Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے

    سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے

    سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے
    اس کی جانب جانے کا پھر کوئی نہ رستہ یاد رہا

    ڈاکٹر نزہت عباسی (شاعرہ بنت شاعر)

    27 جون 1971: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کی نامور ادیبہ اورشاعرہ ڈاکٹر نزہت عباسی صاحبہ 27 جون 1971 میں کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا اصل نام نزہت سلطانہ ہے ۔ محمد حسین عباسی صاحب (ظفر انجمی) ان کے والد اور وقار النساءصاحبہ ان کی والدہ محترمہ ہیں۔ وہ پانچ بہن بھائی ہیں۔ اردو ان کی مادری زبان ہے ۔ 1994 میں ڈاکٹر نزہت صاحبہ کی ظفر اقبال عباسی صاحب سے شادی ہوئی ماشاء اللہ ان کے دو بچے فاکہہ عباسی اور اعتزاز عباسی ہیں ۔

    نزہت عباسی شاعرہ محقق اور نقاد ہیں۔ ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے والد محمد حسین عباسی ظفر انجمی صاحبِ دیوان شاعر تھے، ڈاکٹر نزہت عباسی زمانہ طالب علمی سے ہی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال رہیں، ابتدا بچوں کے لیے نظمیں اور کہانیاں لکھنے سے ہوئی، اسی دور میں مشاعروں میں شرکت کی، کالج اور یونیورسٹی کے مجلوں کی ادارت کی، بزم ادب کی صدر رہیں، اردو ادبیات میں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اسی سال تدریس کا آغاز کیا۔
    2005 میں پہلا شعری مجموعہ ’سکوت‘ کے نام سے شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ 2015 میں ’وقت کی دستک‘ کے نام سےمنظرِعام پر آچکا ہے۔ 2011 میں جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی، ان کا تحقیقی مقالہ ’اردو کے افسانوی ادب میں نسائی لب و لہجہ‘ انجمن ترقی اردو نے 2013 میں شائع کیا۔ تحقیقی و تنقیدی مقالات کا مجموعہ ’نسخہ ہائے فکر‘ 2019 میں شائع ہوا۔
    ایک مقامی کالج میں شعبہ اردو کی صدر ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے اردو افسانے پر 100 سے زیادہ پروگرام کیے ہیں، مشاعروں اور ادبی تقاریب کی نظامت کے لیے بھی مشہور ہیں، کئی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں، ادبی تنظیم دبستانِ غزل کی صدر ہیں جس کے تحت ہر مہینے نشست ہوتی ہے۔

    تصانیف
    ڈاکٹر صاحبہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی ترتیب درج ذیل ہے۔
    1. اردو کے ادب میں نسائی لب و لہجہ
    2 دستک
    3 سکوت
    4. نسخہ ہائے فکر

    نزہت عباسی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    موج دریا کے لبوں پر تشنگی ہے کربلا
    ریگ ساحل پر تڑپتی زندگی ہے کربلا

    صبر کی اور ضبط کی یہ منزلیں ہیں آخری
    عزم اہل بیت کا کیا دیکھتی ہے کربلا

    حق کبھی جھکتا نہیں ہے سر بھی کٹ جائے اگر
    ذہن و دل کے واسطے اک آگہی ہے کربلا

    کیوں سکینہ اور زینب اس قدر خاموش ہیں
    دور تک صحرا میں دیکھو خامشی ہے کربلا

    مٹ گیا ہے فرق سب فردا میں اور دیروز میں
    مات دے کر رخش دوراں کو چلی ہے کربلا

    تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں
    ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا

    اے غم شام غریباں اے شب تار الم
    اہل دل کو روز و شب تڑپا رہی ہے کربلا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت میں کمی سی رہ گئی ہے
    کہ بس اک بے بسی سی رہ گئی ہے

    نہ جانے کیوں ہمارے درمیاں اب
    فقط اک برہمی سی رہ گئی ہے

    عجب یہ سانحہ گزرا ہے ہم پر
    ترے غم کی خوشی سی رہ گئی ہے

    سمندر کتنے آنکھوں میں اتارے
    تو پھر کیوں تشنگی سی رہ گئی ہے

    نہیں چڑھتا ہے اب یادوں کا دریا
    مگر اک بیکلی سی رہ گئی ہے

    خلش دل میں کوئی باقی ہے اب تک
    کہ آنکھوں میں نمی سی رہ گئی ہے

    وہی اک بات جو کہنی تھی تم سے
    وہی تو ان کہی سی رہ گئی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود کو اس طرح آج شاد کریں
    تم کو بھولیں تمہیں کو یاد کریں

    تم سے ملنا نہیں قیامت تک
    فیصلہ یہ بھی آج صاد کریں

    رنگ کتنے ہیں تیرے چہرے کے
    کس حوالے سے تجھ کو یاد کریں

    کر کے احسان ہم پہ ناحق ہی
    ہم سے وابستہ وہ مفاد کریں

    آگ گھر کی انہیں بھی یاد رہے
    شہر میں جو کبھی فساد کریں

    آج خود سے ذرا سی دیر ملیں
    آج پوری چلو مراد کریں

    یاد میں ایک مرنے والے کی
    آج محفل کا انعقاد کریں

  • بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالد شریف

    ممتاز شاعر،ادیب ،ایڈیٹر ، پبلشر، ماورا پریس کلب اور ماورا بک ڈپو کے مالک

    18 جون 1947: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ممتاز پاکستانی شاعر خالد شریف 18 جون 1947ء میں انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں آگئے۔ اسی شہر سے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد انہوں نے انکم ٹیکس کا محکمہ جوائن کر لیا اور مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دیں لیکن کتاب سے رغبت نے ان کو پبلشنگ کی طرف مائل کیا اور 1970ء میں انہوں نے اشاعتی کاروبار کا آغاز کیا۔ خالد شریف نے 1964ء میں شعر کہنا شروع کئے۔اس وقت یہ کالج کے طالب علم تھے اور کالجوں کے بین الکلیاتی مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔
    خالد شریف کی پہلی کتاب 1990ء میں ’’نارسائی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس کے درجن سے زائد ایڈیشن آچکے ہیں۔ اس کے بعد ’’بچھڑنے سے ذرا پہلے‘‘ شائع ہوئی اور پھر’’وفاکیا ہے‘‘ اور ’’گزشتہ‘‘ شائع ہوئیں۔ ’’رت ہی بدل گئی‘‘ 2003ء میں مارکیٹ میں آئی۔ دیگر کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔

    چند منتخب اشعار

    کاش ایسا ہو کہ اب کے بےوفائی میں کروں
    تو پھرے قریہ بہ قریہ کو بہ کو میرے لئے
    میں تو لامحدود ہوجاؤں سمندر کی طرح
    تو بہے دریا بہ دریا جو بہ جو میرے لئے

    آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے
    کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

    آج کچھ رنگ دگر ہے مرے گھر کا خالدؔ
    سوچتا ہوں یہ تری یاد ہے یا خود تو ہے

    آج سے اک دوسرے کو قتل کرنا ہے ہمیں
    تو مرا پیکر نہیں ہے میں ترا سایہ نہیں

    آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ
    چاند کمرے میں مرے اترا ہے

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
    وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
    ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا
    دنیا میں اب دکھوں کے سوا کچھ نہیں رہا

    وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے
    اے غم گسار دست دعا کو سمیٹ لے

    زخم رسنے لگا ہے پھر شاید
    یاد اس نے کیا ہے پھر شاید

    اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا
    ایک کرسی ہے جو دالان میں رکھی ہوئی ہے

  • مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا
    مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    بشری اعجاز

    18 جون 1959: یوم پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس اور کالم نگار بشری اعجاز صاحبہ 18 جون 1959 سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں کوٹ فضل احمد میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک روایتی زمیندار گھرانے سے ہے ان کے والد صاحب کا نام میاں نوازش علی رانجھا اور خاوند محترم کا نام اعجاز احمد ہے ۔ اولاد میں انہیں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں اور ماشاء اللہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے ان کا بیٹا اپنی والدہ محترمہ کی تقلید کرتے ہوئے شاعری میں طبع آزمائی کر رہے ہیں ۔ بشری صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے اور وہ اردو اور پنجابی زبان میں شاعری کرتی ہیں ان کا شمار پاکستان کی مقبول و معروف شاعرات اور لکھاریوں میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے شادی کے بعد شعر و شاعری اور لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا 1989 میں کی۔ ان کی اب تک نصف درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1 بارہ آنے کی عورت 2 پباں بھار 3 آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں 4 بھلیکھا اور دو سفرنامے ہیں ایک حج پر اور دوسرا بھارت کے سفر پر لکھا گیا ہے۔ بشری صاحبہ آجکل روزنامہ نئی بات میں ” تیسرا کنارہ” کے مستقل عنوان سے کالم لکھ رہی ہیں اور وہ لاہور کینٹ میں رہائش پذیر ہیں ۔ ان کی ایک غزل قارئین کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    منظروں کے درمیاں منظر بنانا چاہئے
    رہ نورد شوق کو رستہ دکھانا چاہئے

    اپنے سارے راستے اندر کی جانب موڑ کر
    منزلوں کا اک نشاں باہر بنانا چاہئے

    سوچنا یہ ہے کہ اس کی جستجو ہونے تلک
    ساتھ اپنے خود رہیں ہم یا زمانا چاہئے

    تیری میری داستاں اتنی ضروری تو نہیں
    دنیا کو کہنے کی خاطر بس فسانا چاہئے

    پھول کی پتی پہ لکھوں نظم جیسی اک دعا
    ہاتھ اٹھانے کے لیے مجھ کو بہانا چاہئے

    وصل کی کوئی نشانی ہجر کے باہم رہے
    اب کے سادہ ہاتھ پر مہندی لگانا چاہئے

    پھول خوشبو رنگ جگنو روشنی کے واسطے
    گھر کی دیواروں میں اک روزن بنانا چاہئے

    شام کو واپس پلٹتے طائروں کو دیکھ کر
    سوچتی ہوں لوٹ کر اب گھر بھی جانا چاہئے

    بشریٰ اعجاز

  • یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
    لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    عباس تابش

