا بتا دیں اس خبیث کو کہ اب ہم اسے واپس رلنے کے لیے نہیں بھیجیں گے،میں نے بات کی تو پھر اس سے ہاتھا پائی پولیس کچہری ہو جانی ہے ،شوکت نے غصے میں چاۓ کا کپ رکھتے ہوئے ماں کو اپنا فیصلہ سنایا اور روتی ہوئی بہن کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے پچکارتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈال کر بٹوہ نکالتے ہوئے کہا "نہ رو میرا بچہ یہ لے یہ پیسے لے کر اپنی بھابھی کے ساتھ رکشے پر جاکے بدھ بازار سے نیا سوٹ لے آ …پھر بیوی کو ڈپٹ کر آواز لگائی او نادیہ کدھر ہے بھئی کاکے کو امی کو دے اور صابرہ کو بدھ بازار لے کر جا ،مونہہ سوجھ گیا ہے بیچاری کا سوکھ کر کانٹا ہوتی جارہی ہے جب سے بیاہ کر گئی ہے اس ہڈ حرام کے ساتھ "- سوٹ کا نام سنتے ہی صابرہ کے اداس چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی،مگر بہت لاڈ سے بھائی سے اٹھلا کر بولی نہیں میں نے بدھ بازار سے نہیں سوٹ لینا وہ جو نیا مال کھلا ہے نا ڈرائیونگ سینما کی جگہ پہ ….نادیہ نے جلدی سے کہا "وہ میلینیم مال ! ادھر تو بڑی مہنگی دکانیں کھلی ہیں ” شوکت نے بیوی کو جھڑک کر کہا تو اس کے بھائی کے پاس کمی ہے پھر جیب سے مزید رقم نکال کر بہن کو تھماتے ہوئے پوچھا کم تو نہیں پڑیں گے نا !صابرہ خوشی سے پیسے جھپٹتے ہوئے کمرے سے اپنی چادر لینے چلی گئی ،نادیہ نے کہا "میرے دانت کے درد کی دوا لاۓ ہیں نا اب برداشت نہیں ہو رہی درد مجھ سے ” شوکت چڑ کر بولا "جب سے آئی ہے میری زندگی میں کبھی صحت مند بھی رہتی ہے ؟ بچپن میں ماں باپ نے اچھی خوراک کھلائی ہوتی تو میرے سر یہ مصیبت تو نہ آتی "نادیہ نے جھگڑے سے بچنے کے لیے شوہر سے کہا مجھے پیسے دے دیں میں خود ہی لیتی آؤں گی ،شوکت نے خالی بٹوہ دکھاتے ہوئے کہا صبر کر لے آج تو پھر کل لیتا آؤں گا ”
    ————-
    اب کتنے دن استخارہ کرو گی نیک بخت تمہاری سگی بہن کا بیٹا ہے بچپن کا دیکھا بھالا ہےاور مجھے امید ہے کہ ناروے میں بھی یہ لڑکا بگڑا نہیں ہوگا ویسے بھی باجی اور نیاز بھائی نے شروع سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کی تربیت عمدہ اصولوں پر کی ہے…. اور دل کی بات کہوں تو میری اپنی خواہش تھی سلیمان کو آمنہ کے لیے مانگ کر اپنا داماد بنا لوں لیکن جانتی ہو نا پاکستانی کلچر ہمارے دین سے کتنا مختلف ہے ،لڑکی والے رشتہ مانگنے میں پہل نہیں کرسکتے، پتہ نہیں اور کتنے برس یہ سلسلہ چلے گا دوہزار بیس بھی گزرا جا رہا ہے لیکن !….ارے میں ہی بولے جارہا ہوں تم کب وظیفہ ختم کرکے بولو گی ….جواب میں زبیدہ نے رونا شروع کر دیا سراج صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں وہ بیگم کو کندھے سے لگا کر تسلی دینا چاہ رہے تھے لیکن بیٹی کی جدائی کے خیال سے خود بھی رودیے –
    —————–
    "باجی یہ کیسی سہیلی ہیں آپ کی یہ ٹی وی نہیں دیکھتیں ؟ ” ثروت نے کل وقتی کم عمر ملازمہ کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا "کیا مطلب؟” ملازمہ نے سینڈوچز گنتے ہوئے کہا باجی 2021 چل رہا ہے اب کون اتنے بچے پیدا کرتا ہے،ٹی وی دیکھتیں تو سن لیتیں کہ بچے دو ہی اچھے ثروت نے حیرت اور مسکراہٹ دبا کر خفگی سے کہا "ماشاللہ کہتے ہیں اور اتنی بڑی بڑی باتیں چھوٹے بچوں کے مونہہ سے اچھی نہیں لگتیں،ان کے دو دو تو جڑواں بچے ہیں نا ” پھر ناشتے کی ٹرے لے کر لاؤنج میں آگئ جہاں ردا چھوٹے بیٹے کو گرمی لگنے پر ہلکے کپڑے پہنا رہی تھی ساتھ ہی دو عدد لڑتے ہوئے بیٹوں کا مقدمہ بھی سلجھ رہا تھا-ردا اس کے بچپن کی سہیلی تھی جس کی شادی بھی ثروت کے میاں عاقل کے دوست سے ہوگئی تھی اسی لیے ان کی فیملیز کی بہت بنتی تھی ،ساتھ سفر کرتے ساتھ ساتھ پکنک پر جاتے بچے بھی تقریبا ساتھ ہی ہوتے رہے لیکن ثروت کے پانچ بچے تھے جبکہ ردا کے آٹھ اور سب سے بڑا دس سال کا تھا .ردا بہت ہی ہنس مکھ اور کھلے دل کی لڑکی تھی ،ہاں یہ بھی قدرت کی مہربانی تھی اس پر کہ کم عمری میں شادی اور بچوں کے کاموں میں ایکٹیو رہنے کی وجہ سے وہ اب بھی لڑکی ہی دکھائی دیتی تھی ،اتنی مصروفیت کے باوجود سسرال کو دیکھنا ساس سسر کی پوری ذمہ داری نبھانا اور خوش باش رہنا ،شاید شوہر کی محبت اور توجہ بھی تھا اس کا راز .

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    میں قربان .قسط 2
    نادیہ کو صابرہ پر کبھی ترس آجاتا کبھی غصه .
    غصہ اس لیے کہ وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ صابرہ کا شوہر خرم اتنا بھی برا انسان نہیں بلکہ وہ تو ایک شریف النفس انسان ہے جو بیوی کا اتنا غصّہ اور بار بار روٹھ کر میکے چلے جانا برداشت کر لیتا ہے لیکن بیوی کی مادی فرمائشیں پوری کرنے کی خاطر زیادہ کی لالچ میں حرام کی طرف نہیں جاتا اور یہ بات اس نے صابرہ کو کئ بار واضح طور پر بتا دی ہے.
    دوسری جانب صابرہ کی ازلی سستی گھر کے کاموں میں عدم دلچسپی اور اپنے سجنے سنورنے گھومنے پھرنے کے شوق کو پورا کرنے کی بے لگام خواہش اس کے شوہر کی تنخواہ سے بہت بڑھ کر ہے تو بیل کیسے منڈھے چڑھے ۔
    صابرہ بچپن سے اپنے ابا جی کی بہت ہی لاڈلی تھی ،جب جب اس کی ماں چاہتی کہ یہ گھر کے کام سیکھ جائے تو اس کا باپ ہمیشہ ہی اسے ان کاموں سے روک دیا کرتا تھا کہ میری بیٹی تھک جائے گی ، ماں بھی میاں کے سامنے تھوڑی بہت بات ہی کرپاتی تھی کہ آگے جا کر ہماری بچی کو نباہ میں بہت مشکل ہو جائے گی تو وہ کہتا کہ آگے اللہ آسانی کرے گا۔ میری شہزادی تو کسی بڑے گھر میں ہی بیاہ کر جائے گی جہاں اسے ان چھوٹے موٹے کاموں کو کرنا ہی نہیں پڑے ۔صابرہ اسی سوچ اور تربیت کے ساتھ بڑی ہوتی گئی، باپ اس کے نخرے اٹھاتا رہا وہ منہ سے کوئی بات نکالتی کہ مجھے فلاں چیز چاہیے اور کبھی اپنی تنگدستی کی وجہ سے وہ پورا نہیں کر پاتا تو پھر صابرہ نیند میں اس بارے میں رونا یا بڑبڑانا شروع کر دیتی تھی ماں کہا کرتی کہ یہ بڑبڑاتی نہیں ہے مکر کرتی ہے اور جب اس کو ہنسانا یا جگانا چاہتی تو باپ روک دیتا کہ نہیں میری شہزادی کی نیند خراب ہو جائے گی مگر اپنی بھوک اور نیندیں قربان کر کے اس کی فرمائش پوری کیا کرتا تھا.
    صابرہ کے والد اپنی بیٹی کے لاڈ کے سامنے اس کی ماں کی ایک نہیں سنتے تھے یوں اس کی پرورش میں یہ چیزیں شامل ہوتی چلی گئیں تو وہ ہر ایک سے زور زبردستی اپنا آپ منوانا شروع ہو گئی ۔
    یہ سب باتیں نادیہ کو اس لیے معلوم تھیں کہ وہ ان کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھی ۔
    اور اکثر صابرہ کی ماں نادیہ کی ماں سے ہی مشورے کیا کرتی تھی۔
    رفتہ رفتہ صابرہ کا مزاج سخت سے سخت ہوتا چلا گیا ، زبان اس سے بھی زیادہ تیز ہوتی چلی گئی۔ جب اسے غصہ آتا تو اپنی ماں کو بھی اچھے سے باتیں سنانے سے نہ چوکتی اور محلے پڑوس میں کبھی کسی سے کوئی بات ہوجاتی تب بھی چھوٹے بڑے کا لحاظ کیے بغیر ان سے خوب لڑا کرتی ،رشتہ داروں میں سے کسی کی کوئی بات اسے بری لگتی تو گھر بیٹھے ہی ان کو برا بولتی رہتی اور باپ اس کا ساتھ دیتا رہتا کہ کیسے اپنے حق کی بات کرتی ہے میری بیٹی تو وہ اور شیر ہو جایا کر تی ۔ حتی کہ بعض دفعہ باپ سے بھی بد تمیزی کر جاتی لیکن وہ اسے لاڈ ہی مانتا ۔بہرحا ل تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے، ایک دن صابرہ کے والد کا ہارٹ فیل ہوا اور وہ اسے روتا چھوڑ کر دنیا سے کوچ کر گۓ ۔
    والد کی وفات کے بعد گھر کا سارا بوجھ شوکت کے کاندھوں پر آ گیا ۔ وہ ابھی کالج میں ہی تھا ساتھ ہی سارے گھر کا ذمہ اٹھانا پڑا اس نے خود سے عہد کر لیا تھا کہ وہ صابرہ کو کبھی بھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دے گا ۔تو باپ کی جگہ شوکت نے لے لی یعنی ماں جو سمجھتی تھی کہ اب بھی صابرہ کو راہ راست پر لایا جا سکتا ہے اس کی بیٹے کے سامنے کچھ نہ چل سکی،۔شادی کی عمر ہوئے تک صابرہ کی بدمزاجیوں کے جوہر محلے اور رشته داروں سب پر اتنے کھل چکے تھے کہ اس سے لوگ رشتہ کرنا تو دور اس کے لیے رشتہ لانے سے بھی ڈرا کرتے ،جس قسم کےرشتے خالہ رشتے والی لا رہی تھیں وہ صابرہ کو بالکل بھی پسند نہیں آرہے تھے، پھر جب اس کی عمر تھوڑی بڑھنی شروع ہوئی اور دو چارقریبی لوگوں نے بھی اسے سمجھایا کہ انسان کو اپنے ہی جیسے لوگ ملتے ہیں ، تم جس طرح کے خواب سجا کے بیٹھی ہو ایسا رشتہ مشکل سے ہی ملتا ہے،صبر سے کام لیتے ہوئے اللہ سےامید رکھو کہ شادی کے بعد جیسے جیسے تمہارے شوہر کی ترقی ہوگی تو تم سارے خواب پورے کر لینا لیکن صابرہ میں کمی صبر ہی کی توتھی ۔اسے اپنے ہونے والے شوہر کا سوشل اسٹیٹس بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا،

    ہاں اسے شادی کرلینے کا آئیڈیا اس لیے پسند آ گیا تھا کہ پھر اماں جو کہتی تھیں کہ ابھی لپسٹک نہ لگاؤ، ابھی تیار ہو کے باہر نہ جاؤ ،بال نہ کھولو ان سب باتوں کی آزادی اسے شادی شدہ ہونے کے بعد مل جانی تھی اسے جہیز کے لیے بہت ساری چیزوں کا شوق تھا یہ ساری خواہشات اس کے بھائی نے پوری کیں تاکہ صابرہ کو باپ سے محرومی کا احساس نہ ہو
    اپنے بہت سے خرچے نظر انداز کر کے کئی خواہشات پس پشت ڈال کر شوکت نے بہن کے لیے جہیز تیار کیا ،اس سے بھی صابرہ میں ایک احساس تکبر پیدا ہو گیا تھا شادی کے دن سے ہی صابرہ نے بہت زیادہ سخت مزاجی اور ترش روی کا مظاہرہ کیا۔
    اس کے سسرال سے جب جوڑا آیا تو اس نے غصے میں اس کو اٹھا کے پٹخ دیا اور زیور ایک طرف ڈال دیے کہ یہ کوئی چڑھاوے پہنانے کی چیز ہے،ایسے ہلکے زیور پہنوں گی میں ! کم از کم میرے سسرال والوں کو اتنا اور اتنا تو کرنا ہی چاہیے تھا ،معیار اس نے اپنے ذہن میں اتنا زیادہ بلند کر کے رکھا تھا کہ وہ چیز پوری ہو کر نہیں دے رہی تھی ۔

    صابرہ کو سسرال کی ذمہ داریاں بھی اپنے سر نہیں لینی تھیں۔ اس نے چند ہی دنوں میں الگ گھر لینے کا مطالبہ کر دیا اور اس بات پر روٹھ کر میکے آ گئی اور تب سے یہ روٹھنا منانا شروع ہوا جو شادی کے دو سال بعد تک بھی جاری ہے لیکن کیونکہ اس کا شوہر جانتا ہےکہ اس لڑکی کا باپ بھی نہیں ہے اور یہ غریب گھر کے لڑکی ہے تو وہ جس حد تک رعایت کر سکتا تھا کرتا رہا ہے لیکن اب یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسےوہ بھی تھک چکا ہو
    نادیہ سوچ رہی تھی کہ عجیب انتہاؤں پر ہوتے ہیں لوگ میرے میکے میں بیٹیاں کتنی ہی لائق فائق ہوں ان کی قدر ہی نہیں لیکن لڑکا کتنا ہی نکما ہو اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں جبکہ صابرہ کے کیس میں بیٹی کو سر پر بٹھا کر اسے اپنے ہی گھر میں ٹک کر بیٹھے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کیا میں اپنی ہونے والی بیٹی کو اعتدال سے پال سکوں گی ؟
    ———-
    منیبہ پہروں بیٹھی سوچا کرتی تھی کہ اس کے شوہر نے کتنی محنت سے یہ گھر بنایا لیکن ساتھ ہی امریکہ کی ایمیگریشن کے لیے بھی کاغذات جمع کروا دیے تھے ،وہ بھرا پرا میکہ خاص کر بڑھاپے کو پہنچنے والے والدین کو چھوڑ کر کیسے رہ سکے گی ؟ کتنا مزہ آئے کہ ان کے پیپر ریجیکٹ ہو جائیں ،اگر ویزہ مل گیا تو کیا وہ عین وقت پر اپنے شوہر کو پاکستان چھوڑ کر نہ جانے کے لیے منا سکے گی ؟ کیا کریں گے فیملی کے بغیر ؟ اسے تو سسرال میں بھی مزہ ہی آتا تھا بس کبھی کبھی دونوں نندوں کی ناسمجھی سے بیزار سی ہو جایا کرتی تھی وہ بھی اپنے لیے نہیں ان ہی کے بچوں کی تربیت کے لیے.
    منیبه نے دبے لفظوں میں پہلے بھی اپنی دونوں ہی نندوں کو الگ الگ یہ بات سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ بلا شبہ ان میں مثالی محبت ہے اور ان کے شوہر بھی ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں لیکن آمنے سامنے اپارٹمینٹس میں مزید رہتے رہنا دانشوری ہرگز نہیں،ایک تو یہ کہ آپا کے بیٹے بڑے ہو رہے ہیں خالہ کے گھر بلا جھجک پہنچ جانے کی عادت پر ہی کم از کم پابندی ہونی چاہۓ، دوسرا یہ کہ نگہت کی بیٹی گو کہ چار پانچ سال کی کمسن بچی ہے لیکن کزنز کے ساتھ سودا سلف لینے تنہا بھیج دیا کرنا دونوں کی اولادوں کے لیے ٹھیک نہیں لفٹ میں ننھی نادان بچی کزنز کے ساتھ جائے یہ مناسب نہیں .جس پر نہ صرف دونوں بہنیں اس کی ذہنی آلودگی پر برس پڑی تھیں بلکہ بھائی سے بھی اس کی بیگم کی اس گھٹیا سوچ پر شکایت لگادی تھی جس پر وقاص منیبه پر بہت برہم ہوا تھا اور منیبه نے ان بھائی بہنوں کی بے عقلی پر ماتم کرکے اس معاملے سے خود کو الگ کرلینے کا پکا فیصلہ کر لیا تھا،البتہ ساس سسر جو آج کل نگہت کے گھر ہی رہنے گۓ ہوئے تھے ان تک غالبا یہ ان بن والی باتیں نہیں پہنچائی گئی تھیں تبھی انہوں نے اس کی پیشی طلب نہیں کی تھی لیکن ! آج ساس کی طبعیت کی خرابی کا سن کر اس سے رہا نہ گیا،جلدی جلدی پرہیزی کھانا تیار کیا کہ بچوں کے سکول سے واپس لوٹنے سے پہلے ہو آۓ گی
    تو انہیں سرپرائز دینے کی غرض سے بغیر اطلاع دییے پہنچ گئی لیکن اوپر آکر سوچا کہ اس سے پہلے کہ کوئی کڑوی بات سنائی جائے خود ہی بڑی آپا کو سلام کرتے ہوئے نگہت کی طرف جانا چاہۓ،لیکن دستک کے بعد دروازہ کھلنے پر اسے اپنے غصے پر قابو پانا مشکل لگ رہا تھا پہلے اسے صرف خدشہ تھا کہ آپا کا بڑا بیٹا راشد کسی فتنے کا شکار ہو چکا ہے اسی لیے نگہت کی معصوم حنا کو اس کی پہنچ سے دور رکھنا چاہۓ لیکن اس وقت تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی جب ارشد نے بتایا کہ مما تو خالہ جانی کے گھر ہیں نانو کی خدمت کرنے گئی ہیں اس نے ڈپٹ کر پوچھا کہ حنا یہاں کیوں ہے تم سکول میں کیوں نہیں تو بڑے سکون سے جواب دیا کہ مامی سکول میں تو پڑھائی ہوتی ہی نہیں میں گھر پر ٹیسٹ کی تیاری کے لیے رک گیا تھا ….اور یہ حنا موٹلو اپنے گھر میں رہتی کہاں ہے کبھی بلو اسے لے آتا ہے کبھی سنی کبھی مما بابا بلا لیتے ہیں سارا دن کبھی کینڈیز کھاتی ہے کبھی چاکلیٹ وہاں گھر پر تو خالو جان اسے یہ کھانے سے منع کرتے ہیں نا ….منیبه کو دال میں کالا نہیں دال ہی کالی دکھائی دے رہی تھی لیکن کس سے کہتی ….شاہد بھائی ہاں وہ باپ ہیں حنا کے، ان کی غیرت کو جگانا پڑے گا،وہ اپنے ماتھے پر پڑی تیوریوں سے راشد کو باآور کروا چکی تھی کہ اسے یوں اکیلے گھر میں حنا کو ساتھ رکھنا سخت ناگوار گزرا ہے،اس نے حنا کا ہاتھ تھامے بہ مشکل ایک قدم ہی پیچھے کیا ہوگا تو خود کو نگہت کے گھر کے سامنے پایا.راشد ساتھ ہی آگیا تھا اور اس سے پہلے ہی بغیر دستک دیے سیدھا گھر کے اندر جاکر بتایا کہ بڑی مامی آئی ہیں .
    منیبہ غصے پر قابو پاتے ہوئے سب سے اچھے سے ملی ساس سے مسکرا کر پوچھا کہ سچ بتائیں کیا بدپرہیزی کی تھی تو سسر نے ہنستے ہوئے بتایا کہ سب آئسکریم کھا رہے تھے تو ہماری بیگم سے رہا نہیں گیا اب دیکھو ذرا کتنی تکلیف اٹھا رہی ہیں.
    منیبه نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "امی آپ کو لاسٹ ٹائم ڈاکٹر نے کتنی تاکید کی تھی نا کہ آپ کا جسم بہت کمزور ہو گیا ہے ٹھنڈی میٹھی کسی چیز کی لالچ میں نہیں آنا ورنہ صرف شگر نہیں بڑھے گی بلکہ نمونیہ بھی ہو سکتا ہے ” دونوں نندوں نے بہ یک زبان بھاوج کی بات کاٹی بلکہ آپا نے تو قدرے سخت لہجے میں کہا کہ "اللہ کی بندی بات تو اچھی کیا کرو”جبکہ نگہت نے منمناتے ہوئے کہا "بھابھی برا نہیں مانیے گا لیکن جب سے نیا گھر لیا ہے نا آپ نے لگتا ہے جیسے سب کو شرمندہ کرنے کا علم اٹھالیا ہے آپ نے” ،منیبه ہکا بکا رہ گئی ،نگہت کا شکوہ جاری تھا "میں اکیلے ہی محسوس نہیں کرتی کہ آپ کہیں کہ میں اپنے بھائی کی ترقی سے جلنے لگی ہوں نقاش بھائی بھی کہہ رہے تھے کہ اب وہ بات نہیں رہی بھابھی کے رویے میں”منیبه کی حیرت میں مزید اضافه ہو گیا تھا کہ اس کے پیٹھ پیچھے وہ نند اور دیور جن کا ہر بھلے برے وقت میں جی جان سے ساتھ دیا اس کے بارے میں کیا کیا باتیں کرتے ہیں ،مگر شادی کے اتنے عرصے بعد وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ ان سب کو صفائی دینے پر یہ مل جل کر کوئی دوسرا الزام اس کے سر ڈال دیں گے لہذا وہ اس بات کو اگنور کر کے دھیمے سے اٹھ کر ساس کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی دواؤں کا جائزہ لینے لگی …پھر ٹھٹھک کر مڑی اور آپا سے پوچھا "ان دونوں دواؤں کی ایکسپائری ڈیٹ تو بہت نزدیک کی ہے کس میڈیکل سٹور سے لی ہیں ؟ وقاص تو امی ابا کی دوائیں ہمیشہ اچھے سٹورز سے لیتے ہیں ،ختم ہو رہی تھیں دوائیں تو انہیں فون کر دیتے "- آپا نے چونک کر راشد کی طرف دیکھا کہ اس نے پھر پیسوں میں ڈنڈی مار لی ہے لیکن بھاوج کے سامنے بہانہ بنادیا کہ ارے یہ تو راشد جلد بازی میں نیچے والی دکان سے پورا پتہ لے آیا میں ابھی تم سے یہی تو کہنے والی تھی کہ وقاص کو کہہ دینا دفتر سے آتے وقت امی کی دوائیں لیتے آئے تم بیٹھو چاۓ تو پیو،راشد ماں کی آنکھوں میں قہر دیکھ کر واپس اپنے گھر ٹیسٹ کی تیاری کرنے چلا گیا

    میں قربان .قسط 3
    وقاص کھانے کے بعد چائے پیا کرتا تھا منیبه جب بھی چائے کا کپ لے کر اتی تو وہ کھانے کی پلیٹ کی طرف دیکھتی، اگر کھانا پورا ختم کر لیا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وقاص کو پسند آگیا ہے البتہ کھانے میں کبھی کوئی نقص ہوتا تو وہ برملا اس کا اظہار کرتا اور کبھی منیبه کو ہلکی پھلکی ڈانٹ بھی پڑ جایا کرتی کہ کھانا دھیان سے نہیں بناتی اور یہ ہمیشہ سے اس کی عادت تھی کہ اگر بیوی کی کوئی بات پسند آجاۓ تو اسے کوئی گفٹ دلا دیا کرتا تھا لیکن مونہہ سے کچھ نہیں بولتا تھا-منیبه کو ان اشیا کی ضرورت نہیں تھی ، اس کے کان تو ہردلعزیز متاع جان کے دو اعترافی بول کے لیے ترس رہے ہوتے تھے، ساری دنیا منیبه کی خوبیوں کی معترف تھی لیکن وہ جس سے سننا چاہتی تھی وہاں سے کوئی لفظ سماعتوں سے ٹکرانے کی جسارت نہ کرتا تھا-

    کھانے کی پلیٹ صاف تھی اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوگیا، چائے دے کے وہ وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگی بچے اپنے کمرے میں ہوم ورک کر رہے تھے، وقاص کو یاد آیا تو بتانے لگا ” ارے آج دفتر میں آفتاب بھائی سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ کہہ رہے تھے کہ پرسوں یہ لوگ ہماری طرف آئیں گے "اس پر منیبہ مسکرا کر بولی ” اچھا میں بچوں کو بتا دیتی ہوں” وقاص سمجھ گیا وہ بچوں سے کیا کہے گی اس لیے ذرا چڑ کر بولا "یار یہ بہت بری عادت ہوجاتی ہے بچوں کے اندر کہ وہ اپنی ہر چیز اٹھا کرکسی کے آنے سے پہلے چھپا دیں تو بڑے ہو کران میں بڑے لیول پر شیئرنگ کی ہمت اور عادت کیسے آئے گی ” منیبه نے دھیمے لہجے میں کہا ” بس کچھ نازک یا بہت خاص چیزیں جو نایاب ہوتی ہیں ان کے لیے ہی میں انہیں کہتی ہوں کہ ایک طرف سنبھال لیں کیونکہ دوسرے اکثر بہت بے دردی یا لاپرواہی سے استعمال کرتے ہیں میں اس لیے بھی احتیاط کرتی ہوں کہ چیزوں کے پیچھے ہمارے تعلقات خراب نہ ہوں، بچوں کی کچھ چیزوں کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچمنٹ ہوتی ہے احساس تحفظ بھی تو ہمیں ہی دینا ہے نا انہیں اور جناب یہ بھی تو دیکھیں نا کہ ان اصولوں پر چل کر ہماری دوستی کتنے عرصے سے قائم ہے”- پھر جب وہ بچوں کومطلع کرتی ہے تو بیٹا بہت خوشی کا اظہار کرتا ہے جب کہ بیٹیاں شکوہ کرتی ہیں کہ "مما وہ لوگ ہمارے سارے کھلونے خراب کر دیتے ہیں اور گھر بھی گندا کر دیتے ہیں ہمیں بعد میں صاف کرنا پڑتا ہے ” وقاص بڑی بیٹی کوقریب بلاتا کر اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کے کہتا ہے کہ اپنی چیزیں شیئر کرنے کی عادت ڈالتے ہیں،آپ کی بہت ساری پرانی چیزیں ایسی ہوں گی جو آپ کو یاد بھی نہیں ہوں گی کہ وہ کہاں ہیں کس کو دیں کس حال میں ہوں گی تو کبھی کبھی کچھ چیزیں اپ کے سامنے بھی اگر خراب ہو جاتی ہیں تو تھوڑا بہت صبر کر لینا چاہیے ،آپ اگر اپنی ہر چیز اٹھا کے رکھ دو گے توآپ کھیلو گے کیسے؟ پھر آپ کی باتیں بھی ختم ہو جائیں گی، پڑھائی تو نہیں کر سکتے نا جب دوست آتے ہیں ،تھوڑی بہت چیزیں شیئر کر لینی چاہیے اگر کوئی کھلونا ٹوٹا تو میں اپ کو دلا دوں گا”-بچوں نے سر ہلا کر اس کی بات سمجھ لینے کا سگنل دیا اور اپنے کمرے میں واپس چلے گئے –

    وقاص نے منیبه کی طرف شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا” لڑکیوں کو تو بچپن سے شئیرنگ آنی چاہیے تاکہ شادی کے بعد اپنے شوہر کو اپنی مسلمان بہنوں سے شئیر کر سکیں” منیبه نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا "پھر وہی مذاق ” تو وقاص نے ہنستے ہوئے کہا "مذاق کہاں کر رہا ہوں،دل کے ارمان اپنی بیوی کے سامنے نہیں رکھوں گا تو کہاں جاؤں گا میں بیچارہ ” منیبه نے نرمی سے کہا "میں یہ بات کسی بھی انداز میں آپ سے سننا نہیں چاہتی،بہت سی باتیں میں آپ کی ایک ہی بار میں مان لیتی ہوں تو یہ ایک بات آپ میرے بار بار منع کرنے کے باوجود بھی کیوں نہیں مانتے؟” پھر منیبه غصے میں برتن سمیٹ کر لیجانے لگی تو وقاص نے اسے کلائی سے پکڑ کرواپس بٹھا لیا اور بولا
    "تو منع کر دوں اس بیچاری کو نازک سا دل ٹوٹ جائے گا اس کا ….” منیبه غصے میں بھناتی ہوئی ہاتھ چھڑا کر کچن میں چلی گئی ،وقاص نے پیچھے سے آواز دی” ہنس رہی ہو نا ” نومی نے آکر بتایا "نہیں پاپا مما رو رہی ہیں ،آپ نے پھر سے ان کو رلا دیا میں تو اپنی بہنوں کو نہیں رلاتا”
    اگلے دن آفتاب اور ان کی بیگم ردا اپنے سب بچوں کے ساتھ پہنچے تو گھر میں ایک شور اور بڑی رونق والا ماحول ہو گیا بڑے عرصے بعد یہ لوگ ملے تھے ، دفتر اور بچوں کی مصروفیات کی وجہ سے کم کم ہی ملنا ہوتا تھا اورفون کی
    لائن تو اتنی خراب تھی کراچی میں کہ ایک بندہ بات کرتا تو تین اور لوگوں کی لائن اس میں کنیکٹ ہو جایا کرتی ویسے بھی پیچھے بچوں کا شور اتنا ہوتا تھا کہ فون پہ بات کرنا دشوار ہو جایا کرتا تھا -وقاص اور آفتاب اوپر ڈرائنگ روم میں چلے گئے بچے لاؤنج میں کھیل رہے تھے اور ساتھ والے کمرے میں منیبہ اور ردا بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ردا کا چھوٹا والا کافی بھوکا نظرآ رہا تھا اس نے سب سے پہلے اس کا ڈائپر چینج کیا پھر بیگ سے پیالی چمچہ سیریل اور بوتل سب نکال کر مکس کر کے بچے کو کھلایا ،اس دوران منیبه نے ملازمہ کی مدد سے ٹیبل پر کھانا لگوایا کا یہ لوگ جب کبھی بھی ملتے تو بہت زیادہ پرتکلف کھانا نہیں ہوا کرتا تھا ،اچھی سی ایک دو چیزیں ہوتی تھیں اور سب مل کر خوشی سے کھا لیا کرتے تھے کھانے کو پر تکلف بنانے پہ ویسے اس لیے بھی ایک عرصے سے محنت نہیں کررہے تھے کہ انہیں سمجھ آچکا تھا کہ ہم اگر اس کام میں تھک چکے ہوں گے توآپس میں اچھے سے ایک دوسرے کو وقت نہیں دے سکیں گے اس لیے ملنے سے پہلے اپنی اور بچوں کی نیند پہ بہت توجہ دیا کرتے تھے- بہت محدود توانائی ہوتی ہے ایک انسان میں اس کو کس طرح استعمال کرنا ہے یہ سلیقہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ آگیا تھا-

    کھانے کے بعد بچوں کا شور کچھ اور زیادہ ہی ہو گیا تھا آفتاب کو سگریٹ پینے کی عادت تھی تو وہ یہ کہہ کر کہ ” ہم باہر سے بچوں کے لیے آئسکریم لے آتے ہیں”وقاص کے ساتھ چلے گئے پیچھے ردا اور منیبہ نے سوچا کہ بچوں کو ہم ٹی وی پر کچھ لگا کے دے دیتے ہیں تو اس نے وی سی آر کی لیڈ دراز سے نکالی اور شیشے کے کیبنیٹ میں سے کارٹون والی کیسٹ نکال کر لگا دی، بچے سکون سے بیٹھے تو منیبہ اور ردا ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ردا ہنستے ہوئے کہنے لگی کہ "تمہیں پتہ ہے کہ جب کبھی بھی مجھے پتہ چلا کہ اب مزید ایک اور بچہ میری زندگی میں آرہا ہے تو سب سے زیادہ جب سپورٹ کی ضرورت تھی نا یار دیکھو اپنی ماں ہی سب سے زیادہ یاد آتی ہےنا تکلیف میں! لیکن میری ماں نے ہی مجھے تیسرے بچے کے بعد سے ہی ہر بار اتنا ڈاٹا اتنا ڈانٹا …وہ میری محبت میں ہی مجھے ڈانٹتی ہیں یہ بات مجھے پتہ ہے اگر نہ پتہ ہوتی تو شاید میں اور تکلیف میں چلی جاتی لیکن جب مجھے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے مجھے ان کی گود چاہیے ہوتی ہے مگر وہ مجھے ایسے ڈانٹ رہی ہوتی ہیں جیسے یہ بچہ نکاح کے بغیر ہی آگیا ہے میری زندگی میں ، ماں کے بعد اگر مجھے کوئی سہولت چاہیے ہوتی ہے تو اپنی ڈاکٹر سے چاہیے ہوتی ہے جب میں ڈاکٹر کے پاس جاتی ہوں تو وہ میری شکل دیکھ کے کہتی ہے تم پھر آگئیں !” منیبہ نے کہا "پھر تم یہ سارا غصہ اپنے بچوں کے اوپر اتارتی ہو” ردا نے کہا "نہیں پہلے کرتی تھی اب مجھے سمجھ آگئی ہے کہ بچوں کو مارنا نہیں ہے پھر مجھے ابا نے یعنی میرے سسر نے بھی کہا کہ بچوں کے چہرے پر نہیں مارتے تو بس صبر کرنا ہوتا ہے بہن برداشت کرنا ہوتا ہے اور کیا اللہ تعالی نے کچھ پلان کیا ہوگا میرے لیے ان بچوں کے لیے ،دیکھو کچھ لوگ ترستے ہیں اولاد کی نعمت کے لیے اور کچھ لوگ اس نعمت کو سمجھ ہی نہیں پاتے” ردا کی آنکھیں نم ہو گئیں کہنے لگی "بہت سوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ رپورٹ پازیٹو آجاۓ تو پھر اپنا آپ ہی مارنا ہوتا ہے، اس بچے کو نہیں مارنا ہوتا ، اپنی میں قربان کرنی ہوتی ہے، جو آسان نہیں ہے لیکن مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے نا تو وہ آسان کر دیتا ہے ” منیبه اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئی اور بولی ” ، مجھے تو یہی سمجھ نہیں آتا کہ تم اپنے بچوں کے کام وام نمٹا کر ساس سسر کو کیسے دیکھ لیتی ہو اور اکیلی ہوتی ہو تمہارے شوہر مطلب کہ آفتاب بھائی کی میں برائی نہیں کر رہی ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ خود اپنے والدین کی خدمت میں بہت کم ہوتے ہیں اور تم آگے آگے "تو ردا ہنس دی کہ اس بندے کے پاس وقت کہاں ہوتا ہے تمہیں خود اپنے شوہر کا بھی اندازہ ہو گا کہ دفتر والے فیملی کے لیے وقت کہاں رہنے دیتے ہیں ” پھر یہ کاروبار بھی کر رہے ہیں اس میں بھی ٹائم لگتا ہے تو یہ ہم سب کے لیے ہی کر رہے ہیں نا؟ یہ رزق حلال کما رہے ہیں اور ہم رزق حلال کو بچانے کے کام کر رہے ہیں؛ ہے کہ نہیں ؟ یہ جو میں اتنے کام بھاگ بھاگ کے کر لیتی ہوں ادھر ادھر کے وہ بھی میں اپنے شوہر کی محبت میں کرتی ہوں ، مطلب اگر میں نہیں کروں گی یہ سارے کام اور وہ آ کر کریں گے تو شوہر کا ٹائم مجھے کیسے ملے گا؟ میں ان کے حصے کے کام کر دیتی ہوں اور ان کا وقت مجھے مل جاتا ہے” منیبه کہتی ہے "اس طرح سے تو تم نے ڈبل لوڈ لے لیا تم اتنی اچھی بن کر رہو گی تو سب تمہارے اوپر اور کام کا بوجھ ڈالتے ہی چلے جائیں گے” تو ردا نے کہا ” نہیں میں سمجھتی ہوں کہ میرے اندر بہت زیادہ اعتماد آیا ہے ان تمام کاموں سے کہ جب آفتاب مجھے کہتے ہیں کہ اچھا تم نے یہ بھی کر لیا تو وہ مجھے بہت شاباشی دیتے ہیں،شکریہ ادا کرتے ہیں ،اعتراف کرتے ہیں کہ میں ان سے زیادہ ان کے والدین کا خیال رکھتی ہوں ،اور سچی بات ہے کہ اس سے زیادہ کی مجھے طلب ہے نہ ہوس ".
    ———————-
    کسی تناور درخت کو بھی بار بار ہلایا جائے تو وہ بھی اپنی جڑیں کمزور کر دیتا ہے ، یہی صابرہ کے ساتھ ہوتا نظر آ رہا تھا ، ماں بھی نہ رہی تھی اس وجہ سے نادیہ ہی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی تو صابرہ ہتھے سے اکھڑ جاتی اور یہ بات جب شوکت کو پتہ لگتی تو نادیہ اور شوکت کے اپنے رشتے میں کڑواہٹ پیدا ہوجاتی –
    ایک روز نادیہ سوئی ہوئی تھی کہ وہ خواب میں دیکھتی ہے کہ وہ اور صابرہ کسی جگہ پر گئی ہیں جہاں بہت رش ہے، اس کے ہاتھ میں اپنے بہت سارے زیور ہیں، وہ چاہتی ہے کہ اس میں سے کچھ صدقہ کر دے مگر وہاں
    رش اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے ، دھکم پیل ہوتی ہے کہ جب وہ اپنا پرس کھولتی ہے تو اس میں کافی سارے زیورات نیچے گر جاتے ہیں اور وہ ان کو جھک کر اٹھا بھی نہیں سکتی کیونکہ وہاں اتنا رش تھا تو لوگ نیچے گرے ہوئے زیورات کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں ، صابرہ اس صورتحال سے بے نیاز نادیہ سے کہتی ہے کہ مجھے پانی پینا ہے اور ضد لگا لیتی ہے کہ پانی پلا دیں، وہ دونوں مل کر ڈھونڈتے ہیں تو ایک جگہ نظر آتی ہے جہاں ابھی کنواں کھودا جا رہا ہوتا ہے لیکن اس میں پانی ابھی پورا ہوتا نہیں ہے ، گدلا پانی ہوتا ہے،وہاں جو کام کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نہیں،
    آپ یہ نہ پیئیں ،یہ ابھی صاف نہیں ہے آپ تھوڑا سا صبر کر لیں اور آگے جا کر صاف پانی پی لیں ، لیکن صابرہ کہتی ہے مجھے یہی پانی چاہیے ، مٹی اس کے حلق میں پھنس جاتی ہے تو وہ اسے تھوک دیتی ہے ، اور جب وہ زور زور سے کھانس رہی ہوتی ہے تو تکلیف کی وجہ سے نادیہ کی آنکھ کھل جاتی ہے-
    نادیہ جب یہ خواب اپنی ماں کو سناتی ہے تو اس کی ماں اس پر بہت زیادہ غصہ کرتی ہے کہ تم صابرہ کے لیے ہلکان ہونا چھوڑ دو، وہ اپنے لیے اچھا فیصلہ نہیں کر پا رہی ہے جس سے تمہاری خوشیاں بھی اس کی بے صبری کی وجہ سے لٹ جائیں گی۔
    تمہارے پاس جو زیور تھے، وہ تمہاری خوشوں کا تھیلا تھا ،جو اس کی وجہ سے خراب ہو رہی ہیں اور وہ جو بھی دھکے پڑ رہے تھے وہ حالات ہیں جو اس کی بدزبانی کی وجہ سے آئیں گے اور اس میں تمہیں بھی پریشان ہو گی، اور وہ جو پانی والی بات ہے وہ اس کی بے صبری ہے کہ اس نے میٹھے پانی کا انتظار نہیں کیا اور وہی کیچڑ والا پانی پینےکی کوشش کی جسے تھوک دیا اور اس کو پھندا بھی لگ گیا ۔
    تو تم اپنے آپ کواس کی ساری کاروایوں سے دور رکھو اب آگے جو چیزیں بھی خراب ہوں گی ،اس سے تمہیں بہت تکلیف بھی ہو سکتی ہے تم اپنا صدقہ وغیرہ دو۔
    آخر وہی ہواجس کے بارے میں سب کو پہلےسے اندازہ تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔
    صابرہ کی کاہلی اور بدزبانی کی وجہ سے خرم ایک دن آپے سے باہر ہو گیا۔ وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھائے لیکن اس روز یہ ہو گیا تو صابرہ نے رو رو کر بد دعائیں دے دے کر محلہ سر پر اٹھا لیا ،شوہر کے خاموش کروانے پر اس سے اتنی زیادہ بدزبانی کی کہ آواز تک بیٹھ گئی پھر بھی صبر نہ آیا تو غم و غصے میں شرکیہ، کفریہ الفاظ بولنے سے بھی باز نہ رہی- بہرحال محلے میں سے ہی جان پہچان کےلوگوں نے اس کے بھائی کے گھر فون کیا تو بھائی اسے لینے پہنچا صابرہ کو امید تھی کہ بھائی خرم سے میرے تھپڑ کا بدلہ ڈنڈے سوٹے سے لے گا لیکن محلےداروں نے ڈھیر ساری گواہیاں صابرہ کے خلاف اور خرم کے حق میں دینی شروع کردیں، لہٰذا یہ جھگڑاوہیں تھم گیا اور شوکت شرمندگی کے ساتھ بہن کو اپنے گھر لے آیا ۔ وہ حیران تھا کہ اسے اس سے پہلے وہ سب باتیں معلوم ہی نہیں تھیں جو محلے والوں نے بتائیں ۔
    جن سے اسے دلی صدمہ بھی ہوا کہ اس کی پیاری بہن کیسی نادان ہے اس نے نادیہ سے اپنا غم ہلکا کرتے ہوئے کہا اس پگلی نے اپنی زندگی کے ساتھ کیا کچھ کر ڈالا ہے۔نادیہ دل میں سوچ کر رہ گئی کہ "صرف اپنی زندگی یا ہم سب کی زندگیوں کے ساتھ ”
    ———-
    نادیہ کی طبعیت کافی خراب رہنے لگی تھی، اس کی دیکھ بھال صابرہ کے سر آچکی تھی وہ بہ مشکل کچن سنبھالتی اور تھک کر چور ہو جاتی ،شوکت دن بھر کا تھکا جب گھر آتا تو نہ کھانا بنا ملتا نہ ہی بیٹے سعد کا حلیہ ٹھیک ہوتا ،صبح ناشتے میں پاپے کھا کر نکلتا اور واپسی میں ہفتے بھر کھانے میں وہی پتلی کھچڑی یا دلیہ ملتا رہا جو صابرہ مارے باندھے نادیہ کے لیے بنا لیا کرتی تھی .
    شوکت پرایک نئی حقیقت آشکار ہو رہی تھی کہ اس کی بیوی نے گھر کو کتنی مستعدی سے جان مار کر سنبھالا ہوا تھا حتی کہ اس کی امی کو بھی آخر وقت تک اور صابرہ تو اب بھی کہیں شادی کر کے گھر سنبھال لینے کے قابل خود کو نہیں بنا سکی ہے ،لیکن جوان لڑکی ہے شادی تو کرنی ہی ہوگی مگر ایسے کیسے گھر چلاۓ گی اپنا ؟
    نادیہ اپنی کمزوری کی وجہ سے دلگرفتہ تو تھی لیکن خوش بھی تھی کہ شوکت کو اندازہ تو ہو جاۓ گا حالات کا ….تو کیا وہ اسے سراہے گا ؟ کیا کسی مسجد کے خطبے سے سکول سے والدین سے اپنے کام پر اس نے اتنی سی بات سیکھی ہو گی کہ بیوی کو سراہا جانا چاہۓ ، وہ چند لفظ اس کے ذمہ داری سے لائی ہوئی دواؤں پھلوں اور دودھ سے زیادہ نادیہ کو طاقت بخش دیتے،محبت کا اظہار شادی کے شروع دنوں میں تو مجھے تم سے محبت ہے کہہ دینے سے ہو جاتا ہے لیکن کچھ سال بعد کبھی کبھی مجھے تم پر فخر ہے ،مجھے تم پر بھروسہ ہے مجھے تھماری محنت کا ادراک ہے ،مجھے تمھارے صبر کی قدر ہے کچھ تو، کبھی تو ، اندھے فقیر کے کاسے میں کھنکھناتے ہوئے سکوں کی آواز کی مانند درکار ہوتے ہیں.

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں

    ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں

    میری سب سے بڑی پسندیدہ سرگرمیوں میں ہمیشہ پڑھنا شامل رہا ہے۔ جتنا مجھے یاد ہے، کتابیں ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہیں، مجھے مختلف جہانوں میں لے جاتی ہیں، دلچسپ خیالات سے روشناس کراتی ہیں اور روزمرہ کی زندگی کے شور سے پناہ فراہم کرتی ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں میں نے ایک تبدیلی محسوس کی ہے،پڑھنے کی وہ لذت جو پہلے تھی، آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔

    ماضی میں میرا گھر ایک ادبی میدان کی طرح تھا۔ ہر کمرے میں کتابوں کا اپنا مخصوص مقام ہوتا تھا۔ ہمیشہ میرے بستر کے قریب ایک کتاب رکھی ہوتی، ایک اور کتاب کچن میں رکھی ہوتی تاکہ چائے کا پانی اُبالنے کا انتظار کرتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے پڑھا جا سکے، اور ایک کتاب شوروم کے صوفے کی بانہوں پر رکھی ہوتی۔ ایک ان پڑھا خزانہ ہمیشہ تیار رہتا، میری پسند نرالی تھی.افسانہ، غیر افسانہ، اور درمیان کی سب چیزیں، یہ کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، بس کتابیں مجھے اپنی طرف کھینچ لیتی تھیں۔

    حال ہی میں، تاہم، میں نے خود کو زیادہ تر مواد اسکرین پر پڑھنا شروع کر دیا،جو یا تو سہولت کی وجہ سے یا ضرورت کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی جوش و جذبے کے باعث، کمپیوٹر یا ٹیبلٹ پر پڑھنا وہ جادو نہیں رکھتا جو ایک جسمانی کتاب کے ساتھ ہوتا ہے۔ مجھے وہ حسی تجربہ یاد آتا ہے ،کتاب کا وزن ہاتھوں میں محسوس کرنا، نئے پرنٹ شدہ صفحات کی خوشبو، اور ہر صفحے کو پلٹتے وقت کی تسکین بخش سرسراہٹ۔ اس میں کچھ ایسا ہے جو بے بدل ہے کہ آپ کسی پسندیدہ اقتباس کو دوبارہ دوبارہ پڑھ سکیں جیسے آپ انہیں یادداشت میں محفوظ کر رہے ہوں۔

    جو چیز مجھے سب سے زیادہ یاد آتی ہے وہ اس سب کا ایک مقدس عمل ہے۔ صوفے پر پھیل کر ایک آرام دہ کمبل میں لپٹنا، ایئرل گرے یا کافی کا گرم کپ پاس میں رکھنا، اور ایک اچھی کتاب ہاتھ میں ہونا، ایسا لگتا ہے جیسے سب سے بڑی عیاشی ہو۔ یہ صرف پڑھنا نہیں ہے،یہ ایک فرار ہے، دن کے دباؤ سے آزاد ہونے کا ایک طریقہ ہے اور خود کو کرداروں کی زندگیوں میں غرق کرنے، سنسنی خیز کہانیاں کھولنے یا گہرے خیالات کو دریافت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ کتاب کے ساتھ گزارا گیا وہ مقدس وقت زندگی کی سب سے خالص خوشیوں میں سے ایک ہے۔

    کتابیں میرے لیے صرف تفریح نہیں، بلکہ ضروری ہیں۔ میں تصور نہیں کر سکتی کہ کوئی تعطیلات بغیر کتابوں کے گزاری جائیں۔ اگر سفر میں کتابیں نہ ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے سفر کی روح کو پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ اسی طرح، رات کو سونے سے پہلے کتاب نہ پڑھنا، چاہے صرف ایک صفحہ یا دو ہی ہوں، نامکمل سا محسوس ہوتا ہے۔ نیند سے پہلے کا وہ لمحہ، کتاب کے ساتھ، ایک چھوٹا مگر ضروری سکون ہوتا ہےیہ ایک اشارہ ہوتا ہے کہ دن پرامن طور پر ختم ہو رہا ہے۔

    جسمانی کتابوں سے اپنی محبت کو دوبارہ جلا دینا، ایسا لگتا ہے جیسے میں نے اپنے آپ کا ایک حصہ دوبارہ حاصل کیا ہو، کچھ ایسا جو دل سے سکون دہ اور بامعنی ہو۔ کیونکہ ایسی دنیا میں جہاں سب کچھ تیز رفتاری سے چل رہا ہو، پڑھنے کی قدیم لذت ایک نرم یاد دہانی ہے کہ ہمیں آہستہ چلنا چاہیے، سانس لینا چاہیے، اور الفاظ کی خوبصورتی میں غرق ہو جانا چاہیے۔

  • 8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    عالمی مشاعرہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس جہانگیر خان اسپورٹس کمپلیکس، کشمیر روڈ، کراچی میں شام 6 بجے منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ لینا، اس کی تشہیر کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا، اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تجاویز کو شامل کرنا تھا۔

    اجلاس میں کمیٹی کے معزز اراکین، کاروباری برادری کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ حاضرین نے مشاعرے کی کامیابی کے لیے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور اس کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز بھی پیش کی گئیں ۔ شرکاء محفل نے مشاعرے کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ اس کے ساتھ مہمان شعراء کی فہرست کو جلد حتمی شکل دینے، سامعین کے لئے آرام دہ سہولتوں کی فراہمی، اور مشاعرے کے دوران اعلیٰ معیار کے آلات کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مشاعرے کی لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے عالمی سطح پر اس کے پیغام کو پھیلانے کی تجویز کو بھی سراہا گیا۔

    کاروباری برادری کے نمائندوں جناب ایس ایم تنور، ریاض احمد (مکہ مکرمہ) جناب خالد تواب، جناب میاں زاہد، جناب حنیف گوھر، جناب نوید بخاری، جناب زبیر چھایا، جناب جنید نقی اور دیگر نے اس مشاعرے کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اسپانسرشپ کی پیشکش بھی کی۔ اس تعاون سے مشاعرے کی تیاریوں کو مزید تقویت ملےگی ۔ اجلاس کے دوران ایک مختصر مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ یہ مختصر مشاعرہ نہ صرف اجلاس کے شرکاء کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ عالمی مشاعرے کے لئے ایک خوبصورت پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

    جن شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام یہ ہیں ۔
    صدف بنت اظہارِ ۔ہدایت سائر۔ ظفر بھوپالی۔طارق سبز واری۔ سلیم فوز اور ڈاکٹر شاداب احسانی شامل ہیں۔

    اجلاس میں مشاعرے کی کامیابی، ملک و قوم کی ترقی، اور ادب کے فروغ کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر کئی معزز شخصیات نے اپنی موجودگی سے اجلاس کی رونق کو دوبالا کیا، جن میں حاجی رفیق پردیسی، فرحان الرحمان، شیخ راشد عالم، خالد جمیل شمسی، فیصل ندیم، ندیم معاز جی، عارف شیخانی، ڈاکٹر شاہ فیصل، انجینئر تنویر احمد، ندیم شیخ ایڈووکیٹ، خالد فرشوری، ظفر بھوپالی، محمود راشد۔ ہما۔بخاری اور عارف زبیری شامل ہیں۔

    یہ اجلاس عالمی مشاعرے کی تیاریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا اور اس کے کامیاب انعقاد کے امکانات کو مزید روشن کر دیا۔ شرکاء کی دلچسپی اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب ہوگی، جو پاکستانی ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    رپورٹ ۔۔
    صدف بنت اظہار ۔
    مکتبہ حیدری پاکستان کراچی ۔

  • تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین

    تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین

    نام کتاب : فتاویٰ برائے خواتین
    جمع وترتیب : محمد بن عبدالعزیز المسند
    صفحات : 488
    قیمت 1450روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    برائے رابطہ :042-37324034
    زیر نظر کتاب” فتاویٰ برائے خواتین “ روزمرہ زندگی میں خواتین کو درپیش مختلف نوعیت کے تمام اہم مسائل اور ان کے علمی و تحقیقی جوابات کا گرانقدر مجموعہ ہے جو کہ دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ خواتین کو شرم و حیا اور حجاب و نقاب کے تقاضے ہمیشہ ملحوظ رکھنے چاہئیں۔ بچیوں کو اسلامی تعلیمات سے اچھی طرح روشناس کرانا چاہیے۔ جب وہ جوان ہو جائیں تو ان کی شادی کرنے کے لیے غایت درجہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ لڑکے کے انتخاب میں اس کے اخلاق و احوال دیکھنے چاہئیں۔ یہ تحقیق ضرور کرنی چاہیے کہ جس سے بچی کی شادی کی جارہی کیا وہ نماز کا پابند ہے یا نہیں؟ کسی بے نماز سے ہرگز شادی نہیں کرنی چاہیے۔ کوئی مرد لڑکی کی عمر سے دس پندرہ سال بڑا ہو اور وہ صالح اور صحت مند بھی ہو تو لڑکی کو ایسے مرد سے شادی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے لیکن بڑی عمر پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ ایک فتوے میں ایک خاتون کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شرابی اور بدکار شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے۔متعدد فتووں میں بتایا گیا ہے کہ ایامِ حیض میں نماز، روزہ اور طواف بیت اللہ جیسی عبادت کی ممانعت ہے۔شیر خوار بچہ قے کر دے تو لباس ناپاک نہیں ہوتا۔ جو عزیز رشتہ دار نماز نہیں پڑھتے ان سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے ۔ روزے میں مسواک یا ٹوتھ برش کرنے سے کوئی حرج نہیں۔ ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ کوئی خاتون کتنی ہی پڑھی لکھی ہو، مردوں کی امامت کرانے کی مجاز نہیں۔ ایک خاتون گھر میں اکیلی ہے، نماز پڑھ رہی ہے، دروازے پر مہمان آگیا، اس نے گھنٹی بجائی، اب یہ خاتون کیا کرے؟ اس سوال کا دلچسپ حکیمانہ جواب دیا گیا ہے۔ جو خاتون باریک دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے، اس کےلئے کیا حکم ہے۔ کسی خاتون کے پاس زیورات ہوں یا صرف سوناہو، اُس پر ادائے زکاة کے ضروری احکام بتائے گئے ہیں۔
    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے سفر میں نماز کا وقت آجائے اس دوران نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو کیا کیا جائے؟ٹیلی فون پر لائن کے دوسری طرف کوئی نامحرم مرد بول رہا ہو تو اُسے جواب دیا جائے یا نہ دیا جائے ؟ ۔ بعض بیگمات کثرتِ اولاد پسند نہیں کرتیں، کیا وہ مانع حمل گولیاں کھا سکتی ہیں یا نہیں؟ مسلمان باورچی نہیں مل رہاکیا ایسی صورت میںغیر مسلم باورچی کھانا پکانے کےلئے رکھا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ شادی کے بعد دولھا میاں کے ساتھ ہنی مون منانے کے لیے سفر و سیاحت پر جاناکیسا ہے؟ ۔
    ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ شوہر فوت ہو جائے توکیا بیوی غسل دے سکتی ہے؟ اسی طرح بیوی وفات پا جائے توکیا شوہر غسل دے سکتا ہے؟۔کتاب میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی مسلمان خود کشی کرلے توکیا اسے بھی غسل دیا جائے گا اور مسنون طریقے کے مطابق تجہیز و تکفین کی جائے گی ؟ ۔ کتاب میں ایک ایسی خاتون کے شوہر کی بے حسی کی داستان سنائی گئی ہے جو اگر چہ نمازی ہے لیکن اس نے بیوی کو فراموش کررکھا ہے۔ کوئی عزیز رشتہ دار آجائے تو ان کے سامنے بیوی کا مذاق اڑاتاہے اس مسئلے کا جو دانشمندانہ حل بتایا گیا ہے وہ غافل شوہروں کی اصلاح کی بہترین تدبیر ہے۔اسی طرح بعض نیک طبع شادی شدہ نوجوان لڑکیوں کو ازدواجی امور کے سلسلے میں کچھ ایسے سوالات کے جوابات دیے گیے ہیںجو ہر شادی شدہ خاتون کو پڑھنا چاہئیں تاکہ وہ عائلی زندگی کے دوران آسانی سے نماز کا التزام، روزے کی حفاظت اور جملہ عبادات کا اہتمام کر سکیں۔ کتاب میں بعض قابل رحم بدقسمت لڑکیوں کی طرف سے دل و نگاہ کے معاملات پیش کیے گئے ہیں اور اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے تلافی کا طریقہ پوچھا گیا ہے۔ ان کے جو سبق آموز اور ایمان افروز جوابات دیے گئے ہیں وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔اسی طرح جو خواتین حیا کے بوجھ سے دبی رہتی ہیں، شرم اور جھجک کی وجہ سے نازک مسائل زبان پر نہیں لاتیں، یہ کتاب ان کی نارسا آوازوں کا جواب ہے۔اس کتاب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی ایک فرد واحد کی کاوش نہیں بلکہ مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز بن باز مرحوم ، الشیخ مفتی محمد بن صالح العثمین ،الشیخ مفتی عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین اور دارالافتاءکمیٹی سعودی عرب کے دیگر جید علما کے جوابات پر مشتمل ہے جس سے اس کتاب کی علمی وتحقیقی افادیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔کتاب کا ترجمہ مولانا جاراللہ ضیا نے کیا ہے۔ افادیت اور اہمیت کے اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور اس کا مطالعہ ہر مسلمان خاتون کےلئے بے حد ضروری ہے

  • رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک

    رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک

    دو سال پہلے، جب بھی کوئی میری پوسٹ پر تضاد بھرا کمنٹ کرتا، تو میں فوراً دل برداشتہ ہو جاتی تھی۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال آتا کہ آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میں خود کو مظلوم اور بےچارہ تصور کرتی، جیسے دنیا نے میرے خلاف کوئی سازش کر رکھی ہو۔ ہر منفی تبصرہ میرے دل کو گہرائی تک زخمی کر دیتا، اور میں گھنٹوں یہی سوچتی رہتی کہ شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔

    پھر ایک وقت آیا جب میں نے ان چیزوں کو گہرائی سے دیکھنا شروع کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہاں موجود ہر انسان کی سوچنے، سمجھنے اور شعور کی سطح مختلف ہے۔ کچھ لوگ اپنے حالات سے ستائے ہوئے ہیں، کچھ اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، اور کچھ بس دوسروں کو نیچا دکھانے یا ان کی باتوں میں خامیاں نکالنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    اسی دوران، میں نے ایک اور دلچسپ رویہ نوٹ کیا۔ بعض لوگ بے تُکی بات پر بھی واہ واہ کر کے چلے جاتے ہیں، جیسے انہوں نے کسی بات پر غور کیے بغیر ہی تعریف کرنا اپنی عادت بنا لی ہو۔ کبھی کبھی ان کی یہ تعریف مصنوعی لگتی تھی، اور کبھی یہ احساس ہوتا کہ شاید وہ محض اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔

    یہ سب دیکھ کر میں نے یہ جانا کہ لوگوں کے رویے اور ان کے ردعمل اکثر ان کی اپنی شخصیت، مزاج، یا حالات کا عکس ہوتے ہیں، نہ کہ میری بات یا میری شخصیت کا۔ تب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں دوسروں کے تبصروں کو اپنے دل پر لینے کے بجائے، ان پر غور کیے بغیر آگے بڑھوں گی۔

    یہ شعور حاصل کرنا میرے لیے ایک طاقتور سبق تھا۔ میں نے سیکھا کہ اپنی زندگی کی خوشی اور سکون کو دوسروں کی رائے سے مشروط نہیں کرنا چاہیے۔ اب میں جانتی ہوں کہ دنیا کی رنگا رنگی اور لوگوں کے مختلف رویے اس دنیا کی خوبصورتی ہیں، اور ہمیں بس اپنے راستے پر اعتماد اور سکون کے ساتھ چلتے رہنا چاہیے۔اور اچھے لوگوں کی رائے کو اہمیت دینا چاہیے۔

  • مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

    فیض احمد فیض.20 نومبر 1984: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فیض کی شاعرانہ قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا نام غالب اور اقبال جیسے عظیم شاعروں کے ساتھ لیا جاتا ہے ان کی شاعری نے ان کی زندگی میں ہی سرحدوں، زبانوں، نظریوں اور عقیدوں کی حدیں توڑتے ہوے عالمگیر شہرت حاصل کر لی تھی جدید اردو شاعری کی بین الاقوامی شناخت انہی کی مرہون منت ہے ان کی آواز دل کو چھو لینے والے انقلابی نغموں، حسن و عشق کے دلنواز گیتوں،اور جبر و استحصال کے خلاف احتجاجی ترانوں کی شکل میں اپنے عہد کے انسان اور اس کے ضمیر کی مؤثر آواز بن کر ابھرتی ہے فیض 13/فروری 1912ء کو پنجاب کے ضلع نارووال کی اک چھوٹی سی بستی کالاقادر (اب فیض نگر) کے اک فارغ البال علمی گھرانے میں پیداہوئے ان کے والد محمد سلطان خاں بیرسٹر تھے فیض کی ابتدائی تعلیم مشرقی انداز میں شروع ہوئی اور انھوں نے قرآن کے دو پارے بھی حفظ کئے پھر عربی فارسی کے ساتھ انگریزی تعلیم پر بھی توجہ دی گئی فیض نے عربی اور انگریزی میں ایم ۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں گورنمنٹ کالج لاہور میں دوران تعلیم فلسفہ اور انگریزی ان کے خاص مضامین تھے اس کالج میں ان کو احمد شاہ بخاری "پطرس” اور صوفی غلام مصطفی تبسم جیسے استاد اور مربی ملے تعلیم سے فارغ ہو کر 1935ء میں فیض نے امرتسر کے محمڈن اورینٹل کالج میں بطورلیکچرر ملازمت کر لی یہاں بھی انھیں اہم ادیبوں اور دانشوروں کی صحبت ملی جن میں محمد دین تاثیر، صاحبزادہ محمود الظفر اور ان کی اہلیہ رشید جہاں سجّاد ظہیراور احمد علی جیسے لوگ شامل تھے 1941ء میں فیض نے ایلس کیتھرین جارج سے شادی کر لی یہ تاثیر کی اہلیہ کی چھوٹی بہن تھیں جو 16 سال کی عمر سے برطانوی کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھیں۔شادی کی سادہ تقریب سرینگر میں تاثیر کے مکان پر منعقد ہوئی نکاح شیخ عبداللہ نے پڑھایا مجاز اور جوش ملیح آبادی نے تقریب میں شرکت کی,1977ء جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کا تختہ الٹا تو فیضٓ کے لئے پاکستان میں رہنا ناممکن ہوگیا ان کی سخت نگرانی کی جا رہی تھی اور کڑا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا ایک دن وہ ہاتھ میں سگرٹ تھام کر گھر سے یوں نکلے جیسے چہل قدمی کے لئے جا رہے ہوں اور سیدھے بیروت پہنچ گئے اس وقت فلسطینی تنظیم آزادی کا مرکز بیروت میں تھا اور یاسر عرفات سے ان کا یارانہ تھا بیروت میں وہ سوویت امداد یافتہ رسالہ "لوٹس” کے مدیر بنا دئے گئے 1982ء میں ، خرابیٔ صحت اور لبنان جنگ کی وجہ سے فیض پاکستان واپس آ گئے وہ دمہ اور لو بلڈ پریشر کے مریض تھے 1964ء میں انھیں ادب کے نوبیل انعام کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن کسی فیصلہ سے پہلے 20/نومبر 1984ء کو ان کا انتقال ہوگیا فیض مجموعی طور پر اک عام ادیب و شاعر سے بہتر زندگی گزاری وہ ہمیشہ لوگوں کی محبت میں گھرے رہے وہ جہاں جاتے لوگ ان سے دیوانہ وار پیار کرتے اپنی ادبی خدمات کے لئے فیض کو بین الاقوامی سطح پر جتنا سراہا اورنوازا گیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی 1962ء میں سوویت یونین نے انہیں لینن امن انعام دیا جو اس وقت کی ذوقطبی دنیا میں نوبیل انعام کا بدل تصور کیا جاتا تھا۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے ان کو نوبیل انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا 1976ء میں ان کو ادب کا لوٹس انعام دیا گیا 1990ء میں حکومت پاکستان نے ان کو ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ”نشان امتیاز” سے نوازا پھر 2011ء کو ” فیض کا سال” قرار دیا فیضٓ کی تصانیف میں نقش فریادی ،دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ،سر وادی ٔسینا، شام شہر یاراں اور میرے دل مرے مسافر کے علاوہ نثر میں میزان، صلیبیں مرے دریچے میں اور متاع لوح و قلم شامل ہیں انھوں نے دو پاکستانی فلموں جاگو سویرا اور دور ہے سکھ کا گاؤں کے لئے گیت بھی لکھے اور ہندوستانی پروڈیوسر ڈایرکٹر ایکٹر منوج کمار نے ان کی ایک غزل کو اپنی فلم "پینٹر بابو” میں 1989ء میں شامل کیا جس کو فیضٓ صاحب نے منوج کمار کو دوستی میں بطور تحفہ لکھ کردی تھیں ، فیضٓ احمد فیضٓ اور ایلس کی مشترکہ تخلیقات میں ان کی دو بیٹیاں سلیمہ اور منیزہ ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
    جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
    ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن
    تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
    ترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی
    جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں
    دل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ عہد ترک محبت ہے کس لیے آخر
    سکون قلب ادھر بھی نہیں ادھر بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے .
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

    بک فئیر کراچی ، لاہور ، اسلام آباد ہو یا کراچی آرٹس کونسل کا پروگرام ہمیں پکا یقین ہوتا ہے کوئی نہ کوئی جاننے والا تو ضرور ملے گا ہی۔۔ اور ان جگہوں پر ہی اپنے بیشتر ادبی احباب سے ملاقات ہوجاتی ہے ۔ لیکن شارجہ بک فئیر جاتے ہوئے ایسا کوئی خیال نہیں تھا کیونکہ یہاں ابھی ہمارے کوئی جاننے والے ہی نہیں ہیں۔ پھر بھی ہم نے احتیاطاً اپنی کتابوں کی منی کی چین رکھ لی تھیں کہ شاید کوئی مل ہی جائے۔
    جب ہم ایکسپو ،بک فئیر پہنچے تو گاڑیوں کی لمبی قطاریں بتا رہی تھیں کہ یہاں کوئی پارکنگ نہیں ہے۔۔ دوبارہ پلٹ کر گئے اور کافی دور گاڑی کھڑی کر کے پھر وہاں سے پیدل چلتے ہوئے سیدھے ہال نمبر سات کے اسٹال زیڈ سات پر پہنچے۔ وہاں سرمد صاحب کے ساتھ ان کے چچا اور صبا اسلم صاحبہ بھی ان کی معاونت کے لیے موجود تھیں۔ سرمد صاحب سے تو ایک ملاقات پہلے بھی ہوچکی تھی انہوں نے فوراً ہی پہچان لیا۔ اپنے اسٹال پر موجود احباب اور اپنی کتابوں سے تعارف کروایا ۔۔ اتنے میں ایک صاحب اور آئے اور کتابیں خریدنے لگے۔ ہم حسب عادت کتابوں کو دیکھنے اور ان پر زور و شور سے تبصرے فرما رہے تھے ۔ یہاں تک کہ کچھ دیر بعد ان صاحب نے خود ہی ہم سے فرمایا اچھا تو آپ کی یہ کتابیں ہیں اور آپ راحت عائشہ ہیں۔
    جی۔۔۔ ہم نے جواب دیا۔
    میرا نام عمران مشتاق ہے۔ انہوں نے بتایا اور ہم سچ مچ اچھل پڑے۔
    ہائیں۔۔۔! یہ ہماری ڈاکٹر عمران مشتاق سے ہرگز پہلی ملاقات نہیں تھی۔۔ کراچی میں بھی ملاقات ہوچکی ہے لیکن کیا کریں کہ ہم سے اکثر چہرے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں ۔ اور پھر ڈاکٹر صاحب انگلینڈ میں ہوا کرتے تھے ۔ اب وہ بھی دبئی شفٹ ہو گئے ہیں۔ سچ مچ بہت شرمندگی ہوئی ۔ لیکن ہمیں لگا وہ بھی کافی دبلے ہوگئے ہیں اس لیے نہ پہچاننے کی ساری ذمہ داری ہم ان کے مزید اسمارٹ ہونے پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی اپنی سی کوشش کی۔۔۔

    ڈاکٹر صاحب کا شمار بہترین لکھنے والوں میں ہوتا ہے ۔ یوں تو وہ نفسیات کے ڈاکٹر ہیں۔ اور شاید اسی لیے وہ سوشل میڈیا سے دور رہتے ہیں۔ ان سے اچانک ملاقات پر دل باغ باغ ہوگیا ۔ ہمیں بے اختیار وہ شعر یاد آیا۔۔۔
    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔
    بہتر ہے ملاقات خضر و مسیحا سے۔۔۔
    (اگر چہ ہمیں اس کے دوسرے مصرعے پر کافی ابہام ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ )
    ہم نے انہیں اپنی منی سی کتاب کی کی چین تحفتاً پیش کی جو انہیں بہت اچھی لگی۔۔۔ پھر ہم نے اپنی کتابوں کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنوائی جس میں سرمد صاحب اور ڈاکٹر صاحب نے بھی ہماری کتاب پکڑی ہوئی ہے ۔
    الحمدللہ زندگی کا ایک اور اچھا ، خوبصورت اور یادگار دن

  • اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    9 نومبر 2024 پاک ہیرٹج ہوٹل لاہور میں سر زبیر انصاری کی زیر سرپرستی آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے آٹھویں سالانہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینئیر نائب صدر حافظ زاہد اور نائب صدر سفیان صاحب اور ڈرامہ رائیٹر ثمینہ طاہر صاحبہ کی قیادت میں ایک شاندار پروگرام کا انتظام کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض مدیحہ کنول صاحبہ نے بخوبی انجام دئیے۔ ملک بھر سے نامور شخصیات نے ورکشاپ کا حصہ بن کر اپووا کی مثبت سرگرمیوں کو خوب سراہا۔ نامور شخصیات کی شمولیت نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اگلی نسل سے نا امید نہیں ہیں۔ نامور شخصیات میں فلم اسٹار غلام محی الدین صاحب، فلم اسٹار میگھا، سنئیر اداکارہ عذرا آفتاب کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی ابھرتی صحافی دیا مرزا، اینکر پرسن ثناء آغا خان شامل ہیں۔ ملک کے نامور شعراء کی شرکت کی وجہ سے نومولود شعراء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ وہیں ہر دم عزیر سر افتخار افی صاحب کی آمد نے محفل میں چار چاند لگا دئیے۔ اپووا ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے سینئرز کو عزت دینے کے ساتھ ساتھ نئے آنے والے لکھاریوں کا بھی حوصلہ بڑھاتا ہے۔ اپووا نے اب تک کتنے کی افراد کی زندگی کو نئی راہ دکھائی ہے۔ دو سال پہلے مجھے کوئی نہیں جانتا تھا آج الحمدللہ! اللہ کے فضل وکرم سے اپووا کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے مجھے آگے بڑھنے کی امنگ بھی ملی اور حوصلہ بھی ملا۔ حسن کارکردگی ایوارڈ، میگزین ٹیم ہونے کی وجہ سے میڈل اور پریس کارڈ کے لیے میں اپووا کی بے حد ممنون ہوں۔ اللہ پاک قلم کا حق ادا کرنے والا بنائے۔ اس قلم سے حق لکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین! ایک بار پھر میں اپووا ٹیم کو اتنی شاندار مہمان نوازی اور شاندار ورکشاپ انعقاد کرنے پر مبارک باد پیش کرتی ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں بھی اپووا کا حصہ ہوں۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • جب کیمبل پور جل رہا تھا ،تبصرہ نگار ۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

    جب کیمبل پور جل رہا تھا ،تبصرہ نگار ۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

    تقسیم ہند سے پہلے جن شہروں کو محبت کے ساتھ بسایا گیا ان میں لائل پور، جیکب آباد، ایبٹ آباد، منٹگمری اور کیمبل پور جیسے شہر خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیے جاتے ہیں
    1947 میں جب بٹوارہ ہوا تب پورا پنجاب جل اٹھا تھا یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کیمبل پور کی تاریخ بھی خاک اور خون سے بھری ہوئی ہے لیکن اس تاریخ پر وقت کی دھول کچھ اس طرح بیٹھ چکی تھی کہ عام آدمی کی رسائی اس خونچکاں منظر تک نہیں پہنچ سکتی تھی حال ہی میں کیمبل پور اٹک سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محقق جناب طاہر اسیر نے اس تاریخ سے پردہ اٹھایا اور ہمارے سامنے ایک کتاب بہ عنوان جب کیمبل پور جل رہا تھا، سامنے لے آئے، یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے اتنی منفرد اور یکتا ہے کہ اس سے پہلے تقسیم ہند پر اس خطہ خاک پر کوئی دستاویز سامنے نہیں آئی فاضل محقق نے اس دستاویز کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے .

    پہلا حصہ کیمبل پور شہر کو بسائے جانے اور اس کی خوبصوتیوں سے متعلق ہے، محقق نے بڑے احسن طریقے سے قدیم کیمبل پور شہر کے روشن خدوخال نمایاں کیے ہیں 1911 میں ہونے والی مردم شماری سے لے کر 14 ۔اگست 1947 کے بٹوارے تک کیمبل پور کے حسن میں اضافہ کرنے والے مندر چوک، منگ لدھا چوک، گیڈر چوک، کراچی ہوٹل، تولہ رام پیلس اور حویلی جگن کشور کا جہاں ذکر کیا گیا ہے وہیں پرانے شراب خانے سونامینا، قدیم درختوں، گورنمنٹ کالج کیمبل پور کے پروفیسروں، سردار پریم سنگھ، ایشرسنگھ، ایش کمار پر بھی قلم اٹھایا گیا ہے، پرانے احوال و آثار میں ہندووں کا سکول، این پی ٹی بس سٹینڈ، بھولے بسرے کوچوان، تانگوں کے مستری، کیمبل پور جنکشن، بمبی ایکسپریس اور اندرون شہر مزارات کو نہایت تحقیق کے ساتھ فاضل محقق نے صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے، اسی تاریخی دستاویز میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ محبتوں بھری اس بستی میں تقسیم سے پہلے کتنی محبت، امن اور بھائی چارے کی فضا ہوا کرتی تھی، دیوالی، بسنت، ہولی اور دسہرا جیسے تہوار کس قدر محبتوں سے منائے جاتے تھے ، شہر کے زندہ کرداروں میں جیتا رام، بی آر سہگل، جونا سنگھ، پنڈت بھوپال چند بلبیر سنگھ اور لالا فقیر چند ایڈوکیٹ اس شہر کی رونق تھے آج ہمیں آریا سماج مندر، سیتا رام مندر، گردوارہ ڈی بلاک، گردوارہ گوبند صاحب اور وہ مرکزی گردوارہ دکھائی نہیں دیتا جو تقسیم ہند سے پہلے موجود تھا

    مختصر یہ کہ پہلا باب اس شہر کے حسن و جمال کو بیان کرتا ہے فاضل محقق نے دوسرے اور تیسرے باب میں ہندو مسلم فسادات کی لرزہ خیز داستان بیان کی ہے، ان ابواب میں لکھا گیا ہے کہ کتنی ہندو اور سکھ لڑکیوں کا اغوا ہوا، کتنی ہی بیٹیاں قتل ہو گئیں اور کیسے کیسے ہنستے بستے گھر اجڑ گئے، کس طرح محبتوں بھری بستی میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہو گئی تھیں اور کون سوچ سکتا تھا کہ محبتیں نفرت میں بدل جائیں گی، مندروں پر حملے ہوں گے، کیمبل پور کے کنویں لاشوں سے بھر جائیں گے، یہی سچ ہے اور یہی صداقتیں ہمیں اسی کتاب میں دکھائی دیتی ہیں

    جب بٹوارہ ہو چکا تو لوگوں نے کس طرح املاک پر قبضے کیے جھوٹے فرضی کلیم داخل کروائے گئے قیمتی جائیدادیں رشوت کے ذریعہ ہتھیا لی گئیں، فقیر امیر ہو گئے اور اجڑ کے آنے والے نواب اپنی قسمت کو پیٹتے ہوئے تہی دامن رہ گئے

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہر صاحب شعور کو اپنے ماضی کی خوبصورتی اور بدصورتی کو سامنے رکھنا ہوگا اور کھلے دل کے ساتھ حقائق تسلیم کرنا پڑیں گے میں نے اس کتاب کو ہر حوالے سے منفرد اور مستند پایا ہے ایک قیامت تھی جو اس شہر پہ گزر گئی تھی بقول احمد علی ثاقب بٹوارہ محبت کا ہو یا نفرت کا دونوں صورتوں میں قیامت خیز ہوتا ہے یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے استاد دامن کے دو شعر یاد آ رہے ہیں

    لالی اکھاں دی صاف پئی دسدی اے
    روئے تُسی وی او روئے اسی وی آں
    انہاں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا
    ہوئے تسی وی او ہوئے اسی وی آں

  • حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام،تحریر:گلناز کوثر

    حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام،تحریر:گلناز کوثر

    حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام کیا گیا، میرے لیے یہ شام بلاشبہ کئی شاموں پر بھاری تھی جسے میں نے بڑی احتیاط سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ، خلیق الرحمن اور ارشد معراج جیسے دوستوں کا ساتھ قسمت کی مہربانی ہے.

    ”حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کا گزشتہ اجلاس 8 نومبر 2024 کو کانفرنس ہال اکادمی ادبیات پاکستان میں منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں برطانیہ سے تشریف لائیں منفرد لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ گلناز کوثر کے نظمیہ مجموعہ "مایا” کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ کیا گیا۔ اس خصوصی اجلاس کی صدارت ممتاز شاعر و دانشور پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر نے کی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر وحید احمد بوجہ ناسازی طبیعت تشریف نہ لا سکے۔ سٹیج پر موجود دیگر مہمانِ خاص میں جناب محمد حمید شاہد، جناب ڈاکٹر ثاقب ندیم، جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش اور جناب ڈاکٹر ارشد معراج شامل تھے۔ نظامت کے فرائض سیکرٹری حلقہ جناب ڈاکٹر خلیق الرحمٰن نے سرانجام دیے۔ انہوں نے محترمہ پروین طاہر کا مضمون پڑھ کر سنایا جو بوجوہ تشریف نہ پاسکیں۔ اس کے بعد جن معروف علمی و ادبی شخصیات نے مایا کے حوالے سے تجزیاتی گفتگو کی ان میں جناب منیر فیاض، محترمہ ڈاکٹر فاخرہ نورین، جناب ڈاکٹر ارشد معراج، جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش، جناب ڈاکٹر ثاقب ندیم، جناب محمد حمید شاہد اور جناب پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر شامل تھے۔ اس موقع پر محترمہ گلناز کوثر صاحبہ کو علمی ادبی شخصیات نے پاکستان آمد پر خوش آمدید بھی کہا اور انہیں گلدستے اور اپنے تازہ مجموعہ کلام پیش کیے۔ تقریب بہت بھرپور اور شاندار رہی۔ تقریب میں جڑواں شہروں کے علاوہ مختلف شہروں اور بیرون ملک مقیم مقیم اہم علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد