Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    ہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    سیلم احمد

    اردو زبان میں سلیم احمد جیسے شاعر اور ادیب کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے خود کو ادب کے لئے اس طرح وقف کردیا ہو کہ کبھی کبھی دھوکا ہونے لگتا ہو کہ وہ گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ مجسمہ ٔ خیال ہوں۔ ایسے ہی ایک شاعر اور ادیب سلیم احمد بھی تھے۔ جناب سلیم احمد27 نومبر1927ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوئے جہاں ان کے تعلقات پروفیسر کرار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے استوار ہوئے جو دم آخر تک قائم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے، یہیں تعلیم مکمل کی اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔ جناب سلیم احمد نے 1944ء میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ ان کی شاعری باوجود منفرد لب و لہجے اور نئے اسلوب و مضامین کے کڑے اعتراضات کا نشانہ بنی۔ سلیم احمد کی وجۂ شناخت ان کے بے لاگ اور کھرے تنقیدی مضامین تھے جن کی کاٹ اور جن کی صداقت اور راست بازی کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گرویدہ تھے۔ سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے، اخبارات میں کالم نگاری بھی کی اورپاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘ بھی تحریر کی جس پرانہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔ ٭یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق اور تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟ ادھوری جدیدیت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔
    ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:
    اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا۔
    روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے۔

    سیلم احمد کی چند منتخب غزلیں

    غزل

    نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    افق پہ دیکھنا تھا میں قطار قازوں کی
    مرا رفیق کہیں دور جانے والا تھا

    مرا خیال تھا یا کھولتا ہوا پانی
    مرے خیال نے برسوں مجھے ابالا تھا

    ابھی نہیں ہے مجھے سرد و گرم کی پہچان
    یہ میرے ہاتھوں میں انگار تھا کہ ژالہ تھا

    میں آج تک کوئی ویسی غزل نہ لکھ پایا
    وہ سانحہ تو بہت دل دکھانے والا تھا

    معانی شب تاریک کھل رہے تھے سلیمؔ
    جہاں چراغ نہیں تھا وہاں اجالا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل

    بیٹھے ہیں سنہری کشتی میں اور سامنے نیلا پانی ہے
    وہ ہنستی آنکھیں پوچھتی ہیں یہ کتنا گہرا پانی ہے

    بیتاب ہوا کے جھونکوں کی فریاد سنے تو کون سنے
    موجوں پہ تڑپتی کشتی ہے اور گونگا بہرا پانی ہے

    ہر موج میں گریاں رہتا ہے گرداب میں رقصاں رہتا ہے
    بیتاب بھی ہے بے خواب بھی ہے یہ کیسا زندہ پانی ہے

    بستی کے گھروں کو کیا دیکھے بنیاد کی حرمت کیا جانے
    سیلاب کا شکوہ کون کرے سیلاب تو اندھا پانی ہے

    اس بستی میں اس دھرتی پر سیرابیٔ جاں کا حال نہ پوچھ
    یاں آنکھوں آنکھوں آنسو ہیں اور دریا دریا پانی ہے

    یہ راز سمجھ میں کب آتا آنکھوں کی نمی سے سمجھا ہوں
    اس گرد و غبار کی دنیا میں ہر چیز سے سچا پانی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل

    دیدنی ہے ہماری زیبائی
    ہم کہ ہیں حسن کے تمنائی

    بس یہ ہے انتہا تعلق کی
    ذکر پر ان کے آنکھ بھر آئی

    تو نہ کر اپنی محفلوں کو اداس
    راس ہے ہم کو رنج تنہائی

    ہم تو کہہ دیں سلیمؔ حال ترا
    کب وہاں ہے کسی کی شنوائی

    اور تو کیا دیا بہاروں نے
    بس یہی چار دن کی رسوائی

    ہم کو کیا کام رنگ محفل سے
    ہم تو ہیں دور کے تماشائی

    وہ جنوں کو بڑھائے جائیں گے
    ان کی شہرت ہے میری رسوائی

    معتقد ہیں ہماری وحشت کے
    شہر میں جس قدر ہیں سودائی

    عشق صاحب نے دل پہ دستک دی
    آئیے مرشدی و مولائی

    یہ زمانے کا جبر ہے کہ سلیمؔ
    ہو کے میرے بنے ہیں سودائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔
    .
    بشکریہ ، عامر شیرازی

    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • تبصرہ کتب ،اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟

    تبصرہ کتب ،اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟

    نام کتاب : اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں
    ناشر : دارلسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور

    مرتب : محمد حنیف شاہد
    صفحات : 416
    قیمت : 990روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب ( اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ )” Why Islam Is Our Only Choice “کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب کو مرتب کرنے والے محمد حنیف شاہد ہیں جو نامور محقق اور متعدد کتابوں کے مصنف اور مرتب ہیں۔ انہیں اسلام سے گہری محبت ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ تعلیم وتعلم میں صرف کیا ہے ۔ محمد حنیف شاہد کی علمی وجاہت اور قدرومنزلت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ان کی کتابیں دنیا کے معتبر کتب خانے لائبریری آف کانگریس واشنگٹن ڈی سی ( امریکہ ) میں بھی محفوظ ہیں ۔ اس کتاب میں ان خوش نصیبوں کے ذاتی تاثرات ، مشاہدات اور قیمتی خیالات جمع کئے گئے جو غیر مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے اور پھر وہ اسلام کی حقانیت وصداقت سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے اس طرح سے انھیں اسلام کی نعمت اور دولت عطا ہوئی۔ اس کتاب میں حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں نے یہ بتایا ہے کہ وہ اسلام سے اس قدر متاثر کیوں ہوئے کہ انہوں نے اپنے آباو اجداد کے مذاہب کو چھوڑنے کا بہت بڑا اور انتہائی مشکل فیصلہ کر ڈالا۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اسلام ہی دین واحد ہے جسے روزانہ بہت بڑی تعداد میں لوگ قبول کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسلام قبول کرنے والوں میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہیں ۔ مگر اس کتاب میں زیادہ تر پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کی آرا ءشامل کی گئی ہیں۔

    کتاب کا انگریزی کا ترجمہ پروفیسر منور علی ملک نے کیا ہے محمد حنیف شاہد کی کتاب اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں بطور محقق ان کی زندگی بھر کی خدمت اسلام کا ایک حصہ ہے ۔یہ کتاب زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد کے قبول اسلام کے حوالے سے واقعات، تجربات، سابقہ عقائد ، اسلام کے بارے میں تاثرات اور قبول اسلام کی وجوہات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں جن لوگوں کے بیانات، احساسات اور خیالات شامل کیے گئے ہیں ان میں سے اکثر اپنی قوموں کے روسا ، معززین ، دانشور، سائنسدان ، اعزاز یافتہ ، با رسوخ ، دولت مند ، عام افراد، پیشہ ور ماہرین، خواتین یہاں تک کہ اخلاق باختہ لوگ بھی شامل ہیں ۔ اس کتاب کا تحقیقی مواد کرہ ارض کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی مختلف قومیتوں اور مذہب سے لیا گیا ہے ۔کتاب کاتحقیقی مواد دو صدیوں سے زائد عرصے کا احاطہ کرتا ہے ۔کتاب 6ابواب پر مشتمل ہے ۔ پہلے باب کا عنوان ہے ” اسلام کی آغوش میں “ اس باب میں 45افراد کے قبول اسلام کے واقعات بیان کیے گیے ہیں ۔ دوسرے باب کا عنوان ہے ” خواتین اسلام کی دہلیز پر “ اس باب میں 22خواتین کے حلقہ بگوش اسلام ہونے کے ایمان افروز واقعات درج ہیں ۔ تیسرے باب کا عنوان ہے ” اسلامی عقائد اور تعلیمات کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے تاثرات “ اس باب میں 58نومسلم بہن بھائیوں کے اسلام کے بارے میں دل موہ لینے اور ایمان تازہ کردینے والے تاثرات سپرد قلم کئے گئے ہیں ۔چوتھے باب کا عنوان ہے ” اسلام کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے مختصر خیالات “ اس باب میں 18نومسلم مرد وخواتین کی آراءشامل کی گئی ہیں ۔

    پانچویں باب کا عنوان ہے ” قرآن حکیم کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے خیالات “ اس باب میں 11مرد وخواتین کے قرآن مجید کے بارے میں انتہائی خوبصورت خیالات شامل کئے گئے ہیں ۔ آخری باب کا عنوان ہے ” نبی کریم کے بارے میں نومسلموں کے خیالات “جن انتہائی قابل احترام مرد وخواتین کی آراءکتاب میں شامل کی گئی ہیں ان میں سے برطانیہ کے سٹینلے اینیان کہتے ہیں ” مجھے اسلام ہی مطلوب تھا “ ڈنمارک کے علی احمد ہولمبو کہتے ہیں ” مستقبل کا دین اسلام کے علاوہ کوئی اور نہ ہوگا “ ۔امریکہ کے کرنل راک ویل کہتے ہیں ” اعتدال اور تقوی اسلام کی کلیدی خصوصیات ہیں “ ٹی ۔ ایچ میک بارکلی کہتے ہیں ” اسلام واحد دین ہے جو جدید تہذیب کے لیے ہمیشہ قابل قبول رہے گا “ ۔ اے ایم ٹی کہتے ہیں ” میں اسلام کے لئے زندہ ہوں جو ہمیشہ قائم رہے گا “ بلجئیم کے ٹی یوڈ ڈئینیل کہتے ہیں ” صرف شریعت محمدی ہی امن وآشتی کی ضامن ہے ۔یہ تو صرف چند ایک مثالیں ہیں ساری کتاب ہی سونے پر سہاگہ ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ ان حالات میں جبکہ یورپ میں اسلام دشمنی کا عفریت انگڑائیاں لے رہا ہے ہمارے لیے اس کتاب کا مطالعہ بے حد ضروری ہے تاکہ اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کا ہم شافی وکافی جواب دے سکیں ۔

  • میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں
    میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    سعداللہ شاہ

    تاریخ پیدائش: 28 اگست

    ممتاز شاعر سعداللہ شاہ 28 اگست 1958 کو چشتیاں میں پیدا ہوئے۔ سعداللہ شاہ کا شمار عصرِ حاضر کے مقبول ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ سعداللہ شاہ نے اُردو، پنچابی اور انگریزی تین زبانوں میں شاعری کی۔ اس کے علاوہ وہ انگریزی ادب کے اُستاد اور معروف کالم نگار بھی ہیں۔ سعداللہ شاہ کے 25 سے زائد شعری مجموعے شائع ہو کر پزیرائی کی سند حاصل کر چکے ہیں۔اُن کے شعری مجموعوں "تمھی ملتے تو اچھا تھا” ، "اک کمی سی رہ گئی” ، ” مجھے کچھ اور کہنا تھا” ، ” نیلے پھولوں کی بارش میں ” اور ” کتنی اُداس شام ہے” کے درجنوں ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔ سعداللہ شاہ زندگی کے شاعر ہیں۔ اُن کے ہاں بے کار فلسفوں کے بہ جائے زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا مطالعہ، مشاہدہ اور تجزیہ نمایاں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے اشعار خواص و عوام میں یکساں مقبول ہیں۔ جہاں خواب، محبت اور اُداسی اُن کی شاعری کی نمایاں علامات ہیں وہیں مزاحمتی شاعری بھی اُن کا ایک حوالہ ہے۔ سعداللہ شاہ کے بے شمار اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں اور یہی وصف اُنھیں اپنے معاصرین میں ممتاز کرتا ہے۔

    منتخب اشعار

    اگرچہ سعد رستے میں بڑے دلکش جزیرے تھے
    مجھے ہر حال میں لیکن سمندر پار جانا تھا

    بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں
    مَیں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا

    لوگ فہم و آگہی میں دُور تک جاتے مگر
    اے جمالِ یار تُو نے راستے میں دھر لیا

    مجھ کو اچھی نہیں لگتیں یہ شعوری باتیں
    ہائے بچپن کا زمانہ وہ اُدھوری باتیں

    کتنا نازک ہے وہ پری پیکر
    جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے

    بحرِ رجز میں ہوں نہ مَیں بحرِ رمل میں ہوں
    مَیں تو کسی کی یاد کے مشکل عمل میں ہوں

    مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو
    کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو

    جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے
    ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے

    تم نے کیسا یہ رابطہ رکھا
    نہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا

    تُو نہ رسوا ہو اِس لیے ہم نے
    اپنی چاہت پہ دائرہ رکھا

    کہنے کو اک الف تھا مگر اب کُھلا کہ وہ
    پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ

    اے مرے دوست ذرا دیکھ مَیں ہارا تو نہیں
    میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ

    رنجشِ کارِ زیاں ، دربدری ، تنہائی
    اور دنیا بھی خفا تیرے گنہگار کے ساتھ

    کارِ فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے
    آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو

    اپنا مسکن مری آنکھوں میں بنانے والے
    خواب ہو جاتے ہیں اِس شہر میں آنے والے

    عمر گزری ہے دربدر اپنی
    ہم ہلے تھے ذرا ٹھکانے سے

    دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھے
    ابر بھی آگ لگانے کے لیے آئے تھے

    مجھ کو میری ہی اُداسی سے نکالے کوئی
    مَیں محبت ہوں، محبت کو بچا لے کوئی

    پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں
    لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں

    کوئی پلکوں پہ لے کر وفا کے دیے
    دیکھ بیٹھا ہے رستے میں تیرے لیے

    پھر چشمِ نیم وا سے ترا خواب دیکھنا
    اور اُس کے بعد خود کو تہِ آب دیکھنا

    کتنا دشوار ہے ہر اک سے فسانہ کہنا
    کس قدر سہل ہے کہہ دینا کہ حال اچھا ہے

    مت شکایت کرو زمانے کی
    یہ علامت ہے ہار جانے کی

    وہ یہ کہتا ہے کہ انصاف ملے گا سب کو
    جس نے منصف کو بھی سولی پہ چڑھا رکھا ہے

    خود مصنف نے اُسے لا کے کہیں مار دیا
    ایک کردار جو کردار سے آگے نکلا

    اُس کی خاطر سوچنا، سوچنا بھی رات دن
    پھر بھی مجھ کو یوں لگا مَیں نے سوچا کچھ نہیں

    تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے محبت کا کمال
    جس کو چھوتی ہے اُسے خواب بنا دیتی ہے

    بے ربط کر کے رکھ دیے اُس نے حواس بھی
    جتنا وہ دُور لگتا ہے اُتنا ہے پاس بھی

    خودی کو سعد کسی مرتبے پہ لا کہ جہاں
    ادائے ناز قیام و قعود ڈھونڈتی ہے

    کون سمجھے مرا تنہا ہونا
    یہ ہے دنیا سے شناسا ہونا

    جہاں پھولوں کو کھلنا تھا وہیں کھلتے تو اچھا تھا
    تمھی کو ہم نے چاہا تھا تمھی ملتے تو اچھا تھا

  • لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ  کا  چہرہ  دیکھ کر "واہ واہ” کرتے ہیں

    لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ کا چہرہ دیکھ کر "واہ واہ” کرتے ہیں

    لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ کا چہرہ دیکھ کر "_واہ واہ” کرتے ہیں

    میں صرف 3 خواتین کو شاعر مانتی ہوں

    پاکستان میں ادب کے فروغ کیلئے ادبی اداروں کی کارکردگی زیرو ہے

    شاعری درد سے جنم لیتی ہے شوق سے نہیں
    معروف شاعرہ ثبین سیف کی کی دلچسپ باتیں

    گفتگو و تعارف: آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ ثبین سیف صاحبہ کراچی میں پیدا ہوئیں ان کا اصل نام ثبینہ پروین ہے لیکن سیف اللہ خان سے شادی کے بعد ان کی نسبت سے ثبین سیف کا نام اختیار کر لیا۔ ان کے والد کا نام سید ابن حسن صدیقی ہے وہ آرمی افسر تھے۔ ثبین کی مادری زبان اردو ہے ۔ ان کے 5 بھائی اور 3 بہنیں ہیں بڑی بہن شادی کے بعد امریکہ منتقل ہو چکی ہیں ۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں اس لیئے والدین اور بہن بھائیوں نے انہیں ایک گڑیا اور شہزادی جیسا پیار دیا ۔ اولاد میں ماشاء اللہ ان کے 2 بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ اور بچوں کے باپ ہیں ۔ ثبین کا کہنا ہے کہ میں پہلے خودکشی کرنا چاہتی تھی مگر اپنے بیٹوں کے بچوں کی وجہ سے جینا چاہتی ہوں ۔ ثبین کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔

    معروف ادیبہ اور شاعرہ فرحین چودھری کی طرح ثبین کے خیالات بھی خواتین شاعرات اور ادبی اداروں کے بارے میں کچھ مختلف ہیں ۔ ثبین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ادب کے فروغ کیلئے حکومت کی جانب سے سالانہ کروڑوں روپے مختص کئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود سرکاری ادبی اداروں کی کارکردگی ” زیرو” ہے جبکہ خواتین شاعرات کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ پاکستانی شاعرات کی اکثریت شاعر نہیں ہے وہ صرف حمیدہ شاہین ، ریحانہ روحی اور نرجس زیدی کو شاعرہ تسلیم کرتی ہیں ۔ ان کا دعوی ہے کہ اکثر خواتین صرف نام کی شاعرہ ہیں لوگ مشاعروں اور فیس بک پر ان کی شاعری کی بجائے ان کے چہروں اور تصاویر کو دیکھ کر ” واہ واہ” کی بھرپور داد دیتے ہیں ۔ ثبین مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں ۔ بیرون ممالک بھی ایسے مشاعروں میں جاتی ہیں جہاں منتظمین کی جانب سے آمد و روانگی کے ٹکٹ و قیام و طعام کا مکمل انتظام کیا جاتا ہو ان کا کہنا ہے کہ میں ان شاعروں میں سے نہیں ہوں جو بیرون ممالک کے مشاعروں کا صرف دعوت نامہ ملنے پر اپنے خرچے پر چلے جاتے ہیں ۔ اپنی شاعری کی وجہ کے بارے میں بتایا کہ شاعری شوق سے نہیں درد سے جنم لیتی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کے آنسوں دیکھ کر شاعری شروع کی ہے کیوں کہ والدین کی ازدواجی زندگی بہتر نہیں تھی انہوں نے کہا کہ انسان کو شادی بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے اور پھر اس شادی کے رشتے کو عمر بھر مضبوطی کے ساتھ نبھانا چاہئے ۔ اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بھی انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ میں اپنے شوہر کے ” معیار” پر پورا نہیں اتر سکی ۔میں بی اے کر رہی تھی کہ میری شادی کر دی گئی لیکن میری شادی کا ” رزلٹ ” صحیح نہیں آیا۔ ثبین نے شادی شدہ جوڑوں اور تمام والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر اپنی شادی کے بندھن کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں کیوں کہ والدین کے مابین علیحدگی کی وجہ سے ان کے بچے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ثبین نے اس بات پر اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لوگوں کی طرف سے بہت عزت اور پیار ملتا ہے جس میں خواتین کی گرم جوشی قابل رشک ہے۔

    ثبین صاحبہ کا ایک بہت مشہور و معروف شعر

    پہلے ڈرتی تھی اک پتنگے سے
    ماں ہوں اب سانپ مار سکتی ہوں

    ایک ضروری وضاحت

    آج ثبین صاحبہ کی سالگرہ ہے لیکن ان کی طرف سے تاریخ پیدائش نہ بتانے کی وجہ سے ان کی تاریخ پیدائش نہیں لکھ سکا جبکہ ان کے وائس میسیج کی وجہ سے ان کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات نہ سمجھنے اور نوٹ نہ کر سکنے کی وجہ سے میں لکھنے سے قاصر رہا ہوں

    غزل . ثبین سیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتا
    ہر تعلق کو نبھایا تو نہیں جا سکتا
    آپ اس بار بھی دیوار میں چنوا دیں مجھے
    اب کے بھی سر یہ جھکایا تو نہیں جا سکتا
    روز مرنے کا ہنر جس نے سکھایا ہے مجھے
    اس کا احسان بھلایا تو نہیں جا سکتا
    چشم بینا ہے مگر عقل سے نا بینا ہیں
    آئنہ ان کو دکھایا تو نہیں جا سکتا
    تم نے اک عمر مرے دل پہ حکومت کی ہے
    تم کو پل بھر میں بھلایا تو نہیں جا سکتا
    جن کو الفاظ سے ڈسنے کا ہنر آتا ہے
    ہاتھ اب ان سے ملایا تو نہیں جا سکتا
    جس قدر سنگ زنی چاہیے کر لیں مجھ پر
    سنگ زادی کو رلایا تو نہیں جا سکتا
    ہوں مکیں جن میں کئی سال سے زندہ لاشیں
    ان مکانوں کو سجایا تو نہیں جا سکتا
    جس کی خاموشی میں آسیب سکوں کرتے ہوں
    ایسا ویرانہ بسایا تو نہیں جا سکتا
    تو بت عشق نہیں تو تو خدا ہے میرا
    اب تجھے ہاتھ لگایا تو نہیں جا سکتا

    غزل
    ۔۔۔۔
    بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہی
    گفتگو آگے بڑھائیں تو سہی
    جان جائیں گے کھرا کھوٹا ہے کیا
    آپ مجھ کو آزمائیں تو سہی
    انگلیاں اٹھیں گی چاروں آپ پر
    آپ اک انگلی اٹھائیں تو سہی
    بندہ پرور ناامیدی کفر ہے
    اک دیا پھر سے جلائیں تو سہی
    چاند تارے منتظر ہیں آپ کے
    آسماں تک آپ جائیں تو سہی
    وصل کر دے گا خزاں کو فصل گل
    پھول بالوں میں لگائیں تو سہی
    دیکھیے سنیے ارے جانے بھی دیں
    آپ میرے ساتھ آئیں تو سہی
    خود کو رکھ کر بھول بیٹھی ہوں کہیں
    میں کہاں ہوں کچھ بتائیں تو سہی
    آپ تو بس گھر بنا کر رہ گئے
    آپ اس گھر کو بسائیں تو سہی
    چٹکیوں میں بھول جاؤں گی انہیں
    اب مجھے وہ یاد آئیں تو سہی
    نیند آنکھوں سے خفا ہو جائے گی
    خواب پلکوں پر سجائیں تو سہی
    جان لے لوں گی قسم اللہ کی
    بھول کر مجھ کو بھلائیں تو سہی
    آزمانے کے لیے قسمت ثبینؔ
    دل کو داؤ پر لگائیں تو سہی

    غزل
    ۔۔۔۔
    پوچھیے مت کیا ہوا کیسے ہوا
    بت کوئی میرا خدا کیسے ہوا
    آدمی بے حد برا تھا وہ مگر
    پھر اچانک وہ بھلا کیسے ہوا
    جس دئے کی آبرو تھی روشنی
    وہ طرف دار ہوا کیسے ہوا
    میں جسے سمجھی نہ تھی وہ عشق تھا
    ہاں مگر پھر وہ سزا کیسے ہوا
    آدمی سے پوچھتا ہے آدمی
    آدمی خود سے جدا کیسے ہوا
    مجھ کو آیا تھا منانے کے لیے
    کیا خبر مجھ سے خفا کیسے ہوا
    سوچتی رہتی ہوں میں اکثر ثبینؔ
    جو نہیں سوچا گیا کیسے ہوا

  • جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہوئے غائب
    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    ماچس لکھنوی

    اصلی نام:مرزا محمد اقبال
    سن ولادت:1918ء
    جائے ولادت:لکھنؤ، اتر پردیش
    تاریخ وفات:26 اگست 1970ء
    جائے ولادت:لکھنؤ، اتر پردیش
    تصنیفات:انتخابِ کلام ماچس لکھنوی-2004ء
    (مرتبہ:رئیس آغا)

    ماچسؔ لکھنوی نامور مزاحیہ شاعر حضرت ماچس لکھنوی کا اسم گرامی مرزا محمد اقبال تھا۔ ماچسؔ لکھنوی کے نام سے مشہور ہیں۔ 1918 میں اپنے آبائی مکان متصل کاظمین لکھنؤ گیٹ میں پیدا ہوئے اور 26 اگست 1970 کو مختصر علالت کے بعد بعارضۂ کینسر وفات پائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تذکرۂ معاصرین جلد اول مصنف مالک رام کے مطابق سنولادت 1911ء ہے۔

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    جب کہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے
    پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے
    جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند
    میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے
    کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالبؔ کے کماؤ
    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    چارہ گر کہتے ہیں بس موت کی باقی ہے کسر
    اور ہر طرح سے بیمار کا حال اچھا ہے
    نہیں معلوم اگر سانپ کا منتر تو نہ پھنس
    ہاتھ اس سانپ کی بانبی میں نہ ڈال اچھا ہے
    جو بھی ہارے گا وہی گالیاں دے گا اس کو
    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    ڈھونڈئیے خیر سے جا کر کوئی موٹی سسرال
    ہاتھ جو مفت میں آئے تو وہ مال اچھا ہے
    بین ہی بین گزرتے رہو اس وادی سے
    نہ حرام اچھا ہے بالکل نہ حلال اچھا ہے
    ایک ہم تھے جو سیاست میں کما پائے نہ کچھ
    ورنہ ماضی کے فقیروں کا بھی حال اچھا ہے
    جتنے ہیں دہر میں ہاتھوں کی صفائی کے کمال
    سب سے اے دوست گرہ کٹ کا کمال اچھا ہے
    جس کی بچپن ہی میں شادی ہو وہ کیا جانے غریب
    عشق میں ہجر ہے بہتر کہ وصال اچھا ہے
    اور تو کچھ بھی نہیں حضرت ماچسؔ لیکن
    آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد
    جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
    کچھ ہوتا رہے گا یوں ہی ہر سال ندارد
    تبت کبھی غائب کبھی نیپال ندارد
    رومال جو ملتے تھے تو تھی رال ندارد
    اب رال ٹپکتی ہے تو رومال ندارد
    تحقیق کیا ان کا جو شجرہ تو یہ پایا
    کچھ یوں ہی سی ننھیال ہے ددھیال ندارد
    ہے اس بت کافر کا شباب اپنا بڑھاپا
    ماضی ہے ادھر گول ادھر حال ندارد
    تعداد میں ہیں عورتیں مردوں سے زیادہ
    قوالیاں موجود ہیں قوال ندارد
    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہو گئے غائب
    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    آنکھیں نکل آئی ہیں مری سانس رکی ہے
    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    دعوت کی تری بزم میں کیوں دھوم مچی ہے
    کیا بات ہے کیا کوئی نئی جیب کٹی ہے
    واعظ کو جو دیکھو تو گھٹا ٹوپ اندھیرا
    ساقی کو جو دیکھو تو کرن پھوٹ رہی ہے
    کیا ہے جو نہیں یہ اثر ربط محبت
    روئے تو ہیں وہ اور مری آواز پڑی ہے
    سائے کی تمنا میں جہاں بیٹھ گیا ہوں
    چندیا پہ وہیں تاک کے دیوار گری ہے
    چھوٹے نہیں چھٹتی ہے ترے وصل کی حسرت
    یہ جونک مرے دل کا لہو چوس رہی ہے
    وہ ان کا زمانہ تھا جہاں عقل بڑی تھی
    یہ میرا زمانہ ہے یہاں بھینس بڑی ہے
    پھر کیا ہے جو ماچسؔ نہیں یہ سوز محبت
    اک برق سی رگ رگ میں مرے کوند رہی ہے

  • اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
    ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

    احمد فراز

    یوم پیدائش : 12 جنوری 1931
    یوم وفات : 25 اگست 2008
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رومان کی علامت اور مزاحمت کا استعارہ سمجھے جانے والے سید احمد شاہ علی المعروف احمد فراز 12 جنوری 1931ء میں کوہاٹ خیبر پختونخواہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ہندکو ، سید خاندان سے تھا۔ ان کی مادری زبان ہندکو اور پشتو تھی مگر انہوں نے اردو کو اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ وہ شاعر ابن شاعر تھے۔ شاعری انہیں اپنے والد سے وراثت میں ملی اُن کے والد سید محمد شاہ برق فارسی کے مشہور شاعر تھے۔ وہ پہلے احمد شاہ کوہاٹی کے نام سے مشہور تھے مگر فیض احمد فیض کے مشورے سے انہوں نے اپنا نام احمد فراز رکھ دیا۔ طالبعلمی کے دوران ہی ان کا پہلا شعری مجموعہ ” تنہا تنہا” شائع ہوا۔ وہ اس دوران ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک تھے مگر تعلیم کی تکمیل کے بعد محکمہ تعلیم میں لیکچرر تعینات ہو گئے ۔ 1976 میں احمد فراز کو ” اکادمی ادبیات پاکستان ” کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا لیکن 1977 میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کی مخالفت کی بناء پر انہیں کچھ عرصہ جلاوطن ہونا پڑا۔ حالات سازگار ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ” لوک ورثہ” اور ” نیشنل بک فائونڈیشن” کے سربراہ مقرر ہوئے ۔

    احمد فراز بیک وقت رومان کی علامتوں سے لے کر، مزاحمت کے استعاروں تک، ہجر کے مراحل سے وطن پرستی کی فکری اساس تک کی معنویت کے شاعر تھے، اُنہیں حروف اور موضوعات کی کوئی قلت نہ تھی، وہ اپنی شعری روایت اور تاثیر میں اپنی مثال آپ تھے۔
    فراز کی شاعری میں سچائی، غزل کی نغمگی، کیفیات و جذبات و وجدان کا کھرا پن ، ندرتِ خیال،دل موہ لینے والی رومانوی و خواب آور کسک، گمان کے ہلکورے لیتے کٹورے، یقین کے ہمالے اور تصنّوع کی آلائشوں سے پاک جذبات کا اظہار ملتا ہے۔

    فراز کا یہی وہ شاعرانہ امتیاز ہے جس کی بدولت وہ نہ صر ف اس دور میں بلکہ آنے والے تمام ادوار میں بھی یا د کیے جائیں گے اور ان کا نام تاریخ کے باب میں ہمیشہ جلی اور روشن رہے گا۔ فراز کے ایک درجن سے زائد شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، تنہا تہنا، جاناں جاناں اور فرقت شب و دیگر شامل ہیں ۔

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
    میرا قلم عدالت میرے ضمیر کی ہے

    اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
    جبھی تو لوچ کماں کا زباں تیر کی ہے

    دور ہے تو، تو تری آج پرستش کر لیں
    ہم جسے چھو نہ سکیں، اس کو خدا کہتے ہیں

    کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
    کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

    سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
    ورنہ اتنے تو مراسم تھے، کہ آتے جاتے

    اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
    یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں

    گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
    مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
    پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے

    جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
    اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

    سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
    جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے

  • غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    شاہد نور کو 24 اگست 1980ء کو سیوان (بہار) میں پیدا ہوئے ان کی والدہ کا نام آسیہ خاتون،والد کا نام مشتاق احمد ہے بی کام (آنرس) کیا اور چیرمین نور آٹوپروفائل گروپ، مینیجنگ ڈائرکٹر ایم جی کنسٹرکشن اورسٹی ڈیولپر گروپ کے نام سے کاروبار شروع کیا تصانیف:میٹھا نیم-2012ء (شعری مجموعہ)

    ایواردڈ و اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)توفیق فاروقی ایوارڈ
    ۔ منجانب ادارہ خاتونِ مشرق، دہلی
    ۔ (2)کامنا کلا سنگم ایوارڈ

    غزل
    ۔۔۔۔
    مجھے آنکھوں نے جل تھل کردیا ہے
    مری مٹی کو دلدل کردیا ہے
    مرے خوابوں کو آنکھوں میں سجاکر
    کسی لڑکی نے کاجل کردیا ہے
    میں اپنی ذات میں اک گلستاں تھا
    تری فرقت نے جنگل کردیا ہے
    کئی دریائوں نے آپس میں مل کر
    سمندر کو مکمل کردیا ہے
    مری بچی کی ننھی سے ہنسی نے
    مرے آنسو کو صندل کردیا ہے
    وہ جب گمنام تھا اچھا بھلا تھا
    اُسے شہرت نے پاگل کردیا ہے
    فرائض کے تقاضوں نے ہی شاہد
    مرے چھالوں کو مخمل کردیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    لہولہان جب اک شیر جھاڑ سے نکلا
    ہرن کا درد بھی اُس کی دہاڑ سے نکلا
    سنا تھا جھیل کے اُس پار بھوت رہتے ہیں
    مگر ڈکیت کا کنبہ پہاڑ سے نکلا
    اندھیری رات میں اک اجنبی نے دستک دی
    تو چاند اوڑھ کے آنچل ، کواڑ سے نکلا
    سکھا گیا ہے زمانے کا دائو پیچ مجھے
    وہ ایک سانپ جو ہاتھوں کی آڑ سے نکلا
    مرا حسین سا بچپن وہ گائوں کا البم
    کٹورے میں رکھا چاول کے ماڑ سے نکلا
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    زمین پھٹ گئی خود اپنے کرب سے شاہد
    پھر اُس کی آہ کا شعلہ دراڑ سے نکلا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو ہر بات پہ کہتا ہے ترا سب کچھ ہے
    تجھ کو معلوم نہیں ہے کہ خدا سب کچھ ہے
    اس کی آنکھوں کی یہ تعریف مکمل ہوگی
    اس کی آنکھوں میں محبت کے سوا سب کچھ ہے
    اس کے بارے میں غلط بات نہیں سن سکتا
    تم کو معلوم ہے وہ شخص مرا سب کچھ ہے
    کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی اس کی
    میرے محبوب کے چہرے پہ لکھا سب کچھ ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    ہمارے دل سے یہی اک کسک نہیں جاتی
    تم اتنا کام جو کرتی ہو تھک نہیں جاتی
    تم ہی بتاؤ کہ اب کیا بتاؤں دنیا کو
    مرے بدن سے تمھاری مہک نہیں جاتی
    میں حادثے میں کسی طور بچ گیا ہوں مگر
    مرے دماغ سے اس کی دھمک نہیں جاتی
    جسے وہ دیکھ لے وہ پھول کھلنے لگتا ہے
    جسے وہ چوم لے اس کی چمک نہیں جاتی
    عجیب آپ کی بھی قوتِ سماعت ہے
    ہماری بات کبھی آپ تک نہیں جاتی

  • محمد حسين ہيكل   کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل مصری شاعر، ادیب اور سیاست دان ہیں۔ ایک اعلی پائے کے سیرت نگار؛ جن کی سب سے بہترین تالیف "حیات ِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم” ہے۔ محمد حسین ہیکل کی پیدائش 20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر میں ہوئی۔ انہوں نے قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909ء میں گریجویشن مکمل کی 1912ء میں فرانس میں سوربون یونی ورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا۔ صحافت میں بھی رہے۔ احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 ء میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیرِ تعلیم رہے۔ جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1940 ء سے 1942ء تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945ء میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔
    محمد حسین ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادى الاول 1376ھ بمطابق 08 دسمبر 1956ء میں ہوئی۔
    تالیفات

    روايۃ زينب۔
    روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914.
    سير حياة شخصيات مصريۃ وغربيۃ – 1929.

    حياتِ محمد – 1933.
    فی منزل الوحى – 1939.
    مذكرات فی السياسۃ المصريہ – 1951 / 1953.
    الصديق ابو بكر۔
    الفاروق عمر – 1944 / 1945.
    عثمان بن عفان – 1968.
    ولدی۔
    يوميات باريس۔
    الامبراطوريہ الإسلاميہ والأماكن المقدسہ – 1964.
    قصص سعوديہ قصيرہ – 1967.
    فی اوقات الفراغ،
    الشرق الجديد

    محمد حسین ہیکل کا نام تاریخ میں سیرت طیبہ کے مولف کی حیثیت سے زندہ و جاوید رہے گا۔ یہ ذکرِ محمد کا اعجاز ہے۔۔ انہوں نے عربی میں شاہکار کتابیں لکھیں۔انہوں نے حیات محمدﷺ کتاب1933ء میں لکھی اور اسی نہج پر حضرت عمر فاروق ؓ کی سیرت مبارکہ1944میں لکھی۔ حیات محمد ﷺ کا اردو ترجمہ ابویحیٰ امام خان نے کیا۔ اور اردو میں اس کتاب کو مقبولیت دوام حاصل ہوا۔

    ”حیات محمد ﷺ‘‘ کا اردو ترجمہ ہندوستان میں تاج کمپنی دہلی نے شائع کیا۔ اس کتاب کے تعارف میں یوں لکھا گیا۔’’ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب دنیا کی مختلف اقوام نے سیرت پاک ﷺ کا مطالعہ شروع کیا تو تہذیب عالم کی اس عظیم شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے میں انہیں کافی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے مسلمانوں کے ہاں سیرت نگاری کا ایک خاص اسلوب پیدا ہوا۔ جس پر کلامی انداز غالب تھا۔ عہد جدید میں سیرت مبارکہ پر جن تحریروں کو سند کا درجہ دیا جاتا ہے ان میں محمد حسین ہیکل کی ”حیات محمد ﷺ‘‘ صف اول کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔عربی زبان میں یہ کتاب کلاسیک کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ عہد جدید میں سیرت نبوی ﷺ پر حوالے کی اس بنیادی کتاب کا ترجمہ مولانا ابویحی امام خاں نوشہروی نے اس خاص اسلوب میں کیا جس کی پختگی فن ترجمہ میں انہیں ایک بلند حیثیت دیتی ہے۔ عربی اسالیب کی بلاغت پوری صحت کے ساتھ ترجمے میں منتقل کی گئی ہے۔ اور اس اعتبار سے اردو میں سیرت نبوی ﷺ کے ذخیرہ ادب میں ایک اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔(ناشر ”حیات محمد ﷺ‘‘ دہلی)
    کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ جس عقیدت و احترام سے لکھی گئی اس کا اندازہ کتاب کے آغاز میں لکھے گئے مولف کے مقدمہ اول کے ابتدائی جملوں سے ہوتا ہے جب وہ کہتے ہیں:
    ’’ حضرت محمد علیہ الصلوۃ السلام یہ ہے وہ مبارک نام جو ہر روز کروڑوں لبوں پر آتا اور کروڑوں دلوں کو سرور و تازگی سے مالا مال کرتا ہے۔ ہمارے لب اور ہمارے یہ دل اسی نام سے ساڑھے تیرہ سو برس سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یہی نہیں لبوں اور دلوں کی بہرہ مندی قیامت تک جاری رہنے والی ہے۔اذان پنچگانہ میں:ادھر صبح صادق نے رات کی سیاہی پر نور چھڑکا موذن نے الصلوۃ خیر من النوم پکار کر بنی آدم کو اللہ تعالی کے سامنے سجدے میں سر رکھنے کی تلقین کی اور اس کے ساتھ ہی کرہ ارض کے چپے چپے پر کروڑوں انسانوں نے درود و سلامتی کے تحفے پیش کئے۔۔ آں حضرت سے مسلمانوں کی محبت و عقیدت کا یہ حال ہے کہ نمازوں میں جب بھی آں حضرت کا ذکر آیا دل فرط مسرت سے پہلو میں اچھل پڑا۔ آں حضرت کی ذات کے ساتھ احترام و محبت کے یہ جذبات ہمیشہ وابستہ رہے ہیں۔ اور آئیندہ بھی اسی طرح وابستہ رہیں گے۔ یہاں تک کہ اسلام دنیا کے ذرے ذرے پر غالب آجائے‘‘۔ ( ”حیات محمد ﷺ‘‘ محمد ہیکل۔ ص۔ 3 دہلی۔ پہلا ایڈیشن 1988)
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    کتاب کے مقدمے میں محمد ہیکل نے ابتدائے آدم سے زمانہ جاہلیت کے مختلف ادوار کا ذکر کیا۔ اور پس منظر کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وصلم کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد مستشرقین کی جانب سے اسلام اور آپ ﷺ سے متعلق پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات اور ان کے ازالے کے لیے مستند کتب سیرت کی ضرورت اجاگر کی۔ اس تصنیف کی وجہ تالیف بیان کرتے ہوئے محمد ہیکل لکھتے ہیں:
    ’’علمی زندگی طے کرنے کے بعد میں نے عملی دور میں قدم رکھا ہی تھا کہ دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمانوں کو ان مسائل سے متاثر دیکھا جو اسلام اور اس کے بانی کے متعلق پیدا کیے جاچکے تھے۔ کیا اسلامی ممالک اور کیا ان ملکوں کے اندر جہاں مسلمان رعایا کی حیثیت سے زیر نگیں تھے میں ان مسائل کی تحقیق میں ڈوب گیا۔ جن کی غلط بیانی اور فریب دہی کے چکر میں آکر مسلمان اور مشرق دونوں پریشان تھے۔ مغرب کے عیار اہل قلم اور اسلام کے جامد علماء کی اس کج روی سے صرف دین ہی کو خطرہ نہ تھا بلکہ یہ علمی حادثہ تمام عالم کے لیے مصائب کا پیش خیمہ تھا۔ کیوں کہ مسلمان جو صدیوں تک دنیا کے ہر خطے میں علم و تمدن کے نقیب رہے اگر انہی کے عقائد اور ان کے بانی کے اطوار و کردار میں ظلم و جہالت کی تیرگی ثابت ہوجائے تو جن قوموں نے ان کی برکت سے علم و دانش کے خزانے حاصل کیے وہ تہذیب و فنون میں کس حد تک کامیاب ہوئیں۔ تو میں اپنا فرض سمجھ کر ان مسائل کی تحقیق و مطالعے میں منہمک ہوگیا۔حتی کہ کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ کی تدوین پر میری توجہ مرکوز ہوگئی۔( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔ 23)

    مولف کتاب محمد ہیکل نے اس کتاب کو ترتیب دینے کے دوران قرآان و احادیث کتب اور دیگر حوالوں کو جس انداز میں مطالعہ کیا اور اسے اختیار کیا اس کی تفصیلات اس مقدمے میں دی ہیں۔ مقدمہ ثانی میں انہوں نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ وحی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
    وحی کا تجزیہ موجودہ آلات سے نہیں ہوسکتا:حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نزول وحی کے زمانے میں جو مسلمان موجود تھے جب کوئی آیت قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر نازل ہوتی تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا۔ اس دور کے مسلمانوں میں بعض افراد نہایت دیدہ ور اور صاحب فراست بھی تھے۔یہود و نصاری میں سے بھی کچھ ایسے علماء مسلمان ہوچکے تھے جو ایمان لانے سے قبل پیغمبر اسلام کے ساتھ مناظرہ کرتے رہتے۔مگر مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے بھی قرآن کے وحی ہونے سے انکار کا دامن نہیں چھوڑا۔۔ان تمام صورتوں کی موجودگی میں علم گوارا نہیں کرسکتا کہ وحی کو اس کی اصلیت سے ہٹا کر کسی اور نام سے پکارا جائے( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔45)
    مقدمے کے آخر میں محمد حسین ہیکل نے سیرت نبوی ﷺ کی جانچ کا حتمی پیمانہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ:’’قرآن مجید کی تعلیم اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ معجزہ ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ کو دیا گیا۔ اس کے انداز اور ہمہ گیری سے ثابت ہوتاہے کہ وہ اپنے زمانہ نزول سے لے اس وقت تک دنیا میں جلوہ آرا رہے گا۔ جب تک یہ نظام مربوط ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت کو قرآن مجید پر عرض(پیش) کریں اور آپ ﷺ کے متعلقہ روایات میں جو چیز قرآن مجید کے موافق ہو اسے قبول کرنے میں تامل نہ کریں۔ مگر قرآن کے سوا دوسرے ذرائع سے جو ایسے امور آنخصرت ﷺ کی سیرت کے متعلق منقول ہوں کہ وہ قرآن کے معیار پر پورتے نہ اتر سکیں ان سے انکار میں انہیں تردد نہ کرنا چاہئے( ص۔68)

    کتاب حیات محمد کے آخر میں اسلامی تمدن اور اسلامی تمدن اور مستشرقین کے عنوان سے آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعددنیا کے حالات پیش کئے۔مجموعی طور پر محمد حسین ہیکل کی کتاب’’ حیات محمد ﷺ‘‘ سیرت النبی ﷺ پر عربی میں لکھی ہوئی شاہکار کتاب ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا اردو ترجمہ بھی اسی قدر شاہکار ہے۔ اس کتاب کا اسلوب رواں سلیس اور دل کو چھو لینے والاہے ۔ ذکر رسول ﷺ کو انہوں نے ادب و احترام اور واقعات کی سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

  • قمیض تیڈی کالی سھنی پھلیں والی

    قمیض تیڈی کالی سھنی پھلیں والی

    عطاء الله خان نیازی عیسیٰ خیلوی

    تاریخ پیدائش : 19 اگست 1951

    مزدوری، بیرا گیری اور ٹرک کلینری سے گلوگار بننے تک

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی 19 اگست 1951 میں ضلع میانوالی کے قصبہ عیسیٰ خیل کے محلہ بھنبھراں کے ایک متوسط طبقہ کے خاندان احمد خان نیازی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ نیازی پٹھان قوم کا ایک مشہور قبیلہ ہے لیکن یہ لوگ پشتو زبان کی بجائے سرائیکی زبان بولتے ہیں ۔ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کی دو بہن اور دو بھائی ہیں ۔ ان کے چھوٹے بھائی کا نام ثناء الله خان ہے ان کی بڑی بہن فوت ہو چکی ہیں چھوٹی بہن گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہیں ۔ عطاء الله نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے ۔ انہیں بچپن سے ہی گانے بجانے سے دلچسپی تھی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹانے کی بجائے موسیقی سے اپنے شوق کا اظہار کرتے ہوئے گانا سیکھنے کی اجازت مانگی مگر ان کے والد صاحب نے سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گانا بجانا میراثیوں یعنی ڈھول بجانے والوں کا کام ہے ۔ ان کے والد ان کو اعلیٰ تعلیم دلا کر آفیسر بنانے کے خواہش مند تھے مگر عطاء الله 1975 میں گھر سے نکل کر کراچی پہنچ گئے ۔ یہاں 10 روپے ماہانہ کرایہ کے ایک کمرے میں رہائش اختیار کی ۔ دن کو مزدوری کرتے تھے اور رات کو گانا سیکھنے کی کوش کوشش کرتے تھے ۔ 2 سال بعد اپنی بڑی بہن کی وفات کی اطلاع ملنے پر اپنے گاؤں گئے ۔ چند روز رہنے کے بعد والد سے دوبارہ گانا گانے کی اجازت مانگی مگر اب بھی والد نہیں مانے عطاء الله کی ضد دیکھ کر انہوں نے کہا کہ اگر تم گانا ہی چاہتے ہو تو اس گھر میں تمھارے لیے گنجائش نہیں ہے اور گلوکار بننے کی صورت میں اپنا قبیلہ نیازی ظاہر نہیں کرنا جس کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور یہاں وہ دن کو ہوٹلوں میں بیراگیری کرتے اور رات کو موسیقی کی تربیت حاصل کرنے لگے۔ کچھ عرصہ ٹرک کے کلینر بنے اور کچھ عرصہ کرایہ کا رکشہ چلانے لگے۔

    1978 میں عطاء الله کو ریڈیو پاکستان بہاولپور میں گانے کا موقع مل گیا جس کا معاوضہ انہیں 25 روپے کے چیک کی صورت میں دیا گیا۔ 1979 میں ان کے مقدر کا ستارہ چمک اٹھا جب فیصل آباد کے ایک رہائشی چوہدری رحمت علی نے عطاء الله کا اپنے خرچے پر آڈیو کیسٹ کا البم ریکارڈ کروایا جس کی پہلی غزل نے ہی دھوم مچا دی جس کے بول تھے

    ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
    ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی

    اس البم میں عطاء اللہ خان نے اپنے والد کے حکم کے مطابق اپنے نام کے ساتھ نیازی نہیں لکھا بلکہ اپنے قبیلے کی بجائے اپنے گاؤں کی نسبت سے عیسیٰ خیلوی لکھوایا اور یہیں سے وہ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ عطاء الله خان کی شہرت اور مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا یہاں تک وہ بین الاقوامی سطح پر مشہور ہو گئے۔ وہ اردو، سرائیکی، سندھی ، پنجابی سمیت متعدد زبانوں میں گاتے ہیں لیکن ان کی اصل شہرت اردو اور سرائیکی زبان کی گائیکی میں ہے وہ اب تک 100 سے زائد ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں ۔ 1992 میں لندن میں ملکہ برطانیہ نے ان کو لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا جبکہ 1994 میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ آڈیو کیسٹ البم ریکارڈ کرانے پر ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا ۔ عطاء الله خان نے یکے بعد دیگر 5 شادیاں کیں جن میں سے انہوں نے 3 بیویوں کو طلاق دے دی ہے اور 2 بیویاں ان کے عقد میں ہیں جن میں ایک معروف فلمی اداکارہ بازغہ اور ایک بیوی تونسہ شریف کے ایک اعلیٰ طبقے کے خاندان سے ہے۔ بازغہ اپنے بچوں سمیت انگلینڈ میں مقیم ہے جبکہ عطاء الله خان اپنی دوسری بیوی کے ساتھ لاہور میں مقیم ہیں ۔ ان کے چھوٹے بھائی ثناء اللہ خان نیازی راولپنڈی میں مقیم ہیں ۔ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے چار بچوں میں دو بیٹے سانول، بلاول اور دو بیٹیاں لاریب اور فاطمہ ہیں ۔ لاریب ایک بہت بڑی اداکارہ بن چکی ہے جس نے ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے ۔ سانول خان نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فن گائیکی کو اپنا لیا ہے ۔ عطاء الله خان نے کچھ عرصہ فلموں میں اداکاری بھی کی مگر وہ اس شعبے میں کامیابی حاصل نہ کر سکے جس کے بعد انہوں نے اپنی تمام تر توجہ موسیقی پر دے دی۔ انہوں نے کچھ عرصہ سیاست میں بھی گزارا پہلے پاکستان پیپلز پارٹی میں اور اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں ۔ پی ٹی آئی میں انہوں نے عمران خان نیازی کے بارے میں یہ گیت گایا

    آئے گا عمران ہے سب کی جان
    بنے گا نیا پاکستان

    اس گیت کی وجہ سے عمران خان اور پی ٹی آئی کی مقبولیت میں بڑا اضافہ ہوا لیکن پی پی پی کی طرح وہ پی ٹی آئی سے بھی مایوس ہو کر سیاست سے الگ ہو گئے لیکن پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لہو کو گرمانے کے لیے ان کا گایا ہوا یہ گیت اب بھی اسی طرح مقبول ہے ۔

    عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے گائے ہوئے ہزاروں گیت، غزلوں اور گانوں سے چند گیت اور غزلوں کے بول قارئین کی نذر

    ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی

    قمیض تیڈی کالی تے سہنی پھلیں والی

    عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں کس قدر چوٹ کھائے ہیں

    انج پنڈی تے پشور لگا جاندا عیسیٰ خیل دور تے نئیں سجناں

    ایہہ تھیوا مندری دا تھیوا

    چن کتھاں گزاری ہے رات وے

    بے وفا یوں تیرا مسکرانا بھول جانے قابل نہیں ہے

    ہمیں چھوڑ دیاکس دیس گئے پیا لوٹ کے آنا بھول گئے

    نکی دی گل توں رسدائیں ڈھولا تیڈی کمال اے

    دونوں کو آ سکی نہ نبھانی محبتیں
    اب پڑ رہی ہیں ہم کو بھلانی محبتیں

  • لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا

    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا

    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
    داستانوں کے کسی دلچسپ سے اک موڑ پر

    گلزار (سمپورن سنگھ کالرا)

    تاریخ پیدائش : 18 اگست 1936
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ100 کلو میٹر کے فاصلے پر، جی ٹی روڈ کے کنارے ضلع جہلم کا تاریخی قصبہ دینہ ضلع جہلم میں پیدا ہونے والے گلزارؔ بھارت کے مشہور گیت کار بھی ہیں۔ مشہور اداکارہ راکھی کے شوہر نامدار ہیں اورایک بیٹی میگھنا گلزار کے باپ ہیں۔ ریشم کا یہ شاعر آج بھی اپنی جنم بھومی سے اتنی ہی محبت کرتا ہے، جیسے آج سے پون صدی پہلے کرتا تھا:

    ذکر جہلم کا ہے، بات دینے کی
    چاند پکھراج کا، رات پشمینے کی
    کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہوئی چاندی
    رات کوشش میں ہے چاند کو سِینے کی

    گلزارؔ 18اگست 1936 ء کو دینہ شہر سے قریباً تین کلومیٹر دوری پر واقع ایک گاؤں کُرلہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں ان کے والد مکھن سنگھ نے دینہ کے مرکزی بازار میں مکان لیا، دکان خریدی اور اپنے خاندان کے ساتھ یہاں منتقل ہو گئے۔ گلزارؔ نے بچپن کا زیادہ وقت دینہ کے اسی گھر میں گزارا تھا۔ یہ گھر اور اس کے آس پاس کی دکانیں آج بھی موجود ہیں، جس جگہ یہ گھر ہے اسے پرانا ڈاک خانہ چوک کہا جاتا تھا،لیکن اب اس کا نام پاکستانی چوک ہے۔ جب گلزار تقسیم کے بعد پہلی بار یہاں آئے، تو اپنے گھر کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
    گلزارؔ کا آبائی گھر اب ایک شیخ خاندان کے پاس ہے۔ اس خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تقسیم سے پہلے وہ کالڑہ خاندان کے کرایہ دار تھے۔ بعد میں یہ گھر انہیں الاٹ کر دیا گیا۔شیخ خاندان کے ایک بزرگ شیخ عبدالقیوم ایڈووکیٹ گلزار کے ہم عمر ہیں۔ وہ گلزارؔ کے پچپن کے ساتھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر ساتھ ساتھ تھے اور ہم دونوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ شیخ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ جب گلزارؔ یہاں آئے تھے، تو میں نے ان سے کہا تھا کہ کیا ہم اس گلی کا نام ’’گلزارؔ سٹریٹ‘‘ رکھ دیں، تو گلزارؔ کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہوگی۔

    شیخ عبدالقیوم کے مطابق یہ گلی پچھلے 70 سال سے اسی حالت میں ہے جب کہ کالرہ خاندان کے گھر کا ایک حصہ اب تک اپنی اصل حالت میں ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ یہیں پر گلزارؔ کے والد مکھن سنگھ کی کپڑے کی دکان ہوا کرتی تھی۔گلزارؔ کا یہ گھر قریباً چار فٹ چوڑی گلی میں واقع ہے اور گھر کا پرانا حصہ ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔ ان کے گھر کے دوسرے حصے میں نئی عمارت تعمیر کر دی گئی ہے۔ دینہ کے مقامی لوگوں کا کہنا تھاکہ جب گلزارؔ یہاں آئے تھے ،تو کچھ دوستوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس گھر کو خرید کر یہاں لائبریری بنا دی جائے، لیکن بعد میں اس بارے میں کچھ نہ ہو سکا، لیکن گلزار ؔکے دینہ آنے کے بعد اب اس گلی کو گلزار سٹریٹ کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے۔وہ سکول جہاں گلزارؔ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی، گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ کے میاں محلے میں واقع ہے۔ سکول کا وہ حصہ جہاں گلزارؔ کا کلاس روم تھا، اب موجود نہیں ، تاہم اس سکول کے ایک بلاک کا نام ’گلزارؔ کالرہ بلاک‘ رکھ دیا گیا ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ 1921ء میں پرائمری سکول کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 1941ء میں اسے مڈل کا درجہ دیا گیا اور اسی دور میں گلزارؔ نے یہاں تعلیم حاصل کی تھی۔ 1989 ء میں اسے ہائی سکول بنا دیا گیا۔

    شیخ عبدالقیوم بتاتے ہیں جب گلزار ؔکچھ دوستوں کے ساتھ سکول کی طرف جا رہے تھے، تو ان میں بہت جوش دکھائی دے رہا تھا، وہ سب سے آگے آگے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی بچہ خوشی خوشی سکول جا رہا ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ میں نے گلزارؔ سے کہا کہ آپ کوئی چیز ساتھ لانا بھول گئے ہیں۔ گلزار نے پوچھا ؛وہ کیا؟‘۔۔۔ تو میں نے جواب دیا ؛ بستہ، جس پر وہ مسکرا دئیے۔

    گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں اب بہت سے لوگ جانتے ہیں اور یہ بھی کہ دینہ اور ضلع جہلم کی ادبی روایات بہت قدیم ہیں۔جہلم کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے دینہ کے شاعر شہزاد قمر نے بتایا کہ اس خطے نے بہت سے باکمال لکھنے والے پیدا کیے ہیں۔ یہاں کے لکھنے والوں کی خاص بات، ان کی مزاحمتی سوچ ہے۔انقلابی شاعر اور مزدور رہنما درشن سنگھ آوارہ سے لے کر موجودہ دور میں تنویرسپرا، اقبال کوثر اور دوسرے لکھنے والوں کا انداز مزاحمتی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ آج بھی دینہ کے بہت سے شاعروں اور ادیبوں کا انداز مزاحمتی پہچان رکھتا ہے۔ دینہ کے ایک اور بزرگ شاعر صدیق سورج سے جب پوچھا گیا کہ دینہ کے لوگ گلزار کو کتنا جانتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ گلزار کے بارے میں تو سبھی جانتے تھے، لیکن گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں زیادہ لوگوں کو گلزار کے یہاں آنے کے بعد ہی علم ہوا۔دینہ میں گلزارؔ کے نام سے گلی اور سکول کے ایک بلاک کا نام گلزارؔ پر رکھنا دینہ کے لوگوں کے دلوں میں گلزار ؔکے لیے محبت کا اظہار ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انہیں گلزارؔ کے دوبارہ یہاں آنے کا انتظار ہے: دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے –

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    منتخب کلام

    غالب

    بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں
    سامنے ٹال کی نُکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے
    چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردے
    اور دُھندلائی ہوئی شام کے بےنُور اندھیرے سائے
    ایسے دیواروں سے منہ جوڑ کے چلتے ہیں یہاں
    چُوڑی والان کے کٹرے کی بڑی بی جیسے
    اپنی بُجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے
    اِسی بےنُور اندھیری سی ” گلی قاسم ” سے
    ایک ترتیب چراغوں کی شُروع ہوتی ہے
    ایک قرآنِ سخن کا بھی ورق کُھلتا ہے
    اسد اللہ خاں غالِب کا پتہ ملتا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "دِل ڈھونڈتا ہے”

    دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن
    جاڑوں کی نرم دھوپ اور آنگن میں لیٹ کر
    آنکھوں پہ کھینچ کر ترے آنچل کے سائے کو
    اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے
    یا گرمیوں کی رات کو پُروائی جب چلے
    بستر پہ لیٹے دیر تلک جاگتے رہیں
    تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے
    برفیلے موسموں کی کسی سرد رات میں
    جا کر اسی پہاڑ کے پہلو میں بیٹھ کر
    وادی میں گونجتی ہوئی خاموشیاں سنیں
    دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ بولوں میں تو کلیجہ پھونکے
    جو بول دوں تو زباں جلے ھے
    سلگ نہ جاوے اگر سنے وہ
    جو بات میری زباں تلے ھے

    لگے تو پھر یوں ، کہ روگ لاگے
    نہ سانس آوے نہ سانس جاوے
    یہ عشق ھے نامراد ایسا
    کہ جان لیوے تبھی ٹلے ھے۔

    ھماری حالت پہ کتنا رووے
    آسماں بھی تُو دیکھ لینا
    کہ سرخ ھو جاویں گی اُس کی آنکھیں
    جیسے جیسے , یہ دن ڈھلے ھے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "سکیچ”
    یاد ہے اِک دن
    میرے میز پہ بیٹھے بیٹھے
    سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے
    چھوٹے سے اِک پودے کا
    ایک سکیچ بنایا تھا
    آ کر دیکھو
    اس پودے پر پھول آیا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "اِک نظم”
    یہ راہ بہت آسان نہیں
    جس راہ پہ ہاتھ چھڑا کر تم
    یوں تن تنہا چل نکلی ہو!
    اس خوف سے شاید، راہ بھٹک جاؤ نہ کہیں
    ہو موڑ پہ میں نے نظم کھڑی کر رکھی ہے !
    تھک جاؤ اگر
    اور تم کو ضرورت پڑ جائے
    اک نظم کی اُنگلی تھام کے واپس آ جانا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "رُخصت”
    جیسے جھنّا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار
    جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے
    ایسے اِک ضرب سی پڑتی ہے کہیں سینے میں
    کھینچ کر توڑنی پڑ جاتی ہے جب تجھ سے نظر
    تیرے جانے کی گھڑی ، سخت گھڑی ہے جاناں !

    گلزار صاحب کےالفاظ میں تروینی کا تعارف حاضر ہے۔

    "تروینی نہ تو مثلث ہے، نہ ہائیکو، نہ تین مصرعوں میں کہی ایک نظم۔ ان تینوں ‘ فارمز’ میں ایک خیال اور ایک امیج کا تسلسل ملتا ہے۔ لیکن ‘تروینی’ کا فرق اس کے مزاج کا فرق ہے۔ تیسرا مصرعہ پہلے دو مصرعوں کے مفہوم کو کبھی نکھار دیتا ہے، کبھی اضافہ کرتا ہے، یا کبھی ان پر کمینٹ کرتا ہے۔ ‘ تروینی’ نام اس لیے دیا گیا تھا کہ سنگم پر تین ندیاں ملتی ہیں۔ گنگا، جمنا اور سرسوتی۔گنگا اور جمنا کے دھارے سطح پر نظر آتے ہیں ، لیکن سرسوتی جو ٹیکسیلا سے بہہ کر آتی تھی، وہ زمین دور ہو چکی ہے ۔ تروینی کے تیسرے مصرعے کا کام سرسوتی دکھانا ہے جو پہلے دو مصرعوں سے چھپی ہوئی ہے۔”

    **************
    وہ میرے ساتھ ہی تھا دور تک ، مگر اک دن
    جو مڑ کر دیکھا تو وہ دوست میرے ساتھ نہ تھا

    پھٹی ہو جیب تو کچھ سکّے کھو بھی جاتے ہیں
    *************
    کچھ مرے یار تھے رہتے مرے ساتھ ہمیشہ
    کوئی آیا تھا، انھیں لے کے گیا، پھر نہیں لوٹے

    شیلف سے نکلی کتابوں کی جگہ خالی پڑی ہے
    *************
    وہ جس سے سانس کا رشتہ بندھا ہوا تھا مرا
    دبا کے دانت تلے، سانس کاٹ دی اس نے

    کسی پتنگ کا مانجا، محلّے بھر میں لٹا!
    *************
    کوئی صورت بھی مجھے پوری نظر آتی نہیں
    آنکھ کے شیشے مرے چٹخے ہوئے ہیں کب سے

    ٹکروں ٹکروں میں سبھی لوگ ملے مجھ سے
    *************
    تیری صورت جو بھری رہتی ہے آنکھوں میں سدا
    اجنبی لوگ بھی پہچانے سے لگتے ہیں مجھے

    تیرے رشتے میں تو دنیا ہی پرولی میں نے!
    ************
    اک اک یاد اٹھاؤ اور پلکوں سے پونچھ کے واپس رکھ دو
    اشک نہیں یہ آنکھ میں رکھے ، قیمتی قیمتی شیشے ہیں!

    طاق سے گر کے قیمتی چیزیں ٹوٹ بھی جایا کرتی ہیں
    *************
    آؤ سارے پہن لیں آئینے
    سارے دیکھیں گے اپنا ہی چہرہ

    سب کو سارے حسیں لگیں گے یہاں
    ************
    عجیب کپڑا دیا ہے مجھے سلانے کو
    کہ طول کھینچوں اگر،ارض چُھوٹ جاتا ہے

    اُدھرنے سینے ہی میں عمر کٹ گئی ساری
    *************
    جس سے بھی پوچھا ٹھکانہ اس کا
    اک پتہ اور بتا جاتا ہے

    یا وہ بے گھر ہے، یا ہرجائی ہے
    *************
    زمین گھومتی ہے گِرد آفتاب کے
    زمیں کےگِرد گھومتا ہے چاند رات دن

    ہیں تین ہم! ہماری فیملی ہے تین کی
    *************
    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
    داستانوں کے کسی دلچسب سے اک موڑ پر

    یوں ہمیشہ کے لئے بھی کیا پچھڑتا ہے کوئی؟
    *************
    کھڑکیاں بند ہیں، دروازوں پہ بھی تالے ہیں
    کیسے یہ خواب چلے آتے ہیں پھر کمرے میں