Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں

    آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں

    آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں
    قلم و کتاب کی زبان سے ادب کی دعوت
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    تحریر کی نبض پر ہاتھ رکھ کے قلم کے مزاج کا پتا لگانا حقیقی لکھاری و قاری طبیب کا ہی خاصہ ہے جو دل و دماغ کی سواری پہ کتابوں کے جہانوں کے سفر پہ نکلے ہیں اور اپنے احساسات و محسوسات کی الہامی کیفیت سے شفا بخش ادبی بوٹیوں کی کھوج لگاتے ہیں، پھر اسے اپنے قلم کے حمام دستے میں پیس کر عام ذہنوں کے معدے تک پہنچاتے ہیں تو شعور کی بینائی بڑھنے لگتی ہے۔ خداداد صلاحیتوں کے ہنر سے لکھی تحریریں قارئین کے ذہنوں کو مسحور کرتی ہیں۔ قدرت کے جس جہان کی لکھاری سیر کرکے اسے اپنی تحریر کے اسلوب سے لطف اندوز بناتا ہے اُسے پڑھنے والے قاری کو لگنے لگتا ہے کہ وہ اُس دور اور جہان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ سحر نگار قلم کی لکھی کسی کتاب کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوتی۔ ذوق و شوق سے لبریز شغف قارئین ہی قلم کے نئے زاویے میں پوشیدہ منظروں کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ علم و شعور کی زمین لکھاری و قاری جیسے پھولوں سے سدا آباد رہتی ہے جس کی مہک نے ان گنت خوش نصیبوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔

    ادب کی مٹی میں قلم کا بیج نئی اور تازہ تحریروں کے پھل اُگاتے رہتے ہیں۔ سخن کے وطن میں پل کر پروان چڑھنے والے، اپنے سے پہلے دور میں جینے والے لکھاریوں سے ان کی کتاب و تحریر کے ذریعے ملاقاتیں کرتے ہیں جس سے لکھاری ذہن تربیت پاتے ہیں تاکہ اُن کی نشاندہی کرتے راستوں پہ سفر کرتے مطالعے کی مدد سے نئی منظر کشی کو تحریری وجود میں لایا جا سکے۔ قدرت کی خوبصورتیاں بیج کی طرح اپنے اندر اتنے وسیع درخت رکھتی ہیں جس کا ہر پتہ، ہر شاخ ان گنت معنی و منظر رکھتا ہے جیسے گنتی سے باہر ہوا کے جھونکے ہوتے ہیں۔ جب منظروں کی بوندیں ذہن کی پیاسی زمین پر ٹپک رہی ہوں تو بہار کی سیاہی سے قلم کو رنگین تذکرہ نگاری میں مدہوش کر دیجیے۔ یہ لطف اندوز لمحے اپنے وجود کی گرفت میں بھر کر محفوظ کر لیں تاکہ آپ کی تنہائی نایاب احساسات و محسوسات سے سجی رہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اپنے آپ میں اک محفل لیے جیتے ہیں۔

    یہ اعزاز لکھاری یا قاری کو ہی حاصل ہوتا ہے کہ ایک زندگی میں کئی زندگیوں کو جی رہا ہوتا ہے۔ کتابوں کی انگلی پکڑ کر تحریروں کے قدم سے اپنے شعور کے قدم ملا کر چلنے والوں کو ہی ایک انمول ہمسفر کا احساس ملتا ہے۔ آپ ادب کے ساتھ زندہ رہتے ہیں تو مبارک ہو، ادب اپنے زندہ رہنے کے لیے آپ کو چن چکا ہے۔ یہ سچائی و آگاہی کے کوہِ طور کا سرمہ آنکھوں میں لگا کر ہر جانب خدا کو دیکھنے اور دکھانے لگتے ہیں۔ یہ منفرد و نایاب لوگ اپنے چراغوں جیسے ذہنوں میں ادب کی روشنی لیے ویرانوں میں بیٹھے ہیں۔ انہیں ذہنی تصادم زدہ ہجوم کے اندھیروں میں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کی قدردانی ہی ان کے جلتے رہنے کا تیل ہے۔ ادب ان کے ذریعے اپنے نت نئے رنگوں کی تبلیغ کرواتا ہے جو شرف والوں کے حصے میں آتی ہے۔

    جہاں شعور کی کایا پلٹنے والی تحریریں قبولیت کے ہاتھ اُٹھائے بیٹھی ہیں، وہاں ادب کے طالب علم بھی شوق کے دامن پھیلائے بیٹھے ہیں۔ یہ کیفیت دل و دماغ کی زمینوں پر بسیرا کرکے اپنے عطر سے انسانیت کے گلشن کو معطر رکھتی ہے۔ قابلِ تعریف ہیں وہ عقلیں جو لفظوں کے چہروں سے پردے ہٹا کر معنی کے اصلی جوہر تک پہنچ جاتی ہیں اور اپنی آنکھوں کو وضاحتوں کا سرمہ لگا کر حقیقتوں کے دلکش نظارے کرواتی ہیں۔ اس نتیجے سے دوچار کرنے والی تحریروں کے لکھاریوں کے دل کی شگفتگی کا سرور انہیں ایسا مدہوش کرتا ہے جس کی ترجمانی وہ خود بھی قلم کی زبان پر نہیں لا پاتے۔ یہ قدرت کی خاموش تحسین کے انعام میں رہتے ہیں۔

    زندگی کو آنکھ بھر کر سب دیکھنا چاہتے ہیں، مگر یہاں غیر معیاری حالات و معاملات زندگی کے رنگوں پر اپنی چادر ڈال کر میت کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ جہاں مصنوعی دُکھ ایجاد ہو جائیں، وہاں انسان غیر ضروری اُداس رہنے لگتے ہیں۔ پتھر کی عمارتوں میں سکون چاہنے والے جلتے جسموں کو کوئی بتا دے کہ چاندنی رات کے ستاروں کی چھاؤں میں خیمے لگا کر روح کی ٹھنڈک کا مزہ مفت میں لیا جا سکتا ہے۔ قدرت نے اپنی مہنگی تخلیق اپنے انسانوں کے لیے مفت میں رکھی ہے۔ انسانی وجود کی بڑی قیمت ہے۔ اس مٹی کے کوزے میں نور کا چراغ جلتا ہے، اُس کوزے کو بے قیمت نہ جانیں جس میں قدرت نے اپنا نور محفوظ کر رکھا ہے۔ انسانی دل خدا کا تخت ہے، جس کے تختِ دل پر خدا بیٹھا ہو، وہاں زندگی ہاتھ جوڑے کھڑی رہتی ہے کہ زندگی سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ ہر جینے والے کو ادب اسی مقام پر لانا چاہتا ہے کہ بے مقصد سفروں پر خود کو تھکانے والوں کو درست سمت دی جا سکے اور بکھرے ہوئے انسانوں کو سمیٹ کر انہیں ہی واپس لوٹا دیا جائے۔ یہ حوصلہ ادب ہی پیدا کر سکتا ہے کہ آپ کسی کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر کہیں کہ دیکھو تمہارا قد تو مجھ سے بھی بڑا ہو گیا ہے۔ اچھا پڑھنے سننے کی صلاحیت کو اتنا پکائیں کہ آپ کی گفتگو سحر طاری کرنے لگے اور لوگوں کو دنیا کے پیچیدہ راستوں پہ چلنے کا ہنر حاصل ہو جائے۔ اپنے بعد آنے والوں کے لیے راہ کے کانٹے ہٹانے کا ذریعہ بن کر آسانیوں، بھلائیوں، بہتریوں کے اسباب چھوڑ کر ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے ٹھہرے رہیں۔

    جب دنیاوی مفاد کی حکمتِ عملی میں لوگ سیاست کی ہتھیلیوں سے فائدہ اُٹھانے کے لیے صاحبِ اختیار کے پاؤں پکڑنے کو تیار ہو جائیں، تب ادب کمزوروں کے ہاتھ پکڑنے والوں کو دلوں کا تخت پیش کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔ بے فیض سیاست کی نوک سے زندگی کے بخیے اُدھیڑنے والے ہر دور میں ادب انسانیت میں محبت کے ٹانکے لگاتا رہتا ہے اور اپنے چاہنے والوں کو یہ ہنر سکھاتا ہے کہ وہ کڑواہٹ پی کر مٹھاس کیسے بانٹ سکتے ہیں۔ دراصل قدرت کی تخلیق، احساسات، محسوسات، جذبات کی حسین عکاسی سے انسانی ذہنوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر جینے کے حقیقی لطف سے ہمکنار کروانے میں قلم کا ہاتھ ہے، اور عزت، محبت، نام اُس کا بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے۔ جس طرح خواب بند آنکھوں سے اگلے پچھلے دور کی سیر کرواتے ہیں، اسی طرح کتاب کو یہ خاصیت حاصل ہے کہ یہ کھلی آنکھوں سے سیر کرواتی ہے۔ خدا کی طرف سے آنے والا ہر اچھا خیال سپردِ قلم کر دو کہ یہ وہ امانت ہے جو بے خبروں تک پہنچانی تمہارا فرض ہے۔

    انگریزی لالٹینوں کی روشنی دماغوں میں بھرنے والوں سے معاشرے کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے ہیں۔ ایسے میں مادری و قومی زبان کے سورج کو طلوع کرنے کے لیے ادب کے فروغ کو عام کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ایک ہی معاشرے میں زندگی بسر کرنے والوں کے مسائل بھی ایک ہی جیسے ہیں، اس کے لیے انفرادی طور پر پریشان رہنے کی بجائے اجتماعی طاقت سے خوشحالی لانے کے لیے ادب سے بہتر طاقت اور کہیں سے پیدا نہیں ہو سکتی۔ فرقہ و جماعت پرستی کے اس تقسیم شدہ معاشرے کو جوڑنے کے لیے اسلام کی بات ادب کی زبان سے کی جائے تو ہر کان خوشی سے قبول کر لے گا۔ کون سی بات کب، کہاں اور کیسے کہی جانی ہے، یہ سلیقہ اگر آ جائے تو ہر بات سنی جاتی ہے۔ اسی سلیقے کو سکھانے کے لیے ادب کی درسگاہوں کا قیام بہت ضروری ہے جہاں کتابوں کے حصار میں نئی سوچیں پروان چڑھیں۔ وہ لوگ جو انقلابِ زمانہ سے دل شکستہ ہو کر تصنیف کے راستے سے بھٹک گئے ہیں، ان کے اندر اعتماد و حوصلے بھرنے کے لیے سامعین اور اسٹیج کا ماحول مہیا کیا جائے۔

    دل کا درد لفظ و لہجے میں اتار کر کانوں میں انڈیل دیجئے، تحریک جنم لے لے گی۔ اس طرح لکھیں کہ لوگوں کی بولتی چالتی، چلتی پھرتی زندگیوں کی تصویریں سامنے آن کھڑی ہوں اور وہ اپنے عیب آپ دیکھ کر خود ہی اصلاح کر لیں۔

    برج بھاشا سے نکلی آٹھ سو سال سے زائد عمر کی یہ اردو زبان کتنے ذہن اور کتنے زمانے دیکھتی آ رہی ہے۔ اس کے پاس کیا کیا داستانیں، حالات و واقعات ہیں، انہیں بیان کرنے کے لیے اسے تذکرہ نگاروں کی ضرورت ہے جو گزرے اور آنے والے وقت کے عکس موجودہ دور میں دکھانے کی خاصیت رکھتے ہوں۔ آپس میں ہی ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے والے ذہنی غربت میں مبتلا معاشرے کے پتھر دلوں کو کھود کر حسنِ سلوک کے ہیرے، موتی، جواہرات نکالنے کے لیے ادب نے آسان طریقے بتا دیے ہیں۔ ادب کی ہر کتاب و تحریر وہ گٹھلی ہے جو روح میں مٹھاس بھرنے والے لذیذ میوے کی خبر دیتی ہے۔

    ادب روح پر پڑے بدبودار غرور و تکبر کے لباس اتروا کر فقیری و درویشی کے خوشبودار ٹاٹ پہناتا ہے۔ جہاں جہالت انسانی ذہن کو اپنی ہی ذات کی قید میں جکڑے رکھتی ہے، وہاں ادب شعور کی رہائی لے کر ضمیر کے جج کے سامنے ہر وقت حاضر رہتا ہے۔ ادب وہ زبانِ الٰہی ہے جسے بولنے والوں نے انسانیت کی معراج پائی۔ اسی لیے ہر اچھی بات کو صدقے کا مقام حاصل ہے۔ ادب کی پاکیزہ زبان، گفتگو کی مہک سے معاشرے کے ذہنوں کو معطر کرتی ہے۔ اسی لیے ہر انسان کی قیمت کو اس کی زبان تلے رکھ دیا گیا ہے۔ گنہگار سے گنہگار لوگوں نے بھی اپنی باتوں کو ادب کا آبِ حیات پلا کر اپنے بعد بھی اپنے تذکرے چھوڑ دیے۔ کسی کی بات کو اپنی بات بنا کر پیش کرنا غیر معمولی مقام تو نہیں ہے، انبیاء اکرام نے جس طرح آسمانی علوم پر مذہب کے چوکیدار بن کر اپنے عمل کے ذریعے ملاوٹ سے پاک رکھ کر آنے والی نسلوں کو سونپا، اس سے وہ انسانیت کے جہان میں ہمیشہ کے لیے باقی رہ گئے۔

    پھر جس طرح فقیری درویشی مزاج کے لکھاریوں نے آسمانی علوم کو زمین پر اس طرح بکھیرا کہ ہر مذہب کا انسان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ انسانیت کو جوڑنے کے لیے ادب کا یہ کرشمہ کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ اسی لیے اسلام کے ترجمانوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے تاکہ تم حق سے متفق رہنے والوں میں شمار رہو۔ ادب آتش بیانی کی مخالفت کرکے اپنی بات دھیمے اور شیریں لہجے میں دلیل کی پلیٹ میں رکھ کر اس طرح پیش کرتا ہے کہ سننے والا تمہارا ہو جائے۔ خدا کی قدرت کہوں یا معاشرے کے حسن کی ذمہ داری نہ لینے والوں کی کمزوری، کہ یہاں جو لونڈی ہے وہ رانی بن بیٹھی ہے اور رانی منہ چھپائے کونے میں بیٹھی ہے۔ زبان کا اثر زبان پر دوڑنا شروع ہو جائے گا۔ آپ اپنی زبان میں ہی سہی، علوم ادب کے کتب خانے بڑھائیں، فنون کے کارخانے چلائیں، ایجاد کی ٹہنی پہ ظرافت کے پھول کھلائیں تاکہ نئی نسلیں باوقار انسانیت کا گلشن تشکیل دے سکیں۔

