Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سلانہ تربیتی ورکشاپ (اپووا مینجمنٹ ٹیم کے زیر اہتمام) لاہور کے مقامی ہوٹل منعقد کی گئی۔جس میں ملک بھر سے نامور لکھاریوں شاعروں ادیبوں کالم نگاروں ڈرامہ نگاروں افسانہ نگاروں وکلاء برادری اینکرز ڈاکٹرز پروفیسرز محکمہ پولیس کے افسران اور دیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔تقریب میں شرکاء کے لئے بہترین بیگز ایوارڈز اور مہمانوں کے لئے خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔

    سموگ رش اور روڈ بلاک کی وجہ سے کئی دوست تاخیر سے پہنچے مگر شاید کوئی ایک دوست ہی رہا ہو اتنی خوبصورت تقریب میں شرکت کے لئے میں بہت مشکور ہوں سر ایم علی صاحب کا جہنوں نے مجھے ایوارڈ کے لئے اناونس کیا اور بوس زبیر احمد انصاری صاحب کا جہنوں نے مجھے ایوارڈ دیا۔محترمہ ثمینہ طاہر بٹ صاحبہ جو ہمیں بیٹوں کی طرح سمجھتے ہیں انہوں نے اپنی کتاب سنگ ریزے اور محترمہ آپا سعدیہ ہما شیخ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ نے اپنی کتاب بال ہما دی جو انشاءلله انمول تحفوں کی طرح مطالعہ کرکے رکھیں گے ،حافظ محمد زاہد کا خصوصی شکریہ جہنوں نے اس پروقار تقریب میں شرکت کی دعوت دی ،آپا ساجدہ چوہدری آپا سحرش خان میرے پیارے بھائی ڈاکٹر عمر شہزاد کا بھی شکریہ آپی ساجدہ چوہدری کا خصوصی شکریہ کیونکہ انکے بھائی کی اور میری شکل ملتی ہے اور وہ اکثر مجھے اپنے بھائی کے نام سے پکارتی اور یاد کرتی ہیں

    زندگی بھی گزر جاتی ہے لوگ بھی اچھی یادیں اچھے گزارے ہوۓ لمحات ہمیشہ دل و دماغ میں رہ جاتے ہیں,آخر میں بوس زبیر انصاری صاحب حافظ زاہد صاحب اور اپووا کی تمام ٹیم مینجمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جہنوں نے کئی روز کی محنت کے بعد یہ ورکشاپ کا انعقاد کرکے اسے کامیاب بنایا۔
    شکریہ اپووا

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • تبصرہ کتب،تربیتی نصاب

    تبصرہ کتب،تربیتی نصاب

    نام کتاب : تربیتی نصاب ( 3جلد )
    صفحات : 192
    قیمت : مکمل سیٹ720روپے
    ناشر: دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    ہر بچہ عقائد اور اعمال کا ذہن لے کر دنیا میں آتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کی اچھی تربیت اور ذہن سازی اس میں بلند پایہ اوصاف پروان چڑھاتی ہے جس سے وہ معاشرے کا بہترین اور کارآمد فرد بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس غلط تربیت سے عقائد و اعمال بگڑ جاتے ہیں اور ایسا شخص معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔ اس لیے تعلیم کے ساتھ تربیت اتنی ہی ضروری ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے سانس۔ ہمارے ہاں مختلف سطح پر مختلف طرح کے کثیر تعداد میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جن میں سکولز ، کالجز ، یونیورسٹیاں بھی ہیں اور دینی تعلیم کے ادارے بھی ہیں ۔ دنیوی تعلیمی اداروں میں تو تربیت کا بالکل ہی فقدان ہے ۔ دینی تعلیم کے اداروں میں تعلیم کے ساتھ تربیت کا جذبہ تو ہے لیکن یہاں زیر تعلیم بچوں کے لیے ان کی ذہنی سطح کے مطابق تربیت کا کوئی ایسا سائنٹیفک اور رہنما نصاب کتابیں دستیاب نہیں جو مفید اسلامی معلومات، سیرت نبوی اور بزم ادب کے پروگرام پر مشتمل ہو اور بچوں کو مثالی مسلمان بنانے میں بنیادی کردار ادا کرے۔ اسی اہم ضرورت کے پیش نظر دار السلام انٹرنیشنل بچوں کے لیے تین حصوں پر مشتمل یہ کتاب تیار کی ہے جسے جید علمائے کرام اور کہنہ مشق سکالرز نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے۔ تین حصوں پر مشتمل یہ کتاب تعلیم و تربیت کے اہم اور مفید پہلوو¿ں کا احاطہ کرتی ہے جنھیں 8 ہفتوں کے حساب سے سمیسٹر وائز تقسیم کیا گیا ہے۔ضروری ہے کہ نئی نسل کی اسلامی خطوط پر تربیت کے لیے اس کتاب کو عام کیا جائے ، دینی اداروں سمیت سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رائج کیا جائے تاکہ ہمارے بچے بچیاں مفید پاکستانی بننے کے ساتھ ساتھ اچھے مسلمان بھی بن سکیں ۔

    طلبہ اور اساتذہ کی سہولت کی خاطر تینوں کتابیں سمیسٹر وائز ترتیب دی گئی ہیں ۔ہر سمیسٹر کا دورانیہ 2 ماہ ہے۔ ہر سمیسٹر میں 8 ہفتوں کے حساب سے مختلف تربیتی موضوعات تقسیم کیے گئے ہیں۔

    ہر سمیسٹر کے پہلے ہفتے میں قرآن مجید کی کچھ سورتیں حفظ کےلئے دی گئی ہیں ، دوسرے ہفتے میں مسنون دعائیں، تیسرے ہفتے میں حفظ احادیث ، چوتھے ہفتے میں بنیادی عقائد ، پانچویں ہفتے میں سیرت النبی ﷺ ، چھٹے ہفتے میں تجوید، ساتویں ہفتے میں اسلامی آداب اور آخری ہفتے میں پورے سمیسٹر کی دہرائی کے ساتھ ساتھ بچوں کو عملی سرگرمیاں شامل کتاب کی گئی ہیں ۔بچوں میں ادبی ذوق پیدا کرنے اور گفتگو کی صلاحتیں نکھارنے کےلئے ہر کتاب کے آخر میں بچوں کےلئے حمد ونعت اور مختلف موضوعات پر تقاریر بھی دی گئی ہیں ۔ ہر کتاب کے شروع میں طلبہ اور اساتذہ کےلئے مفید تجاویز اور رہنما اصول بھی دیے گئے ہیں جن کی روشنی میں ان کتابوں کو سمجھنا ، پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا بالکل ہی آسان ہوگیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پر فتن اور آزمائشوں کے دور میں تین حصوں پر مشتمل اس کتاب کا مطالعہ ہر بچے بچی کےلئے بے حد ضروری ہے ۔ اسی طرح ان کتب کا مطالعہ والدین کےلئے بھی بے حد مفید ثابت ہوگا ان شاءاللہ ۔ یہ کتاب بچوں کو عملی مسلمان بنانے، معاشرے کا مفید شہری بنانے اور ان کی اچھی تربیت میں اہم کردار ادا کرے گی

  • تبصرہ کتب: پراسرار حویلی

    تبصرہ کتب: پراسرار حویلی

    زیر نظر کتاب ” پراسرار حویلی “ اپنے نام کی طرح اسرار وتجسس سے بھرپور ایک کہانی ہے۔یہ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر کی تصنیف ہے ۔ عام طور پر تجسس اور پر اسرار واقعات سے بھر پور کہانیوں میں بچوں کی تربیت واصلاح کا فقدان ہوتا ہے۔ یا پھر اسرار وتجسس کے نقطہ نظر سے لکھی گئی کہانیاں بچوں کو جرائم کی راہ پر لے جاتی ہیں لیکن دارالسلام کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اس کی شائع کردہ کتابوں میں بچوں کے لیے اسرار وتجسس بھی ہے اسلامی معلومات بھی ہوتی ہیں ، اصلاح وتربیت اور سچائی وصداقت کا بھی بھر پور اہتمام ہوتا ہے۔جیسا کہ پیش نظر کتاب ” پراسرار حویلی “ ہے۔ یہ کتاب ایک حویلی کے گرد گھومتی ہے جو کسی وقت میں آباد تھی۔ ایک باپ، دو بیٹوں اور دیگر اہل خانہ پر مشتمل ایک خاندان اس حویلی میں پیارو محبت کے ساتھ رہ رہا تھا لیکن پھر اس کے مکین ایک دوسرے کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنے لگے۔ یہی حسد گھر کی خواتین کو جادو ٹونہ کرنے والے آستانوں پر لے گیا۔ پھر ایک وقت آیا جب جادو کی نحوست سے یہ خاندان بکھر گیا ، حویلی اجڑ گئی اور نشان عبرت بن گئی۔ یہاں سے تہہ در تہہ خوفناک واقعات رونما ہونے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد کا ماحول ایسے جھوٹے عاملوں سے بھرا پڑا ہے جو شیطان کے ساتھی ہیں، شیطان کی مدد سے لوگوں کو جادو میں مبتلا کرتے ہیں۔ شیطان ایسے لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ صرف جاہل ہی نہیں، اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ان جعل ساز فقیروں ، نقلی پیروں اور کالے جادو کاعلم رکھنے والے عاملوں اور نجومیوں کے ہتھے چڑھ کر آخرت اور دنیا دونوں برباد کر لیتے ہیں۔ ان لوگوں کے شیطانی حربوں نے لوگوں کے دلوں کو نفرت سے بھر دیا ہے۔ گھروں سے اطمینان اور سکون رخصت ہو گئے ہیں۔ لڑائی جھگڑے اور بے رخی عام ہوگئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فساد کا کوئی علاج بھی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہر بیماری کا علاج ، ہر مسئلے کا حل ہمیں اللہ تعالیٰ نے ضرور عطا کیا ہے۔ جادو ٹونے کا حل بھی قرآن وسنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اگر ہم قرآن وسنت کی حفاظتی تدابیر پرعمل کریں تو نہ صرف جادو اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہم پر محافظ بھی مقرر کر دیے جاتے ہیں۔ پرابلم یہ ہے کہ ہم وہم کا علاج جادو کے ذریعے سے کر تے ہیں۔ جھوٹے عاملوں، جعلی پیروں اور نجومیوں کے آستانے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں نادان لوگ اپنے ہی رشتوں کو، اپنے ہی پیاروں کو جادو کی بھینٹ چڑھانے کے لیے چلے آتے ہیں۔ شیطان کے ساتھیوں نے دنیا میں دکھ پھیلا دیے ہیں ان دکھوں کا بس ایک ہی علاج ہے اللہ کی طرف اپنا رخ موڑا جائے۔ یہ کتاب ” پر اسرار حویلی “ ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ حسد و بغض واضح تباہی و بربادی کا راستہ ہے اور اس سے بچاوصرف قرآن کی طرف رجوع میں ہے۔ کتاب میں جادو کی مختلف اقسام ، جادو اور اس کے اثرات اور جادو سے بچاﺅ کی تدابیر بیان کی گئی ہیں۔ گویا یہ کتاب محض ایک کہانی ہی نہیں بلکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جادو ، ٹونے سے بچاﺅ کے لیے رہنما کتاب ہے۔ اس وقت جعلی عاملوں ، پیروں ، فقیروں نے جس طرح سے معاشرے میں پنجے گاڑ رکھے ہیں اور لوگوں کے ایمان ، مال اور عزتیں برباد کررہے ہیں ان حالات میں اس کتاب کا مطالعہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے بھی بے حد مفید ہوگا ان شاءاللہ۔ آرٹ پیپر 4کلر کے ساتھ طبع شدہ اس کتاب کی 670روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ سے حاصل کی جاسکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کےلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • تبصرہ کتب:ماہنامہ دعوت دین

    تبصرہ کتب:ماہنامہ دعوت دین

    ماہنامہ دعوت دین ( سیرت تاجدار ختم نبوت ایڈیشن )
    زیر تبصرہ جریدہ ’’ماہنامہ دعوت دین ‘‘ کا سیرت تاجدار ختم نبوت ﷺ پر خصوصی شمارہ ہے ۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے ’’ ماہنامہ دعوت دین ‘‘ فرقہ واریت سے پاک تبلیغی ، اصلاحی ، تربیتی اور دعوتی میگزین ہے ۔’’ ماہنامہ دعوت دین ‘‘ کی ادارتی ٹیم تجربہ کار ، نظریاتی اور فکری لکھاریوں پر مشتمل ہے جو فرد اور معاشرے کی اصلاح کو زندگی کا مشن سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ کی تربیت واصلاح کیلئے فی الوقت اس طرح کے جرائد کی اشد ضرورت ہے۔ ماہنامہ دعوت دین کے ایڈیٹر محمد سہیل ہاشمی ہیں وہ اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ’’ ماہنامہ دعوت دین معاشرہ کی اصلاح کیلئے مینارہ نور ثابت ہوگا ۔بات یہ ہے کہ فی الوقت ہمارا معاشرہ فکری انتشار کا شکار ہے ، نوجوان نسل کا رابطہ َ کتاب سے تقریباََ ختم ہوتا جار ہا ہے اور اس کی تمام تر توجہ کا مرکز سوشل میڈیا ہے ۔ ان حالات میں ایسی تربیتی اور اصلاحی کتب اور جرائد کی بے حد ضرورت ہے جو نوجوان نسل کو دین کے ساتھ جوڑیں ، انھیں مقصد ِ زندگی کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں ، معاشرہ اور فرد کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں ۔’’ مجلہ دعوت دین ‘‘ اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ یہ مجلہ ظاہری اعتبار سے جتنا خوبصورت ہے معنوی اور مضامین کے اعتبار سے اس بھی کہیں زیادہ خوبصورت ،جاذب نظر اور دلکش ہے ۔ آرٹ پیپر 4کلر ٹائٹل بہت ہی خوبصورت ہے جو فوراََ ہی قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتا ہے ۔ جبکہ ہر شمارے میں مضامین کا انتخاب اتنا عمدہ ہوتا ہے کہ قاری انھیں پڑھے بغیر خود کو تشنہ محسوس کرتا ہے ۔ سرورق کا اندرونی صفحہ معاشرتی مسائل ومعاملات کی اصلاح وتربیت کیلئے مختص ہے۔سیاست ، حالات حاضرہ ، دین ودنیا ، روزمرہ زندگی میں پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں ۔۔۔میگزین کے خصوصی موضوعات ہیں ۔

