Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    سوچتی ہوں کہ ملے حلم میں گوندھا ہوا شخص
    علم اوتار سا اور لہجہ پیمبر جیسا

    شہلا شہناز

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی ایک خوب صورت پاکستانی شاعرہ اور ماہر تعلیم پروفیسر شہلا شہناز صاحبہ کا تعلق فیصل آباد پنجاب سے ہے وہ 7 اپریل 1976 میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد یونس اور والدہ محترمہ کا نام صفیہ ہے۔ وہ 4 بہن بھائی ہیں جن میں شہلا سب سے بڑی ہیں۔ انہوں نے تمام تر تعلیم اپنے پیدائشی شہر فیصل آباد میں حاصل کی جبکہ ماسٹرز پنجاب یو نیورسٹی لاہور سے کیا۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے اس کے علاوہ اردو اور انگریزی زبان پر بھی عبور رکھتی ہیں ۔ انہوں نے اسکول کے زمانے سے ہی شاعری شروع کی ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ محکمہ تعلیم پنجاب میں لیکچرر مقرر ہو گئیں اوراس وقت اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں ۔ 7 اگست 2014 میں ان کی شادی ہوئی اور ماشاء اللہ وہ ایک ہونہار بیٹے کی ماں ہیں۔ شہلا شہناز صاحبہ بہت خوب صورت شاعری کرتی ہیں لیکن درس و تدریس اور گھریلو مصروفیات کے باعث مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں اور اب تک انہوں نے اپنی شاعری کی کوئی کتاب بھی شائع نہیں کی ہے ۔ علامہ اقبال، میر تقی میر، پروین شاکر ، یاسمین حمید اور مجید امجد ان کے پسندیدہ شعراء میں شامل ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ تری قربت کہ سطر ِ خوشنما لکھنے لگی
    تُو پلٹ آیا تو میں کتنا نیا لکھنے لگی

    ایک ٹھوکر تک ہے یہ انبار ِخشت و سنگ سب
    راہ کی دیوار کو میں راستہ لکھنے لگی

    تم مجھے اس آنکھ کی پُتلی میں دیکھو گے تمام
    یہ جو میں حرف ِ ہنر کو آٸنہ لکھنے لگی

    دن کو خط بھیجا تو اُس میں چھاٶں تہہ کر کے رکھی
    رات کو مکتوب لکھا تو دیا لکھنے لگی

    کور آنکھوں کے لیے میں نے تراشے تھے نجوم
    گونگے ہونٹوں کے لٸے حرف ِ صدا لکھنے لگی

    لہر کو دریا کی مٹھی میں پڑا رہنے دیا
    اور صحراٶں کی قسمت میں گھٹا لکھنے لگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تھا کوئی شخص مرے دل میں سمندر جیسا
    اب تو سناٹا ہے ہر سو میرے اندر جیسا

    ہجر لذت سے تہی وصل بھی پھیکا پھیکا
    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    شہلا شہناز

  • پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی،نیلما ناہید درانی

    پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی،نیلما ناہید درانی

    گو دیکھنے کے واسطے لاکھوں تھے خوبرو
    ہم نے تو ایک چہرے کو معیار کر لیا

    نیلما ناہید درانی

    ادیبہ، شاعرہ ، سفرنامہ نگار
    پاکستان کی پہلی خاتون SSP
    15 اکتوبر : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف و گفتگو: آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی شہرت یافتہ 4 زبان پاکستانی شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، سفر نامہ نگار اور پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی محترمہ نیلما ناہید درانی صاحبہ 15 اکتوبر 1955 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام آغا اعجاز حسین درانی ، والدہ محترمہ کا نام آفتاب بیگم اور دادا محترم کا نام آغا نعمت اللہ جان درانی ہے۔ دادا مذہبی اسکالر اور مصنف تھے جن کا تخلص احقر امرتسری تھا۔ والد صاحب شاعری اور مصوری کرتے تھے ۔ نیلما صاحبہ کا تعلق پٹھانوں کے مشہور درانی قبیلے ( سدوزئی ) سے ہے ان کی مادری زبان اردو، پدری زبان فارسی اور پیدائشی زبان لاہوری پنجابی ہے۔ وہ پانچ بہن بھائی ہیں ان کے دو بھائی ہیں اور دونوں لکھاری ہیں۔ ایک بھائی آغا مدثر پنجابی کہانی نویس ہیں اور دوسرے بھائی آغا مزمل اردو اور پنجابی میں شاعری کرتے ہیں ۔ نیلما درانی کے 3 بچے ہیں بڑا بیٹا سوفٹ ویئر انجنیئر ہے بیٹی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے اور چھوٹا بیٹا لندن یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کا طالب علم ہے اور نیلما صاحبہ اس وقت لندن میں ان کے ہاں قیام پذیر ہیں ۔ نیلما ناہید درانی اردو ، انگریزی ، پنجابی اور فارسی زبان میں شاعری کرتی ہیں اس کے علاوہ وہ ایک بہت بڑی لکھاری بھی ہیں وہ سفرنامہ نگار اور کالم نویس بھی ہیں ان کے لکھنے کا انداز بہت متاثرکن ہے اس لیے ان کے قارئین کی تعداد کا حلقہ بہت وسیع ہے۔ نیلما کی پہلی کہانی ماہنامہ ہدایت لاہور میں شائع ہوا جس کے ایڈیٹر نظرزیدی تھے۔ انہوں نے 1965 سے یعنی 10 سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ نیلما نے اسلامیہ گرلز ہائی سکول لاہورسے میٹرک ، لاہور کالج برائے خواتین لاہور سے بی اے اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی ، پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس لاہور سے صحافت میں ایم اے کیا۔ اور 2000 میں ایم اے پنجابی کیا ۔

    ایم اے صحافت کے دوران ہی پی ٹی وی پر انائونسر کی جاب مل گئی ۔ ریڈیو پاکستان کیلئے بچوں کی کہانیاں بھی لکھتی رہیں جب وہ ایف اے کی طالبہ تھیں ۔
    پاکستان ٹیلی ویژن میں 4 ماہ کی سروس کے بعد انہیں محکمہ پولیس میں انسپکٹر کی جاب مل گئی۔ ۔۔اور وہ دونوں ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔صبح کو پولیس کی ڈیوٹی سر انجام دیتیں ۔۔شام کو پی ٹی وی سے اناونسمنٹ کرتیں۔۔۔
    جب رائل ٹی وی کا آغاز ہوا تو اس کے ایک گھنٹہ دورانیہ کے ٹاک شو پروگرام ۔۔ستاروں کے ساتھ۔۔۔کی دو برس تک کمپیرنگ کی
    ایف ایم ریڈیو 101۔۔کے غزل ٹائم کی کمپئرنگ کی۔
    ریڈیو پاکستان لاہور کے مقبول ادبی پروگرام ۔۔تخلیق کی کپمئیرنگ کی اور بہت سے شاعروں ادیبوں کے انٹرویوز ریکارڈ کروائے
    وہ اپنی محنت ۔ ذہانت اور بہتر کارکردگی کی بدولت ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی کا منفرد اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ جبکہ وہ مختلف پولیس ٹریننگ اسکولز کی پرنسپل کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔ وہ اقوام متحدہ کےامن مشن میں افریقہ میں بھی تعینات رہی ہیں ۔ 2010 میں انہیں ان کی انگریزی نظم پر یونائٹڈ نیشن افریقن یونین UNAMID کی جانب سے World Aids day کے حوالے سے پہلا انعام دیا گیا ۔ 2004 میں گورنر پنجاب خالد مقبول نے انہیں بہترین شاعری اور پولیس کارکردگی پر فاطمہ جناح میڈل دیا جبکہ 2005 وزیر اعظم شوکت عزیز نے انہیں بھی اعلی کارکردگی کی بنا پر گولڈ میڈل کا انعام دیا ۔ 1989 میں شالیمار ریکارڈنگ کمپنی نے نیلما کی شاعری پر مشتمل ” انتظار” کے عنوان سے کیسٹ جاری کیا جس میں ان کی تمام غزلیں حامد علی خان نے گائی ہیں۔ نیلما صاحبہ حمد، نعت، غزل ، نظم ، سلام، منقبت اور مرثیہ کی اصناف میں طبع آزمائی کر چکی ہیں۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ۔۔جب تک آنکھیں زندہ ہیں۔۔۔جو 1986 میں چھپی تھی کی پہلی غزل کو بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی ہے جس کا مطلعہ ہے

    اداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے
    سفید لمحوں میں رنگ بھرنا کوئی تو سیکھے

    نیلما ناہید درانی صاحبہ کی اب تک 16 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ان کی اردو اور پنجابی شاعری ، سفرنامے اور افسانے شامل ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں ۔
    1 جب تک آنکھیں زندہ ہیں 2 جب نہر کنارے شام ڈھلی 3 تمھارا شہر کیسا ہے 4 واپسی کا سفر 5 قطرہ قطرہ عشق 6 جنگل ، جھیل اور میں 7 نیلما کی غزلیں 8 اداس لوگوں سے پیار کرنا 9 راستے میں گلاب رکھے ہیں 10 چانن کتھے ہویا 11 دکھ سبھا ایہ جگ 12 چاند ، چاندنی چندی گڑھ 13 چڑھدے سورج دی دھرتی 14 ٹھنڈی عورت 15 بیلجم میں 20 دن 16۔تیز ہوا کا شہر

    چند منتخب اشعار قارئین کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یوں خوف زدہ چہرے لیے پھرتے ہیں سارے
    لوگوں کو کسی نے تو ڈرایا ہے کوئی ہے

    اب اونچی فصیلیں ہیں یہاں آہنی در ہیں
    یوں موت کو پہرے پہ بٹھایا ہے کوئی ہے

    مجھے جہاں کے یزیدوں سے ڈر نہیں لگتا
    کہ میرے گھر پہ مرے پنجتن کا سایہ ہے

    جو بھی قریب آیا اسے پیار کر لیا
    اپنی نظر کو یونہی گنہ گار کر لیا

    گو دیکھنے کے واسطے لاکھوں تھے خوبرو
    ہم نے تو ایک چہرے کو معیار کر لیا

    ظلم ہے اور کوئی روتا نہیں
    ظلم ہے سب کو دکھائی بھی تو دے

    کوئی تو خزاں میں پتے اگانے والا
    گلوں کی خوشبو کو قید کرنا کوئی تو سیکھے

    شہر میں بستے حیوانوں سے ڈر لگتا ہے
    مجھ کو ایسے انسانوں سے ڈر لگتا ہے

    مسجد کے حجرے میں بچے مر جاتے ہیں
    تیرے گھر کے دربانوں سے ڈر لگتا ہے

    بچھڑتے وقت اس نے جو کہا تھا
    اسی اقرار نے چونکا دیا تھا

    نیلما ناہید درانی

  • جدید اردو نظم کے بانی؛  نون میم راشد کا تعارف

    جدید اردو نظم کے بانی؛ نون میم راشد کا تعارف

    کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
    سر میں اگر وہ شوق شہادت نہیں رہا
    ن م راشد

    جدید اردو نظم کے بانی اور آزاد نظم کے پہلے شعری مجموعے ” ماورا” کے خالق نذر محمد جنجوعہ المعروف ن م راشد یکم اگست 1910 میں ضلع گجرانوالہ کے قصبہ علی پور چٹھہ کے اکال گڑھ کے ایک زمیندار اور ڈپٹی انسپکٹر اسکولز راجہ فضل الاہی چشتی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و میٹرک اکال گڑھ میں بقیہ تعلیم لائل پور اور لاہور میں حاصل کی۔ 1935 میں اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کی جس کا 1961 میں انتقال ہوا جس کے بعد انہوں نے 1963 میں ایک برطانوی خاتون شیلا انجیلی سے شادی کی ۔

    ن م راشد نے تعلیم سے فراغت کے بعد کمشنر آفس ملتان میں ملازمت کی۔ اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے۔ وہ ریڈیو لکھنو اور پشاور کے اسٹیشن ڈائریکٹر رہے ۔ کچھ عرصہ فوج میں ملامت کی جس کے بعد آئی ایس پی آر میں ملازمت کی اس دوران ایران، عراق، مصر اور سری لنکا میں تعینات رہے۔ کچھ عرصہ بعد اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات میں ملازم رہے اس دوران نیو یارک، کراچی اور جکارتہ میں تعیناتی رہی ۔

    گھڑ سواری ، تیراکی اور کشتی رانی کے شوقین رہے۔ ن م راشد نے 7سال کی عمر میں ” انسپکٹر اور مکھیاں” کے عنوان سے پہلی نظم کہی جبکہ باقاعدہ شاعری کا آغاز انہوں حمدیہ اور نعتیہ شاعری سے کیا۔ 1942 میں ان کی آزاد نظموں کا شعری مجموعہ” ماورا” شائع ہوا جو کہ اردو میں آزاد نظموں کی پہلی کتاب ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں ” لا_انسان” ایران میں اجنبی اور ” گمان کا ممکن” شامل ہیں۔ 9 اکتوبر 1975 میں لندن میں ان کا انتقال ہوا وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں مذہب بیزار ہو چکے تھے چناں چہ انہوں نے اپنی نعش کو جلانے کی وصیت کر دی تھی اس لیے ان کی اہلیہ شیلا نے ان کے جسد خاکی کو نذر آتش کرا دیا تھا جبکہ ن م راشد کے بیٹے اپنے والد کی لاش کو جلانے کے حق میں نہیں تھے لیکن ان کی ماں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے آنے سے پہلے ہی اپنے شوہر کی وصیت پر عمل درآمد کر دیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حماس حملے؛ ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 800 سے بھی تجاوز کرگئی
    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی
    چین نے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا
    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی
    تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
    دل میں ترے وہ ذوقِ محبت نہیں رہا

    پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتے
    تو ہی حریفِ ذوقِ سماعت نہیں رہا

    آئیں کہاں سے آنکھ میں آتشِ چکانیاں
    دل آشنائے سوزِ محبت نہیں رہا

    گل ہائے حسنِ یار میں دامنِ کشِ نظر
    میں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا

    شاید جنوں ہے مائلِ فرزانگی مرا
    میں وہ نہیں وہ عالمِ وحشت نہیں رہا

    ممنون ہوں میں تیرا بہت مرگِ ناگہاں
    میں اب اسیر گردشِ قسمت نہیں رہا

    جلوہ گہہِ خیال میں وہ آ گئے ہیں آج
    لو میں رہین زحمتِ خلوت نہیں رہا

    کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
    سر میں اگر وہ شوقِ شہادت نہیں رہا

    ن م راشد

  • نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    نام کتاب : نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت
    مولف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 416
    قیمت : 990روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، نزد لوئر مال لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” نوجوان نسل کےلئے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ عبدالمالک مجاہد کی نئی تالیف ہے ۔یہ کتاب کتب ِ سیرت میں ایک خوبصورت موتی کی طرح گرانقدراضافہ ہے ۔ موضوع جس قدر عظیم ہے عبدالمالک مجاہد نے اسی قدر بہتر طریقے سے اسے لکھنے کاحق ادا کیا ہے ۔ کتاب میں کوئی ایسا واقعہ نہیں جو بغیر سند کے مذکور ہویاجس کی صحت مشکوک ہو ۔ یہ کتاب آپ ﷺ کی حیات مبارک کو مختصر طور پر پڑھنے کی خواہشمند نوجوان نسل کے لئے لاجواب اور بےمثال تحفہ ہے ۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود سیرت النبی کے تمام پہلوﺅں کا مکمل احاطہ کرتی ہے اس میں نبی ﷺ کی مبارک زندگی کے تمام گوشے خوبصورت طریقے سے بیان کئے گئے ہیں ۔کتاب کااسلوب نہایت دلچسپ اورعام فہم ہے جوکہ بطور خاص نوجوان نسل کالجوں ، یونیورسٹیز اوردینی اداروں کے طلبہ وطالبات کے لئے نہایت مفید ہے۔ انداز بیاں میں سادگی اورروانی ہے تاکہ نوجوان نسل اسے دلچسپی سے پڑھے ۔ اس لئے کہ یہ محبوب الہیٰ کا تذکرہ ہے، جن کی تعریف وتوصیف خود آسمانے والے نے اپنی کتاب مقدس میں فرمائی ہے ، جو محبوب ملائکہ ہیں ، جو ایک لاکھ چوبیس ہزار کے امام و پیشوا ہیں ، جو ساقی کوثر ہیں ، جو سرداران جنت حسن وحسین کے نانا ہیں ،جو عفیفہ کائنات سیدہ عائشہ طاہرہ مطاہرہ کے شوہر ہیں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باپ ہیں ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے دنیا میں بسایا اس کے بعد بیشمار ادوار گزرتے چلے گئے تاآنکہ انسانی جذبات واحساسات نے تحریرکی شکل اختیار کی اول اول انسان نے پتھروں پر لکھنا شروع کیا تب سے اب تک اس دنیا میں جتنے ادور بھی گزرے، ان میں سے رسول ﷺ واحد ہستی ہیں کہ جن کی مبار ک زندگی پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے ۔ ادوار گزرے چلے جائیں گے، لکھنے والے لکھتے رہیں گے ، ان کے قلم ٹوٹ جائیں گے، سیاہیاں خشک ہوجائیں گی لیکن رسالت ماٰ ب ﷺ کی سیرت طیبہ کو لکھنے کا حق ادا نہیں کیا جاسکے گا ۔ سیرت طیبہ کے ہدی خوانوں میں عبدالمالک مجاہد بھی ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ”پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ میں تمام واقعات مستند اور صحیح ہیں ۔ یہ واقعات سیرت کی قابل اعتماد کتب سے نقل کئے گئے ہیں۔ قرآنی آیات ، احادیث اور دیگر عربی عبارات کے ترجمے کو لفظی ترجمے کی بجائے آسان ترین اوربامحاورہ ترجمے کی صورت میں لکھا گیاہے ۔کتاب اللہ کے نبی ﷺ کی روشن زندگی کے روشن اور سبق آموز واقعات پر مشتمل ہے جس کے مطالعہ سے ہم دین ودنیا کی کامیابیاں سمیٹ سکتے اوردنیا کو بھی انسانیت، امن ، سلامتی کاایک امیدافزا پیغام دے سکتے ہیں ۔
    ارشاد احمد ارشد
     نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

  • کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیاء کہتے ہیں

    اہم راہروئے دشت وفا روز اول سے
    اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے

    نوابزادہ نصر اللہ خان

    شاعر۔ سیاست دان۔ دانشور

    یوم پیدائش 13 نومبر 1916 خان گڑھ
    یوم وفات 27 ستمبر 2003 اسلام آباد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوابزادہ نصراللہ خان 13 نومبر 1916کو مظفر گڑھ پنجاب کے ایک نواحی گاؤں خان گڑھ میں ایک پٹھان نورزئی قبیلے کےط سردار نواب سیف اللہ خان کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ 1933ء میں انہوں نے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز مجلس احرار سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور 1950ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں انہوں نے حسین شہید سہروردی کے ساتھ عوامی لیگ کی بنیاد رکھی اور پھرپاکستان جمہوری پارٹی کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بھی قائم کی۔ 1964ء میں انہوں نے کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا اور اس برس منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اتحادوں کے قیام میں فعال حصہ لیا جن میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ، جمہوری مجلس عمل، یو ڈی ایف، پاکستان قومی اتحاد، ایم آر ڈی، آل پارٹیز کانفرنس، این ڈی اے اور اے آر ڈی کے نام سرفہرست تھے۔ انہیں ’’بابائے جمہوریت‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں کشمیر کمیٹی کے چیئر مین کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ وہ شائستہ گفتگو اور نرم لہجے کے مالک تھے ۔ انہوں نے اردو میں شاعری بھی کی ” ناصر” تخلص استعمال کرتے تھے ۔ 27 ستمبر 2003 میں اسلام آباد واقع اپنی رہائش گاہ میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے ۔ انہیں اپنے آبائی گاؤں خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ان کے فرزند نوابزادہ افتخار احمد خان 2018 کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

    غزل

    نوابزادہ نصر اللہ خان ناصر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کتنے بے درد ہیں صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں

    جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں
    میری مجبوری کو تسلیم و رضا کہتے ہیں

    غم نہیں گر لبِ اظہار پر پابندی ہے
    خامشی کو بھی تو اِک طرزِ نوا کہتے ہیں

    کُشتگانِ ستم و جور کو بھی دیکھ تو لیں
    اہلِ دانش جو جفاؤں کو وفا کہتے ہیں

    کل بھی حق بات جو کہنی تھی سرِ دار کہی
    آج بھی پیشِ بتاں نامِ خدا کہتے ہیں

    یوں تو محفل سے تری اُٹھ گئے سب دل والے
    ایک دیوانہ تھا وہ بھی نہ رہا کہتے ہیں

    یہ مسیحائی بھی کیا خوب مسیحائی ہے
    چارہ گر موت کو تکمیلِ شِفا کہتے ہیں

    بزمِ زنداں میں ہوا شورِ سلاسل برپا
    دہر والے اسے پائل کی صدا کہتے ہیں

    آندھیاں میرے نشیمن کو اڑانے اٹھیں
    میرے گھر آئے گا طوفانِ بلا کہتے ہیں

    اُن کے ہاتھوں پہ اگر خون کے چھینٹے دیکھیں
    مصلحت کیش اسے رنگِ حنا کہتے ہیں

    میری فریاد کو اِس عہد ہوس میں ناصر
    ایک مجذوب کی بے وقت صدا کہتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب شور سلاسل میں سرور ازلی ہے
    پھر پیش نظر سنت سجاد ولی ہے

    کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
    اور کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے

    دو حق و صداقت کی شہادت سر مقتل
    اٹھو کہ یہ وقت کا فرمان چلی ہے

    غارت گر یہ اہل ستم بھی کوئی دیکھے
    گلشن میں کوئی پھول نہ غنچہ نہ کلی ہے

    ہم راہروئے دشت وفا روز اول سے
    اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    15 ستمبر 1890. یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ کا خطاب حاصل کرنے والی دنیا کی مشہور ترین ناول نگار اگاتھا کرسٹی کا پورا نام اگاتھا میری کلیرسا کرسٹی تھا اور وہ 15 ستمبر 1890 کو برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ایک کثیر التصانیف ادیبہ تھیں اور انھوں نے 87 ناول تحریر کیے جن کا ترجمہ دنیا کی 103 زبانوں میں ہوا اور جن کی 30 کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔
    سنہ 1914 میں ان کی پہلی شادی آرچی بالڈ پیسٹی سے ہوئی مگر 1928 میں ان کی علیحدگی ہو گئی۔ پھر سنہ 1930 میں اُن کی دوسری شادی میکس میلووان سے ہوئی جو آثار قدیمہ کے شعبے سے منسلک تھے اور انھیں مشرق وسطیٰ کی قدیم تاریخ کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔
    میکس میلووان کا اولین کام میسوپوٹیمیا کی تہذیب کے دارالحکومت ’اُر‘ کو بازیافت کرنا تھا۔ وہیں ان کی ملاقات اگاتھا کرسٹی سے ہوئی تھی جن کے ساتھ بہت جلد وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ میکس میلووان کی تحقیق اور تحریر کا کام جاری رہا اور انھوں نے مشرق وسطیٰ کی بہت سارے قدیم مقامات پر تحقیقی کام کیا جن میں عراق اور شام کے بہت سے تہذیبی مراکز شامل تھے۔
    وہ عراق میں برٹش سکول آف آرکیالوجی کے ڈائریکٹر بھی رہے اور سنہ 1956 میں ان کی پہلی تصنیف ’25 ایئرز آف میسوپوٹیمین ڈسکوری’ منظر عام پر آئی۔
    آثار قدیمہ سے دلچسپی سنہ 1960 میں انھیں پاکستان کھینچ لائی۔ یہ دورہ میکس میلووان کا تھا اور جوڑے نے اس دوران کراچی، موئن جو دڑو، لاہور اور کئی دوسرے شہروں کا دورہ کیا۔ مگر اخبارات نے زیادہ اہمیت اگاتھا کرسٹی کو دی جو اس 15 روزہ دورے میں اُن کے ساتھ ساتھ رہیں۔
    اس بات کا اندازہ اس فیچر سے ہوتا ہے جو چھ مارچ 1960 کو ’السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان‘ میں شائع ہوا۔
    اگاتھا کرسٹی نے اس جریدے کے مدیر کو بتایا کہ وہ اور ان شوہر بہت عرصے سے اس خطے کی سیاحت کرنے کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے کہا: ’میں ابھی پندرہ روز تک انڈیا کا دورہ بھی کر کے آئی ہوں مگر میں نے وہ دورہ مسز میلووان کے نام سے کیا اور وہاں کسی کو میری شناخت معلوم نہ ہو سکی۔‘
    شاید یہ اس پاکستانی صحافی کی ذہانت اور حاضر دماغی کی داد دے رہی تھیں جنھوں نے مسز میلووان کا راز بھانپ لیا تھا۔
    السٹریٹڈ ویکلی میں شائع ہونے والے انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے بتایا کہ ان کے شوہر دس سال سے عراق میں میسوپوٹیمیا کی تہذیب پر کام کر رہے تھے اور اب وہ اس موضوع پر اپنی کتاب مکمل کرنے والے ہیں جس کے لیے انڈیا اور پاکستان کے قدیم مقامات اور یہاں سے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ کا جائزہ لینا بہت ضروری تھا۔

    السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان کے مدیر نے اگاتھا کرسٹی سے پوچھا کہ وہ ناول لکھنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہیں۔ اگاتھا کرسٹی نے کہا کہ وہ پہلے کہانی کا اختتام سوچتی ہیں اور پھر ناول لکھنا شروع کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ناول لکھنے میں انھیں تقریباً تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔
    وہ اپنا ناول خود ٹائپ کرتی ہیں اور اس دوران کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اس ناول کو پڑھ سکے۔ ان کے مطابق تحریر کا سب سے مناسب وقت رات کا پچھلا پہر ہے۔ اس وقت میں تحریر پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن کا پسندیدہ ناول ’اینڈ دین دیئر ور نن‘ ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ناول اگاتھا کرسٹی کی سب سے مقبول کتاب ثابت ہوئی ہے اور اس کی دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
    اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار کون ہیں تو انھوں نے مائیکل گلبرٹ اور مارجوری ایلنگھم کے نام لیے جبکہ امریکی مصنّفین میں ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار الزبتھ ڈیلی اور ارل اسٹینلے گارڈنر تھے۔ انھوں نے کہا ’ان مصنفین کی کردار سازی لاجواب ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ برطانیہ کے مشہور سراغ رساں ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ سے ان کے تعلقات کیسے ہیں۔ اس پر جواب ملا کہ وہ صرف چند مرتبہ اس ادارے کے لوگوں سے ملی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کے لوگ ان کے ناولوں کو دلچسپ ضرور تصور کرتے ہیں مگر حقیقت سے دور۔۔
    انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے کچھ قتل ایسے بھی تھے جن کی پولیس رپورٹ میں نے بڑی دلچسپی سے پڑہی مگر میں نے انھیں کبھی اپنے ناول کے قالب میں نہیں ڈھالا۔
    اس انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے اپنے مشہور کردار ہرکیول پویئرو کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مصنف کو جاسوسی ناول کا طویل سلسلہ لکھنا ہو تو اسے کچھ ’سٹاک کریکٹر‘ تخلیق کرنے پڑتے ہیں۔
    ’ہرکیول پویئرو بھی میرا ایسا ہی ایک کردار ہے۔ یہ کردار میں نے پہلی جنگ عظیم میں بلجیم سے برطانیہ ہجرت کرنے والے ایک پولیس افسر کو سامنے رکھ کر تراشا تھا۔ وہ پولیس افسر تو کب کا وفات پا چکا مگر میرا کردار اب بھی زندہ ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر وہ پولیس افسر اس وقت زندہ ہوتا تو اس کی عمر 103 سال کے لگ بھگ ہوتی۔‘
    جب اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے پس منظر میں کوئی ناول تخلیق کرنا چاہیں گی تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک کے پس منظر میں ناول لکھنا بہت مشکل ہے جسے وہ بہت کم جانتی ہیں۔ ’یہ کام صحافی تو کر سکتے ہیں مگر کوئی تخلیقی ادیب نہیں۔‘
    کہا جاتا ہے کہ سنہ 1960 کے اس دورے کے بعد اگاتھا کرسٹی ایک مرتبہ پھر پاکستان سے گزریں۔ اس بات کے راوی سہیل اقبال ہیں۔
    انھوں نے اپنے ایک مضمون میں جو، ابن صفی میگزین میں شائع ہوا تھا، لکھا ہے کہ سنہ 1965 کے لگ بھگ اگاتھا کرسٹی نے کسی اور ملک جاتے ہوئے کراچی ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاﺅنج میں کچھ دیر قیام کیا تھا۔
    ان کے اس قیام کا کچھ لوگوں کو پہلے سے علم تھا جن میں ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر رضی اختر شوق اور روزنامہ حریت سے منسلک صحافی اے آر ممتاز شامل تھے اور وہ اگاتھا کرسٹی سے ملنے ایئر پورٹ پہنچ گئے۔
    انھوں نے دوران گفتگو پاکستانی جاسوسی ادب کا ذکر کیا تو اگاتھا کرسٹی مسکرائیں اور بولیں: ’مجھے اُردو نہیں آتی لیکن برصغیر کے جاسوسی ادب سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتی ہوں۔ اردو میں صرف ایک اوریجنل رائٹر ابن صفی ہیں اور سب اس کے نقال ہیں، کسی نے بھی اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ نہیں نکالی۔‘

  • یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    کبھی ترے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا
    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    اصلی نام :سلمہ اعجاز
    قلمی نام:سلمیٰ حجاب
    تاریخ ولادت:15 ستمبر 1949
    ء

    نام سلمہ اعجاز: قلمی نام :سلمہ حجاب۔ پیدائش 15 ستمبر 1949 ۔ وطن۔ لکھنؤ، تعلیم: فلسفے میں ایم ۔اے اور بی ۔ایڈ۔ پہلا شعری مجموعہ ’’دھنک‘‘اور دوسرا’’اسماں اور بھی ہیں‘‘ ’’تیسرا زیر ترتیب ہے۔ ’’بزم اردو‘‘ لکھنو، کی پانچ سال صدر رہیں اورپروفيسر ملک زادہ منظور احمد کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ’’امکان‘‘ لکھنؤ سے مسلسل دس برسوں تک معاون اور نائب مدیر کی حیثیت سے منسلک رہیں اور ان کے انتقال کےبعد 2017 میں ’’امکان‘‘ کا ایک خصوصی شمارہ، پروفيسر ملک زادہ منظور احمد نمبر نکالنے کے بعد ادارت سے دستبردار ہو گئیں۔ شاعری کے علاوہ افسانے اور مضامین بھی لکھتی ہیں جومعروف ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    کبھی تیرے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا
    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا
    نیا آرزو کا مزاج ہے نئے دور کی ہیں رفاقتیں
    تری قربتوں کا جو زخم تھا تری دوریوں نے مٹا دیا
    مجھے ہے خبر تجھے عشق تھا فقط اپنے عکس جمال سے
    کہ میں گم ہوں تیرے وجود میں مجھے آئینہ سا بنا دیا
    میں حصار میں تو حصار میں اسی سلسلے کو دوام ہے
    کبھی مصلحت نے جدا کیا تو کبھی غرض نے ملا دیا
    سبھی کہہ رہے ہیں یہ برملا جو گزر گیا وہی خوب تھا
    ابھی ایک پل جو ہے آسرا اسے سب نے یوں ہی گنوا دیا
    وہ شرر ہو یا کہ چراغ ہو ہے تپش مزاج میں اے حجابؔ
    کبھی ہر نفس کو جلا دیا کبھی روشنی کو بڑھا دیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    جینا کیا ہے حباب ہو جانا
    اک حقیقت کا خواب ہو جانا
    عشق ہے سلسلہ سوالوں کا
    اور وفا لا جواب ہو جانا
    بارہا محفلوں نے دیکھا ہے
    خامشی کا رباب ہو جانا
    یہ کرشمہ ہے زر نوازی کا
    ان کا تم سے جناب ہو جانا
    جنبش فکر کی یہی حد ہے
    بس عذاب و ثواب ہو جانا
    جب وہ گوہر شناسیاں نہ رہیں
    اے گہر پھر سے آب ہو جانا
    تشنگی امتحان لیتی ہے
    اے ندی تو سراب ہو جانا
    اٹھ گئی اس طرف نظر ان کی
    اے تمنا حجابؔ ہو جانا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    سکون دل کو مرا اضطراب کیا جانے
    شکست خواب کو تعبیر خواب کیا جانے
    وہ منکشف ہے ابھی صرف دشت و صحرا پر
    جو کیف تشنہ لبی ہے وہ آب کیا جانے
    نشاط سجدہ سے جس کو غرض ہے وہ بندہ
    جھکا دے سر تو عذاب و ثواب کیا جانے
    وہ زندگی سے ادا سیکھتا ہے جینے کی
    تمام چہرے جو پڑھ لے کتاب کیا جانے
    اسیر شوق تو اذن سفر کا طالب ہے
    مقام عیش کو خانہ خراب کیا جانے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    آخری خواہش
    ۔۔۔۔۔۔
    تھی خواہش کسی کی
    کہ میں زندگی کا
    اہم واقعہ
    کوئی چن کر سناؤں
    میری فکر نے جب ادھر رخ کیا تو
    یہ پایا کہ
    مشکل بڑی ہے
    کہ یہ زندگی تو
    اہم واقعوں کی
    مسلسل کڑی ہے
    ادھر بھی جڑی ہے
    ادھر بھی جڑی ہے
    اسی فکر میں میں پڑی رہ گئی کہ
    اٹھاؤں کدھر سے
    اہم واقعہ اک
    تسلسل کو اس کے
    کدھر سے میں توڑوں
    اگر توڑ بھی دوں
    تو پھر کیسے جوڑوں
    شروع کی کڑی تو بہت ہی اہم تھی
    اسے چھو کے دیکھا تو بالکل نرم تھی
    ابھی درمیاں تک میں
    پہنچی نہیں تھی
    کہ رنگین کڑیاں
    کھنکنے لگیں خود
    مجھے چھو کے دیکھو
    مجھے چوم لو تم
    کہ مجھ سے اہم
    کچھ نہیں زندگی میں
    عجب معجزہ تھا کہ
    کڑیاں سبھی وہ
    نہ آنچل سے الجھیں
    نہ ٹھہریں کہیں بھی
    گزرتی رہیں اور
    گزرنے سے پہلے
    حسیں رنگ اپنے
    عطا کر کے مجھ کو
    مری ہی کلائی میں
    بن بن کے کنگن
    کھنکنے لگی تھیں
    تسلسل مگر ان کا ٹوٹا نہیں تھا
    کوئی رنگ بھی ان کا جھوٹا نہیں تھا
    ابھی تک تو ان کو
    سنبھالے سنبھالے
    گزرتی رہی میں
    سرا آخری جب
    مرے ہاتھ میں ہے
    تو جی چاہتا ہے
    مجھے تھام لے وہ
    میری سست رفتاریوں کے مقابل
    اگر وہ ٹھہر نہ سکے
    تو مرا ساتھ دینے کی خاطر
    وہ اتنا تو کر دے
    کہ میرے گزرنے سے پہلے
    مرا وقت آنے سے پہلے
    بڑھے
    اور
    مجھے قید کر لے

  • میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں،سائرہ بھارتی

    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں،سائرہ بھارتی

    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

    تعارف و گفتگو : آغا نیاز مگسی

    ہندوستان کی معروف ادیبہ و شاعرہ سائرہ بھارتی کا اصل نام سائرہ خان ہے وہ 24 دسمبر 1973 میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام رشید احمد اور والدہ محترمہ کا نام زیب النساء ہے اور وہ دونوں وفات پا چکے ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہندی رسم الخط میں شاعری لکھتی تھی مگر اردو کی محبت مجھے اردو رسم الخط کی طرف لے آئی۔ سائرہ نے تعلیمی سلسلے میں ایم اے اور بی ایڈ کر رکھا ہے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ شاعری میں فرید شمسی صاحب ان کے استاد ہیں جن کا تعلق رام پور اتر پردیش سے ہے۔ سائرہ شاعری کے علاوہ خاکہ نگاری بھی کرتی ہیں اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک قصر ادبی ایوارڈ، شری غزل ایوارڈ سمیت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جن میں ادبی ایوارڈز کے علاوہ سماجی ایوارڈ بھی شامل ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کی ازدواجی زندگی کا آغاز 1999 میں والدین کی مرضی سے ایک بزنس مین نسیم الدین صدیقی صاحب کے ساتھ شادی سے ہوا۔ ان کے خاوند محترم کا شعر و ادب سے تعلق نہیں ہے مگر اپنی شریک حیات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاء اللہ وہ دو بچوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے خوش قسمت والدین ہیں۔ سائرہ بھارتی نے پرانے دور کے روایتی مشاعروں اور موجودہ دور کے آن لائن مشاعروں دونوں کو شعر و ادب کے فروغ کیلئے مفید اور بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے پرانے دور کے مشاعروں میں بھی شعراء اور شاعرات کے ادبی ذوق کی تکمیل ہوتی تھی اور نئے شعراء کی تربیت ہوتی تھی تو آجکل کے سوشل میڈیا کے آن لائن و دیگر مشاعروں میں بھی شامل ہونے والے شعراء گھر بیٹھے دور دور سرحد پار ممالک کے مشاعروں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اپنے اپنے کلام پیش کر کے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں ۔ سائرہ کی نظمیہ شاعروں پر مشتمل ایک شعری مجموعہ” یادوں کے سائے” 2008 میں شائع ہو چکا ہے جبکہ اردو غزلوں پر مشتمل ان کی شاعری کا ایک اور مجموعہ زیر طباعت ہے۔ سائرہ کی شاعری کا مقصد سماج میں پھیلی برائیوں کو روکنے کی کوشش اور اپنی تہذیب و تمدن اور مثبت روایات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا اور ورثے کے طور پر منتقل کرنا ہے۔ سائرہ صاحبہ کے پسندیدہ ادباء و شعراء اور شاعرات میں غالب، میر، مومن، ذوق، فراز ، ڈاکٹر مظفر حنفی، ڈاکٹر بشیر بدر، پروین شاکر، کشور ناہید ، منشی پریم چند اور سعادت منٹو شامل ہیں۔ سائرہ کی شاعری مختلف اخبارات و رسائل اور فیس بک وغیرہ میں شائع اور شامل ہوتی رہتی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ ظلمت یہ وحشت یہ نفرت کے سائے
    کہیں بن نہ جائیں…… بغاوت کے سائے

    ये ज़ुल्मत ये वहसत ये नफ़रत के साये
    कहीं बन न जाएँ…… बग़ावत के साये

    کڑی دھوپ میں ہے سفر نفرتوں کا
    کہاں کھو گئے ہیں محبت کے سائے

    कड़ी धूप में है ……..सफ़र नफ़रतों का
    कहाँ खो गए हैं…….. मुहब्बत के साये

    شرافت ہی نام و نشاں ہے ہمارا
    تعاقب میں رہتے ہیں ذلت کے سائے

    शराफ़त ही नामो…….. निशां है हमारा
    तअक़्क़ुब में रहते हैं. ज़िल्लत के साये

    ہمیں راستہ ڈھونڈنا ہوگا خود ہی
    بھٹکنے لگے ہیں قیادت کے سائے

    हमें रास्ता ढूँढना……….. होगा ख़ुद ही
    भटकने लगे हैं ……….क़यादत के साये

    ہوا نفرتوں کی بڑھا دے گی نفرت
    پریشاں بہت ہیں محبت کے سائے

    हवा नफ़रतों की…… बढ़ा देगी नफ़रत
    परीशां बहुत हैं ……….मुहब्बत के साये

    جُھلسنا پڑے گا ہمیں اور کتنا
    بدلنے پڑیں گے سیاست کے سائے

    झुलसना पड़ेगा……. हमें और कितना
    बदलने पड़ेंगे ……….सियासत के साये

    مجھے گرمیء حشر کا خوف کیوں ہو
    مرے ساتھ ہیں ماں کی خدمت کے سائے

    मुझे गर्मी ए हश्र …….का ख़ौफ़ क्यूँ हो
    मिरे साथ हैं माँ की… ख़िदमत के साये

    اسے سائرہ بھول جانا ہے مشکل
    مرے ساتھ ہیں اُس کی چاہت کے سائے

    سائرہ بھارتی
    उसे सायरा भूल…… जाना है मुश्किल
    मिरे साथ हैं उसकी….. चाहत के साये

    सायरा भारती
    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    حقیقت مرے دل کو دیتی ہے راحت
    میں خوابوں کی دنیا بساتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

  • ڈاکٹر رتھ فاؤ، مسیحائے پاکستان

    ڈاکٹر رتھ فاؤ، مسیحائے پاکستان

    آغا نیاز مگسی

    ڈاکٹر رتھ فائو جن کا پورا نام رتھ کیتھرینا مارتھا فائو ہے وہ 9 ستمبر 1929 میں جرمنی کے شہر لپزگ میں پیدا ہوئیں ان کے والد کا نام والتھر فائو اور والدہ کا نام مارتھا فائو ہے ۔ رتھ نے 1949 میں ” مینز” سے ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے ایک بار ایک ڈاکومنٹری فلم دیکھی کہ کراچی پاکستان میں جذام کے مریضوں کا کوئی علاج نہیں ہے وہ سسک سسک کر اور تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں تو انہوں نے ” تنظیم دختران قلب مریم ” کی جانب سے پاکستان جا کر ان کا علاج کرنے فیصلہ کیا اور کراچی پہنچ گٙئیں یہاں آکر انہوں نے ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر ایک جھونپڑی میں چھوٹا سا کلینک قائم کر کے علاج شروع کر دیا کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر آئی کے گل اور سسٹر پیرنس نے بھی ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا جس سے ان کے کام کو مزید تقویت پہنچی وہ اس وقت 31 سال کی ایک وجیہہ اور خوب صورت عورت تھیں جس نے انسانیت کی خدمت کی غرض سے رہبانیت اختیار کرتے ہوئے زندگی بھر شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ڈاکٹر رتھ نے بے سہارا مریضوں کو ڈاکٹر ، ماں ، بیٹی اور بہن بن کر جذام کے مریضوں کا علاج معالجہ شروع کر دیا ان کی خدمت اور خلوص کو دیکھ کر حکومت اور عوام نے ان سے بھرپور تعاون کیا جس سے انہیں جذام کے مریضوں کے علاج معالجے میں آسانی پیدا ہوتی گئی ۔ابتدا میں انہوں نے کراچی میں ” میری ایڈلیڈ لپریسی سینٹر ” قائم کیا اس کے بعد پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں بھی اس کا دائرہ کار بڑھا دیا ۔ کراچی میں افغانستان سے بھی جذام کے مریض آنے لگے ۔ ڈاکٹر رتھ کی شبانہ روز محنت اور خدمت کے نتیجے میں پاکستان میں 1996 کو جذام کے مرض پر قابو پایا گیا جس پر عالمی ادارہ صحت نے یہ تسلیم کرتے ہوئے 1996 میں پاکستان کو جذام پر قابو پانے والا ملک قرار دے دیا ۔

    حکومت پاکستان نے 1979 میں ڈاکٹر رتھ کو محکمہ صحت کا وفاقی مشیر بنا دیا تھا جبکہ 1988 میں انہیں پاکستان کی شہریت دے دی گئی ۔ ان کی خدمات کے اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال پاکستان ، ستارہ قائد اعظم، ، ہلال امتیاز ، جناح ایوارڈ اور نشان قائد اعظم ایوارڈ دیا گیا جبکہ جرمنی کی حکومت کی جانب سے انہیں بیم بی ایوارڈ دیا گیا ، آغا خان یونیورسٹی کراچی کی جانب سے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ دیا گیا ۔ پاکستان میں انسانیت کی محسن کی اعلیٰ خدمات کی بدولت پاکستان ایشیا میں جذام کے مرض پر قابو پانے والا پہلا ملک بن گیا۔ڈاکٹر رتھ فائو 10اگست 2017 کو کراچی میں 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ۔ 19 اگست 2017 میں سینٹ پیٹرک چرچ صدر کراچی میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں جس کے بعد انہیں گورا قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فائو کو جرمنی اور پاکستان کی دہری شہریت حاصل تھی۔

  • ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    غلام محمد قاصر

    تاریخ پیدائش: 4 ستمبر 1944
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ایک خوب صورت شاعر ًغلام محمد قاصر 4 ستمبر 1944 میں پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے پہاڑپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے تین شعری مجموعے تسلسل ، آٹھواں آسماں بھی نیلا ہے اور دریائے گماں شائع ہوئے جنہوں نے سنجیدہ ادبی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی حاصل کی اور قاصر کو جدید اردو غزل کے نمائندہ شعراء میں ایک منفرد مقام کا حامل قرار دیا گیا۔ ان کا تمام شعری کلام جس میں مذکورہ بالا تینوں مجموعے اور غیر مطبوعہ و غیر مدون کلام شامل ہے۔ کلیاتِ قاصر (اک شعر ابھی تک رہتا ہے ) کے عنوان سے 2009ء میں شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے متعدد ڈرامے اور پروگرام لکھے جو ناظرین و سامعین میں بے حد مقبول ہے۔ قاصر کا تحریر کردہ ڈراما سیریل تلاش اور بچوں کے لیے کھیل بھوت بنگلہ نے خاص طور پر بہت مقبولیت حاصل کی۔ قاصر نے پاکستان کے کچھ اہل قلم پر عمدہ مضامین رقم کیے۔ پاکستان اور بیرون ملک پاکستان منعقد ہونے والے مشاعروں اور ادبی کانفرنسوں میں شرکت بھی کی۔ جبکہ این ڈبلیو ایف پی ٹیکسٹ بک بورڈ کے لیے ساتویں ، گیارہویں جماعت کے لیے نصاب مرتب کیا۔

    ملازمت
    گورنمنٹ ہائی اسکول پہاڑ پور سے میٹرک کرنے کے بعد اسی اسکول میں بطور ٹیچر تقرری ہوئی ۔ تاہم ملازمت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ طور پر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اور اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقوں میں تدریس کے شعبے سے منسلک رہے۔ 1975ء میں بطور لیکچرار پہلی تقرری گورنمنٹ کالج مردان میں ہوئی۔ اس کے بعد سپیرئیر سائنس کالج پشاور ، گورنمنٹ کالج درہ آدم خیل ، گورنمنٹ کالج پشاور، گورنمنٹ کالج طورو اور گورنمنٹ کالج پبی میں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے۔

    شاعری کا آغاز
    اسی دوران کہیں سے شعر کی چنگاری پھوٹی جس نے بالآخر پورے ملک میں ان کے نرالے طرزِ ادا کے شعلے بکھیر دیے۔ حتیٰ کہ 1977ء میں جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’تسلسل‘ شائع ہوا تو اس کے بارے میں ظفر اقبال جیسے لگی لپٹی نہ رکھنے والے شاعر نے لکھا کہ میری شاعری جہاں سے ختم ہوتی ہے قاصر کی شاعری وہاں سے شروع ہوتی ہے۔
    ساٹھ کی دہائی کے اواخر کی بات ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک عظیم الشان کل پاکستان مشاعرہ منعقد ہوا جس میں اس دور کے اکثر نامی گرامی شعرا نے حصہ لیا، جن میں ناصر کاظمی، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، محبوب خزاں وغیرہ شامل تھے۔

    مشاعرے کے آغاز ہی میں ایک نوجوان شاعر کو کلام سنانے کی دعوت دی گئی۔ ایک چوبیس پچیس سالہ دبلے پتلے اسکول ٹیچر نے ہاتھوں میں لرزتے ہوئے کاغذ کو بڑی مشکل سے سنبھال کر ایسے لہجے میں غزل سنانا شروع کی جسے کسی طرح بھی ٹکسالی نہیں کہا جا سکتا تھا۔ لیکن اشعار کی روانی، غزلیت کی فراوانی اور خیال کی کاٹ ایسی تھی کہ بڑے ناموں کی باری کے منتظر سامعین بھی نوٹس لینے پر مجبور ہو گئے۔
    جب نوجوان اس شعر پر آئے تو نہ صرف گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے شعرا یک لخت اٹھ بیٹھے اور بلکہ انھوں نے تمام سامعین کی آواز میں آواز ملا کر وہ داد دی کہ پنڈال کی محاوراتی چھت اڑ گئی۔ شعر تھا:

    تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ میخانے کا پتہ
    ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے
    لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے؟ اس سوال کا جواب غزل کے آخری شعر میں شاعر نے خود ہی دے دیا:
    کون غلام محمد قاصر بیچارے سے کرتا بات
    یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے
    قاصر نے روایت اور کلاسیکی زبان کا دامن تھامے رکھا۔ تاہم انھوں نے روایت میں بھی جدت اور ندرت کا مظاہرہ کیا ہے۔
    میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
    روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے
    گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے، گھر کا سناٹا کہتا ہے
    اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے
    احمد ندیم قاسمی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ’جب کوئی سچ مچ کا شاعر بات کہنے کا اپنا سلیقہ روایت میں شامل کرتا ہے تو پوری روایت جگمگا اٹھتی ہے۔
    نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
    جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
    اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے
    ان کی وسعتِ نظر ایسی ہے جو انسانی نفسیات کی اتھاہ گہرائیوں میں کمال سہولت سے اتر جاتی ہے:
    کشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا
    پہلے اِک شخص میری ذات بنا
    اور پھر پوری کائنات بنا
    کیا کروں میں یقیں نہیں آتا
    تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے

    قاصر کے ہاں روایت اور جدت کے امتزاج کی ایک اور مثال یہ ہے کہ وہ اساطیری روایات کو پلٹ کر انھیں نیا رنگ عطا کر دیتے ہیں، اور ہزاروں بار سنی ہوئی بات بھی اچھوتی ہو جاتی ہے:
    بیکار گیا بن میں سونا میرا صدیوں کا
    اس شہر میں تو اب تک سِکہ بھی نہیں بدلا
    آگ درکار تھی اور نور اٹھا لائے ہیں
    ہم عبث طور اٹھا لائے ہیں
    پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی
    لاکھ دجلے بنا فرات بنا
    یوں تو قاسمی، ظفر اقبال، احمد فراز، قتیل شفائی، شہزاد احمد، صوفی تبسم، رئیس امروہوی جیسے کئی مشاہیر نے قاصر کی ستائش کی ہے، لیکن مشہور کالم نگار منو بھائی نادانستگی میں اپنے ایک کالم میں قاصر کا یہ شعر میر کے نام سے نقل کر گئے:
    کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
    مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
    کسی بھی نئے یا پرانے شاعر کو اس سے بڑھ کر داد نہیں دی جا سکتی۔
    وفات
    تین ماہ تک جگر کے سرطان میں مبتلا رہنے کے بعد غلام محمد قاصر 20 فروری 1999 کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