Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    کبھی الفاظ روشنی کے مینار ہوا کرتے تھے—حق و باطل کے درمیان لکیر کھینچنے والے، بیداری کی صدا، انقلاب کی نوید۔ مگر آج، یہ الفاظ اپنی روح کھو چکے ہیں۔ وہ جو کبھی ضمیر کو جھنجھوڑتے تھے، آج سنسنی خیزی اور تجارت کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ سچائی اور دانش کی جگہ مقبولیت اور وائرل ہونے کی صلاحیت نے لے لی ہے۔

    آج تقریریں گونجتی ہیں، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے ہیں، اور سیاسی بیانات شہ سرخیوں میں جگہ پاتے ہیں، مگر ان میں سے اکثر حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ جو الفاظ جتنے چکاچوند ہوں، وہی زیادہ مقبول ہوتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی کھوکھلے کیوں نہ ہوں۔

    کیا ہم سب ذمہ دار نہیں؟

    یہ سوال کسی فردِ واحد کے لیے نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

    جب ہم بغیر تصدیق کے خبریں آگے بڑھاتے ہیں، تو کیا ہم الفاظ کے ساتھ ناانصافی نہیں کر رہے؟

    جب ہم دلیل کی بجائے نعرے بازی اور تعصب کو فروغ دیتے ہیں، تو کیا الفاظ کا قتل نہیں کرتے؟

    جب ہم سننے اور سمجھنے کے بجائے صرف بولنے پر زور دیتے ہیں، تو کیا مکالمے کو دفن نہیں کر رہے؟

    ایک تحقیق کے مطابق، 70 فیصد لوگ بغیر تحقیق کے خبریں شیئر کر دیتے ہیں۔ مباحثے دلیل کی بجائے جذباتی ردِعمل پر مبنی ہوتے ہیں، اور اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہی رویہ الفاظ کو بے اثر اور بے قدر کر دیتا ہے۔

    تاریخی پس منظر

    الفاظ کے اثرات ہمیشہ سے واضح رہے ہیں۔

    امام غزالی نے اپنی تصانیف میں الفاظ کے ذریعے فکری انقلاب برپا کیا۔

    مارٹن لوتھر کنگ نے اپنی تقریروں کے ذریعے نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلائی۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی مدلل گفتگو اور الفاظ نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لیے یکجا کر دیا۔

    مگر آج، الفاظ کی وہ حرمت باقی نہیں رہی۔ جو چیز پہلے اصلاح کا ذریعہ تھی، اب صرف تفریح اور پروپیگنڈے کا آلہ بن چکی ہے۔

    نتائج اور خطرات

    اگر الفاظ اپنی طاقت اور اثر کھو دیں تو یہ صرف زبان و بیان کا نقصان نہیں، بلکہ یہ معاشرتی زوال کی علامت بن جاتا ہے۔

    ✅ جب الفاظ بے اثر ہو جائیں تو سچائی دب جاتی ہے اور جھوٹ غالب آ جاتا ہے۔
    ✅ جب الفاظ محض نعرے بن جائیں تو معاشرے میں فکری مفلسی پھیلتی ہے۔
    ✅ جب اختلاف کو دشمنی بنا دیا جائے تو علمی ترقی رک جاتی ہے۔

    مثال:

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات یا جعلی خبروں کے ذریعے پوری قوم کو گمراہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ 2016 کے امریکی انتخابات میں دیکھا گیا، جہاں جھوٹی خبروں نے رائے عامہ پر گہرا اثر ڈالا۔

    بھارت میں "WhatsApp لنچنگ” جیسے واقعات میں جعلی خبروں کی بنیاد پر لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    یہی رویہ ہمارے معاشرے میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ آج کا نوجوان کتابوں سے دور ہو چکا ہے۔ وہ تحقیق سے زیادہ سوشل میڈیا پوسٹس پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنی رائے بنانے سے پہلے گہرائی میں جانے کی زحمت نہیں کرتا۔ یہی رویہ سیاست، صحافت اور عام زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔

    حل کیا ہے؟

    اگر ہمیں الفاظ کو ان کی اصل طاقت واپس دلانی ہے، تو ہمیں چند بنیادی تبدیلیاں کرنی ہوں گی:

    ✔ سچائی کو معیار بنانا ہوگا، نہ کہ مقبولیت کو۔
    ✔ مطالعے اور تحقیق کی عادت ڈالنی ہوگی، تاکہ ہر لفظ حقیقت پر مبنی ہو۔
    ✔ بغیر تصدیق کے معلومات پھیلانے سے گریز کرنا ہوگا، تاکہ الفاظ جھوٹ کا شکار نہ ہوں۔
    ✔ جذباتی نعروں کے بجائے دلیل اور منطق کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ معاشرے میں شعور پیدا ہو۔
    ✔ مکالمے کی ثقافت کو زندہ کرنا ہوگا، تاکہ اختلاف دشمنی کے بجائے سیکھنے کا ذریعہ بنے۔

    مثال:

    فن لینڈ میں میڈیا لٹریسی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا تاکہ نوجوان جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کو سمجھ سکیں۔

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے ہمیشہ ذمہ دار الفاظ کا استعمال کیا اور بحران کے دوران سچائی کو ترجیح دی۔

    حدیثِ مبارکہ:

    رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پہنچا دے۔” (مسلم)

    یہ حدیث آج کے دور میں خاص طور پر قابلِ غور ہے، جہاں غیر مصدقہ اطلاعات کا سیلاب سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق ختم کر چکا ہے۔

    اختتامیہ

    اگر الفاظ بے توقیر ہو جائیں تو سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب معاشرے میں غور و فکر ختم ہو جائے، تو پھر صرف اندھی تقلید اور جذباتی اشتعال باقی رہ جاتا ہے۔

    "الفاظ کی عزت وہی معاشرے کر سکتے ہیں، جہاں سچائی اور علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔”

    اگر ہم الفاظ کی حرمت کو بحال نہیں کریں گے، تو ایک ایسا وقت آئے گا جب سچائی، حکمت اور دلیل صرف کتابوں میں رہ جائیں گے، مگر عملی زندگی سے غائب ہو جائیں گے۔

    سوچنا ہوگا، سمجھنا ہوگا، اور پھر بولنا ہوگا—تاکہ الفاظ پھر سے زندہ ہو سکیں اور ان کی تاثیر لوٹ آئے۔

  • اپووا وفد کا دورہ قصور،دفتر کا افتتاح،اک اعزاز،تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا وفد کا دورہ قصور،دفتر کا افتتاح،اک اعزاز،تحریر:طارق نوید سندھو

    گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیر اہتمام ایک خوبصورت اور بامقصد تقریب کا انعقاد لاہور میں ہوا، جس میں شرکت کا موقع ملا، اس تقریب کے دوران اپووا کے بانی و صدر محترم ایم ایم علی سے ملاقات ہوئی، جو نہایت شفیق اور ادب دوست شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ملاقات کے دوران انہیں قصور کے دورے کی دعوت دی گئی، جسے انہوں نے نہایت خوش دلی سے قبول کیا۔ وعدے کے مطابق وہ وفد کے ہمراہ قصور پہنچے۔

    قصور پہنچنے پر اپووا کے معزز وفد کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مقامی ہوٹل میں ایک پرتکلف ظہرانہ ترتیب دیا گیا تھا،وفد میں اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی کے ہمراہ حافظ محمد زاہد (سینئر نائب صدر)، سفیان علی فاروقی (نائب صدر)، اسلم سیال (نائب صدر میل ونگ) شامل تھے۔ وفد کے ہمراہ ایڈیٹر "باغی ٹی وی” ممتاز اعوان بھی اپنی فیملی سمیت موجود تھے۔استقبالیہ انتظامات میں مقامی صحافیوں عباس علی بھٹی، عابد علی بھٹی، چوہدری اکبر علی، اور مہر شوکت علی نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان تمام احباب کی جانب سے مہمانوں کے لیے محبت، خلوص اور ادب دوستی کا عملی مظاہرہ قابل ستائش تھا۔ظہرانے کے بعد اپووا کے وفد کو گنڈا سنگھ بارڈر لے جایا گیا جہاں پریڈ دیکھنے کا خصوصی پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ مقررہ وقت پر تمام شرکاء بارڈر پہنچے۔ بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جیسے ہی پریڈ کا آغاز ہوا، پاکستانی عوام کی جانب سے فلک شگاف نعرے گونجنے لگے:
    "اللہ اکبر”, "پاکستان زندہ باد”, اور "پاک فوج کو سلام”۔

    پاکستانی سائیڈ پر عوام کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ہر چہرے پر وطن سے محبت جھلک رہی تھی۔ جبکہ دوسری جانب یعنی بھارتی سائیڈ پر ماحول خاموش، سناٹے اور پژمردگی کا شکار نظر آیا۔ چند ہی بھارتی شہری وہاں موجود تھے، اور ان کے چہروں پر خوف، بے بسی اور مایوسی کے سائے نمایاں تھے۔یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پاکستان میں آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہو، اور بھارت کی جانب سے کیے گئے "آپریشن سندور” کا حال یہ ہوا کہ سارے بھارتی ہی "بیوہ” ہو گئے

    گنڈا سنگھ بارڈر سے واپسی پر قصور میں اپووا کے باقاعدہ دفتر کا افتتاح کیا گیا. یہ دفتر مستقبل میں ادیبوں، شاعروں، کہانی نویسوں اور لکھاریوں کے لیے ایک علمی و فکری پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اپووا کی جانب سے ادبی خدمات کی توسیع اور فروغ کے لیے یہ قدم نہایت اہم اور قابل تحسین ہے۔ قصور میں اپووا دفتر کا قیام یقینی طور پر اہل قلم کے لئے ایک سنگ میل ہے، جو ادب، ثقافت اور فکری سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔

    آخر میں ہم اپووا کی پوری ٹیم، بالخصوص بانی صدر ایم ایم علی اور ان کے رفقاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قصور جیسے تاریخی اور ادبی شہر کو اپنی موجودگی سے نوازا اور خدمت کا موقع دیا، امید ہے کہ اپووا کا یہ جذبہ خدمت مستقبل میں بھی علم و ادب کے فروغ کا ذریعہ بنے گا،اللہ کرے کہ اپووا کا یہ کارواں یوں ہی محبت، ادب اور علم کی شمعیں روشن کرتا رہے۔

    پاکستان زندہ باد

  • کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    کہانیاں صرف وہ نہیں ہوتیں جو قلم سے لکھی جاتی ہیں، اور نہ ہی وہ جو اشاعت کی زینت بنتی ہیں۔ کچھ کہانیاں خامشی کے دبیز پردوں میں لپٹی، وقت کے کانوں میں سرگوشی کرتی ہیں۔ یہ وہ داستانیں ہیں جو کبھی کسی کتاب کے صفحے پر نہیں آتیں، مگر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سانس لیتی ہیں۔ وہ جھروکوں سے جھانکتی ہیں، گلیوں کے گرد گھومتی ہیں، اور گواہی دیتی ہیں کہ انسان صرف جیتا نہیں، جھیلتا بھی ہے۔

    کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں سننے کے لیے کان نہیں، دل درکار ہوتا ہے۔ وہ ماں جو ہر روز مزدوری کے لیے نکلتی ہے، اور شام کو بچوں کے لیے ہنسی اوڑھ کر لوٹتی ہے — اُس کی زندگی ایک مکمل کہانی ہے، جو شاید کبھی لکھی نہ جائے۔ وہ بزرگ جو پنشن کے لیے قطار میں کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں، وہ بچہ جو سڑک پر کتابیں بیچتے ہوئے تعلیم کے خواب دیکھتا ہے، وہ نوجوان جو ہر در سے مایوسی لے کر بھی ہار نہیں مانتا — یہ سب کہانیاں ہیں، مگر ان کے لیے کوئی مصنف نہیں۔

    ادب کا اصل منصب یہی ہے کہ وہ اُن احساسات کو بھی جگہ دے جنہیں دنیا نظر انداز کر دیتی ہے، مگر بعض اوقات ادب بھی خاموش رہتا ہے، کیونکہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو بیان سے انکار کرتے ہیں، اور کچھ سچ ایسے جو سننے کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب "کہانی جو لکھی نہ گئی” وجود پاتی ہے — اور قاری کے دل میں کوئی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔

    ہم نے اکثر داستانوں کو انجام کی تلاش میں پڑھا، مگر یہ وہ کہانیاں ہیں جو انجام سے پہلے ہی بھلا دی گئیں۔ ان میں نہ کوئی ہیرو ہوتا ہے، نہ قافیہ، نہ منظرنامہ — فقط حقیقت ہوتی ہے، خالص اور بے رحم۔ وہ سچائی جو صرف نظر انداز کیے گئے لوگوں کے چہروں پر لکھی جاتی ہے، یا اُن آنکھوں میں جو سوال بن کر جمی رہتی ہیں۔

    یہ کالم اُنہی خاموش کہانیوں کی ایک پکار ہے — اُن لفظوں کی جو دل میں دب کر رہ گئے، اُن خوابوں کی جو بکھرنے سے پہلے پلکوں پر اترے ہی نہ تھے۔ یہ اُن لمحوں کی ترجمانی ہے جنہیں کبھی کسی نے لکھنے کے قابل نہ سمجھا، مگر وہ آج بھی ہمارے اردگرد سانس لیتے ہیں۔ وہ گلی کا نکڑ، وہ بند دروازہ، وہ خاموشی میں لپٹی کراہ — سب کچھ زبان بننے کو بےتاب ہے۔

    جب ایک دن یہ سب کہانیاں اپنے لکھنے والے پا لیں گی، تب ادب کا دامن بھی مکمل ہوگا۔ تب شاید کوئی مصنف کہے گا:
    "میں نے وہ کہانی لکھ دی جو لکھی نہ گئی تھی۔”

    ہر درد کے نام،
    ہر بے نام آواز کے احترام میں۔

    ای میل: jabbaraqsa2@gmail.com

  • مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین محترم ریاض احمد احسان ان چمکتے ہوئے ستاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے لاہور کی ادبی فضا کو نئی جہتیں دیں، اور فکر و فن کے متلاشیوں کے لیے ایک متحرک، فعال اور باوقار پلیٹ فارم فراہم کیا،ریاض احمد احسان صرف ایک شاعر یا ادیب نہیں، بلکہ ایک تحریکی روح ہیں، اُن کی شخصیت میں ایک ایسا جادو ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، بکھرے ذہنوں کو سمیٹتا ہے اور ادب کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ سماج، ملت اور قوم کے حقیقی مسائل سے جوڑ کر پیش کرتا ہے،وہ ملی جذبے سے سرشار، فکری بیداری کے سفیر اور ادبی وحدت کے پیامبر ہیں۔ اُن کا اندازِ گفتگو، اندازِ میزبانی، اور ہر تقریب میں ان کی متحرک شرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ادب کو ایک مشن سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں سجنے والی محافل میں نہ کوئی سیاسی تعصب ہوتا ہے، نہ ذاتی مفادات کی بو، بلکہ صرف اور صرف فکر، فن اور وطن کی خوشبو ہوتی ہے،

    محترم ریاض احمد احسان کی زیرِ قیادت قائم ہونے والی تنظیم ملی ادبی پنچائیت ایک ایسا ادبی قافلہ ہے جو صرف مشاعرے نہیں کراتا، بلکہ فکری مکالمے، قومی شعور، اور اجتماعی دانش کے فروغ کا ذریعہ بن چکا ہے، اس پلیٹ فارم کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر مکتبِ فکر، ہر نسل اور ہر طبقے کے اہلِ قلم کو خوش آمدید کہا جاتا ہے،ملی ادبی پنچائیت نے ادب کو محض شاعری کے رنگین لفظوں سے نکال کر اسے وطن، امن، حب الوطنی اور فکری آزادی کے دائرے میں رکھا ہے، یہ ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں شاعر صرف قافیہ نہیں دیکھتا بلکہ قوم کے کرب کو محسوس کرتا ہے، اور دانشور صرف تنقید نہیں کرتا بلکہ اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے،یہ ادارہ نہ صرف ثقافتی ورثے کی حفاظت کر رہا ہے، بلکہ نئی نسل کو ادبی شعور سے ہمکنار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ہر تقریب میں نظریاتی گہرائی، فکری وسعت اور قومی ذمہ داری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، جو اسے دیگر تنظیمات سے ممتاز بناتا ہے،ریاض احمد احسان ایک ایسے فکری اور روحانی اثاثے کا نام ہیں جس پر اہلِ لاہور ہی نہیں، پوری ادبی دنیا کو فخر ہونا چاہیے۔ وہ جہاں جاتے ہیں، ادب کے چراغ جلاتے ہیں، امن کے پیغام بانٹتے ہیں، اور اہلِ قلم کو وہ زبان دیتے ہیں جو صرف کتابی نہیں، عملی بھی ہو۔

    28 مئی 1998 کا دن پاکستانی قوم کے لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہے، جب ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان نے دنیا کو باور کروا دیا کہ یہ ملک دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے۔ اس تاریخی دن کی یاد میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) ہر سال تقریبات منعقد کرتی ہے، اور امسال بھی لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں یومِ تکبیر کی مناسبت سے کیک کاٹنے کی پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس یادگار تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے بھرپور شرکت کی۔ ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین اور لاہور کی علمی ادبی فضا کے روحِ رواں، محترم ریاض احمد احسان بھی اس تقریب کی رونق بنے۔ اُن کی موجودگی نے تقریب کو نہ صرف وقار بخشا بلکہ حالاتِ حاضرہ پر اُن سے ہونے والی گفتگو نے تقریب کو فکری گہرائی بھی عطا کی۔

    ریاض احمد احسان نے 29 مئی کو کاسموم پولیٹن کلب، لارنس گارڈن لاہور میں منعقد ہونے والی "امن و جنگ” مشاعرہ و مکالمہ کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی، جو ملی ادبی پنچائیت کی جانب سے منعقد کی جا رہی تھی۔ اگرچہ طے شدہ وقت پر پہنچنا ممکن نہ ہو سکا، تاہم تقریب میں دیر سے پہنچنے کے باوجود شرکت کی،تقریب میں ادیبوں، شاعروں اور قومی فکر رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مشاعرہ کے ساتھ ساتھ فکری مکالمے نے محفل کو مزید معنویت عطا کی۔ جہاں ہر فرد امن کی خواہش رکھتا تھا، وہیں اگر جنگ یا جارحیت مسلط کی جائے تو اس کے خلاف جواب نہ دینا بھی کمزوری گردانا گیا۔ خواجہ جمشید امام کے بقول، "اس پر خاموشی نامردانگی ہے”۔

    اس تقریب کی صدارت ملی ادبی پنچائیت سپریم کونسل کے چیئرمین، جناب رضوان کاہلوں نے کی۔ اس موقع پر معروف شاعر، ادیب اور دانشور میجر (ر) شہزاد نیئر کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ اُنہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں افواجِ پاکستان کی حکمت عملی، کارگل جنگ کے چشم دید تجربات اور آپریشن بنیان مرصوص سے متعلق دلچسپ اور معلوماتی گفتگو کی۔میجر (ر) شہزاد نیئر نے نہ صرف روایتی جنگ بلکہ جدید دور کی سائبر وار کی پیچیدگیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ اُن کا خطاب جذبۂ حب الوطنی سے لبریز تھا، جس نے حاضرین کے دلوں کو گرما دیا۔ اس ادبی اور فکری محفل میں گائیکی کے رنگ بھی شامل کیے گئے۔ معروف گائیک سکندر خاقان، مرزا جاوید اقبال بیگ، شہباز حیدر اور میڈیم ہما عمران نے ملی نغموں سے سامعین کے جذبوں کو بلند کیا۔ اپووا کے بانی چیئرمین ایم ایم علی نے اپنی خوبصورت شاعری سے محفل کو نورانی کر دیا۔

    محترم ریاض احمد احسان نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے تقریب کو عمدہ طریقے سے ترتیب دیا، اور اپنی موجودگی سے اسے جِلا بخشی۔ اُن کی متحرک شخصیت نے اہلِ لاہور کی علمی و ادبی پہچان کو مزید نمایاں کر دیا،تقریب کے اختتام پر پرتکلف عشائیہ اور چائے کا اہتمام تھا، جہاں اہلِ ذوق افراد نے باہم گفتگو کرتے ہوئے محفل کی خوبصورتی کو سراہا۔یومِ تکبیر کے موقع پر ہونے والی یہ تقریبات نہ صرف وطن سے محبت کے جذبے کو تازہ کرتی ہیں بلکہ اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ادبی ہم آہنگی اور فکری تبادلے کو فروغ دیتی ہیں۔ ریاض احمد احسان، رضوان کاہلوں، میجر شہزاد نیئر اور دیگر تمام احباب اس ادبی و قومی خدمت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

  • ادب کا روشن چراغ، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)

    ادب کا روشن چراغ، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)

    ادب ایک ایسا نور ہے جو دلوں کو منور کرتا ہے، سوچوں کو جلا بخشتا ہے اور معاشروں کو سنوارتا ہے۔ یہی ادب جب قلم سے قرطاس پر اُترتا ہے، تو تہذیبوں کی بنیاد بنتا ہے۔ اور جب لکھنے والے اپنی عزت، تحفظ، اور شناخت کے لیے اکٹھے ہوں تو وہ صرف تنظیم نہیں بناتے، وہ ایک فکری انقلاب کی بنیاد رکھتے ہیں۔آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) بھی ایسی ہی ایک روشن امید ہے ، جو اہلِ قلم کی خدمت، تحفظ، فلاح اور ترقی کے لیے معرضِ وجود میں آئی۔ اس کے بانی اور روحِ رواں، ایم ایم علی، اس قافلے کے وہ سالار ہیں جنہوں نے نہ صرف لکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم دیا بلکہ ادب کو ادارہ جاتی حیثیت عطا کی۔

    ایم ایم علی ، بانی صدر، اپووا
    ایم ایم علی کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ایک کہنہ مشق قلم کار، حساس دل رکھنے والے تخلیق کار اور باہمت تنظیم ساز ہیں۔ ان کی قیادت میں اپووا نے صرف تنظیمی بنیادیں نہیں رکھیں، بلکہ ایک نظریاتی پیغام دیا ہے”ادب زندہ ہے، جب تک اہلِ ادب باوقار ہیں!”

    وہ جن کی سوچ میں صداقت کا رنگ ہو
    جن کی قیادت میں قلم کو امنگ ہو
    وہی ہیں بانی اس کارواں کے، جن کا نام
    ایم ایم علی، جن پہ فخر کرے ہر سخن ور کا کلام

    ان کا وژن ہے کہ لکھاری، شاعر، ادیب، ناقد، افسانہ نگار، سب کو ایک ایسا ادارہ فراہم کیا جائے جہاں وہ نہ صرف اپنی تخلیقات کو فروغ دیں بلکہ اپنے حقوق کی پاسداری بھی یقینی بنائیں۔ اپووا کی بنیاد اسی وژن کی علامت ہے۔

    ملک یعقوب اعوان ، سینئر وائس چیئرمین،
    اپووا کی قیادت میں ایک اور معتبر نام ملک یعقوب اعوان کا ہے، جو تنظیم کے سینئر وائس چیئرمین ہیں۔ ان کی شخصیت سنجیدگی، تدبر، اور ادبی وفا کا پیکر ہے۔ وہ لکھاریوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں اور ادیبوں کی بہبود کو ایک مشن سمجھ کر سرانجام دے رہے ہیں۔

    یعقوب اعوان ہیں فکر و ادب کا امین
    جو لفظوں میں رکھے ہیں خلوص کے نگین
    ہو جس کے ساتھ، وفا کا پرچم بلند
    وہی تو ہے اپووا کا معتبر کندن

    ان کی خدمات تنظیم کے استحکام اور وسعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا ہر بیان، ہر قدم ادب کے احترام اور تخلیق کار کی عزت کے لیے اُٹھتا ہے۔

    سلمیٰ کشم،سینئر نائب صدرخواتین
    اردو ادب میں جب ہم نسائی شعور، جمالیاتی احساس، اور فکری بلندی کی بات کرتے ہیں تو چند نام فوراً ذہن میں ابھرتے ہیں، اور ان میں ایک ممتاز، تابناک نام سلمیٰ کشم کا ہے۔ وہ صرف ایک شاعرہ یا ادیبہ نہیں، وہ ایک مکمل فکری دنیا کا نام ہیں؛ ایک ایسا نکھرا ہوا قلم جو لفظوں کو فقط لکھتا نہیں، روح میں اتارتا ہے۔ان کا تعلق قصور کی سرزمین سے ہے ، وہی قصور جو بلھے شاہ کی دھرتی ہے، جہاں ہر سانس میں ادب کی خوشبو ہے، اور ہر گلی میں صوفیانہ جمال بکھرا ہوا ہے۔ اسی دھرتی کی بیٹی سلمیٰ کشم ادب کی اس روایت کی وارث ہیں۔

    قصور کی مٹی نے بخشا ہے ان کو رنگِ خیال
    ہر لفظ میں رس، ہر سوچ میں اجالا ہے کمال
    سلمیٰ ہیں وہ نام، جن کے حرفوں سے
    غزلیں مہکیں، نظمیں چمکیں، جذبے بولیں

    سلمیٰ کشم کے قلم کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی تخلیقات میں صرف جذبات نہیں، بلکہ گہرا مشاہدہ، زندگی کی جزئیات، کا نچوڑ بھی ملتا ہے۔ وہ اپنے اشعار میں سماج کی اُن پرتوں کو اجاگر کرتی ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں درد بھی ہے، امید بھی، سوال بھی اور جواب بھی۔ وہ اردو ادب میں خواتین کے نمائندہ چہروں میں سے ایک سمجھی جاتی ہیں۔سلمیٰ کشم نہ صرف ایک تخلیق کار ہیں بلکہ ایک فعال ادبی رہنما بھی ہیں۔ اپووا میں ان کا نائب صدر بننا اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ نہ صرف تخلیقی میدان میں ممتاز ہیں بلکہ تنظیمی، فلاحی اور فکری قیادت کی بھی اہل ہیں۔ وہ ان خواتین کی آواز ہیں جو لکھنا چاہتی ہیں، لیکن مواقع کی منتظر ہیں۔

    جن کے لہجے میں شائستگی، قلم میں سچائی
    جن کے خیال سے جاگے کئی دلوں کی بینائی
    وہ سلمیٰ کشم، جو رہنمائی کا چراغ ہیں
    اپووا کی زینت، نسائی ادب کی شفاف مثال ہیں

    قصور کی دھرتی نے جو گوہر ہمیں عطا کیے ہیں، سلمیٰ کشم اُن میں نمایاں ہیں۔ ان کی تخلیقات مقامی فضا میں جَڑی ضرور ہیں لیکن ان کے اثرات عالمی افق تک جاتے ہیں۔ سلمیٰ کشم ایک خیال کا نام ہے، ایسا خیال جو معاشرے کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتا ہے، جو صنفِ نازک کو باوقار انداز میں پیش کرتا ہے، جو ادب کو فقط کتابوں میں قید نہیں کرتا، بلکہ لوگوں کے دلوں میں اُتارتا ہے۔ان کی موجودگی اپووا جیسے ادارے کے لیے باعثِ فخر ہے، اور ان کی تخلیقات اردو ادب کے خزانے میں ایک قیمتی اضافہ ہیں۔اپووا میں ان کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ تنظیم خواتین اہلِ قلم کو بھی وہی عزت، وقار، اور نمائندگی دے رہی ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔

    کشیدہ ہر لفظ، ہر مصرع اُن کا جمال
    قلم سے نکلے تو ہو جائے حسنِ کمال
    وہ سلمیٰ کشم، جو احساس کی ترجمان
    ہیں اپووا میں روشنی کی پہچان

    آج کے دور میں، جب ادب کو محض مشغلے یا غیر اہم سرگرمی سمجھا جا رہا ہے، اپووا ایک ایسی تنظیم بن کر سامنے آئی ہے جو اہلِ قلم کی عزتِ نفس، ان کی فکری آزادی، اور تخلیقی حیثیت کو معاشرے میں اجاگر کر رہی ہے۔یہ صرف ایک ایسوسی ایشن نہیں بلکہ ایک ادبی انقلاب کی تمہید ہے ایسا انقلاب جو..
    ہر لکھاری کو ایک ادارہ جاتی پہچان دے
    شاعروں کی آواز کو پلیٹ فارم دے
    ادیبوں کی بہبود کے لیے عملی اقدامات کرے
    قومی و بین الاقوامی سطح پر اردو ادب کی نمائندگی کرے
    نئی نسل کے لکھاریوں کی تربیت، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرے

    اپووا کی قیادت، یعنی ایم ایم علی، ملک یعقوب اعوان، اور سلمیٰ کشم، نہ صرف تنظیمی ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں بلکہ ایک مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ مناصب کوئی عہدے نہیں، بلکہ ایک امانت ہیں جو قوم کے اہلِ قلم نے ان کے سپرد کی ہے۔

    قلم کے وارثوں کا یہ قافلہ چلے
    سچائی، روشنی، وفا کے گیت گائے
    اپووا ہو منزل، اتحاد ہو زادِ راہ
    ادب کی دنیا میں یہ چراغ جلائے

    دعا ہے کہ اپووا کا یہ کارواں بڑھتا رہے، پھلتا پھولتا رہے، اور اردو ادب کو وہ مقام دلوائے جس کا وہ ہمیشہ سے مستحق رہا ہے۔

  • اخوت کا سفر ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اخوت کا سفر ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    ،، اخوت کا سفر ،، ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کی بہترین کتاب ہے جو فاؤنٹین ہاوس کے سمینار ہال میں منعقدہ نویں اہل قلم کانفرنس کے موقع پر اہل قلم کو تحفتا پیش کی گئی ادبی چاشنی سے بھر پور یہ بہت معلوماتی کتاب ہے سر ورق پر لکھا ہے ،، قرض حسنہ کے سب سے بڑے پروگرام ،، اخوت ،، کی کہانی ،،

    اس کتاب میں نامور شخصیات مثلا مجیب الرحمٰن شامی ، شعیب بن عزیز ، ڈاکٹر سعادت سعید ، اور عطا الحق قاسمی کی آراء شامل ہیں، یہ محترم امجد صاحب کے پر خلوص سفر اور جدوجہد کی کہانی ہے دس ہزار کے قرض سے شروع ہونے والا سفر آج کامیابیوں سے ہمکنار ہے اخوت یونیورسٹی آج محترم امجد صاحب کی ذات کی طرح ہی امید کی کرن ہے روشنیوں کا مینارہ ہے

    ڈاکٹر امجد صاحب نے امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی کے لا اسکول میں ان کی دعوت پر خطاب کیا اور ہارورڈ کینڈی اسکول کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی اس کتاب میں اس کی رو داد موجود ہے ، امجد صاحب کے خلوص اور کامیابیوں کا سفر طویل اور جدوجہد سے بھر پور ہے ان کو ہزاروں خاندانوں کی دعائیں حاصل ہیں انشاءاللہ انہیں نوبل پرائز ملے گا جو نہ صرف ان کے کاز بلکہ پاکستان کے لیے اعزاز ہوگا –

  • قرۃالعین شعیب،اردو زبان و ادب کی ترویج میں پیش پیش، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    قرۃالعین شعیب،اردو زبان و ادب کی ترویج میں پیش پیش، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    قرۃالعین شعیب آرگنائزر نیشنل ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ ہیں اور ان کے شوہر شعیب منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز ہیں دونوں اپنی قومی زبان اردو سے محبت کرتے ہیں اور اس زبان و ادب کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں. قرۃالعین العین اردو ورثہ کے نام سے ویب سائٹ بھی چلا رہی ہیں گزشتہ ہفتے انہوں نے ایک میٹنگ رکھی تاکہ زبان و ادب کے حوالے سے اہل قلم سے مشاورت کی جائے اور ادب کی مختلف اصناف پر بات کی جائے اور اردو ورثہ کے لیے معیاری تخلیقات پر کام کیا جائے

    اس پروگرام میں کنول بہزاد ، فرح خان ، رابعہ نعمان ، دعا عظیمی ، ظفر ، سرفراز احمد ، راحت فاطمہ اور بصیرت نے شرکت کی بہت عمدہ گفتگو ہوئی شعر وادب علم عروض اور مختلف موضوعات پر سب نے اظہار خیال کیا تجاویز بھی دیں محفل میں شریک شاعر احتشام حسن صاحب نے اپنی نظم نوسٹلجیا بھی سنائی یہ نشست جوہر ٹاؤن میں کیپسن سی میں منعقد کی گئی، قرۃالعین العین اور ان کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات، اللہ تعالٰی کامیاب فرمائے آمین

  • ادب اور سیاست، فرق ضروری ہے،تحریر:نورفاطمہ

    ادب اور سیاست، فرق ضروری ہے،تحریر:نورفاطمہ

    ادب ایک لطیف اور روحانی فن ہے جو دلوں پر اثر کرتا ہے، احساسات کو جگاتا ہے اور انسانی ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔ ایک ادیب کا تعلق صرف کاغذ اور قلم سے نہیں بلکہ وہ معاشرے کے ضمیر کی آواز ہوتا ہے۔ ادیب اپنے مشاہدات، تجربات، درد، خوشی اور سچائی کو لفظوں کی صورت میں پیش کرتا ہے تاکہ سماج کو ایک بہتر سمت دی جا سکے۔مگر آج کل ایک افسوسناک رجحان سامنے آ رہا ہے کہ ادب کے نام پر تقاریب منعقد کر کے ادیبوں کو سیاسی جماعتوں کے پروگرامز میں بلایا جاتا ہے۔ ان تقریبات کا عنوان تو "ادبی ایوارڈز "کے نام پر رکھا جاتا ہے، مگر اصل مقصد سیاسی تشہیر، سیاسی شخصیات کی مدح سرائی یا مخصوص نظریات کی ترویج ہوتا ہے۔ ایسی محفلیں ادیبوں کے لیے باعث اذیت بن جاتی ہیں کیونکہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سیاسی رنگ میں رنگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں

    ادیب کا سب سے بڑا وصف اُس کی غیر جانبداری، غیر وابستگی اور فکری آزادی ہے۔ وہ کسی جماعت، مسلک یا مفاد سے بالا ہو کر انسانی اقدار اور سچائی کی بات کرتا ہے۔ وہ نہ کسی لیڈر کی خوشامد کرتا ہے اور نہ کسی سیاسی نعرے کی گونج میں اپنی آواز کھوتا ہے۔ ادیب کا ضمیر اُسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے قلم کو کرائے پر دے یا سچائی کو مصلحت کی نظر کرے۔جب ایسے ادیبوں کو زبردستی سیاسی پلیٹ فارم پر لا کر ادب کا نام استعمال کیا جاتا ہے تو یہ اُن کی شخصیت، وقار اور مقصدِ ادب کی توہین ہوتی ہے۔سیاست، اقتدار کی جنگ ہے۔ اس کا مقصد ہوتا ہے اقتدار کا حصول، اپنی جماعت یا لیڈر کی پروموشن، اور اکثر اوقات اس میں مصلحت، منافقت اور مفاد پرستی شامل ہو جاتی ہے۔ جب کہ ادب کا اصل مقصد شعور بیدار کرنا، فکر پیدا کرنا اور سچائی کو بے باکی سے بیان کرنا ہے۔ادب سیاست کا تابع نہیں ہو سکتا، کیونکہ جب ادب کو سیاست کے تابع کیا جائے تو وہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے اور ایک پروپیگنڈہ کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔

    سیاستدان وقت کے ساتھ بدلتا ہے، اُس کے بیانیے، وفاداریاں اور نظریات بھی حالات کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں۔ مگر ایک سچا ادیب اپنی فکر پر قائم رہتا ہے۔ اس کا قلم وقت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر سچ لکھتا ہے۔ اُسے کسی وزارت، اعزاز یا شہرت کی تمنا نہیں ہوتی، بلکہ وہ ضمیر کا قیدی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے کئی سیاستدانوں کو بھلا دیا، مگر ادیبوں کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔اگر کسی سیاسی جماعت کو واقعی ادب سے محبت ہے تو وہ ادب کو اس کے اصل مقام پر رہنے دے۔ ادبی شخصیات کو اس لیے مدعو نہ کیا جائے کہ وہ اسٹیج پر بیٹھ کر لیڈروں کی تعریف کریں، انکے حق میں تحریریں لکھیں ،سوشل میڈیا پر انکے لئے بیانیہ بنائیں بلکہ اُنہیں مکمل آزادی دی جائے کہ وہ سماج، سیاست اور اقتدار کے بارے میں جو چاہیں کہیں۔ادیبوں کو محض اس لیے بلا لینا کہ اُن کے نام سے تقریب کو معتبر بنایا جا سکے، یا اُن کی موجودگی سے سیاسی رنگ کو “ادبی” بنایا جا سکے، نہایت افسوسناک رویہ ہے۔

    ادب کو سیاست سے جدا رکھیے۔ اگر سیاستدانوں کو ادب سے سچی محبت ہے تو وہ ادیبوں کی فکر کو سنیں، اُن کی تنقید کو برداشت کریں اور اُن کے قلم کو آزاد رہنے دیں۔ ورنہ ادب کے نام پر ہونے والی سیاسی محفلیں نہ صرف ادیبوں کے لیے توہین آمیز ہیں بلکہ ادب کی روح کے بھی منافی ہیں،ادیب وہ نہیں جو سیاسی بینر تلے بیٹھ کر تقریریں کرے، ادیب وہ ہے جو بے خوف ہو کر سچ کہے ،چاہے وہ سچ اقتدار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

  • منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر :  راحین راجپوت

    منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر : راحین راجپوت

    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں ، اور یہی خوبی انہیں باقی تمام انسانوں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ ایک ایسی ہی شخصیت سعید خان المعروف اداکار رنگیلا کی بھی تھی جو اپنی لازوال اداکاری کے فن سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے اور آج رنگیلے کو ہم سے جدا ہوئے بیس سال گزر گئے لیکن وہ اپنی خودساختہ اداکادی کی وجہ سے رہتی دنیا تک ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
    سعید خان المعروف اداکار رنگیلا دنیائے شوبز کا وہ نام ہے جس کا نام لیتے ہی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے ، جنہوں نے اپنے منفرد انداز سے انڈسٹری کو ایک نئی جہت اور ایک نئی پہچان دی ۔

    24 مئی 2025 ء کو رنگیلے کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس سال مکمل ہو جائیں گے ، لیکن ہم چاہ کر بھی رنگیلے کی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لئے خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے ، کیونکہ ان لوگوں نے اپنے آپ سے بے نیاز ہو کر نہ صرف پاکستان فلم انڈسٹری کا نام روشن کیا بلکہ انڈسٹری پر اپنے عہد کی ایک گہری چھاپ چھوڑی ۔ ان کے ذکر کے بغیر پاکستانی فلمی تاریخ ہمیشہ ادھوری رہے گی ۔ انہوں نے چالیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا اور اپنی منفرد مزاحیہ اداکاری سے شائقین فلم کو محظوظ کیا ۔

    اداکار رنگیلا یکم جنوری 1937 ء کو ضلع ننگرہار ، افغانستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام محمد سعید خان تھا ، جبکہ انڈسٹری میں شہرت انہوں نے اپنے مزاحیہ نام رنگیلا سے حاصل کی ۔ذریعہ معاش کے سلسلے میں انہوں نے افغانستان سے ہجرت کرکے پشاور اور بعد میں لاہور کا رخ کیا ، جہاں شروع میں انہیں فلمی سائن بورڈ پینٹ کرنے پڑے ، لیکن بعد میں باضابطہ فلمی کیریئر کا آغاز 1958 ء میں فلم "جٹی” سے کیا ۔ اس فلم میں رنگیلا مزاحیہ اداکار کے طور پر سامنے آئے ۔ اس فلم کے ڈائریکٹر ایم جے رانا تھے اور جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو باکس آفس پر ہٹ ہو گئی ۔ اس فلم میں لوگوں نے رنگیلے کے کردار کو بہت پسند کیا ۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد اس نے فلموں میں بطور اداکار کام کرنے کی ٹھان لی ، یہی کامیابی بعد میں جنون کی کیفیت اختیار کر گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے رنگیلے نے اپنے آپ کو فلم انڈسٹری میں بطور فلم ساز ، ہدایت کار ، نغمہ نگار ، کہانی نویس اور موسیقار کی حیثیت سے متعارف کروایا ۔

    1969 ء میں رنگیلا نے اپنی پروڈکشن میں پہلی فلم ” دیا اور طوفان ” بنائی جس میں انہوں نے بحیثیت فلم ساز ، ہدایت کار ، نغمہ نگار اور مصنف کام کیا ۔ جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس نے رنگیلے کی شہرت و مقبولیت کو چار چاند لگا دئیے ۔ اس فلم میں رنگیلے نے اپنا لکھا ہوا گانا ” گا میرے منوا گاتا جا رے ، جانا ہے ہم کا دور ” بہت دردناک آواز میں گایا ۔ یہ گانا اسی فلم کے ہیرو اداکار اعجاز پر فلمایا گیا ۔اس کے بعد ” رنگیلا پروڈکشن "کے بینر تلے ایک سے بڑھ کر ایک فلمیں پروڈیوس کی گئیں جن میں ایک فلم "رنگیلا ” 11 ستمبر 1970 ء کو پاکستانی سینما کی زینت بنی جس میں رنگیلے نے ٹائٹل رول ادا کیا ، اس فلم کے نغمات اسٹریٹ ہٹ ثابت ہوئے ، اس فلم میں رنگیلے کے گائے ہوئے دو نغمے بھی شامل کئے گئے جو بہت مشہور ہوئے ، جن میں ایک نغمہ ” ہم نے جو دیکھے خواب سہانے ، آج ان کی تعبیر ملی ۔ ” اور دوسرا ” منور ظریف کے ساتھ ” چھیڑ کوئی سرگم ” یہ دونوں نغمے موسیقار کمال احمد نے لکھے ، اور اس فلم کی موسیقی بھی خود کمال احمد نے ترتیب دی ، اسی فلم کا ایک گانا تصور خانم کی آواز میں اداکارہ نشو بیگم پر پکچرائز کیا گیا ، ” وے سب توں سوہنیاں” نے اس فلم کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا ۔ الغرض یہ فلم منفرد انداز میں گولڈن جوبلی سے ہم کنار ہوئی ۔

    یکم اکتوبر 1971 ء میں ان کی ایک اور ہیٹ ٹرک فلم ” دل اور دنیا منظر عام پر آئی ۔ اس فلم نے بھی کراچی سرکٹ میں شاندار پلاٹینم جوبلی منائی ۔ اس کے علاوہ ان کی سپر ہٹ فلم ” انسان اور گدھا ” جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کی دیگر فلموں میں میری زندگی ہے نغمہ ، نوکر مالک ، سونا چاندی ، مس کولمبو ، باغی قیدی ، تین یکے تین چھکے ، آنسو بن گئے موتی ، جیسے جانتے نہیں ، امانت ، دو رنگیلے ، کبڑا عاشق ، عشق نچاوے گلی گلی ، ہمراز ، ہیرو ، انٹرنیشنل گوریلا ، عورت راج ، دو تصویریں ، دوستی ، گہرا داغ ، بازار حسن ، میڈم باوری ، رنگیلے جاسوس اور عبداللہ دی گریٹ ، میری محبت تیرے حوالے ، صبح کا تارا ، گنوار ، جہیز ، نمک حلال ، دو رنگیلے ، ایمان دار ، بے ایمان ، کاکا جی ، راجا رانی ، امراؤ جان ادا ، پردہ نہ اٹھاؤ ، صاحب بہادر اور فلم قلی شامل ہیں ۔ رنگیلے کو بہترین سکرین پلے رائٹر ، کامیڈین ، مصنف اور بہترین ڈائریکٹر کی حیثیت سے نو مرتبہ نگار ایوارڈ سے نوازا گیا ۔

    رنگیلا پروڈکشن کے بینر تلے جتنی فلمیں بھی تخلیق کی گئیں وہ سب کی سب ہی لازوال اور اپنے عہد کی شاہکار فلمیں ثابت ہوئیں ۔ پردہ سکرین پر رنگیلے کی آمد فلم بینوں میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھی ۔ رنگیلے نے فلموں میں کامیڈین سے لے کر ہیرو تک کا سفر انتھک محنت اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر طے کیا ، یہاں تک کہ رنگیلے کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا ۔ رنگیلے کے پاس ہر ڈائریکٹر ، پروڈیوسر کی لائن لگی ہوتی کہ وہ ہماری فلم میں کام کرے ۔ رنگیلے نے اپنی محنت اور ذہانت سے فلم انڈسٹری میں اپنا الگ مقام بنایا ۔ انہوں نے اپنے عہد کی تقریباً تمام ہیروئن کے ساتھ کام کیا ۔

    اداکار رنگیلے کی آواز بھارتی گلوکار مکیش سے ملتی تھی ۔ جب مکیش کا انتقال ہوا تو بھارت نے رنگیلے کو بطور گلوکار کام کرنے کی پیشکش کی ، لیکن مصروفیت کے باعث اس نے بھارت میں کام کرنے سے انکار کردیا ۔
    رنگیلے نے تین شادیاں کیں ۔ چالیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے اس عظیم اداکار کو زندگی کے آخری ایام میں گردوں ، جگر اور پھیپھڑوں کے مسائل نے آ گھیرا ، جس کے علاج کے لئے اسے کئی کئی مہینے ہسپتال میں گزارنے پڑے ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں امداد کی پیشکش ہوئی تو اس نے اسے ٹھکرا دیا ۔ وفات سے پہلے اداکارہ نشو بیگم نے اپنے اور رنگیلے پر فلمایا گیا گانا ” وے سب توں سوہنیاں ” رنگیلے کے پاس بیٹھ کر اتنی دردناک آواز میں گایا کہ پاس بیٹھے سب لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔ سب لوگ رنگیلے کی زندگی اور صحت کے لئے دعائیں مانگنے لگے لیکن افق کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ ان موذی امراض کا مقابلہ کرتے کرتے بالآخر 24 مئی 2005 ء کو لاہور میں 68 سال کی عمر میں اس ابدی سفر پر روانہ ہو گیا جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا ۔ ان للہ وان الیہ راجعون ۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم اداکار رنگیلا کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ۔

  • تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ، دن تےگن میں مرجانا ای ،اور وہ چلا گیا ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ، دن تےگن میں مرجانا ای ،اور وہ چلا گیا ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ ، ہجر دا شاعر آپ ہجر ہو گیا۔۔ساہواں وچ وسدا تجمل کلیم زمین دے سپرد ہوگیا۔۔۔۔
    برصغیر پاک و ہند کے معروف پنجابی شاعر ، پنجابی شاعری کی کتابوں کے مصنف، استادوں کے استاد عظیم شاعر "تجمل کلیم صاحب ” اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں۔ ( انا للہ وانا الیہ راجعون ) ان کا تعلق بابا بلھے شاہ کے شہر قصور سے اوران کی رہائش چونیاں میں ہے،،
    پنجاب کی زرخیز دھرتی ایک اور خوش نوا شاعر سے محروم ہوگئی۔ ثجمل کلیم آج خاموشی سے، مگر گہرے اثرات چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات نہ صرف پنجابی ادب کے لیے سانحہ ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی صدمہ ہے جنہوں نے زندگی کو ان کے اشعار میں جیتا، محبت کو ان کے لفظوں میں محسوس کیا اور درد کو ان کے اشعار سے جانا۔
    دن تے گن میں مر جانا ای
    تیرے بن میں مر جانا ای
    میں گُڈی دے کاغذ ورگا
    توں کن من میں مر جانا ای
    جیہڑے دن توں کنڈ کرنی اے
    اوسے دن میں مر جانا ای
    ۰میرے قد نوں تول ریہا ایں
    تول نہ، من میں مر جانا ای
    ثجمل کلیم ان شعرا میں شامل تھے جو لفظوں کو صرف جوڑتے نہیں تھے، ان میں روح پھونکتے تھے۔ ان کا کلام ایک ایسے مسافر کا کلام تھا جو زندگی کے ہر موڑ پر لمحوں کو لفظوں میں قید کرتا چلا گیا۔ وہ نہ صرف محبت کے شاعر تھے، بلکہ دکھ، جدائی، سماجی ناہمواری اور فطری حسن کو بھی انہی جذبوں سے بیان کرتے تھے۔
    ان کے چند اور اشعار دل کی گہرائیوں کو چھو لیتے ہیں:
    ساہ وی تیری یاد وچ لبدا اے،
    سُکھ وی تیرے ہجر دا درد لگدا اے۔
    ساہواں نوں وی لگدا اے تیری خوشبو دا رنگ،
    ایہہ کیہڑی جا چپ وچوں بولیا تُوں؟
    ثجمل کلیم کی شاعری کا سب سے بڑا کمال ان کی سادگی تھی۔ وہ غیر ضروری لفظوں کے شور سے بچتے اور سیدھے دل پر وار کرتے تھے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں خالص دیہی لہجہ، مادری زبان کی مٹھاس، اور پنجاب کی ثقافت کی خوشبو صاف محسوس ہوتی تھی۔
    مرن توں ڈردے او بادشاہو
    مرن توں ڈردے او بادشاہو
    کمال کردے او بادشاہو
    کسے نوں مارن دا سوچدے او
    کسے تے مردے او بادشاہو
    تُسی نا پاؤ دِلاں تے لَوٹی
    تُسی تے سَر دے ہو بادشاہو
    اے میں کھڈاری کمال دا ہاں
    کہ آپ ہَر دے او بادشاہو
    وہ ان معدودے چند شعرا میں سے تھے جو پنجابی زبان کو عزت دلواتے رہے، اسے جدید پیرائے میں ڈھالتے رہے اور نئی نسل کو اس زبان کی خوبصورتی سے روشناس کراتے رہے۔
    مکھ ٹیرے تے میں نئیں مرنا
    ہن تیرے تے میں نئیں مرنا
    آپ تے صدقے ہو سکناں میں
    اوہ گھیرے تے میں نئیں مرنا
    اکو واری کُھو لے بیبا
    ہر پھیرے تے میں نئیں مرنا
    اے سجناں د ڈیرہ نئیں تے
    اس ڈیرے تے میں نئیں مرنا
    لعنت اینج دیاں اکھاں اتے
    جے میرے تے میں نئین مرنا
    ثجمل کلیم کی وفات پر دل سے نکلا ایک سوال ہر عاشقِ ادب کی آنکھ میں نمی بن کر ٹھہرا ہے:
    “ہن کون لکھے گا اس درد نوں جیہڑا صرف کلیم سمجھدا سی؟”
    پتھر اُتے لیک ساں میں وی
    ایتھوں تک تے ٹھیک ساں میں وی
    آدم تک تے سبھ نوں دسنا
    خورے کتھوں تیک ساں میں وی
    حرمل جس دم تیر چلایا
    چیکاں وچ اک چیک ساں میں وی
    اوہنے گل سوئی ول موڑی
    نکیوں ڈھیر بریک ساں میں وی
    عمرے! مینوں رول رہی ایں
    تینوں نال دھریک ساں میں وی
    ادبی محفلوں میں ثجمل کلیم کا آنا جیسے بہار کی آمد ہوا کرتا تھا۔ وہ جب کلام سناتے تو محفل سانس روک لیتی، سامعین دم بخود رہ جاتے، اور پھر واہ واہ کے شور میں ان کے اشعار فضا میں پرواز کرتے۔ وہ شاعر نہیں، ایک تجربہ تھے۔ ان کا انداز، لب و لہجہ، اور الفاظ کا چناؤ انہیں الگ اور منفرد بناتا تھا۔
    ان کی ایک نظم جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی:
    میری مٹی دی خوشبو وچ تُوں وسدا ایں،
    ساہواں وچ گھل گھل کے تُوں رسدا ایں،
    تیرے ہون دی خوشبو اے کسے ویلے،
    مینوں ہر پل، ہر وار تے لبدا ایں۔
    یہ اشعار صرف نظم نہیں، وہ جذبات ہیں جنہیں کلیم نے اپنے قلم سے زندگی دی۔ ان کا درد، ان کی چاہت، ان کی یادیں، اب صرف کتابوں کے صفحوں پر نہیں، ہمارے دلوں میں محفوظ ہو چکی ہیں۔
    صلہ پیار دا ویریا قہر تے نئیں
    تینوں دل ای دتا اے زہر تے نئیں
    ہر بندے دے ہتھ اے اٹ روڑا
    ایہہ شہر وی تیراای شہر تے نئیں
    ساہواں نال ای جاوے گا غم تیرا
    کنج سُکے گی اکھ اے نہر تے نئیں
    یار ہس کے لنگھےنے غیر وانگوں
    میرے لیکھ دا پچھلا پہر تے نئیں
    ہتھیں سینکھیا دتا ای نفرتاں دا
    ہن کدی جے کہویں وی ٹھہر، تے نئیں
    ثجمل کلیم کی وفات کا دکھ صرف ذاتی نہیں، یہ ایک اجتماعی صدمہ ہے۔ وہ شاعری کے اس قبیلے کے آخری نمائندوں میں سے تھے جو لفظوں کو عبادت سمجھتے تھے، شاعری کو مشن جانتے تھے اور معاشرے کے ہر درد کو اپنی ذات میں سمو کر صفحۂ قرطاس پر اتار دیتے تھے۔
    دُنیا بند پٹاری وانگر
    کھولے کون مداری وانگر
    ساہ جُثے دا سچا رشتہ
    کھوٹا ساڈی یاری وانگر
    دُکھاں ڈاہڈا چسکا دتا
    قسمے چیز کراری وانگر
    اکھ راتاں نوں کُھلی رہندی
    اُس بازار دی باری وانگر
    اک ہیرے نوں کہندا رہناں
    کٹ کلیجا آری وانگر
    ہم ان کے جانے پر افسوس تو کرتے ہیں، لیکن فخر بھی ہے کہ ہم ان کے دور میں جیے، ان کا کلام سنا، اور ان سے محبت کی۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، کیونکہ شاعر مرتے نہیں، وہ صرف لمحہ بھر کو خاموش ہوتے ہیں۔ ان کی آواز، ان کے لفظ، ان کا جذبہ ہمیشہ ہم سے بات کرتا رہے گا۔
    ان کے آخری مجموعۂ کلام کا ایک اقتباس گویا ان کی زندگی کا نچوڑ ہے:
    ساہ وچ رہیا، خواب وچ وسیا،
    ساہ وچ وس کے ہونڑ جدائیاں دے رستے تے تُوں چلیا۔
    یہی ثجمل کلیم کا فکری قد تھا۔ وہ محبت کو ہمیشہ کے لیے لفظوں میں قید کر گئے۔ ان کی شاعری آئندہ نسلوں کے لیے چراغ راہ رہے گی۔
    دل دا شیشہ صاف تے نئیں نا
    توں فِر کیتا معاف تے نئیں نا
    توں کیوں ہجر سزاواں دیویں
    تیرے ہتھ انصاف تے نئیں نا
    پریاں ہر اک تھاں ہندیاں نیں
    ٹوبے وچ کوہ قاف تے نئیں نا
    میرے لیڑے رت بھرے نیں
    تیرے ہتھ وی صاف تے نئیں نا
    کٹھیاں جین دی عادت پا کے
    وکھ ہونا انصاف تے نئیں نا
    آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کے اشعار زندہ ہیں، ان کی خوشبو باقی ہے، ان کی یادیں امر ہو چکی ہیں۔
    کیہڑا ہتھ نہیں جردا میں
    کیہڑی ساہ نہیں مردا میں
    ہسن والی گلّ تے وی
    ہسّ نہیں سکیا ڈردا میں
    قسمت لُٹن آئی سی
    کردا تے کیہ کردا میں
    سارے بھانڈے خالی نیں
    ہوکا وی نہیں بھردا میں
    خود مریا واں تیرے تے
    تیتھوں نہیں ساں مردا میں
    المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بڑے زرخیز دماغوں نے کسمپرسی کی حالت میں سرکاری ہسپتالوں کے بیڈ پر ہی دم توڑا ہے ۔ تجمل کلیم مرحوم کے لیے دعا مغفرت کیجیے گا۔ہماری دعا ہے ربِ کریم انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لفظوں کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین