Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    علامہ اقبال نے کہا تھا
    وجود زن سے تصویر کائنات میں ہے رنگ
    یہ درست ہے اس کائنات میں خواتین کا رول بہت اہم ہے نسل انسانی کو پروان چڑھانے اور ان کی تربیت کی زمہ داری اللہ تعالیٰ نے خواتین کے کندھوں پر ڈالی اور تاریخ شاہد ہے جن خواتین نے یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھائی ان کی اولاد نے اپنے اعلیٰ اوصاف سے ایسے رنگ بھرے کہ جو کبھی ماند نہیں ہوئے، فاطمہ جناح اپنے بھائی کے ہم قدم رہیں کبھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑا ،رعنا لیاقت علی خان نے اپنے شوہر لیاقت علی خان کا ساتھ دیا مال و دولت جمع نہیں کیا اسی طرح تاریخ اسلام اور دنیا کی تاریخ خواتین کے کار ناموں سے بھری پڑی ہے لیکن بدقسمتی سے وہ حقوق جو اسلام نے اور قانون نے عورتوں کو دئیے ان پر عملدرآمد بہت کم دیکھنے میں آ یا اور معاشرے میں خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا اور ایسے ماحول میں اگر خواتین کو عزت و تکریم دینے اور ان کی صلاحیتوں کو سراہنے کی کی بات ہو تو بہت خوش آئند ہے، اسی حوالے سے آ ل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن ( اپووا ) نے کل بارہ اپریل ہفتے کے دن پاک ھیرٹج ہوٹل میں ایک تقریب منعقد کی .


    اپووا کے بانی اور صدر ایم ایم علی ہیں جبکہ چئیرمین زبیر احمد انصاری ہیں ان کی طرف سے منعقد کردہ یہ تقریب شاندار تھی اپنی صلاحیتوں کے اعتراف میں ایوارڈ حاصل کرنے پر خواتین خوش نظر آ رہی تھیں تمام گیسٹ سپیکرز اپنے اپنے شعبوں میں ممتاز مقام رکھتی تھیں ان میں سامعہ خان ، عذرا آ فتاب ، عارفہ صبح خان ، دعا مرزا ، ثنا آ غا خان ، ڈاکٹر فضلیت بانو ، گل ارباب ، کومل جوئیہ ، لالہ رخ اور دیگر شامل تھیں اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس تقریب کو غزہ کے مظلوموں سے منسوب کیا گیا کالی پٹیاں باندھ کر اور فلسطین کے جھنڈے لہرا کر احتجاج کیا گیا اور فلسطین کی مظلوم عورتوں اور بچوں سے اظہار یک جہتی کیا گیا ،اس تقریب میں پشاور ، کراچی ، اور کئی دوسرے شہروں سے آ نے والی خواتین شامل تھیں یہ بھر پور اور باوقار تقریب تھی اس کے لیے اپووا کے بانی اور چئیرمین لائق تحسین ہیں ان کو بہت مبارکباد اور انتظامیہ میں شامل تمام خواتین جن میں سحرش خان ، ڈاکٹر ثمینہ طاہر اور دیگر بہت مستعد تھیں ان سب کا بھی شکریہ اور مبارکباد
    یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

    اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

  • اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ


    آج کا دن میرے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوا، جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس میں میری خواتین ایوارڈ کے لیے نامزدگی کا اعلان ہوا، جس کا میں طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھی۔ یہ لمحہ میرے لیے بے حد اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ یہ میرے لئے نہ صرف ایک اعزاز تھا بلکہ خواتین کی کامیابیوں کو سراہنے کا بھی ایک شاندار موقع تھا۔کانفرنس میں جانے سے پہلے، میرے ذہن میں کئی سوالات تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں وہاں کس طرح جاؤں گی، کیونکہ وہاں کوئی میری جان پہچان کا نہیں تھا،سب نئے لوگ تھے، لیکن جب میں کانفرنس میں پہنچی، تو آ پی ثمینہ طاہر بٹ نے جس اپنائیت کے ساتھ میرا استقبال کیا، اور تمام عہدیداران اور ممبران نے جتنی مہمان نوازی کی، وہ سب کچھ میرے لیے بے حد دل کو چھو لینے والا تھا۔ ان سب کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اس خوبصورت تقریب کے انعقاد میں حصہ لیا اور میری حوصلہ افزائی کی۔بانی صدر آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن، ایم ایم علی بھی کانفرنس میں متحرک نظر آئے،ایم ایم علی کا خصوصی شکریہ…کیونکہ میرے ایوارڈ کی نامزدگی کی منظوری انہوں نے دی تھی.

    اپووا کی خواتین کانفرنس میں ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی باوقار خواتین نے شرکت کی اور اپنی موجودگی سے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ محمد زاہد نے حاصل کی۔ اس کے بعد سیدہ مصور صلاح الدین نے عقیدت و احترام سے نعتیہ کلام پیش کیا۔سحرش خان نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، نمرہ ملک کی خوبصورت اور پراثر پنجابی نظم نے محفل کو ایک خاص رنگ عطا کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔کانفرنس میں کچھ اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں معروف لکھاریہ گل ارباب، پی آر او ٹو گورنر پنجاب محترمہ لالہ رخ ناز، ڈپٹی سیکرٹری ٹو گورنر پنجاب محترمہ ظل ہما، عالمی شہرت یافتہ اسٹرولوجر سامعہ خان، لیجنڈری اداکارہ عذرہ آفتاب، علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر عارفہ صبح، دبنگ جرنلسٹ دعا مرزا، اینکر پرسن ثناء آغا خان، ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پری، علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر فضیلت بانو، معروف شاعرہ کومل جوئیہ، لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ، اور تحریک نفاذ اردو کی متحرک رکن فاطمہ قمر شامل تھیں۔

    میرے لیے یہ ایک شاندار موقع تھا کہ مجھے اس کامیاب کانفرنس کا حصہ بنایا گیا اور میری محنت اور جدوجہد کو تسلیم کیا گیا۔ میں خاص طور پر سینئر صحافی اور اینکر پرسن، سی ای او باغی ٹی وی، مبشر لقمان صاحب کی بے حد مشکور ہوں کہ ان کی وجہ سے مجھے یہ مقام حاصل ہوا۔ باغی ٹی وی کی بدولت ہی آج میں یہاں ہوں اور اس کامیاب کانفرنس کا حصہ بنی ہوں۔کانفرنس کے اختتام پر جب واپس جانے کا وقت آیا، تو دل میں بہت سی باتیں گئیں۔ میں سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں وہاں دیگر خواتین کیسی ہوں گی، مگر جب وہاں پہنچ کر جو دل جیتنے والا استقبال ہوا، وہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی۔ اللہ تعالٰی اپووا کے تمام منتظمین کو ڈھیروں کامیابیاں عطا کرے۔

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس کے انعقاد پر تمام عہدے داران اور تمام خواتین کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اتنی محبت دی۔ اور جب ایوارڈ دینے کے لئے مجھے اسٹیج پر بلایا گیا اور کہا گیا کہ کہ میں مبشر لقمان کے چینل سے ہوں ، تو یہ میرے لیے فخر کا مقام تھا۔ میں ان سب خواتین،اپووا کے منتظمین کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا قیمتی وقت دیا اور مجھے اتنی عزت دی۔یہ دن میری زندگی کا ایک یادگار دن بن چکا ہے، اور اس کانفرنس کی کامیابی کا کریڈٹ آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ٹیم اور اس کے منتظمین کو جاتا ہے۔مبارکباد اور ڈھیروں دعائیں…..

  • کمالِ  فن ایوارڈ عارف افتخار کے نام.تحریر؛ شیخ فرید

    کمالِ فن ایوارڈ عارف افتخار کے نام.تحریر؛ شیخ فرید

    قومی ادبی ایوارڈز سے بلوچستان کے ادیبوں کو نوازا گیا
    کوئٹہ کےادبی منظر پر اداسی چھائی رہی
    وادیء شال کی بہار رْت اب کے آتے آتے گلوں کو اداس کر گئی ، بادام کے پیڑوں پر سفید کونپلوں اور سیب کی گلابی غنچوں نے بھی تاخیر کی ، اور ادبی منظر پر اداسی کے بادلوں نے اہلِ علم و ادب مضطراب رکھا ۔اتوار کو بزم صائم نے بہاریہ مشاعرے کرنا تھا جو نہ پایا ۔7اپریل کو بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے ادبی کانفرنس اور آغاگل ایوارڈز کا اعلان کر رکھا تھا جو ملتوی کر دیا گیا ۔
    کوئٹہ کا زمینی رابطہ منقطعہ ہے ۔ کاروبار شیدید متاثر ہے ۔اور شہر کی فضا اداس ہے ۔ اسی اداسی میں اکادمی ادبیات پاکستان نے سال 2023ء کے کمالِ فن ادبی ایوارڈ کا اعلان کیا ۔تفصیلات کے مطابق اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ادباء وشعراء کے لیے پچاس لاکھ روپے سے زائد مالیت کے انعامات کا اعلان کیا گیا ۔
    اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ممتاز اہل قلم کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کمال فن ایوارڈ2023 کے لیے معروف شاعر افتخار عارف کو منتخب کیا گیا ہے ۔اس کا اعلان ڈاکٹر نجیبہ عارف صدر نشین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا ۔
    ’’کمالِ فن ایوارڈ ‘‘ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کی رقم دس لاکھ روپے ہے۔2023کے ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ کا فیصلہ پاکستان کے معتبر اور مستند اہل دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا جس میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید ، جناب اصغر ندیم سید، پروین ملک، مدد علی سندھی ، انورسن رائے ، ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، نیلوفر اقبال، حسام حر، حفیظ خان ، ڈاکٹر محمد سفیراعوان ، ڈاکٹر واحد بخش بزدار، عبدالقیوم بیدار، ڈاکٹر ناصر عباس نیر ، اورڈاکٹر بصیرہ عنبرین شامل تھے۔اجلاس کی صدارت مدد علی سندھی نے کی ۔ ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہل قلم کوان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کا اجراء اکادمی ادبیات پاکستان نے 1997ء میں کیا تھا۔اب تک اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے احمد ندیم قاسمی ، انتظار حسین ،مشتاق احمد یوسفی، احمد فراز ،شوکت صدیقی، منیر نیازی ، ادا جعفری،سوبھو گیان چندانی ،ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک ، عبداللہ جان جمالدینی،محمدلطف اللہ خان ، بانو قدسیہ ، محمد ابراہیم جویو ، عبداللہ حسین ، افضل احسن رندھاوا ، فہمیدہ ریاض،کشور ناہید، امر جلیل ، ڈاکٹر جمیل جالبی، منیراحمد بادینی، اسد محمد خاں ، جناب ظفر اقبال اور جناب حسن منظر کو ’’کمال فن ایوارڈ ‘ دیے جا چکے ہیں ۔

    اس موقع پر’ ’قومی ادبی ایوارڈز‘‘ برائے سال2023ء کا بھی اعلان کیاگیا۔چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پریس کانفرنس میں قومی ادبی ایوارڈز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اردو نثر( تخلیقی ادب) کے لیے سعادت حسن منٹو ایوارڈ طاہر ہ اقبال کی کتاب ’’ ہڑپا ‘ (منصفین نیلوفراقبال ، ڈاکٹر معین نظامی اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر ) ، اردو نثر (تحقیقی وتنقیدی ادب) کے لیے بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ ڈاکٹرامجد طفیل کی کتاب "ہمعصر اردو افسانہ ” اور فرخ یار کی کتاب ’’ عشق نامہ ‘‘(منصفین:ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر اور ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی) ، اردو شاعری کے لیے ’’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ‘‘ غلام حسین ساجد کی کتاب ’’تجاوز‘‘ (منصفین: نذیرقیصر ڈاکٹر وحید احمد اور ڈاکٹر سحر انصاری ) ، پنجابی شاعری کے لیے ’’سید وارث شاہ ایوارڈ‘‘ قابل جعفری کی کتاب ’’ اپار‘‘،پنجابی نثر کے لیے’’ افضل احسن رندھاوا ایوارڈ‘ ‘ نصیراحمد کی کتاب ’’ کیہ پاتر د ا جیونا ‘‘ (منصفین:پروین ملک ، (انجم سلیمی اورزبیراحمد ) ، سندھی شاعری کے لیے ’’شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ ‘‘ابرار ابڑو کی کتاب ’’اکین کی پندھ کرنوآ‘‘، سندھی نثرکے لیے ’’مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر مشتاق باگانی کی کتاب ” ننگر ٹھٹے جو سماج ” (منصفین: مدد علی سندھی، شبنم گل اور ڈاکٹر شیرمہرانی) ، پشتو شاعری کے لیے ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘ م ۔ر شفق کی کتاب ” گل رنگ "،پشتو نثر کے لیے ’’ محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ ‘‘ ڈاکٹر عبدالکریم بریالے کی کتاب ” درحمان بابا کلیاتو دمتن انتقادی ثیڑنہ ” (منصفین: ڈاکٹر اباسین یوسفزئی ، ڈاکٹر اسیر منگل اور نورالامین یوسفزئی) ، بلوچی شاعری کے لیے ” مست توکلی ایوارڈ” وہاب شوہاز کی کتاب ” چراگاں دم نہ برتگ” ، بلوچی نثر کے لیےسید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف کی کتاب ” بلوچی ءُ براہوئی زبانانی سیالی ” (منصفین:ڈاکٹر فضل خالق، ڈاکٹر زینت ثنا اورمحمد یوسف گچکی) ، سرائیکی شاعری کے لیے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘عزیز شاہد کی کتا ب ’’چاک‘ ، سرائیکی نثر کے لیے”ڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈ”رفعت عباس کی کتاب’’ نیلیاں سلہاں پچھوں ‘‘ (منصفین: رانا محبوب اختر، سلیم شہزاد، حبیب موہانہ) ، براہوئی شاعری کے لیے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ ‘‘بابل نور کی کتاب ’’ چنکس استار ” ، براہوئی نثر کے لیے ’’غلام نبی راہی ایوارڈ‘‘ عمران فریق کی کتاب ’’ ادبی تھیوری ؤ براہوئی ادب ‘‘ (منصفین: عبدالقیوم بیدار، افضل مراد، افضل مینگل ) ، ہندکو شاعری کے لیے ’’ سائیں احمد علی ایوارڈ ‘‘ڈاکٹر خاور چوہدری کی کتاب ’’ بجھنا ڈیوا ‘‘،ہندکو نثر کے لیےخاطر غزنوی ایوارڈ اختر نعیم کی کتاب ” قسطنطنیہ، انگورا ،سمرنا ” (منصفین:ناصر علی سید، محمد ضیاء الدین اور حسام حر ) ، انگریزی نثر کے لیے پطرس بخاری ایوارڈ ایم اطہر طاہر کی کتاب
    "Second Coming "، انگریزی شاعری کے لیے داؤد کمال ایوارڈ اعجاز رحیم کی کتاب “Beyond Dates and Pomegranates” منصفین: ڈاکٹرمحمد سفیراعوان، منیزہ شمسی اور حارث خلیق) اور ترجمے کے لیے ’’محمد حسن عسکری ایوارڈ‘‘شوکت نواز نیازی کی کتاب ’’ جلاوطنی اور سلطنت(آلبرٹ کامیو) ‘‘ کو دیا گیا(منصفین :ارشد وحید ، ڈاکٹر خالد اقبال یاسر اورڈاکٹر سید جعفر احمد) ۔قومی ادبی انعام حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دودولاکھ روپے بطور انعامی رقم دیے جائیں گے۔
    اکادمی ادبیات پاکستان کا تقسیم ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد کرنا یٰقیناً ایک مستحسن اور قابلِ ستائش اقدام ہے مگر کیا ہی اچھا ہو۔کہ قومی ادبی ایوارڈ کا دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے صوبائی سطح پر لایا جائے تاکہ ہر صوبہ اپنے طور پر مقامی اہلِ قلم کی نامزدگی ممکن ہو اور علاقائی علم و ادب کو فروغ ملے ۔
    بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے اپنے ایک اعلامیہ میں چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف کو دلی طور پر مبارک باد پیش کی ہے ۔

  • کتاب: جناب عالی،شاعر: صغیر احمد صغیر ،تبصرہ: منزہ سحر

    کتاب: جناب عالی،شاعر: صغیر احمد صغیر ،تبصرہ: منزہ سحر

    ایک ڈرے، سہمے، مفاد پرست اور تعفن زدہ معاشرے میں طاغوتی قوتوں کو للکارتی ہوئی آواز ۔۔۔ جناب عالی! جناب عالی!
    یہ کاٹ دار لہجہ ان منفی کرداروں سے مخاطب ہے جو نا صرف معاشرتی اقدار پہ حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ دلوں پر بھی بے دریغ وار کرتے ہیں اور اندھا دھند اپنے مفاد کے گھوڑے سرپٹ دوڑاتے ہوئے انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ایسے میں کوئی ایک ایسا دلیر، غیور اور نڈر کردار ان کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ اور ان کی سوالیہ نظروں کے جواب میں یہ ڈائیلاگ بولتا دکھائی دیتا ہے جنابِ عالی! جنابِ عالی!
    صورتحال کچھ فلمی سی تو لگتی ہے مگر کیا کیجیئے جب ہمارے لیے حالات ہی ایسے بنا دئیے جائیں تو ان کا جواب بھی اسی طریقے سے واجب ہو جاتا ہے ۔ اور پھر تاریخ بھی ایسے کردار کو فراموش نہیں کر سکتی بلکہ وہ دوسروں کے لیے ایک مثال بن کر ابھرتا ہے اور اپنے حصے کا کام کر جاتا ہے ۔
    جناب صغیر احمد صغیر کا زیر نظر شعری مجموعہ "جناب عالی!” عین اس صورتحال کا آئینہ ہے ۔ انہوں نے بنا کسی خوف و خطر مزاحمتی شاعری کو آگے بڑھاتے ہوئے انقلابی شاعروں کی پیروی بھی کی ہے اور اپنا منفرد اسلوب اور واضح نکتہ نظر دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے ۔ شعری مجموعہ "جنابِ عالی! ” شاعر کے نڈر طرزِ فکر کو اجاگر کرتا ہے ۔ وہ معاشرے کے کرتا دھرتاؤں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
    میں زمانے سے جدا ہوں سو جدا بولنا ہے
    اس پہ معلوم ہے لوگوں نے برا بولنا ہے
    قاضی وقت کی اوقات یہی ہے کہ اسے
    حکم لکھا ہوا ملتا ہے کہ کیا بولنا ہے۔
    حرف غلط ہے جو بھی مٹا دینا چاہیے
    یہ ظلم کا نظام گرا دینا چاہیے
    جس شہر پر یزید کی فرماں روائی ہو
    اس شہر کو صغیر جلا دینا چاہیے ۔
    صغیر احمد صغیر بیک وقت پنجابی ، اردو اور انگریزی کے بہترین شاعر ہیں وہ نا صرف سنجیدہ شاعری میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں بلکہ ان کی مزاح سے بھرپور شاعری بھی سوشل میڈیا پر بے حد مقبول ہے یہ کثیر اللسانی اور کثیر الجہتی ان کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ وہ جہاں بھی کلام سناتے ہیں بے پناہ داد وصول کرتے ہیں۔ حیاتیات کے پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ بھی ان کا مضمون رہا ہے اس لیے آپ کو ان کے اشعار میں تاریخی حوالے بھی ملیں گے۔
    اک ایک شاہ پہ گزری ہر ایک شاہ کے بعد
    پناہ ڈھونڈو گے تم دیکھنا پناہ کے بعد
    ہر ایک جبر کے انجام کی خبر ہے ہمیں
    کہ صبح ہوتی ہے آخر شب سیاہ کے بعد
    اس خوفزدہ اور گھٹن کی فضا میں کوئی جاندار للکار مایوس اور تھکے ہوئے اذہان کے لیے تقویت اور طمانیت کا باعث ہے اور اس نفسا نفسی کے عالم میں زاد راہ کی طرح منزل پر پہنچنے کے کام آتی ہے ۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ۔
    تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا
    پھر اس کی جتنی بھی قیمت ہوئی چکاؤں گا
    میں ہجر والوں کا اک قافلہ بناؤں گا
    تمہارے بعد بھی جی کر تمہیں دکھاؤں گا
    جنہوں نے مل کر مرے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے
    انہیں یہ ڈر تھا کہ میں آئینہ بناؤں گا ۔
    کون اپنے تھے جو دشمن کے حواری نکلے
    بات نکلی ہے تو پھر ساری کی ساری نکلے
    ہم تو سمجھے تھے کہ تقدیسِ قلم جانتے ہیں
    ہائے جو لوگ کرائے کے لکھاری نکلے
    جو تری میز پہ رکھا ہے یہ دائیں جانب
    منصفا اس ترے میزان سے خوف آتا ہے
    وہ جہاں چاہے وہاں آگ لگا دیتا ہے
    شہر کے شہر کو سلطان سے خوف آتا ہے ۔
    محبت کسی بھی شاعر کی شاعری کا پہلا اور آخری مسئلہ ہے وہ بیشک جتنے بھی مضامین اپنی شاعری میں شامل کرے محبت سے جان نہیں چھڑا سکتا ۔ دل ٹوٹنے پر دل برداشتہ ہونا اور بے حد اداس ہو جانا ایک فطری عمل ہے لیکن اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو سنبھالنا بھی کسی کسی کا کام ہے یہاں بھی محترم شاعر اپنے محبوب کو اپنی شخصیت کا مظبوط رخ دکھاتے نظر آتے ہیں ۔ یہ اشعار دیکھئیے
    نہ کوئی واہمہ اب ہے نہ ڈر اداسی کا
    لگی ہے عمر تو آیا ہنر اداسی کا
    تمہاری چہرہ شناسی کو مان جاؤں گا
    بتاؤ مجھ پہ ہے کتنا اثر اداسی کا
    آدمی عشق میں جب حد سے گزر جاتا ہے
    عشق جاتا ہے یا پھر ہاتھ سے گھر جاتا ہے
    اس نے سمجھا ہی نہیں ہے مری خاموشی کو
    اتنا خاموش رہے کوئی تو مر جاتا ہے
    اک وہی ہے جو مرے دل کی زباں جانتا ہے
    ورنہ دنیا میں مجھے کوئی کہاں جانتا ہے
    قہقہے اتنے لگاتا ہوں کہ رو پڑتا ہوں
    میرے ہنسنے کا سبب کون یہاں جانتا ہے
    اور اب اس مشہور زمانہ غزل کے چند اشعار جس کی ردیف اس کتاب کے سرورق پہ چمک دمک رہی ہے ۔
    کبھی تو دیکھو گے ان کی لالی جنابِ عالی!
    ہماری آنکھیں جو ہیں سوالی جنابِ عالی!
    عجب قرینہ، عجب مہارت ہے گفتگو میں
    جو اتنا اچھے سے بات ٹالی جنابِ عالی!
    جناب دنیا سے ڈر گئے نا ؟بدل گئے نا؟
    ہمارے پیچھے بھی تھی یہ سالی جنابِ عالی!
    جناب صغیر احمد صغیر کے شعری سفر میں اب تک چار شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں جن میں سے ایک پنجابی شعری مجموعہ اور تین اردو شاعری کے مجموعے شامل ہیں دو مزید اردو شعری مجموعے زیر اشاعت ہیں اور خبر ہے کہ جلد ہی منظر عام پر ہوں گے یوں کل ملا کر وہ چھ عدد شعری مجموعوں کے خالق ہیں جو کہ ان کی محنت و ریاضت کا نچوڑ ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے لیے دعائیں اور نیک تمنائیں ۔

  • تبصرہ کتب: کٹی پتنگ از ذوالفقار علی بخاری.مبصر ، دانیال حسن چغتائی

    تبصرہ کتب: کٹی پتنگ از ذوالفقار علی بخاری.مبصر ، دانیال حسن چغتائی

    ذوالفقار علی بخاری کا شمار اردو ادب کے اُن نازک مزاج، لطیف حس اور وسیع المشرب مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی شعوری گہرائیوں کو قرطاس پر اس سلیقے سے منتقل کیا کہ قاری اُن کے جملوں میں اپنی پرچھائیاں تلاش کرتا پھرتا ہے۔ کٹی پتنگ ایسا ہی ایک نثری ڈراما ہے جو محبت کے فریب میں لپٹی انسانی کمزوریوں، سماجی تضادات، اور جذباتی ناپختگی کا بھرپور عکاس ہے۔ اس تصنیف میں بخاری صاحب نے جس انداز سے محبت کو موضوع بنایا ہے، وہ نہ صرف اُن کے فکری افق کی وسعت کا پتا دیتا ہے بلکہ مشرقی طرزِ معاشرت اور محاوراتی نزاکت کو بھی زندہ رکھتا ہے۔
    کٹی پتنگ درحقیقت انسانی فطرت کی اس کمزوری کی تمثیل ہے جہاں جذباتی وابستگیاں عقل کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہیں، اور نوجوانی کی محبت محض خوبصورت فریب بن کر رہ جاتی ہے۔ ذوالفقار بخاری نے نہایت نفاست سے دکھایا ہے کہ شادی سے قبل کی محبتیں اکثر وہم و گمان کا کھیل ہوتی ہیں، جن کا حقیقت سے کم اور خوابوں سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔ اور یوں یہ محبتیں کٹی پتنگ کی مانند ہوا میں اُڑتی ہیں، بلاسمت، بےوزن اور انجام سے عاری۔
    "شادی سے پہلے تو محبت محض سراب ہوتی ہے”— یہ جملہ بخاری صاحب کے اس ڈرامے کے مرکزی خیال کو تقویت دیتا ہے۔ کتاب میں کئی کردار ایسے دکھائے گئے ہیں جو تعلیمی اداروں میں، دفتر کے ماحول میں یا کسی سماجی تقریب کے دوران ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں، اور چند خوشگوار لمحوں کو عمر بھر کا رشتہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مگر جب شادی کا حقیقی بندھن آتا ہے تو یہ محبتیں امتحان میں فیل ہو جاتی ہیں۔ بخاری صاحب نے ان جذباتی لغزشوں کو طنز و مزاح کے ساتھ پیش کیا ہے جو قاری کو ہنسا کر رُلا دیتی ہیں۔
    ڈرامے کے کردار کسی فرضی دُنیا سے نہیں آئے، وہ ہمارے آس پاس کے وہی نوجوان ہیں جو کالج اور یونیورسٹی کے ماحول میں ہر مسکراہٹ کو دعوتِ محبت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ بخاری صاحب نے نہایت نفاست سے اس ماحول کی عکاسی کی ہے جہاں لڑکی کا ہنسنا، لڑکے کا کتاب تھام کر انتظار کرنا، مشترکہ پروجیکٹس پر کام کرنا، سب کچھ محبت کی جھوٹی فضا پیدا کرتا ہے۔ اور یوں ہر تعلیم گاہ میں "محبت کا سراب” جنم لیتا ہے، جو بعدازاں دل شکنیوں، بداعتمادیوں اور افسردگیوں کا سبب بنتا ہے۔
    کتاب میں مصنف نے خاص طور پر اُن نوجوانوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جو کام کے دوران ساتھ گزارے گئے وقت کو محبت کا نام دے بیٹھتے ہیں۔ ذوالفقار بخاری کے بقول، "بعض اوقات ہم کام کے سلسلے میں ساتھ ہوتے تو کچھ بے وقوف اسے محبت سمجھ لیتے”—یہ چیز عہدِ حاضر کے اُس فکری انتشار کی بھرپور نشاندہی کرتی ہے جس میں جذباتی وابستگی کو عقل پر ترجیح دے دی جاتی ہے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ ایک ساتھ گزارا گیا وقت ضروری نہیں کہ دلوں کا رشتہ بن جائے، اور یہ کہ پسندیدگی کو محبت سمجھنا ایک جذباتی غلط فہمی ہے۔
    ڈرامے میں بخاری صاحب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ "محبت اور پسندیدگی میں بڑا فرق ہوتا ہے”۔ محبت وہ ہے جو امتحان سے گزرے، حالات کی تپش جھیلے، وقت کی ضربیں سہے اور تب جا کر اپنے خالص وجود میں سامنے آئے۔ جبکہ پسندیدگی محض لمحاتی تاثر کا نام ہے، جو کسی خوش لباسی، حسین چہرے یا دلکش انداز سے پیدا ہو جاتا ہے، اور وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے۔
    ایک اور اہم نکتہ جو کٹی پتنگ کو معاشرتی اعتبار سے اہم بناتا ہے، وہ یہ ہے کہ شادی کے بعد ماضی کی بے وقوفیوں کو یاد رکھنے کی بجائے انہیں دفن کر دینا چاہیے۔ یہ ازدواجی زندگی کے استحکام کا راز بھی ہے۔ ماضی کی پرچھائیاں اگر دل میں باقی رہیں تو حال کی خوشیوں پر سائے ڈال دیتی ہیں۔
    ذوالفقار بخاری کی زبان دانی، محاوروں کا چناؤ اور مشرقی تہذیب کا اثر ہر صفحے پر جھلکتا ہے۔ اُن کا اسلوب رواں، نرماہٹ سے بھرپور اور جملہ بندی نہایت نفیس ہے۔ کہیں کہیں طنز ایسا ہوتا ہے کہ قاری کو اپنی ہی زندگی کا آئینہ نظر آنے لگتا ہے، اور ہنسی کے ساتھ شرمندگی کا پہلو بھی نکلتا ہے۔
    کٹی پتنگ نوجوان نسل کے اُس ذہنی المیے کا آئینہ ہے جہاں تعلیم کے مراکز میں علم کی بجائے محبت کے افسانے تراشے جاتے ہیں۔ ذوالفقار بخاری نے اس فکری زوال کو بھی بڑی خوبی سے قلم بند کیا ہے کہ ہر کالج اور یونیورسٹی میں محبت کیوں کھیل جاتی ہے؟ کیوں ہر نوجوان اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت ان فضول جذبات میں ضائع کر بیٹھتا ہے؟ کیوں یہ "سراب” اُسے اصل منزل سے ہٹا کر ایک غیر حقیقی دُنیا میں لے جاتا ہے؟
    ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی اس کا انجام ہے، جو جذباتی بے یقینی کے بادل چھا جانے کے بعد بھی قاری کو سبق دے کر رخصت کرتا ہے۔ محبت اگر سمجھداری، وقت اور حالات کے ترازو پر تولی جائے تو زندگی سنور سکتی ہے، ورنہ وہ محض ایک "کٹی پتنگ” ہے—جو نہ بلندیوں کو چھو سکتی ہے، نہ کسی ہاتھ میں دوبارہ آ سکتی ہے۔
    کٹی پتنگ وہ فکری آئینہ ہے جو ہر نوجوان کو اپنے جذبات کے عکس دکھاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف محبت کے فریب کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ ہمارے تعلیمی نظام، سماجی روایت، اور ازدواجی زندگی میں در آنے والی غلط فہمیوں کی جڑوں کو بھی کاٹتی ہے۔ بخاری صاحب کی تحریر ہر اُس قاری کے لیے ہے جو محبت کے نام پر جذباتی تماشے کو زندگی کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ محبت اگر عقل و فہم کے بغیر ہو تو صرف دھوکہ ہے، اور اگر دل و دماغ کے توازن سے کی جائے تو زندگی کا سب سے حسین تجربہ بن سکتی ہے۔ یہ خوبصورت کتاب سرائے اردو پبلیکیشن، سیالکوٹ(03338631328) سے شائع ہوئی ہے۔ خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ شائع شدہ یہ کتاب آپ مصنف اور ادارے سے رابطہ کر کے منگوا سکتے ہیں
    danial

  • عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عید کا دن فیملی سے منسوب ہوتا ہے جب سب گھر والے خاندان والے اکھٹے ہوتے ہیں ملکر کھانا کھاتے ہیں چہروں پر خوشی اور مسکراہٹیں ہوتی ہیں نئے کپڑے پہنے ہوتے ہیں ایک دوسرے کی شاپنگ پر تبصرہ ہوتا ہے عیدی دی اور لی جاتی ہے پھر پلک جھپکتے ہی یہ دن اگلے سال دوبارہ آ نے کے لیے رخصت ہو جاتا ہے اور پھر عید کا دوسرا دن یعنی ٹرو اس وقت عید کے دن کی طرح خوشگوار ہوجاتا ہے جب دوستوں کے ساتھ ملاقات ہو جاے

    عید کے دوسرے دن شمیم عارف تسنیم جعفری میرے گھر تشریف لائیں مجھے بہت خوشی ہوئی عید کی رونق دوبالا ہوگئی ہم نے خوب باتیں کیں تسنیم صاحبہ کی نئی کتاب جو سیرت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ہے شائع ہو چکی ہے انشاء اللہ یہ کتاب بھی ایوارڈ حاصل کرے گی تسنیم جعفری 25 سے زائد کتابوں کی مصنفہ اور پہلی سائنس فکشن رائیٹر ہیں ماشاءاللہ بہت سے ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں نئی کتاب کی خوشی میں ہم نے کیک کاٹا .

    شمیم عارف صاحبہ کی بھی دو کتب پبلش ہونے کے لیے تیار ہیں وہ حج کے سفر نامہ سمیت دو کتابوں ،، ننھا سلطان ،، اور ،، ہم ابھی راہ گزر میں ہیں ،، کی مصنفہ ہیں ،، ہماری فرمائش پر انہوں نے اپنی نظمیں سنائیں
    تسنیم اور شمیم آ پ کی آ مد کا بہت شکریہ ، بہت اچھا وقت گزرا اور تسنیم کو اہم موضوع پر نئی کتاب لکھنے پر مبارکباد ❤️
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ
    تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ

  • بس یہی داستاں ہماری ہے .تحریر:مجیداحمد جائی

    بس یہی داستاں ہماری ہے .تحریر:مجیداحمد جائی

    انسان کے جنم کے ساتھ ہی داستان نے بھی جنم لیا ہے۔ہر گزرتا لمحہ یادوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔یہ یادیں تلخ بھی ہو سکتی ہیں اور حسین بھی۔زندگی کے سفر میں حسین یادیں جینے کا مزہ دوبالا کر دیتی ہیں لیکن تلخ یادیں کُند تلوار کی طرح ضربیں لگاتی رہتی ہیں۔گزرتی عمر کے ساتھ یادوں کے حوالے سے پروفیسر عظمیٰ مسعود لکھتی ہیں:”یادیں ہمیشہ یادوں کی ایک بارات سی لے کر چلتی ہیں۔ایک یاد،پھر دوسری اور تیسری یاد۔کڑی سے کڑی ملتی جاتی ہے اور یادوں کی لمبی زنجیر سی بن جاتی ہے اور اگر تھوڑی سی لمبی عمر کی اجازت مل جائے اور انسان خود بھی ذہنی طور پر بڑا ہو جائے تو یہ یادیں اُس کی زندگی کا بڑا قیمتی سرمایہ بن کر کبھی تو اسے نہال کر دیتی ہیں کبھی نڈھال۔اس پر طاقت ور فرعون کا،نمرود کا،حسین سے حسین تر قلوپطرہ کا اور تنومند سے تنومند مرد کا بھی کوئی زور نہیں چلتا۔یہ کہیں تو تلوارکی دھار کی کاٹ رکھتی ہیں کہ جگر چیر کر رکھ دیتی ہیں تو کہیں پھول کی پتیوں جیسی نرم اور گدازہوتی ہیں کہ اندر تک مہکا دیتی ہیں۔یہ روح پر اپنا اثر چھوڑے بغیر جاتی ہی نہیں۔
    کتب کے مطالعے میں خود نوشت پڑھنے کا ہمیشہ سے دیوانہ رہا ہوں۔آپ بیتیوں میں بزرگوں کے ساتھ گزرے حالات و واقعات سے سبق لے کر ہم اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں۔مشکل سے مشکل حالات میں اچھے فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔سیکھنے کا عمل جاری رہے تو انسان مات نہیں کھاتا۔چاہے وہ خانگی زندگی ہو معاشرتی مسائل۔

    "بس یہی داستاں ہماری ہے”پچھلے کئی دِنوں سے زیرِ مطالعہ رہی ہے۔پروفیسر عظمیٰ مسعودخراج تحسین کی مستحق ہیں جس طرح انھوں نے زندگی کے نشیب و فراز کو قلم بند کیا ہے دوسروں کے لیے مشعل راہ ہے۔میں نے یہ خودنوشت راتوں کو بیٹھ کر پڑھی ہے۔صبح نماز کے بعد فصلوں کی سیر کے دوران پڑھی ہے۔تازہ ہوا کے جھونکوں میں اوراق کی مہک نتھوں کے ذریعے روح ودل کو راحت بخشتی ہے۔ڈاکٹر اشفاق احمد وِرک نے خوب کہا ہے:
    یہ جو یادوں کی لائبریری ہے
    اس کی چھایا بہت گھنیری ہے

    "بس یہی داستاں ہماری ہے”میں جو پڑھتا ہوں تو کتاب رکھنے کو دل نہیں کرتا۔لیکن میں نے یہ کتاب اپنے اوپر مسلط کرکے پڑھی ہے۔مصنفہ کے ساتھ میں نے بھی ماضی و حال کا سفر کیا ہے۔کہیں آنسوؤں کی کشتی میں سوار ہوا تو کہیں سسکیوں کی نگری آباد کی۔کہیں شرارتیں سوجھی تو کہیں آہیں بھر نے لگا۔پروفیسرعظمیٰ مسعودکا قلم بے باک ہے۔بڑی جان فشانی سے زیست کے اوراق کو پلٹا ہے۔کہیں ہجرت کے دُکھ ہیں تو کہیں آزادوطن کے حکمرانوں کی کارستانیاں۔کہیں اپنوں کے بچھڑنے کادُکھ ہے تو کہیں عشق کی باتیں۔کہیں دوست دشمن بنتے ہیں تو کہیں دُشمن دوست۔کہیں بُرے وقت میں "نند”جیسا کردار ہمدردی اور اپنائیت کا استعارہ بن جاتا ہے تو کہیں حسد کرنے والے اپناوار کرتے ہیں۔کہیں ایک تھالی میں کھانے والے گہری ضرب لگاتے نظر آتے ہیں تو کہیں دلاسہ بڑھانے والے موجود ہیں۔

    "بس یہی داستاں ہماری ہے”کہنے کو تو پروفیسر عظمٰی مسعود کی خودنوشت ہے لیکن میں سمجھتا ہوں وطن ِعزیز کے ادیبوں کی داستاں ہے۔یہ سیاست دانوں کی کارستانیوں کا اعلان ہے۔اس کتاب میں ایک زندگی نہیں ہزاروں زندگیاں ہیں۔کہیں مصنفہ مطالعہ کی شوقین نظر آتی ہے اور ہمیں بہترین کتب سے ملواتی ہیں۔کہیں سیاست دان بن کر اصطلاحات نافذ کراتی ہیں تو کہیں پروفیسر بن کر بتاتی ہے کہ حالات جیسے بھی رہے ہوں پروفیسر ایسا ہوتا ہے۔یہ اقتباس پڑھیے:
    "اب میں "ادب”کی کچھ کچھ باتیں بھی سمجھنے لگی تھی۔یہاں سے میں نے پہلی بار عصمت چغتائی کا نام سُنااور ریڈیو کی لائبریری سے اُن کے افسانوں کی کتاب لی۔”لحاف”کا ذکر بار بار ذکر سنا تھا۔پڑھا خاک سمجھ نہ آیا۔پھر کشورناہید کے سمجھانے پر بھی سمجھ نہ آیا۔اس نے گالیاں دے کر سمجھایا۔دل پھر بھی نہ مانا۔اسے سمجھنے کے لیے دماغ کو تیز دھار چھری کی طرح کا ہونا ضروری تھا اور میرے ہاں تو صرف گودا بھرا تھا۔خداگواہ ہے کہ وہ افسانہ عرصہ دراز تک ایک راز ہی رہا۔جو کشور نے سمجھایا میں نے اکثرسوچا”یہ کیسے ہوسکتا ہے۔”میں نے سوچنا ہی چھوڑ دیا۔اُسی زمانے میں منٹو کے "ٹھنڈے گوشت”کا تذکرہ شروع ہوا۔کتاب خریدی،کہانی پڑھی،خاص طور پر پڑھی،البتہ یہ کچھ کچھ پلے پڑی۔باقی تفصیل میں نے کشور سے پوچھ لی۔”
    زندگی کے بارے لکھتی ہیں:”زندگی مشکل تھی اور اتنی مشکل زندگی کو جینا کانچ پر ننگے پاؤں چلنے جیسا تھا۔میں اکثر سوچتی ہوں زندگی ہے کیا چیز؟اور یہ اتنی تکلیف دہ کیوں ہو جاتی ہے۔پھر یہی زندگی کسی قدر دل نواز،حسین اور دلبرانہ بھی ہے کہ اسے جینے کے لیے انسان کیسی کیسی محنت کرتا ہے،فریب کرتا ہے،ریاکاری کرتا ہے،جھوٹ بولتا ہے۔۔۔اُف خدایا انسان کیا کچھ نہیں کرتا کہ وہ یہ زندگی جی لے اور خوب جی لے۔زندگی کو جینے کا اتنا لالچ؟ہے تو پھر بھی دو ہی دن کی۔۔اس زندگی کے لیے اتنی تگ ودو سب ہی کرتے ہیں لیکن میرا خیال ہے ہمارے ملک کے سیاستدان کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ جاتے ہیں۔وہ آگے بڑھتے جاتے ہیں،زندگی اُن کے گرد گھیرا تنگ کرتی جاتی ہے۔۔”
    نہ خدا ہی ملا نہ وصال ِصنم
    نہ ادھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”میں پروفیسر عظمیٰ مسعود،اپنے سکول،کالج کے زمانے کی دوستوں کو یاد رکھتی ہیں۔سروس کے دوران تسلی اور دلاسہ دینے والوں کو نہیں بھولتیں۔دوسروں پر قدغن نہیں کرتیں،البتہ اپنے آپ کو کڑوی کسیلی سناتی ہیں۔جب بھی زندگی سے تھکنے لگتی ہیں تو رب کو یاد کرلیتی ہیں اور یوں ایک اُمید کا دیا روشن کر لیتی ہیں۔
    وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
    غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”پروفیسر عظمیٰ مسعود کی شان دار کتاب 332صفحات پر مشتمل ہے۔قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل سے شایع ہوئی ہے جس کے روح رواں علامہ عبدالستار عاصم ہیں۔کتاب دوست،صاحب کتاب اور کتاب سے محبت رکھنے والوں کے خیرخواہ ہر دل عزیز شخصیت،کتاب بینی کے فروغ میں ہمہ تن سرگرداں۔ان کا احسان ِعظیم ہے کہ نامور شخصیات سے متعارف کرواتے ہیں ان کا لکھا قاری تک پہنچاتے ہیں۔
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے۔پروفیسر عظمیٰ مسعود اشعار کا تڑکا خوب لگاتی ہیں یہاں سے ان کے ذوق کی خبر ہوتی ہے۔اس کتاب کی بہت سی خوبیاں ہیں۔یوں کہیے جو آپ چاہتے ہیں آپ کے ذوق کے مطابق اس میں ملتا ہے۔آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کو ضرور پڑھنی چاہیے۔یہ حالات کی گردش میں گرے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر راحت کے نگر میں بسیرا کراتی ہے۔دُنیامیں بسنے والے ہر شخص کی داستاں "بس یہی داستاں ہماری ہے”میں ملتی ہے۔
    کوئی تدبیر کرو،وقت کو روکو یارو
    صبح دیکھی ہی نہیں،شام ہوئی جاتی ہے
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”کے پیغام کے ساتھ اجازت چاہوں گا:”رب ِ ذوالجلال نے دُنیا بنائی ہے تو اِس کو چلانے کے کچھ اصول بھی بنائے ہیں۔یہ دُنیا اسی طرح چلی ہے،اسی طرح اب تک چلتی رہی ہے اور اسی طرح چلتی رہے گی۔البتہ "ہم نہ ہوں گے کوئی ہم ساضرورہو گا”۔زندگی کو صرف بسر ہی نہیں کرنا اسے جینا بھی ہے اور اسے جینا چاہیے۔”
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسی کتاب پڑھیں جو زندگی بدل دے تو میرا مشورہ یہی ہے کہ "بس یہی داستاں ہماری ہے”ضرور پڑھیں۔اگر آپ کو کتاب متاثر نہ کرسکی تو جو چاہے سزا دیں۔اللہ تعالیٰ، پروفیسر عظمیٰ مسعودکو جزائے خیر دے آمین۔

  • اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کا یاد گار مشاعرہ.تحریر:شیخ فرید

    اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کا یاد گار مشاعرہ.تحریر:شیخ فرید

    بلوچستان رائئٹرز گلڈ (برگ) نے اپنی ادبی کانفرنس موخر کر دی

    یوم پاکستان کی مناسبت سے اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی جانب سے ایک کثیر اللثانی محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا مشاعرے میں اردو پشتو بلوچی براہوی زبان کے شعرا کرام نے شرکت کی ۔ مشاعرے کی صدارت ممتاز شاعر ادیب اعجاز امر نے کی ۔ جب کہ مہمان خصوصی ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی چیئرمین پشتو اکیڈمی تھے ۔ مہمان اعزاز کی حیثیت سے معروف شاعر و ادیب نواب نور خان محمد حسنی اور تسنیم صنم صاحبہ موجود تھیں ۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔ اعجاز امر کا کہنا تھا کہ اکادمی ادبیات کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے یوم پاکستان کی مناسبت سے ان حالات میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا۔ ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی نے مقامی زبانوں کی ترویج میں ادبیات کے کردار کو سراہا ۔

    تسنیم صنم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ادبیات کی تقریبات میں کچھ عرصے کے لیے رکاوٹ ائی تھی مگر اب تقریبات بحال ہونے سے وہ معاملات بھی حل ہو گئے ۔ تقریب کی نظامت نوجوان شاعر احمد وقاص کاشی نے کی جبکہ دیگر شعرا میں فائزہ شکیل ، فاریہ بتول ، عظیم انجم ہانبھی ، ذوالفقار رضا ، نجیب اللہ احساس ، سومرو۔خاکسار ، عادل اچکزئی ، عزیز حاکم ، ارمش اور ڈاکٹر قیوم۔بیدار شامل تھے

    صوبے کی فعال ، متحرک اور معروف ادبی تنظیم بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے 7 اپریل کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں ہونے والی سالانہ ادبی کانفرنس اور آغاگل ادبی ایوارڈز کی تقریب کوئٹہ کے حالات اور ذرائع آمد و رفت کی بندش کے پیشِ نظر ملتوی ک دی گئی ہے ۔

    اِس سلسلے میں برگ کی مجلسِ عاملہ کا ہنگامی اجلاس پروفیسر ڈاکٹر صابر بولانوی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں بلوچستان میں سیکورٹی خدشات اور عدم تحفظ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ 7 اپریل بروز سوموار کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں منعقد ہونے والی ادبی کانفرنس اور آغاگل ادبی ایوارڈز کی تقریب کو منسوخ کیا جاتا ہے ۔ جبکہ ادبی کانفرنس کیلیے نئی تاریخ کا اعلان جلد باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی ۔

    یاد رہے کہ سالانہ ادبی کانفرنس میں لاہور ، میانوالی ، چشتیہ ، سرگودھا ، ساہیوال ، پاکپتن شریف ، پسنی ، سبی اور لورالائی کے ادباءحضرات و شعراء کرام کے علاوہ کوئٹہ 16 اہلِ قلم کو اْن کی بہترین ادبی تخلیقات پر آغاگل ایوارڈز کا اعلان کیا گیا ہے ۔ جو جلد پیش کئے جائینگے .آغاگل ایوارڈز پانے والے اہلِ قلم میں ڈاکٹر راحت جبیں رودینی
    دل آویز
    سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی
    پرچھائیاں
    پروفیسر ڈاکٹر شمیم کوثر
    بلوچستان میں اردو ادب
    پروفیسر ارشد راہی
    پپلی کے نیچے
    ڈاکٹر رحمت عزیز خان
    خوابوں کی شہزادی
    ڈاکٹر فضل خالق
    سیالیچک
    محترمہ فرح علوی
    بانس کی باڑ
    محترم شاہد بخاری
    پاکستانی ادب کے معمار
    محترم محمد یٰعقوب فردوسی
    عاشقِ اقبال
    محترمہ غزالہ اسلم
    بہار آنےکو ہے
    محترم عاصم بخاری
    اثاثہ
    محترم عبدالرحیم بھٹی
    راجپوت فبائل
    محترم ریاض ندیم نیازی
    تمھیں اپنا بنانا ہے
    محترم غلام زادہ نعمان صابری
    تقسیم
    محترم اوصاف شیخ
    ہر سفر دائرہ
    محترم علیم مینگل
    آواز کے سائے
    پروفیسر اکبر خان اکبر
    جادو نگری
    شیخ فرید
    برف بولان
    محترم احمد وقاص کاشی
    ش کا رقص
    محترمہ تسنیم صنم
    ہجر کی طاق راتیں
    محترمہ صدف غوری
    تلاشِ وفا
    محترم شفقت عاصمی
    ساربانی سڑک
    محترمہ ذکیہ بہروز ذکی
    موسمِ گل گزر نہ جائےکہیں
    ڈاکٹر اکرم خاور
    چاہتوں کے درمیاں
    محترم عظیم انجم ہانبھی
    بھنوروں کے انتظار میں
    پرفیسر خورشید افروز
    مشاہیرِ بلوچستان
    ڈاکٹر محمد نواز کنول
    رومی اور اقبال
    شبیر احمد بھٹی
    ریوڑ
    کاوش صدیقی
    جل پری
    کامران قمر
    شرفِ قمر
    آسناتھ کنول
    صحراء کی ہتھیلی پہ دیا ، شامل ہیں ۔۔

  • ادب کی نیلامی، جب لفظ پیسے کے ترازو میں تولے جائیں ۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ادب کی نیلامی، جب لفظ پیسے کے ترازو میں تولے جائیں ۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ادب کا "منصب” ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں تخلیقی صلاحیت، مطالعہ، مشاہدہ اور فکری جدوجہد ہی کسی لکھاری کا اصل اثاثہ ہوتی ہے۔ لیکن آج کچھ ادارے اور افراد ادب کے نام پر پیسے کے عوض تحریریں شائع کر کے نہ صرف اس عظیم فن کی بے حرمتی کر رہے ہیں بلکہ نئے لکھنے والوں کو ایک غلط سمت میں دھکیل رہے ہیں۔ ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔
    ادب ہمیشہ سے انسان کے باطن کی وہ زبان رہا ہے جو لفظوں میں سچائی، خلوص، درد، خواب اور سوال بُنتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ایک معاشرہ خود کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ادب صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ تہذیبی شعور، فکری بلوغت اور اجتماعی ضمیر کی بیداری کا استعارہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے ادب کو ایک مقدس امانت تصور کیا جاتا رہا ہے—ایسی امانت جو نہ صرف لکھنے والے کا کردار مانگتی ہے بلکہ قاری کا شعور بھی آزماتی ہے۔
    مگر موجودہ دور میں اس مقدس فن کے گرد ایک ایسا بازار سج چکا ہے جس میں لفظوں کی بولی لگتی ہے، تخلیق کی قیمت طے ہوتی ہے اور ادیب کا مقام جیب کی گہرائی سے مشروط ہو چکا ہے۔ "ادب کی خدمت” کے مقدس دعوے کے ساتھ کچھ افراد اور ادارے پیسوں کے عوض تحریریں شائع کرنے کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ نوآموز لکھنے والوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ صرف چند ہزار روپے دے کر ان کی تحریر کسی "ادبی مجموعے” یا "مشترکہ کتاب” کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس جھانسے میں آ کر کئی ناپختہ قلم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ اب باقاعدہ "مصنف” بن چکے ہیں۔ گویا تخلیق، جو کبھی روح کی پکار اور شعور کی گہرائیوں سے جنم لیتی تھی، اب ایک چیک یا آن لائن ٹرانزیکشن سے پیدا ہو سکتی ہے۔یہ روش ادب کے تقدس کو محض مجروح نہیں کرتی، بلکہ اسے تماشہ بنا دیتی ہے۔ جب تحریر کے معیار کی جگہ مالی ادائیگی اہم ہو جائے تو کتاب محض صفحات کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے مجموعے جو بازار میں آ کر جلد ہی بھلا دیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں کوئی فکری گیرائی، فنی چمک یا تخلیقی تڑپ نہیں ہوتی۔ یہ محض لفظوں کی سجاوٹ ہوتی ہے، جن کے پیچھے نہ کوئی تجربہ ہوتا ہے نہ کوئی پیغام۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل اہل قلم—جو برسوں کی ریاضت، مطالعے، مشاہدے اور فکری مکالمے سے ادب کی خدمت کرتے ہیں—ان کا مقام دھندلا پڑنے لگتا ہے۔ ان کی تحریریں ان کہی سی ہو جاتی ہیں کیونکہ بازار میں "چھپنا” ہی مقام کا معیار بن چکا ہوتا ہے۔

    یہ ایک ایسا دھندہ ہے جسے ہم سب نے یا تو نظر انداز کیا یا خاموشی سے قبول کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ اس رجحان کو روکنے کے لیے ادبی برادری، نقاد، اساتذہ، اور سنجیدہ قارئین کہاں ہیں؟ کیا ہماری ادبی انجمنیں صرف مشاعرے کروانے، پھولوں کے گلدستے دینے، اور یادگاری تصاویر بنوانے تک محدود ہو گئی ہیں؟ کیا یہ ادارے اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے کہ وہ نوآموز لکھنے والوں کو اس مکاری سے بچائیں اور انہیں تخلیق کی اصل روح سے روشناس کروائیں؟

    ادب کا سفر کبھی آسان نہیں رہا۔ غالب سے لے کر فیض تک، عصمت چغتائی سے انتظار حسین تک، سب نے زندگی کی سچائیوں کو الفاظ میں ڈھالنے کے لیے کرب سہا، تنقید برداشت کی، محرومیوں کا سامنا کیا، مگر کبھی تخلیق کو بیچنے کا تصور بھی نہ کیا۔ ان کے لیے ادب ایک عہد تھا، ایک فکری جدوجہد جسے سرمایہ نہیں، صداقت چلاتی تھی۔ آج جب کوئی پیسے دے کر چھپنے کا خواب دیکھتا ہے تو وہ اس عہد سے غداری کرتا ہے۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ادب کو اس کے اصل وقار کے ساتھ زندہ رکھیں۔ یہ کام صرف لکھنے والوں کا نہیں، پڑھنے والوں کا بھی ہے۔ اگر قاری صرف چمکدار سرورق، مصنف کی پروفائل تصویر، یا اشاعت کی تعداد دیکھ کر کتاب کو "اچھی” سمجھ لے گا تو پھر بازار کا راج رہے گا، اور ادب کے مقدس مینار چھوٹے ہوتے چلے جائیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر چھپی ہوئی تحریر ادب نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر چھپنے والا ادیب ہوتا ہے۔

    ادب میں مقام حاصل کرنے کے لیے علم، مطالعہ، مشاہدہ، محنت اور خلوص درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل، صبر آزما اور کبھی کبھار تنہا سفر ہوتا ہے۔ پیسے دے کر چھپنا اس سفر کی شارٹ کٹ نہیں، بلکہ اس سے ہٹ جانے کا راستہ ہے۔ ادب خود فریبی برداشت نہیں کرتا۔ وہ صرف انہی کو قبول کرتا ہے جو اس کی شرائط پر پورا اترتے ہیں—چاہے وہ دیر سے پہچانے جائیں، مگر اصل پہچان پائیدار ہوتی ہے۔

    آخر میں، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ادب کو پیکیج بنا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں یا ایک فکری میراث کے طور پر سنوارنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو آنے والی نسلیں ادب کو ایک سنجیدہ فن کے بجائے محض چھپنے کا ذریعہ سمجھیں گی۔ ہمیں اب بھی وقت ہے کہ آواز بلند کریں،پاکستان میں ادب کے نام پر ہونے والی اس سوداگری کے خلاف قلم اٹھائیں، اور سچے تخلیق کاروں کا ساتھ دیں۔ کیونکہ ادب کو اگر زندہ رکھنا ہے تو اسے مالی لفظوں کی نہیں، فکر کی قدر دینی ہو گی۔یہی پہچان پاکستان ہے

  • تبصرہ کتب، سنہرے نقوش

    تبصرہ کتب، سنہرے نقوش

    نام کتاب : سنہرے نقوش
    نام مئولف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    صفحات : 384
    قیمت : 1850روپے
    زیر نظر کتاب ’’ سنہرے نقوش ‘‘ ایک آئینہ ہے جس میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگوں کی زندگی کے سچے واقعات کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ جو شخص بھی یہ واقعات پڑھے گا اسے یقینا سعادت اور نیکی کی زندگی حاصل ہو گی ۔ نیکی کا لازمی نتیجہ کامیابی اور فتح مندی ہے جبکہ گناہ کا نتیجہ ناکامی ، بدنامی اور رسوائی ہے ۔ گناہ چاہے کتنا ہی چھپ کر کیا جائے وہ ہمارا پیچھا کرتا ہے اپنا تاوان لیتا ہے اور اگرندامت کے ساتھ سچی توبہ نہ کی جائے توگناہ ہمیشہ خون کے آنسو رولاتا ہے ۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ انسان کو نیکی کی طرف راغب کرتا اور دل و دماغ کو راحت بخشتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سنہرے نقوش ‘‘ ایک ایسی ہی کتاب ہے جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نافرمانوں اور بعض سفاک انسانوں کے واقعات درج کیے گئے ہیں تاکہ لوگ ان کے لرزہ خیز انجام سے عبرت پکڑیں اور توبہ استغفار کا اہتمام کر کے اپنی زندگیاں سنوار لیں ۔ کتاب کے مئولف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں : میری جملہ کتابوں کی طرح اس کتاب کی بھی اصل غرض و غایت یہی ہے کہ ہمارے معاشرے کا ہر فرد اچھے اور برے لوگوں کے واقعات سے اعمال صالحہ کا سبق سیکھے ، نیکی اور ناموس کی زندگی بسر کرے۔ ان شاء اللہ اس طرح زندگی کی مشکلیں آسان ہوجائیں گی اور ماحول کی تاریکیوں میں حسن سیرت کے چراغ روشن کرنا آ سان ہو جائے گا ۔ بات یہ ہے کہ ہم سب کو ناکامی سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی ہر ممکن تدبیر کرنی چاہیے ۔ یہ ہمارا دینی اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے جسے التزام سے ادا کرتے رہنا چاہیے بس اسی احساس کے زیر اثر کامیابی کی صفات اجاگر کرنے اور ناکامی کے اسباب واضح کرنے کے لیے یہ کتاب لکھی گئی ہے۔اس کا انداز بیان سادہ اور سلیس ہے اس لیے اس سے معمولی پڑھے لکھے لوگ بھی خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ قرآن مجید بھی ہمیں اچھے اور منتخب انسانوں کے نورانی اعمال و احوال کے قصے سادہ اور دلکش پیرائے میں سناتا ہے۔ فرعون و نمرود جیسے مغرور و مردود لوگوں کے افعال و انجام کی حکایات پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ایسے ہی اس کتاب میں ایک طرف حضرت سعید بن جبیراور امام احمد بن حنبل جیسے رجال کی سیرت کے جلوے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف ایسے سفاک اور بدبخت شخص کا تذکرہ بھی ہے جس نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آشوب وآزمائش کے دور میں ان کی اہلیہ محترمہ کو تھپڑ مارا تھا۔ اس ظالم کا انجام پڑھ کر دل لرزنے لگتا ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ دیے گئے عنوانات سے کیا جا سکتا ہے مثلاََ:تقوی کے ثمرات ، پروردگار کے فیصلے کا خیر مقدم، راہ اخلاص و وفا میں جانوں کا نذرانہ، مرقد نبوی کے خلاف گھنائونی سازش، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا آ خری دن ، بہادر ڈاکو حجاج بن یوسف کی عدالت میں، کس کس کا ہاتھ میرے گریبان میں آ ئے گا، وعدے کی پاسداری ، دجال کا جاسوس ، باپ سے بد سلوکی کا بھیانک انجام ، خبردار دشمن ہمہ وقت موقع کی تلاش میں ہے ، دولت کا نشہ۔۔۔۔۔ ایک سانحہ عبرت، سچی توبہ ، نہلے پر دہلا ، لاجواب دلہن ، جہنم سے فرار ، تاک جھانک کا خمیازہ ، اللہ کی نافرمان ، بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ ، اچھی تربیت کا صحیح طریقہ ، بارگاہ الہی میں جواب دہی کا احساس ، جھوٹی توبہ، کفر و سرکشی کی سزا ، مٹ گئے مٹ جائیں گے اعدا تیرے ، خون ناحق کی ہیبت ، آداب فرزندی کا قابل رشک مظاہرہ ،کہیں عہد شکنی نہ ہو جائے، سلطان جلال الدولہ کی ہوشیاری ، دندان شکن جواب، جو سورہے ہیں ان کو جگانے کی فکر کر، حقیقی طالب علم ،کسری پر عربوں کی پہلی جیت ،اللہ تعالیٰ اس کی گھات میں تھا ،جھوٹی توبہ ، جہنم سے فرار ، اندھیرے سے اجالے کی طرف ، عربوں کی مہمان نوازی، وعدے کی پابندی ، دنیا کی بے ثباتی ، خدائی خون کے گھنائونے دعویدار، ظالم کا عبرتناک انجام، غلاموں کی خوش بختی، اس نے میری آنکھیں کھول کر اپنی آنکھیں بند کر لیں، باپ کی عدالت سے بیٹی کے خلاف فیصلہ، داستان ایک متکبر کی، مالک ارض و سماء کی پہچان ، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ، نو مولود کی گواہی ،فرشتہ صفت نوجوان شیطان کے نرغے میں ، شیر خوار بچے کا اعلان حق ، تربیت اولاد سے غفلت کا نتیجہ، طوفانوں کے مقابل کوہ گراں ۔ قصہ مختصر یہ کتاب نیکی اور بدی کے کرداروں کا حیرت انگیز نگار خانہ ہے جو کردار اور دل و دماغ کے دریچے کھولتے، خیالوں میں انقلاب برپا کرتے ، نیکی سے محبت کا سلیقہ سکھاتے اور بدی سے متنفر کرتے ہیں ۔ اپنی اصلاح اور اپنے گھر کی اصلاح کے خواہشمند احباب کیلئے یہ کتاب نہایت ہی بیش قمیت تحفہ ہے ۔