Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    وہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    مظفر علی سید

    6 دسمبر 1929: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے معروف نقاد ، محقق اور شاعر مظفر علی سید 6 دسمبر 1929ء کو امرتسر پنجاب (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر میں اور مزید تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ 15 اگست 1947 میں ہندوستان کی تقسیم و آزادی کے بعد مظفر علی سید اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان منتقل ہو گئے ۔مظفر علی سید کی تصانیف میں "تنقید کی آزادی”، "فکشن، فن اور فلسفہ” اور "پاک فضائیہ کی تاریخ” شامل ہیں۔ انھوں نے اردو شاعری میں کلاسیکل غزل گوئی کو ترجیح دی اور چند بہترین غزلیں لکھی ہیں اس کے علاوہ انھوں نے نامور ادیب مشفق خواجہ کے کالموں کے تین مجموعے "خامہ بگوش کے قلم سے” ، "سخن در سخن” اور "سخن ہائے گفتنی” کے نام سے بھی مرتب کئے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں۔
    1. تنقید کی آزادی (تنقید)
    2. پاک فضائیہ کی تاریخ (تاریخ)
    3. یادوں کی سرگم (خاکے)
    4. احمد ندیم قاسمی کے بہترین افسانے (ترتیب)
    5. خامہ بگوش کے قلم سے (ترتیب)
    6. سخن در سخن (ترتیب)
    7. سخن ہائے گفتنی (ترتیب)
    8. سخن اور اہل سخن
    9. 1001سوال جواب(معلومات عامہ) طبع فیروز سنز
    فکشن ، فن اور فلسفہ ( ڈی ایچ لارنس کے تنقیدی مضامین کے تراجم)
    10. لسانی و عرضی مقالات ( مجموعہ مضامین)
    11. "تنقید ادبیات اردو”( از سید عابد علی عابد) کاتنقیدی جائزہ

    مظفر علی سیدؔ نے 28؍جنوری 2000ء کو لاہور میں وفات پائی اور لاہور کے کیولری گراؤنڈ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے ۔

    مظفر علی سید کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو
    نظام دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو

    دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول
    مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو

    نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ
    یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو

    نیا بنایا ہے دستور عاشقی ہم نے
    جو تم بھی قاعدۂ دلبراں بدل ڈالو

    اگر یہ تختۂ گل زہر ہے نظر کے لیے
    تو پھر ملازمت گلستاں بدل ڈالو

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    یہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    تمہارا کیا ہے مصیبت ہے لکھنے والوں کی
    جو دے چکے ہو وہ سارے بیاں بدل ڈالو

    مجھے بتایا ہے سیدؔ نے نسخۂ آساں
    جو تنگ ہو تو زمیں آسماں بدل ڈالو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل
    ترے حضور سے بڑھ کر غیاب کی منزل

    نہیں ہے آپ ہی مقصود اپنا جوہر ذات
    کہ آفتاب نہیں آفتاب کی منزل

    کچھ ایسا رنج دیا بچپنے کی الفت نے
    پھر اس کے بعد نہ آئی شباب کی منزل

    مسافروں کو برابر نہیں زمان و مکاں
    ہوا کا ایک قدم اور حباب کی منزل

    محبتوں کے یہ لمحے دریغ کیوں کیجے
    بھگت ہی لیں گے جو آئی حساب کی منزل

    ملے گی بادہ گساروں کو شیخ کیا جانے
    گنہ کی راہ سے ہو کر ثواب کی منزل

    مسام ناچ رہے ہیں معاملت کے لیے
    گزر گئی ہے سوال و جواب کی منزل

    ملی جو آس تو سب مرحلے ہوئے آساں
    نہیں ہے کوئی بھی منزل سراب کی منزل

    مزاج درد کو آسودگی سے راس کرو
    کہاں ملے گی تمہیں اضطراب کی منزل

    رہ جنوں میں طلب کے سوا نہیں سیدؔ
    اگرچہ طے ہو خدا کی کتاب کی منزل

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیدؔ تمہارے غم کی کسی کو خبر نہیں
    ہو بھی خبر کسی کو تو سمجھو خبر نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مضمون کی تیاری میں ویکیپیڈیا سے بھی مدد لی گئی

    موجود ہو تو کس لیے مفقود ہو گئے
    کن جنگلوں میں جا کے بسے ہو خبر نہیں

    اتنی خبر ہے پھول سے خوشبو جدا ہوئی
    اس کو کہیں سے ڈھونڈھ کے لاؤ خبر نہیں

    دل میں ابل رہے ہیں وہ طوفاں کہ الاماں
    چہرے پہ وہ سکون ہے مانو خبر نہیں

    دیکھو تو ہر بغل میں ہے دفتر دبا ہوا
    اخبار میں جو چھاپنا چاہو خبر نہیں

    نوک زباں ہیں تم کو شرابوں کے نام سب
    لیکن نشے کی بادہ پرستو خبر نہیں

    کاغذ زمین شور قلم شاخ بے ثمر
    کس آرزو پہ عمر گزارو خبر نہیں

    سیدؔ کوئی تو خواب بھی تصنیف کیجیے
    ہر بار تم یہی نہ سناؤ خبر نہیں

  • تبصرہ کتب،نام کتاب : توحید کی آواز

    تبصرہ کتب،نام کتاب : توحید کی آواز

    نام کتاب : توحید کی آواز
    مصنف : مولانا عثمان منیب ، حافظ محمد اقبال
    صفحات : 328
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    انسان کی تخلیق فطرت توحید پر ہوئی ہے اس لیے اسے سمجھنا ہر انسان کے لیے نہایت ضروری اور آسان ہے لیکن افسوس کہ توحید کی دعوت جس قدر عام فہم اور عقل و شعور رکھنے والوں کو اپیل کرتی ہے کچھ لوگوں نے آج اسے اتنا ہی مشکل بنا دیا ہے ۔ جس توحید کے تصور کو نمایاں کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتھک محنت کی اور قران مجید کی سینکڑوں آیات اور امثال کے ذریعے اس کے درست مفہوم کو سمجھانے کی کوشش کی وہ تصور آج فلاسفہ کی موشگافیوں کی نظر ہوچکا ہے یعنی توحید کی صاف ستھری دعوت کو چھوڑ کر ہم ا نہی پہلیوں میں سرگرداں ہو گئے ہیں جن سے نکالنے کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے۔ توحید کے حقیقی تصور کو اجاگر کرنے کے لیے دارالسلام نے ایک جامع کتاب ” توحید کی آواز “ ترتیب دی ہے جو درج ذیل خصوصیات کی حامل ہے :

    اس کی زبان سادہ اور عام فہم ہے۔ علمی مباحث کو عوام الناس کے لیے آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ ذات باری تعالی کے حوالے سے مذاہب عالم کے تصورات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان میں پائے جانے والے توحید کے تصور کی حقیقت آشکارا کی گئی ہے ۔ توحید کی اقسام بیان کر کے ان میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وضاحت کی گئی ہے ۔ شرک اور اس کے مظاہر کا مدلل رد کیا گیا ہے نیز دور حاضر کے حساس مسئلے یعنی مسئلہ تکفیر کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے اس کے اصول و ضوابط پر روشنی ڈالی گئی ہے یوں ان اہم اور مفید مباحث پر مشتمل یہ کتاب علماءطلباءاور عوام کے لیے توشہ علم اور رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے ۔

    کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نزول قرآن کے وقت ذات باری تعالی کے بارے میں اس وقت کے مذاہب اور اقوام میں کیا تصور پایا جاتا تھا مثلاََ چینی تہذیب میں ذات باری تعالیٰ کا کیا تصورتھا ۔ اسی طرح ہندوستانی ، شمنی ، ایرانی مجوسی ، یہودی، عیسائی ، یونانی ، مشرکین مکہ اور اہل عرب کے ہاں ذات باری تعالیٰ کے بارے میں کیا تصور پایا جاتا تھا ۔ یہ تمام تصورات بیان کرنے کے بعد بتایا گیا ہے کہ قران مجید نے توحید کا کیا تصور اور سبق دیا ہے ۔ کتاب میں معرفت باری تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے گئے ہیں جو دل کو چھوتے اور عقل کو جھنجھوڑتے ہیں ۔ توحید کے لغوی و اصطلاحی معنی ، توحید کی حقیقت واہمیت توحید کی فضیلت ، توحید کی اقسام ، صفات باری تعالیٰ کے بارے میں ائمہ اسلاف کے اقوال کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ توحید باری تعالی ہی تمام عبادات کی بنیاد ہے توحید اور مسئلہ تکفیر پر بھی بحث کی گئی ہے صحیح عقیدہ توحید کے حصول کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے ۔ قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں شرعی اور غیر شرعی وسیلہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔مسلمانوں پر مختلف تہذیبوں کے اثرات کو زیر بحث لاتے ہوئے فلسفہ وحدت الوجود ، وحدت الشہود اور حلول کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ تقدیر ایک اہم ترین اور حساس مسئلہ ہے اس کی بھول بھلیوں میں بڑے بڑے دانشور اور اہل علم الجھ کر رہ گئے اور صراط مسقتیم سے بھٹک گئے ہیں لہذا تقدیر کے مسئلہ کی حقیقت اور ماہیت کو بھی سمجھنا ضروری ہے اس ضمن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیا ہر چیز تقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور کیا دعا سے تقدیر بدل سکتی ہے ؟ ان تمام سولات کے جوابات تفصیل سے دیے گئے ہیں جنھیں پڑھ کر انسان کےلئے مسئلہ تقدیر کو سمجھنا نہایت آسان ہوجاتا ہے ۔ جادو کی بعض اقسام ، قرآنی تعویذ ، غیر قرآنی تعویذ ، علم نجوم کی شرعی حیثیت، بدفالی اور بدشگونی کی حقیقت جیسے اہم موضوعات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ یوں یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ توحید کے موضوع پر پیش نظر کتاب ایک منفرد کاوش ہے ۔اس کتاب کی اہم ترین خوبی یہ ہے کہ اس میں علمی باریکیوں کی بجائے عام فہم اسلوب اختیار کیا گیا ہے ۔یوں یہ کتاب اہل علم کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کےلئے بھی بے حد مفید ہے ۔

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

  • یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    نور جہاں ثروت ،اردو صحافت کی خاتون اول

    28 نومبر 1949: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی نامور شاعرہ اور صحافی نورجہاں ثروت 28 نومبر 1949ء کو دہلی میں پیدا ہوئیں انہوں نے دہلی کالج سے گریجویشن کیا جبکہ 1971 میں دہلی یونیورسٹی سے ایم اے کیا ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ جواہر لال یونیورسٹی دہلی میں لیکچرر مقرر ہوئیں اس کے بعد ڈاکٹر ذاکر حسین کالج میں بھی تعینات ہوئیں۔ بعد ازاں صحافت سے دلچسپی کے باعث شعبہ صحافت سے وابستہ ہو گئیں۔ ان کے صحافتی کیریئر کا آغاز 1986 ء میں روزنامہ قومی اخبار سے رپورٹر کی حیثیت سے ہوا انہیں کسی بھی اردو اخبار کی پہلی خاتون رپورٹر کا اعزاز حاصل ہوا جبکہ 1988 میں وہ روزنامہ انقلاب دہلی کی ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئیں جو کہ اردو صحافت میں پہلی خاتون ایڈیٹر کا منفرد اعزاز ہے ۔ اور اسی لیے انہیں اردو صحافت کی ’خاتون اول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انھیں کئی اہم اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں لالہ جگت نرائن صحافت ایوارڈ (1985ء)‘ راجدھانی سوتنتر لیکھک ایوارڈ (1986ء)‘ نشانِ اردو برائے ادبی خدمات (1989ء)‘ نئی آواز برائے صحافت ایوارڈ (1994ء)‘ میر تقی میر ایوارڈ (1995ء)‘ انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف فار ایجوکیشن فار ورلڈ برائے صحافت (1999ء)‘ قومی تحفظ و بیداری ایشین اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن ایوارڈ (2000ء)‘ میڈیا انٹر نیشنل ایوارڈ (2002ء) اور اردو اکادمی دہلی ایوارڈ (2010ء) شامل ہیں۔ جبکہ 2009 میں انہیں 50 ہزار روپے پر مشتمل بہترین شاعرہ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ نور جہاں دہلی کی ٹکسالی اردو بولتی تھیں ۔ انہوں نے شادی نہیں کی ۔ 7 اپریل 2010 میں دہلی کی ایک نواحی بستی نوین شاہدرہ میں تنہائی کی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔ 1995 میں ان کا شعری مجموعہ ” بے نام شجر” کے نام سے شائع ہوا۔ وہ ایک منفرد کالم نگار بھی تھیں جن کے کالم کی سرخی کسی شعری مصرع پر مبنی ہوتی تھی ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں
    وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے

    اس کی پلکوں سے ڈھلک جاؤں نہ آنسو بن کر
    خواب کی طرح جو آنکھوں میں سجاتا ہے مجھے

    عکس تا عکس بدل سکتی ہوں چہرہ میں بھی
    میرا ماضی مگر آئینہ دکھاتا ہے مجھے

    وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح
    پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے

    اجنبی لگنے لگا ہے مجھے گھر کا آنگن
    کیا کوئی شہر نگاراں سے بلاتا ہے مجھے

    کسی رت میں بھی مری آس نہ ٹوٹی ثروتؔ
    ہر نیا جھونکا خلاؤں میں اڑاتا ہے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا
    دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا

    طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں
    بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا

    راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے
    اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا

    غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا
    کیسے کیسے لطف دیکھو فاصلہ دینے لگا

    شہر نا پرساں میں اے ثروتؔ سبھی قاضی بنے
    یعنی ہر نافہم اپنا فیصلہ دینے لگا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یوں تو کہنے کو ہم عدو بھی نہیں
    ہاں مگر اس سے گفتگو بھی نہیں

    وہ تو خوابوں کا شاہزادہ تھا
    اب مگر اس کی جستجو بھی نہیں

    وہ جو اک آئینہ سا لگتا ہے
    سچ تو یہ ہے کہ روبرو بھی نہیں

    ایک مدت میں یہ ہوا معلوم
    میں وہاں ہوں جہاں کہ تو بھی نہیں

    ایک بار اس سے مل تو لو ثروتؔ
    ہے مگر اتنا تند خو بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمر بھر دیکھا ہوا وہ آرزو کا خواب تھا
    کہ آسودہ ہوئی ہوں اپنے ہی انکار سے

  • تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    میں دیکھتا ہوں انہیں روز گزر جاتا ہوں
    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    الیاس بابر اعوان،شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد، محقق، کالم نگار

    پیدائش:28 نومبر 1976ء

    تعلیم:ایم اے (اردو)
    پی ایچ ڈی
    مادر علمی:جامعہ پنجاب
    اصناف:شاعری، تنقید، افسانہ
    ناول، تحقیق، ترجمہ
    نمایاں کام:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خواب دگر
    ۔ (2)نووارد
    ۔ (3)ایک ادھوری سرگزشت
    ۔ (4)معاصر متن کی دریافت
    ۔ (5)جدید تنقیدی تصورات
    ۔ (6)منحرف
    مستقل پتا:ایچ۔141، آبادی نمبر2
    دیم اسٹریٹ،ٹنچ بھاٹہ، راولپنڈی

    الیاس بابر اعوان راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر اور افسانہ نگار ہیں۔
    ولادت
    ۔۔۔۔۔
    الیاس بابر اعوان کی پیدائش 28 نومبر 1976ء، راولپنڈی، صوبہ پنجاب، پاکستان میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد افضل اعوان ہے۔
    مادرِ علمی
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)فیڈرل گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول
    ۔ نمبر ا صدر لاہور
    ۔ (2)فیڈرل گورنمنٹ ڈگری کالج
    ۔ لاہور کینٹ
    ۔ (3)گورنمنٹ شالیمار ڈگری کالج
    ۔ باغبانپورہ لاہور
    ۔ (4)نیشنل یونیورسٹی آف مارڈرن لینگوئجز
    ۔ اسلام آباد
    ۔ (5)رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی
    ۔ اسلام آباد
    ۔ (6)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی
    ۔ اسلام آباد
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پی ایچ ڈی اسکالر
    ۔ (انگریزی ادب)
    ۔ (2)پی جی ڈی
    ۔ ( پروفیشنل ایتھکس اینڈ ٹیچنگ میتھڈولجیز)
    ۔ (3)ایم فل (انگریزی ادب)
    ۔ (4)ایم اے انگریزی ادب و لسانیات
    ۔ (5)ایم اے اردو ادب و لسانیات
    ۔ (6)ایم ایڈ
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں شعر و ادب کی دنیا میں وارد ہوئے۔ اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز میں انگریزی ادب کے لیکچرر ہیں۔ اردو، انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ حلقہ ارباب ِ ذوق راولپنڈی کے چار سال تک سیکرٹری رہے اور جدیدادبی تنقیدی فورم کے بانی ہیں۔ اردو میں تنقید، نظم، غزل اور افسانے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں شاعری اور افسانے بھی لکھتے ہیں۔
    مجموعہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خوابِ دِگر (شعری مجموعہ)-2012ء
    ۔ پبلشر: رمیل پبلیشرز راولپنڈی
    ۔ (2)نووارد ( نظمیہ مجموعہ)- 2016ء
    ۔ سانجھ پبلشرز لاہور نے شائع کیا
    زیر طباعت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)معاصر متن کی دریافت:
    ۔ (تنقیدی مضامین)
    ۔ پبلشر: کتاب محل لاہور
    ۔ (2)جدید تنقیدی تصورات
    ۔ مترجم: الیاس بابر اعوان
    ۔ پبلشر: کتاب محل لاہور
    ۔ (3)منحرف۔ نظموں کا مجموعہ
    ۔ (زیر ـ اشاعت)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    صرف آزار اٹھانے سے کہاں بنتا ہے
    مجھ سا اسلوب زمانے سے کہاں بنتا ہے
    آنکھ کو کاٹ کے کچھ نوک پلک سیدھی کی
    زاویہ سیدھ میں آنے سے کہاں بنتا ہے
    کچھ نہ کچھ اس میں حقیقت بھی چھپی ہوتی ہے
    واقعہ بات بنانے سے کہاں بنتا ہے
    حسن یوسف سی کوئی جنس بھی رکھو اس میں
    ورنہ بازار سجانے سے کہاں بنتا ہے
    اس میں کچھ وحشت دل بھی تو رکھی جاتی ہے
    باغ بس پھول اگانے سے کہاں بنتا ہے
    راستہ بنتا ہے تشکیل نظر سے بابرؔ
    خاک کی خاک اڑانے سے کہاں بنتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آنکھ کھلے گی بات ادھوری رہ جائے گی
    ورنہ آج مری مزدوری رہ جائے گی
    جی بھر جائے گا بس اُس کو تکتے تکتے
    کچی لسی میٹھی چُوری رہ جائے گی
    اُس سے ملنے مجھ کو پھر سے جانا ہوگا
    دیکھنا پھر سے بات ضروری رہ جائے گی
    تھوڑی دیر میں خواب پرندہ بن جائے گا
    میرے ہاتھوں پر کستوری رہ جائے گی
    تم تصویر کے ساتھ مکمل ہو جاؤ گے
    لیکن میری عمر ادھوری رہ جائے گی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی
    ڈرون گرے گا امن کی باتیں رہ جائیں گی
    لڑنے والے روشن صبحیں لے جائیں گے
    میری خاطر اندھی شامیں رہ جائیں گی
    سچ لکھنے والے سب ہجرت کر جائیں گے
    بازاروں میں قلم دواتیں رہ جائیں گی
    یوں لگتا ہے رستے میں سب لٹ جائے گا
    گھر پہنچوں گا تو کچھ سانسیں رہ جائیں گی
    امیدوں پر برف کا موسم آ جائے گا
    دیواروں پر دیپ اور آنکھیں رہ جائیں گی
    ہم دروازے میں ہی روتے رہ جائیں گے
    جانے والوں کی بس باتیں رہ جائیں گی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    غلام زادوں میں کوئی غلام ہے ہی نہیں
    ہمارے شہر میں سچ کا نظام ہے ہی نہیں
    یہ لوگ جلد ہی پتھر میں ڈھلنے والے ہیں
    یہاں کسی سے کوئی ہم کلام ہے ہی نہیں
    میں دیکھتا ہوں انہیں اور گزرتا جاتا ہوں
    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہے ہی نہیں
    تمہاری مرضی ہے رکھ لو ہمیں یا ٹھکرا دو
    ہمارے پاس محبت کا دام ہے ہی نہیں
    یہ لوگ اسے تری تصویر ہی سمجھتے ہیں
    پر اس کے جیسا کوئی خوش کلام ہے ہی نہیں
    وہاں پہ خوابوں کو خیرات کر کے چلتے بنو
    جہاں شعور حلال و حرام ہے ہی نہیں
    ذرا سی لہجے کی نرمی سے مان جائیں گے
    کہ بگڑے لوگوں کا کوئی امام ہے ہی نہیں

    منقول

  • کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

    کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

    طاہرہ سید

    یوم پیدائش 6 نومبر 1958

    پاکستان کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ،خوب صورت گلوکارہ طاہرہ سید 6 نومبر 1958 میں پیداہوئیں۔ وہ برصغیر کی نامور کلاسیکل گلوکارہ ملکہ پکھراج اور معروف ادیب و مصنف سید شبیر حسین شاہ کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے بچپن ہی میں 10 سال کی عمر سے گائیکی شروع کی جبکہ 14 سال کی عمر میں 1969 میں وہ پہلی بار ریڈیو پاکستان اور 1970 میں پی ٹی وی پر گانے کیلئے آئیں۔ اپنی والدہ ملکہ پکھراج، استاد اختر حسین اور استاد نذر حسین سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔ انہوں نے پاکستان کے علاوہ امریکہ اور ہندوستان سمیت کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ صدارت سے نوازا گیا ۔ اپریل 1985 میں نیشنل جیوگرافک میگزین نے طاہرہ سید کو اپنے سرورق /ٹائٹل پر شائع کیا۔ طاہرہ سید نے 1975 میں معروف ٹی وی کمپیئر اور وکیل سید نعیم بخاری سے شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹی کرن اور ایک بیٹا حسنین پیدا ہوا۔ طاہرہ سید اور اس وقت کے وزیر اعظم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی 1990 میں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی ۔ نواز شریف انہیں پی سی بھوربن میں بلا کر رات دیر گئے تک ان سے ” غزلیں ” سنتے رہتے جس کو وہ معاوضے میں سینیٹر سیف الرحمان کی کمپنی ” ریڈکو ” کے ذریعے ہر ماہ 10 لاکھ روپے بینک ٹو بینک ٹرانسفر کرا دیتے تھے۔

    طاہرہ سید کی نواز شریف سے زیادہ قربت کے باعث نعیم بخاری نے طاہرہ کو طلاق دے دی ۔ نعیم بخاری سے علیحدگی کے بعد طاہرہ نے دوسری شادی نہیں کی جبکہ نعیم بخاری نے دوسری شادی کی جس سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ طاہرہ کے دونوں بچے وکیل بن گئے۔ کرن بخاری نیو یارک میں اور حسنین بخاری مسقط میں وکالت کر رہے ہیں ۔ طاہرہ سید اب بھی رومانویت پسند ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہر عورت کی زندگی میں رومان کو خاص اہمیت حاصل ہے اگر مجھے پھول دے یا کارڈ لکھ کر ارسال کرے یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ طاہرہ کے گائے ہوئے کئی گیت ، غزلیں اور نغمے بہت مشہور ہیں جن میں

    1 ہر اک جلوہ رنگین مری نگاہ میں ہے

    2 ہم سا کوئی ہو تو سامنے آئے

    3یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے ،و دیگر شامل ہیں

  • زیبا بختیار،از قلم،آغا نیاز مگسی

    زیبا بختیار،از قلم،آغا نیاز مگسی

    زیبا بختیار

    یوم پیدائش 2 نومبر 1971

    آغا نیاز مگسی

    ہندوستان اور پاکستان کی معروف ٹی وی اور فلمی اداکارہ زیبا بختیار 2 نومبر 1971 میں کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی ممتاز قانون دان اور سابق اٹارنی جنرل پاکستان یحیٰی بختیار اور ہنگری کی عیسائی خاتون ایوا کی بیٹی ہیں، زیبا بختیار نے 1988 میں پی ٹی وی کے ایک ڈرامہ ” انارکلی ” سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیاجبکہ 1991 میں ایک انڈین فلم ” حنا”میں کام کر کے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا ،

    1995 انہوں نے مشہور انڈین گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع خان سے شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹا اذان پیدا ہوا۔ چار سال کی ازدواجی زندگی کے بعد دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ 1989 میں ان کی شادی جاوید جعفری سے ہوئی ایک سال بعد 1990 میں ان کے درمیان علیحدگی ہوئی۔ سائرہ بختیار زیبا بختیار کی بہن جبکہ ڈاکٹر سلیم بختیار اور ڈاکٹر کریم بختیار ان کے بھائی ہیں۔ زیبا بختیار کی مستقل رہائش کراچی میں ہے،

  • حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    یکم نومبر انیس سو بیس اپنے عہد کے صاحب طرز ادیب، ڈرامہ نگار اور بانی مدیر ماہنامہ "حکایت” جناب عنایت اللہ کا یوم ولادت ہے۔
    یہ 1970 کے عشرے کے اوائل کی بات ہے۔ جب میں نے انہیں پہلی بار دیکھا تو وہ زین کی خاکی پتلون، کاٹن کی سفید بش شرٹ اور چمڑے کے براؤن سینڈل میں ملبوس نیشنل سنٹر لاہور کے روسٹرم پر کھڑے ہو کر اپنے روایتی دھیمے لہجے میں صیہونیت کے مسلم دشمن منصوبے بے نقاب کررہے تھے. یہ یوم القدس سے منسوب کوئی تقریب تھی. جن منصوبوں کا وہ ذکر کر رہے تھے وہ صیہونیت کے بڑوں نے صدیوں پہلے دنیا اور خصوصا” فلسطین اور شرق اوسط پر تسلط قائم کرنے کےلئے پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن کے نام سے تیار کئے تھے.

    اس کے بعد بھی صیہونی اپنے مذموم عزائم پر کاربند رہے اور عنایت اللہ صاحب نے بھی ہار نہیں مانی. انہوں نے اس کے بعد کی ساری زندگی اسلام اور پاکستان کے خلاف ہنود و یہود کی سازشوں بشمول نظریاتی تخریب کاری کو بے نقاب کرتے گذاری. وہ اپنے دور کی ففتھ جنریشن وار اپنے جذبۂ ایمانی کے زور پر تن تنہا لڑ رہے تھے. ان کے ہتھیار ان کی زندگی کی طرح نہایت سادہ تھے، نیوز پرنٹ کاغذ کی سلپیں، ایچ بی کی پنسل، بگلے کا سگریٹ اور دبیز ملائی والی نہایت شیریں چائے کامگ. بعد میں جب بگلے کا سگریٹ نایاب ہوا تو انہوں نے کے-ٹو پینا شروع کردیا اور کچی پنسل کی جگہ بال پوائنٹ نے لے لی.

    میری زندگی کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ تھی کہ انہوں نے مجھے اپنی فرزندی میں قبول کیا. میں ان سے بہت قریب تھا اور اسی وجہ سے میرا ان سے رشتہ بے تکلفی کا بھی تھا، اتنی بے تکلفی کہ میں ان کے سامنے سگریٹ بھی پی لیا کرتا تھا بلکہ بسا اوقات تو ان کے پیکٹ سے دو سگریٹ سلگاتا، ایک اپنے لئے دوسرا ان کے لئے. حالانکہ میرے لئے وہ والد کی جگہ تھے اور میری ہر مشکل میں ان کا ہاتھ میرے کندھے پر ہوتا تھا. میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا. حب الوطنی کا پہلا باقاعدہ درس میں نے ان سے ہی لیا. نہ صرف یہ بلکہ زندگی گذارنے کے اصول اور دوسرے انسانوں کے ساتھ باہمی تعلقات کا ہنر بھی ان سے سیکھا.

    ان کے ناول اور ٹی وی ڈراموں کے بعد ان کی مقبول ترین تصنیف "داستان ایمان فروشوں کی” پانچ جلدوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے التمش کے قلمی نام سے لکھی. اس فلیگ شپ تصنیف کے قلمی مصنف کے اعزاز میں میں نے ان کے نواسے اور اپنے اکلوتے بیٹے کا نام التمش رکھا جو ہو بہو ان کا ہم شکل ہے.

    ان کی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے جس میں ان کے قلمی نام سے لکھی ہوئی کتابیں بھی شامل ہیں. ان کے بہت کم قارئین کو علم ہے کہ احمد یار خان، صابر حسین راجپوت، میم الف اور محبوب عالم بھی ان کے قلمی نام تھے. انہوں نے تاریخ، تفتیش، شکاریات اور نفسیاتی مسائل کے موضوع پر یکساں مہارت سے لکھا. اس سے پہلے وہ دفاعی موضوعات پر بھی اپنی مہارت کا لوہا منوا چکے تھے.

    ناول کے موضوع کے لئے وہ تاریخ کو خصوصی اہمیت دیتے تھے. ان کا خیال تھا کہ نئی نسل کو مطالعہ تاریخ پر راغب کرنے کے لئے ناول کا میڈیم ازحد ضروری ہے. تاریخی ناول تو اور بھی بہت لکھے گئے لیکن عنایت اللہ کی تصانیف کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے لئے وہ تاریخی واقعات کی صحت پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے. تاریخی واقعات میں جنگوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور وہ ہر جنگ کی پلاننگ اور میدانِ جنگ کی تصویر کشی پورے پیشہ ورانہ انداز میں کرتے تھے. انہوں نے مجھ سے بھی ٹیپو سلطان کے دور پر تاریخی ناول "آستین کے سانپ” لکھوایا اور ٹیپو کے فن حرب کے بیان اور میدان جنگ کی منظر کشی کو باریک بینی سے دیکھا اور حسب ضرورت تبدیلیاں بھی کروائیں.

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس بیالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنا پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ایں ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ اپنے ڈائجسٹ ماہنامہ "حکایت” اور اشاعتی ادارے مکتبہ داستان کی تاسیس کے بعد انہوں نے دن میں کم و بیش اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا اور خاموشی سے اپنے مشن میں لگے رہے. انہیں اور ماہنامہ حکایت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا بہت مشکل ہے. میں اسی لئے انہیں حکایت الّلہ کہا کرتا تھا. ان کی وفات کے بعد لکھے گئے میرے پہلے مضمون کا عنوان بھی حکایت الّلہ تھا.

    تقریبا”انتیس سال تک پاکستان دشمنوں سے لڑتے لڑتے وہ سولہ نومبرانیس سو نناوے کو پھیپھڑوں کے سرطان سے زندگی کی بازی ہار گئے.

  • او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاو

    او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاو

    موسیقار خواجہ خورشید انور

    30 اکتوبر 1984: تاریخ وفات

    باکمال موسیقار خواجہ خورشید انور ساز بجانا نہیں جانتے تھے بلکہ انہوں نے ماچس کی ڈبیا انگلی سے بجا کر لازوال دھنیں تخلیق کیں۔
    ایم اے فلسفہ میں اول آئے، گولڈ میڈل ملا مگر لینے گئے ہی نہیں۔
    مقابلے کے امتحان میں پورے ہندوستان میں ٹاپ کیا، لیکن بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں سے روابط کی وجہ سے نااہل قرار پائے۔
    یہ نااہلی ہندوستان کی فلمی موسیقی کیلئے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔

    اس سے فلمی موسیقی کو خواجہ خورشید انور ملے۔ جنہوں نے دل کا دیا جلایا، مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے، رم جھم رم جھم پڑے پھوار، جس دن سے پیا دل لے گئے ، آگئے گھر آگئے بلم پردیسی سجن پردیسی، چاند ہنسے دنیا بسے روئے میرا پیار، آبھی جا آبھی جا، او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاﺅ،۔چھونے چھونے ناچوں گی گونے گونے گاﺅں گی، سن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے، کدی آ مل رانجھن وے، زلفان دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا، او ونجھلی والڑیا جیسی دھنیں تخلیق کیں۔
    خواجہ صاحب کے صاحبزادے خواجہ عرفان انور فرماتے ہیں کہ ساز بجانا کلاسیکی موسیقی کیلئے بالکل ضروری نہیں۔ ہماری موسیقی بنیادی طور پر ووکل ہے۔ خورشید انور لاہور ریڈیو اور منتخب محفلوں میں گاتے بھی رہے۔

    خواجہ خورشید انور 21 مارچ 1912 کو میانوالی کے محلہ بلوخیل میں پیدا ہوئے جہاں انکے نانا بطور سول سرجن ضلعی ہسپتال تعینات تھے۔ ان کا تعلق موسیقی کے کسی گھرانے سے نہیں تھا۔ ان کی علامہ اقبال سے بہت نزدیک کی رشتہ داری تھی۔ ان کے نانا خان بہادر عطا محمد شیخ کی بیٹی علامہ کی اہلیہ تھیں۔ ان کی والدہ گجرات میں پیداھوئیں. علامہ اقبال کی پہلی اہلیہ کریم بی بی کی چھوٹی بہن تھیں بلکہ علامہ نے ان کی والدہ فاطمہ بی بی کا رشتہ بصداصرار کروایا. ان کے والد بیرسٹر فیروزالدین لاہور کے ایک کامیاب وکیل تھے۔ انکے چھوٹے بھائی خواجہ سلطان احمد (بیرسٹر خوجہ حارث کے والد) لاہور کے بڑے اور استاد وکلاء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے والد کو صرف ایک شوق تھا اور وہ تھا کلاسیکل اور نیم کلاسیکل موسیقی سننا اور جمع کرنا۔ ان کے گھر میں ہزاروں کی تعداد میں ریکارڈ موجود تھے۔ گھر میں موسیقی کی بڑی بڑی محفلیں ہوا کرتی تھیں۔ جن میں استاد توکل حسین، استاد عبدالوحید خاں ،استاد عاشق علی خاں، استاد غلام علی خاں، موسیقار فیروز نظامی، رفیق غزنوی جیسے اساتذہ شرکت کرتے تھے۔ انہی محفلوں سے خورشید انور کو موسیقی کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے استاد توکل حسین سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔
    خواجہ خورشید انور نے 1935 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں ماسٹرز کیا اور اول آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب تقسیم انعامات کی تقریب میں قصداً نہیں گئے۔ انگریز وائس چانسلر نے جب گولڈ میڈل کے لیے نام پکارا۔ وہ موجود نہ پائے گئے۔ تو اس نے برجستہ کہا کہ جو طالب علم اپنا میڈل لینا بھول گیا ہے وہ حقیقی طور پر ایک فلسفی ہے۔ مگر خورشید انور کی منزل کوئی اور تھی۔ اس کو سُر اور ساز کا بادشاہ بننا تھا۔ عین اسی وقت لاہور میں ایک محفل موسیقی منعقد ہو رہی تھی جس میں ہندوستان بھر کے نامور موسیقار اور گائیک شرکت کر رہے تھے۔ انھیں موسیقاروں میں اس طالب علم کے موسیقی کے استاد خان صاحب توکل حسین خان بھی شامل تھے۔ وہ طالب علم جلسہ تقسیم اسناد اور گولڈ میڈل تو چھوڑ سکتا تھا مگر اس محفل کو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

    اس سے اگلے سال 1936 میں خواجہ خورشید انور نے اعلیٰ ملازمتوں ( آئی سی ایس ) کے لئے مقابلے کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی لیکن انٹرویو میں ناکام قرار دئیے گئے چونکہ وہ انگریز راج کے خلاف تحریک آزادی میں شریک رہے تھے اور انقلابیوں کو کالج لیبارٹری سے پکرک ایسڈ (Picric Acid) فراہم کرنے کے الزام میں قید بھی بھگت چکے تھے۔ بی اے کا امتحان بھی جیل سے دیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ خود بھی اپنے مزاج کو سول سروس کے مزاج سے ہم آہنگ نہ پاتے تھے۔ وہ تحریری امتحان میں بھی صرف اپنے گھر والوں کے شدید اصرار کے باعث شریک ہوئے تھے۔
    یہ ناکامی ان کی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
    1939 میں خواجہ خورشید انور نے آل انڈیا ریڈیو دہلی پر میوزک پروڈیوسر کی حیثیت سے نوکری کر لی ۔ وہاں ان کی ملاقات اے۔آر۔ کاردار سے ہوئی۔ کاردار اس زمانے کے سکہ بند فلمساز تھے۔ 1941ء میں خواجہ صاحب نے ان کی پنجابی فلم”کڑمائی” کا میوزک بنایا۔ یہ فلم اتنی کامیاب نہ ہو سکی جتنی توقع کاردار اور خورشید انور کر رہے تھے۔ دو سال کے بعد 1943ء میں “اشارہ” فلم آئی۔ اس میں بھی موسیقی خواجہ صاحب ہی کی تھی۔ اس کے گانے “ثریا بیگم” ـ” گوہر سلطان” اور وستالہ کماٹھیکر نے گائے تھے۔ ان گانوں نے برصغیر کو ایک سحر میں مبتلا کر دیا۔ ہر گلی کوچے میں ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔ یہ اس عظیم موسیقار کی پہلی کامیابی تھی۔ اس کے بعد شہرت کا ایک لامتناہی زینہ تھا جس پر یہ نوجوان چڑھتا چلا گیا۔

    1947ء میں سہگل نے خواجہ خورشید انور کی بنائی ہوئی دُھن پر اپنی زندگی کا آخری گانا گایا۔ اس فلم کا نام “پروانہ” تھا۔ اس فلم کے پانچوں گانوں کی موسیقی خواجہ خورشید انور کی تھی۔ گانے ڈی این مدھوک نے لکھے ۔ دو میں نخشب اور تنویر نقوی کا اشتراک تھا۔ 1949ء میں خواجہ صاحب کو موسیقی کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ اس کا نام “کلیئر ایوارڈ” تھا۔موسیقار”روشن” اور “شنکر جے کشن” اس موسیقی کے جادوگر کی دہلیز پر بیٹھنے والوں میں سے تھے۔ “نوشاد” جو خود ایک یکتا موسیقار تھے، خواجہ صاحب کے احترام میں کھڑے رہتے تھے۔

    خواجہ خورشید انور 1952ء میں پاکستان آ گئے۔ یہاں ان کے پائے کے موسیقار نہ ہونے کے برابر تھے۔ نورجہاں جیسی عظیم گائیکہ بھی ایک مشکل دور سے دوچار تھی۔ 1956ء میں خورشید انور نے”انتظار” فلم کی دُھنیں ترتیب کیں۔ اس کے گانے نورجہاں کے لیے ایک نئی فنی زندگی کا ذریعہ بنے۔ یہ اپنے وقت کی مقبول ترین فلم تھی۔ اس کی کامیابی خواجہ صاحب کے بے مثال میوزک کے سبب تھی۔ اس فلم کے بعد تو خواجہ صاحب فن کے آسمان پر چمکنے لگے۔
    مرزا صاحبان، زہرعشق، جھومر، کوئل، ایاز، گھونگھٹ حویلی، چنگاری، سرحد، ہیررانجھا، شیریں فرہاد، مرزاجٹ اور سلام محبت، وہ فلمیں تھیں جنکی کامیابی کا سہرا خواجہ خورشید انور کی جادوئی موسیقی کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر18 فلموں کی موسیقی ترتیب دی، 15 اردو اور 3 پنجابی۔ انہوں نے گھونگھٹ، حیدر علی، اور ہمراز سمیت چند فلموں کی ہدایات بھی دیں۔

    فیض احمد فیضؔ اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کی شاعری میں خورشید انور کا جذب موجود ہے۔ فیض صاحب، ان سے بہت متاثر تھے۔ فیض کالج میں خواجہ صاحب سے ایک سال سینئر تھے۔ ن م راشد بھی ان دنوں کالج میں تھے۔

    خواجہ خورشید انور کا ایک بڑا کارنامہ ’’آہنگِ خسروی‘‘ ہے۔ یہ 30 لانگ پلے ریکارڈز پر مشتمل ایک البم ہے جس میں برصغیر کی کلاسیکی موسیقی کے معروف گھرانوں کے 90 راگ محفوظ کر دئیے۔ یہ لانگ پلے ریکارڈ ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم، استاد سلامت علی خان، ذاکر علی خان اور اختر علی خاں، استاد فتح علی خاں (پٹیالہ)، اسد امانت علی خاں اور حامد علی خاں، استاد اسد علی خاں، استاد رمضان خان، استاد امراﺅ بندو خان، استاد غلام حسین شگن، استاد حمید علی خان، استاد فتح علی خان (گوالیار)، ملک زادہ محمد افضل خان اور ملک زادہ محمد حفیظ خان کی آوازوں میں تیار کئے گئے تھے۔ “آہنگ خسروی” اور “راگ مالا” ایسے عظیم کام ہیں جو ان کے بعد بہت کم لوگ کر پائے۔

    خواجہ صاحب کا موسیقی بنانے یا ترتیب دینے کا طریقہ بہت مختلف بلکہ منفرد تھا۔ وہ ماچس کی ڈبیا کو ایک خاص انداز میں بجاتے تھے اور وہیں سے وہ اپنی نایاب دُھن کی بنیاد تشکیل دے دیا کرتے تھے۔ 1980ء میں خواجہ صاحب کو “ستارہ امیتاز” سے نوازا گیا۔ 1982ء میں انھیں بمبئی کی میوزک انڈسٹری کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایوارڈ کا نام تھا
    ”Mortal-Men، Immortal-Melodies Award”
    خواجہ صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ریڈیو پاکستان نے ان کی بنائی ہوئی سگنیچر ٹیون سے آغاز کیا ۔
    خواجہ خورشید انور 30 اکتوبر 1984 کو دنیا سے رخصت ہوئے۔

  • عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    صدف نعیم
    تاریخِ وفات:30 اکتوبر 2022ء

    صدف نعیم خاتون صحافی 1987ء کو پیدا ہوئیں، لاہور پریس کلب کی کونسل ممبر میں بطور رپورٹر طویل عرصہ سے روزنامہ خبریں اور 2009ء سے چینل 5 کے ساتھ وابستہ تھیں اور جرنلسٹ گروپ کی جانب سے ممبر گورننگ باڈی کیلئے الیکشن بھی لڑ چکی تھیں۔ 24 میں سے 16 گھنٹے ڈیوٹی کرتی تھیں، اپنے چینل کے لیے وہ عموماً سیاسی جماعتوں اور سیاسی معاملات کی کوریج کرتی تھیں اور پنجاب اسمبلی کی کارروائی بھی باقاعدگی سے کور کرتی تھیں۔

    30 اکتوبر 2022ء کو لانگ مارچ (حقیقی آزادی مارچ) میں سادھوکی، (تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ) میں صدف نعیم نے عمران خان کے سست رفتار کنٹینر پر چڑھنے کی کوشش کی جس سے گرنے کے بعد اسی کنٹینر کے نیچے آکر موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ اس سے دو روز قبل صدف نعیم نے عمران خان کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ ان کی عمر 35 سال تھی۔ اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ نماز جنازہ اچھرہ میں ہوئی۔ شوہر محمد نعیم بھٹی نے کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی سے انکار کر دیا۔ وفاقی حکومت نے 50 لاکھ روپے اور پنجاب حکومت نے 25 لاکھ لواحقین کو امداد دینے کا اعلان کیا۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد ہوئی تھی،عمران خان پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صدف نعیم کے گھر پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا، عمران خان کے ہمراہ اسد عمر ،میاں اسلم و دیگر بھی موجود تھے،عمران خان نے لانگ مارچ میں شہید ہونے والی خاتون صحافی کے لئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی. صدف نعیم کی والدہ عمران خان کو دیکھ کر زاروقطار روتی رہیں ، شفقت محمود بھی عمران خان کے ہمراہ تھے،

    صدف نعیم لانگ مارچ کے دوران کینیٹر کے نیچے آ کر شہید ہو گئی تھیں، صدف نعیم کی نماز جنازہ گزشتہ شب اچھرہ میں ادا کی گئی بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی، صدف نعیم کے شوہر نے کوئی بھی کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا تا ہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

  • غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی معروف مصنفہ، شاعرہ اور ناول نگار حبا کمال ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئیں ہیں اور حبا ابو ندا 1991 میں سعودی عرب میں مقیم بیت جرجا کے ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔


    ان کا خاندان 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران صیہونیوں کی جانب سے جبری طور پر بےگھر کیا گیا تھا۔ حبا نے غزہ یونیورسٹی سے کلینیکل نیوٹریشن میں ماسٹر کیا تھا اور یونیورسٹی سے بائیو کیمسٹری میں بھی ماسٹر ڈگری لی تھی انہوں نے اب تک شادی نہیں کی تھی ۔
    32 سالہ حبا ابو ندا نے” آکسیجن از ناٹ فار دا ڈیڈ” نامی ناول لکھا تھا۔ حبا ابو ندا نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ اگر ہم مرجائیں تو جان لیں کہ ہم ثابت قدم ہیں اور ہم سچے ہیں۔

    هبة أبو ندى کی آخری فیس بک پوسٹ
    سپریم کورٹ نے ملک ریاض نوٹس جاری کر دی
    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان
    پارلیمنٹ 2سے 3ماہ میں وجود میں آ جائے گی. خواجہ محمد آصف
    نحنُ في غزة عند الله بين شهيد وشاهد على التحرير وكلنا ننتظر أين سنكون.
    كلنا ننتظر اللهم وعدك الحق.
    جبکہ 2 روز قبل انگریزی میں پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم نہ چیخ اور چلا سکتے ہیں ہم اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں سے نہ مل سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں اور ہم موت کے دہانے پر کھڑے ہیں اور کسی بھی وقت مر سکتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی