Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں

    یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں

    ڈاکٹر مینا نقوی ،یوم وفات 15 نومبر

    ہندوستان کی معروف شاورہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ کا اصل نام منیر زہرہ اور تخلص میناؔ ہے ۔ وہ نگینہ ضلع بجنور، اتر پردیش میں سیّد التجا حسین کے یہاں پیدا ہوئیں۔ ان کی دو بہنیں نصرت مہدی اور علینا عترت ہیں۔ آپ درس وتدریس کے مقدس فریضے سے وابستہ تھیں۔

    مینا نقوی کی شاعری ،عصری ادب میں جن حوالوں سے پہچانی جاتی ہے ان میں ان کی سادگی اور زندگی کی مثبت قدروں کے احترام کو ا ولیت حاصل ہے۔یہ سچ ہے کہ ان کی شاعری کا خمیر بھی دیگر شعراء کی طرح رومانی جذبات و احساسات کی آمیزش سے تیار ہوا ہے مگر ان کی شعری کائنات میں زندگی کے مسائل و مصائب اور عصری فکر و شعور کا جذبہ بھی قابلِ ذکر ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقی ریاضت اور شعری تجربے نے ان کی شاعری کا کینوس وسیع کر دیا ہے۔ مینا نقوی کئی برسوں سے شاعری کر رہی تھیں اور اب تک ان کے نو ( ۹) شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں اور انہیں متعدد اعزازات و انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔
    ان کی تصانیف کے نام درج ذیل ہیں :
    1-سائبان (اردو) 2-بابان…(اردو) 3-درد پت
    جھڑ کا (ہندی) 4-کرچییاں درد کی (اردو) 5-کرچیاں درد کی( ہندی) 6-جاگتی آنکھیں (اردو) 7-دھوپ چھاؤں (.ہندی) 8- منزل 9 – آئینہ

    سیدہ مینا نقوی کافی عرصے سے سرطان جیسے مہلک مرض سے نبرد آزما تھیں اور 15 نومبر 2020 کو انتقال کر گئیں

    منتخب اشعار
    یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں
    طوائفوں میں انہیں عورتیں نہیں ملتیں

    دھوپ آئی نہیں مکان میں کیا
    ابر گہرا ہے آسمان میں کیا

    یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں
    انا کے حق میں کثیر ہوں میں

    جب اسے دیکھا ذرا نزدیک سے
    تب سمجھ پائے ہیں تھوڑا ٹھیک سے

    چاند کیسے کسی تارے میں سما جائے گا
    پھر بھی امید کو ضد ہے کہ وہ آ جائے گا

    محبتوں میں وفا کا حساب دے گا کون
    اندھیری شب کے لئے آفتاب دے گا کون

    پھول مہکائے تھے میں نے شادمانی کے لیے
    ہر نفس اب مر رہی ہوں زندگانی کے لیے

    مزاج اپنے کہاں آج ہیں ٹھکانے پر
    حضور آئے ہیں میرے غریب خانے پر

    آساں ہر ایک ہو گئی مشکل مرے لئے
    جس دن سے محترم ہوا قاتل مرے لئے

    کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں
    اک انتظار کا موسم رہا ہے آنکھوں میں

    آنکھوں میں رنگ پیار کے بھرنے لگی ہوں میں
    آئینہ سامنے ہے سنورنے لگی ہوں میں

    تیز جب گردش حالات ہوا کرتی ہے
    روشنی دن کی سیہ رات ہوا کرتی ہے

    اس برس فصل بہاراں کی طرح واپس آ
    تو مری جان ہے جاناں کی طرح واپس آ

    حالات کے دریاؤں میں خطرے کے نشاں تک
    چل پائیں گے کیا آپ مرے ساتھ وہاں تک

    جب چاندنیاں گھر کی دہلیز پہ چلتی ہیں
    آسیب زدہ روحیں سڑکوں پہ ٹہلتی ہیں

    کس طرح چبھتے ہوئے خار سے خوشبو آئے
    پھول ہوں لفظ تو اظہار سے خوشبو آئے

    غم نہیں ہے چاہے جتنی تیرگی قائم رہے
    مجھ پہ بس تیری نظر کی چاندنی قائم رہے

    جب سے ترے لہجے میں تھکن بول رہی ہے
    دل میں مرے سورج کی جلن بول رہی ہے

    ڈاکٹر مینا نقوی

  • دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ

    دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ

    پچھلے مہینے دبستان بولان اپنے سہ روزہ کل پاکستان ادبی میلے سے بہ حسن خوبی سبکدوش ہو کر نومبر سے پھر اپنے ماہانہ مشاعروں کا حسب معمول آغاز کر دیا ہے۔

    اب کے دس نومبر کو ایک محفل مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ایک طویل غیر حاضری کے بعد سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے بھی شرکت کی جس کی عدم موجودگی کو دبستان بولان مسلسل محسوس کر رہا تھا اس غیر حاضری کی وجہ ان کی بیرون کوئٹہ منصبی ذمہ داریاں ہیں گویا وہ اس وقت شہر بدری کے عرصے میں زندگی گزار رہے ہیں بقول محسن بھوپالی:
    تادیر ہم بہ دیدۂ تر دیکھتے رہے
    یادیں تھیں جس میں دفن وہ گھر دیکھتے رہے
    ان کے علاوہ فارسی اور اردو کے معروف بزرگ شاعر سید جواد موسوی بھی کافی مدت کے بعد تشریف لائے تھے گویا مشاعرہ گاہ ایک ملاقات گاہ میں تبدل ہوا بقول امیر مینائی:
    امیر جمع ہیں احباب درد_دل کہہ لے
    پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے
    بہر حال مشاعرے کا آغاز تلاوت آیات پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب قاری صادق علی نے حاصل کی جن کی دل موہ لینے والی تلاوت نے ایک وجدانی کیفیت پیدا کردی پھر انہوں نوجوانوں سے خطاب کے عنوان سے ایک خوبصورت فارسی نظم بہت خوبصورتی ترنم سے پیش کی آپ بھی بڑی مدت کے بعد رونق محفل بنے۔
    مشاعرہ کی صدارت سید جود موسوی نے کی جبکہ مہمان خاص سرجن ذاکر اعظم بنگلزئی تھے۔ نظامت کے فرائض حسب معمول دبستان کے اسٹیج سکریٹری پروفیسر اکبر ساسولی نے انجام دئیے۔ان کے علاوہ پروفیسر صدف چنگیزی، جناب شفقت عاصمی، جناب جرات علی رضی اور جناب عرفان عابد شریک مشاعرہ تھے۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    باغی ٹی وی پر تحریریں شائع کروانے کے لئے ای میل کریں یا واٹس اپ کریں 03030204604

  • اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور ننھا لکھاری علی حیدر بھنڈر،تحریر:سجاد علی بھنڈر

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور ننھا لکھاری علی حیدر بھنڈر،تحریر:سجاد علی بھنڈر

    میں سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ۔ ایم ایم علی بانی و چیئرمین اپووا ۔ صدر حافظ زاہد محمود اور آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران کا دل سے مشکور ہوں کہ انھوں نے میرا ایک دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر کروایا ۔اپووا کے پلیٹ فارم پر محترم زبیر احمد انصاری اور ایم ایم علی صاحب کی گراں قدر خدمات لائق تحسین ہیں ۔میں ایک ادنیٰ سا گمنام کالم نگار ہوں اور ایک عرصے سے فیس بک پر اپووا میں شامل سینئر لکھاریوں کی تحاریر پڑھ رہا تھا اور سوچتا تھا کہ کاش میں بھی کبھی ان کی صف میں شامل ہو پاؤں گا کہ نہیں !پھر ایک دن اچانک اپووا کے فیس بُک پیج پر مجھے میرے ہی نام کا پوسٹر نظر آیا ۔
    اللّٰہ اکبر
    میری خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہیں تھی میں نے ایم ایم علی بھائی کو میسنجر پر سلام پیش کیا اور انھوں نے اپنا نمبر سینڈ کر دیا ۔اور یوں پہلی بار میرا رابطہ میرے محسن کے ساتھ ہوا ۔میں دل سے شکر گزار ہوں اور ایم ایم علی صاحب کے لیے ہمیشہ دعا گو ہوں سر اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور مزید عزت و تکریم سے نوازے ۔
    اب باری تھی تربیتی ورکشاپ میں جانے کی ۔ الحمدللہ علی حیدر بھنڈر میرا اکلوتا نور چشم ہے اور میں اپنی ساری زندگی کی دینی و دنیاوی جمع پونجی خرچ کر کے اسے ایک پہچان دینا چاہتا ہوں اور شہرت اور مقبولیت کے اعلیٰ مقام پر دیکھنا چاہتا ہوں ۔علم و ادب اور تہذیب و تمدن ہمیشہ میرے پسندیدہ مشاغل میں سر فہرست رہے ہیں ۔ لہذا میں علی حیدر بھنڈر میں بھی وہی گن بھرنا چاہتا ہوں ۔اسی لیے میں نے ایم ایم علی صاحب سے گزارش کی کہ مجھے علی حیدر کو ساتھ لانے کی اجازت دیں جس پر انھوں نے بخوشی اظہار مسرت فرمایا ۔

    دراصل میں علی حیدر کو کامیاب لوگوں کی کامیابی کی داستانیں ان کی اپنی زبانی سنوانا چاہتا تھا تاکہ علی حیدر کے دل میں بھی ادب سے محبت کا پودا پروان چڑھ سکے ۔لہذا ہم ایک پھولوں کا خوبصورت گلدستہ لے کر بروقت پر منزل مقصود ہیریٹیج ہوٹل جا پہنچے ۔ایم ایم علی بھائی نے کھلے بازو ہمارا استقبال کیا اور علی حیدر کے سر پر دست شفقت پھیرا ۔بس پھر ہم بھی تقریب کا حصہ بن گئے ۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے آغاز ہوا اور پھر ایک ایک کرکے مقررین نے حاضرین محفل سے خطاب فرمایا ۔اپووا تربیتی ورکشاپ میں شامل سینئر صحافیوں ۔ ادیبوں ۔ شعراء کرام اور ڈراما نگاروں کے خصوصی لیکچرز پیش کیے گئے جس کی چند جھلکیاں آپ کی بصارتوں کی نذر۔

    قلم کاروں ‘ لکھاریوں‘صحافیوں ‘ادیبوں اور شاعروں کی نمائندہ جماعت آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام نوآموز لکھاریوں اور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کیلئے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک کے نامور لکھاریوں ، صحافیوں ۔ ادیبوں ۔ شاعروں ۔ ادارکاروں اور ڈاکٹرز سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔سینئر صحافی و کالم نگار ارشاد عارف ۔معروف اینکر پرسن ریحام خان ۔ لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب اور میگھا جی ۔ لیجنڈ اداکار غلام محی الدین ۔ بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی ۔ موٹیویشنل سپیکر اختر عباس ۔ معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر ۔ سینئر صحافی عنبرین فاطمہ ۔ معروف شاعر و استاد پروفیسر ناصر بشیر ۔ نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید ۔ افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی ۔ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی ۔ نوجوان نسل کے معروف شاعر اتباف ابرک ۔ رپورٹر جیو نیوز دعا مرزا ۔ تجزیہ نگار نوید چوہدری ۔ معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیر ۔ معروف شاعرہ مہوش لاشاری ۔ میگزین ایڈیٹر ندیم نذر ۔ عقیل انجم اعوان ۔ ریاض احمد احسان اور ندیم اختر سمیت دیگر نے شرکت کی اور نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صرف لکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اچھا اور بہترین لکھنا ہی آپ کو بے مثال بناتا ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں کیونکہ اچھا لکھاری ہوتا ہی وہی ہے جو اچھا پڑھنے والا ہو ۔ خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی ایک قدم آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے ۔ صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے ۔
    تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ہال اپنے وسیع ہونے کے باوجود تنگی داماں کا منظر پیش کرتا رہا ۔ دورانِ تقریب اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کو ایوارڈ ۔ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا ۔ اس ورکشاپ کی ایک بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں ’’میڈیکل کیمپ‘‘ بھی لگایا گیا تھا اور ڈاکٹرز کا ایک پورا پینل وہاں فری چیک اپ کرنے کے لیے ورکشاپ کے اختتام تک موجود رہا اور شرکاء اپنے طبعی مسائل اُن کے ساتھ ڈسکس کرتے رہے ۔ آخر میں اپووا انتظامیہ نے یہ عہد کیا کہ ان شاء اللہ آئندہ بھی ایسے کامیاب پروگرام کرواتے رہیں گے اور تنظیم کا گراف انشاءاللہ العزیز مزید اوپر جائے گا ۔تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیے پرتکلف ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔دھند اور سموگ کی وجہ سے موسم کی خرابی کے باوجود دور دراز سے آنے والے شرکاء کا اپووا کے عہدیداران کی جانب سے خصوصی شکریہ ادا کیا گیا,اور یوں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوئی ۔

    اب واپس آتے ہیں علی حیدر بھنڈر صاحب کی جانب ۔علی حیدر کی خواہش تھی کہ اس کے بابا جان بھی اسٹیج پر جائیں اور خطاب کریں ۔شیلڈز اور ایوارڈ کی تقسیم ہوئی ۔ میڈلز اور اسناد بھی تقسیم کئے گئے ۔علی حیدر یہی سوچتا رہا کہ اس کے بابا جان کے حصے میں بھی کچھ نہ کچھ تو ضرور آئے گا ۔یہی وجہ تھی کہ علی حیدر 2 بار شیلڈز والی ٹیبل پر گیا اور ایک ایک نام پڑھ کر اپنے بابا جان کا نام تلاشتہ رہا ۔علی حیدر پھر بھی پر امید تھا کہ شاید اس کی تلاش میں کوئی کمی رہ گئی ہوگی اور بابا جان کا نام اسے نظر ہی نہیں آیا ہو گا وہ تقریب کے آخری لمحات تک پر امید تھا ۔کیونکہ اس کے بابا جان اس کے لیے سب سے اچھے ہیں ۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ جس مقام پر آج اپنے بابا جان کے ساتھ آیا ہے اس کے بابا جان عمر میں چاہے بڑے تھے لیکن علم و ہنر اور تجربے کے لحاظ سے سب سے جونیئر تھے ۔بحرحال ایم ایم علی صاحب کی شفقت سے ملنے والے خوبصورت لفافہ میری لاج رکھ گیا اور اس میں سے ایک تعریفی سند بھی مل گئی لہذا میں نے اس سند پر ننھے لکھاری علی حیدر بھنڈر کا نام لکھا اور افتخار افی صاحب سے گزارش کی کہ ہمارے ساتھ ایک تصویر بنوا لیں ۔ افتخار افی صاحب نے ہمارا مان بڑھایا اور ایک یادگار تصویر بنوا کر شفقت فرمائی ۔
    شکریہ سر سلامت رہئے ۔

    سیالکوٹ سے آئیں فاکہہ قمر آپی نے بھی علی حیدر کے ساتھ یادگار تصویر بنوائی جو انشاء اللّٰہ اسے مستقل میں اعزاز محسوس ہو گا ۔ریاض احمد احسان صاحب نے علی حیدر کی آٹو گراف ڈائری پر سب سے پہلا آٹو گراف دیا اور خوب محبت کا اظہار کیا ۔ثناء آغا خان میری پیاری سی چھوٹی بہن نے بھی علی حیدر کو آٹو گراف دیا اور ڈائری میں نصیحت رقم کی کہ علی حیدر والدین بہت قیمتی ہیں ان سے محبت کرو اور ہمیشہ خوش رہو ۔مشہور شاعرہ مہوش لاشاری صاحبہ نے بے خیالی میں لی گئی علی کی تصویر اسٹیج پر ان کے ساتھ دیکھ کر شکوہ لکھا کہ انھیں متوجہ کیوں نہیں کیا گیا ۔ورنہ میں خود علی حیدر کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنواتی ۔یہ واقعی ان کا بڑاپن ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آپی انشاء اللّٰہ میری پوری کوشش ہے کہ بہت جلد علی حیدر شاعروں اور ادیبوں کی فہرست میں شامل ہو جائے ۔

    ماشاءاللہ علی حیدر بھنڈر پلے گروپ سے ہر سال مسلسل فرسٹ پوزیشن کی شیلڈ حاصل کرتا آ رہا ہے ۔اور الحمدللہ اس کے بابا جان نے بھی ہر شعبے میں ہمیشہ نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور صحافی ہونے کے ناطے کسی بھی صحافی کا ڈپٹی کمشنر لاہور سے آن ریکارڈ شیلڈ حاصل کرنا بھی ایک منفرد روایت ہے ۔میں دل کی گہرائیوں سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ۔ بانی و چیئرمین ایم ایم علی ۔ صدر حافظ زاہد محمود اور جن بہن بھائیوں کے نام مجھے یاد نہیں ان سب کا شکر گزار ہوں ۔اللّٰہ تعالیٰ آپ سب کو ہمیشہ شاد و آباد اور مزید کامیابیوں سے سرفراز فرمائے ۔
    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • سبز خط اور شرمیلا لکھاری ،تحریر:مجیداحمد جائی

    سبز خط اور شرمیلا لکھاری ،تحریر:مجیداحمد جائی

    سجادجہانیہ کے بقول ادب اطفال کے ذیل میں دبستان ِملتان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں علی عمران ممتاز اپنے نام کی طرح ایک منفرد اور ممتاز حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں ۔ادب اطفال کو ذریعہ ِاظہار بنا کر انھوں نے ملکی سطح پر شہرت اور شناخت پائی ہے ۔علی عمران ممتاز ادب اِطفال پر تیرہ کتب اب تک تصنیف کر چکے ہیں جن میں سے دو کو صدارتی ایوارڈ سے نوازاجاچکا ہے ۔یہ امر دبستان ِملتان کے لیے نہایت خوش کن اور قابل ِفخر و اعزاز ہے ۔

    ”سبزخط“علی عمران ممتاز کی بچوں اور ٹین ایجرز کے لیے لکھی گئی کہانیوں پر مشتمل کتاب ہے ۔یہ پڑھنے میں کہانیاں ہیں ۔سمجھنے میں راہی کوراستادکھاتی ہیں ۔نصیحتیں کرتی یہ کہانیاں ہمیں سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت وحدیث پر عمل پیرا ہونے کا درس دیتی ہیں ۔بچوں اور بڑوں کو کہانی کے انداز میں درس دینا بہترین حکمت عملی ہے ۔ہر کہانی کا انداز الگ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بچے کہانی میں مکمل طور پر دل چسپی لیتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں ۔

    علی عمران ممتاز ”پہلی بات“میں قلم فرسائی کرتے ہوئے کہتے ہیں ”میری کوشش رہی ہے کہ تعلیمات نبوی کی روشنی میں بچوں کو روشن راہ دکھا سکوں اور بچوں کو بتا سکوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،اللہ کے محبوب اور آخری نبی ہیں ۔آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ ہی آئے گا۔آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کی حیات ِمبارکہ بچوں ہی نہیں بڑوں کی عملی زندگی کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔”سبزخط“کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

    اختر عباس،علی عمران ممتاز کے بارے میں لکھتے ہیں ”اللہ جی انسانوں کی بھیڑ میں کم کم لوگوں کو ممتاز کرتے ہیں ۔ہم نے البتہ اپنی آنکھوں سے ملتان کے ایک نوعمر لڑکے کو اللہ جی کی رحمت کے سائے میں آتے اور پھر دھیرے دھیرے علی عمران ممتاز بنتے اور لکھنے والوں میں ممتاز ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔اب اس کی پہچان محنت کش قاری و لکھاری کی نہیں ہے بلکہ اس کا تخلیقی کام اپنی خوب صورتی ،وسعت اور مقدار میں بھی نظر آتا ہے ۔اب وہ دو رسائل کے مدیر اعلیٰ ہونے کی کامیابی سے آسودہ ہے ۔کتنی ہی کتابیں اس کے قلم سے لکھی اور ترتیب پاگئی ہیں ۔”سبز خط“کی کہانیاں اس کے اعزازت میں اضافے کا باعث بننے والی ہیں ۔
    ریاض عادل لکھتے ہیں ”سبز خط“علی عمران ممتاز کی بچوں کے لیے کہانیوں کی نئی کتاب ہے جسے ہم سیرت کہانی یا حدیث کہانی کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں ۔علی عمران ممتاز نے تعلیمات ِنبوی کی روشنی میں ،بچوں کو کہانیوں کی صورت میں ،سماجی بُرائیوں سے دور اور محفوظ رہنے کی تعلیم دی ہے ۔علی عمران ممتاز کی کہانیاں بچوں کو یہ باور کرانے کی ایک بھر پور کوشش ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہمارے لیے ایک مکمل نمونئہ حیات ہے ۔سماجی بگاڑسے بچنے کی واحد صورت یہی کہ بچوں کو جو ہمارا مستقبل ہیں ،سیرت طبیہ کے مختلف پہلوﺅں سے روشناس کروایا جائے۔

    علی عمران ممتازکی شخصیت اپنے اندر نام کی طرح تمام تر خوبیاں رکھتی ہے ۔خود میں بھی دو دہائیوں سے علی عمران ممتاز کو پڑھ اور دیکھ رہا ہوں ،مل رہا ہوں ،سمجھ رہاہوں۔کئی سفرایک ساتھ ہوئے ۔محفلیں سجیں،طبیعت کا شرمیلا یہ نوجوان اپنے اندر بے پناہ خوبیاں رکھتا ہے ۔اندازدھیما،گفتار سے گھبرانے والا ،قلم فرسائی کا شاہ سوار،لبوں پر مسکراہٹ رکھنے والا مردِقلندر ہے ۔ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے والا ،اللہ سے محبت کرنے والا اور اسی ذات کریمی کا ذکر کرنے والا ہے ۔اس کی کامیابی و شہرت کی یہی وجہ ہے ۔اسی کے نام سے یہ مقام پاتا ہے اور نوازا گیا ہے ۔اس کی زندگی کے کئی پہلوہیں اور ہر پہلو اپنے اندر ایک جہاں رکھتا ہے ۔
    اس کا قلم محترک اور جوان ہے ۔اسلوب ِنگارش سادہ اور رواں ہے ۔زبان آسان اور عام فہم ہے ۔یہ دلوں میں اُتر جانے کا ہنر جانتا ہے ۔یہی چیز اس کی تحریروں میں جھلکتی ہے ۔چاہے کہانی ہو یا افسانہ ،ناول ہو ناولٹ۔ملنسار اور ہنس مکھ نوجوان (جوشاید اب نہیں )ہر دل میں اپنی جگہ بنانے کا ہنر جانتا ہے ۔اسی کے قلم سے موتی بن کر نکلنے والے لفظ”سبز خط“کی صورت ہمارے سامنے ہیں۔

    ”سبز خط“مجھے دو بار پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے ۔اس کا پروف بھی کیا ہے ۔اس کتاب میں کل چودہ (14) کہانیاں ہیں ۔ہر کہانی اپنے الگ اسلوب سے متاثر کرتی ہے ۔”سبزخط“سر ورق کہانی ہے ۔اس تخیلاتی کہانی نے رونگٹے کھڑے کر دئیے ہیں ۔ایک یتیم بچی جو قبرستان میں اپنی بڑی بہن کے ساتھ جھونپڑی میں رہتی ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھتی ہے اور اپنا حال ِ دل بیان کرتی ہے اور مدد کے لیے بلوادیتی ہے ۔خط پر واپسی کا پتا لکھنا بھول جاتی ہے ۔جب ڈاکیا وہ منفرد خط دیکھتا ہے تو گھر بیوی سے ذکر کرتا ہے ۔ان کی اولاد نہیں ہوتی ۔ڈاکیا اس بچی سے ملنا چاہتا ہے لیکن خط سے معلومات نہیں ملتی ۔اسی کش مکش میں دوسرا خط بھی مل جاتا ہے ۔جس پر واپسی کا پتا درج ہوتا ہے ۔ڈاکیا کی مشکل آسان ہو جاتی ہے اور وہ اس بچی تک پہنچ جاتے ہیں ۔آگے کیا ہوتا ہے یہ کہانی پڑھ لیجیے ۔میری طرح آپ بھی نم دیدہ ہو جائیں گے ۔
    ”سبزخط“کی چند منفرد کہانیوں کے عنوان دیکھیے ”جنت کی مٹی “۔”میں کون ہوں “،یہ انعام تمھارا ہے “نیا گھر “اور”بارہ سو ساٹھ روپے “وغیرہ ۔معروف بچوں کے لکھاری ریاض عادل ،مزاح نگار حافظ محمد مظفر محسن اور نامورکالم و کہانی کار سجاد جہانیہ نے قلم فرسائی کرکے لکھاری اور اس کے فن پر سیرحاصل گفت گو کی ہے ۔
    ”سبز خط“کا انتساب ان بچوں کے نام کیا گیا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کو اپنے لیے مشعل ِراہ مانتے ہیں اور آپ کی سنت و احادیث مبارکہ پر عمل کرتے ہیں ۔کرن کرن روشنی پبلشرز نے فروری 2014ءمیں شائع کی ہے ۔سرورق معظم حسن واصفی نے تخلیق کیا ہے ۔کتاب کی قیمت سات سو روپے ہے اور کرن کرن روشنی پبلشرز سے رابطہ کرکے منگوائی جا سکتی ہے ۔سجادجہانیہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے میں بھی پُر اُمید ہوں کہ خالق ارض و سماعلی عمران ممتاز کو اس میدان میں استقامت و کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے اور کرتا رہے گا ۔ان شاءاللہ ۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی اٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ لاہور کے مقامی ہوٹل میں نو نومبر 2024 کو منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں پورے ملک سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مردوخواتین نے بھرپور شرکت کی۔لوگ دور دراز سے اپنے پسندیدہ شعراء، ادباء، اینکر پرسنز اور ادب کی دیگر اصناف سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیکچرز سننے کے لیے آئے۔ دنیائے ادب کی نامور شخصیات نے تقریب میں تشریف لا کر اس خوبصورت محفل کو چار چاند لگا دئیے۔نظامت کے فرائض راقم نے سر انجام دئیے۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔محترم حافظ محمد زاہد نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی۔صدارتی ایوارڈ یافتہ نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ کر سماں باندھ دیا۔9 نومبر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دن کی مناسبت سے کلام اقبال پیش کیا گیا۔ڈاکٹر کوثر اقبال صاحبہ نے ترنم سے کلام اقبال پیش کیا اور داد پائی۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی صدر پنجاب محترمہ ریحانہ عثمانی نے اپووا کا تعارف،اغراض ومقاصد،سالانہ تربیتی ورکشاپس،لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ، اپووا کتاب ایوارڈ،سیمینارز اور تقریبات، تفریحی دورے،اپووا پبلیکیشن ،اپووا ڈائجسٹ،اپوواویب سائٹ، اپوواموبائل ایپلیکیشن،اپووا فیملی اور اپووا فنڈ کے بارے میں معلومات فراہم کیں اورحاضرین محفل کی معلومات میں اضافہ کیا۔

    پروگرام کا اگلا مرحلہ اپووا کامیابی کی کہانیاں ان ممبرزکے لیے تھا جو ادب کےمختلف شعبہ جات میں کام کر رہے تھے اپووا میں شمولیت نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیااور جواپووا میں بطور ممبر شامل ہوے، اپنی پہچان بنائی اور اب ادب کے مختلف شعبوں میں کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مرحلے کی صدارت اپووا کی خواتین ونگ کی صدر محترمہ ثمینہ طاہر بٹ نے کی۔سب سے پہلے اپووا کے بانی ایم ایم علی نے اپووا بنانے کا مقصد اور اس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اس کے بعدثمینہ طاہر بٹ،ریحانہ عثمانی،سفیان علی فاروقی،سحرش خان،مہوش لاشاری،نبیلہ اکبراور مدیحہ کنول نے اپنی کامیابی کی کہانی شئیر کی۔
    اپووا سر پرست اعلی جناب زبیر احمد انصاری صاحب
    لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری صاحب
    سینئر صحافی و کالم نگار جناب ارشاد عارف صاحب
    فلاحی شخصیت سیدہ بلقیس اصغر صاحبہ
    معروف اینکر پرسن ریحام خان صاحبہ
    لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب صاحبہ
    اداکارہ اور گلوکارہ میگھا جی
    اینکر پرسن ثنا آغا خان
    لیجنڈ اداکار غلام محی الدین صاحب
    بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی صاحب
    موٹیویشنل سپیکر اختر عباس صاحب
    معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر صاحب
    سینئر صحافی عنبرین فاطمہ صاحبہ
    معروف شاعر و استاد پروفیسرناصر بشیر صاحب
    نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب
    افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی صاحب
    معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی صاحب
    نوجوان نسل کے معروف شاعرمحترم اتباف ابرک صاحب
    رپورٹر جیو نیوز دعا مرزاصاحبہ
    سینئر تجزیہ نگار نوید چوہدری صاحب
    معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیئر صاحب
    میگزین ایڈیٹرجناب ندیم نظر صاحب
    شاعر آغر ندیم سحرصاحب
    رائٹر،ایڈیٹرندیم اختر صاحب
    مصنف عقیل انجم اعوان
    ادبی شخصیت ریاض احمدحسان صاحب
    سمیت کئی بڑے نام اسٹیج پر جلوہ افروز رہے۔
    تمام محترم مہمانان گرامی نے باری باری ڈائس پر آکر اپنے نادر خیالات کا اظہار کیا۔ نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ اچھا لکھاری وہی ہوتا ہے جو اچھا قاری ہو ۔ اورا س کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں۔ معاشرے کی ترقی و ترویج کے لیے قلم کے ذریعے جو کردار ادا کر سکیں ضرور کریں ۔مزید برآں کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں کبھی نہ کبھی آپ کو اس کام کا صلہ ضرور ملتا ہے ۔ لوگ وہی دیکھتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن آپ اپنے قلم سے وہ سب دکھا سکتے ہیں جو حقیقت سے قریب تر ہے ۔معاشرے کی موجودہ ابتد حالت اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل بھی موضوع سخن رہے۔خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے۔ عورتوں کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں وہ کسی بھی خوف سے آزاد ہو کر ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنے قلم اور عمل سے خود کو منوا سکیں اور معاشرے پر مثبت طریقے سے اثر انداز ہو سکیں ۔

    مقررین نے سرپرست اپووا زبیر احمد انصاری،بانی اپووا ایم ایم علی،صدر حافظ محمد زاہد،سمیت دیگر عہدیدران کو ان کاوشوں ہر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان سب کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    اپووا نے اس ورکشاپ پر بھی فلسطینی بہن بھائیوں سے اظہاریکجہتی کے لے ہال میں فلسطینی پرچم آویزاں کیے۔اس کے علاوہ شرکاء کو فلسطین سے اظہار یک جہتی کے لیے بیجز بھی دئیے گئے ۔اس بار اپووا کی طرف سے میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی کیا گیا تھا ۔جہاں موجود ٹیم نے لوگوں کو مفت طبی مشورے فراہم کیے ۔خراب موسمی حالات کے باعث موٹروے کی بندش کی وجہ سے مختلف شہروں سے آنے والے مہمانوں کو سفری مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ان سفری مشکلات کے باوجود ملک کے کونے کونے سے شرکاء نے ورکشاپ میں شرکت کی۔ہم آپکی آمد کے تہہ دل سے مشکور ہیں ۔

    دوران تقریب ایورڈز،میڈلز،اور سرٹیفکیٹس کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ میدان ادب میں مختلف شعبہ جات میں کارکردگی دکھانے والے شرکاء کو سراہا جاتا رہا اور ان خوبصورت لمحات کو کیمروں میں مقید کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ تقریب میں اپووا میگزین کے ممبران کو ان کے پریس کارڈز بھی جاری کئے گئے اور ایک سال سے میگزین میں اچھی کارکردگی دکھانے پر میڈلز دئیے گئے ۔واضح رہے کہ اپووا میگزین آن لائن ماہانہ شمارہ ہے اور اس وقت بہت سے مفید سلسلوں کو لے کر چل رہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر قرعہ اندازی کی گئی اور گفٹ ہیمپرز اور کیش پرائز بھی تقسیم کیے گئے۔خوبصورت تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لئے پرتکلف بوفے لنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا،جس میں چکن قورمہ، نان، بریانی،رائتہ سلاد،کولڈ ڈنکس،قلفہ،اور چائے شامل تھی۔شرکاء لنچ سے لطف اندوز ہوے اور اپنی اپنی منزل کی جانب چل دئیے۔

    ایک خوبصورت تقریب دل ودماغ پر انمٹ نقوش اور خوبصورت یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی جو مدتوں یاد رکھی جاۓ ۔ انشاءاللہ

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بل کھاتا ڈھلوانی راستہ،اور راستے میں اداس چرواہوں،بے چین و مغموم پرندوں،شدید سوگوار ایستادہ درختوں کے سنگ چلنے کے بعد اچانک ایک موڑ پر منظر کھلتا ہے۔نیلے،سفید گنبد اور ایک آبادی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر اداس راستے کی افسردگی اور پژمردگی ختم کرنے کےلیے کافی تھا۔انھی گنبدوں کے قریب مندر اور گوردوارے بھی موجود تھے۔ چاروں طرف ہی مذہبی رواداری کی خوشبو محسوس کی جاسکتی تھی۔ جب بارہویں کی کھیر کسی ہندو کے گھر کھائی جاتی،اور جب ہندو بہن،مرکزی بازار میں واقع سردار جی کی دکان سے خرید کر مسلمان بھائی کو راکھی باندھتی،تو پاس بہتا خاموش سندھو (دریائے سندھ) پُرجوش ہو کر اچھل پڑتا۔صد افسوس! آج منظر یکسر بدل گیا ہے۔یہ شہر تو وہیں ہے،مگر یہ مناظر وقت کی گرد میں کہیں دب گئے ہیں۔یہاں کے ملاحوں کی بستی کے بوڑھے ملاح نے اپنی بیڑی کے چھید تو بھر لیے،مگر بستی کی تاریخ و تہذیب کے پیراہن میں لگے چھید کون رفو کرے گا؟

    گزشتہ برس عید پر آبائی گاؤں خوشحال گڑھ جانا ہوا۔مکھڈی حلوہ تو کھانے کو نہ ملا،مگر مکھڈ کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوگیا۔میں پہاڑوں کا مرید ہوں،اور وادیاں میری مرشد،جبکہ سفر،نہ راضی ہونے والی محبوبہ۔اسی کو راضی کرنے کےلیے مکھڈ شریف کےلیے رخت سفر باندھا۔بل کھاتے پہاڑی راستوں پر اس قدر اداسی و افسردگی تھی کہ سر سبز و شاداب درخت بھی غمکین معلوم پڑتے۔پورے راستے میں پہاڑوں کے علاؤہ چند چرواہے،ریوڑ اور طویل ویرانیاں۔۔۔۔۔۔ یہ سفر مجھے کسی ناپسندیدہ لیکچر سے بھی کہیں زیادہ بورنگ لگنے لگا۔مگر اچانک ہم ایک موڑ مڑتے ہیں،تو آنکھیں ٹھنڈی اور تھکان و اداسی زائل ہونے لگ پڑتی ہے۔نیلے نیلے گنبد اور ان کے قریب چھوٹی سی بستی دیکھ کر لگا کہ ویرانیاں اور اداسیاں ختم ہوئیں،اور آغاز بہار ہو گیا ہے۔مناظر آنکھوں میں قید کرتے آگے بڑھتے گئے،کیونکہ ہماری اصل منزل دریائے سندھ تھا۔اپنے وقتوں کے سب سے بڑے تجارتی مرکز سے آج گزرے تو یوں لگا کہ جیسے کسی شہر خموشاں سے گزر ہو رہا ہو۔یوں ہماری بہار و رونق کی امید دریائے سندھ پہنچنے سے پہلے ہی دریا برد ہوگئی۔

    تاریخ کے اوراق کہتے ہیں کہ سی پیک تراپ انٹرچینج کے قریب دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ مکھڈ، تاریخی تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔جب پٹڑیاں اور سڑکیں نہ تھیں،تب دریائی راستے استعمال کیے جاتے۔مکھڈ کے اہم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ دریائے سندھ میں چلنے والے بحری بیڑوں کی آخری بندرگاہ تھی۔اور دوسری بڑی وجہ کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کےلیے یہی سب سے موزوں ترین آبی بندرگاہ تھی۔کالا باغ کا نمک بھی اسی راستے سے افغانستان سے ہوتا ہوا دوسرے ممالک جاتا۔اس لیے اس دور میں یہ علاقہ بڑی تجارتی منڈی بن گیا تھا۔یہاں کے بازاروں میں قدیمی پتھروں اور لکڑی کے تختوں سے بنی موجود دکانیں آج بھی عظمت رفتہ کی قصہ خواں ہیں۔

    بند بازار کو دیکھتے ہوئے،چلتے گئے۔اب راستہ قدرے مشکل شروع ہورہا تھا۔کیونکہ ہمیں نیچے دریا کی طرف جانا تھا۔چند قدم چلنے کے بعد ایک دیو مالائی خستہ حال مندر نظر آیا۔اسی عمارت کے قریب خاموش بہتا اداس دریائے سندھ اور دریا میں تیرتی چند کشتیاں۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ علاقہ نہ صرف تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا،بلکہ تہذیب و ثقافت کے بھیدوں کا مہاکھڈ بھی تھا۔ کئی گرودوارے، منادر اور ان پر بنے نقش نگار اپنی جانب متوجہ کراتے ہوئے،نوحہ کناں ہیں۔اس کی تہذیبی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ قبل از مسیح سے آباد ہے۔اور یہ بدھ مت،سکھ ازم،ہندومت اور اسلام چار تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ شہر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا۔1650 میں ایک صوفی بزرگ نوری بادشاہ یہاں آئے اور اسلام کی روشنی پھیلائی۔جن کا مزار آج بھی یہاں موجود ہے۔

    سندھو دریا کے کنارے ہم نے مچھلی پلا تو نہ کھایا،مگر مچھلیوں کے قریب جانے کےلیے کشتی میں بیٹھ گئے۔لکڑی کے بھاری بھرکم تختوں کے اوپر لگا انجن اسٹارٹ ہونے سے سندھو کا سکوت ٹوٹا،تو برا بھی لگا۔مگر سورج کی شعاعوں سے سنہری لہریں دل کو بھانے لگی۔سندھو کی اٹھتی موجوں کو چھونے کا لمس۔۔۔۔۔اور سہنری لہریں،ہمیں کشتی سے اترنے ہی نہیں دے رہی تھی۔جب سورج نے غروب ہونے کی تیاری کی،تو ہم بھی گھر طلوع ہونے کے لیے نکل پڑے

    "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

  • اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    کالم نگاری ایک فن ہے جس میں ایک مخصوص موضوع پر گہری تحقیق اور تحریر کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھے کالم نگار وہ ہوتے ہیں جو اپنے خیالات کو واضح، دلچسپ اور قاری کے دل و دماغ پر اثرانداز کرنے والی زبان میں پیش کرتے ہیں۔ اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن "اپووا” نے سالانہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جو لاہور کےمقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی

    تربیت ورکشاپ نے سینئر صحافی واینکر پرسن ،ٹی وی چینل کے مقبول ترین پروگرام کھرا سچ کے میزبان ،مبشر لقمان کے ہمراہ شرکت کرنی تھی، مگر کسی وجہ سے مبشر لقمان صاحب ورکشاپ میں شریک نہ ہو سکے،یوں ورکشاپ میں اکیلے پہنچے تو اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی اور موجودہ صدر حافظ زاہد استقبال کے لئے گیٹ پر موجود تھے، جہان پاکستان کے میگزین ایڈیٹر انجم عقیل اعوان بھی میرے ساتھ ہی ورکشاپ میں پہنچے، کالم نگار فیصل رمضان اعوان مجھ سے قبل ہی پہنچ چکے تھے اور میری آمد کا انتطار کر رہے تھے، ورکشاپ جاری و ساری تھی، ایک طرف خواتین رائیٹرز اور ایک طرف مرد حضرات، یوں اپووا نے رائیٹرز کا ایک گلدستہ سجا رکھا تھا،مہمانان خاص آ اور جا رہے تھے، اپووا کی یہ تربیتی ورکشاپ کالم نگاروں کو جدید تحریری تکنیکوں، تحقیقی مہارتوں، اور تاثراتی تحریر کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے تھی۔ اس کا مقصد کالم نگاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور انہیں اس بات کی تربیت دینا تھا کہ وہ کس طرح اپنے کالمز کو مزید مؤثر اور قاری کے لیے دلچسپ بنا سکتے ہیں۔
    aini

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ،معروف صحافی و کالم نگار ریحام خان بھی بطور مہمان خاص ورکشاپ میں آئیں، انہوں نے خطاب کیا اور ساتھ گلہ بھی کیا کہ میں تو ورکشاپ میں کالم نگاروں سے کچھ سننے اور سیکھنے آئی تھی لیکن یہاں مجھے خود سننے کی بجائے سنانے کا موقع مل رہا ہے،ریحام خان سمیت دیگر مہمانان خاص نے ورکشاپ کے شرکا میں اعزازی شیلڈز ،انعامات تقسیم کئے،ریاض احمد احسان جو کبھی ورلڈ کالمسٹ کلب میں متحرک تھے اور ادبی برادری کے لئے ہمیشہ صف اول میں نظر آتے ہیں وہ بھی مہمانان خاص میں شامل تھے،سینئر صحافی ارشاد عارف، روزنامہ مشرق کے میگزین ایڈیٹر ندیم نذر، نوائے وقت کی سینئر صحافی امبرین فاطمہ،لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری بھی مہمانوں میں شامل تھے،ورکشاپ کے شرکا سے خطاب میں مہمانان خاص نے بتایا کہ کالم نگاری میں تحقیق کا اہم کردار ہے۔ ورکشاپ میں کالم نگاروں کو تحقیق کے جدید طریقوں اور ذرائع سے آگاہ کیا گیا تاکہ وہ اپنے کالمز میں معلوماتی اور حقائق پر مبنی مواد فراہم کرسکیں۔کالم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ قاری کو محظوظ کرنا اور سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہوتا ہے۔

    ورکشاپ کے اختتام پر کھانے کی میز پر شرکا کے درمیان آراء کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے ہر کسی کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ اس سے ان میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملی۔تربیتی ورکشاپ میں پاکستان بھر سے کالم نگار، شعرا شریک تھے، اپووا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہر سال تربیتی ورکشاپ باقاعدگی سے ہوتی ہے، جس کے لئے رجسٹریشن کی جاتی ہے، اہل کتاب افراد کی پذیرائی کی جاتی ہے، شعرا کی ادبی کاوشوں کی تحسین کی جاتی ہے.

    zahid

    پاکستان میں خواتین کا کردار دن بدن مختلف شعبوں میں نمایاں ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر میڈیا اور صحافت میں بھی اب خواتین کا حصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپووا کے زیرِ اہتمام کالم نگاروں کی ورکشاپ میں خواتین صحافیوں اور کالم نگاروں نے بھی بھرپور شرکت کی جس کا مقصد خواتین کو صحافت کے شعبے میں مزید متحرک اور فعال بنانے کے لیے ان کی مہارتوں کو نکھارنا تھا،اپووا کی تربیتی ورکشاپ میں خواتین کی بھرپور شرکت نے اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستانی خواتین اب صحافت کے میدان میں ایک طاقتور اثر ڈالنے والی قوت بن چکی ہیں۔ مختلف پس منظر اور تجربات رکھنے والی خواتین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع حاصل کیا۔ ورکشاپ میں مہمانان خاص نے شرکا کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ معروف کالم نگار اور صحافی، جنہوں نے اس ورکشاپ میں اظہارِ خیال کیا، کہنا تھا کہ خواتین کا صحافت میں حصہ بڑھنے سے معاشرتی مسائل اور خواتین کے حقوق کی آگاہی میں اضافہ ہوگا۔ خواتین کے کالموں میں ایک حساسیت اور گہرائی ہوتی ہے جو مردوں کے لکھے ہوئے کالموں میں اکثر نہیں ہوتی اور یہ خصوصیت ایک منفرد آواز کی شکل اختیار کرتی ہے۔
    apwwa

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی اس ورکشاپ کا انعقاد نہ صرف کالم نگاروں کے لئے مفید بلکہ اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ صحافتی دنیا میں ترقی اور تبدیلی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے مسلسل تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے۔ اپووا کی یہ تربیتی ورکشاپ کالم نگاروں کو نہ صرف نئے طریقے سکھاتی ہے بلکہ انہیں اپنے خیالات اور نظریات کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس طرح کی ورکشاپس صحافت کی دنیا میں معیار کی بلندی اور تحریری مہارت کے فروغ کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ یہ کالم نگاروں کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے کام کو نہ صرف معلوماتی بلکہ تخلیقی اور اثرانداز بھی بنا سکیں۔

    mmali

    اپووا کی شاندار اور ہمیشہ کی طرح کامیاب تربیتی ورکشاپ پر اپووا کی پوری ٹیم کو مبارکباد

    باغی ٹی وی پر تحریریں شائع کروانے کے لئے ای میل کریں یا واٹس اپ کریں
    03030204604

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    9نومبر یوم اقبال 2024 کو لاہور کے پاک ہیری ٹیج ہوٹل میں اپووا کی ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی شاندار خدمات پر ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ اس تقریب کا مقصد ان افراد کی کوششوں کو سراہنا تھا جو اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    تقریب میں مجھے بھی کئی خاص اعزاز ات حاصل ہوئے، جہاں مجھے میری ادبی خدمات پر ایوارڈ، سرٹیفیکیٹ، میڈل اور اپووا میگزین کی جانب سے خصوصی افسانہ انچارج کے کارڈسے نوازا گیا۔ اس لمحے نے میری محنت کی قدر و قیمت کو اور زیادہ بڑھا دیا، اور میں نے اس اعزاز ات کو اپنے تمام اپووا کے ساتھیوں اور اس شعبے میں کام کرنے والے تمام افراد کی محنت کا نتیجہ سمجھتی ہوں۔

    اس تقریب کی کامیابی میں مختلف پہلوؤں کا کردار تھا۔ سب سے پہلے، تقریب کے نظم و ضبط نے اس کو بے حد کامیاب بنایا۔ تقریب کا آغاز مقررہ وقت پر ہوا، اور ہر سرگرمی اور سیشن کا وقت بالکل درست تھا۔ کسی بھی قسم کی خلفشار یا تاخیر نہیں ہوئی، جس سے مہمانوں اور شرکاء کو ایک پُر سکون اور مرتب ماحول میں شرکت کا موقع ملا۔

    دوسرا اہم پہلو شخصیات کا تھا، کیونکہ اس تقریب میں شرکت کرنے والے افراد ایم ایم علی صاحب ، محمد خافظ صاحب ، سفیان علی فاروقی صاحب اور اپووا کے سر پرست زبیر احمد انصاری صاحب کی جانب سے مدعو کئے گئے مہمانان نہ صرف اپنے اپنے شعبے میں ماہر تھے بلکہ ان کی شخصیت بھی شاندار تھی۔ تقریب میں شرکت کرنے والے مختلف ماہرین اور کامیاب شخصیات سے مل کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ان افراد کی باتوں میں ایک خاص جذبہ اور لگن تھی، جو اس تقریب کو اور بھی متاثر کن بنا رہا تھا۔

    شہزاد نیر صاحب اور افتحار عارف صاحب کی شاعری نے خوب سماں باندھا اور تقریب کو چار چاند لگا دئیے پھر اس کے بعد مزید مزہ تب آیا جب قرعہ اندازی میں میری مما کا نام نکل آیا جس پر میں بہت خوش ہوئی ،اسی دوران سب لکھاری نادعلی کے ساتھ تصویریں بھی بناتے رہے ان کی محبتوں کی مقرض ہوں اور انکل افتحار اور اتباف ابرک کے ساتھ تو نادعلی نے دوستی بھی کر لی ،آخری لیکن بہت اہم بات تقریب میں کھانے کے انتظام کی تھی۔ اپو وا کی جانب سے پاک ہیری ٹیج ہوٹل نے اس سلسلے میں بہترین انتظامات کیے تھے۔ کھانا نہ صرف لذیذ تھا بلکہ اس کی پیشکش اور تنوع بھی بہت شاندار تھا۔ ہر ایک کھانے کی قسم نے اپنے ذائقے اور معیار سے مہمانوں کو محظوظ کیا، اور اس نے پورے تجربے کو مزید دلکش اور یادگار بنا دیا۔

    یہ تقریب دوسری تقریبات کی طرح صرف ایک رسمی ایوارڈ تقریب نہیں تھی بلکہ ایک خوبصورت تجربہ تھا جس میں ہر عنصر نے اپنی جگہ پر شاندار کام کیا، اور میں ان سب چیزوں کی شکر گزار ہوں جو مجھے اس یادگار موقع پر حاصل ہوئیں۔

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    لاہور کے ڈیوس روڈ پر پاک ہیری ٹیج ہوٹل میں منعقدہ آل پاکستان رائٹرزویلفئر ایسوسی ایشن کی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کے لئے دن ساڑھے گیارہ بجے شہر کی آلود ترین سموگ کو چیرتے ہوئے ہم مقامی ہوٹل پہنچے تقریب کا آغاز ہوچکا تھا ہم بھی اپنی نشست تک پہنچ چکے تھے ،مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ادبی دنیاکے چند بڑے نام بھی اس پیاری محفل کا حصہ بنے مختلف موضوعات پراہل علم اپنے علم وادب کےموتی بکھیرتے رہے چونکہ منعقدہ تربیتی ورکشاپ کا مقصد ہی نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی تربیت شامل ہے تو ظاہر ہے علم وادب کے باذوق ترین حاضرین وہی علم کی شمع روشن کرنے والے اور اپنے قیمتی خیالات لوگوں تک پہچانے والے ہی ہال میں موجود تھے، سٹیج سے دور آخری نشستوں کے بیچ میں ہم بھی ان لوگوں میں شامل تھے اور دل ہی دل میں اپنے آپ کو ایک بڑا لکھاری سمجھ رہے تھے لیکن ہمیں اپنی خبر ہے کہ ہم لکھنے میں اتنے ماہر نہیں ہیں کہ اپنے آپ کوبڑا لکھاری کہہ سکیں لیکن خیر تقریب کو لگے چارچاندسے ہم ضرور مستفید ہوتے رہے.

    خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی ہماری عورتوں میں علم وادب کا شوق قدرے زیادہ پایا جاتا ہے جس پر ہم جتنا فخر کرسکیں کم ہے ہماری یہی مائیں بہنیں بیٹیاں یقیننا علم وادب کے میدان میں نئے لوگ لارہی ہیں جو خوش آئند ہے اور ادبی دنیا کی رونقیں آباد ہیں انشااللہ یہ آباد رہیں گی ہماری خواتین سے زیادہ جان پہچان نہیں تھی ثوبیہ نیازی کی شاعری اور ان کے کالم ہم بہت محبت سے پڑھتے ہیں ثوبیہ بھی محفل میں تشریف فرما تھیں لیکن ان سے ملاقات نہ ہوسکی دیگر خواتین شعرا کالم نگار افسانہ نگار ڈرامہ نگار اور اینکرز بھی موجود تھیں اور سٹیج پر اپنے علمی وادبی تجربات سے ہمیں آگہی دیتی رہیں .

    منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے منتظم جناب ایم ایم علی اورحافظ زاہد محمود تھے جو بھاگ دوڑ میں تھے ان سے راہ چلتے ہوئے ملاقاتیں ہوتی رہیں خوبصورت محفل سجانے پر ہم انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں معروف قلم کار ادیب کالم نگار اردشاد احمد عارف سے ملاقات ہوئی ہم نے ان کو بھی بتلایا کہ ہم بھی اسی میدان کے کھلاڑی ہیں اگرچہ اناڑی ہیں لیکن آپ جیسے سنیئر سے سیکھ رہے ہیں ڈرامہ نگار کالم نویس مصنف افتخار احمد عثمانی المعروف افتخار احمد افی سے خوشگوار ملاقات بھی ہمارے دن بھر کی مصروفیت میں شامل رہی مبشرلقمان صاحب بیماری کی وجہ سے تشریف نہ لاسکے تقریب میں ان کا آڈیو پیغام ممتاز اعوان صاحب لے آئے تھے جو محفل شرکا کو سنایا گیا ممتاز دن بھر ہمارے ساتھ رہے اور نئے لوگوں سے تعارف ہوتا رہا روزنامہ مشرق کے میگزین ایڈیٹر جناب ندیم نذر سے اپنا تعارف کروانا ضروری سمجھا اور انہیں بتایا کہ ہم بھی لکھتے ہیں ندیم نذر خوبصورت شخصیت کے باذوق انسان ہیں معروف شاعر ناصربشیر صاحب سے گپ شپ ہوئی گل نوخیزاختر سے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا اور اپنے دوست معروف سرائیکی شاعر نغمہ نگار افضل عاجز کی غیر موجودگی کے ذکر پر کچھ دیر کے لئے ہم اداس ہوئے کیونکہ افضل عاجز تقریب میں ہمارے درمیان نہیں تھے اپوا کے زیر اہتمام یہ تقریب ہرسال منعقد کی جاتی ہے یہ آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ تھی اس سے قبل بھی ہم ان خوبصورت لوگوں کی محفل میں شامل ہوتے رہے ہیں 9 نومبرکو اس دلچسپ تقریب میں شرکت گویا ہماری خوش قسمتی تھی

    دعا ہے کہ اپوا کے منتظمین اسی شوق لگن اور محنت سے اس ورکشاپ کا سالانہ اہتمام جاری رکھیں اور ہرسال ایک نئی جدوجہد اور پوری توانائی کے ساتھ متواتر یہ سلسلہ جاری وساری رہے تاکہ نئے لوگوں کو حوصلہ ملے وہ آگے آئیں اور علم وادب کی دنیا کو یونہی آباد رکھ سکیں

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن درس گاہ بھی ہے،امان گاہ بھی اور علاج گاہ بھی ہے-اپووا حرف کی تخلیق سے تشہیر تک تخلیق کار کی معاون و مددگار رہی ہے-اپنے قیام سے تادم تحریر سینکڑوں تقریبات،آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور درجنوں سیاحتی دوروں سمیت مقتدر ایوانوں تک تخلیق کاروں کی پذیرائی کو یقینی بنانا اپوا کا خاصہ ہے-آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کیا تھی؟ تخلیق کاروں کا ایک جھرمٹ تھا،چار سو بلکہ ہر سو حکمت و شعور کے چراغ جلانے والے مقدس نفوس تھے جو عزت مآب زبیر انصاری اور سفیر خوشبو برادرم ایم ایم علی کو خراج تحسین پیش کرتے دکھائی دے رہے تھے-تخلیق کاروں کے اظہار و بیان میں لذت تھی سو یہ تقریب حقیقی اعتبار سے واقعی ست رنگی تقریب تھی کہ فلم،ٹی وی،اسٹیج،صحافت،ادب،سیاست اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد ایک خاندان کی طرح اس تقریب میں شریک تھے جبکہ وطن عزیز کے ہر بڑے شہر سے تخلیق کاروں کی خصوصی شرکت نے اس تقریب کو منفرد بھی بنائے رکھا-

    اپوا کے ایک ایک معزز رکن کے حضور انتہائی محبت سے حقیر سا تحفہ تحسین پیش ہے- امید ہے لفظوں کے یہ پھول ماحول کو معطر کرنے کی ایک کوشش قرار پائیں گے- اپوا میں موجود تخلیق کار اور انکے فالورز جانتے ہیں کہ لفظ کہنا، لفظ تحریر کرنا اور لفظ کا کرب سہنا ذرا سی بات تھوڑی ھے- حرف سے لفظ کی تخلیق کا مرحلہ اور پھر لفظ بھی وہ جو تصویر بنا رھا ھو وہی لفظ نگاہ سے دل اور دل سے روح میں اترتا ہے-ایک لفظ تخلیق ھونے سے پہلے کرب و بلا کے کتنے مرحلے طے کرتا ھے اس کا احساس صرف ماں کا منصب پانی والی خوش بخت عورت ہی جانتی ھے کہ وہ تخلیق کے عمل اور تخلیق کی اذیتوں سے پوری طرح آگاہ ہوتی ہے- کڑے دن اور مشکل راتیں،مضمون کی زمین جتنی بھی زرخیز ھو اس پر ستارے، چاند، پھول، شبنم، شفق، رنگ بلکہ رنگ کا نیرنگ، آبجو، چاندنی، شجر و ہجر، صحرا و آبشار اور سورج اگانا بہت مشکل ھوتا ھے-

    خون میں جتنی بھی شدت اور حدت ھو ہوا کا رخ تبدیل کرنے میں زمانے لگانا پڑتے ہیں- جسم کے سارے اعضاء سکّوں میں ڈھال کر خرچ کرنا پڑتے ہیں- سخن کا آغاز دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی ، آنکھ کے آنسو، پلکوں کی جھالروں کی جھل مل، لبوں کے ترنم اور کان کی سرگوشیوں سے ھوتا ھوا روح میں اترتا دکھائی دیتا ھے-ہنر کے تخت پر جلوہ افروز ہستیاں مہر و ماہ و انجم غلام کرتی ھیں- ظلمت شب میں نور کا پرچار کرتی ھیں- بہار کا سورج شام و سحر اہل ہنر کا طواف کرتا ھے- خود فریبی کے آئنے چکنا چور ھوتے ھیں- آوازوں کے شہر آباد ھوتے ھیں— باغوں میں کوئلیں راج کرتی ہیں-آپ بھی محبت کی شاخوں پر الفت کے پھول کھلائیے تاکہ آس و امید کی کلیوں اور کونپلوں کو دلفریب عکس دکھائی دیں-برف جذبوں میں خوشبوئیں گھولیں، بجھتے تاروں کی بزم میں چاند سے باتیں کرنے کا ہنر بانٹیں، دیپک راگ مزاجوں پر مثل ملہار راگ برسنے کی کوشش کیجیئے- ہم ہر پوسٹ پر عادتاً واہ، خوب اور کمال لکھ دیتے ہیں ہمیں اس عادت کو ترک کرنا ہوگا- ہمیں کسی بھی صاحب خیال پر اترنے والے مضامین پر اپنی رائے کا اظہار کرنا گا وہ رائے بھلے ہی اختلافی ہی کیوں نہ ہو اس عمل سے آپکے اندر تخلیق کا جذبہ انگڑائیاں لے گا جو یقیناً کسی لاجواب تخلیق کی جانب پہلا قدم بنے گا- آپ اور آپ سے محبت کرنے والوں کی دم دم خیر-

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد