Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • آہ …اظہر عباس بھی چل بسے،تحریر:راحت عائشہ

    آہ …اظہر عباس بھی چل بسے،تحریر:راحت عائشہ

    کچھ لوگوں کی حوصلہ افزائی انسان کو بہت تقویت دیتی ہے، آگے بڑھنے کی جستجو اور لگن کو تیز کرتی ہے۔ جب میں پہلی مرتبہ اظہر بھائی سے ملی ایک نو آموز رائٹر تھی جس کی اکا دکا تحریریں کسی میگزین میں شائع ہوئی تھیں۔ لیکن ان تحریروں پر تبصرہ کرنا، مختلف آئیڈیاز دینا کہ کن موضوعات پر بچوں کے لیے لکھنا چاہیے۔ یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کرنا کہ میں چاہتا ہوں میری بیٹی آپ کی طرح بنے۔۔۔ یہ لفظ میری زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں جو اس شخص کے الفاظ تھے جو خود بہت بڑا ادیب، معاشرے میں ایک بہت اچھی حیثیت رکھتا تھا۔ مجھے جب ایوارڈ ملا تو انہوں نے مجھے اسلام آباد سے لاہور آنے کا حکم دیا کہ اتنی جلدی کوئی بڑا پروگرام تو ممکن نہیں لیکن کوئی چھوٹی موٹی تقریب کر لیں گے۔۔ قذافی اسٹیڈیم کی ای لائبریری میں ہونے والی وہ تقریب بھی کوئی چھوٹی سی نہ تھی۔۔ لاہور کے علاوہ دور دور سے بھی بہت سے ادیبوں نے شرکت کی تھی۔۔۔ اور انہوں نے مجھے اتنا بڑا گلدستہ دیا تھا کہ آج تک زندگی میں ویسا گلدستہ دوبارہ نہیں ملا۔۔۔۔

    پھر پچھلے سال جب میں آخری مرتبہ لاہور چلڈرن لٹریری سوسائٹی کی تقریب میں گئی تھی ۔۔ ایک حادثے کی وجہ سے (اس حادثہ ہی کہنا چاہیے) میں تقریب میں جب پہنچی جب تقریباً مہمان جاچکے تھے لیکن اظہر بھائی ابھی بھی تھے۔۔۔
    یا پھر کچھ عرصہ قبل جب ان کی علالت کا پتا چلا تو میں نے انہیں میسج کیا ۔۔ تب ہشاش بشاش آواز میں جواب دیا تھا کہ ارے کچھ نہیں! بیمار ہو گیا تھا اب تو آفس آنا بھی شروع کردیا۔۔ ابھی بھی آفس میں ہی ہوں۔۔۔
    آج صبح اچانک یہ خبر سنی تو پھر فیس بک کھولنے سے دل ڈر رہا تھا۔۔ کاش یہ سچ نہ ہو۔۔
    اتنی دور چلے گئے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کی بہترین میزبانی کرے، جیسے آپ دنیا میں سب کے لیے مہربان تھے خدائے ذوالجلال اس سے بڑھ کر آپ پر مہربان ہو۔۔
    خدا آپ کے بچوں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
    آپ ہمیشہ ہماری دعاؤں میں رہیں گے۔۔
    اللہ آپ سے راضی ہو ۔۔
    خدا حافظ ۔۔۔
    دل غم سے بھرا ہوا ہے ہم بس یہی کہہ سکتے ہیں
    انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

  • تبصرہ کتب: تعلیمی تربیتی سنہری کہانیاں

    تبصرہ کتب: تعلیمی تربیتی سنہری کہانیاں

    مصنف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 408
    قیمت : 1500روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹیریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ :37324034 042-
    زیر تبصرہ کتاب ” سنہری کہانیاں “ نوجوان بچوں ، بچیوں اور خصوصاََ آٹھویں ، نویں اور دسویں کے طلبہ وطالبات کے لیے لکھی گئی ہے ۔بچوں اور نوجوانوں کی تربیت واصلاح کے حوالے سے یہ بہت ہی شاندار ، لاجواب اور مفید کتاب ہے ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ جو نوجوان ایک بار یہ کتاب پڑھ لے ۔۔۔۔ممکن نہیں کہ وہ اپنے اندر مثبت اور مفید تبدیلی نہ پائے ۔ ہمارا معاشرہ جس تیزی سے تباہی کا شکار ہے ان حالات میں نوجوانوں کی تربیت واصلاح کی بے حد ضرورت ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ قوم کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔نوجوان ہی قوم کی تعمیر وترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔24کروڑ آبادی کے حامل ملک پاکستان کی مجموعی آبادی کا 64فیصد حصہ 30سال سے کم عمر کے جوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ان میں 29فیصد 15سے 29سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔اس طرح 195ممالک میں سے پاکستان یوتھ پاپولیشن کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ کسی بھی قوم کی کامیابی وناکامی ، فتح وشکست ، ترقی وتنزلی اور عروج وزوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ باوجود اس بات کہ پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد دنیا کے تمام ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ملک تعمیر وترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہے ۔ وجہ یہ کہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی نہیں کی جارہی ۔ آج بھی اگر نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کی جائے تو یقینا یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل بن سکتا ہے اور قوم کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے ۔اس وقت پاکستان بھر میں دارالسلام انٹر نیشنل بچوں اور نوجوانوں کی تربیت اور رہنمائی کے لیے سب سے زیادہ کتابیں شائع کررہا ہے ۔ پیش نظر کتاب ” سنہری کہانیاں “ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اس کتاب کے مصنف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ” جب بھی کوئی مصنف یا مو¿لف کوئی کتاب لکھتا یا تالیف کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ ” سنہری کہانیاں “ لکھنے کا سبب بھی ایک ایسے سکول ٹیچر ہیں جو ایک دفعہ مجھے سے ملے اور کہنے لگے ” مجاہد صاحب ! میرا معمول ہے کہ کلاس میں بچوں کو پڑھانے سے پہلے آپ کی کسی نہ کسی کتاب کا کوئی واقعہ اپنے شاگردوں کو سناتا ہوں۔ اس سے بچوں کے دل نرم اور دماغ فریش ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح میں بڑے اچھے انداز میں اپنے شاگردوں کو پڑھا لیتا ہوں“ ۔مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ قوم کا ایک معمار اورمعلم بچوں کی اصلاح و تربیت میں میری کتابوں سے مدد لیتا ہے ۔ اس ایک واقعہ سے بچوں کے لیے لکھی گئی کتابوں کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ کتابوں میں لکھے بعض واقعات بہت عمدہ اور دلچسپ ہوتے ہیںجو سامعین کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر واقعات سچے ہوں تو ان کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں۔جبکہ اس کائنات میں سب سے سچی کتاب قرآن مجید ہے جس کا ایک ایک لفظ صحیح ہے یا پھر صحیح احادیث میں جو واقعات مذکور ہیں وہ بھی بالکل صحیح ہیں۔ پیش نظر کتاب ” سنہری کہانیاں “ کی تیاری میں قرآن مجید ، احادیث سیرت و تاریخ کی کتابوں میں موجود واقعات سے مدد لی گئی ہے ۔ اسی طرح بعض واقعات عصر حاضر میں پیش آتے ہیں، بعض معاصر کتابوں اور اخبارات میں جگہ پاتے ہیں ،بعض علماءکرام ، خطباءاور واعظین بیان کرتے ہیں ۔اس طرح کے ایک سو سبق آموز اور نصیحت آموز واقعات اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں ۔ کتاب میں موجود کہانیوں کا انتخاب عمدہ ، دلچسپ ، تربیتی اور اصلاحی ہے ۔جن کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل موضوعات سے کیا جاسکتا ہے : اپنے قاتل پر لطف وکرم ، جب بھی نواسہ رسول ﷺ کو دیکھا آنکھیں بھیگ گئیں ، لاالہ الا کی فضیلت وبرکت ، ایک ذہین جرنیل کی کہانی ، دماغ سے کام لو جیبوں کو بھر لو ، قریشی نوجوان کی ایمان افروز کہانی ، یہودی بچے کی عیادت ، عبرتناک موت کے واقعات ، طاقت کے باوجود معاف کرنے والا جنتی ، انگور کے گوشے نے وزارت دلا دی ، طلبہ کے ساتھ حکمت ، چرواہے کا تقویٰ حیران کرگیا ، بیت الخلا میں موت ، فضول خرچ آدمی شیطان کا بھائی ، احسان اور وفا کا دن ، سب سے زیادہ مہمان نواز مکی گھرانہ ، جھوٹی قسم کھانے والے کا عبرناک انجام ، سر قلم ہونے والا تھا کہ معاف کردیا ، امی فرشہ فرشتہ آگیا آگیا ، اللہ کی رضا پر راضی رہنے والی ماں ، نبی علیہ السلام کی خاص دعا خاص موقع کے لیے ، خیر اور بھلائی کی خصلتیں ، چھوٹے بچے بڑوں کے رہبر ، غریب بڑھیا کی دعا کا معجزہ ، سکول ٹیچر کی کہانی اس کی زبانی ، براءبن مالک نے تاریخ کا رخ موڑ دیا ، بھلائی بری موت سے بچاتی ہے ، میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا ، نبی ﷺ کا ایک خوش قسمت دیہاتی دوست ۔ کتاب میں شامل دیگر موضوعات بھی اسی طرح دلچسپ اور سبق آموز ہیں ۔ اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ کتاب ہر گھر کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہئے کہ گھروں میں اپنے بچوں کو یہ واقعات سنائیں ، اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں میں یہ واقعات سنائیں ، دوست اپنی محفلوں اور مجالس میں اور واعظین اپنے خطبوں اور تقاریر میں یہ واقعات بیان کریں۔ ان شاءاللہ ان واقعات سے معاشرے میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی آئے گی ۔

  • وادیٔ کشمیر جنت نظیر میں چار دن.تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وادیٔ کشمیر جنت نظیر میں چار دن.تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ہر سال کی طرح، سال 2025 کے جون میں بھی فیصل آباد پریس کلب نے اپنے صحافی ساتھیوں کو جنت نظیر وادی کشمیر کی سیر کرانے کا عزم کیا۔ اس سفر کا خواب صدر پریس کلب شاہد علی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ترتیب دیا۔ ہر انتظام، ہر مقام، ہر لمحہ اُن کی پیشہ ورانہ سوچ اور محبت کی جھلک لیے ہوئے تھا۔ مگر قدرت نے ایک آزمائش لکھ دی۔ والدہ کی طبیعت ناساز ہوئی اور شاہد علی ٹرپ پر نہ جا سکے۔ لیکن ان کی عدم موجودگی میں بھی پروگرام کی روانی اور شاندار تنظیم نے ثابت کیا کہ ایک اچھے قائد کی تربیت صرف موجودگی سے نہیں، جذبے سے جھلکتی ہے۔ اُن کی ٹیم نے جس انداز سے ہر مرحلے کو نبھایا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وادی کے ہر نظارے میں لیڈر کی دعائیں اور شفقت شامل ہو۔

    یہ کوئی عام دن نہ تھا۔ سورج اپنی پہلی کرنوں کے ساتھ فیصل آباد پریس کلب کی عمارت پر نرمی سے پڑ رہا تھا۔ فضا میں ایک خوشی اور تجسس کی مہک تھی۔ یہ کوئی عام ٹور بھی نہ تھا۔ یہ ایک خواب کی تعبیر، ایک جنت نظیر وادی کی گواہی بننے کا سفر تھا۔ چار خواتین کی موجودگی نے قافلے کو اور بھی متوازن، شائستہ اور جاندار بنا دیا تھا۔19 جون کی رات جب ہم 72 صحافی، دو کوسٹرز اور ایک ہائی ایس گاڑی میں سوار ہو کر موٹر وے کے ذریعے مظفرآباد روانہ ہوئے، تو کسی کے چہرے پر نیند کے آثار تھے، تو کسی کی آنکھوں میں وادیٔ کشمیر کے خواب۔ لیکن ایک چیز سب میں مشترک تھی: جنت نظیر وادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی تڑپ۔موٹر وے کی ہموار سڑک پر گاڑیوں کے پہیے سرپٹ دوڑ رہے تھے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دلوں میں وادی کی دلفریب مناظر دیکھنے کی آرزو بڑھتی جا رہی تھی

    مظفرآباد پہنچتے ہی سنٹرل پریس کلب کی جانب سے پرتپاک استقبال ہوا۔ ناشتہ جیسے جشن کا آغاز تھا۔ پھر ہم پیر چناسی کی بلندیوں کی طرف روانہ ہوئے۔ 9500 فٹ کی بلندی، چار گھنٹے کا سفر، اور بل کھاتی سڑکیں۔ ہر موڑ پر قدرت نے جیسے اپنی نئی تصویر بنائی ہو۔ درختوں سے ڈھکے پہاڑ، بادلوں کی اوٹ میں چھپتا سورج، اور دُور دُور تک پھیلا سبزہ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم کسی خیالی دنیا میں داخل ہو چکے ہوں۔
    ہماری اگلی منزل پیر چناسی تھی،
    پیر چناسی ایک سیاحتی مرکز ہے جو مظفر آباد آزاد کشمیر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر ہےپیر چناسی سید حسین شاہ بخاری کو کہتے ہیں ان کا مزار پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔مقامی روایت کے مطابق یہ بزرگ بلوچستان کے علاقے سے 350 سال پہلے ہجرت کر کے تبلیغ کے سلسلے میں یہاں آ کر بس گئے تھے۔ یہ مقام سطح سمندر سے 9500 فٹ بلند ہے۔ نزدیکی آبادی بھی خاصی نیچے پائی جاتی ہے۔ اس کے ایک طرف پیر سہار کو راستہ جاتا ہے، جہاں پیدل جانا پڑتا ہے دوسری طرف نیلم کا خوبصورت پہاڑی سلسلہ اور وادی کاغان۔کے پہاڑ مکڑا کا نظارا ہوتا ہے۔ایک ایسا مقام جو اپنی بلندی اور قدرتی حسن کے لیے مشہور ہے۔9500 فٹ کی بلندی پر واقع اس حسین چوٹی تک پہنچنے کے لیے ہمیں چارگھنٹے کا مشکل مگر حسین سفر طے کرنا پڑا۔ بل کھاتی چڑھائیاں اور درختوں سے ڈھکے سرسبز پہاڑ، ہر منظر دل کو موہ لینے والا تھا۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے فضا میں ایک سحر طاری تھا۔پیر چناسی کی چوٹی پر پہنچ کر ہم نے جو نظارہ دیکھا، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ چاروں طرف پھیلی وسیع و عریض وادی، بادلوں کے جھرمٹ اور پرسکون ماحول نے ایسا جادو کیا کہ ہم مبہوت رہ گئے.پیر چناسی پہنچنے پر الفاظ کم پڑ گئے۔ اُس اونچائی پر مزارِ پیر چناسی ایک روحانی سکون کا مرکز تھا۔ لنگر کی خوشبو، زائرین کا ہجوم، اور دھمال ڈالنے والے ڈھولچی۔ وہ لمحہ ناقابلِ بیان تھا جب ہمارے کچھ ساتھیوں نے دھمال میں شرکت کی اور پورے منظر میں ایک ماورائی کیفیت پیدا ہو گئی۔نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد، ہمارے سپورٹنگ سٹاف نے چوٹی پر قالین بچھا کر کھانا پیش کیا۔ نان، گوشت، سلاد، چٹنیاں، سب کچھ ساتھ لایا گیا تھا۔ جیسے قدرت کی گود میں دعوت کا اہتمام ہو۔پھر شام ڈھلے ہم شاردا وادی کی جانب روانہ ہوئے شارد پاکستان  کی ریاست آزاد کشمیر  کا ایک قصبہ جو ضلع نیلم  کی تحصیل ہے ۔ مظفرآباد سے 136 کلومیٹر (85 میل) کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ تحصیل شاردا کا صدر مقام ہے۔ یہ قصبہ ایشیائی تاریخ میں قدیم علمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ قریباً تین ہزار سال قبل مسیح میں وسطی ایشیائی قبائل یہاں وارد ہوئے جو بدھ مت اور شیومتکے پیروکار معلوم ہوئے نے یہ بستی قائم کی۔ ان قبائل میں سے کشن قبیلے نے اپنے واسطے ایک نئی دیوی کی تخلیق کی جسے شاردہ دیوی کہا جاتا تھا۔ اسی دیوی کے نام سے یہ قصبہ آج بھی آباد ہے۔ دریاۓ نیلم کا قدیمی نام کشن گنگا بھی اسی خاندان سے منسوب ہے۔ یہ لوگ علم و فن سے روشناس تھے تاہم انھوں یہاں ایک علمی مرکز قائم کیا۔ تاریخ نویسوں کے مطابق زمانۂِ قدیم میں چین، وسطی ایشیا اور موجودہ پاکستان اور ہندوستان کے باسی حصولِ علم کی خاطر یہاں کا رخ کیا کرتے تھے۔ اس علمی مرکز کے آثار اب بھی  کھنڈر کی شکل میں شاردہ میں موجود ہیں جنھیں  شاردہ یونیورسٹی  کہا جاتا ہے۔ رات کے سناٹے میں چھ گھنٹے کا سفر، اور پھر نیلم کے کنارے دریا پار کرتے ہوٹلوں تک پہنچنا۔ سگنلز کا نہ ہونا ہمیں ماضی کی سیر پر لے گیا۔ ہوٹل نیا تھا، تھانہ شاردا کے پاس۔ رات کے کھانے کے بعد، کمرے میں راقم شاہد نسیم کے علاوہ ساتھیوں عامر بٹ،ملک غلام مصطفے،حافظ احمد نومان،ظفران سرور اور نعیم شاکرنے ایک دوسرے سے یوں باتیں کیں جیسے برسوں کا تعلق ہو۔ نیند نے دھیرے سے اپنی بانہوں میں لیا اور فجر کی اذان نے جگایا۔ہم نے اپنے کمرے میں ہی نماز ادا کی اور بستر پر لیٹ گئے۔ کمرے میں کوئی پنکھا یا اے سی نہیں تھا، لیکن ہلکے لحاف رکھے گئے تھے اور ہلکی ہلکی ٹھنڈک کا احساس تھا۔ دریائے نیلم کے کنارے ہوٹل میں ہم سب جلد ہی گہری نیند کی وادیوں میں کھو گئے۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے آنکھ اس وقت کھلی جب سیکریٹری عزادار حسین عابدی نے دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا کہ جلدی اٹھو، ناشتہ تیار ہے اور ہمیں ساڑھے نو بجے وادی کیل کے لیے روانہ ہونا ہے ہمیں ناشتے کے قالین تک پہنچایا۔ مرغ چنے، نان، جیم، کیچپ، مایونیز، اور پھر اولپرز چائے۔ ایسا ناشتہ شاید کسی پانچ ستارہ ہوٹل میں بھی نہ ملے۔شاندار چائے نے جسم میں نئی جان ڈال دی۔

    تقریباً دس بجے ہماری تینوں گاڑیاں وادی کیل کے لیے روانہ ہو گئیں۔ کیل  پاکستان  کی ریاست آزاد کشمیر کا ایک قصبہ جو ضلع نیلم  میں مظفرآباد سے 155 کلومیٹر (96 میل) کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ]کیل ریاست آزاد کشمیر کا ڈسٹرک نیلم کی تحصیل شاردا کا ایک قصبہ ہے، جو آزاد کشمیر کے کیپیٹل مظفر آباد سے 155 کلومیٹر اور تحصیل شاردا سے 19 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہاں پر 19000 فٹ بلند سارا والی کیل کی چوٹی واقع ہے، جو پہاڑی چوٹیوں اور بڑے گلیشئروں کی جانب جانے والے کوہ پیماؤں کا بیس کیمپ بھی ہے، یہ ایک جدید تفریح گاہ ہے جہاں تک آنے کے لیے بسیں چلتی ہیں، میلوں تک وسیع و عریض سبزہ زاروں میں جولائی کے مہینا میں رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں، یہ بھی چھ گھنٹے کا سفر تھا، جو اپنے اندر کئی خوبصورت مناظر سموئے ہوئے تھا۔ کیل پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ دریا پار کرنے کے لیے چیئر لفٹ استعمال کرنی پڑتی ہے، لیکن رش اتنا زیادہ تھا کہ ہماری باری تین گھنٹے بعد آتی۔ چیئر لفٹ میں صرف بارہ افراد کی گنجائش ہوتی ہے، اس لیے انتظار کرنا پڑتا۔ بہرحال، ہم میں سے کچھ دوستوں، جن میں رانا زاہد، ڈاکٹر سعید طاہر، عزیز بٹ، ڈاکٹر جمیل ملک، ابرار حبیبی، ملک غلام مصطفٰی، اشرف، ملک ظہور ،منیبہ اوررفعت وغیرہ شامل تھے، نے نیچے دریا کی طرف پیدل جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے وہاں دکانوں سے بزرگوں والی اسٹک کرائے پر حاصل کی، اور جاتے ہوئے اسٹک کی مدد سے ہم آرام سے اترتے گئے، تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے بعد ہم دریا کی موجوں کے سامنے تھے۔ پانی میں سب نے خوب انجوائے کیا، ٹھنڈے پانی میں پیر ڈال کر دل کو سکون ملا۔ دو بجے واپسی کا اعلان ہوا تو ڈیڑھ کلومیٹر کی چڑھائی چڑھتے وقت میرے سمیت جن دوستوں کی حالت ہوئی، وہ وہی جانتے ہیں یا خدا جانتا ہے۔ عزیز بٹ نے ہمارا بہت ساتھ دیا اور اوپر تک پہنچنے میں حوصلہ بڑھاتے رہے۔ ہماری ساتھی منیبہ کو تو گھوڑے پر بٹھا کر اوپر پہنچایا گیا۔ گرمی اور دھوپ بھی بہت سخت تھی، لیکن گرتے پڑتے ہم بھی بالآخر اوپر پہنچ گئے۔ واپسی پہاڑ کا دوسرا نام تھی۔ چڑھائی کے ہر قدم پر سانس پھولتی، لیکن عزیز بٹ کی ہمت افزائی ہمیں اوپر لے آئی۔
    سب نے کرائے کی اسٹک واپس کیں اور کھانے کے لیے تیار ہو گئے۔ کھانے میں چاول تھے جو تھکن کے بعد بہت لذیذ محسوس ہوئے۔

    کھانے کے بعد ہم LOC کی طرف روانہ ہوئے۔ دریائے نیلم کی دوسری طرف مقبوضہ کشمیر تھا۔ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ پاکستانی جھنڈا فخر سے لہرا رہا تھا اور دوسری جانب زبردستی تھوپا گیا جھنڈا۔ فضا میں عجیب کشمکش کا احساس تھا۔پھر وہ منظر… جب دریا کے اس پار مقبوضہ کشمیر پر قابض ہندوستان کا جھنڈا، اور اِس طرف کشمیر و پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا۔ آنکھوں نے جو دیکھا، دل نے اسے صرف محسوس کیا۔ اس منظر کے آگے کوئی زبان بےبس ہے۔

    کشمیر کی وادی کیرن میں برفیلے پانی اور تیز بہاوٴ والے دریائے نیلم کی ایک جانب جب سیاح گانے گاتے ہیں تو دوسری جانب سیاح ان کے لیے تالیاں بجاتے ہیں۔ دو ملکوں میں بٹے اس مقام پر سرحد یہی دریا ہے۔
    ایسے میں دریا کے ایک جانب موجود پاکستانی سیاح گیت گائیں تو دوسری جانب انڈین شہری انھیں سن کر داد دے سکتے ہیں۔ لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔

    واپسی پر ہم ایک اور جنت نظیر وادی میں رکے، جہاں دریا کے اوپر رسوں اور لکڑی کے پھٹوں کا پل پار کیا۔ اس پل پر ایک وارننگ لکھی ہوئی تھی کہ ایک وقت میں صرف دو لوگ ہی پل پر سے گزر سکتے ہیں۔ پل پار کر کے وہاں پر موجود پاک آرمی کے سپاہی شعیب سے ملاقات ہوئی جو اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ اتنے خوبصورت نظارے تھے کہ انہیں الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ ہر طرف سبزہ، صاف شفاف پانی اور بلند و بالا پہاڑ، قدرت کی کاریگری کا حسین امتزاج تھا۔ پاک آرمی کے سپاہی شعیب سے ملاقات، جو اپنے فرض کی ادائیگی میں مصروف تھا۔ قدرت، وطن، اور ذمہ داری کا حسین امتزاج۔رات کو دریا کنارے موٹر بوٹ کا مزہ، شاردا بازار کی رونقیں، اور کچھ ضروری خریداری کی۔

    اگلی صبح، چھ بجے سب کو اٹھا دیا گیا، ناشتےکے بعد ہم نے واٹر فال، انسانی شکل نما پہاڑ ،کنڈل شاہی اور دو مزید خوبصورت مقامات کی سیر کی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان مقامات میں تقریباً 25-30 کلومیٹر اس طرف آزاد کشمیر تھا اور دوسری طرف مقبوضہ کشمیر، اور بیچ میں دریا بہہ رہا تھا۔ یہ سرحد کی تقسیم اور قدرت کی بے پناہ خوبصورتی کا ایک عجیب و غریب امتزاج تھا۔ وہاں سے ہم واپس مظفر آباد آئے اور مظفر آباد سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر کوہالہ کے مقام پر دریائے کنارے کھانا کھایا۔ مغرب کی نماز ادا کر کے ہم وہاں سے مری کے لیے روانہ ہو گئے۔ مری ہمارے ٹرپ میں شامل نہیں تھا، لیکن دوستوں کے مشورے سے اسے شامل کر لیا گیا۔ رات 11 بجے ہم مری پہنچے جہاں مال روڈ کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں۔ رنگا رنگ روشنیوں، سیاحوں کے ہجوم اور ٹھنڈی ہوا نے دل کو مزید شاد کر دیا۔ مال روڈ کی رونقیں، سردی کی خوشبو، اور رات کا حسن۔۔۔ سب کچھ جیسے فلمی سین کا حصہ ہو۔

    ہمیں دو گھنٹے کا وقت دیا گیا جس میں ہم نے مال روڈ کی سیر کی اور خریداری کی۔ اس کے بعد سارے ساتھی اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر واپس فیصل آباد کی طرف روانہ ہو گئے۔ فیصل آباد پہنچے تو ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، جو اس یادگار سفر کا ایک خوشگوار اختتام تھا۔ جہاں بارش ہماری واپسی پر اشک بار تھی۔ شاید قدرت بھی ہمیں رخصت کرتے ہوئے اداس تھی۔

    یہ سفر صرف ایک ٹور نہ تھا، یہ ایک خواب، ایک افسانہ، ایک روحانی تجربہ تھا۔ وادیٔ کشمیر جنت نظیر ہے، نہ صرف قدرتی حسن کی وجہ سے بلکہ ان جذبات، احساسات، اور لمحوں کی بدولت جو انسان کو اپنے اندر نرمی، شکر، اور محبت سے بھر دیتے ہیں۔

    بلاشبہ اس سارے سفر کے دوران محمدعقیل،میاں رمضان،رومان رومی، سجاد اور کاشف کی خدمات ہر لحاظ خالصتا ناشتےا،کھانے کے بندوبست کے حوالے سے قابل تعریف ہیں۔ جنکی بناء پر تمام صحافیوں کو شاندار انتظامات میسر آئے۔ سیکریٹری عزادار عابدی،طاہر نجفی نے بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں سے مکمل انصاف کیا۔۔۔۔
    یہ سفر صرف ایک تفریحی دورہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے ہمیں قدرت کے حسین شاہکاروں سے متعارف کرایا، باہمی بھائی چارے اور دوستی کے رشتے کو مضبوط کیا اور وطن عزیز کے حسین گوشوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ وادی کشمیر، بلاشبہ جنت نظیر ہے، اور فیصل آباد پریس کلب کی یہ کاوش قابل تحسین ہے جس نے صحافیوں کو اس حسین وادی کی سیر کا موقع فراہم کیا۔ یہ سفر ہماری یادوں میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔کشمیر کا یہ ٹور صرف ایک سفر نہ تھا، یہ دلوں کا بدل جانا، احساسات کا نیا جنم اور وطن سے جڑت کا نیا روپ تھا۔ ہر صحافی اب صرف قلم نہیں، کشمیر کا سفیر بھی بن چکا ہے۔ اگر کسی نے اس ٹور کی ایک تصویر کھینچی ہو، تو وہ صرف منظر نہ ہو گا، وہ ایک جذبہ ہو گا… ایک وعدہ ہو گا کہ ہم اس جنت نظیر خطے کی محبت، اس کی خوبصورتی، اس کے سچ کو دنیا کے سامنے لاتے رہیں گے۔

  • اپووا — قلم کا کارواں .ملک یعقوب اعوان

    اپووا — قلم کا کارواں .ملک یعقوب اعوان

    قلم کی لو سے روشن ہے، یہ بزمِ بیداری
    لفظوں میں ہے طاقت، اور فن میں دل‌داری
    ادب کے قافلے کی ہے، یہ شانِ نیازی
    اپووا ہے وہ تنظیم، ہے سب پر یہ بھاری
    ادیبوں کی پکار ہے، لکھاریوں کی شان
    خیالوں کا یہ قافلہ، نہیں کوئی عام کاروان
    جو حرف میں بغاوت ہو، جو نظم میں ہو جان
    اپووا کے ہر رکن کا، ادب سے جڑا ہے ایمان
    یہ بزمِ علم ہے ایسی، جو سوچ جگاتی ہے
    اندھیر دل میں بھی کچھ خواب ٹانک جاتی ہے
    جو خامشی میں بولے، جو چپ توڑ جاتی ہے
    اپووا وہ امید ہے، جو حوصلہ بڑھاتی ہے۔
    مشاعرے ہوں یا اجلاس، ہو کوئی تخلیق کا باب
    یہ کارواں ادب کا ہے، نرالا، بے حساب
    قلم سے انقلاب آئے، سچائی ہو کامیاب،
    اپووا ہے وہ محاذ، جہاں لفظ ہو جواب۔
    تو آؤ، ارادوں سے ہم روشن چراغ جلائیں
    اپووا کی چھاؤں میں، نئی دُنیائیں بسائیں
    ادب کا پیغام لے کر، ہم سب کو ساتھ لائیں
    یہ بزمِ فن کہتی ہے — چلو، دلوں کو ملائیں
    یعقوب اعوان

  • مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    26 مئی پیر کے دن کاسمو پلیٹن کلب میں مسرت کلانچوی صاحبہ کے اعزاز میں ایک شام منانے کا اہتمام کیا گیا یہ اہتمام انجن ترقی پسند مصنفین اور پاک میڈیا فاؤنڈیشن طرف سے تھا بہت خوبصورت شام تھی جس میں مصنفین، صحافیوں اور پی ٹی وی سے وابستہ افراد اور مسرت صاحبہ کے دوستوں نے بھر پور شرکت کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا .

    مسرت کلانچوی جو تغمہ امتیاز سمیت بہت سے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں انہوں نے ادب کی ہر صنف میں لکھا اور بہت خوب لکھا ان کی صلاحیتوں کو بہت پذیرائی ملی ان کے لکھے ڈرامے ہوں یا افسانے ناول ہوں یا بچوں کا ادب اور پھر سیرت نبوی پر بھی لکھا اردو میں بھی اور سرائیکی میں بھی لکھا بلکہ وہ سرائیکی کی پہلی افسانہ نگار ہیں نام و نمود سے دور وہ ایک جینوئن تخلیق کار کی طرح بچپن سے اب تک فن کی آبیاری کرتی رہیں
    اس پروگرام میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، پروگرام کی نظامت جاوید صاحب نے کی مہمانان خصوصی میں پروین ملک صاحبہ، بلقیس ریاض صاحبہ، حفیظ طاہر صاحب، ڈاکٹر ایوب ندیم ، آ غا قیصر عباس، ڈاکٹر امجد طفیل شامل تھے جبکہ مسرت کلانچوی صاحبہ نے کمال مہربانی سے اپنی دوستوں کو بھی مہمانان خصوصی کا درجہ دیا اور ہم سب کو باقاعدہ اسٹیج پر بلوا کر بٹھایا اور گفتگو کا موقع دیا دوستوں میں دعا عظیمی، ثمینہ سید ، کنول بہزاد ، رقیہ اکبر ، شاہین اشرف علی ، فاطمہ شیروانی اور دیگر شامل تھیں .

    بلقیس ریاض صاحبہ نے کہا کہ میں نے جب مسرت کلانچوی کا سارا تخلیقی کام دیکھا تو بہت حیران اور متاثر ہوئی کہ اتنا بہترین تخلیقی کام ان کے کریڈٹ پر ہے ثمینہ سید اور کنول بہزاد نے بھی مسرت صاحبہ کے تخلیقی کام پر عمدہ گفتگو کی ڈاکٹر ایوب ندیم ، پروین ملک ، کامریڈ تنویر صاحب اور تمام گیسٹ سپیکرز نے مسرت صاحبہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا

    میں نے کہا کہ مسرت صاحبہ بھاگوان یعنی نصیب والی ،خوش قسمت ہیں کہ ان کو ساز گار جہان ملا ان کے والد نے ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی ان کو اچھا ماحول دیا اور پھر ان کی شادی بھی ایسے شخص سے ہوئی جہاں ان کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ مزید جلا ملی علامہ اقبال نے ایک شعر میں کہا تھا
    گفند جہان ما آ یا بہ تو می سازد؟
    گفتم کہ نمی سازد گفند کہ برہم زن
    (کیا تمہیں میرا جہان ساز گار ہے ؟
    کہا ، نہیں، کہا، تو پھر اسے درہم برہم کردو)
    اس دنیا میں بہت سے لوگوں کو جہان ساز گار نہیں ملتا لیکن وہ اسے درہم برہم نہیں کر سکتے بلکہ بہت سے لوگوں کی زندگی ایسے گزرتی ہے کہ
    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    مسرت کلانچوی صاحبہ نے آخر میں بہت خوبصورت گفتگو کی اور اپنے لکھے پہلے ڈرامے ،، ایک منٹ، ، کا پس منظر بیان کیا ان کا پہلا ڈرامہ ہی نصرت ٹھاکر اور پی ٹی وی کے ارباب اختیار کو بہت پسند آیا اور آن ایئر ہونے پر عوام کو بھی پسند آیا ، مسرت کلانچوی صاحبہ نے میری اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ واقعی خوش قسمت ہیں ان کے والد اور شوہر اسلم ملک صاحب نے بھر پور تعاون کیا،مسرت کلانچوی صاحبہ کے اس مقام تک پہنچنے میں قسمت کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی محنت اور فن سے ان کی گہری وابستگی، کمٹمنٹ کا بھی ہاتھ ہے، ایسے لگتا ہے وہ پیدائشی تخلیق کار ہیں بچپن میں ہی کہانیاں لکھنا مصوری کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ ننھی مصورہ آج بہت عروج پا چکی ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ،پروگرام کے منتظمین کو اتنا اچھا پروگرام ترتیب دینے پر بہت مبارکباد

  • اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) نے حال ہی میں پشاور چکوال اور تلہ گنگ کا ایک انتہائی کامیاب اور یادگار دورہ مکمل کیا، جس نے ادبی، صحافتی اور معاشرتی میدان میں نئے افق روشن کیے۔ یہ دورہ قلمکاروں کے باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے اور خاص طور پر دور دراز علاقوں کی باصلاحیت مرد و خواتین لکھاریوں کو قومی دھارے میں لانے کے اپووا کے غیر متزلزل عزم کی عملی مثال بنا۔

    اپووا کے وفد نے پشاور پہنچنے پر سب سے پہلے گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات کی، جو اس دورے کا سب سے اہم اور بنیادی حصہ تھا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ، صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور معاشرتی ترقی میں قلمکاروں کے کلیدی کردار پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات نے اپووا کے مقاصد اور کوششوں کو حکومتی سطح پر نہ صرف پذیرائی دلائی بلکہ مستقبل کے لیے نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے۔

    گورنر ہاؤس سے ملاقات کے بعد، اپووا کے وفد نے ” چائنہ ونڈو” کا دورہ کیا، جو چین کی ثقافت اور اقدار کو پاکستانی عوام سے متعارف کرانے کا ایک منفرد اور دلکش پلیٹ فارم ہے۔ یہیں اپووا کے پہلے ضلعی دفتر کا شاندار افتتاح کیا گیا، جو خطے میں قلمکاروں کے لیے ایک نئے مرکز کی حیثیت اختیار کرے گا۔ اپووا کی جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا، ناز پروین نے اس موقع پر وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف لنچ کا اہتمام کیا جس میں مقامی کھانوں کی لذت اور روایتی پشاوری قہوے کی مہمان نوازی نے وفد کے دل موہ لیے۔
    apwwa


    پشاور میں اگلا پڑاؤ حیات آباد تھا، جہاں باہمی رشتوں کے احترام کی ایک مثال قائم کی گئی۔ اپووا کے پی کے وومن ونگ کی صدر فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر ان کے شوہر کے انتقال پر تعزیتی ملاقات کی گئی اور حیات آباد میں ہی اپووا کے ریجنل آفس کا بھی افتتاح عمل میں آیا۔ ڈاکٹر عمر شہزاد اور اپووا کی ہیلتھ ایڈوائزر ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کی جانب سے وفد کے لیے ایک مزیدار ہائی ٹی کا انتظام کیا گیا۔ اور کیک کاٹا گیا ۔اس موقع پر نئے عہدوں کا بھی اعلان کیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔


    مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی، رانی عندلیب کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ان کے تاثرات اس دورے کا سب سے متاثر کن اور عزم سے بھرپور حصہ تھے: "میں اپووا کی انتہائی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ایک دور دراز علاقے میں رہنے والی خاتون کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے اور اس کو اپنے وفد میں شامل کر کے گورنر ہاؤس تک لائے جو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں خواتین کے فیلڈ میں کام کرنا کو برا سمجھا جاتا ہے، مجھ پر اس سے پہلے تو دو تین حملے ہو چکے ہیں لیکن میں اپنے شوق اور لگن کی وجہ سے کام کر رہی ہوں۔ انتہائی مشکور ہوں کہ اپووا نے مجھے اپنی ٹیم میں شامل کیا اور اس وفد میں شامل کیا”۔ رانی عندلیب کی کہانی عزم، ہمت اور قلم کی طاقت کی ایک زندہ مثال ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اپووا کس طرح پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔


    پشاور کے بعد، اپووا کا وفد "شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین” تلہ گنگ پہنچا، جو اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، اور متحرک رکن ممتاز اعوان کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ یہاں بھی اپووا کے ضلعی آفس کا پروقار افتتاح کیا گیا، جس میں ضلع بھر کے صحافی اور لکھاری شریک ہوئے۔ یہ بھرپور شرکت اپووا کی علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس موقع پر شیخ فیضان کو اپووا کوارڈینیٹر تلہ گنگ اور چکوال مقرر کیا گیا۔ اس تقریب میں ناشتے کا بھی اہتمام کیا گیا، جو علاقے کے ادبی حلقوں کے لیے ایک خوشگوار آغاز ثابت ہوا۔ یہ دورہ صرف دفاتر کے افتتاح یا ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ قلمکاروں کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون، اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اپووا کے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر تھا۔ اس تاریخ ساز دورے نے پاکستان میں ادبی اور صحافتی تحریک کو نئی جہتیں دی ہیں اور نئی نسل کو قلم کے ذریعے مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دی ہے۔

  •  اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

     اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

    جب سخن و قلم کے چراغ روشن ہوں، اور علم و عرفان کی مہک فضا میں گھل جائے، تو ایسے لمحات تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم ہو جایا کرتے ہیں۔ آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا ادبی قافلہ، جو ہمیشہ فکر و فن کے گلدستے لیے ملک بھر کے ادبی چمن کو معطر کرتا رہا ہے، حال ہی میں گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی کی خصوصی دعوت پر پشاور روانہ ہوا۔

    یہ مژدہ جانفزا بانی و صدراپووا ایم ایم علی کی پُرخلوص کال پر راقم کو ملا، اور بلا تامل اس فکری سفر میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ، لاہور سے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان کی زیرقیادت اس قافلے نے ادب و اخلاص کے ساز پر رواں دواں ہو کر بلکسر کی پرنور فضاؤں میں شب بسر کی،سحر ہوتے ہی منزلِ مقصود کی جانب روانگی ہوئی، اور گورنر ہاؤس پشاور کے درو دیوار نے اپووا کے کارواں کو والہانہ خوش آمدید کہا۔ منتظمین کی شائستگی اور تکریم نے اس علمی ملاقات کو مزید باوقار بنا دیا۔گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی ساعتِ سعید نصیب ہوئی۔ ملک یعقوب اعوان نے نہایت بلیغ انداز میں اپووا کا تعارف پیش کیا، جس کے بعد تمام معزز اراکین نے فرداً فرداً اپنا تعارف کروایا، ایک سے بڑھ کر ایک ادبی ستارہ، جس کی چمک سے گورنر ہاؤس جگمگا اٹھا۔

    اس روح پرور نشست میں بانی صدر ایم ایم علی اور نائب صدرحافظ محمد زاہد نے اپووا کی فکری خدمات، ادبی سرگرمیوں اور تنظیمی اہداف کو نہایت شائستہ اور مدلل لب و لہجے میں پیش کیا۔ گفتگو میں جو شفافیت اور خلوص تھا، اس نے گورنر کو متاثر کئے بغیر نہ چھوڑا،گورنر فیصل کریم کنڈی نے نہایت پرخلوص کلمات میں اپووا کے اس سنجیدہ ادبی مشن کو قومی یکجہتی، فکری بالیدگی اور ثقافتی تجدید کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب دلوں کو جوڑتا ہے، اور اپووا اس جوڑنے کے عمل میں پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تمام شرکائے وفد کو تعریفی اسناد اور یادگاری سوینئرز سے نوازا۔ چائے کی ضیافت کے دوران گفتگو کا دائرہ مزید وسعت اختیار کر گیا۔ آخر میں اپووا کی جانب سے سالانہ ادبی تقریب میں شرکت کی دعوت پیش کی گئی، جسے گورنر خیبر پختونخوا نے نہایت خندہ پیشانی سے قبول کیا اور یقین دہانی کروائی کہ وہ ادب کے اس مقدس سفر میں اپووا کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

    یہ سفر، ملاقات محض ایک رسمی گفتگو نہ تھی بلکہ قومی ادب کی قدر دانی اور فکری ہم آہنگی کی ایک نادر مثال تھی، جہاں قلم کی حرمت کو منصب کی عظمت سے جوڑا گیا۔وفد میں ملک یعقوب اعوان، ایم ایم علی، حافظ محمد زاہد، سفیان علی فاروقی، محمد اسلم سیال، ممتاز اعوان، معاویہ ظفر، محمد بلال، ڈاکٹر عمر شہزاد، ڈاکٹر سعدیہ شہزاد، ناز پروین، بشریٰ فرخ، تابندہ فرخ، ثمینہ قادر، نیلوفر سمیع، رانی عندلیب شامل تھے،”دلاور” بھی ہمارے ہمراہ تھا ،دلاور کے گاڑی سے اترتے ہی گورنر ہاؤس انتظامیہ کی دوڑیں بھی دیکھنے والی تھیں………..

    یقیناً یہ ملاقات ادب کی توقیر، ادیب کی عزت اور فکر کی پذیرائی کا مظہر تھی، اپووا کا یہ اقدام آنے والے دنوں میں مزید فکری سنگ میل عبور کرنے کی نوید دے رہا ہے،اپووا…کی جانب سے مزید سرپرائزتیار ہیں.

    اپووا محض ایک تنظیم نہیں، بلکہ ادب کا مقدس قافلہ ہے ، ایسا قافلہ جو قلم کے چراغ اٹھائے، روشنی بانٹنے کے سفر پر گامزن ہے، اس قافلے کی ہر کڑی، ہر فرد اور ہر قدم علم، شعور، زبان، تہذیب اور فنِ تحریر کے احترام سے لبریز ہے، اپووانے معاشرے کے ان گوشوں میں روشنی پہنچائی ہے، جہاں جہالت کا اندھیرا اور فکری جمود برسوں سے براجمان تھا، اپووا کی ادبی کاوشیں معاشرتی نکھار، فکری ارتقاء اور قومی یگانگت کی ایک زندہ علامت بن چکی ہیں،اپووا نہ صرف شعرا و ادبا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے بلکہ نئے لکھنے والوں کی آبیاری کر کے انہیں فکر و فن کے باغ میں تناور درخت بننے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ان کی تقریبات میں ادب کے قدردان، لفظوں کے مسافر، اور فہمیدہ دل و دماغ یکجا ہوتے ہیں، جہاں صرف باتیں نہیں ہوتیں، بلکہ روحانی ارتعاش، فکری پرورش اور جمالیاتی آگہی بانٹی جاتی ہے،ایم ایم علی جیسے بصیرت افروز قائد، ملک یعقوب اعوان جیسے باوقار رہنما، حافظ محمد زاہد جیسے فکری معمار، اور درجنوں اہلِ قلم کی پرخلوص کوششوں نے اپووا کو پاکستان کی ادبی پیشانی کا جھومر بنا دیا ہے۔

    آج جب دنیا تشدد،نفرت، مادّہ پرستی اور زبان کی سطحیت کا شکار ہو رہی ہے، اپووا ایسے وقت میں دلوں کو جوڑنے، زبان کو نکھارنے اور قلم کو حرمت دینے کے لیے سینہ تان کر کھڑی ہے،ہم اپووا کے بانیان، کارکنان، اور تمام ادبی سپاہیوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ عقیدت، تحسین اور محبت پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ یہ قافلہ یوں ہی فکر کی مشعلیں لے کر اقبال کے خواب، فیض کی امید کو آگے بڑھاتا رہے۔

  • تبصرہ کتب : امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب : امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    مصنف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 343فور کلر آرٹ پیپر
    قیمت : 2700روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    امت محمدیہ میں اللہ نے لاتعداد علما اور فقہا پیدا فرمائے لیکن ان میں امام ابن تیمیہ ایک ہی تھے ۔صدیاں گزر گئیں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی دوسری علمی شخصیت پیدا نہیں ہوئی ۔ امام صاحب کا تعلق حران کے معروف علمی خاندان سے تھا جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے ” ایں ہمہ خانہ آفتاب است “ ۔ امام ابن تیمیہ حدیث ، تفسیر ، فقہ ، اصول فقہ ، تاریخ ، اسماءالرجال ، فسلفہ ،منطق ، ادب کے امام تھے ۔ ان کے علاوہ بھی وہ تمام علوم جو اس وقت رائج تھے حاصل کئے ۔ کوئی بھی ایسا علم نہ تھا جو حاصل نہ کیا ہو۔ تاہم علم تفسیر آپ کا پسندیدہ موضوع تھا ۔ آپ کی تربیت بہت ہی پاکیزہ علمی گھرانے میں ہوئی تھی ۔ قوت حافظہ غضب کا تھا جس کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لیتے وہ آپ کو مکمل طور پر یاد ہوجاتی ۔ قرون اولیٰ کے بعد جن چند اہم شخصیات نے اسلام کی نشرواشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سرفہرست ہیں ۔ امام ابن تیمیہ مجدد تھے اور علم وہدیت کا ایک ایسا سرچشمہ تھے جن کی ضیا پاشیوں سے دنیائے اسلام جگمگا اٹھی تھی ۔اگر ہم موجودہ حالات کا موازنہ امام صاحب کے دور سے کریں تو ہمیں کافی حد تک مطابقت نظر آتی ہے ۔امام صاحب کی زندگی میں دنیائے اسلام فتنہ تاتار کی غارت گری کا شکار تھی دینی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار تھی ، خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہوچکی تھی ۔ حقانیت کا آفتاب ڈوب چکا تھا کہ اللہ نے امام صاحب کو علم وہدی کا آفتاب بنا پر دمشق کے آسمان پر طلوع کیا ۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو دنیائے اسلام اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے ۔ گو کہ آج ہم میں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی ہستی اور شخصیت موجود نہیں تاہم امام صاحب کی کتب سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ” امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات “ اسی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب اہل علم کےلئے بہتر ین تحفہ ہے، اس کتاب کی اشاعت سے دارالسلام نے ایک اہم علمی خدمت انجام دی ہے ۔اردو زبان میں ایسی شہرہ آفاق، جامع ، علمی اور تحقیقی کتاب کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جارہی تھی ۔

    یہ اپنے موضوع پر شاندار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے جو کہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کی تصنیف ہے ۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے امام ابن تیمیہ نے اس وقت کی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود ، تاریکی اور بزدلی کو اپنے قلم ، کردار اور گفتار سے دور کیا۔وہ ملت اسلامیہ کی ان چند شخصیات میں سے تھے جنھوں نے علمی جہاد کے ساتھ ساتھ قلمی جہاد بھی کیا ۔اپنی زبان وبیان اور گفتار وکردار سے مجاہدین اسلام میں جہاد کی روح پھونک دی جبکہ اپنی تلوار سے فتنہ تاتار کا منہ موڑ دیا ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کی زندگی ، حالات ، حیات اور خدمات کے متعلق میرے سالہاسال کے مسلسل مطالعہ کا ماحاصل ہے ۔ یہ کتاب علما ، طلبہ ، اساتذہ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں سمیت ہر ایک کےلئے مشعل راہ ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آج بھی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود اور بزدلی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ امام ابن تیمیہ اپنے وقت کے مجدد ، مصلح اور مجاہد تھے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ پوری زندگی حکومتی ایوانوں اور راہداریوں سے دور رہے ۔ انھوں نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا ۔ ساری زندگی مسجد اموی سے متصل ایک چھوٹے سے حجرے میں دین کی آبیاری ، درس وتدریس ، تصنیف وتحقیق اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزار دی ۔ وہ راست بازی ، حق گوئی وبے باکی ، زہد وبہادری کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے ۔کتاب میں امام صاحب کی ولادت ، خاندان ، ابن تیمیہ کہنے کی وجہ ، ابتدائی حالات ، علوم شریعت کی تجدید ، حصول علم ، دیگر عصری علوم کا حصول ، باکمال مصنف ، محبت رسول کا والہانہ جذبہ ، مخالفین کے درمیان ہمہ گیر شخصیت ، ملکی معاملات میں اصلاحی کردار ، امام صاحب بیحثیت بت شکن ، جیل کی زندگی ، کبائر علما ءکے ہاں امام ابن تیمیہ کا مقام ومرتبہ ، امام ابن تیمیہ بطور ایک مجدد ، تاتاری جنگوں میں شرکت ، شاہ تاتار سے گفتگو ، امام صاحب بطور ایک کامیاب مناظر ، راہبوں ، صلیبیوں ، پادریوں، نجومیوں ، صوفیوں سے مناظرے ، امام صاحب کا دور ابتلاوآزمائش ، ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی ، امام صاحب کے شاگردان رشید ، تصانیف ، آپ کی مشہور تصانیف ، فضل وکمال ، وفات اور جنازہ ۔۔۔۔۔جیسے اہم موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر طبع شدہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے باطنی اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ دلکش اور جاذب نظر ہے ۔ ایسی علمی ، اصلاحی اور رہنما کتاب کا مطالعہ ہر ایک کےلئے بے حد ضروری ہے ۔

  • تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار،کانفرنس .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار،کانفرنس .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    حسب سابق اہل قلم کانفرنس اس سال بھی شاندار رہی ملک بھر سے بچوں کے ادب سے تعلق رکھنے والے ادبیوں نے بھر پور شرکت کی ,اکادمی ادبیات اطفال اور ماہنامہ پھول کے تعاون سے ہونے والی اس کانفرنس کا موضوع تھا ،، تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار ،، اور بحوالہ 21 اپریل یوم اقبال ، 23 اپریل عالمی یوم کتاب ،یہ نویں کانفرنس تھی جو 3 مئی کو فاؤنٹین ہاوس میں منعقد کی گئی اور اس کا اہتمام اور سہرا ہر سال کی طرح شعیب مرزا صاحب کے سر ہےجو ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر اور چیرمین اکادمی ادبیات اطفال ہیں ان کی ذاتی دلچسپی اور کوشش سے یہ کانفرنس ہر سال کامیاب ٹھہرتی ہے اور اس میں لکھاریوں کے علاوہ اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں گیسٹ سپیکرز شرکت کرتے ہیں جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور نعت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا ا س کے بعد شعیب مرزا صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا فاؤنٹین ہاوس میں کانفرنس منعقد کرنے کی غرض وغایت بیان کی اور کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا مہمان مقررین نے بچوں کے ادب کے حوالے سے عمدہ گفتگو کی اصغر ندیم سید صاحب نے کہا کہ بچوں کے لیے لکھتے ہوے جو ہمارا تہذیبی ورثہ ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے مافوق الفطرت کرداروں کی کہانیوں سے بھی بچے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں اس لیے سائنس کے ساتھ ساتھ لوک کہانیوں کی طرز پر بھی کہانیاں ہونی چاھیں ، فاؤنٹین ہاوس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضٰی نے بھی خطاب کیا انہوں نے اپنے والد کے نام سے سید مرتضٰی کیش ایوارڈ کا اجراء کیا ہے جو اس بار بھی دو لکھاریوں کو دیا گیا اخوت یونیورسٹی کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے اظہار خیال کیا اور اگلی کانفرنس اخوت یونیورسٹی میں کروانے کی پیش کش کی ان کو تسنیم جعفری صاحبہ نے ادیب نگر کی طرف سے لایف، ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا جبکہ ادیبوں کو ان کی کتب اور ادب اطفال کی خدمات پر تسنیم جعفری ایوارڈ ، مسلم ایوارڈ ، اور مسرت کلانچوی ایوارڈ دینے گئے ، کیش ایوارڈ ز حاصل کرنے والوں میں ڈاکٹر فوزیہ سعید ، تسنیم جعفری، شعیب مرزا ، نذیر انبالوی ،فہیم عالم شامل تھے,اور تسنیم جعفری کیش ایوارڈ اس بار پندرہ ادیبوں کو دیا گیا سب اس حوصلہ افزائی پر خوش تھے کانفرنس میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات میں فارسی کی سکالر عظمی زریں نازیہ ، نیڈل آرٹسٹ ساجدہ حنیف، اسسٹنٹ کمشنر ثناور اقبال، شمیم عارف ، امان اللہ نیر شوکت ڈاکٹر طارق ریاض، اعجاز گیلانی اور ملک بھر سے آئے ادیبوں نے شرکت کی

    فاؤنٹین ہاوس کی عمارت ہمیشہ اداس کر دیتی ہے یہاں داخل مریضوں کے شب وروز اپنوں کے بغیر نہ جانے کیسے گزرتے ہیں لیکن فاؤنٹین ہاوس کا عملہ ویل ٹرینڈ اور مہربان نظر آتا ہے عمارت میں صفائی ستھرائی اور ڈسپلن کا معیار بھی عمدہ ہے آخر میں فاؤنٹین ہاوس کے عملے کو بھی باری باری بلا کر ان کی خدمات کے بارے میں بتایا گیااور ان کا تعارف کروایا گیا اور شیلڈز دی گئیں ، اہل قلم کو فاؤنٹین ہاوس کا وزٹ بھی کروایا گیا مریضوں کو ان کے ہنر کے مطابق آرٹ ورک بھی کروایا جاتا ہے اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کو وہاں کام بھی مل جاتا ہے ، فاؤنٹین ہاوس کی انتظامیہ اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضٰی اور ڈاکٹر عائشہ عمران لائق تحسین ہیں کہ وہ اتنے بڑے ادارے کو بخیر وخوبی چلا رہے ہیں اور مریضوں کی سہولیات کے لیے دن رات کوشاں ہیں اللہ تعالٰی انہیں کامیاب کرے اور آسانیاں عطا فرمائے آمین

    کانفرنس کے شرکاء کو سرٹیفکیٹ ، شیلڈز اور ڈاکٹر امجد صاحب کی کتاب کا تحفہ دیا گیا ، سیشن میں وقفہ کے دوران پرتکلف چاے اور پھر لنچ سے تواضع کی گئی ، نارمل انسانوں کی دنیا الگ ہے ان کے مسائل الگ ہیں اور فاؤنٹین ہاوس میں داخل مریضوں کی دنیا بالکل الگ اور مسائل بھی بالکل الگ ہیں جہاں تک ہو سکے ان کی فلاح وبہبود کے کاموں میں تعاون کرنا چاہیے _

  • یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    یہ بازار ہے جناب! یہاں صرف اشیاء ہی نہیں، ضمیر بھی بکتے ہیں۔ بولیاں لگتی ہیں، سودے طے پاتے ہیں، اور سچائی کا نرخ مقرر کیا جاتا ہے۔ دیانت داری کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، اصولوں کو مصلحت کے ترازوں میں تولا جاتا ہے، اور وفاداری کی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں کبھی سچائی کو وقار حاصل تھا، انصاف کو برتری حاصل تھی، اور اصولوں پر سودے بازی کرنے والے معتوب گردانے جاتے تھے۔ مگر آج! آج ہر چیز کی قیمت ہے—حتیٰ کہ انسانیت کی بھی۔

    یہ ایک ایسا بازار ہے جہاں کردار پر قیمت چسپاں کی جاتی ہے، جہاں حقیقت کو جھوٹ کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے، اور جہاں ہر وہ شخص خسارے میں ہے جو اپنے ضمیر کو بیچنے سے انکار کر دے۔ وقت کے جبر کے سامنے سر جھکا دینا کامیابی کہلاتی ہے، اور اصولوں پر ڈٹ جانا حماقت۔ عدل کی کرسی پر وہی بیٹھتا ہے جو انصاف کو اپنے مفادات کے تابع کر لے، اور عزت کے تمغے اسے ملتے ہیں جو خودداری کے لباس کو اتار پھینکیں۔

    یہ ضمیر فروش کون ہیں؟

    یہ ہم سب ہیں، ہاں! ہم سب! کوئی خاموش رہ کر، کوئی ظلم سہہ کر، کوئی مصلحت کا لبادہ اوڑھ کر، اور کوئی دنیاوی فائدے کی خاطر سچائی سے نظریں چرا کر۔ فرق بس اتنا ہے کہ کسی کا ضمیر سونے چاندی میں تولا جاتا ہے اور کسی کا محض چند کھوکھلے وعدوں میں۔

    یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم نے سچائی کو خاموش کر دیا ہے؟ وہ جو حق پر ڈٹنے والے تھے، وہ بھی مصلحت کے قیدی بن چکے ہیں۔ وہ جو روشنی کے مینار تھے، آج وہی اندھیروں میں راستہ گم کر چکے ہیں۔ ہم سب کسی نہ کسی صورت میں اس گناہ میں شریک ہیں—یا تو اپنی بے عملی سے، یا پھر اپنی خاموشی سے۔

    کیا یہ سکوت ہمیشہ رہے گا؟

    یہ وقت جاگنے کا ہے! وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنی روحوں کو جھنجھوڑیں، اور اپنے ضمیروں کو آواز دیں۔ ہمیں وہ چراغ جلانے ہوں گے جو اندھیروں کو چیر کر روشنی کا پیام دیں، وہ مینار بننا ہوگا جو راہ گم کردہ مسافروں کے لیے دلیل بنے، اور وہ صدا بننا ہوگا جو باطل کے ایوانوں میں لرزش پیدا کر دے۔

    حضرت علیؓ کا فرمان ہے: "سب سے بڑا فقیر وہ ہے جس کا ضمیر مر چکا ہو۔”

    اگر ہم نے آج بھی اپنے ضمیر کو جگانے کی کوشش نہ کی، اگر ہم نے حق پر ڈٹنے کی جرأت نہ کی، تو یہ معاشرہ ایک ایسی لاش میں بدل جائے گا جس کی روح مر چکی ہوگی۔ آئیے! اس نیلام گھر میں اپنے ضمیر کو بکاؤ نہ ہونے دیں! اپنے اصولوں کو اس قدر مضبوط کر لیں کہ کوئی بھی طاقت ہمارے کردار کی قیمت لگانے کی جرأت نہ کر سکے۔ یہی اصل فلاح ہے، اور یہی وہ روشنی ہے جو ہمارے زوال پذیر معاشرے کو پھر سے بامِ عروج تک لے جا سکتی ہے۔