    تاریخ پیدائش:15 جون 1961ء

    اردو کے مشہور شاعر عباس تابش 15جون 1961ء کو میلسی ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1977ء میں میلسی سے میٹرک کیا اور مختلف مقامی اخبارات کے لیے کام کرنے لگے۔ 1981ء میں پرائیویٹ طور پر ایف اے کیا اور لاہور آ کر روزنامہ جنگ میں ملازمت اختیار کر لی۔ انھوں نے دوران ملازمت 1984ء میں بی اے کیا۔ 1986ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کرنے کے بعد بطور لیکچرار ملازمت کا آغاز کیا۔ آپ مختلف کالجز میں فرائض انجام دیتے رہے اور آج کل گورنمنٹ کالج گلبرگ لاہور کے شعبہ اردو کے سربراہ ہیں۔ آپ دوران تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور میں رسالہ ’’راوی‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ آپ دوبئی‘ ناروے‘ آسٹریلیا، مسقط، شارجہ، برطانیہ، ہندستان، امریکا کے متعدد مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں۔ اردو میں ماسٹر کر رکھا ہے۔ اب تک پانچ شعری تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں اور ایک شعری انتخاب آ چکا ہے۔ تصانیف میں1۔ تمہید 2۔ آسمان 3۔ مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا 4۔ پروں میں شام ڈھلتی ہے 5۔ عشق آباد (کلیات) 6۔ جب تیرا ذکر غزل میں آئے (انتخاب) شامل ہیں۔ اب تک مختلف ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ عباس تابش آج کی غزل کے نمائندہ شعرا ء میں سے ہیں۔ عباس تابش کی شاعری کا انتخاب ’’سلسلہ دلداری کا‘‘شکیل جاذب نے کیا ہے۔ دیباچہ معروف نقاد اور ڈراما نگار اصغر ندیم سید نے لکھا ہے۔ کتاب میں شامل شاعری عباس تابش کی کتابوں تمہید، آسمان، مجھے دعائوں میں یاد رکھنا، پروں میں شام ڈھلتی ہے اور رقص درویش‘‘ سے لی گئی ہے۔

    جناب احمد ندیم قاسمی صاحب عباس تابش کے بارے میں لکھتے ہیں۔
    ’’عباس تابش کے نزدیک شعر ایک ذاتی واردات کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ اسے کوئی نظریہ یا کوئی فلسفہ نہیں سمجھتا‘ اگر اس کے اشعار پڑھتے ہوئے آپ پر بھی وہی کیفیات وارد ہوتی چلی جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ دوسری صورت میں عباس تابش آپ کو مجبور تامل نہیں کرے گا کہ یہ اس کا مسلک نہیں۔ وہ تو اپنی بات اپنے انداز میں کرتا چلا جاتا ہے۔ کوئی اس کے تجربے کا حصہ دار ٹھہرتا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی اس کے تجربے کا حصہ دار نہیں بن پاتا تو بھی ٹھیک ہے کہ عباس تابش اپنی طبیعت میں نیاز رکھتے ہوئے بھی ذرا ہٹ دھرم واقع ہوا ہے۔‘‘
    ان کا ایک شعر عوام الناس میں بہت مشہور ہوا۔
    ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ
    میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

    معروف کالم نگار فرخ شہباز وڑائچ لکھتے ہیں کہ عباس تابش کی ہر غزل میں زندہ شعر ملتا ہے،بلاشبہ عباس تابش موجودہ غزل کا نمائندہ شاعر ہے۔ عباس تابش کا ماں جیسی عظیم ہستی پر لکھا گیا ایک شعر کئی شعرا کی کلیات پر بھاری ہے۔ عباس تابش میرے دکھ درد کے ساتھی ہیں اور مجھے ان کی شاگردی پر فخر ہے۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
    لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ
    میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

    ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
    جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    تیری روح میں سناٹا ہے اور مری آواز میں چپ
    تو اپنے انداز میں چپ ہے میں اپنے انداز میں چپ

    فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا
    جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

    ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار
    اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

    آنکھوں تک آ سکی نہ کبھی آنسوؤں کی لہر
    یہ قافلہ بھی نقل مکانی میں کھو گیا

    گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
    ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا
    تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے

    اگر یونہی مجھے رکھا گیا اکیلے میں
    بر آمد اور کوئی اس مکان سے ہوگا

    بس ایک موڑ مری زندگی میں آیا تھا
    پھر اس کے بعد الجھتی گئی کہانی میری

    میں اپنے آپ میں گہرا اتر گیا شاید
    مرے سفر سے الگ ہو گئی روانی مری

    اک محبت ہی پہ موقوف نہیں ہے تابشؔ
    کچھ بڑے فیصلے ہو جاتے ہیں نادانی میں

    جھونکے کے ساتھ چھت گئی دستک کے ساتھ در گیا
    تازہ ہوا کے شوق میں میرا تو سارا گھر گیا

    عشق کر کے بھی کھل نہیں پایا
    تیرا میرا معاملہ کیا ہے

    مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت
    آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے

    تری محبت میں گمرہی کا عجب نشہ تھا
    کہ تجھ تک آتے ہوئے خدا تک پہنچ گئے ہیں

    محبت ایک دم دکھ کا مداوا کر نہیں دیتی
    یہ تتلی بیٹھتی ہے زخم پر آہستہ آہستہ

    ورنہ کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو
    یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا میں

    مدت کے باد خواب میں آیا تھا میرا باپ
    اور اوس نے مجھ حب الوطنی اتنا کہا خوش رہا کرو

    ابھی تو گھر میں نہ بیٹھیں کہو بزرگوں سے
    ابھی تو شہر کے بچے سلام کرتے ہیں

    تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے
    بار بار ایک ہی چہرہ نہیں دیکھا جاتا

    بولتا ہوں تو مرے ہونٹ جھلس جاتے ہیں
    اس کو یہ بات بتانے میں بڑی دیر لگی

    نہ خواب ہی سے جگایا نہ انتظار کیا
    ہم اس دفعہ بھی چلے آئے چوم کر اس کو

    میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو
    سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

    رات کمرے میں نہ تھا میرے علاوہ کوئی
    میں نے اس خوف سے خنجر نہ سرہانے رکھا

    ہم جڑے رہتے تھے آباد مکانوں کی طرح
    اب یہ باتیں ہمیں لگتی ہیں فسانوں کی طرح

    بیٹھے رہنے سے تو لو دیتے نہیں یہ جسم و جاں
    جگنوؤں کی چال چلیے روشنی بن جائیے

    پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا
    خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے

    جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہے
    خوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا

    پہلے تو ہم چھان آئے خاک سارے شہر کی
    تب کہیں جا کر کھلا اس کا مکاں ہے سامنے

    وقت لفظوں سے بنائی ہوئی چادر جیسا
    اوڑھ لیتا ہوں تو سب خواب ہنر لگتا ہے

    پس غبار بھی اڑتا غبار اپنا تھا
    ترے بہانے ہمیں انتظار اپنا تھا

    التجائیں کر کے مانگی تھی محبت کی کسک
    بے دلی نے یوں غم نایاب واپس کر دیا

    ان آنکھوں میں کودنے والو تم کو اتنا دھیان رہے
    وہ جھیلیں پایاب ہیں لیکن ان کی تہہ پتھریلی ہے

    رات کو جب یاد آئے تیری خوشبوئے قبا
    تیرے قصے چھیڑتے ہیں رات کی رانی سے ہم

    میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر
    سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے

    ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے
    کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے

    میں ہوں اس شہر میں تاخیر سے آیا ہوا شخص
    مجھ کو اک اور زمانے میں بڑی دیر لگی

    یہ زندگی کچھ بھی ہو مگر اپنے لئے تو
    کچھ بھی نہیں بچوں کی شرارت کے علاوہ

    ملتی نہیں ہے ناؤ تو درویش کی طرح
    خود میں اتر کے پار اتر جانا چاہئے

    یہ موج موج بنی کس کی شکل سی تابشؔ
    یہ کون ڈوب کے بھی لہر لہر پھیل گیا

    ہمیں تو اس لیے جائے نماز چاہئے ہے
    کہ ہم وجود سے باہر قیام کرتے ہیں

    طلسم خواب سے میرا بدن پتھر نہیں ہوتا
    مری جب آنکھ کھلتی ہے میں بستر پر نہیں ہوتا

    دے اسے بھی فروغ حسن کی بھیک
    دل بھی لگ کر قطار میں آیا

    یہ زمیں تو ہے کسی کاغذی کشتی جیسی
    بیٹھ جاتا ہوں اگر بار نہ سمجھا جائے

    مکیں جب نیند کے سائے میں سستانے لگیں تابشؔ
    سفر کرتے ہیں بستی کے مکاں آہستہ آہستہ

    کچھ تو اپنی گردنیں کج ہیں ہوا کے زور سے
    اور کچھ اپنی طبیعت میں اثر مٹی کا ہے

    موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا
    تم آئے اور بور نہ آیا درخت پر

    یہ تو اب عشق میں جی لگنے لگا ہے کچھ کچھ
    اس طرف پہلے پہل گھیر کے لایا گیا میں

    اس کا مطلب ہے یہاں اب کوئی آئے گا ضرور
    دم نکلنا چاہتا ہے خیر مقدم کے لیے

    نہال درد یہ دن تجھ پہ کیوں اترتا نہیں
    یہ نیل کنٹھ کہیں تجھ سے بد گماں ہی نہ ہو

    شب کی شب کوئی نہ شرمندۂ رخصت ٹھہرے
    جانے والوں کے لیے شمعیں بجھا دی جائیں

    میرا رنج مستقل بھی جیسے کم سا ہو گیا
    میں کسی کو یاد کر کے تازہ دم سا ہو گیا

    سن رہا ہوں ابھی تک میں اپنی ہی آواز کی بازگشت
    یعنی اس دشت میں زور سے بولنا بھی اکارت گیا

    خوب اتنا تھا کہ دیوار پکڑ کر نکلا
    اس سے ملنے کے لیے صورت سایہ گیا میں

  • تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    نام کتاب : اسلامی قانون وراثت
    تالیف: مولاناابونعمان بشیر احمد
    صفحات : 104
    قیمت :300روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034ن
    علم میراث کا شمار علم فرائض میں ہوتا ہے ۔جبکہ ہمارے ہاں اس اہم ترین علم ۔۔۔۔۔یعنی علم میراث کو بالکل ہی نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ اکثر علمائے کرام بھی اس سے بے بہرہ ہیں ، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے علم میراث کے متعلق بہت تاکید فرمائی ہے ۔ فرمان نبوی کا ترجمہ ہے ” علم وراثت سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاﺅ کیونکہ جلد ہی میری موت واقع ہوجائے گی ، علم فرائض بھی اٹھالیاجائے گا ، فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آدمی کسی مقررہ حصے میں اختلاف کریں گے اور کوئی آدمی ایسا نہیں پائیں گے جو ان میں فیصلہ کرسکے ۔“ اس حدیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ علم میراث کو سیکھنا اور سمجھنا کس قدر ضروری ہے ۔ موت اور میراث کاچولی دامن کا ساتھ ہے ۔ موت اٹل ہے تو میراث کے مسائل ومعاملات بھی ناگزیر ہیں ۔ یہ مسائل ومعاملات کس طرح حل کئے جائیں ۔۔۔۔؟ اس سے بیشتر لوگ آگاہ نہیں ہیں حالانکہ اسلام میں میراث کے تمام مسائل کے انتہائی اطمینان بخش جوابات موجود ہیں ۔عام لوگوں کی تو بات ہی کیا ۔۔۔۔؟ اکثر علمائے کرام بھی میراث کے مسائل سے آشنا نہیں ہیں ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر دارالسلام نے ” اسلام کا قانون وراثت “ کے نام سے یہ کتاب شائع کی ہے ۔ کتاب کے مﺅلف مولانا ابونعمان بشیر احمد ہیں جبکہ شیخ الحدیث ، محدث دوراں حافظ عبدالستار الحماد نے نہ صرف موضوع کے حوالے سے گرانقدر تحقیقی مواد فراہم کیا ہے بلکہ اس کتاب کے مسودے پر نظر ثانی کی ذمہ داری بھی احسن طور پر ادا کی ہے اس طرح سے اس کتاب کی علمی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔ یہ کتاب سادہ اور عام فہم اسلوب میں لکھی گئی ہے تاکہ علما ، اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبہ اور عام لوگ بھی اس سے مستفید ہوسکیں ۔عام طور پر اسلام کے قانون وراثت کو ایک مشکل اور پیچیدہ علم سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کتاب میں جو عام فہم اور سادہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس سے یہ بات آشکاراہوتی ہے کہ میراث کا علم ہرگز مشکل نہیں ۔ کتاب میں سوال وجواب کا انداز اختیار کیا گیا اس سے یہ کتاب مزید مفید طلب اور عام فہم ہوگئی ہے ۔ کتاب میں جہاں اسلام کے احکام میراث پر بات کی گئی ہے وہاں حقیقت بھی واضح کی گئی کہ اسلامی احکام میراث عدل وانصاف پر مبنی ہیں جو کہ تنازعات کے امکانات ختم کردیتے ہیں اور پرامن فلاحی معاشرے کی بنادیں مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔

    زیر تبصرہ کتاب ” اسلامی قانون وراثت “ کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی کہ اسلام تنازعاتِ ملکیت کو خوش اسلوبی سے اور انتہائی بروقت طے کرنے کی تعلیم وتربیت دیتا ہے ۔ کتاب میں درج ذیل موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے : علم میراث کی تعریف ، علم میراث کا موضوع اور غرض وغایت ، میت کا ترکہ ورثا میں کب تقسیم کیا جائے ؟وہ اسباب جن کی وجہ سے وارث وراثت سے محروم کردیا جاتا ہے ؟ مال میراث میں مقررہ حصے اور ان کی تقسیم ، میت کے وہ رشتے دار جن کے حصے وراثت میں متعین نہیں ان رشتے داروں کےلئے اسلام میں کیا احکام ہیں ۔۔۔۔۔؟ تقسیم ترکہ کا طریقہ کارکیا ہے ۔۔۔؟ محنث کا وراثت میں حصہ ۔۔۔۔؟ وہ گم شدہ شخص جس کے زندہ یا فوت ہونے کا علم نہ ہوسکے اس کےلئے احکام وراثت ۔۔۔۔؟ میت کے وہ کون سے رشتے دار ہیں جن کے حصے وراثت میں متعین نہیں ، کن صورتوں میں ورثا کے مقررہ حصوں میں کمی واقع ہوجاتی ہے ، میت کا ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے اس کے ورثا میں سے ایک یا ایک سے زیادہ فوت ہوجائیں تو ایسی صورت میں ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی ۔۔۔؟وہ گمشدہ شخص جس کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں علم نہ ہوسکے تو اس کےلئے کیا احکام ہیں ، عاق نامے کی شرعی حیثیت ، یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ ۔ کتاب میں میت کے تمام ورثا کے حصے نکالنے کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے اسی طرح ایک تفصیلی نقشہ بھی دیا گیا ہے جس سے وراثت کے تمام مسائل اور حصوں کو سمجھنا مزید آسان ہوگیا ہے ۔ دریں اثنا ان تمام وجوہات کی بناپر یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب اپنے موضوع پر لاجواب اور باکمال کتاب ہے اس کتاب کا مطالعہ ہر مرد وعورت کےلئے بے حد ضروری ہے ۔

  • تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    زیر تبصرہ کتاب ” عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات “اپنے موضوع پر بہت ہی خوبصورت ، مفید اور جامع کتاب ہے جسے عبدالمالک مجاہد نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب خاص کر بچوں ، بچیوں ، طلبہ وطالبات کےلئے مرتب کی گئی ہے تاہم اس کتاب کا مطالعہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کےلئے بھی بے حدضروری اور مفید ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل نے آرٹ پیپر ، دیدہ زیب سرورق اور چہار کلر کے ساتھ شائع کی ہے ۔ کتاب کاانداز بیاں سادہ اورسلیلس ہے ۔ یوں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے حالات زندگی کا مطالعہ ہر دور میں ہی ضروری رہا لیکن موجودہ دور میں اس کی ضرورت بے حد بڑھ چکی ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم وہ خوش نصیب جنھوں نے رسول مقبول ﷺ کے سایہ نبوت میں تربیت پائی ، ان میں دس اصحاب وہ تھے جنھیں آپ ﷺ نے دنیا ہی میں جنتی ہونے کی بشارت دے دی تھی ۔ اس لیے انھیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے ۔ان عظیم المر تبت صحابہ کرام میں چار تو خلفائے راشدین ہیں ، یعنی سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضوان اللہ علیھم شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ سیدنا زبیر بن عوام ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ، سیدنا سعد بن ابی وقاص ، سیدنا سعید بن زید اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیھم کے اسمائے گرامی عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں ۔ یہ سب امت مسلمہ کے لیے روشنی کے مینار ہیں جن کے بارے میں وقتاََ فوقتاََ سید المر سلین ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے نکلے ہوئے الفاظ ان کی عظمت و مرتبت ، خوبی کردار اور شان ہدایت کی عکاسی کرتے ہیں ۔

    چاروں خلفائے راشد ین کا بابرکت عہد ” خلافت ِ راشدہ “ کہلاتا ہے جو ملت اسلامیہ کے لیے سیاست و حکومت ، معیشت و عدالت اور نظام ِ مملکت کا بہترین نمونہ ہے اور تاریخ عالم میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ دنیا بھر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت و عزیمت ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عدالت و فراست ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت و کرامت اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت و استقامت کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیھم نے جو فلاحی ریاست قائم کی ، دنیا کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی قوم اور کوئی معاشرہ ایسی فلاحی جمہوری ریاست قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ خلفائے راشدین کے عہد ِ مسعود میں شام ، عراق ، ایران ، خراسان ، فلسطین ، مصر اور طرابلس یکے بعد دیگرے فتح ہوتے چلے گئے ۔جبکہ اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے محاذ شا م کے فاتح سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور عراق و ایران کے فاتح سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے ۔طلبہ و طالبات کی تعلیمی و تربیتی ضرورت کے پیش نظر انھیں عشرہ مبشرہ کی پاکیزہ زندگی سے متعارف کرانے کے لیے زیر نظر کتاب میں اس امت کی دس بہترین شخصیات کے عملی نمونے پیش کیے گئے ہیں ، تاکہ ان عظیم ہستیوں کے حسن سیرت کے آئینے میں وہ اپنی راہ ِ عمل متعین کر سکیں ۔” عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنھم کی زندگیوں کے سنہرے واقعات “ اتنی مفید اور خوبصورت کتاب کہ جو بچوں بچیوں کو بطور گفٹ بھی دی جاسکتی ہے ۔ امید ہے کہ یہ کتاب پڑھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی زندگی کے روشن روشن واقعات ہماری نوجوان نسل کے لیے رہنما ثابت ہوں گے ۔ اس سے نہ صرف ہمارے بچوں بچیوں کی اسلامی تعلیمات میں اضافہ ہوگا بلکہ اپنے حال اور مستقبل کو سنوارنے میں مدد بھی ملے گی ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر لائبریری کی ضرورت ہے ۔ کتاب کی قیمت 450روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور 042-35324034دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796677دارالسلام اسلام آباد مرکز ایف ایٹ051-2281513پر دستیاب ہے ۔

  • تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    زیر تبصرہ کتاب”نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار “ بطور خاص ننھے منے بچوں بچیوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد ہیں۔ عبدالمالک مجاہد کا نام محتاج تعارف نہیں وہ دارالسلام انٹرنیشنل کے بانی ہیں اور لاتعداد وبے شمار کتابوں کے مصنف ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی کتابوں کی ہے۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں اس کتاب میں بچوں کے لیے نہایت ہی ضروری دعاﺅں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جو بچے بچیاں کم عمری میں ہی دعائیں اور اذکار سیکھ لیں گے اور انھیں یاد بھی کرلیں۔۔۔۔وہ دعائیں ساری زندگی ان کے کام آ ئیں گی۔دعائیں یاد کرنا اور اذکار پڑھنا سنت ہے، روحانی شفا اور مصائب وپریشانیوں سے نجات ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ صبح وشام کے اذکار پڑھا کرتے تھے اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اذکار یاد کرنے کی تلقین وترغیب کیا کرتے تھے۔زیر تبصرہ کتاب ’ ’نونہالوں کے لئے سنہرے اذکار “ روزہ مرہ کی اہم ترین دعاﺅں پر مشتمل ہے۔مثلاََ نیند سے بیدار ہونے کی دعا ، بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا ، بیت الخلا سے نکلنے کی دعا ،وضو سے پہلے کی دعا ، وضو کے بعد کی دعا ، سیرت وصورت بہتر بنانے کی دعا ، لباس پہننے کی دعا ، گھر سے نکلتے وقت کی دعا ، مسجد میں داخل ہونے کی دعا ، سلام پھیرنے کے بعد کی دعا ، مسجد سے نکلنے کی دعا ، گھر میں داخل ہوتے وقت کی دعا ، بیمار پرسی کے وقت کی دعائیں ، سیدالاستغفار ، جب بارش ہو تو کیا دعا مانگی جائے ، چاند دیکھنے کی دعا ، کھانا کھانے سے پہلے کی دعا ، کھانے سے فراغت کے بعد کی دعا ، چھینک کی دعائیں ، سواری پر بیٹھنے کی دعا ، بازار میں داخل ہونے کی دعا ، سوتے وقت کی دعا ۔

    اس کتاب کی آرٹ پیپر پر 4کلر باتصور طباعت اتنی عمدہ ، دلکش ، جاذب نظر اور خوبصورت ہے کہ جو بچہ بھی اسے دیکھ لے وہ اسے پڑھے بغیر نہیں رہ سکتااس طرح سے بچے کا دل خود بخود دعائیں یاد کرنے کی طرف راغب وآمادہ ہوگا ۔کتاب کی اہم ترین خصوصیات یہ ہیں کہ تقریباََ ہر دعا کے ساتھ ضروری ہدایات بھی درج کی گئی ہیں ۔ مثلاََ بیت الخلا میں داخل ہونے والی دعا کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ پہلے بایاں پاﺅں اندر رکھا جائے ۔دعا واش روم میں داخل ہونے سے پہلے پڑھی جائے ۔ واش روم میں باتیں نہ کی جائیں ۔ واش روم میں قبلہ کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھا جائے ۔ خود کو پانی سے پاک کیا جائے ۔ قضائے حاجت کے بعد واش روم صاف کرنے کے لیے پانی والا لیور ضرور دبایا جائے ۔اسی طرح دیگر دعاﺅں کے ساتھ بھی ضروری ہدایات دی گئی ہیں ۔ ہر دعا کے ساتھ حدیث کی کتاب کانام اور حدیث نمبر بھی درج کیا گیا ہے ۔ یوں اس کتاب کی اہمیت اور افادیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ کتاب کی اہمیت وافادیت کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے اس کتاب کا ہر گھر میں اور ہر بچے کے پاس ہونا بے حد ضروری ہے ۔ اس کتاب کا مطالعہ نہ صرف بچوں بلکہ والدین کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ اس وقت مسلم والدین کو جو بڑے بڑے مسائل درپیش ہیں ان میں سے اہم ترین مسئلہ بچوں کی تربیت کا ہے۔ والدین بچوں کی تربیت کے حوالے سے بے حد پریشان رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے غفلت کرتے ہیں۔ بلاشبہ بچوں کی اسلامی اور اخلاقی اصولوں پر تربیت ایک اہم ترین اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ بچوں کی ابتدا ہی سے تربیت اسلامی اصولوں پر کی جائے۔نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار سے جہاں بچوں کے لئے دعائیں یاد کرنا آسان ہے وہاں اس کتاب کے مطالعہ سے بچوں کا دین کی طرف بھی شوق بڑھے گاان شاءاللہ ۔کتاب کی قیمت 320روپے ہے یہ خوبصورت اور جاذب نظر کتاب یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور 042-35324034دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796677دارالسلام اسلام آباد مرکز ایف ایٹ051-2281513پر دستیاب ہے ۔

  • عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    منصورہ احمد
    یکم جون 1958: یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    اردو کی معروف شاعرہ اور ادیبہ منصورہ احمد یکم جون 1958 کو حافظ آباد میں معروف قانون دان مرزا حبیب احمد کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ انہوں نے پرائمری سے انٹر تک حافظ آباد میں تعلیم حاصل کی جبکہ گریجویشن لاہور میں کیا۔ شاعری کا انہیں بچپن میں شوق تھا ۔ احمد ندیم قاسمی شاعری میں ان کے استاد تھے۔ 1998 میں انہیں ان کے شعری مجموعے "طلوع” پر اکادمی ادبیات پاکستان نے وزیراعظم ادبی ایوارڈ عطا کیا تھا۔ وہ ادبی جریدے” مونتاج” کی مدیرہ بھی تھیں۔ احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی تھیں. وہ 1986 سے 2006 تک ادبی جریدہ "فنون” سے وابستہ رہیں ۔ انہوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ 8 جون 2011 کو لاہور میں وفات پاگئیں اور حافظ آباد میں آسودہ خاک ہوئیں۔

    منصورہ احمد کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا
    یہ اور بات کہ سورج افق پہ نکلا تھا

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    میں سب سمجھتی رہی اورمسکراتی رہی
    مرا مزاج ازل سے پیمبروں سا تھا

    میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی
    کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    میں گل پرست بھی گل سے نباہ کر نہ سکی
    شعور ذات کا کانٹا بہت نکیلا تھا

    سب احتساب میں گم تھے ہجوم یاراں میں
    خدا کی طرح مرا جرم عشق تنہا تھا

    وہ تیرے قرب کا لمحہ تھا یا کوئی الہام
    کہ اس کے لمس سے دل میں گلاب کھلتا تھا

    مجھے بھی میرے خدا کلفتوں کا اجر ملے
    تجھے زمیں پہ بڑے کرب سے اتارا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا
    گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں
    بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے

  • تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    نام کتاب : بلوغ المرام/ جدید ایڈیشن( دوجلد )
    تالیف : شہاب الدین احمد ابن حجر العسقلانی
    صفحات : 1138
    ناشر  : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئرمال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب” بلوغ المرام من ادلة الاحکام “ ابو الفضل حافظ شہاب الدین احمد ابن حجر العسقلانی کی بے مثال کتاب ہے ۔فقہائے محدثین کے سلسلے میں ایک بہت بڑا اور معتبر نام نویں صدی ہجری کے امیر المومنین فی الحدیث شہاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن محمد المعروف ابن حجر العسقلانی کا ہے جنہیں معاصرین نے حافظ مشرق والمغرب کا لقب بھی دیا ہے۔ وہ بہت بڑے مفسر ، محدث ، فقیہ ، مورخ اور ماہر لغت تھے ۔ شرعی احکام کے حدیثی دلائل پر مبنی فقہ میں ان کی مایہ ناز کتاب بلوغ المرام ہے جو صدیوں سے دنیا بھر کے اسلامی حلقوں میں معروف چلی آرہی ہے ۔ یہ کتاب ضخامت میں مختصر ہے لیکن جامعیت اور افادیت کے اعتبار سے بے نظیر ہے ۔ مسائل و احکام کا یہ نہایت اہم اور گراں قدر مجموعہ علماءاور طلباءکے لیے یکساں مفید ہے ۔ اس نامور کتاب کا اردو میں نہایت خوبصورت ترجمہ قارئین کے ہاتھوں میں ہے ۔ اگرچہ اب تک اس کتاب کے سینکڑوں تراجم شائع ہوچکے ہیں لیکن یہ ترجمہ پیش رو تمام تراجم سے یکسر مختلف اور منفرد ہے ۔

    اس کی پہلی انفرادیت یہ ہے کہ یہ ترجمہ معروف سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ نے کیا ہے ۔ اس کتاب کی دیگر خصوصیات یہ ہیں کہ کم و بیش ہر حدیث کے نیچے پہلے لغوی تشریح پھر حاصل کلام کے عنوان سے شرح بھی لکھ دی گئی ہے تاکہ ہر حدیث کی وضاحت ہو جائے اور جو احکام اس حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی تشریح اور تفہیم آسان ہو جائے۔ راویوں کے مختصر حالات زندگی بھی درج کیے گئے ہیں۔حافظ ابن حجر العسقلانی نے اس کتاب میں فقہائے محدثین کے اسلوب کا تدبر انتہائی مہارت اور خوبصورتی سے کیا ہے انہوں نے ہر مسئلے کو احادیث نبویہ کے ذریعے سے واضح کیا ہے جبکہ علماءاس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک عام مسلمان احکام شریعت پر عمل کرنے کے لیے کوئی ایسی کتاب منتخب کرے جو مختصر ہو ، آسان ہو ، فقہی ابوا ب کے کے مطابق مرتب ہو ، تمام مسائل کے بارے میں مکمل رہنمائی کرتی ہو اور اس پر کسی تردد یاذہنی تحفظ کے بغیر عمل کیا جا سکتا ہو تو اس کے لیے بلوغ المرام سب سے عمدہ انتخاب ہوگا

  • تبصرہ کتب،مختار النحو( قرآنی  مثالوں سے مزین عربی گرامر )

    تبصرہ کتب،مختار النحو( قرآنی مثالوں سے مزین عربی گرامر )

    تالیف : مولانا مختار احمد سلفی
    صفحات : 270
    قیمت :920روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 024-37324034

    قرآ ن و سنت کو سمجھنے کے لیے عربی علوم میں ’’فن نحو کو ‘‘ بنیادی مقام حاصل ہے ۔ جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم اسلامیہ کو کماحقہ سمجھنا ممکن نہیں ۔ قرآ ن و سنت کو سمجھنے کے لیے نحو کا علم بنیاد ہے ۔ا س کے متعلق مشہور زمانہ مقولہ ہے’’ نحو کی کلام میں وہی حیثیت ہے جو کھانے میں نمک کی ہے ‘‘ الغرض ’’ نحو ‘‘ ایک نہایت اہم علم ہے۔ اسی کے پیش نظر مدارس اسلامیہ میں اس فن کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار میں علمائے اسلام نے اس فن کے متعلق کتابیں لکھی ہیں اور اسے آ سان سے آ سان تر بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ زیر نظر کتاب مختار النحو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔یہ اپنے موضوع پر نہایت ہی لاجواب اور آسان کتاب ہے۔ اس میں قرآنی مثالوں کے ذریعے علم النحو کو آسان فہم انداز میں سمجھانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔کتاب کی عبارت عام فہم ہے ۔ عربی زبان کے تمام بنیادی قواعد کو عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے۔ ہر قانون کی توضیح مثالوں کے ذریعے کی گئی ہے ۔ کتاب ایک مقدمہ تین ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے ۔ پوری کتاب کو 70 اسباق پر تقسیم کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں نحو کی بنیادی باتیں ذکر کی گئی ہیں۔

    پہلا باب اسم، دوسرا باب فاعل اور تیسرا باب حرف کے بیان میں ہے۔ اسباق کے آ خر میں مشقی سوالات اور قران و حدیث کی مثالوں سے مزین تمرینات دی گئی ہیں۔تمام مثالیں قرآ ن و حدیث اور احادیث نبویہ سے ماخوذ ہیں۔ کوشش یہی کی گئی ہے کہ ہر مثال آ سانی سے سمجھ میں آ نے والی ہو ۔ کتاب کے آ خر میں نحو کے قوانین کو عربی عبارت پر لاگو کرنے کے لیے اجرا اور مطالعہ کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے ۔ اسی طرح ہر سبق کی ایک مثال کی ترکیب کر دی گئی ہے تاکہ اس کو سامنے رکھتے ہوئے باقی مثالوں کی ترکیب کرنا آسان ہو جائے ۔ کتاب کے اسلوب کو نحو کی دوسری کتابوں کے مطابق ہی رکھا گیا ہے تاکہ قارئین کی ذہنی استعداد میں باآسانی اضافہ ہو ۔ جو قارئین محنت اور کوشش سے اس کتاب کو پوری طرح سمجھ کر پڑھیں گے وہ کافی حد تک فن نحو کے ابتدائی قواعد میں ماہر ہو جائیں گیاور عربی زبان کو صحیح طرح سے پڑھنے ، سمجھنے ، لکھنے اور بولنے پر قادر ہوجائیں گے ان شاء اللہ ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات