Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • پاک دامن اور بہادر طوائف

    پاک دامن اور بہادر طوائف

    قصے اور کہانیاں /، آغا نیاز مگسی

    اردو شاعری میں سب سے پہلی صاحب دیوان خاتون شاعرہ کا اعزاز جس عورت نے حاصل کیا وہ اپنے دور کی حسین و جمیل طوائف چندا بائی ماہ لقا تھی جس کا تعلق حیدر آباد دکن سے تھا جس طرح کی وہ خوب صورت تھی ایسی ہی اس کی خوب صورت شاعری تھی ۔ اس کا ایک شعر ہے

    کبھی صیاد کا کھٹکا کبھی خوف خزاں
    بلبل اب جان ہتھیلی پہ لئے بیٹھی ہے

    اس خاتون شاعرہ اور مشہور طوائف کے پرستاروں میں بڑے بڑے راجے مہاراجے، نواب، رئیس، امیر کبیر، وزیر مشیر اور سیٹھ وغیرہ شامل تھے اور اس کی دوستی پر فخر کرتے تھے ۔ تعجب اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس نے اپنی تمام عمر تجرد میں گزار دی یعنی شادی نہیں کی ۔ اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی جو اب تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکی ۔ میرے اس مضمون کا عنوان چندا بی بی نہیں بلکہ دیپالی بتول ہے لیکن اس کی کہانی بیان کرنے سے پہلے کسی طوائف کا ایک قول ملاحظہ فرمائیں کہ کسی حضرت نے طوائف سے پوچھا تمہیں کوٹھا چلاتے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے تو طوائف نے کہا کہ یہ کوٹھا نہیں بلکہ بڑے بڑے شریفوں کا قبرستان ہے جبکہ سعادت حسن منٹو کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ معاشرہ کسی عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا ہے مگر اسے ٹانگہ چلانے کی اجازت نہیں دیتا ۔

    قیام پاکستان سے پہلے انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں 5 بڑے بازار حسن تھے کلکتہ کا ” سونا گاچی ” اور لاہور کا بازار حسن ” ہیرا منڈی ” جبکہ کراچی میں لی مارکیٹ اور نیپیئر روڈ کے بازار حسن، ملتان کا بازار حسن اور میاں چنوں اور عبدالحکیم کے درمیان تلمبہ کا نہایت خوبصورت بازار حسن شامل تھے ۔ تلمبہ میں اس وقت کے حکمران مہا راجہ رنجیت سنگھ نے 1818 میں بازار حسن قائم کیا تھا ۔ تلمبہ کے تاریخی بازار حسن کو تبلیغ کے ذریعے بند کرنے میں مولانا طارق جمیل کا اہم کردار ہے اور اس بازار حسن کی جگہ پر مولانا طارق جمیل نے ایک خوبصورت مدرسہ حسنین قائم کیا ہے ۔ اس سے پہلے یہ مقام پنجاب کے لوگوں میں” تلمبہ دی کنجری ” کے حوالے سے مشہور تھا ۔ کلکتہ کا بازار حسن سونا گاچی سب سے زیادہ مشہور تھا اور اس میں پدمنی کو ٹھا سب سے زیادہ مہنگا اور بہت اہم تھا ۔ یہاں ہندوستان بھر سے بڑے بڑے راجے مہاراجے، شرفاء اور اعلی سرکاری افسران اپنی ” چھٹیاں ” منانے آتے تھے واپسی پر اپنے گھروں میں اپنی بیگمات سے کسی خاص مصروفیت کا بہانہ گھڑ لیا کرتے تھے ۔ 14 سال کی عمر کی ایک یتیم لیکن خوب صورت دوشیزہ دیپالی کو سلہٹ کے پہاڑوں کے درمیان میں موجود ایک محل نما مندر کی انتظامیہ نے سونا گاچی کے دلالوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ۔ 1898 میں ہندوستان میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی تھی جس سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے اور ہزاروں بچے یتیم ہو گئے تھے ۔ دیپالی بھی ایک یتیم اور بے سہارا بچی تھی۔ طاعون کی وباء میں اس کے والدین فوت ہو گئے تھے اور اس کے رشتہ داروں نے دیپالی کو مندر کے پروہتوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ۔ بعدازاں مندر کی انتظامیہ نے کلکتہ کے بازار حسن سونا گاچی میں اس کی بولیاں لگائیں خوب صورتی کے باعث اس کی بڑی قیمت لگائی گئی اور اس کو سب سے مہنگے کوٹھے پدمنی میں پہنچایا گیا ۔ کوٹھے کی مالکہ نے اسے سنگھار کر کے ” معزز ” گاہکوں کا دل بہلانے کا حکم جاری کردیا لیکن دیپالی نے انکار کر دیا ۔ اس کو ” راہ راست ” پر لانے کے لئے 2 ماہ تک سمجھایا گیا لیکن دیپالی اپنے انکار پر قائم رہی ۔ ایک روز ایک مشہور شخصیت اور سابق رکن انڈین لے جلسٹو اسمبلی سیٹھ تیج بھان کو خوش کرنے کے لئیے اسے زبردستی کمرے میں دھکیل دیا گیا اور ساتھ میں دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے سیٹھ کو ناراض کیا تو اس کی ہڈی پسلی ایک کر دی جائے گی ۔ آدھی رات کو سیٹھ تیج بھان نے کوٹھے کے بالائی کمرے میں دیپالی سے دست درازی شروع کر دی تو دیپالی نے سیٹھ کی منت سماجت کی مگر وہ باز نہ آیا ۔تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق دیپالی نے پوری قوت کے ساتھ سیٹھ کو کسی بوری کی طرح اٹھا کر کھڑکی سے باہر نیچے روڈ پر پھینک دیا جس سے ایک دھماکہ سا ہوا اور سیٹھ کے پرخچے اڑ گئے ۔ پولیس آئی اور دیپالی کو قتل کے مقدمے میں گرفتار کر کے لے گئی۔ اگلی صبح ہندوستان بھر میں یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک کوٹھے میں نئی آنے والی طوائف نے سیٹھ تیج بھان کو کوٹھے سے گرا کر قتل کر دیا ہے ۔ سونا گاچی سے کے بازار میں جب بھی کسی معصوم طوائف کے ہاتھوں کوئی قتل ہو جاتا تو متعلقہ پولیس تھانے خوشی کی لہر دوڑ جاتی ۔ تفتیش کے نام پر ایس ایچ او مجبور طوائف کو زبردستی اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیتا اگر طوائف خوب صورتی میں پری پیکر لگتی تو ضلع کا ایس پی صاحب بنفس نفیس تفتیش کے لیے پہنچ جاتا یہاں بھی معاملہ ایسا ہی تھا ۔ ایس پی صاحب رات کے اندھیرے میں پولیس تھانے پہنچ گیا ۔ دیپالی کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایک بڑے ہوٹل میں کھانا کھلانے کے بعد کلکتہ کے وہاڑہ بریج کی سیر کرانے لے گیا اور وہاں گاڑی سے اتر کر دیپالی کو بریج کے کنارے گھمانے کے بہانے باتیں کرتے کرتے اپنے مطلب کی بات کر ڈالی دیپالی نے جواب میں ایس پی صاحب کو ایک زور دار دھکہ دیا اور ایس پی نہر میں ڈوب گیا ۔ اب دیپالی پر سیٹھ کے بعد ایس پی کے قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ۔ دیپالی کی بہادری اور پاک دامنی کے چرچے پورے ہندوستان میں ہونے لگے ۔ کلکتہ کے سینٹ جوزف گرلز کالج کی خواتین پروفیسرز اور طالبات نے دیپالی سے جا کر حوالات میں ملاقات کی اور قتل کی وجہ معلوم کی تو دیپالی نے ایک تاریخی جملہ کہا ” کہ میں کوٹھے سے گرفتار ضرور ہوئی ہوں مگر میں کوٹھے والی نہیں ہوں” ۔ یہ لوگ مجھ سے زبردستی میری عزت لوٹنا چاہتے تھے میں نے اپنی عزت بچانے کی خاطر ایسا قدم اٹھایا ۔ کالج کی طالبات نے سونا گاچی بازار اور پولیس کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیپالی کو رہا کیا جائے ۔ خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا نے دیپالی کا مقدمہ مفت میں لڑنے کا فیصلہ کیا ۔ ایک طرف سیٹھ اور ایس پی کے قتل کیس پر دیپالی کو سزائے موت دلانا چاہتے تھے تو دوسری جانب خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا دیپالی کی باعزت رہائی کے لیے میدان میں اتری تھی ۔

    حکومت اور اپر کلاس کے دباؤ کے نتیجے میں عدالت کمزور پڑ گئی تھی قتل کے عدم ثبوت کے باوجود سیشن کورٹ کے جج نے دیپالی کو 2 بار سزائے موت دینے کا فیصلہ سنا دیا ۔ اس کی عمر کے لحاظ سے بھی کوئی رعایت نہیں دی گئی اس کی عمر 14 سال سے کچھ ماہ اوپر تھی ۔ سزائے موت کے فیصلے کے بعد اس کو جیل بھیج دیا گیا ۔ جیل کے وارڈن کی بھی نیت خراب ہو گئی ۔ جیل کی پہلی رات ہی وارڈن نے اس کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہوئے دعوت کے بہانے دیپالی کو اپنے بنگلے چلنے پر مجبور کیا ۔ رات کو جیل وارڈن نے دیپالی سے دل لگی کی باتیں شروع کر دیں ۔ جوں ہی دیپالی کے قریب آنے کی کوشش کی تو دیپالی نے وارڈن کو گرن سے پکڑ کر دبوچ لیا یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو گئی ۔ دیپالی کے خلاف قتل کا ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا ۔ پورے ہندوستان میں دیپالی کی بہادری اور پاک دامنی کی شہرت ہو گئی ۔ اس نئے قتل کی تفتیش کے دوران جیلر نے دیپالی کو زیر کرنے کا پختہ ارداہ کر لیا ۔ ایک رات دیر سے جیلر نے آ کر دیپالی کو بارہ دری چلنے کا حکم دیا یہ اس جیل کے ایک مخصوص ٹارچر سیل کا نام تھا جس کا نام سن کر قیدی تھر تھر کانپنے لگتے تھے مگر دیپالی کے چہرے پر کسی بھی قسم کی پریشانی کے تاثرات نظر نہیں آئے ۔ جیلر دیپالی کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ٹارچر سیل کی بجائے اپنے بنگلے پر لے گیا ۔ دیپالی کو اپنے سامنے بٹھا کر وہی خباثت کی باتیں کرنے لگا ۔ دیپالی نے بھی مشتعل ہونے میں دیر نہیں کی پوری قوت کے ساتھ جیلر کی گردن دبا کر موت کی وادی میں دھکیل دیا ۔ 3 قتل کے بعد اب چوتھے قتل کا مقدمہ بھی دیپالی کے خلاف درج کیا گیا ۔ ہندوستان کے عوام دیپالی کی بہادری اور پولیس کی بے شرمی پر حیران ہو رہے تھے ۔ جیلر کے قتل کے بعد دیپالی نے جیل انتظامیہ کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید خواتین کو اگر کسی نے بھی بری نظر سے دیکھا تو وہ جیلر کے انجام کو اپنے ذہن میں ضرور رکھے ۔ اس وارننگ کے بعد وہ کلکتہ کی جیل کے اندر آزادنہ گھوم رہی تھی اور خواتین قیدیوں کی ہر ممکن مدد اور خدمت کر رہی تھی ۔ نئے تعینات ہونے والے جیلر کا رویہ دیپالی کےساتھ مشفقانہ تھا اور اس نے اس سے کہا کہ بیٹی میری دعا ہے تم جلد رہا ہو جائے گی ۔ دیپالی نے کہا کہ بابا ایسی دعا مت کریں جیل کے باہر میرا کون ہے جس کے پاس میں جاوں گی ۔ خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا دیپالی کا مقدمہ مفت میں بڑی محنت کے ساتھ لڑ رہی تھی باالآخر ایک روز ناری سنستھا تنظیم کی نمائندہ وکیل مریم بی بی جو ایک مسلمان تھی دیپالی کو آ کر رہائی کی خوشخبری دی اور اپنے ساتھ گھر چلنے کا کہا ۔ دیپالی کے پاس کوئی سامان اور کپڑے وغیرہ تو تھے نہیں ۔ ایک لیڈی کینسٹیبل نے اس کو اپنے کپڑوں کا ایک جوڑا دیا ۔ قیدیوں کا لباس اتار کر لیڈی کینسٹیبل کے کپڑے پہن کر مریم بی بی کے ساتھ اس کے گھر گئی ۔ مریم کے گھر میں مذہبی ماحول تھا دیپالی کے ساتھ سب کا بہت اچھا رویہ تھا ۔ جس سے متاثر ہو کر اس نے مریم کی ماں کے ہاتھوں مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا ۔ مسلمان ہونے کے بعد دیپالی کا نام دیپالی بتول رکھا گیا ۔ مریم کے گھر میں قرآن مجید پڑھنے اور نماز سیکھنے کے بعد مریم کی ماں نے دیپالی کی رضامندی سے اس کی شادی آسام کے گولا گائوں کے ایک حافظ قرآن سے نکاح کرا دیا شادی کے بعد وہ اپنے سسرال منتقل ہو گئی ۔ دیپالی کی کہانی سے ہمیں ایک بار پھر یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی بھی عورت یا لڑکی اپنی رضا خوشی سے نہ طوائف بنتی ہے اور نہ ہی بازار حسن میں کوٹھے والی بننا پسند کرتی ہے یہ معاشرہ ان کو مجبور کرتا ہے ۔ بہت سی خواتین اور لڑکیاں خود کو کمزور اور مجبور پا کر حالات سے سمجھوتہ کر لیتی ہیں اور بہت ہی ایسی کم لڑکیاں اور خواتین دیپالی بتول کی طرح اپنی عزت و عصمت بچانے کے لیے مرنے اور مارنے پر تیار ہوتی ہیں ۔

  • اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    ڈاکٹر فریاد آذر

    وفات : 12؍اپریل 2024

    معروف شاعر ڈاکٹر فریاد آذر کا اصل نام سید فریاد علی ہت10؍جولائی 1956ء کو اترپردیش کے بنارس شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر عنوان چشتی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی تھی اور ان کے شعری آہنگ سے بہت متاثر تھے۔
    انھوں نے دہلی کے کئی اسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کے دو شعری مجموعے "خزاں میرا موسم” (اشاعت 1994ء) اور قسطوں میں گزرتی زندگی” (اشاعت 2005ء) شائع ہوئے۔آج بروز جمعہ 12؍اپریل 2024ء کو لمبی بیماری کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔ وہ کئی دنوں سے دہلی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔

    ڈاکٹر فریاد آذرؔ کے منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا
    میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

    نہ جانے کون سی ادا بری لگی تھی روح کو
    بدن کا پھر تمام کھیل کود ختم ہو گیا

    معاہدے ضمیر سے تو کر لیے گئے مگر
    مسرتوں کا دورۂ وفود ختم ہو گیا

    بدن کی آستین میں یہ روح سانپ بن گئی
    وجود کا یقیں ہوا وجود ختم ہو گیا

    بس اک نگاہ ڈال کر میں چھپ گیا خلاؤں میں
    پھر اس کے بعد برف کا جمود ختم ہو گیا

    مجاز کا سنہرا حسن چھا گیا نگاہ پر
    کھلی جو آنکھ جلوۂ شہود ختم ہو گیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے
    اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    زندگی عمر کے اس موڑ پہ پہنچی ہے جہاں
    سود ناپید ہے احساس زیاں باقی ہے

    ڈھونڈھتی رہتی ہے ہر لمحہ نگاہ دہشت
    اور کس شہر محبت میں اماں باقی ہے

    میں کبھی سود کا قائل بھی نہیں تھا لیکن
    زندگی اور بتا کتنا زیاں باقی ہے

    مار کر بھی مرے قاتل کو تسلی نہ ہوئی
    میں ہوا ختم تو کیوں نام و نشاں باقی ہے

    ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید
    ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے

    لاکھ آذرؔ رہیں تجدید غزل سے لپٹے
    آج بھی میرؔ کا انداز بیاں باقی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سراغ بھی نہ ملے اجنبی صدا کے مجھے
    یہ کون چھپ گیا صحراؤں میں بلا کے مجھے

    میں اس کی باتوں میں غم اپنا بھول جاتا مگر
    وہ شخص رونے لگا خود ہنسا ہنسا کے مجھے

    اسے یقین کہ میں جان دے نہ پاؤں گا
    مجھے یہ خوف کہ روئے گا آزما کے مجھے

    جو دور رہ کے اڑاتا رہا مذاق مرا
    قریب آیا تو رویا گلے لگا کے مجھے

    میں اپنی قبر میں محو عذاب تھا لیکن
    زمانہ خوش ہوا دیواروں پر سجا کے مجھے

    یہاں کسی کو کوئی پوچھتا نہیں آزرؔ
    کہاں پہ لائی ہے اندھی ہوا اڑا کے مجھے

  • 27 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    27 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    27 مارچ تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1668ء انگلینڈ کے حکمران چارلس دوئم نے ممبئی کو ایسٹ انڈیا کمپنی سونپی۔

    1721ء فرانس اور اسپین نے میڈرڈ معاہدے پر دستخط کئے۔

    1794ء امریکی کانگریس نے ملک میں بحری فوج قائم کرنے کی منظوری دی۔

    1824ء کینیڈا نے سوویت یونین کو تسلیم کیا۔

    1854ء کریمین جنگ میں برطانیہ نے روس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

    1855ء امریکی ابراہام گیسز نے کوئلے سے ایک نئی قسم کا تیل کیروسین آئل (مٹی کا تیل) کے نام سے ایجاد کر کے پیٹنٹ کروایا۔

    1871ء پہلا بین الاقوامی رگبی میچ اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا جو اسكاٹ لینڈ نے جیتا۔

    1884ء بوسٹن سے نیویارک کے درمیان پہلی بار فون پر لمبی بات چیت ہوئی۔

    1899ء انگلینڈ اور فرانس کے درمیان پہلی بین الاقوامی ریڈیو نشریات اطالوی موجد جی مارکونی کی طرف سے کیا گیا۔

    1901ء امریکہ نے فلپائن کے باغی لیڈر ایمیلیو ایگونالڈو کو اپنے قبضے میں لیا۔

    1905ء برطانیہ میں پہلی بار قتل کے ایک مقدمے میں انگلیوں کے نشانات کو بطور ثبوت استعمال کیا۔

    1933ء جاپان نے لیگ آف نیشنز سے خود کو الگ کر لیا۔

    1944ء لتھوانیا میں دو ہزار یہودیوں کو قتل کیا گیا ۔

    1956ء امریکی حکومت نے کمیونسٹ اخبار ڈیلی ورکر پر قبضہ کر لیا۔

    1958ء نکیتا خروشیف سوویت یونین کے وزیر اعظم بنے۔

    1964ء الاسکا میں 4ء7؍کی شدت والے زلزلے سے ۱۱۸؍افراد ہلاک۔

    27 مارچ 1964ء کو حکومت نے نیشنل پریس ٹرسٹ (این پی ٹی) کے قیام کا اعلان کردیا۔ بعض سینئر صحافیوں کے مطابق این پی ٹی خواجہ شہاب الدین کے اور بعض کے مطابق الطاف گوہر کے ذہن کی پیداوار تھا مگر قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اس ٹرسٹ کے خالق ایوب خان کے عہد کے ’’سپر بیوروکریٹ‘‘ غلام فاروق تھے جنہوں نے ایوب خان کے ایما پر اس کے خدوخال اور دائرہ کار متعین کیے تھے۔ این پی ٹی کے قیام کی مزاحمت سب سے پہلے پی ایف یو جے کی جانب سے ہوئی اس کے بعد ملک بھر کے مدیران اخبار و جرائد‘ ناشروں اور (کنونشن مسلم لیگ کے علاوہ) تمام سیاسی پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی مگر حکمران جنتا نے اپنے منصوبے پر عمل کیا۔ غلام فاروق نے این پی ٹی کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کی غرض سے ’’مخیر حضرات‘‘ کا ایک ڈھونگ تیار کیا اور 27 مارچ 1964ء کو اس کے قیام کا اعلان کردیا۔ ٹرسٹ کا ابتدائی سرمایہ پچاس لاکھ روپے تھا تاہم حکومت کی ایما پر نیشنل بنک آف پاکستان نے اسے ایک کروڑ روپے کا قرضہ بھی فراہم کیا تھا۔ این پی ٹی میں شروع شروع میں وہی اخبارات و جرائد شامل تھے جو میاں افتخار الدین کے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر قبضے کے ذریعے ہتھیائے گئے تھے لیکن بعد میں اس کے دائرے میں مارننگ نیوز‘ مشرق‘ دینک پاکستان‘ اخبار خواتین‘ اسپورٹس ٹائمز اور انجام بھی شامل ہوگئے۔ ابتدا ہی سے ٹرسٹ کے اخباروں نے سرکاری ترجمان کا کردار ادا کرنا شروع کردیا اور بغیر کسی خلش کے سرکاری موقف کی پیروی کرنے لگے۔ خوشامد اور چاکری نے اسم اعظم کی حیثیت اختیار کرلی اور وہ اخبارات جو کبھی حکومت کی کڑی نگرانی کیا کرتے تھے اب انتظامیہ کے پالتو بن کر رہ گئے۔ این پی ٹی لفظی اور کاغذی طور پر ایک آزاد ادارہ تھا لیکن حقیقت میں اس کے اخباروں نے ہمیشہ انتظامیہ کے ترجمان کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے مالکان ایوب اور یحییٰ کی‘ یکساں جوش اور جذبے کے ساتھ غلامی کی۔ عوامی مارشل لا نافذ ہونے پر انہوں نے اپنی وفاداری کا رخ ’’عوامی صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر‘‘ کی جانب موڑ دیا‘ جن کے نامساعد دور میں وہ دن رات ان کی بدگوئی کیا کرتے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خود پاکستان پیپلز پارٹی‘ جس کے منشور میں‘ این پی ٹی کا توڑا جانا شامل تھا‘ این پی ٹی کو قومی تحویل میں رکھنے کی سب سے بڑی حامی بن گئی جس کا منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جب جولائی 1977ء میں پیپلز پارٹی کے خلاف فوجی بغاوت برپا ہوئی تو یہ اخبارات اتنی ہی خوشی اور سہولت کے ساتھ پیپلزپارٹی کے مخالف بن گئے جیسے اس کی حکومت قائم ہونے پر اس کے حامی بن گئے تھے۔ 1988ء میں نیشنل پریس ٹرسٹ توڑے جانے کا عمل پاکستان کے اس وزیر اعظم کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچا جسے بظاہر پاکستان کا سب سے کمزور وزیر اعظم سمجھا جاتا تھا، یہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو تھے۔ بقول میر تقی میر: سب پہ جس بار نے گرانی کی اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا

    1977ء ہوا بازی کی تاریخ کا سب سے بڑا اور خوفناک حادثہ پیش آيا جب جزائر کینرلی کے ایئر پورٹ پر دو 747 جیٹ طیارے آپس میں ٹکرائے۔ اس حادثے میں 852 افراد ہلاک ہوئے۔

    ملک معراج خالد 27 مارچ 1977ء سے 05 جولائی 1977 تک پاکستان کی قومی اسمبلی کے دسویں اسپیکر رہے۔ملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے۔ 2 مئی1972ء سے 10نومبر 1973ء تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ مارچ 1977ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن اور 27مارچ 1977ء کو قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے اور 5 جولائی 1977ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1988ء میں جب پیپلز پارٹی دوبارہ برسر اقتدار آئی تو ملک معراج خالد ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن اور اسپیکر منتخب ہوئے۔ اس مرتبہ وہ اس عہدے پر 3 دسمبر 1988ء سے 4 نومبر 1990ء تک فائز رہے۔ 5 نومبر1996ء کو صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا ملک معراج خالد نگراں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔اس عہدے پر وہ 16فروری 1997ء تک فائز رہے۔ ملک معراج خالد کا انتقال 13جون 2003ء کو ہوا۔

    1989ء خلا میں امریکہ کے میزائل اینٹی سیٹلائٹ تجربہ ناکام ہوا۔

    27 مارچ 1998ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے سر سید احمد خان کی صد سالہ برسی کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت سات روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پرسر سید احمد خان کا خوب صورت پورٹریٹ بنا تھا اور انگریزی میں DEATH CENTENARY OF SIR SYED AHMAED KHAN 1898-1998 کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔

    2002ء اسرائیل کے نتنيا میں خود کش حملے میں 29؍ افراد مارے گئے ۔

    2008ء ناروے اور جنوبی کوریا نے کوسوو کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔

    2008ء لاہور کے ریس کورس پارک میں بم دھماکہ ہوا جس میں 67 افراد شہید اور 50 کے قریب زخمی ہوئے۔

    2016ء۔اقبال پارک لاہور میں ایسٹر کے موقع پہ خودکش حملہ۔74 افراد جاں سے گئے اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے

    2023ء۔۔اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں منعقد جلسہ عام میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے امریکی حکومت کی جانب سے دی گئی دھمکی کا انکشاف کیا جو امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید نے مشہور زمانہ سائفر میں بھیجی تھی۔

  • وسیم راشد

    وسیم راشد

    شاہد ریاض خصوصی رپورٹ(باغی ٹی وی)
    پشت پر جس نے بہت زخم لگائے ہیں وسیم
    جھک کے ملتا ہے وہی چاہنے والوں کی طرح

    وسیم راشد(معروف صحافی، ادیبہ،شاعرہ اوراینکر)
    23 مارچ 1977: یوم پیدائش
    شوہر کا نام:راشد شہاب
    والد کا نام:حافظ عبدالوحید خاں
    والدہ کا نام:سرور جہاں
    جائے ولادت:دہلی
    تعلیم:ایم اے (بی ایڈ)، پی ایچ ڈی ماس کمیونیکیشن
    زبان:انگلش، ہندی، اردو
    پیشہ:معلہ، صحافی، ٹی وی پروڈیوسر، اینکر
    مشاغل:شاعری، نظامت، مقالے پڑھنا، ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا
    موجودہ عہدہ:چیف ایڈیٹر ”صدا ٹوڈے“ نیوز پورٹل
    ممبر گورننگ کونسل، دلی اردو اکادمی
    سابق عہدے:سینئر پی جی ٹی اردو ،صدر شعبۂ اردو (نیو ہورائزن اسکول)وائس پرنسل، کریسنٹ اسکول دریا گنج، نئی دہلی
    ایسوسی ایٹ پروڈیوسر (عالمی سہارا اردو) مدیر (چوتھی دنیا اردو) پرنسپل آور انڈیا انٹر نیشنل اسکول، کاندھلہ، یوپی

    غیرملکی سفر:انگلینڈ، ایران، عراق، کویت، جدہ، پاکستان
    تصنیفات:سرسید کے مخالفین(حقائق کی روشنی میں) 2018ء
    ایوارڈ و اوعزازات

    ۔ (1)پرم شری میڈیا ایکسی لنسی ایوارڈ
    ۔ 2017ء-(برائے اردو صحافت)
    ۔ (2)رانی جھانسی لکشمی بائی ایوارڈ (برائے اردو صحافت)
    ۔ (3)ناہید صحافت (برائے اردو صحافت)
    ۔ (4)آفتابِ صحافت (برائے اردو صحافت)
    ۔ (5)مولانا ابواکلام آزادایوارڈ(برائے اردو صحافت)
    ۔ (6)قرۃ العین حیدر ایوارڈ (برائے اردو فکشن)
    ۔ (7)بہترین استاد ایوارڈ-2004ء(دلی اردو اکاڈمی)
    ۔ (8)بہترین استاد ایوارڈز 2004ء(نیو ہورائزن اسکول)
    ۔ (9)پروین شاکر ایوارڈ، پونہ (برائے اردو شاعری)
    ۔ (10)عصمت چغتائی ایوارڈ (برائے اردو ادب)
    ۔ (11)گولڈ میڈل، پوزیشن، دوئم ، ایم اے اردو، دہلی یونیورسٹی
    ۔ (12)مرزا غالب ایوارڈ( بی اے، اول پوزیشن، دہلی یونیورسٹی)
    گھر کا پتا:C1/9، فلیٹ نمبر 401، چوتھا فلور پاکٹ 11، جسولہ وہار، نئی دہلی-25

    غزل

    تیرا خیال میری انجمن میں رہتا ہے
    عجیب پھول ہے تنہا چمن میں رہتاہے
    میں اس سے دور بھی جاؤں تو کس طرح جاؤں
    وہ عطر بن کے میرے پیرہن میں رہتا ہے
    وہ اپنی روح کے زخموں کو کس طرح گنتا
    ہمیشہ الجھا ہوا وہ بدن میں رہتا ہے
    تری تلاش میں تھک جاتے ہیں قدم لیکن
    سکون قلب بھی شامل تھکن میں رہتا ہے
    یہ بات سچ ہے نظریات جس کے چھوٹے ہوں
    بڑے مکان میں بھی وہ گھٹن میں رہتا ہے
    وسیم ہند کی مٹی میں کیسا جادو ہے
    کہیں بھی جاؤں مرا دل وطن میں رہتا ہے

    غزل

    زندگی جن کی گزرتی ہے اجالوں کی طرح
    یاد رکھتے ہیں انھیں لوگ مثالوں کی طرح
    علم والوں کو کبھی موت نہیں آتی وہ
    زندہ رہتے ہیں کتابوں کے حوالوں کی طرح
    پشت پر جس نے بہت زخم لگائے ہیں وسیم
    جھک کےملتا ہے وہی چاہنے والوں کی طرح

    غزل

    نہ وہ کہانی نہ اب داستان باقی ہے
    بس ایک زخم کا دل پر نشان باقی ہے
    تمھاری یاد کا سایہ تھا جب تلک سر پر
    ہمیں بھی لگتا رہا آسمان باقی ہے
    نہ کوئی آس نہ امید تیرے آنے کی
    نہ جانے کس لیے آنکھوں میں جان باقی ہے
    اسی لیے چلے آتے ہیں اس کے کوچےمیں
    وہ چاہتا ہےہمیں یہ گمان باقی ہے
    ہمیں نصیب تھا جیسا وسیم بچپن میں
    نہ ویسا گھر ہے نہ وہ خاندان باقی ہے

    غزل

    دل کا قصہ نہ کبھی بیچ میں چھوڑا جائے
    یہ ورق ایسا نہیں ہےجسے موڑا جائے
    چاہے شیشہ ہو کہ کھلونا ہو کہ دل ہو میرا
    اسکی قسمت میں ہی لکھا ہے کہ توڑا جائے
    اپنی دہلی سے ہٹوادیے پتھر اس نے
    میں پریشاں ہوں کہ سر اب کہاں پھوڑا جائے
    بعد میں جوڑیں گے ہم ٹوٹے ہوئے جام وسبو
    پہلے ٹوٹے ہوئے ہر رشتے کو جوڑا جائے
    کیوں میرے اشکوں کی محفل میں نمائش ہو وسیم
    کیوں بھری بزم میں آنچل کو نچوڑا جائے

  • تبصرہ کتب،خواتین اور رمضان المبارک

    تبصرہ کتب،خواتین اور رمضان المبارک

    تیس دروس اور مخصوص مسائل پر مستند فتوی
    مصنف : ابو انس حسین بن علی
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 96
    قیمت : 190روپے
    احکام ومسائل میں خواتین مردوں کے تابع ہیں ، اس لئے کتاب وسنت میں عمومی طور پر مردوں کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ لیکن کئی مسائل عورتوں کے ساتھ خاص ہیں ۔ خصوصاََ رمضان المبارک کے حوالے سے خواتین کو کئی ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں جو عام طور پر بیان نہیں کئے جاتے ۔ خصوصاََ جو خواتین مسجد نہیں جاتیں وہ زندگی بھر ان مسائل سے ناآشنا رہتی ہیں ۔ اس ضرورت کے پیش نظر یہ کتاب دارالسلام نے شائع کی ہے ۔ اس کتاب میں مختصراََ ان تمام مسائل کااحاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کا تعلق خواتین اور رمضان المبارک سے ہے۔ تمام مسائل قرآن مجید اور مستند احادیث سے بیان کئے گئے ہیں ۔ انداز بیان بہت دلچسپ، عام فہم اور عام کتابوں سے منفرد ہے ۔ کتاب روزوں کے ایام کی مناسبت سے تیس دروس پر مشتمل ہے ۔ سب سے پہلے بتایا گیا ہے کہ رمضان المبارک کااستقبال کیسے کیا جائے؟ ماہ رمضان سے استفادے کا پروگرام کیسے ترتیب دیا جائے؟

    رمضان کے حوالے سے خواتین کے لئے نہایت بیش قیمت نصیحتیں بھی کتاب میں شامل ہیں ۔ بتایاگیا ہے کہ مرد اور عورت اعمال وثواب میں برابر ہیں ، مسلمان خواتین کے لئے جنت کاآسان راستہ ، خواتین اور زیورات کی زکوة ، زیورات کی زکوة نکالنے کا کیا طریقہ ہے ؟ خاتون خانہ کے لئے نماز تراویح ، حیض ونفاس ، حاملہ اور دودھ پلانے والے خاتون ، بوڑھی عورت جس میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ، مانع حیض گولیوں کے استعمال کے کیا احکام ہیں ، بچی پر روازہ کب واجب ہوتا ہے ؟ جنتی خواتین کون ہیں ۔۔۔۔؟ بعض ایسی گھریلو برائیوں کی نشاندھی کی گئی ہے جن سے ایمان اور روزے کی حفاظت کے لئے اجتناب ضروری ہے ۔ خواتین اور صدقہ ، اخراجات میں اعتدال اور افراط وتفریط سے اجتناب کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت ، خواتین کے مسائل کے حوالے سے چنداہم فتوے خواتین کے ذوق مطالعہ کی نذر کئے گئے ہیں ۔ خواتین کی مجالس ، فرماں بردار خواتین کی دعائیں ، بچوں کی تربیت اور خاتون خانہ ، دعا کامرتبہ ومقام اور آداب ، چندقرآنی دعائیں ، رسول ﷺ کی مسنون دعائیں ، مسلم خاتون اور عید ، رمضان کے بعد عمل قبول ہونے کی علامات ، رمضان کے روزے اور قیام کی فضیلت ، کیا عورت عورتوں کو نماز تراویح کی امامت کرواسکتی ہے۔۔۔۔؟ حیض ونفاس والی عورت کاقرآن مجید، کتب حدیث پڑھنااور دعائیں کرنا ، نماز تراویح میں قرآن مجید سے دیکھ کر قرآت کرنا ، مستورات کااعتکاف جیسے اہم مسائل بیان کئے گئے ہیں ۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر ہماری ہر ماں ، بہن ، بیٹی اس کتاب کا مطالعہ کرلے تو وہ جہاں بہترین مومنہ صالحہ بن سکتی ہے وہاں وہ رمضان لمبارک کی رحمتوں ، سعادتوں اور برکتوں کو بھی سمیٹ کر جنت کی حقدار بن سکتی ہے ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • تبصرہ کتب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام

    تبصرہ کتب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام

    نام کتاب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام
    مﺅلف : مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    قیمت : 190روپے
    صفحات : 188
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” رمضان المبارک فضائل ، فوائد وثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام “ سے واضح ہے کہ اپنے موضوع پر یہ نہایت ہی مفید، جامع اور رہنما کتاب ہے۔ یہ کتاب دینی کتابوں کے مستند عالمی ادارہ ” دارالسلام انٹر نیشنل کی شائع کردہ ہے ۔ کتاب کے مصنف معروف عالم دین، مفسر قرآن فضیلتہ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم ہیں ۔ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے لکھنے کاحق ادا کردیتے ہیں ۔ انھیں اللہ تعالی نے دین و شریعت کے علم کا پختہ رسوخ عطا فرمایا تھا ۔ ایک مصنف کی حیثیت سے ان کے قلم میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہر موضوع کو جہاں کتاب و سنت کے استد لال سے مزین کرتے ہیں ‘ وہاں اس کی پیش کش میں ایک ایسا اسلوب اختیار کرتے ہیں جس میں سلامت ‘ روانی ‘ شگفتگی‘ وضاحت اور تحریر و انشاءکے تمام اوصاف موجود ہوتے ہیں ۔حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی پیش نظر کتاب۔۔۔۔ تین ابواب پر مشتمل ہے ۔

    کتاب میں بتایا گیا کہ ہم رمضان المبارک کااستقبال کیسے کریں ، رمضان المبارک کے خصوصی اعمال وظائف ،صحیح احادیث کی روشنی میں روزوں کی فضیلت وفرضیت ، روزے کے فوائد وثمرات ، روزے کے احکام ومسائل ،روزے کی تعریف ، روزے کے ضروری احکام ، کن کن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، قضائے روزہ، اعتکاف ، تروایح ، صدقة الفطر کے مسائل جیسے اہم موضوعات کتاب میں بیان کئے گئے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں روزے کی فرضیت اور اس کے مختصر احکام بیا ن کیے گئے ہیں مگر روزوں کا مکمل نقشہ احادیث کی کتابوں میں پوری تفصیل اور تشریح کے ساتھ موجود ہے جبکہ روزوں سے متعلق تقریباََ تمام صحیح احادیث اس کتاب میں جمع کردی گئی ہیں ۔ جہاں تک رمضان المبارک کی عبادات اور فضائل و برکات کا تعلق ہے اس پر درجنوں صحیح احادیث پیش کی جاتی ہیں مگر رسول ﷺ کا یہ فرمان کہ جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے ‘ اس کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ‘ یہ ایک عظیم خوشخبری اور بشارت ہے ‘ جس سے محرومی کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ لیکن یہاں ایک بات پر خصوصی توجہ رہنی چاہیے کہ اتنے بڑے انعام کا استحقاق صرف اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب رمضان المبارک کے روزے مسنون طریقہ پر رکھے جائیں اور ایمان و احتساب کی شرائط کو پورا کیا جائے‘ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔؟ اس مقصد کیلئے دارالسلام کی یہ کتاب اہل ایمان کے لئے لاجواب اور نہایت ہی عمدہ پیشکش ہے ۔

    دارالسلام انٹر نیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں مجھے یقین ہے کہ اس مختصر کتاب کے مطالعے سے ہر مسلمان رمضان المبارک کا شایان شان استقبال کر سکتا ہے، اس مقدس مہینے کے تمام شرعی اور مسنوں احکامات کو جان سکتا ہے ۔ اس کتاب میں جہاں روزے کے احکام و مسائل کو واضح کیاگیا ہے وہاں قیام الیل ( تراویح ) ‘ لیلتہ القدر ‘ اعتکاف اور صدقہ الفطر کے حوالے سے بھی کافی اور شافی مواد پیش کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب درحقیقت اہل ایمان کے لئے دارالسلام کی طرف سے رمضان المبارک کے مہینہ میں خصوصی سوغات اور تحفہ خاص ہے ۔ یہ کتاب دیکھنے میں اگر چہ مختصر ہے لیکن اختصار کے باوجود اس میں اتنی جامعیت ہے کہ ا س میں تمام ضروری اور اہم مسائل بیان کردیے گئے ہیں۔ کتاب میں احادیث ِ صحیحہ کی روشنی میں روزوں کی فضیلت کی تفصیل موجود ہے ۔اسی طرح کتاب میں رمضان المبارک سے متعلق بعض مشہور مگر ضعیف احادیث کی وضاحت بھی موجود ہے ۔ روزے کے فوائد و ثمرات کا تذکرہ ہے ‘ یعنی تقویٰ کیا ہے جو روزوں سے انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے ؟ روزوں سے تقویٰ کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟ اور تقویٰ سے کیا فوائد و ثمرات حاصل ہوتے ہیں ؟ قیام الیل یعنی نماز تراویح کے مسائل اور اس کی تعداد کی تحقیق بھی کتاب میں شامل ہے جو قابل مطالعہ ہے ۔ اعتکاف کے مسائل اور لیلتہ القدر کے فضائل کی وضاحت بھی کتاب میں شامل ہے ۔ اس اعتبار سے یہ کتاب بلا شبہ ” بقامت کہتربہ قیمت “ کے مصداق اور اس لائق ہے کہ ہر مسلمان اس کا مطالعہ کرے اور رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے اپنا دامن بھرنے اور رحمت و مغفرت الٰہی کا مستحق بننے کی کوشش کرے ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • تبصرہ کتب،نماز نبوی

    تبصرہ کتب،نماز نبوی

    نام کتاب : نماز نبوی
    مئولف : ڈاکٹر سید شفیق الرحمن ، تحقیق وتخریج ابوالطاہر زبیر علی زئی رحمہ اللہ
    ناشر : دالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    قیمت ، ایمپوڑٹڈ ایڈیشن 1150روپے ، لوکل ایڈیشن 850روپے
    نماز اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک نہایت اہم رکن ہے ‘ یہ عمل بھی ہے اور عقیدہ بھی ۔مومن کی پہچان بھی ہے اور معراج بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے اور ان (کافروں ) کے درمیان حدِ فاضل نماز ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ کفر کی طرف منسوب ہونے کے خوف سے منافقین بھی مسجد نبوی میں آکر نماز پڑھتے تھے ۔ نماز میں صرف زبان ہی اللہ رب العزت سے ہم کلام نہیں ہوتی ‘ بلکہ دل بھی اس کی بارگاہ میں تعظیم و محبت ‘ خوف و خشیت اور امید وانابت کے آداب بجالاتا ہے ۔ کسی نے خوب کہا ہے ـ: ’’ جب اللہ کی باتیں سننے کو دل چاہتا ہے تو قرآن پڑھتا ہوں جب اپنی سنانے کو دل چاہتا ہے تو نماز شروع کردیتا ہوں ‘‘ ۔ کیونکہ جب نمازی سورۃ الفاتحہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر ہر آیت کا جواب دیتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب نماز نبوی اسی موضوع پر دارالسلام کی شاہکار پیشکش ہے ۔ 380صفحات پر مشتمل اس کتاب میں نماز پنجگانہ ، نماز جمعہ ، نماز تہجد ، نماز عیدین ، نماز استسقا، سورج اور چاند گرہن کی نماز ، نماز تسبیح ، نماز اشراق ، نماز استخارہ ، نماز جنازہ اور ان سے متعلقہ تمام امور زیر بحث لائے گئے ہیں ۔ نماز کی فرضیت واہمیت ، اولاد کو نماز سیکھانے کی اہمیت ، ترک نماز کے نقصانات ، طہارت کے احکام ، نجاستوں سے پاکیزگی کیسے حاصل کی جائے ؟جنابت اور حیض سے متعلقہ احکام ومسائل ، غسل جنابت کیسے کیا جائے ؟ وضو کا مسنون طریقہ ، وضو کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے ؟ تیمم کے احکام ، نمازی کا لباس کیسا ہوناچاہئے ؟مساجد کی فضلیت اور احکام ، اوقات نماز کب شروع ہوتے اور کب ختم ہوتے ہیں ؟ نماز کے ممنوعہ اوقات کون سے ہیں ؟ اذان واقامت ،قبلہ اور سترہ ،نماز باجماعت کی اہمیت ، خواتین کا نماز کی ادائیگی کیلئے مساجد میں آنے کی شرعی اہمیت ؟ تکبیر اولیٰ سے سلام تک نماز کی مکمل ترتیب ، سجدہ سہو کابیان ، نماز کے بعد کے مسنون اذکار ، سنتوں کا بیان ، تہجد کی فضیلت واہمیت ، سفر میں نماز کیسے ادا کی جائے ؟ نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت واہمیت ؟ نماز عیدین اور ان کے احکام و مسائل ،سورج اور چاند گرہن کی نماز کا طریقہ ؟ نماز استسقا ، نماز اشراق ، نماز استخارہ ، نماز تسبیح ، نماز جنازہ کے احکام ومسائل ، بیمار پرسی کا مسنون طریقہ ، تجہیز وتکیفین کا طریقہ ۔۔۔۔ جیسے تمام اہم موضوعات زیر بحث لائے گئے ہیں ۔

    کتاب میں نماز کی اہمیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ بلاشبہ نماز ایک مکمل عبادت ہے جو بدنی ‘ قولی اور قلبی عبادات کا حسین امتزاج ہے ۔ لیکن اس کی قبولیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ادا کیا جائے ۔یہی وجہ ہے کہ نماز کے متعلق ہر کتاب کی پیشانی پر یہ حدیث نبوی ’’( نماز اسی طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھاہے ‘‘ )ضرور لکھی جاتی ہے۔ لہذا قبولیت کیلئے ضروری ہے کہ نماز سنت نبوی کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے تب ہی نماز اللہ کے ہاں قبولیت کے درجات طے کرے گی ۔ زیر نظر کتاب اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے ۔یہ کتاب گرامی قدر ڈاکٹر سید شفیق الرحمن نے ترتیب دی ہے جو جامع سلیس اور عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ سینکڑوں احادیث رسول و آثار سے مزین ہے ۔ نماز سے متعلق تمام موضوعات کا احاطہ کئے ہوئے مبالغہ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک جامع اور مستند دستاویز ہے ۔ اس کتاب کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف اور صرف صحیح احادیث شامل کی گئی ہیں جبکہ ضعیف احادیث سے اجتناب کیا گیا ہے ۔ احادیث کی تحقیق و تخریج معروف عصر حاضر کے معروف اور محقق عالم دین حافظ زبیر علی زئی مرحوم نے کی ہے۔ نیز کتاب پر نظر ثانی کا کام بھی ثقہ علماء کرام نے نہایت محنت اور نظر عمیق سے سر انجام دیا ہے اور حسب ضرورت حواشی بھی تحریر کیے گئے ہیں ۔ ان گرامی قدر علماء میں مولانا عبد الرشید ناظم ادارہ علوم اسلامیہ جھنگ ‘ مولانا اللہ یار مدرس دار الحدیث الحمدیہ جلال پور پیرا نوالا ‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم ، دارالسلام کے سینئر ریسرچ سکالر مولانا عبدالجبار شامل ہیں ۔ اس طرح سے یہ اپنے موضوع پر ایک مستند اور جامع دستاویز بن گئی ہے ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر فرد کی ضرورت ہے ۔ کتاب حاصل کرنے کیلئے کراچی میں دارالسلام مین طارق روڈ کراچی(0321-7796655) اور اسلام آباد میں دارالسلام مرکزF-8 اسلام آباد (051-2281513) پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر،ڈاکٹر صغریٰ صدف کا یوم پیدائش

    لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر،ڈاکٹر صغریٰ صدف کا یوم پیدائش

    لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر
    وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا

    ڈاکٹر صغری صدف
    28 فروری 1963: تاریخ پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر صغریٰ صدف صاحبہ ایک ہمہ جہت اور فعال ادبی شخصیت ہیں۔ اردو اور پنجابی زبان میں شاعری اور افسانہ نگاری کرتی ہیں جبکہ پاکستان کے مشہور اخبار ’جنگ‘ میں سماجی، سیاسی، لسانی اور صوفیانہ موضوعات پر کالم لکھتی ہیں۔ فلسفہ، سماجیات اور اردو میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے کئے ہیں۔ وہ 28 فروری 1963 میں ضلع گجرات پاکستان کی تحصیل کھاریاں کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے خاندان خواہ برداری میں لڑکیوں کو پڑھانا معیوب سمجھا جاتا تھا مگر ڈاکٹر صاحبہ کے والد صاحب جو کہ تعلیمی لحاظ سے مڈل پاس تھے انہوں نے اپنی بیٹی صغرا کی خواہش پر اعلی تعلیم دلوائی ۔ ڈاکٹر صاحبہ کا اصل نام صغری ہے قلمی نام صغرا صدف ہے ۔ صدف کا تخلص انہوں نے چھٹی جماعت میں اختیار کیا اس وقت انہیں صدف کے معنی بھی معلوم نہ تھا۔ شاعری میں ڈاکٹر شاہین مفتی صاحبہ سے انہوں نے رہنمائی حاصل کی ۔ وہ اپنی شاعری کو ” دل کی واردات” قرار دیتی ہیں ۔

    ڈاکٹر صاحبہ نے صوفی شاعر میاں محمد بخش پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تصنیف کیا ہے۔ پنجاب انسٹیٹوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی سماجی اور علمی اداروں اور تنظیموں کی رکن ہیں۔ پی ٹی وی کے لئے کئی پروگراموں کے اسکرپٹ لکھ اور پیش کر چکی ہیں ۔ ان کی اب تک شائع ہونے والی کتابوں میں : ’میں کیوں مانوں ہار‘ ’وعدہ‘ ’مورکھ من‘۔ ’جدا ہیں چاہتیں اپنی‘ ۔ ’مائے میں کنوں آنکھاں‘ (شعری مجموعے ) ’قلم‘ ’نقطہ‘ ’استغراق‘ (کالموں کے مجموعے) ’فیض کا عمرانی فلسفہ‘ اور ’میاں محمد بخش‘ ’فلاسفی آف ڈوائن لو‘(تحقیق اور تنقید) اس کے علاوہ چھ کتابیں انگریزی اور پنجابی سے اردو تراجم کی اور پنجابی میں افسانوں کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ علامہ اقبال ٹاون لاہور میں مستقل طور منتقل ہو چکی ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مدتوں جس سے ملاقات نہ تھی
    جب وہ آیا تو کوئی بات نہ تھی

    دل بھی کچھ سرد ہوا جاتا ہے
    مجھ میں بھی شدت جذبات نہ تھی

    وہ کہ سمجھا ہی نہیں نظروں کو
    میری آنکھوں میں کوئی رات نہ تھی

    کیسے ممکن تھا کہ ہوتی مجھ کو
    میری قسمت میں اگر مات نہ تھی

    میں کہ کھوئی رہی اپنے من میں
    میرے رستے میں مری ذات نہ تھی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے
    طوفاں کے بعد کوئی کنارا ملے مجھے

    جیون میں حادثوں کی ہی تکرار کیوں رہے
    لمحہ کوئی خوشی کا دوبارہ ملے مجھے

    بن چاہے میری راہ میں کیوں آ رہے ہیں لوگ
    جو چاہتی ہوں میں وہ نظارا ملے مجھے

    سارے جہاں کی روشنی کب مانگتی ہوں میں
    بس میری زندگی کا ستارا ملے مجھے

    دنیا میں کون ہے جو صدفؔ سکھ سمیٹ لے
    دیکھا جسے بھی درد کا مارا ملے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دکھ اپنا چھپانے میں ذرا وقت لگے گا
    اب اس کو بھلانے میں ذرا وقت لگے گا

    تو نے جو پکارا تو پلٹ آؤں گی واپس
    ہاں لوٹ کے آنے میں ذرا وقت لگے گا

    لکھا تھا بڑے چاؤ سے جس نام کو دل پر
    وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا

    دیتا ہے کسی اور کو ترجیح وہ مجھ پر
    اس کو یہ جتانے میں ذرا وقت لگے گا

    جس شاخ پہ پھل پھول نہیں آئے ہیں اب تک
    وہ شاخ جھکانے میں ذرا وقت لگے گا

    سب رنج و الم ملنے چلے آئے ہیں مجھ سے
    محفل کو سجانے میں ذرا وقت لگے گا

    میں دیکھ بھی سکتی ہوں کسی اور کو تجھ سنگ
    یہ درد کمانے میں ذرا وقت لگے گا

    جو آگ صدفؔ ہجر نے ہے دل میں لگائی
    وہ آگ بجھانے میں ذرا وقت لگے گا

  • تبصرہ کتب، مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں
    مﺅلف : مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال لاہور
    قیمت : پاکٹ سائز 190روپے ، میڈیم سائز 250روپے ،لارج سائز 390روپے
    برائے رابطہ : 024-37324034
    رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔ رمضان المبارک میں فرضی نماز ہو یا نوافل یا روزمرہ کی دعائیں ان کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے تاہم اسکے لئے ضروری ہے کہ انسان یہ سب عبادات مسنون طریقے کے مطابق بجا لائے ۔ عبادات میں سے نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے ۔ حدیث کی رو سے یہ دین کا ستون اور معراج کا عظیم تحفہ ہے ، روزِ قیامت سب سے پہلے نماز ہی کی پرشس ہوگی ، لہٰذا نماز کی حفاظت کے پیش نظر دارالسلام انٹر نیشنل نے زیر نظر کتاب ” مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں “ شائع کی ہے ۔ یہ کتاب مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی تالیف ہے ۔ محترم حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کا نام علمی دینی حلقوں کے لئے محتاج تعارف نہیں ہے ۔ وہ جید عالم دین، محقق، مفسر ، اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر ، وفاقی شرعی عدالت کے جج اور کتب کثیرہ کے مصنف تھے ۔اردو کے علاوہ دیگر کئی زبانوں میں بھی ان کی کتابوں کے تراجم شائع ہوچکے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ” مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں “ کے عنوان سے حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی مختصر مگر بہت جامع کتاب ہے جس میں نماز کے احکام کے علاوہ طہارت اور وضو کے مسائل ، نیز مسنون اذکار اور دعائیں بھی شامل کی گئیں ہیں ۔ یہ بات خلاصہ کلام کی حیثیت رکھتی ہے کہ نماز ہی مسلم و غیر مسلم کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے ۔ اسی لیے ہر مسلمان پرلازم ہے کہ وہ نماز پابندی سے اور مسنون طریقے سے ادا کرے ۔ زیر نظر کتاب ” مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں “ اس مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے ۔ کتاب میں غیر ضروری اور پیچیدہ مباحث سے پرہیز کیا گیا ہے ۔یہ بات بلا خوف تردید کی جاسکتی ہے کہ نماز کے متعلق کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو اس کتاب میں بیان نہ کیا گیا ہو ۔ کتاب کے معنوی حسن کے ساتھ ساتھ اس کے ظاہری حسن کو خوبصورت کتابت نے چار چاند لگا دیے ہیں ۔ الحمد اللہ ، ان خوبیوں نے اس کتاب کو نماز کے موضوع پر لکھی گئی تمام کتب میں منفرد بنا دیا ہے ۔ کتاب میں نماز کے طریقہ نبوی کے علاوہ نماز پنجگانہ یعنی پانچ فرض نمازوں اور دیگر نمازوں کی تفصیل، ان کے ضروری احکام و مسائل اور روز مرہ کی دعائیں شامل ہیں ۔

    کتاب کی چند امتیازی خصوصیات درج ذیل ہیں :
    کتاب میں صرف صحیح احادیث سے استدلال کیا گیا ہے ۔ تفصیل کی بجائے اختصار سے کام لیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ بعض جگہ حوالوں کے بغیر بھی بہت سے مسائل بیان کیے گئے ہیں لیکن ایسا صرف اختصار کے پیش نظر کیا گیا ہے ورنہ کوئی مسئلہ بے دلیل نہیں ہے ۔ اکثر جگہوں پر حوالے موجود ہیں اور وہ مکمل شکل میں ہیں یعنی کتاب ، باب او ر حدیث نمبر تاکہ دلیل اور حوالہ کا متلاشی آسانی سے اصل کتاب تک رسائی حاصل کرسکے ۔ نماز اور دعاﺅں کا ترجمہ لفظی کیا گیا ہے تاکہ ہر لفظ کا ترجمہ سمجھ میں آجائے ۔ نماز اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے لیکن بد قسمتی سے اس سے بے اعتنائی بھی عام ہے ۔ اکثر لوگ تو اس فریضے سے بالکل ہی غافل ہیں او ر جو نمازی ہیں وہ بھی نماز میں تعدیل ارکان اور خشوع خضوع کا قطعاََ اہتمام نہیں کرتے ۔ اس لیے نماز کی حقیقت سے وہ بھی بے خبر اور اس کے فوائد سے یکسر محروم ہیں ۔ حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کامیابی کی نوید انہی اہل ایمان کے لیے بیان کی ہے جو اپنی نمازوں میں خشوع کا اہتمام کرتے ہیں ۔ نماز میں خشوع اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک سنت نبوی کے مطابق نماز نہ پڑھی جائے ۔ اس کتاب میں نماز کا طریقہ اس کے دیگر احکام و مسائل ، سب سنت رسول ﷺ ہی کی روشنی میں بیان کئے گئے ہیں ۔ رمضان المبارک کی آمد سے قبل اس کتاب کا مطالعہ تمام مردو خواتین ، بچوں بزرگوں کےلئے بے حد مفید ثابت ہوگا ان شاءاللہ

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    نام کتاب : زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر
    فضائل ، احکام ومسائل
    مئولف : حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ،نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال، لاہور
    صفحات : 135
    قیمت : 220روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    شعبان اور رمضان المبارکی آمد آمد ہے ۔ ان مہینوں میں مسلمان اپنے مال ، زیورات ،سوناچاندی میں سے زکوٰۃ نکالتے ہیں ۔زکوٰۃ ۔۔۔اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ۔یہ نہایت ہی اہم فریضہ ہے جو نہ صرف مال کو پاک کرتا بلکہ مال کو بڑھاتا بھی ہے جبکہ پاکیزہ مال انسان کی صحت سلامتی اور جان ومال میں برکت کااہم ذریعہ ثابت ہوتا ہے ۔ زکوٰۃ جس قدر اہم فریضہ ہے ہمارے مسلمان بھائی بہنیں اس کے نصاب ، مسائل اور فضائل سے اتنے ہی لاعلم ہیں ۔ پیش نظر کتاب ’’ زکوٰۃ ، عشر اور صدقۃ الفطر اسی موضوع پر ایک اہم پیشکش ہے جسے دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ’’ دارالسلام‘‘ نے اپنے روایتی تزک واحتشام ، خوبصورت جاذب نظر ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف مفسر قرآن ، جید عالم دین اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم ہیں۔ حافظ صلاح الدین یوسف کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں وہ جس موضوع پر لکھتے تو قرآن وحدیث کی روشنی میں لکھنے کاحق ادا کردیا کرتے تھے ۔ یہ کتاب اپنے موضوع کے تمام پہلوئووں کاکماحقہ احاطہ کئے ہوئے ہے ۔

    حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم نے زکوٰۃ ، عشر ، صدقۃ الفطر اور ان سے متعلقہ کسی بھی موضوع کوتشنہ نہیں چھوڑا ۔ کتاب میں بتایاگیا ہے کہ زکوٰۃ کے دو پہلو ہیں ۔ عبادت ہونے کے اعتبار سے اس کاتعلق حقوق اللہ سے ہے اور چونکہ اس سے بندگان الہی بھی مستفید فیض یاب ہوتے ہیں ، لاکھوں کروڑوں فقرا ومساکین ، یتامیٰ ، بیوگان ، معذور اور اپاہج قسم کے افرادکے معاشی مفادات بھی زکوٰۃ سے وابستہ ہیں ۔ اس لحاظ سے زکوٰۃ کاتعلق حقوق العباد سے بھی ہے ۔ اس سے زکوٰۃ کی اہمیت وافادیت واضح ہے ۔ اس کے عبادت ہونے کامطلب یہ ہے کہ اس کی ادائیگی سے انسان کو اللہ کاخصوصی قرب اوراس کی رضا حاصل ہوتی ہے ، مال بڑھتا اور پاک ہوتا ہے ۔ اس کادوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ معاشرے کے معذور اور نادار افراد کی معاشی کفالت کابھی ایک بہت بڑاذریعہ ہے ۔ جس سے ایک انسان کے دل میں ضرورت مندوں کی خبرگیری اوران کی خیرخواہی کاجذبہ بیدارہوتا ہے ۔ چارابواب پر مشتمل کتاب میں بتایاگیا ہے کہ اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت وافادیت کیا ہے ؟ زکوٰۃ نہ دینے کے لئے کیا وعید ہے ؟ زکوٰۃ کے علاوہ دیگر صدقات ، اجتماعی طور پر زکوٰۃ کی تقسیم کے فوائد ، زکوٰۃ وصول کرنے والوں کے لئے نبی ﷺ کی کیا ہدایات ہیں ، کیا مقروض پر زکوٰۃ ہے یانہیں ؟ مشینری پر زکوٰۃ ، سونے ، چاندی ، زیور ، مال تجارت ، نقدی، زرعی پیداوار ، پھلوں کانصاب کتنا ہے، مال ِ تجارت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کاطریقہ کار کیا ہے ، پھلوں اور غلوں کے نصاب کاوقت کیا ہے ؟ جانوروں کی زکوٰۃ کی تفصیل ؟ مصارف زکوٰۃ کیا ہیں ؟ وہ افراد جن کے لئے زکوٰۃ جائز نہیں ۔ صدقۃ الفطر کے کیامسائل ہیں ۔۔۔؟

    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان معاشروں میں معاشی ناہمواری انتہاکو پہنچی ہوئی ہے ایک طرف دولت کے جزیرے آباد ہیں اور دوسری طرف غربت وناداری کی گہرائیاں ہیں ۔ گداگری کی لعنت عام ہے ، سفید پوش قسم کے لوگوں سے تعاون کاکوئی آبرومندانہ انتظام نہیں ، گردش دولت کی وہ صورت نہیں ہے جواسلام میں مطلوب ہے بلکہ دولت جمع کرنے کی ہوس ہے جواسلام میں بالعموم ناپسندیدہ ہے ، باہم تعاون کی وہ کیفیت نہیں جن کااہتمام زکوٰۃ کے ذریعے سے کیاجاتاہے اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کاوہ اہتمام بھی نہیں ہے جوزکوٰۃ کے ایک مصرف فی سبیل اللہ کے قدرے وسیع مفہوم ومطلب کاتقاضہ ہے ، اسی طرح تالیف قلب کابھی خاص اہتمام نہیں ہے جس کے ذریعے سے غیر مسلموں کواسلام کی طرف راغب کیاجاسکے ۔ اس کتاب میں ان تمام پہلوئووں کو بھی اجاگر کیاگیا ہے جوعلماکے لئے بھی قابل غورفکر ہیں اور ارباب بست وکشاد کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہیں۔ کتاب کے آخر میں زکوٰۃ کاانکار کرنے والوں کاافکار ونظریات کاذکر اور بالخصوص غلام احمد پرویز کے اشتراکی نظریہ کاقرآن وحدیث کی روشنی میں جائزہ لے کر ان کارد کیاگیا ہے ۔ اس طرح سے اس کتاب کی اہمیت وافادیت کئی گنابڑھ گئی ہے جو کہ اہل اسلام کے لئے ایک گرانقدر ہدیہ سے کم نہیں ہے ۔ شعبان اور رمضان کے ایام شروع ہونے سے پہلے اس کتاب کاہر صاحب ِ نصاب زکوٰۃ فرد کے پاس ہونا مفید ہے ۔