  • اپووا، قلمکاروں کی آواز، ایم ایم علی کی کاوش

    اپووا، قلمکاروں کی آواز، ایم ایم علی کی کاوش

    ادب کسی بھی قوم کی روح ہوتا ہے اور اہل قلم وہ چراغ ہیں جو اس روح کو روشنی بخشتے ہیں۔ پاکستان میں اگر ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی فلاح و بہبود کی بات کی جائے تو ایک نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے،آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن،یہ تنظیم کسی معمولی کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے، جو ایم ایم علی جیسے ادب دوست شخصیت نے دیکھا اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ایم ایم علی کا شمار پاکستان کے ادبی و فلاحی میدان کے چند نمایاں اور پُرجوش افراد میں ہوتا ہے۔ انہوں نے محض قلمکاروں کے لیے آواز بلند نہیں کی، بلکہ عملی طور پر ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جو آج پورے پاکستان میں لکھاریوں کا مرکز بن چکا ہے۔ وہ خود ایک تجربہ کار ادیب اور منتظم ہیں، جن کے دل میں ادیبوں کے احترام اور ان کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،ایم ایم علی نے اپووا کی بنیاد ایک وژن کے تحت رکھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے بیشتر لکھاری تنہائی کا شکار ہیں، انہیں نہ تو پذیرائی ملتی ہے، نہ پلیٹ فارم اور نہ ہی کوئی منظم ادارہ، اس احساس نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ایک ایسا ادارہ قائم کریں جو ان تمام محرومیوں کا ازالہ کر سکے۔آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد ایسے وقت میں رکھی گئی جب ادبی تنظیمیں محض مخصوص طبقات تک محدود تھیں۔ اپووا نے اس روایت کو توڑا اور ملک گیر سطح پر ادیبوں کو یکجا کیا۔

    اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے جب یہ پودا لگایا تو شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہ تناور درخت بن کر پورے پاکستان کے ادیبوں، شاعروں اور لکھنے والوں کے لیے سایہ دار پناہ گاہ بن جائے گا۔ ایم ایم علی نے نہ صرف ایک تنظیم کی بنیاد رکھی بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جو آج ملک بھر کے ادیبوں کی آواز بن چکا ہے۔اپووا محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک ادبی تحریک ہے۔ اس تنظیم کا مقصد صرف تقریبات منعقد کرنا نہیں بلکہ لکھاریوں کو وہ مقام دینا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپووا نے نہایت فعال کردار ادا کیا ہے۔ اپووا نے ملک کے مختلف شہروں میں درجنوں تقریبات کا انعقاد کیا، جن میں مشاعرے، نثری نشستیں، اور کتابوں کی رونمائی شامل ہے۔قابلِ قدر لکھاریوں اور شاعروں کو ایوارڈز سے نوازا گیا تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔اپووا کی کاوشوں سے ادیبوں کو ملک کی نامور شخصیات سے ملنے کا موقع ملا، جس سے ان کے ادبی سفر کو نئی جہت ملی۔اپووا نے نئے لکھنے والوں کے لیے تربیتی سیشنز اور رہنمائی کا اہتمام کیا تاکہ ادب کی نئی نسل آگے بڑھے۔


    اپووا کا دائرہ کار اب صرف ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں رہا۔ یہ تنظیم آج پاکستان کے تمام صوبوں میں اپنے نمائندے اور اراکین رکھتی ہے۔ اس کا نیٹ ورک ہزاروں لکھنے والوں پر مشتمل ہے جو مختلف زبانوں اور اصناف میں کام کر رہے ہیں۔اپووا نے جہاں ایک منظم ادبی پلیٹ فارم فراہم کیا، وہیں اس نے قومی سطح پر اپنی پہچان بھی بنائی۔ پاکستان کے ادبی حلقے اب اپووا کو ایک معتبر اور فعال تنظیم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ایم ایم علی کی انتھک محنت، خلوص، اور وژن کی بدولت اپووا آج ادب کے افق پر ایک روشن ستارہ ہے۔آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت نیک ہو اور منزل کا تعین واضح ہو تو کامیابی قدم چومتی ہے۔

    ضلع چکوال کے شہر بلکسر کے باسی ایم ایم علی کی قیادت میں اپووا نے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی ہیں۔ ادب سے محبت رکھنے والا ہر فرد اپووا کو ایک ادبی انقلاب کے طور پر دیکھتا ہے، اور اس انقلاب کا علمبردار ہے ایم ایم علی۔

    apwwa

  • شہنشاہ ظرافت اداکار منور ظریف .تحریر :راحین راجپوت

    شہنشاہ ظرافت اداکار منور ظریف .تحریر :راحین راجپوت

    لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے اور مسکراہٹیں بکھیرنے والے ہر دلعزیز اداکار منور ظریف کو مداحوں سے بچھڑے انچاس برس بیت گئے لیکن وہ اپنے نام اور کام کی وجہ سے اپنے ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
    منور ظریف 2 فروری 1940 ء کو گوجرانولہ میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے صرف 36 سال عمر پائی ۔ آج سے ٹھیک انچاس برس قبل فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ اپنے کیریئر کے عروج میں ہی ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا ۔
    منور ظریف نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1960 ء میں کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان فلم انڈسٹری پر وہ انمٹ نقوش چھوڑے کہ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً پچاس برس بیت گئے لیکن ان کی خود ساختہ اداکاری اور ان کے فی البدیہ جملوں کی برجستگی کی آج بھی دنیا معترف ہے ۔
    دنیائے ظرافت میں یوں تو رنگیلا ، معین اختر ، ایم اسماعیل ، زلفی ، نرالا ، خلیفہ نذیر ، دلجیت مرزا ، علی اعجاز ، ننھا اور اداکار لہری نے خوب نام کمایا لیکن جو نام اور مقام منور ظریف کا ہے وہ کسی اور کامیڈین کا نہیں ہے ۔
    اپنے فنی سفر کا آغاز انہوں نے فلم ” اونچے محل” سے کیا ، جس میں انہوں نے مزاحیہ کردار ادا کر کے حاضرین و ناظرین کی خوب داد سمیٹی اور اس کے بعد ان کی ایک پنجابی فلم ڈنڈیاں اور چاچا خواہ مخواہ منظر عام پر آئی ۔ اس کے بعد تو ایک سے بڑھ کر ایک فلم اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ، جس میں پیار کا موسم ، بہارو پھول برساؤ ، استاد شاگرد ، چکر باز ، دیا اور طوفان ، بد تمیز ، ہتھ جوڑی ، زمیندار ، ہیر رانجھا ، زینت ، نمک حرام ، پردے میں رہنے دو ، دامن اور چنگاری ، رنگیلا اور منور ظریف ، بدلہ ، ملنگی ، چڑھدا سورج اور بابو جی جیسی لازوال فلمیں شامل ہیں ۔
    ابتدا میں منور ظریف کو چھوٹے موٹے کردار ادا کرنے کو ملے ، لیکن جلد ہی منور ظریف نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی جگہ ان بڑے بڑے اداکاروں میں بنا لی جن کا اس دور میں ایک نام تھا ۔
    اپنے مخصوص انداز ، لب و لہجے اور منفرد کام کی وجہ سے انہوں نے جلد ہی فلم انڈسٹری پر اپنے کام کے گہرے نقوش چھوڑے ۔ فیس ایکسپریشن ، باڈی لینگوئج ، برجستہ کلمات کی ادائیگی اور اپنے منفرد لب و لہجے سے انہوں نے شہنشاہِ ظرافت کا خطاب اپنے نام کیا ،

    منور ظریف مزاحیہ اداکاری کی ان تمام جملہ اصناف میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔
    منور ظریف جب بھی پردہ سکرین پر نمودار ہوتے تو حاضرین و سامعین ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے ۔ چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا جو ملکہ منور ظریف کو حاصل تھا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ۔
    اپنے سولہ سالہ فلمی کیریئر میں منور ظریف نے لگ بھگ 300 سے زائد اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا ۔
    ان کی ہر نئی آنے والی فلم میں لوگوں کے لئے قہقہوں کا وافر مقدار میں سامان موجود ہوتا ۔ ان کے پرستار ان کی ہر ادا اور ہر ڈائیلاگ پر جھوم جھوم جاتے ۔
    منور ظریف ایک حیرت انگیز مزاحیہ اداکار تھے ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ان کے جیسا اداکار دور دور تک نظر نہیں آتا ۔

    منور ظریف سمیت ان کے بھائیوں نے فلمی دنیا میں اپنے اپنے فن کے جوہر دکھائے لیکن جو کامیابی ظریف اور منور ظریف کے حصے میں آئی وہ باقی تین بھائیوں کے حصے میں نہیں آئی ۔
    50 کی دہائی میں اداکار ظریف نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے جو شہرت حاصل کی منور ظریف نے اس سے کئی گنا زیادہ شہرت و مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ۔
    منور ظریف دنیائے ظرافت اور لالی وڈ سینما کا وہ انمول خزانہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔
    لالی وڈ انڈسٹری چاہ کر بھی کوئی منور ظریف ثانی پیدا نہیں کرسکی ۔
    منور ظریف کا کوئی گیت یا کوئی کلپ سامنے آ جائے تو ہم اسے دیکھے بنا نہیں رہ سکتے ۔
    دنیائے ظرافت کا بے تاج بادشاہ منور ظریف اپنی حرکات و سکنات اور حاضر دماغی سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے فن سے بخوبی واقف تھا ۔
    منور ظریف کے کیریئر میں چند ایک ایسی فلمیں بھی ہیں جن کے ذکر کے بغیر ان کے فنی سفر کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ، جن میں جیرا بلیڈ ، نوکر ووہٹی دا ، اج دا مہینوال ، بنارسی ٹھگ اور فلم خوشیا شامل ہے ۔ ان فلموں میں منور ظریف نے مرکزی کردار ادا کیا ۔
    منور ظریف کی فلم ” نوکر ووہٹی دا ” کو بھارت نے بھی کاپی کیا ، جس میں بھارتی اداکار دھرمیندر نے منور ظریف کا کردار ادا کیا ۔
    بعد میں دھر میندر نے اعتراف بھی کیا کہ وہ منور ظریف جیسا کام کرنے میں ناکام رہے ۔
    منور ظریف ہر سال اوسطاً 20 سے زائد فلموں میں کام کرتے رہے ۔ ہر فلم میں ان کا انداز دیکھنے والوں کا دل موہ لیتا ۔ انہوں نے کبھی خود کو مزاح تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ ہیرو ، ولن اور سائیڈ ہیرو کے کردار میں بھی جلوہ گر ہوئے ۔
    منور ظریف پر زیادہ تر مسعود رانا کے گیت فلمائے گئے ۔
    منور ظریف اپنی ذات میں ایک چلتی پھرتی انجمن تھے ، ایسے باصلاحیت لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔
    فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ لاکھوں کروڑوں دلوں پر راج کر کے صرف 36 سال کی عمر میں ہم سے جدا ہو گیا ۔
    اللّٰہ تعالیٰ منور ظریف کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے (آمین ثم آمین)

  • کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    وادیء کوئٹہ جو گذشتہ کئی ہفتوں سے گومگوں کیفیات سے دوچار تھی اور تمام علمی ، ادبی ، ثقافتی اور سماجی سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں ، اب الحمد اللہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق تمام سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں ۔اور دبستان ادب بلوچستان کے ادبی ریفرنس سے بھر پور آغاز ہوا ہے ۔
    قاریینِ کرام ادب کے معنیٰ گل و بلبل کی شاعری , لیلیٰ و مجنوں کی داستان ، اور ناولوں ، افسانوں اور ڈراموں کے کردار ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ جیتے جاگتے آدمیوں کے باہمی تعلقات کی علامتیں ہوتی ہیں ۔ اگر آدمی زندہ ہے تو پھولوں کی خوشبو اور بلبل کے زمزوں سے حظ اْٹھائے گا ۔
    ادب زندگی سے عبارت ہے اور زندہ ادب ہی زندہ معاشرے کے زندہ اہلِ قلم کی نمائندگی کرتا ہے ۔
    ادب اور ادیب کو زندہ رکھنے کیلیے ادب کا فروغ اور ادیب کی پذیرائی کا تقاضاء ہے کہ اہلِ قلم کی ادبی صلاحیتوں کو سراہا جائے ۔
    اِسی لیۓ ادارہ نظامت ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان نے علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز 2025ء کی ایک پْروقار تقریب نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس اسپنی روڈ منعقد کی ۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور حمد و نعت سے ہوا ۔
    علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز کی تقریب میں معروف سیاسی رہنما رحمت بلوچ ، سابقبہ بیورو کریٹ عبدالکریم بریالی ، سرور جاوید ، اکادمی ادبیات کوئٹہ ڈائریکٹر ڈاکٹر قیوم بیدار ، بیرم غوری اور ڈاکٹر تاج رئیسانی سمیت کئی نامور شخصیات نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنے دستِ مبارک سے اہلِ قلم کو اْن کی بہترین تصانیف پر ایوارڈز پیش کئیے۔
    علامہ اقبال ادبی ایوارڈ سال 2019ء شعبہ براہوئی میں پروفیسر عارف ضیاء ، صابر وحید ، شمس الدین شمنل ، شاہین برانزئی ، افضل مینگل ، عبدالوحید اور اکرم ساجد کو ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا ۔
    بلوچی ادب میں منیر مومن ، تبسم مزاری ، نثار یوسف ، طاہر عبدالحکیم بلوچ ، زاہدہ رئیس راجی ، اصغر ظہیر ، اور پروفیسر طاہرہ احساس جتک کو بہترین تصنیف پر علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیا گیا ۔
    شعبہ پشتو میں ڈاکٹر عصمت درانی ، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی ، میر حسن خان اتل ، سّید۔لیاقت علی اور بی بی شفا کو اصنافِ نثر پر ایوارڈز دیئے گئے ۔
    ہزارگی لسان و ادب کے حوالے سے فارسی تصنیف پر عبدالخالق اور ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کو ایوارڈز سے نوازا گیا ۔
    اردْو ادب 2019ء کیلیے جن اہلِ قلم کا ایوارڈز برائے شاعری انتخاب ہوا ۔ اْن کے اسمائےگرامی اس طرح ہیں
    ڈاکٹر عصمت اللہ درانی (انگاروں میں پھول) پروفیسر فیصل ریحان (تختِ سلیمان پر)
    ڈاکٹر عرفان احمد بیگ (صدائے عرفان) شعبہ تحقیق کیلیے ڈاکٹر انعام الحق کوثر (گورنمنٹ کالج کوئٹہ تاریخ کے آئینے میں) محمد پناہ بلوچ (بلوچ عورت تاریخی تناظر میں) پروفیسر سیّد خورشید افروز (بلوچستان میں نسائی ادب) نثری اصناف پر آغاگل (بولان کے آنسو) اور عابدہ رحمان کو (محبت کی گواہی) پر ایوارڈز دیئےگئے۔
    تقریب میں سال 2020ء میں لکھی جانے والی بہترین کتب پر بھی علامہ اقبال ادبی ایوارڈز پیش کئیے گئے تفصیلات کے مطابق ریاض ندیم نیازی (کن فیکون) اسراراحمد شاکر (آدھی ادھوری کہانیاں) عابدہ رحمان(جو کہا فسانہ تھا) اور طیّب محمود (غبارِ راہ) کےعلاوہ تحقیق کے شعبہ میں ڈاکٹر واحد بزدار اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی کو ایوارڈز پیش کئیےگئے ۔
    بلوچی میں نوید علی ، صبیحہ علی بلوچ ، امان اللہ گچکی ، بلال عاجز ، اور نثر میں ڈاکٹر فضل خالق کو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
    شعبہ براہوئی سال 2020ء کیلیے پروفیسر حسین بخش ساجد ، عبدالحمید ، عطاء اللہ ، سیّد علی محمد ہاشمی ، صلاح الدین مینگل ، افضل مراد ، نور خان محمد حسنی ، نور محمد پرکانی ، اور ڈاکٹر عنبرین مینگل کو علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیاگیا ۔ پشتو ادب 2020ء کیلیے برملاخان ، مولوی رحمت اللہ مندوخیل ، ڈاکٹر لیاقت تاباں اور محمد نعیم کے علاوہ رحمت بی بی کو ایوارڈ۔کیلیے مستحق قراردیا گیا ۔ یا رہے ڈاکٹر انعام۔الحق کوثر کا ایوارڈ اْن کے بیٹے سلیم الحق ، ڈاکٹر ایم صلاح الدین مینگل جن کا انتقال اِسی برس ہوا ہے مرحوم کا ایوارڈ اْن کے بھائی مصلح الدین مینگل نے وصول کیا ، جبکہ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی جو اقبال اکیڈمی لاہور میں ناظمِ اعلیٰ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ، اْن کا ایوارڈ اْن کی اہلیہ نے حاصل کیا ۔
    اِس مرتبہ دو دو ایوارڈز پانے والوں میں ڈاکٹر لیاقت تابان ، پناہ بلوچ ، ڈاکٹرعرفان احمد بیگ ، ڈاکٹر روف رفیقی ، ڈاکٹر عصمت درانی اور ریاض ندیم نیازی شامل۔تھے ۔
    محکمہ نظامتِ ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اہلِ قلم کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی یٰقیناً خوش آئند امر ہے۔ تاہم ہماری رائے میں ادباء و شعراء کو ایک ہی ایوارڈ کیلیے منتخب کیا جائے ، جس کو کسی بھی شعبہ یا زبان میں ایواردیا جائے تو پھر کسی اور شعبہ یا اصناف میں نہ دیا جائے اسطرح زیادہ لکھاریوں کو ایوارڈز دیئےجاسکتے ہیں ۔ اردو سے عناد کی پالیسی کا خاتمہ کرتے ہوئے شعبہ اردو کے اہلِ قلم کی کیٹیگری کو شاعری ، افسانہ ، ناول ، تحقیق ، کالم نگاری اور سفر نامہ نگاروں کیلیے علحیدہ علحیدہ ایوارڈز رکھے جائیں اور بچوں کے ادب کو تو ہر سطح پر اولیّت دی جائے ۔
    ادبِ اطفال میں بھی کہانی اور نظم کے شعبے کو ترجیح دی جائے ۔۔۔۔
    کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔

  • کتابوں کا عالمی دن، تحریر:  راحین راجپوت

    کتابوں کا عالمی دن، تحریر: راحین راجپوت

    ایسے لوگوں کا ظرف کیا ہوگا ،

    جن کے گھر میں کوئی کتاب نہیں ۔

    ان کو بینا بھی کہہ نہیں سکتے ،

    جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ۔

    ہر سال 23 اپریل کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کتابوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔
    ما سوائے برطانیہ اور امریکہ کے ، ان دو ممالک میں کتابوں کا عالمی دن 4 مارچ کو منایا جاتا ہے ۔
    اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں کتب بینی اور علم کو عام کرنا ہے اور پوری دنیا میں کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے ۔
    عالمی یوم کتاب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے تحت منایا جاتا ہے ، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر عوام میں کتب بینی کا فروغ ، اشاعت کتب اور اس کے حقوق کے بارے میں شعور کو اجاگر کرنا ہے اس دن کو منانے کی ابتداء 1995 ء میں ہوئی ۔
    کتاب اور علم دوست معاشروں میں یہ دن بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔
    جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں اور انہیں عزت دیتے ہیں حقیقت میں وہی لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں ۔
    کیونکہ کتاب ہی آپ کی وہ واحد دوست ہے جو کبھی بھی آپ کو تنہا نہیں ہونے دیتی ۔
    اگر ہم فضولیات کی بجائے کتاب دوستی کو پرموٹ کریں تو ہم کبھی بھی زوال پزیر نہیں ہوں گے ۔ آج تک ہم نے جتنا علم حاصل کیا ہے وہ کتاب ہی کی بدولت ہے ، کیونکہ کتاب کی خوشبو واحد خوشبو ہے جو ہمارے دل و دماغ کو معطر کرتی ہے ۔
    بیشک آج کمپیوٹر دور ہے لیکن اس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں کتب شائع ہو رہی ہیں اور پڑھی جا رہی ہیں کیونکہ جو مزہ بک ریڈنگ میں ہے وہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا ۔
    آپ اگر اپنی دن بھر کی تھکاوٹ اور بوریت ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی بک شیلف میں سے ایک عدد کتاب اٹھائیں اور اس کا مطالعہ شروع کردیں ، یقین جانیئے کتاب آپ کو تھپک تھپک کر نیند کی ان خوبصورت وادیوں میں لے جائے گی جہاں نہ ہی بوریت رہے گی اور نہ ہی تھکاوٹ اور جب آپ اٹھیں گے تو ایک الگ طرح کی کیفیت اور طمانیت طاری ہو جاتی ہے کہ آپ سب کچھ بھول کر ایک نئی دنیا میں پرواز کر رہے ہوتے ہیں اور اس پرواز کو کوئی چاہ کر بھی نہیں روک سکتا اور یہ صرف کتاب ہی کی بدولت ہے ۔
    آج تک ہم نے جتنا علم حاصل کیا ہے اس کا سہرا صرف کتاب کے سر جاتا ہے ۔ کتابوں سے محبت ہماری فطرت میں شامل ہونی چاہیئے ، کیونکہ کتاب سے محبت ہی ہمیں اچھے برے میں تمیز کرنا سکھاتی ہے اور ہمارے شعور کے وہ در وا کرتی ہے جس کا ہمیں وہم و گماں بھی نہیں ہوتا ۔
    جس معاشرے میں کتاب کو پرموٹ نہیں کیا جاتا ان کے مقدر میں ذلت ورسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے دوست احباب اور جاننے والوں کو صرف کتاب ہی تحفہ دیا کریں تاکہ ہم بھی کتاب کی اہمیت سے آگاہ ہو سکیں کہ جو ایک کتاب کی اہمیت ہے وہ کسی اور چیز کی نہیں ۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی کتابوں کی اہمیت کے بارے میں روشناس کرائیں اور انہیں بتائیں کہ کتاب آپ کی وہ واحد دوست ہے جو آپ کو کبھی بھی تنہا نہیں ہونے دے گی ۔ اگر آپ اپنی تنہائی کا کسی کو ساتھی بنانا چاہتے ہیں تو کتاب سے بڑھ کر آپ کا کوئی دوست نہیں ۔ کتاب کبھی بھی آپ کو تنہا نہیں ہونے دے گی ۔ کتاب ہماری وہ مخلص ساتھی اور دوست ہے جو ہماری ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور غور وفکر کرنے کے نئے در کھولتی ہے اور ہماری سوچ کو وسعت دیتی ہے ۔
    موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے کتاب کی اہمیت اور قدر کو دھندلا دیا ہے ، اس کے علاوہ شرح خواندگی کی کمی بھی کتاب سے دوری کی بڑی وجہ ہے ۔
    ان مسائل کے حل کے لئے ہمیں مناسب وسائل کی فراہمی ممکن بنانا ہوگی ۔ گھروں میں والدین اور سکول و کالجز کی سطح پر اساتذہ کرام اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر سیمینارز منعقد کروا کر بچوں کو کتب بینی کی طرف راغب کرنا ہوگا ۔

  • کتابیں صرف لفظ نہیں یہ تہذیبوں کا آئینہ ہیں ،پرو فیسر ڈاکٹر کنول امین

    کتابیں صرف لفظ نہیں یہ تہذیبوں کا آئینہ ہیں ،پرو فیسر ڈاکٹر کنول امین

    لائبریری گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی کے زیر اہتمام ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے منایا گیا ۔تقریب کی مہمان خصوصی وائس چانسلر پرو فیسر ڈاکٹر کنول امین تھیں۔ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کتاب انسان کی دانش کا ذریعہ ہے ٹیکنالوجی کبھی کتاب کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔اور کہا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم کی اصل بنیاد کتاب ہے ترقی یافتہ قومیں اپنی لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور تحقیق سے پہچانی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لائبریری اپگریڈ عوام کی ضرورت کے مطابق کی جاتی ہے اور کہا کہ اے آئی جیسے ٹولز کی افادیت سے انکار نہیں لیکن یہ صرف مددگار ٹولز ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادب اور لٹریچر کو مقامی رنگ اور اپنی ثقافت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے ہمیں اپنی زبان، اپنی شناخت، اور اپنی پہچان پر فخر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب بینی کو اپنی عادت بنائیں اور مختلف مصنفوں کی کتابیں پڑیں اس سے ذخیرہ الفاظ مین اضافہ ہو گا اور آپ اپنے اپ میں تبدیلی بھی محسوس کریں گے ۔پنجابی زبان کی ترویج کے لئے کہا کہ یہ ہماری مادری زبان ہے اسے مرنے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ سکول لیول سے ضروری نصاب کے طور پر سلیبس کا حصہ ہونا چاہیے ۔ تقریب کے دوران مختلف مقررین نے بھی کتاب اور مطالعے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کتاب فیشن کا حصہ ہونی چاہیے ہر پارک، کیفے اور ہوٹل میں ایک بک کارنر ہونا چاہیے تاکہ مطالعہ کو عام کیا جا سکے۔تقریب میں لائبریری کے تحت جاری ڈی سپیس پروجیکٹ کاافتتاح کیا گیا، جس کے تحت یونیورسٹی کی تحقیق اور تخلیقات کو ایک ڈیجیٹل اسپیس میں محفوظ کیا جا ئے گا تاکہ عالمی سطح پر رسائی ممکن ہو سکے۔ ڈاکٹر کنول امین نے لائبریرین مصباح بشیرکی کوششوں کو سراہا کہ انہوں نے نہ صرف اس پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کی بلکہ اس کے نفاذ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔کتاب دوستی کے فروغ کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا، جن میں واک ، پینل ڈسکشن، اوتھر ٹربیوٹ ،مصنیفین اور شعرا کے ساتھ ایک سیشن ،شوکاز آف شاہ موکھی پنجابی ورنیٹ پروجیکٹ ،سٹیمپس کولیکشن اور کوئز کمپیٹیشن شامل تھے۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو شیلڈ سے نوزا گیا ۔

