Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    نام کتاب : واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات
    مئولف : حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 122
    قیمت : 190روپے

    پیش نظر کتاب ’’ واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات ‘‘ مفسر قرآن ، بزرگ عالم دین حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی تصنیف ہے جسے دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ’’ دارالسلام ‘‘ نے شائع کیا ہے ۔ یہ کتاب اگرچہ حجم میں مختصر ہے لیکن اپنے موضوع پر ایک جامع، مستند داور علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہی ۔ کتاب چھ ابواب پر مشتمل پر ہے ۔ پہلے باب میں بتایاگیاہے کہ معراج کے دو حصے ہیں پہلے کو ’’ اسرا ‘‘ اور دوسرے کو ’’ معراج ‘‘ کہاجاتا ہے ۔ واقعہ معراج کشف ، مشاہدہ یا خواب کا واقعہ نہیں بلکہ روح اور بدن کے ساتھ عالم بیداری کاواقعہ ہے ۔ کتاب کے دوسرے باب میں واقعہ معراج کی بابت تمام صحیح احادیث یکجا کردی گئی ہیں ۔ بعدازاں ان تمام احادیث کی توضیح بھی بیان کردی گئی ہے جس سے ایک عام قاری کے لئے واقعہ معراج کو سمجھنا انتہائی آسان ہوجاتا ہے ۔ شب معراج میں نماز کی فرضیت کی حکمت پر بات کی گئی ہے ۔ یہ بھی بتایاگیا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ میں اللہ نے امت محمدیہ کونماز کے علاوہ بھی دیگر دو تحفے دیے ہیں ۔ تیسرے باب میں تفصیل کے ساتھ مشاہدات ِ معراج یعنی روئت باری تعالیٰ اور ا للہ سے کلام کاذکر کیاگیا ہے۔ قائلین روئت باری تعالیٰ کے دلائل اور ان کاتجزیہ بیان کیاگیا ہے ۔چوتھے باب میں معراج کی عظیم نشانیاں ، حضرت موسی علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا ، داروغہ جہنم ، دجال کامشاہدہ ، نہر کوثر کامشاہدہ ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کاامت محمدیہ کے نام خصوصی پیغام ، سینگی لگوانے کی اہمیت اور دیگر امورکاذکر کیاگیا ہے ۔ پانچویں باب میں جہنم کے مشاہدات یعنی غیبت کرنے والوں ، بے عمل خطبا کاانجام اور ناقۃ اللہ ( حضرت صالح علیہ السلام ) کی اونٹنی کے قاتل کے انجام کے مشاہدے کاذکر کیاگیا ہے ۔ چھٹے اور آخری باب میں واقعہ معراج کے بارے میں ایسے تمام واقعات جمع کردیے گے ہیں جو اگرچہ بہت مشہور ہیں لیکن غیر مستند ہیں ۔ کتاب میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ واقعہ معراج ہمارے پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد رسول ﷺ کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے، یہ عظیم تر معجزہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو چشم زدن میں رونما ہوا لیکن حقیقت میں اس میں کتنا وقت لگا یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔واقعہ معراج دنیا کاایک ایسا واقعہ ہے کہ جس کا وقت مختصر ترین ہے لیکن سفر دنیا کاطویل ترین ہے ایسا طویل ترین سفر کہ جسے کسی پیمانے کے ساتھ ماپا نہیں جاسکتا ۔ ہماراایمان ہے کہ یہ سب ہوا۔۔۔۔لیکن یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔ کیوں کر ہوا ۔۔۔۔اس کے بارے میںہمارا اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی قدرت کاملہ کے بیشمار مشاہدات بھی کروائے ۔واقعہ معراج کا ثبوت اور ذکر قرآن کریم اوراحادیث صحیحہ دونوں میں ہے ۔ لیکن مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو اسے ایک کشفی ، روحانی یا خواب کے مشاہدے سے تعبیر کر کے اسکی معجزانہ حیثیت کا انکار کرتا ہے ۔ ایک دوسراگروہ ہے جو اس میں بہت سی بے سرو پار وایات شامل کر کے اسے کچھ کاکچھ بنا دیتا ہے ۔ ظاہر بات یہ ہے کہ دونوں ہی گروہ افراط و تفریط و شکار ہیں ۔اردو زبان میں اس موضوع پر آج تک کوئی مستند اور معیاری کام نہیں ہوا جس کی تشنگی مدت اور شدت سے محسوس کی جارہی تھی ۔ خاص طور پر روایات عامہ کی صحت و ضعف کا خیال رکھتے ہوئے اس واقعے کے حقائق بیان کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی ۔ یہ بڑی مسرت کی بات ہے کہ اس اہم موضوع پر بر گزیدہ عالم دین ، مصنف کتب ِ کثیرہ ، مفسر قرآن الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم نے قلم اٹھایا اور علم ونظر کے اعلیٰ پیمانے اور تحقیق و جستجو کی کسوٹی پر رکھ کر یہ واقعہ مستند حقائق سمیت قارئین کے سامنے پیش کر دیاہے۔اردو زبان میں پہلی کتاب ہے جو واقعہ معراج کو اس کے صحیح تناظر میں پیش کرتی اور اس کے واقعاتی مشاہدات کو غیر مستند روایات سے ممیز کرتی ہے ۔ دارالسلام نے اپنے روایتی معیار طباعت کے مطابق یہ کتاب نہایت خوبصورت پیرائے میں شائع کی ہے ۔یہ کتاب ہر لائبریری ، خطیب ، واعظ کی ضرورت ہے عام آدمی کے لئے بھی اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔ کتاب کی قیمت 135روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ لاہور پر دستیاب ہے یا براہ راست کتاب حاصل کرنے کے لئے درج ذیل فون نمبر 042-37324034پر رابطہ کیاجاسکتا ہے ۔ اس کتاب میں پہلی مرتبہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ روایات معراج کی توضیح اس انداز سے کی جائے کے واقعے کی صحیح شکل واضح ہوکر سامنے آجائے ۔ عام طور پر اس کے لئے ’’ معراج‘‘ کالفظ استعمال کیا جاتاہے

  • کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو اپنے دور کے صاحب طرز ادیب عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنی پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    hussain saqib

  • تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    نام کتاب : بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا
    مصنف : العربی بن رزوق
    صفحات : 382فور کلر آرٹ پیپر
    قیمت :2625روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کے مقابلے میں مسلمان والدین اپنے بچوں کی تربیت اس احساس فرض کی وجہ سے کرتے ہیں کہ نئی نسل کی تربیت کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس قدر اہم ہے کہ یہ فرض ادا کرنے والا شخص اپنے رب کے ہاں کبھی نہ ختم ہونے والے اجر و انعام پاتا ہے نئی نسل کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے کے لیے ان میں دینی تعلیمات سے لگاؤ پیدا کیا جائے اس مقصد کے لیے بچوں کی ابتدا عمر ہی سے اچھی تربیت کی کوشش ضروری ہے کیونکہ عام اصول یہی ہے کہ بلند و بالا پکی عمارت بنانے کے لیے سب سے پہلے بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اسی احساس کے پیش نظر دارسلام نے بچوں کے لیے ابتدائی عمر ہی سے دینی و اخلاقی لٹریچر کی تیاری کا بھیڑا اٹھایا ہے اس سلسلے کے پہلے مرحلے میں اردو اور انگریزی زبان میں تو بات اشاعت کے بین ال بین الاقوامی معیار کے مطابق مختلف عمر کے بچوں کے لیے دلچسپ بامقصد اور دیدہ زیب لٹریچر تیار کیا جاتا ہے اسلامی تعلیمات پر مبنی دل نشین کہانیوں کی کتابوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ نصابی اور دیگر مفید و معین کتب کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے اس مقصد کے لیے بچوں کی ذہنی و نفسیاتی کیفیات کا ادراک رکھنے والے دینی سوچ کے حامل ماہرین تعلیم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا اسی سلسلے کی نہایت اہم پیشکش ہے جسے ادارے کو پہلے انگریزی میں اور بات اذاں اردو میں تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے اس میں حروف تہجی کے اعتبار سے بنیادی دینی تعلیمات اور اصطلاحات کو بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق نہایت اسان اور عام فہم انداز میں تحریر کیا گیا ہے

    کسی بھی قوم کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری اپنی نئی نسل کی تربیت ہے امت مسلمہ کے لیے یہ کام اور بھی زیادہ اہم ہے جو قومیں مادہ پرستانہ نقطہ نظر رکھتی ہیں ان کے لیے نئی نسلوں کی تربیت نسبتا اسان ہے انہیں صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ مادی ضرورتوں کو پورا کرنے یا مادی اسائشوں کے حصول کی جو خواہش ہر انسان میں پائی جاتی ہے اس کو بنیاد بنا کر وہ علوم سکھانے کا انتظام کر دیں جو اس مقصد کے لیے معاون ہو سکتے ہیں ان کے برعکس اللہ تعالی نے امت مسلمہ کو یہ حکم دیا ہے کہ یہ دنیا محض ایک عارضی مرحلہ ہے ان کا اصل کام اپنی زندگی اور اپنی ساری صلاحیتوں کو چند روزہ تعینات کے حصول کے لیے ضائع کر دینا نہیں دنیا کی خوشحالی ان کی اصل جدوجہد کے ضمن میں خود بخود حاصل ہو جائے گی دنیاوی زندگی کے دوران میں ان کا اصل کام سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ہے کہ اس ساری کائنات میں اصل اختیار کس کا ہے اس کو کس نے بنایا اور کس مقصد کے لیے بنایا ہے یہ سمجھنے کے بعد اس مختار مطلق کی مرضی کے مطابق اپنی دنیا کو نیکیوں بہلائیوں امن اور سلامتی سے معمور کر دینا ہے ہر صورت میں انہیں اپنا کردار بھلائیوں کی تقسیم کے حوالے سے ادا کرنا ہے دوسروں کی قیمت پر اپنا فائدہ ظلم نا انصافی وغیرہ ان قوتوں کے ایماں پر کی جاتی ہیں جو نبی بنی نوع انسان کے دشمن ہیں

    بازار بچوں کے لیے طرح طرح کی خوبصورت اور جاذب نظر کتابوں سے بھرے پڑے ہیں عام معلومات میں اضافے کی کتابوں سے لے کر مختلف علوم و فنون کے لیے انسائکلو پیریا تک اور سائنس سے لے کر قوموں اور نسلوں کی برتری کے پرچار سے بھرے ہوئے بچوں کے ناولوں تک لاکھوں کی تعداد میں کتابیں موجود ہیں ہر گلی کی ہر گلی کی کتابوں کی دکانوں میں ان کے ڈھیر لگے ہیں اگر دشوار ہے تو ایسی کتابوں کا ڈھونڈنا جو بچوں کو انسانیت کی سلامتی امن اور ہم اہنگی کہ ابدی ابدی اصولوں سے روشناس کرا سکیں جو انسانیت کی بھلائی کے ضامن دین کے بارے میں بچوں کو معلومات دے سکیں اللہ کا شکر ہے کہ دارالسلام اس مید ان میں بھی اپنے حصے کا کام کیے جا رہا ہے بچوں کے لیے انتہائی دیدہ زیب پاکیزہ اور دلچسپ کتابوں کی ایک سیریز ہے جن میں سے ہر بچے کی لائبریری سج جاتی ہے الحمدللہ یہ کتابیں ہماری نئی نسل کو محض روایتی مسلمان کی بجائے باشعور صحیح معلومات سے مزین پرعظم پرجوش اور انسانی خدمت اور بہرائی کا مخلصانہ احساس رکھنے والے نوجوانوں کی حیثیت سے پروان چردھانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں

    یہ کتاب مسلمان بچوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات اور تصورات سے اگاہ کرنے کی ایک عمدہ کوشش ہے یہ حوالے کی ایک کتاب ہے جو بنیادی طور پر 10 سال اور اس سے کچھ زائد عمر کے بچوں کے لیے لکھی گئی ہے اس میں شامل موضوعات نہایت اسان اور سلیس زبان میں حروف تہجی کی ترتیب سے پیش کیے گئے ہیں یہ معلومات حوالہ درحوالہ کے طور پر اس طرح درج کی گئی ہیں کہ پڑھنے والے کو ایک متن سے دوسرے متن کی طرف جانے کی ترغیب ملتی ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان میں سے بہت سی بنیادی باتوں کو بھول چکی ہے اور یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ کچھ غیر مسلموں نے ان میں سے بعض تصورات کی غلط تاریخ پیش کر کے ان کے بارے میں الجھاؤ پیدا کیا ہے یہ کتاب نہ صرف توحید شرک ایمان اور احسان جیسی اصطلاحات کی تشریح کرتی ہے بلکہ مشہور و نام اور نامور انبیاء￿ و رسل کے حالات زندگی پر بھی روشنی ڈالتی ہے اس کے علاوہ اہم تقریبات مثلا عیدین وغیرہ ان کے منائے جانے کے فوائد نیز خلفائے راشدین کی مختصر سوانح حیات بھی اس کتاب میں شامل ہے جنہوں نے امت مسلمہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں یہ کتاب اگرچہ مسلمان بچوں کے لیے مرتب کی گئی ہے لیکن بڑی عمر کے طلبہ و طالبات اور دیگر عقائد و مذاہب سے تعلق رکھنے والے شائقین مطالعہ بھی اس کے ذریعے سے اسلام کے بارے میں مستند معلومات حاصل کر سکتے ہیں اس سے ان کے ذخیرہ علم مزید اضافہ ہوگا اس کتاب میں پیش کردہ معلومات زیادہ تر قران مجید کی ایات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مستند احادیث پر مبنی ہیں جب قران مجید کی کسی سورت کا حوالہ دیا گیا ہے تو اس میں سور? کا نام سور? نمبر اور ایت کا نمبر شمار بھی درج کیا گیا ہے

  • تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : خواتین کے امتیازی مسائل
    نام مﺅلف : مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    صفحات : 241
    قیمت : 1075روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    زیر نظر کتاب” خواتین کے امتیازی مسائل “یہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے ۔اپنے مضامین کے اعتبار سے یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ اسلئے کہ معاشرے کی تعمیر اور اصلاح میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے ۔ خواتین کی تربیت صحیح ہوگی تو فرد اور معاشرہ درست بنیادوں پر استوار ہوگا ۔اسلام نے خواتین کی تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں ہماری ہر پہلو سے رہنمائی کی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات سے بے بہرہ ہوچکے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گذشتہ تین چار سالوں سے ” عورت مارچ “ کے نام پر طوفان بدتمیزی برپاکیا جارہا ہے ۔ اس موقع پر ایسے ایسے نعرے لگائے جاتے اور پوسٹر لہرائے جاتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔ان حالات میں ” دارالسلام “انٹرنیشنل نے اسلام کی عفت ماٰ ب ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں کےلئے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ ” خواتین کے امتیازی مسائل “ کا دوسرا ایڈیشن شائع کیاجائے ۔یہ کتاب معروف عالم دین ، مفسر قرآن اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق ممبر حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی تالیف ہے ۔ یہ کتاب حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کے خواتین کے مسائل کے متعلق مختلف اوقات میں تحریر کیے گئے علمی اور تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان میں سے ہر مضمون کی اپنی اہمیت ہے جو کہ لائق مطالعہ ہے ۔ مثلاََ ”عورت کی سربراہی کا مسئلہ “ یہ مضامین اس وقت تحریر کئے گئے تھے جب بے نظیر پہلی دفعہ پاکستان کی وزیراعظم بنیں ۔اسی طرح جنرل ضیاءالحق کے دور میں جب حدود و قصاص کا آرڈیننس نافذ کیا گیا جس میں شریعت کے عین مطابق عورت کی گواہی کو مرد کی گواہی کے مقابلے میں نصف قرار دیا گیا تو مغرب زدہ طبقے نے اس کے خلاف بہت شور مچایا اور اسے عورت کی توہین قرار دیا یہاں تک کہ اس آرڈیننس کو شرعی عدالت میں چیلنج کر دیاگیا ۔ اس وقت شرعی عدالت کی درخواست پر محترم حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم نے ایک مفصل مقالہ تحریر کیاتھا اس کا ایک حصہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ 1976 ءمیں مسٹر بھٹو کے دور حکومت میں قائم کردہ ایک خواتین کمیشن کی تجاویز پر تبصرہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ اسی طرح پرویز مشرف کے دور میں حدود آرڈیننس کا تیاپانچہ کر کے جو تحفظ حقوق نسواں ایکٹ نافذ کیا گیا اس کی حقیقت بھی کتاب میں واضح کی گئی ہے۔ امریکہ میں وقوع پذیر ہونے والے فتنہ امامت ِ زن پر بھی تبصرہ ہے جو اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ مغربی استعمار کی سازشوں کے نتیجے میں ظہور میں آیا ہے۔

    علاوہ ازیں کتاب میں درج ذیل موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے : اسلام میں عورت کا مقام ، عورت کے شرف وتحفظ کےلئے اسلام کی تعلیمات ،شادی سے قبل اور شادی کے بعد عورت کا مقام ومرتبہ ، عورت اور مرد کا دائرہ کار ، معاشی کفالت کا ذمہ دار کون ۔۔۔۔مرد یا عورت ؟ عورت کےلئے پردے کا حکم ، وراثت میں عورت کا حصہ ، مرد کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت کیوں ۔۔۔۔؟ مرد کا حق ِ طلاق اور اس کی حکمتیں ، مسئلہ شہادت ِ نسواں ، عورت خانگی امور اور پرورش ِ اولاد کی ذمہ دار ، تربیت اولاد میں عورت کا کردار ، عورت کےلئے پردے کے احکام وآداب ، بے پردگی کی مختلف شکلیں ، شادی بیاہ میں ویڈیو اور حسن وجمال کی نمائش کی وبا ، کن کن لوگوں سے پردہ ضروری ہے ۔۔۔۔؟ مثالی مسلمان عورت کی صفات ، عورت کےلئے کرنے والے اہم کام ، وہ کام جن سے اجتناب کرنا عورت کےلئے ضروری ہے ، عورت اور تعلیم ، لاکھوں بے روزگار مردوں کی موجودگی میں عورت کی ملازمت کا کوئی جواز نہیں ہے ، خاوند کی ناشکری ایک بڑاجرم اور اس کا نبوی حل ، رہن سہن میں نازونعمت کی بجائے تواضع اور سادگی پسندیدہ عمل ہے ۔۔۔۔” قوم کی نصف آبادی بیکار “ کا نعرہ ۔۔۔۔افسانہ ہے یا حقیقت ۔۔۔۔۔؟ عورت اور سیاست ، مسلمان خواتین کے حل طلب ضروری مسائل کی ایک فہرست ، اسلام میں عورت کی سربراہی کا تصور ، جنگ جمل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کردار سے عورت کی سربراہی کا استدلال ۔۔۔۔! قرآن کریم میں ملکہ بلقیس کے ذکر سے استدلال ، قرآن کریم میں عورت کی سربراہی کے عدم جواز کے دلائل ، بعض مسلمان عورتوں کی حکمرانی کی حقیقت ، غزوات میں عورتوں کی سربراہی کی حقیقت ! عورت اقبال کی نظر میں ، عورت کی عفت وپاکیزگی کا مفہوم ، عورت اور مسئلہ ولایت ِ نکاح ، مرد کےلئے تعدد ازدواج اور اس کی حکمتیں ، عورت بیک وقت ایک سے زیادہ نکاح کیوں نہیں کرسکتی ۔۔۔۔؟ عورت کو اللہ تعالیٰ نے طلاق کا حق کیوں نہیں دیا ۔۔۔۔؟ عورت کا حق خلع اور اس کے مسائل ، عورت کا مسئلہ شہادت ، مرد کے مقابلے میں عورت کا نصف حصہ ِ وراثت کیوں ۔۔۔۔۔؟ مرد اور عورت کی نماز کا فرق ، مطلقہ کےلئے نان ونفقہ ۔۔۔۔؟ تربیت اطفال کے ادارے ،عورت کے حقوق کا تحفظ اسلامی تعلیمات کے ذریعے ہی ممکن ہے ، قانون الہیٰ سے انحراف سراسر تباہی کا راستہ ہے ، خاندانی نظام کی تباہی ، بن بیاہی ( کنواری ماﺅں ) کا طوفان ۔۔۔۔ ان جیسے دیگر موضوعات کو کتاب میں زیر بحث بناگیا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اپنے موضوع پر یہ نہایت ہی شاندار اور لاجواب کتاب ہے ۔یہ کتاب ہر گھراور ہرفرد کی ضرورت ہے ۔۔۔ہماری ہر قابل احترام ماں ، بہن یا بیٹی سب کےلئے اشد ضروری ہے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں ۔ جو بہن بیٹی اس کتاب کا مطالعہ کرلے وہ زندگی کے کسی درجے کسی مرحلے اور عمر کی کسی بھی سطح پر کسی بھی معاشی یا معاشرتی پریشانی کا شکار نہیں ہوگی ان شاءاللہ ۔

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • تبصرہ کتب، جنوں اور شیطانوں کی دنیا،جادو کی حقیقت

    تبصرہ کتب، جنوں اور شیطانوں کی دنیا،جادو کی حقیقت

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا
    جادوکی حقیقت
    خطرات ،احتیاطی تدابیراورعلاج
    مصنف : غازی عزیز مبارک پوری
    صفحات : 392
    قیمت : 1000روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ،نزد ایکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    دارالسلام کی شائع کردہ پیش نظر کتاب” جنوں اور شیطانوں کی دنیا ، جادوکی حقیقت ، خطرات ، احتیاطی ، تدابیر اور علاج “ ایک انتہائی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ برصغیر میں جادو کا وجود ہمیشہ سے لوگوںکی توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ بنگال کا کالا جادو تو پوری دنیا میں آج بھی اپنا ایک امتیازی مقام رکھتا ہے ۔چونکہ پاکستان بھی ہندوستان کاحصہ رہاہے اس لئے یہاں بھی جادوکی تمام اقسام پائی جاتی ہیں ۔یہ جادو پہلے زیادہ تر غیر مسلم طبقہ تک ہی محدود تھا لیکن آج جادو کی وبا مسلم طبقہ میں بھی تیزی سے پھیلتی جارہی ہے ۔ ہر روز مسلم گھرانوں میں کوئی نیا واقعہ ہوتا اورسننے میں آتا ہے۔ باہمی رشتے داریاں اعتماد اور قربت کی بجائے نفرت ، بغض اورعداوت میں بدلتی جارہی ہیں ۔ کوئی جادو کے زور پر کسی کا کاروبار بگاڑنے اور باندھنے کے در پے ہے تو کوئی باپ کو بیٹے سے متنفر کرنے کے لیے کوشاں ، کوئی شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافا ت پیدا کرنے کی فکر میں ہے ، تو کوئی خاندانی تنازعات کو بھڑکانے میں مصروف ہے اور ان تمام کاموں کو سر انجام دینے کے لیے شیطان نما عاملوں او رجادو گروں کی خدمات لینے میں قطعاََ کوئی تر دد نہیں کیاجاتا۔ ہمارے ملک میں بے حددکھ بھری اور افسوسناک صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔ تہذیب و تمدن اوراخلاقیات سے عاری ننگ دھڑنگ، بے عمل اور بے دین لوگوں نے جگہ جگہ سادہ ، معصوم اور ضعیف العقیدہ لوگوں کو لوٹنے اور ان کے خون پسینے کی کمائی اینٹھنے کے لیے پھندے لگا رکھے ہیں ۔ لوگوں کو ان پھندوں میں پھنساکر نہ صرف ان کی جیبیں مختلف حیلوں بہانوں سے خالی کروائی جاتی ہیں بلکہ ان کی بہو بیٹیوں کی عصمت دری بھی کی جاتی ہے ۔

    ان حالات میں ایسی کتاب کی اشدضرورت تھی جو مسلمان گھرانوں کو جادو گروں، کا ہنوں اور جنات و شیاطین کے شرسے محفوظ فرمائے اورمعصوم لوگوں کو دھوکہ بازوں اور شعبدہ بازوں کے چنگل میں بھی پھنسنے سے بچائے۔زیرنظرکتاب ”جنوں اورشیطانوں کی دنیا،جادوکی حقیقت ،خطرات ،احتیاطی تدابیراورعلاج کتاب وسنت کی روشنی میں “ کے مصنف غازی عزیز مبارک پوری ہیں ان کاتعلق سرزمین ہندوستان سے ہے ۔انہوں نے زیرنظرکتاب عربی زبان میں لکھی تھی ۔کتاب کی عوام و خواص میں مقبولیت کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب تقریباََ تمام عرب، بالخصوص خلیجی ، ممالک کے طول و عرض میں بکثرت تقسیم ہوئی اور صرف چار ماہ کی قلیل مدت میں اس کا پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا ۔عربی زبان میں کتاب کی اشاعت و تقسیم اور پذیر ائی کے بعد سے متعدد حلقوں کی طرف سے مسلسل اصرار تھا کہ اس کتاب کا اردو اورانگریزی زبانوں میں بھی ترجمہ کیاجائے تاکہ اردوداں طبقہ بھی اس سے مستفیدہوسکے ۔

    کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے : پہلا باب جادو کی حقیقت ، اس کا حکم اور اس کے خطرات پر مشتمل ہے ، دوسرا باب : جنوں اور شیاطین کے احوال اور خطرات کے تعارف سے متعلق ہے ، تیسرے باب میں جنوں اور شیطانوں سے مقابلہ کے لیے مومنین کے ہتھیار اور بعض احتیاطی تدابیر بیان کی گئی ہیں ، چوتھا باب جنوں کی آسیب زدگی اور جادو سے خلاصی ، بعض دیگر احتیاطی تدابیر اور ان عوارض کے علاج سے متعلق ہے اور پانچویں باب میں بر صغیر میں رائج جادو وغیرہ سے احتیاط اور علاج کے بعض غیر شرعی طریقوں پر بحث کی گئی ہے ۔کتاب کی تربیت میں واقعات اورحادیث کی صحت کا بھی خصوصی لحاظ رکھا گیا ہے ۔اس قابل قدر کتاب میں مولانا عزیز مبارکپوری نے جادو ‘ کہانت اور علمِ نجوم کی حرمت نیز اسلام میں ایسے افعال کے مرتکبین کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں احکامات پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ ایک مسلمان گھرانہ جنوںکی آسیب زدگی اور جادو کے اثرات سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے ؟ رشتے داریوں کوٹوٹنے بکھرنے سے کیسے بچایاجاسکتاہے ؟فاضل مﺅ لف نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ان تمام مسائل کے حل بتلانے کے ساتھ ساتھ بر صغیر میں رائج جادو اور آسیب وغیرہ سے بچاﺅ اور علاج کے بعض غیر شرعی طریقے بتلا کر نا م نہاد فقیروں پیروں اور شعبدہ بازوں کی حقیقت سے بھی پردہ اٹھایاہے۔

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    چھبیس نومبر 1994 کی وہ صبح مجھے اور میرے سرکاری معاصرین کو اب بھی یاد ہوگی جب ایک ناقابل یقین اطلاع ملی کہ ہماری بیچ میٹ پروین شاکر ٹریفک کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہو گئی ہیں۔ وہ صبح کے وقت دفتر جارہی تھیں۔ گاڑی کے ڈرائیور کے بارے میں بھی اطلاع کچھ اچھی نہیں تھی لیکن پروین کے بارے میں سب لوگ پُرامید تھے کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔ زخم جلد مندمل ہوں گے اور وہ اپنی زندگی میں واپس آ جائے گی۔ اس زمانے میں موبائل فون عام نہیں تھے اس لئے لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ نہیں مل سکتی تھی۔ بہت سے لوگ ہسپتال میں جمع تھے اور کچھ مجھ جیسے کاہل الوجود دفتر میں بیٹھے فون کر کر کے ادھر ادھر سے خبر حاصل کر رہے تھے۔

    بالآخر خبر آ گئی لیکن یہ وہ خبر نہیں جس کے لئے دعائیں کی جارہی تھیں۔ قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ پروین شاکر اپنی بھری جوانی میں اپنے سول سروس کے کیرئر کے آغاز اور شاعرانہ کیرئر کے عروج پر پہنچ کر دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اس کی عمر گو کہ صرف بیالیس برس تھی لیکن وہ اتنی کم عمری میں ناصر کاظمی کی طرح شعر و ادب کی دنیا میں ایسا مقام و مرتبہ حاصل کر چکی تھی جو بہت کم شعراء کو نصیب ہوا۔ شاید کاتبِ تقدیر کی مشیت میں اس کی آمد کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ اس شہرت اور مقام و مرتبے کا لوگ صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اس زمانے کا اسلام آباد ایک خاموش اور پُرسکون شہر ہوا کرتا تھا۔ اس کی المناک موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگ اس کے جاننے والوں کو پرسہ دینے لگے۔
    parveen

    وہیں دفتر میں بیٹھے بیٹھے مجھے صرف دس دن پہلے کی بات یاد آ رہی تھی۔ مجھے اسلام آباد میں تعینات ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اور مجھے کسٹمز سروس کے کسی صاحب اختیار کا رابطہ نمبر درکار تھا۔ میں نے اپنے رفیقِ کار سرور زیدی سے کہا کہ کسٹم کے کسی بھی دفتر میں فون کر کے متعلقہ افسر کا فون نمبر پوچھ لیں۔ سرور نے تھوڑی دیر بعد ہی گھبرائے ہوئے لہجے میں بتایا کہ فون کسی میڈم نے براہ راست ہی اٹھا لیا جو آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں اور آپ کو پہلے ہی بتا دوں کہ وہ آپ کا نام سننے کے بعد غصے میں لگتی ہیں۔

    "ثاقب!” فون ملتے ہی دوسری طرف سے آواز آئی، "اسلام آباد کب آئے؟” مجھے آواز پہچاننے کے لئے ذرا مہلت چاہئے تھی اس لئے آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو پھر آواز آئی کہ اب کیا مجھے اپنا تعارف کرانا پڑے گا۔ میں نے ڈانٹ ڈپٹ کے ڈر سے فورا” جھوٹ گھڑ کر کہا کہ کچھ ہی ہفتے ہوئے ہیں۔ میں آواز پہچان گیا تھا کیونکہ یہ سگنیچر ڈانٹ ڈپٹ صرف پروین شاکر کی ہی ہو سکتی تھی۔

    "آتے ہی فون کیوں نہیں کیا؟ ملنے کیوں نہیں آئے؟”

    میں نے فوراً وعدہ کیا کہ جلد حاضر ہوں گا۔ ابھی یہ وعدہ پورا کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ دن آن پہنچا۔ صرف دس دن پہلے کی بات تھی کہ وہ زندہ سلامت نہ صرف ہمارے درمیان موجود تھی بلکہ ڈانٹ ڈپٹ اور شکوہ شکایت بھی کر رہی تھی۔

    پروین شاکر سول سروس میں ہماری ہمعصر تھی جسے ہماری زبان میں بیچ میٹ کہتے ہیں۔ اس کا ہمعصر ہونا ایک اعزاز تھا۔۔اگرچہ وہ اپنے منفرد شاعرانہ لب و لہجے اور اپنی ناموری کی وجہ سے ہم میں بہت ممتاز حیثیت رکھتی تھی پھر بھی اس کے ساتھ معاصرانہ چشمک اور یکطرفہ ڈانٹ ڈپٹ بھی چلتی رہتی تھی۔

    انہی دنوں اردو کے صاحب اسلوب شاعر جناب محبوب خزاں کراچی سے اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ وہ اکثر ملاقات کے لئے تشریف لاتے۔ اس دن آئے تو نہایت غمزدہ تھے۔ میں اپنے مربی اور مرشد جناب اطہر زیدی صاحب کی خدمت میں حاضر تھا۔ ان کے ساتھ اس المناک سانحہ پر بات ہو رہی تھی کہ خزاں صاحب تشریف لائے اور کہنے لگے کہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کس کے ساتھ پروین شاکر کی موت کی تعزیت کروں۔ تم مل گئے ہو تو دلی تعزیت قبول کرو۔ آخر بیچ میٹ بھی تو فیملی سے کم نہیں ہوتے۔
    pavren

    اس دن اطہر زیدی صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر ہم نے پروین شاکر کے لئے ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جس میں ہم تینوں ہی شریک تھے۔ محبوب خزاں صاحب نے پروین کی شاعری پر بڑی خوبصورت گفتگو کی۔ اس نے اپنے شعر کے ذریعے معاشرے کے استحصالی رویوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر رکھا تھا۔ اس کی بغاوت میں بھی حسن تھا، شعریت تھی اور صنف نازک کے ان جذبوں کی ترجمانی تھی جو بوجوہ سامنے نہیں لائے جا سکتے۔ محبوب خزاں صاحب نے ایک شعر سنایا جو پروین کے منفرد نسائی لب و لہجے کا عکاس تھا۔

    تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوں
    الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

    پروین نے 1981 میں مقابلے کا امتحان دیا۔ ذرا اس کے شاعرانہ مرتبے کا تصور کریں کہ اس امتحان کے اردو کے پرچے میں خود اس کی شاعری کے بارے میں بھی سوال پوچھا گیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر صرف انتیس برس تھی۔ اگلے برس جب نتیجہ سامنے آیا تو اس میں پروین شاکر کی پوزیشن دوسری تھی اور اسے فارن سروس کے لئے چنا گیا تھا۔ ہمارا یہ بیچ سول سروس کی عصری ترتیب میں دسواں کامن کہلاتا ہے۔ میرٹ میں اس سے اگلا نمبر ایک اور لائق فائق خاتون رعنا مسعود کا تھا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ کورس کے اختتام پر پروین کو بہترین پروبیشنر اور رعنا کو بہترین آل راؤنڈر کا اعزاز ملا۔
    parveen

    اکیڈمی میں پروین شاکر کی وجہ سے ادبی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ وہ خود تو نجی وجوہات کی بناء پر لو پروفائل پر رہنا چاہ رہی تھی لیکن ان سرگرمیوں کے لئے اس کا نام ہی بہت تھا۔ اسی کی وجہ سے ہم نے اکیڈمی میں ایک عظیم الشان مشاعرہ برپا کیا جس کی صدارت احمد ندیم قاسمی صاحب نے کی۔ سید جاوید (شاہ جی) ہمارے بیچ میٹ اور خوبصورت شاعر ہیں۔ وہ اور میں بھاگ دوڑ کرکے شاعروں کو دعوت دینے جاتے۔ پروین کا نام سن کر کسی شاعر نے اپنا روایتی نخرہ نہیں دکھایا اور بغیر کوئی مشکل پیدا کئے مشاعرے میں شرکت کی حامی بھری۔ خیال رہے کہ شعراء کرام کو کسی قسم کا اعزازیہ پیش نہیں کیا گیا تھا۔ صرف لانے لے جانے کی سہولت دی گئی تھی۔ اس کے باوجود ہر شاعر نے مشاعرے میں شرکت کی اور اسے کامیاب بنایا۔ (جاری ہے)

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    hussain saqib

  • تبصرہ کتب: بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

    تبصرہ کتب: بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات
    مولف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 255۔۔۔4کلر آرٹ پیپر
    قیمت : 3250روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال لاہور
    رسالت ماٰ ب ﷺ بچوں کے بھی رسول ہیں ۔ آپ ﷺ بچوں کے ساتھ بے انتہا محبت فرمایا کرتے تھے ۔ جبکہ بچے بھی نبی رحمت ﷺ سے محبت کرتے اور آپ ﷺ پرجان قربان کرنے کےلئے تیار رہتے تھے ۔ معوذ ومعاذ دو ننھے منے بچوں کی رسالت ماٰ ب کے ساتھ محبت اور جانثاری تاریخ اسلام کاایک روشن باب اور ہمارے بچوں کےلئے مشعل راہ ہے ۔ آج ہم پر بھی بطور والدین فرض ہے کہ اپنے بچوں کے دل ودماغ میں نبی رحمت ،رسول معظم ﷺ کی اس طرح کی محبت وعقیدت راسخ کریں جو محبت معوذ ومعاذ رضی اللہ عنھما کے والدین نے اپنے بچوں کے دلوں میں پیدا کی تھی ۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ بچوں کو رسول پاک ﷺ کے واقعات سنائے جائیں اور ایسی کتابیں پڑھنے کےلئے دی جائیں جن میں نبی مکرم رسول رحمت ﷺ کی سیرت بیان کی گئی ہو ۔ زیر نظر کتاب ” بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات “ اسی پس منظر میں لکھی گئی ہے ۔

    کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد ہیں ۔ دارالسلام انٹرنیشنل بچوں کےلئے اسلامی ، اصلاحی ، تربیتی کتابیں شائع کرنے میں عالمی شہرت کاحامل ہے جبکہ عبدالمالک مجاہدسیرت النبی ﷺ پر بہت سی کتابیں لکھ چکے ہیں ان میں بہت سی کتابیں ایسی ہیں جو بطور خاص بچوں کےلئے لکھی گئی ہیں ۔” بچوں کے لیے سنہری سیرت کے منتخب واقعا ت “ میں دلچسپ اور دیدہ زیب پیرائے میں سیرت النبی ﷺ بیان کی گئی ہے تاکہ بچے بچیاں نبی ﷺ کی پاکیزہ سیرت سے آگاہ ہوکر اسلامی اخلاق و کردار اپنا سکیں اور مروجہ لٹریچر کی آلودگی اور قباحتوں سے بچے رہیں جو انھیں افسانوی اور دیومالائی کہانیوں کی لت میں مبتلا کرکے اسلامی اخلاق سے آراستہ نہیں ہونے دیتا ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یہ کتاب شائع کی گئی ہے۔ اس پاکیزہ مجموعے کو شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے چہار رنگ تصویروں اور خاکوں سے مزین کیا گیا ہے تاکہ بچے تصاویر کے ذریعے سے واقعات کو سمجھیں اور اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے واقف ہو سکیں ۔تاہم کتاب میں اللہ کے نبی ﷺ یا کسی صحابی کو تصویر یا خاکے میں نہیں دکھایاگیا ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ خوبصورت اور دیدہ زیب کتاب بچوں بچیوں کو بے حد پسند آئے گی اوراس کے مطالعہ سے ہمارے بچوں کےلئے سیرت مقدسہ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔یہ کتاب 81عنوانات پر مشتمل ہے اس کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ آسان فہم کےلئے ہر عنوان کے آخر میں سوال و جواب بھی دیے گیے ہیں تاکہ بچے غور سے پڑھیں اور سوالات کے ذریعے ان واقعات کو یاد رکھ سکیں ۔ آرٹ پیپر پر شائع کردہ یہ کتاب مضمون کے اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے طباعت کے اعتبار سے بھی بہت دلکش اور دیدہ زیب ہے ۔

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

  • میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    نصرت زہرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ اور صحافی نصرت حسین زہرا کا تعلق کراچی پاکستان سے ہے ان کے والدین کا تعلق امرتسر سے ہے جو کہ تقسیم ہند سے چند ماہ قبل ہجرت کر کے پاکستان آگئے ۔ ان کے والد صاحب کا نام امانت علی اور والدہ محترمہ کا نام فہمیدہ بانو ہے ان کے 3بھائی اور 5 بہنیں ہیں ۔نصرت زہرا نے کراچی یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا ہے ۔وہ ایشیا کے پہلے پنجابی نیوز چینل اپنا ٹی وی میں بحیثیت نیوز اینکر فرائض انجام دے چکی ہیں وہ دنیائے ادب کے مقبول ترین ادبی پروگرام” بزمِ شاعری” میں بحثیت میزبان ایک برس تک بخوبی فرائض انجام دیے انہوں نے پاکستان کی مقبول ترین شاعرہ پروین شاکر کی شاعری اور شخصیت سے متاثر ہو کر شاعری شروع کی اور وہ پروین شاکر کو ہی شاعری میں اپنا استاد مانتی ہیں ۔انہوں نے پروین شاکر کی سوانح حیات ” پارہ پارہ” کے نام سے تحریر کی ہے ۔نصرت زہرا کی شاعری کا مجموعہ” الفراق ” ترتیب و اشاعت کے مرحلے میں ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوک ہر خار پر جو خوں ٹھہرا
    مری ہستی میں تو جنوں ٹھہرا

    تری راہوں کو چن لیا دل نے
    پھر مرے خواب کا زبوں ٹھہرا

    جانے کس دھن میں چل رہی تھی ہوا
    خطۂ یاس میں سکوں ٹھہرا

    رنگ بدلے کئی زمانوں نے
    دل کی حالت کہ جوں کا توں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی
    وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    کیا کہا تو نے دل گرفتہ سے
    پرچم آس سرنگوں ٹھہرا

    مضمحل تھا کوئی بہت کل رات
    پھر طلسمات کا فسوں ٹھہرا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے طوفان اس سفر میں ہیں
    جیسے کچھ حادثے نظر میں ہیں

    میرے بھی دل میں راکھ اڑتی ہے
    تیرے بھی خواب اس اثر میں ہیں

    وہ گھنا پیڑ ہو کہ سایہ طلب
    آخرش سب ہی چشم تر میں ہیں

    پیاس سے دم مرا بھی گھٹتا ہے
    شب کے سناٹے بھی خبر میں ہیں

    خواہش بے نوا ہے جب سے سوا
    تیرے افسانے ہر نگر میں ہیں

  • ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    رنج دکھ آلام سب دور سے ٹلتے رہے
    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    رانا خالد محمود قیصر

    12 دسمبر : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رانا خالد محمود قیصر
    تاریخ پیدائش : 12 دسمبر1961
    جائے پیدائش۔۔پڈعیدن ضلع نوشہرو فیروز۔۔سندھ
    تعلیم۔۔۔ایم اے (اردو۔۔۔تاریخ_ عمومی) ایم بی اے فنانس ۔۔ایل ایل بی(ایس ایم لاء کالج۔۔کراچی) ایم فل اردو۔۔کراچی یونیورسٹی( حسن حمیدی احوال و آثار بحوالہ ترقی پسند شاعر) ریسرچ اسکالر۔ پی ایچ ڈی ۔کراچی یونیورسٹی۔۔موضوع۔۔سندھ میں اردو غزل۔ادبی و سیاسی رجحانات

    ملازمت۔۔۔پاکستان اسٹیل ملز 1981تا جون 1987۔ الائیڈ بنک۔۔ 1987 تاریخ 2021۔۔ریٹائرڈ بطور ریجنل ہیڈ آپریشنز/ بزنس

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اذفر کون ہے۔۔۔اذفر زیدی اور تلامذہ کا تزکرہ
    گلشن عقیدت۔۔۔اذفر زیدی کا تقدیسی کلام۔۔مرتب
    ہندسوں کے درمیان۔۔غزلیں
    ادبی جمالیات مضامین
    امید سہارا دیتی ہے غزلیں
    ارباب قرطاس و قلم مضامین
    آگہی۔۔مضامین
    مقالہ۔ایم فل۔۔حسن حمیدی احوال و آثار بحوالہ ترقی پسند شاعر
    ہجر_ ناتمام غزلیں
    مری جستجو مدینہ ۔۔حمد و نعت سلام و منقبت۔
    تخلیق_ حمد و نعت کی تعمیری تنقید
    نگاہ_ صداقت۔ غزلیں
    پرکار۔۔غزلیں
    عصری ادب اور تنقیدی روئیے
    عکس_ اذہان

    کراچی اور پڈ عیدن ضلع نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ادیب، شاعر، مصنف ، محقق اور بینکار رانا خالد محمود قیصر صاحب کا خاندان تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے 1947 میں پڈ عیدن سندھ میں آباد ہوا۔ رانا خالد محمود قیصر صاحب 7 بھائی اور ان کی 4 بہنیں ہیں ۔ رانا خالد ابتدائی تعلیم کے بعد مزید تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں کراچی منتقل ہو گئے مگر اپنے پیدائشی شہر پڈ عیدن میں اب بھی ان کا گھر موجود ہے وہاں سے ان کا تعلق نہیں ٹوٹا ۔ رانا صاحب نے 1974 سے شاعری شروع کر دی ، 1987 میں نوابشاہ میں شادی کی ۔ اولاد میں انہیں 3 بیٹیاں منزہ خالد، ڈاکٹر مائدہ خالد اور ماہ رخ جبکہ دو بیٹے رانا عبدالمنان کمپیوٹر انجنیئر اور رانا عبدالحنان سائٹ ویئر انجنیئر فاسٹ یونیورسٹی کراچی ہیں ۔

    رانا خالد محمود قیصر کی شاعری سے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔

    میکدے ہوں گے مگر ایسے کہاں ہیں قیصر
    ایک ساغر سے ہزاروں کو پلانے والے

    ریت الفت میں یہ ڈالی جائے
    راہ آپس میں نکالی جائے

    روز کے لڑنے سے تو بہتر ہے
    ایک دیور اٹھا لی جائے

    رنج دکھ آلام سب دور سے ٹلتے رہے
    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    اپنا بنا کے ہم نے رکھا دل نہ رہ سکا
    تم نے نظر ملائی تھی کہ اپنا دل گیا

    مسکراتی ہے مجھے دیکھ کر اب ان کی نظر
    آج بدلی ہوئی تقدیر نظر آتی ہے

    ٹھنڈک رہے گی آنکھوں میں قیصر مری سدا
    اے جان تیرے حسن کے منظر سمیٹ لوں

  • ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    کیسے کیسے لوگ / آغا نیاز مگسی

    گزشتہ شب واٹس ایپ پر خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والی ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ صاحبہ کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں کے متعلق تعارفی سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس شہر سے ہے تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ میرا تعلق ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان پنجاب میں ہے یا سندھ صوبے میں ؟ مجھے ان کے اس غیر متوقع بلکہ معصومانہ سوال پر ایک لمحے کیلئے تھوڑا سا غصہ آیا لیکن جلد ہی میں نے غصے پر قابو پاتے ہوئے وضاحت کی کہ محترمہ بلوچستان نہ تو پنجاب میں ہے اور نہ ہی سندھ میں واقع ہے بلکہ یہ بھی پاکستان کا ایک صوبہ ہے تاہم ، میں ان کو اس وقت یہ بتانا بھول گیا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور معدنیات و دیگر قدرتی وسائل کے لحاظ سے شاید دنیا کا سب سے امیر ترین صوبہ ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس کے باوجود غربت اور پسماندگی میں بھی بلوچستان ایک عالمی ریکارڈ رکھتا ہے۔

    کراچی کی ایک سینیئر شاعرہ جو کہ بیرون دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کر چکی ہیں وہ گزشتہ 4 ماہ سے مجھ سے پوچھتی رہتی ہیں کہ آغا صاحب آپ کس شہر سے ہیں ؟ اور میرا ہر بار وہی جواب ہوتا ہے کہ ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہوں ان سے بھی سینیئر ترین شاعرہ جرمنی کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ مذہبی اسکالر بھی ہیں وہ گزشتہ 5 سال سے سال میں ایک یا دو بار مجھ سے رابطہ کر کے پوچھتی ہیں کہ آغا صاحب وہ جو آپ نے میرا تعارف لکھا تھا اگر آپ کے پاس اس کی کاپی ہے تو پلیز مجھے سینڈ کریں مجھ سے کسی اخبار یا میگزین والے نے مانگا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ میں واٹس ایپ پر انہی کی ڈی پی سے کاپی پیسٹ کر کے انہیں دوبارہ ارسال کر کے ان کی ڈھیر ساری دعائیں سمیٹ لیتا ہوں ایسا معاملہ صرف خواتین تک محدود نہیں ہے۔

    نصیر آباد میں ایک ڈپٹی کمشنر صاحب کافی عرصہ پہلے تعینات تھے میں جب بھی ان سے کسی سلسلے میں ملاقات کیلئے جاتا تو مجھے بڑے اخلاق سے کہتے کہ ” جی جناب حکم فرمائیں آپ کس ڈپارٹمنٹ سے ہیں ” ۔؟