    میگزین کے چار صفحات قرآن مجیدکی تفسیر اوردو صفحات مستقل درس حدیث کیلئے مختص ہیں ۔دو صفحات روز مرہ زندگی میں پیش آمدہ مسائل اور استفسارت کیلئے مختص ہیں ۔ زیر تبصرہ میگزین درس قرآن اور درس حدیث کے علاوہ درج ذیل مضامین پر مشتمل ہے : دعوت دین اور سیرت خاتم النبین ﷺ ، تاجدار ختم نبوت ﷺ کی سیاست وسیرت ، ختم نبوت اور قادیانی ٹولے کے عزائم ، تحریک ختم نبوت اور ڈاکٹر بہائوالدین ، تحریک ختم نبوت میں علمائے اہلحدیث ملتان کا کردار ، غیر مسلموں کا قبول اسلام ڈرائونا خواب کیوں ۔۔۔؟ میگزین میں ’’ آئینہ مرزائیت ‘‘ کے نام سے ایک تاریخی اور معلوماتی انٹرویو بھی شامل ہے ۔یہ انٹرویو سابق سٹوڈنٹ لیڈر ڈاکٹر میاں احسان باری مرحوم کا ہے ۔ میاں احسان باری اپنے وقت کے دبنگ اور نہایت ہی بہادر طالب علم رہنما تھے ۔ ان کا تعلق ملتان سے تھا ۔ان کی ساری زندگی ختم نبوت کی چوکھٹ کی پاسداری کرتے گزری وہ پابند سلاسل بھی ہوئے لیکن کوئی سی بھی صعوبت ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکی ۔ جاوید ہاشمی اور شیخ رشید جیسے طالب علم رہنما میاں احسان باری کو سیاست میں اپنا استاد مانتے تھے۔23مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان سے سوات جانے والے طلبہ کے قافلے میں میاں احسان باری بھی طالب علم رہنما کے طور پر شامل تھے ۔ طلبہ کے اسی قافلے کو واپسی پر ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اور پھر اسی ظلم کے نتیجہ میں قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے ۔ یہ تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے تاکہ قارئین جان سکیں کہ ڈاکٹر میاں احسان باری تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے اور اس ضمن میں رونما ہونے والے تمام حالات وواقعات کے عینی شاہد تھے۔ ڈاکٹر احسان باری کا یہ انٹرویو حرف حرف انکشاف اور معلومات افزاء ہے جو عقیدہ ختم نبوت کی چوکھٹ کی چوکیداری کرنے والوں کیلئے خاص تحفہ ہے ۔یہ چونکہ دعوتی اور اصلاحی میگزین ہے اسلئے اس کی قیمت صرف 100روپے فی شمارہ رکھی گئی ہے تا کہ ہر آدمی باآسانی اس سے استفادہ کرسکے۔ جو احباب میگزین حاصل کرنا چاہئیں وہ درج ذیل فون نمبر0305-4033965اور 0310-2334595 پر رابطہ کرسکتے ہیں

  • ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب برسوں بعد دوبارہ منظرعام

    ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب برسوں بعد دوبارہ منظرعام

    ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب ”ابجد ہومیو پیتھی” برسوں بعد دوبارہ منظر عام پر آ گئی۔ بالمثل معالج پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کی طرف سے لکھی گئی مذکورہ کتاب کو اسی اور نوے کی دہائی میں خاص طور پر مقبولیت حاصل رہی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر اس کے ترمیم شدہ نسخہ جات ہومیو پیتھک سے کسی بھی حوالے سے وابستہ احباب کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ ابجد ہومیو پیتھی میں صرف علاج معالجہ ہی نہیں صحت قائم رکھنے کے اصول و ضوابط بھی درج ہیں۔ یہ کتاب اس لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد مرحوم کی جانب سے وہ راز بھی افشاء کیے گئے ہیں جو اطباء اپنے سینوں میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ ابجد ہومیو پیتھی نہ صرف مبتدی معالجین کے لیے بہترین گائیڈ ہے بلکہ ہر معالج کے لیے ایک بہترین معاون کا کام بھی دے سکتی ہے۔ اس میں فن ہومیو پیتھی کے حوالے سے مکمل معلومات اور کلینک پر پیش آنے والے واقعات کا مکمل نچوڑ بیان کیا گیا ہے۔ مذکورہ کتاب حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ نمبر 03153242517 اور 03334289005پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

  • اردو شاعری کی نفاست

    اردو شاعری کی نفاست

    اردو شاعری کی نفاست

    اردو شاعری کی ایک گہری اور پیچیدہ شکل ہے، جو اپنی خوبصورتی اور گہرائی کے لیے مشہور ہے۔ اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے لگن کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ یہ شاعری کی مختلف تکنیکوں کا استعمال کرتا ہے جیسے شاعری، اشارے، اور استعارہ کو ایک ایسی زبان بنانے کے لیے جو اظہار اور پُرجوش دونوں ہو۔ اکثر گہرے جذبات سے بھری ہوئی، شاعری متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ گونجتی ہے، اس کے موضوعات کو آفاقی اور لازوال بناتی ہے۔

    تفریحی یا فنکارانہ اظہار کا ذریعہ ہونے کے علاوہ، اردو شاعری کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت ہے۔ یہ مختلف ادوار کے لوگوں کے جذبات، خیالات اور تجربات کی عکاسی کرتا ہے، ان کی زندگیوں اور جذبات کی ایک جھلک فراہم کرتی ہے۔پاکستان و بھارت کی بھرپور ثقافتی میراث کے اٹوٹ حصہ کے طور پر، یہ دنیا بھر کے شاعروں اور شاعری سے محبت کرنے والوں کو متاثر کرتا رہتا ہے۔

    اردو، فارسی اور عربی اثرات سے مالا مال ہے، اس کا ایک منفرد تال میل ہے۔ اس کی فطری موسیقیت، جس میں حروف اور حرفوں کے باہمی تعامل سے اضافہ ہوتا ہے، ایک ایسا گیت کا معیار پیدا کرتا ہے جو قارئین اور سامعین کو یکساں مسحور کرتا ہے۔ یہاں تک کہ پیچیدہ آیات بھی شاعری اور میٹر کے ہم آہنگ امتزاج کی وجہ سے طاقتور جذبات کو جنم دے سکتی ہیں، جو شاعری کو قابل رسائی لیکن گہرا بناتی ہیں۔

    علامت نگاری اردو شاعری کا ایک اور اہم پہلو ہے جو ثقافتی، تاریخی اور ادبی حوالوں سے اخذ کیا جاتا ہے۔ معنی کی یہ پرتیں متعدد تشریحات پیش کرتی ہیں، شاعری میں گہرائی کا اضافہ کرتی ہیں اور قارئین کو متن کے ساتھ بار بار مشغول ہونے کی دعوت دیتی ہیں تاکہ اس کی مکمل اہمیت کو آشکار کیا جا سکے۔

    جنوبی ایشیا کی تاریخ اور ثقافت میں گہری جڑیں، اردو شاعری خطے کی اقدار، روایات اور عقائد کے بارے میں بصیرت پیش کرتی ہے۔ اس آرٹ فارم کی صحیح معنوں میں تعریف کرنے کے لیے، کسی کو اس کی لسانی وسعت میں گہرائی تک جانا چاہئے، اس کے ثقافتی تناظر کو سمجھنا چاہیے، اور موسیقی اور منظر کشی کو انھیں گہرے جذباتی اظہار کی دنیا میں لے جانے کی اجازت دینا چاہیے۔

  • تبصرہ کتب،اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    نام کتاب ۔۔۔۔اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات
    نام مولف۔۔۔۔عبدالمالک مجاہد
    ناشر۔۔۔۔۔۔۔دارالسلام انٹرنیشنل،انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    قیمت : 1500روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034

    سیر ت سرورعالم ایک سدا بہار موضوع ہے۔ ایسا موضوع جس کی خوشبو سے مسلمان کبھی سیرنہیں ہوتے۔ اللہ کے رسو ل ﷺ کی سیرت مطہرہ پر صدیوں سے لکھا جا رہا ہے اور قیامت تک لکھا جاتا رہے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اخلاق کے معانی بے حد وسیع ہیں۔ تمام اچھی صفات کے مجموعہ کا نام اخلاق ہے۔ دنیا کے انسانوں میں پائی جانے والی تمام اعلیٰ و ارفع صفات کو جمع کیا جائے اور پھر ان کا اللہ کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ یہ تمام صفات اللہ کے رسول ﷺ کی ذات بابرکات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔یاد رکھیے! کسی بھی قوم، امت ، گروہ یا شخصیت کے بارے میں جاننا ہو کہ اس کے اخلاق کیسے ہیں، تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا برتائو اپنے ساتھیوں کے ساتھ، رشتہ داروں، دوستوں، گھر والوں، ہمسایوں اور مخالفین کے ساتھ کیساہے۔ سب سے پہلے اس کے اخلاق کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے۔ جہاں تک اللہ کے رسول ﷺ کی تعلق ہے تو ان کی تربیت خود اللہ تعالی نے فرمائی تھی۔ آپ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایاکہ آپ ﷺ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے۔

    یہ بات معلوم ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کی زندگیوں کا ایک مشترک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ دنیا کے عام قائدین کی طرح نہ تھے کہ لوگوں کو تو وعظ و نصیحت کر دی مگر خود اس پر عمل نہ کیا۔ انبیائے کرام سب سے پہلے اپنے کہے ہوئے پر خود عمل کرتے تھے۔ یہ وہ نفوس قدسیہ تھے جو لوگوں کو جتنا بتاتے اس سے کہیں زیادہ خود اس پر عمل کرتے تھے۔ آپ ﷺ میں بھی یہ خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی کہ آپ نے اپنی امت کو جو تعلیم دی اس پر سب سے پہلے خود عمل کرکے دکھایا۔

    سیرت نبی ﷺ کی کتابیں شائع کرنے میں دارالسلام انٹرنیشنل ایک بڑانام ہے ۔اس موضوع پردارالسلام اب تک کئی شاہکارکتابیں شائع کرچکاہے ۔دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکہتے ہیں جب میں نے اخلاق نبوی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیرت پاک کا مطالعہ شروع کیا اورآپ ﷺ کے اخلاق کے حوالے سے واقعات کو جمع کرنا شروع کیا تو بہت سارے واقعات ملتے چلے گئے۔ تاہم میں نے متعدد بار ایسی کتاب کی تلاش کی جس میں اخلاق نبوی ﷺ کے جملہ واقعات کو ایک جگہ جمع کیا گیا ہو ، متعدد علمائے کرام سے بھی یہی سوال کیا مگر ہر بار مجھے یہی جواب ملا کہ اخلاق کے حوالے سے واقعات تو ضرور ملتے ہیں لیکن یہ واقعات ایک ہی جگہ اکٹھے نہیں ملتے، چنانچہ اللہ کی توفیق سے میں نے نیت کی کہ اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات کو خود ہی ایک جگہ جمع کروں اور پھر ان واقعات کو سادہ انداز میں لکھ کر عامۃ الناس کے سامنے رکھوں اور ان سے کہوں:
    دیکھیں !یہ تھے ہمارے پیارے رسول ﷺ ۔

    زیرنظر کتاب میں اخلاق نبوی ﷺ کے ایک سو سنہرے واقعات کو جمع کیا گیا ہے۔ کتاب میں کوئی من گھڑت، موضوع، ضعیف واقعہ شامل نہیں بلکہ صرف انھی واقعات کو شامل کیاگیا ہے جو صحیح ہیں اور ان کا تذکرہ مستند کتابوں میں ہے۔ اس کتاب میں جو لکھاگیا اس کی علماء نے بھی خوب تحقیق و تخریج کی ہے ۔ زبان و بیان کی بہتری،عبارات کی تصحیح اور کتاب کی نوک پلک سنوارنے کے سلسلے میں پاکستان کے معروف محقق محسن فارانی نے اس پر کام کیا ہے ۔پاکستان کے ممتاز عالم دین پروفیسر مزمل احسن شیخ نے بھی پوری کتاب کو شروع سے آخر تک پڑھا اور بعض گراں قدر مشوروں سے نوازا،جس کتاب کاتحقیقی معیارمزیدخوبصورت ہوگیاہے۔زیرنظر کتاب کے اردوایڈیشن کی بے پناہ مقبولیت کے بعدعبدالمالک مجاہد اس بات کاعزم رکھتے ہیں کہ اس کتاب کو دنیا کی کم از کم دس زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کیا جائے گا تاکہ دیگر اقوام بھی اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق کے حوالے سے آگاہ ہوسکیں۔ اس طرح اس کتاب کو پڑھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہوں گے اور اسلام کے بارے میں ان کی غلط فہمیاں دور ہوں گی۔ دارالسلام نے طباعت کی عمدہ روایت کوبرقراررکھتے ہوئے کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں ،نہایت ہی عمدہ طباعت دیدہ زیب سرورق اورعنوانات کی ترتیب ایسی خوبصورت ہے کہ دل بے اختیارکتاب کی طرف کھینچاچلاجاتاہے ۔ضروری ہے کہ ایسی عمدہ کتاب ہرگھر ،ہرلائبریری کی زینت بنے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس سے استفادہ کرسکیں ۔

    تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • تبصرہ کتب، تجلیات نبوت

    تبصرہ کتب، تجلیات نبوت

    نام کتاب : تجلیات نبوت
    مصنف مولانا صفی الرحمن مبارک پوری
    صفحات : 340
    قیمت : بڑا سائز 1600، چھوٹا سائز 1350روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034

    پیش نظر کتاب ’’ تجلیات نبوت ‘‘ دارالسلام کی خوبصورت ترین کتابوں سے ایک ہے ۔ اس کتاب کے تعارف میں اتنا ہی لکھ دینا کافی ہے کہ اس کے مصنف ممتاز محقق ، عالم اسلام کے معروف عالم دین اور سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری ہیں جو کہ ’’ الرحیق المختوم ‘‘ جیسی کتاب کے بھی مصنف ہیں ۔سیرتِ طیبہ کا موضوع اتنا متنوع ہے کہ ہر وہ مسلمان جو قلم اٹھانے کی سکت رکھتا ہو، اس موضوع پر حسبِ استطاعت لکھنا اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ اسی طرح ہر ناشر سیرتِ رسولﷺ پر کتب شائع کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے اور اسے خوب سے خوب تر شائع کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔دارالسلام اب تک عربی ،انگریزی اور دیگر بہت سے زبانوں میں88سے زائد کتب ِ سیرتِ رسولﷺ شائع کر چکا ہے، تاہم نوجوان نسل کو تفاصیل میں لے جائے بغیر سیرتِ طیبہ سے آگاہ کرنے کی اشد ضرورت محسوس کرتے ہوئے عصرِ حاضر کے عظیم سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ سے درخواست کی گئی کہ عربی زبان میں نوجوانوں اور بطورِ خاص میٹرک تک کے طلبہ کے لیے ایک مختصر مگر جامع کتاب لکھیں جو عام فہم اور صحیح واقعات پر مبنی ہو اور اس کا انداز اتنا دلکش ہو کہ نوجوانوں کے دلوں میں رسول اللہﷺ کی محبت اور سیرت نقش ہو جائے۔ انھوں نے اس التماس کو شرفِ قبولیت بخشا اور تھوڑے ہی عرصہ بعد ’’روضۃ الأنوار في سیرۃ النبي المختار‘‘ کے نام سے کتاب کا مسودہ تیار کر دیا۔کتاب شائع ہوئی تو سعودی عرب کے تعلیمی اداروں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بہت سے افراداوراداروں نے اسے مفت تقسیم کیا، کچھ اسکولوں نے اسے اپنے نصاب میں داخل کر لیا۔زیرنظرکتاب’’ تجلیات نبوت‘‘اسی کااردوترجمہ ہے۔فاضل مصنف نے کمال ہنرمندی سے ’’تجلیاتِ نبوت‘‘ میںسیرت کے تمام تر وقائع کو ایک ایسی نئی ترتیب اور تازہ اسلوب کے ساتھ پیش کیا ہے کہ اس کے مطالعے سے دل و دماغ پر ایک پاکیزہ نقش قائم ہوتا ہے۔زیر تبصرہ ایڈیشن سکولوں ، کالجوں اور دینی مدارس کے طلبہ وطالبات کی سہولت اور ذہنی استعداد کو مد نظر رکھ کر تیار گیا ہے ۔ ہر عنوان کے آخر میں مختصر سوالات ، معروضی سوالات دیے گئے ہیں مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والا کماحقہ اس کتاب سے مستفید ہوسکے اور ہر عنوان اسے کے ذہن نشین ہوجائے ۔ امید ہے کہ یہ کاوش قارئین کو پسند آئے گی ۔ ان شاء اللہ

    تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • ماتا ہری،  جاسوس اور ڈانسر

    ماتا ہری، جاسوس اور ڈانسر

    ماتا ہری، جاسوس اور ڈانسر

    17 اگست یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بین الاقوامی شہرت یافتہ جاسوس اور خوب صورت و ماہر رقاصہ (ڈانسر) مارگریٹ ذیلی المعروف ماتا ہری 17 اگست 1876 میں نیدر لینڈ ہالینڈ میں ہیدا ہوئی۔ وہ بہت خوب صورت ، بہادر اور سیر و سیاحت کی شوقین تھی ۔ اپنے شوق کی بدولت وہ جلد ایک ماہر ڈانسر بن گئی جس کی وجہ سے اس کی شہرت ،دولت اور تعلقات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک کی سیر و سیاحت کرتے ہوئے فرانس پہنچ گئی اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی ۔ ماتا ہری کی بھرپور جسمانی کشش اور سحر انگیز رقص کی وجہ سے بڑے بڑے فوجی جرنیل ، وزرا اور ارکان پارلیمان اس کے چاہنے والے افراد کی فہرست میں شامل رہے اور یہیں سے خفیہ اداروں کے عہدے داران نے اس کو اپنے ملک کیلئے دشمن ممالک میں جاسوسی کرنے پر آمادہ کر لیا۔ ماتا ہری نے فرانس کے شہر پیرس میں رہائش اختیار کی ۔ اس دوران پہلی جنگ عظیم میں فرانس کیلئے جرمنی کی جاسوسی کرنے لگی جبکہ کچھ عرصے بعد وہ جرمنی کیلئے فرانس کی جاسوسی بھی کرنے لگ گئی ۔ اس طرح وہ دونوں ملکوں کے لیے جاسوسی کرنے لگی آخر ایک روز فرانس کی خفیہ ایجنسیوں ایک سینیئر آفیسرز نے ماتا ہری کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ۔

    یہ پہلی عورت تھی جس نے فلمی کہانیوں کی بجائے حقیقی دنیا میں ” ڈبل ایجنٹ ” کا کردار ادا کیا۔ 15 اکتوبر 1917 میں پیرس میں جاسوسی کا جرم ثابت ہونے پر ماتا ہری کو اسکواڈ کے سامنے گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ماتا ہری نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے نہیں دی بلکہ مسکراتے ہوئے اپنی جان دے دی ۔ اس کی لاش کو لاوارث قرار دے کر اس کا جسد خاکی ہسپتال میں میڈیکل کالج کے طلبہ کے تجربات کیلئے استعمال کیا گیا اس کی گردن کو فرانس کے میوزیم میں رکھا گیا لیکن بعد میں وہ گردن چوری ہو گئی۔ ماتا ہری کی زندگی پر 250 کے لگ بھگ ناول اور سوانح حیات لکھی گئی ہیں اس کے علاوہ اس موضوع پر دنیا کے متعدد ممالک میں فلمیں اور اسٹیج ڈرامے بھی بنائے گئے ہیں ۔

  • مظہر عباس،  صحافی و کالم نگار

    مظہر عباس، صحافی و کالم نگار

    6 جولائی 1958: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی ، کالم نویس ، تجزیہ و تبصرہ نگار فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سابق جنرل سیکریٹیری اور کراچی پریس کلب کے سابق سیکریٹری مظہر عباس 6 جولائی 1958 میں حیدر آباد سندھ میں پیدا ہوئے انہوں نے حیدر آباد اور کراچی تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا جس کی ابتدا انہوں نے روزنامہ نوائے وقت سے کی اس کے بعد کراچی کے ایک مشہور ایوننگ اخبار دی اسٹار میں کام شروع کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے 1982 میں باضابطہ طور پر صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا وہ 6 سال کراچی میں A F P کے بیورو چیف 2 سال ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر افیئرز رہے ۔ مظہر عباس کافی عرصہ ڈان گروپ میں کالم اورآرٹیکل لکھتے رہے انہوں نے دی نیوز ، ایکسپریس اردو، ایکسپریس ٹریبون، ہم ٹی وی، پی ٹی وی ،دی فرائیڈے ٹائمز ، ہارلڈ نیوز لائن ، خلیج ٹائمز اور انڈیا کے آئوٹ لک میں بھی کام کیا۔ وہ 2013 سے جنگ اور جیو سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ وہ مختلف نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں تبصرے اور تجزیئے پیش کرتے رہتے ہیں ۔

    2002 میں انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے سائوتھ ایشیا کے بیورو چیف امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اور قتل کی خبر سے دنیا کو آگاہ کیا۔ وہ پی ٹی وی سے بھی وابستہ رہے ۔ مظہر عباس کو 2007 میں بہترین صحافت کی خدمات کے عوض انٹر نیشنل پریس فار فریڈم کے انعام سےنوازا گیا یہ ایوارڈ بین الاقوامی سطح کے 5 صحافیوں کو دیا گیا جن میں مظہر عباس بھی شامل ہیں یہ انعام ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی صحافت کو برقرار رکھنے کیلئے حملوں ،اغوا،دھمکیوں اور قید و بند کا سامنا کیا ۔2009 میں انہیں Missouri, Medal of Honer کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    اپنی 40 سالہ صحافت میں انہوں نے 5000 سے زائد کالم اور مضامین وغیرہ لکھے ہیں جبکہ 400 سے زائد ٹی وی شوز کا حصہ بنے۔ مظہر عباس کے 3 بھائی ہیں، ظفر عباس ڈان کے مدیر ہیں اطہر عباس سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور اظہر عباس جیو نیوز سے وابستہ ہیں ۔ مظہر عباس کی اہلیہ محترمہ ارم عباس کا 24 دسمبر 2020 میں کراچی میں انتقال ہوا ۔اولاد میں ان کی 2 بیٹیاں ہیں ۔ مظہر عباس اس وقت کراچی میں مقیم ہیں ۔