  • ایک یادگار شام .تحریر:شاہدہ مجید

    ایک یادگار شام .تحریر:شاہدہ مجید

    کینیڈا سے تشریف لائے معروف باکمال شاعر ڈاکٹر اسد نصیر کے اعزاز میں کل شام ادبی فورم انحراف انٹرنیشنل اور چیپٹرز کے اشتراک سے ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جسے لاہور رنگ ٹی وی نے اپنی سکرین کی زینت بنایا۔
    محترمہ یاسمین حمید کی صدارت اور جناب شہزاد نیر کی خوبصورت نظامت نے محفل کو سحر انگیز بنا دیا۔ جناب شہزاد نیر کا دلی شکریہ انہوں نے مجھے مدعو کیا۔ بینر بنوانے کے لئے شرکت کنفرم کرنے کی بات پر میں نے ان سے درخواست کی کہ بینر پر میرا نام نہ لکھوائیں اور دعوت کو اوپن رہنے دیں، تاکہ اگر کسی مجبوری کے باعث شرکت نہ ہو سکے تو شرمندگی نہ ہو۔ خوشی اس بات کی ہے کہ شہزاد صاحب نے نہ صرف میری بات کو سمجھا بلکہ نہایت خوش دلی سے قبول بھی کیا — اور شاید یہی بات تھی جو مجھے اس شام اس خوبصورت محفل تک کھینچ لائی۔
    سچ کہوں تو کئی بار کی عدم حاضری کے باعث اکثر احباب نے بلانا بھی کم کر دیا تھا۔ لیکن شہزاد نیر صاحب کے خلوص نے ایک بار پھر ادبی محفل سے جوڑ دیا۔ یہ کافی عرصے بعد کسی مشاعرے میں شرکت تھی —
    تمام شعراء سے بہترین کلام سننے کو ملا اور دل جیسے پھر سے زندگی سے بھر گیا۔
    بے حد مبارک باد جناب افتخار الحق اور شہزاد نیر صاحب کو، جنہوں نے نہایت عمدگی سے اس ادبی تقریب کا اہتمام کیا، جو یقینی طور پر ایک یادگار مشاعرہ رہا ۔۔
    اور ہاں ثمینہ سید سے ملاقات کی خوشی الگ سے ہے ۔ اللہ کریم انھیں صحت مند ہنستا مسکراتا رکھے ۔۔
    میرے میڈیا کے دوستوں خاص طور پر محترم عامر نفیس کی شفقت کے لئے بھی ممنون ہوں جنھوں نے اپنی دیرینہ کولیگ کو دوبارہ ایکٹو دیکھ کر نہ صرف بہت خوشی کا اظہار کیا بلکہ بہت سے دعاؤں کے ساتھ میڈیا رپورٹ کو خصوصی طور پر ارسال کیا ۔۔

  • یومِ وفات: علامہ محمد اقبال ، تحریر:کنزہ محمد رفیق

    یومِ وفات: علامہ محمد اقبال ، تحریر:کنزہ محمد رفیق

    حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنی خوابیدہ قوم کی بیداری اور بہبود کے لیے اپنی زندگی تیاگ دی، مگر ہم آج کہاں کھڑے ہیں ؟
    کہاں تک ان کی شاعری کی اور ان کے خیالات کی تقلید کی ہے ؟
    ہم آج ان کی تصانیف اور ان کے نظریات کو پس پشت ڈال کر اپنے آپ کو نفس کے حوالے کر بیٹھے ہیں۔ اور یوں خود کو دنیا میں غیر حاضر قرار کر دے کر ہم اللّٰہ تعالیٰ کے اس بیش قیمت تحفے سے سراسر انحراف کر رہے ہیں۔
    ہم میں سے ہر شخص کے لیے اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں ہے جب تک کہ وہ ” خودی” کو نہ پا لے۔
    آخری خودی ہے کیا ؟
    خودی انسان میں پوشیدہ خوبیاں ہیں، اس میں پنہاں طاقتیں ہیں، جو انسان ان گوہر نایاب تک پہنچ جاتا ہے، اسے کامیابی سے کوئی نہیں تھام سکتا۔
    کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں خودی کی تربیت اور پرورش کامیابی کے حصول کے لیے شرطِ اول ہے، چوں کہ خودی زندہ اور پائندہ ہوگی تو کائنات آپ کے آگے جھک جائے گی، اور اگر خودی بیدار نہ ہو تو وہی ہوگا جو آج ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
    ڈپریشن، ڈپریشن اور ڈپریشن!
    ہائے! میری دنیا، میری دنیا، میری دنیا۔
    دنیا کو پانا ہے تو خودی کو پانا ہوگا، خود کو ڈھونڈیے دنیا خود آپ کو ڈھونڈے گی۔
    اقبال اپنی قوم پر مہربان تھے، وہ اپنے عوام کو باشعور، کامران اور اونچا اونچا اڑتے دیکھنے کے خواست گار تھے۔ مگر ہم ہیں فرنگیوں کے پیروکار، آخر یہ بات کب ہمارے شعور کا حصہ بنا گی کہ وہ ہمیں تلف کر دینا چاہتے ہیں، اور ہمارے رہ نما ہمیں سرفراز دیکھنا چاہتے تھے۔
    اقبال نے فرمایا:
    "خودی کا سرِ نہاں لا الہ الااللہ
    خودی ہے تیغ فساں لا الہ الااللہ ”
    خودی تک انسان تب پہنچتا ہے جب وہ اللّٰہ کو پہچاننے لگتا یے، چوں کہ خودی کی تلوار کو توحید آب دار اور طاقت ور بناتی ہے، ہم جتنا اللّٰہ کا قرب پاتے جائیں گے خودی کو اتنا ہی استحکام نصیب ہوتا جائے گا، پھر ہر خوف پس و پیش بکھر جائے گا، کیوں کہ ہر وقت زباں پر ہوگا:
    ” لا الہ الااللہ، لا الہ الااللہ”

  • تبصرہ کتب ،قلب مضطر،مبصر:کنزہ محمد رفیق

    تبصرہ کتب ،قلب مضطر،مبصر:کنزہ محمد رفیق

    ” وہ جس سے بھی محبت کرتا تھا، وہ اسے چھوڑ جاتا تھا۔ ”
    ماں باپ کی موت، بھائی کی دھتکار، نیلی کی بے وفائی، جان نثار کر دینے والے دوست کا دکھ، ہریرہ کا ہجر، منہ بولی بہن (تمکین) سے جدائی اور لاحاصل خوابوں نے اسے بے خود کر دیا تھا۔
    آخر زندگی نے اسے کیا دان کیا؟
    محض محرومیاں، کلفتیں اور اذیتیں ؟
    یہ کہانی ہے جنید کی، اور اس کی حرماں نصیبی کی۔
    اور یہ کہانی ہے ابوذر کی اور اس کے بلند بخت کی۔
    ” آخری خط، آخری ملاقات، آخری جملہ، آخری امید، اور آخری لمس اس کی زندگی کھا گیا تھا۔
    جنید کے اذیتوں بھرے کردار کے لیے ساحر لدھیانوی کا یہ شعر موزوں رہے گا۔
    ” اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں مَیں
    اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے”
    اور مسیحا ابوذر کے کردار کا یہ شعر ترجمان ہے۔
    "کسی کے زخم پہ مرہم لگا دینا
    مسیحائی ہے، خدا کو پا لینا”

    یہ جدا جدا دو کردار نہیں، بلکہ ایک ہی کردار کے دو رخ ہیں۔ جنید کو ابوذر بنانے اور ذہنی اور روحانی طور پر مضبوط کرنے والوں میں ڈاکٹر زبیر خان، ڈاکٹر بہروز، رومیصہ، جلال بابا اور چاچا رفیق نے کلیدی کردار ادا کیا۔
    ماضی کے لوگوں نے اس حساس دل انسان کو ذہنی مریض بنا دیا تھا، ہمہ وقت وہ اسی آواز کے ساتھ چیختا چلاتا۔
    ” ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
    مرے دکھ کی دوا کرے کوئی”
    "قلب مضطر ” حنا وہاب صاحبہ کے قلم سے لکھا اصلاحی ناول ہے، اس ناول میں سماج میں بکھرے کئی موضوعات کو سمیٹ دیا گیا یے، جیسے، پیٹ پالنے کے لیے حرام کاموں میں ملوث ہونا، محبت اور اپنائیت کے اظہار میں کنجوسی کرنا اور پھر بعد میں پچھتاوا کرنا، ٹک ٹاک پر ناچ کر شہرت پانا، اور آئے روز لڑکیوں کو اچھی شکل و صورت نہ ہونے کی وجہ سے ٹھکرا دینا، لوگوں کی مسیحائی کرنا اور ہم سفر کا انتخاب کرتے وقت ظاہر سے زیادہ باطن کو مقدم رکھنا، مگر اس کا اساسی موضوع "ڈپریشن” ہے۔ جو ان تمام وجوہات کا نتیجہ یے۔ جس نے آج ہر دماغ پر راج کر رکھا ہے۔

    اکیسویں صدی کا ہر دوسرا شخص نفسیاتی مرض ( ڈپریشن) میں مبتلا ہے۔ جہاں امید اور آس نہ ہو وہاں ویرانی ہوتی یے، دل پر قنوطیت کے بادل چھائے رہتے ہیں اور ہمہ وقت یاسیت کی برکھا برستی رہتی ہے جو دل کو کلی طور کھوکھلا کر کے رکھ دیتی یے۔

    ہر مرض کی مانند ڈپریشن کا بھی علاج موجود ہے، جنید کے روحانیت پر مبنی سیشنز ہوتے رہے، اسے رنگوں سے کھیلنا پسند تھا، وہ رنگوں سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا۔ برابر سیشن ہوتے رہے اور وہ کشاں کشاں اپنے آپ کو سنبھالنے لگا، اس مرض سے فرار کے بعد وہ لوگوں کا مسیحا بن گیا، انہیں ڈپریشن جیسے مرض سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ، اور اس نے ایک سیشن ایسی لڑکی کا کیا، جس کو گھر آئے ہر رشتے نے ٹھکرا کر ذہنی مریض بنا دیا تھا، ابو ذر نے اسے کھلے دل سے اپنایا اور ہمیشہ کے لیے اپنا نام دے کر اسے معاشرے میں معتبر کر دیا۔
    ادب میں بہت سے ادیب معاشرے میں پھیلی برائیوں کو یکجا کر دیتے ہیں، مگر اس کا سدّباب قارئین کے سامنے پیش نہیں کرتے ہیں، یہ حنا وہاب صاحبہ کا خاصہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف معاشرے میں پھیلتی بیماری کو بیاں کیا بلکہ اس کا تریاق بھی قلمبند کیا تاکہ قارئین اپنی زندگیوں کو اللّٰہ سے جوڑ کر تباہی اور زوال سے بچ سکیں۔

    آج معاشرے میں مقابلہ زیادہ ہے، گھٹن زیادہ ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے دور جا رہے ہیں، اور دلوں کو عناد اور نفاق ایسی خوارک فراہم کر رہے ہیں۔
    ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ نے ثابت کیا ہے کہ ڈپریشن ایسا ذہنی مرض خوراک کی تبدیلی، دواؤں، یا جھاڑ پھونک سے صحیح نہیں ہوتا بلکہ اس کا علاج ” گفت گو” سے ہوتا یے۔
    ٹاک تھراپی سے مریض اپنے اندر کی بھڑاس نکال کر ہلکا پھلکا ہو جاتا۔
    پس معاشرے کو پُرامن اور لوگوں کو پُر سکون کرنے کے لیے۔۔۔۔
    ” بات سنتے رہو، بات کہتے رہو۔”
    صفحہ نمبر 68
    ” سڑکوں پر لگی ہوئی لائٹس نے دن میں رات کا سماں کر رکھا تھا اسی لیے کسی نہ کسی طرح دکھائی دے رہا تھا۔”
    کیا اس جملے کی ترتیب صحیح ہے؟
    ریس تو رات میں شروع ہوئی تھی پھر دن میں رات کا سماں؟
    کچھ سمجھ نہیں آیا۔
    شاید جملہ کچھ اس طرح ہوگا :
    ” سڑکوں پر لگی ہوئی لائٹس نے رات میں دن کا سماں کر رکھا تھا اسی لیے کسی نہ کسی طرح دکھائی دے رہا تھا۔”
    صفحہ نمبر 27
    ” اس کے داہنے ہاتھ پر برنولہ لگا ہوا تھا”
    برنولہ یا کینولا ؟
    صفحہ نمبر 37
    پرواہ یوں لکھا ہوا ہے، جب کہ پروا کے املا میں آخر میں "ہ ” نہیں آتا۔ ” پروا”
    صفحہ نمبر 78
    بارش کی آمد سے قبل باد نسیم کو محسوس کرتے۔
    بادِ نسیم صبح کی یا شام کی تازہ ہوا کو کہتے ہیں۔ جب کہ بارش سے قبل ہوا میں نمی اور زیادہ ٹھنڈک ہوتی یے تو اسے "بارانی ہوا” کہتے ہیں۔
    کتاب کے صفحات اور طباعت بہتر یے جب کہ سرِ ورق بہترین ہیں۔
    اصلاحی اور وقت کی ضرورت پر مبنی اس ناول کی اشاعت پر حِنا صاحبہ کو دلی مبارکباد۔
    اسی طرح اپنے قلم سے معاشرے کی اصلاح کرتی رہیے، اور اپنے حصّے کے دیپ روشن کرتی جائیے ان شاءاللہ آپ کی کاوشوں سے معاشرے میں ضرور سدھار آئے گا۔
    مشاہدہ کرتی رہیے، سوچتی رہیے اور لکھتی رہیے۔

  • عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں ایک شاندار ادبی نشست، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں ایک شاندار ادبی نشست، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    یو ایم ٹی میں ایک ادبی نشست منعقد کی گئی جو معروف ادبی شخصیت عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں تھی اس میں یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس سمیت شاعروں ادیبوں اور عطا الحق قاسمی کی تحریروں کو پسند کرنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی یونیورسٹی کا سیمینار ہال کھچا کھچ بھرا تھا ،سٹیج پر عطا الحق قاسمی کے ساتھ معروف صحافی سہیل وڑائچ موجود تھے جنہوں نے عطاء الحق قاسمی سے مختلف سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے اپنے مخصوص شگفتہ انداز میں دئیے، کئی موقعوں پر ہال کشت زعفران بن گیا عطا الحق قاسمی کی کتابوں اور تحریروں کا زکر رہا ،

    تقریب میں بیگم عطا الحق قاسمی اور ان کے صاحب زادے عمر قاسمی نے بھی شرکت کی عطا الحق قاسمی کے دوست احباب بھی بڑی تعداد میں موجود تھ،ے ایرانی قونصلیٹ آ غاے اصغر مسعودی نے بھی شرکت کی فارسی اور اردو میں اظہار خیال کیا اور عطا الحق قاسمی کو خراج تحسین پیش کیا عطا الحق قاسمی کے کالم ،، روزن دیوار سے ،، کا زکر رہا ،پروگرام کے بعد ایک فنکار نے اپنی خوبصورت آ واز میں عطا الحق قاسمی کا کلام پیش کیا اور علی امام من است و منعم غلام علی ، ہزار جان گرامی فداے نام علی منقبت پیش کی ، اس موقع پر سونیر بھی پیش کییے گئے اور آ خر میں کھانے کا بھی عمدہ انتظام تھا یونیورسٹی انتظامیہ اس عمدہ ادبی نشست کے لیے مبارکباد کی مستحق ہے –